Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 46

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 46

–**–**–

اگر تم اس طرح آؤ گی تو نہ صرف ہم میں سے کوئی تمہیں لینے نہیں جائے گا، بلکہ ہم واقعتا تم سے قطع تعلق کر لیں گے اور جب ابا جان کو یہ معلوم ہو گا تو ان پر کیا گزرے گی، یہ سوچ لینا اور یہ بھی کہ اگر ان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار صرف اور صرف تم ہو گی۔
بھائی! ممی کہتی رہ گئیں مگر دوسری طرف سے فون رکھ دیا گیا تھا۔ اس نے ممی کے ریسیور رکھنے کا انتظار کیا۔ پھر آہستہ سے فون رکھ کر باہر آ گیا۔ ممی صوفے پہ بیٹھی، سر ہاتھوں میں دیے، دبی دبی سسکیوں سے رو رہی تھیں۔
اس نے ٹشو کے ڈبے سے دو ٹشو نکالے اور ان کے سامنے لا کر دیے۔ ممی نے پھیکا چہرا اٹھایا۔
ممی! آپ ماموں کی بات نہ سنیں، ہم پاکستان ضرور جائیں گے۔ اگر وہ ہمیں لینے نہ آئیں گے تو ہمارے پاس ان کا ایڈریس ہے، ہم کیب کر کے ان کے گھر چلے جائیں گے۔
وہ بس نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہیں۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ وہ دوسرے فون پر سب سنتا رہا ہے۔
ہم ان کے گھر جائیں گے، مگر ہم وہاں کچھ کھائے گے نہیں۔ اس نے جیسے انہیں یاد دلایا۔ وہ آنسوؤں کے درمیان ہلکا سا مسکرائیں اور اثبات میں سر ہلا دیا۔اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیوں مسکرائی ہیں۔ بہت سال بعد اسے احساس ہوا کہ وہ شاید اپنے کم عمر بیٹے کی خودداری اور عزت نفس کے پاس پہ فخر سے مسکرائی تھیں۔
ممی نے ماموؤں کی ایک نہیں سنی۔ انہوں نے پیسے جوڑنے شروع کیے۔ وہ زیور جو انہوں نے اپنی بھتیجھی کے لیے رکھا ہوا تھا، وہ بھی بیچ دیا۔ اب وہ صرف روانگی کے انتظامات میں لگی ہوئی تھیں۔ ابا کی طبیعت بہت بگڑتی جا رہی تھی۔ ممی کو ان کے ساتھ کسی کے رہنے کا انتظام بھی کرنا تھا۔ ابھی روانگی میں دو دن تھے کہ ماموں کا فون آ گیا۔ نانا جان کا انتقال ہو گیا تھا۔
ممی کے لیے نانا کے انتقال کی خبر کا صدمہ اس صدمے سے کہیں چھوٹا تھا جو انہیں یہ جان کر لگا تھا کہ نانا کا انتقال اس روز نہیں، بلکہ ایک ہفتہ قبل ہوا تھا، مگر چونکہ ممی کے آنے سے ماموؤں کی عزت اور شان پہ انگلی اٹھائی جانے کا خدشہ تھا، اس لیے ان کو اطلاع ہی دیر سے دی گئی، تا کہ وہ ان کی وفات کی رسومات میں بھی شامل نہ ہو سکیں۔
وہ انٹرنیٹ کا دور نہیں تھاُ، خط اور فون کا زمانہ تھا، مگر ممی کا نمبر اور ایڈریس (بہت دفعہ گھر بدلنے اور دیگر رشتہ داروں سے رابطہ نہ رکھنے کے باعٽ) فقط ماموؤں کے پاس تھا۔ اس لیے کسی اور سے بھی اطلاع نہ پہنچ سکی۔
اس روز اس نے پہلی دفعہ اپنی بہت صبر کرنے والی مضبوط ماں کو، جن کی سسکیوں کی آواز سانس کی آواز سے اونچی نہیں ہوتی تھی، پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح روتے دیکھا۔ ان کا تو جیسے سب کچھ لٹ گیا تھا۔ ان کے پاس رونے کو بہت سے غم تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس کس بات کا ماتم کریں۔ باپ کے مرنے کا، یا بھائیوں کے رویے کا۔
دو روز تک وہ ٹھیک سے کچھ کھا بھی نہیں سکیں۔وہ بس خاموشی سے ان کے ساتھ بیٹھا رہتا تھا۔ تیسرے روز وہ علی کرامت کی ممی کو بلا لایا۔ وہ آئیں اور ممی کو تسلی دینے لگیں۔ ممی ذرا سنبھل گئیں۔ انہوں نے کھانا بھی کھا لیا۔ مگر ان کے جانے کے بعد وہ اس سے بولیں۔
سنو جہان! میرا خیال تھا کہ تم راز رکھنا جانتے ہو۔ہمارے مسئلے اور ہماری پریشانیاں بھی راز ہی ہوتی ہیں۔ ان کا دوسروں کے سامنے اشتہار نہیں لگاتے بیٹا!جو انسان اپنے آنسو دوسروں سے صاف کرواتا ہے، وہ خود کو بے عزت کر دیتا ہے اور جو اپنے آنسو خود پونچھتا ہے، وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط بن جاتا ہے۔
اس نے خفت سے سر ہلا دیا۔ یہ بات اس نے اپنے ذہن میں، دل میں اور ہاتھ کی لکیروں میں نقش کر لی کہ اسے اپنے مسئلے خود ہی، اکیلے اور تنہا حل کرنے ہیں۔کبھی بھی لوگوں کو بتا کر نہ ہمدردی لینی ہے اور نہ ہی تحسین مانگنی ہے۔
ممی نے پاکستان جانے کا ارادہ بدل دیا۔ نانا جان رہے نہیں اور جن لوگوں کے دل میں ان کی اور ان کے شوہر کی عزت و حرمت نہ تھی، ان لوگوں کے درمیان جا کر وہ کیا کرتیں؟
دوبارہ وہ اس کے سامنے نہیں روئیں، لیکن اب وہ بہت دکھی رہنے لگیں تھیں۔
ابا کی طبیٹ ان ڈراؤنے خوابوں سے بگڑنے لگی تھی، جو ان کو اب قریبا ًہر رات ستاتے تھے۔ کچھ خواب تو اسے بھی آتے تھے، مگر اس کے خواب میں اس کو ملامت نہیں کیا جاتا تھا، بس وہ آواز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پاک اسپائی، وہ گھوڑا، وہ فوارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سارا منظر پھر سے تازہ ہو جاتا، ایسے جیسے زخم تازہ ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں ابا کیا دیکھتے تھے، مگر وہ اکٽر راتوں کو چیخنا چلانا شروع کر دیتے تھے۔ کبھی کبھی ممی کے چہرے پہ کوئی نشان دیکھتا تو جان جاتا کہ ابا نے ہاتھ میں اٹھائی چیز ان کو دے ماری ہو گی۔ مگر ممی کوئی شکایت نہیں کرتی تھیں۔ یہ وہ سکندر احمد شاہ نہیں تھے جنہوں نے اپنے ملک سے غداری کی تھی۔ یہ ایک ذہنی مریض قابل ِرحم آدمی تھے اور اب انہیں ممی کی ضرورت تھی۔
پھر ایک عرصہ وہ ہسپتال بھی رہے، پھر جب واپس آۓ تو ان کو مستقل رکھنا پڑا۔ یہ دوائیں ان کو سارا دن خاموش اور پُرسکون رکھتیں، چاہے وہ جاگ رہے ہوتے یا سو رہے ہوتے، کچھ ہی عرصے بعد ابا ایک انسان سے ایک ایسے مریض بن گئے تھے جو کمرے تک محدود ہو گۓ۔ ہاں، ہر پندرہ، بیس دن بعد ایک دورہ ان کو پڑتا اور وہ توڑ پھوڑ کرتے، چیختے چلاتے، مگر ممی سنبھال لیتں۔ اپنے مسئلے خود ہی حل کرتے کرتے، وہ پہلے سے بہت مضبوط ہو گئیں تھیں۔
* * * *
کرامت بے کی دکان چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد اس نے ایک چابی ساز کے پاس نوکری کر لی تھی۔ شام میں اب وہ اس دکان پہ جاتا جو ان کے گھر سے دس منٹ کے پیدل راستے پہ تھی۔ اگر اسے کسی کام میں مزہ آتا تھا تو وہ چابیاں بنانے میں تھا۔ کچھ عرصہ تو وہ صرف سیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ عام چابیوں کے بعد وہ چائنیز تالوں اور پیچیدہ اقسام کے سیف کی کنجی سازی سیکھنے لگا۔ اس کے پاس لائبریری سے لی گئی ان کتابوں کا ڈھیر ہوا کرتا تھا، جن میں لاک توڑنے یا کنجی سازی کے متعلق کوئی معلومات ہوتی۔بہت مہارت سے بنا کوئی ضرب لگاۓ تالا توڑنا، چاہے وہ ماسٹر کی سے یا لوہے کی پِن سے، وہ اس فن میں طاق ہوتا جا رہا تھا۔
ان سب مشغلوں کا اثر اس کی پڑھائی پہ البتہ ضرور پڑا۔ وہ کبھی بھی بہت لائق قسم کا طالب علم نہیں بن سکا۔ اس کے گریڈ ہمیشہ میڈیم رہے۔ وہ ذہین تھا، مگر اس کو پڑھائی میں دلچسپی نہ تھی۔ دوسرے کام اسے زیادہ دلچسپ لگتے تھے۔
اس کی چودھویں سالگرہ بیتے زیادہ وقت نہیں بیتا تھا۔ جب فرقان ماموں نے اطلاع دی کہ وہ اور سلیمان ماموں ترکی آرہے ہیں۔ خون، پانی سے گاڑا ہوتا ہے، اس نے یہ دیکھ لیا۔ ممی پرانی تلخیاں بھلا کر ان کے آنے کی تیاریوں میں لگ گئیں۔ انہوں نے جیسے دل سے ماموں کو معاف کر دیا تھا۔ ان کے خیال میں ماموں ان کے اس سوال کے جواب میں یہاں آ رہے تھے جو چند روز پہلے انہوں نے فون پہ ان سے پوچھا تھا کہ اگر وہ اور جہان، سکندر شاہ کو لے کر پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئیں اور ان کا مقدمہ لڑیں تو کیا ماموں ان کو مورل سپورٹ دیں گے۔ مالی مدد کا ایک ٹکا نہیں چاہئے تھا انہیں، بس ماموؤں کا ساتھ درکار تھا۔ فرقان ماموں جوابا خاموش ہو گئے تھے، پھر انہوں نے بتایا کہ وہ اور سلیمان کچھ روز تک آئیں گے، پھر اس بارے میں بات کریں گے۔
ممی کی اور بات تھی، مگر اس کا دل اپنے ماموں سے اتنا بدظن ہو چکا تھا کہ اسے ان کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہوئے ممی کو سنتا رہتا جو اب اٹھتے بیٹھتے کہا کرتیں۔
ہم پاکستان واپس ضرور جائیں گے، اتنے برس بیت گئے ہیں، لوگ بھول بھال گئے ہوں گے۔ اب یہ جلاوطنی ختم ہونی چاہیے۔ بھائی ضرور ہمارا ساتھ دیں گے۔ میرے بھائی بہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ممی ڈھونڈ ڈھونڈ کر ماموؤں کی خوبیاں گنواتی رہتیں۔ اس نے بہت عرصے بعد انہیں اس طرح خوش اور پرامید دیکھا تھا۔ وہ انہیں کہہ نہیں سکا کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے انہیں اب دوسروں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہیں اپنی کہی بات یاد رکھنی چاہیئے، مگر ممی بھائیوں کے نرم رویے دیکھ کر انہیں دوسروں کی فہرست سے نکال کر اپنوں میں لے آئی تھیں۔
اس میں ہمت نہیں تھی کہ یہ سب کہہ کر ماں کو مغموم کرے۔ ابا کا ہونا، نہ ہونا برابر تھا، مگر ممی اس کے لیے سب کچھ تھیں۔ ان کی مشقت، محنت، قربانیاں اور ایک کمزور عورت سے ایک مضبوط عورت میں ارتقا کا عمل جو اس نے عمر کی منزلیں طے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے بہت دعا کی کہ ممی دکھی نہ ہوں، مگر اسے لگتا تھا کہ ممی غلط لوگوں سے امید لگا کر دکھی ضرور ہوں گی۔ لیکن جو ہوا، وہ اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
دونوں ماموں آ ہی گئے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب وہ برتن اٹھا کر انہیں کچن کے سنک میں دھونے کے لیے جمع کر رہا تھا تو ممی اور ماموؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو اسے صاف سنائی دے رہی تھی۔
بالکل! میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ اب تم لوگ پاکستان آ جاؤ۔ صوفے پر بہت کروفر سے بیٹھے رعب دار سے فرقان ماموں کہہ رہے تھے۔ ان کی بات پہ کچن میں کھڑا جہان تو ایک طرف، ممی بھی حی زدہ رہ گئیں۔ اتنی جلدی ماموں مان جائیں گے، ان دونوں نے نہیں سوچا تھا۔
تم لوگ ہمارے ساتھ آ کر رہو۔ وہ سب تمہارا ہی ہے سبین! پرانی باتیں بھول جاؤ! آگے کی سوچو۔ جہان کی پوری زندگی پڑی ہے۔ وہ بھی وہیں پڑھ لے گا، پھر ہائی سکول کے بعد ہم اسے باہر بھیج دیں گے، کسی بہت اچھی یونیورسٹی میں آخر وہ ہمارا بیٹا ہے اور پھر ہمارا داماد بھی تو بنے گا۔
فرقان ماموں نے کہتے ہوئے ایک نظر سلیمان ماموں پر ڈالی۔ انہوں نے تائیدی انداز میں سر کو اثبات میں جنبش دی۔ وہ ایسے ہی تھے، بڑے بھائی کے ادب میں ان کی ہر بات کی تائید کرنے والے۔
تم جہان کی زندگی کا سوچو سبین! اس کو ایک بہترین مستقبل دو، ہم اس کے بڑے ہیں، ہم اس کے باپ بن کر پالیں گے۔
باپ بن کر؟ وہ بالکل ٹھہر گیا۔ اس نے نل بند کر دیا۔ لاؤنج میں خاموشی تھی، مگر ایک آواز اب بھی آ رہی تھی۔ جو بند نل کے منہ سے قطرے ٹپکنے کی ہوتی ہے، جو اس کی ماں کی ساری امیدوں، خوابوں اور توقعات کے بہنے کی تھی۔ اسے ماموں کی بات ٹھیک سے سمجھ میں نہیں آئی تھی، مگر کئی دن سے خود کو بہلانے والی اس کی ماں فورا سمجھ گئی تھی۔
جب ممی بولیں تو ان کی آواز میں بھائیوں کی محبت کو ترسی، رشتوں پر مان رکھنے والی عورت نہیں، بلکہ ایک خود دار عرت کی جھلک تھی، جس کے نزدیک اپنے گھر کی خود داری سب سے بڑھ کر تھی۔
میرے بیٹے کا باپ ابھی زندہ ہے بھائی! اور اس کی ماں کے ہاتھ بھی سلامت ہیں۔ میں خود محنت کر کے اسے پاکسان بھی لے جا سکتی ہوں اور سکندر کا کیس بھی لڑ سکتی ہوں۔ مجھے سکندر کو مظلوم ثابت نہیں کرنا، بلکہ بیماری کے باعث سزا میں کمی کی اپیل کرنی ہے اور مجھے آپ سے مورل سپورٹ کے علاوہ کچھ نہیں درکار تھا۔
تم ایک انتہائی ضدی عورت ہو۔ فرقان ماموں ایک دم بھڑک اٹھے تھے۔ جس مغرور اور بد دماغ آدمی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، تم اس کے پیچھے اپنی زندگی برباد کر رہی ہو؟ تم اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟
وہ آدمی میرا شوہر ہے اور بیمار ہے۔ وہ مجھ پہ انحصار کرتا ہے اور آپ کہتے ہیں، میں اسے چھوڑ دوں؟
اور جو اس نے کیا وہ ؟
اس کا فیصلہ کرنے والے میں یا آپ نہیں، عدالت ہے اور اب تو وہ بیمار ہیں۔ ان کو میں کس طرح اکیلا چھوڑ سکتی ہوں؟ نفرت گناہ سے کی جاتی ہے، گناہ گار سے تو نہیں۔
یعنی کہ تم اس کو ہر جرم سے بری الذمہ قرار دے رہی ہوں؟ ماموں کی آواز بلند ہو رہی تھی۔
میں یہ نہیں کہہ رہی، لیکن آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ ہم نے جلاوطنی کاٹی ہے اور کئی برس کاٹی ہے۔ اب وہ بیمار ہیں۔ سکندر وہ انسان نہیں رہے جنہوں نے جرم کیا تھا، وہ صرف ایک مریض رہ گئے ہیں۔ آپ مجھ سے یہ کہہ بھی کیسے سکتے ہیں کہ میں انہیں چھوڑ دوں؟ ممی کی آنکھیں حیرت اور دکھ سے بھر گئیں۔
اگر تم یوں اس کا ساتھ دو گی تو تم ہر رشتہ کھو دو گی۔ سب تم سے دور ہو جائیں گے سبین! تم غلط کر رہی ہو۔ سلیمان ماموں نے دھیمے مگر افسردہ انداز میں کہا۔
اگر میری فیملی کو کاٹ کر سب مجھ سے خوش رہتے ہیں تو مجھے یہ خوشی نہیں چاہیے، نہ ہی ایسے رشتے۔ انہوں نے اپنی آنکھ سے ایک آنسو نہیں ٹپکنے دیا۔ رندھی ہوئی آواز میں وہ سر اٹھا کر مضبوطی سے بولی تھیں۔
تم ہماری بات مان لیتیں۔ سکندر سے طلاق لے کر ہمارے ساتھ چلتیں تو ہم تمہارے بیٹے کو بھی پڑھاتے اور اسے سر اٹھا کر جینے کے کے قابل بناتے لیکن اگر تم ہماری بات یوں رد کرو گی تو ہم بھی کبھی تمہارا ساتھ نہیں دے پائیں گے۔ فرقان ماموں کا انداز دوٹوک اور مزید سخت ہو گیا تھا۔ وہ ترکی فتح حاصل کرنے آئے تھے تا کہ جب بہن کو اپنے ساتھ واپس لے کر جائیں تو سر اٹھا کر لوگوں سے کہہ سکیں کہ انہوں نے ایک قابل نفرت آدمی کو اپنے خاندان سے نکال پھینکا اور پھر بہن، بھانجے کے سر پہ ہاتھ رکھنے پہ انہیں تحسین و تمغے بھی مل جائیں مگر ممی کو اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے یہ مظلوم، ترحم آمیز کردار منظور نہ تھا۔ وہ سر اٹھا کر جینا چاہتی تھیں۔
پہلے بھی آپ نے کب میرا ساتھ دیا جو اگر اب نہیں دیں گے تو کوئی فرق پڑے گا۔
تم رشتوں کو کھو کر پچھتاؤ گی۔
میں رشتوں کو جان کر بھی پچھتا ہی رہی ہوں بھائی! کتنے ہی سیاست دان ہیں جو ملک سے غداری کر کے باہر چلے جاتے ہیں۔ مگر ان کی واپسی پہ آپ ہی ان کو ووٹ دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ امیر لوگ ہوتے ہیں ہم آپ کی نظروں میں معیوب اس لیے ہیں کیونکہ ہم غریب ہیں۔
ہمارے پاس ترکی میں لمبی چھوڑی جائیداد نہیں ہے۔ کوئی بہت اونچا سوشل اسٹیٹس نہیں ہے اگر ہوتا تو آپ کبھی ہم سے ہوں قطع تعلق نہ کرتے۔
تمہیں کیا لگتا ہے، تم یہاں رہوگی تو کیا عزت سے رہو گی؟ نہیں۔ تم ہمیشہ معیوب ہی رہو گی۔ ایک مفرور قومی مجرم کی بیوی بن کر ذلیل ہو گی ہمیشہ۔
فرقان ماموں غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سلیمان ماموں بھی ساتھ ہی اٹھے۔ ان کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ بڑے ماموں سے متفق ہیں۔ البتہ ان کو اس طریقہ کار سے اختلاف تھا، لیکن وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے۔
اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے ماموں کی نظر کچن کے دروازے میں کھڑے اس دبلے پتلے لڑکے پہ پڑی تو انہوں نے اس کی طرف انگلی اٹھائی۔ تمہیں کیا لگتا ہے، تم یہاں عزت سے جی سکو گے؟ کبھی نہیں۔ تم ذلیل ہو گے۔ تم خوار ہو گے، کیونکہ تمہارا باپ تمہارے نام پہ ایک شرم ناک دھبہ ہے۔ تم کبھی سر اٹھا کر نہیں جی سکو گے۔ تمہارے باپ کا نام تمہارا سر ہمیشہ شرم سے جھکاتا رہے گا۔ تم کتوں کی سی زندگی گزارو گے۔ کبھی بھی عزت اور وقار سے اپنے ملک کا رخ نہیں کر سکو گے۔
وہ غصے میں بولتے کانپنے لگے تھے اور کانپ تو اس کا دل بھی رہا تھا۔ وہ بہت ہراساں سا دروازے کو مضبوطی سے پکڑے کھڑا تھا۔
بس کریں بھائی! میرے بیٹے کو یوں ٹارچر مت کریں! اس نے اپنی ماں کو اپنے سامنے آ کر کھڑے ہوتے دیکھا۔ اس کا قد اپنی ماں سے ذرا سا اونچا تھا، پھر بھی وہ اس کے سامنے ایک ڈھال تھیں۔
کیوں؟ اسے بھی تو پتا چلنا چاہیے کہ اس کی ماں نے اس کے لیے کتنا غلط فیصلہ کیا۔ میں نے تمہیں ایک آپشن دیا تھا، جو تمہارے بیٹے کے لئے اپنے ملک عزت سے لوٹنے کا واحد راستہ تھا، مگر وہ تم نے ٹھکرا دیا۔ تمنے اپنی ضد کی وجہ سے اس کی زندگی بھی جہنم بنا دی ہے۔
میں اس کی زندگی جہنم نہیں بننے دوں گی۔ سنا آپ نے؟ یہ سر اٹھا کر جیے گا۔ یہ میجر احمد کا پوتا ہے۔ یہ ان ہی کی طرح فوج میں جائے گا۔ مجھے آپ کی کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود بھیجوں گی اپنے بیٹے کو فوج میں اور آپ دیکھیے گا، ایک دن میرا بیٹا سر اٹھا کر ضرور جیے گا۔ اس نے اپنی نرم خو ماں کو اپنے سامنے ڈھال بن کر کہتے سنا۔
فوج؟ مائی فٹ! فرقان ماموں نے میز پہ رکھا اپنا سگریٹ لائٹر اٹھاتے ہوئے استہزائیہ سر جھٹکا۔ تم بھول رہی ہو سبین! تمہارا بیٹا ”غدار کا بیٹا“ ہے اور غدار کے بیٹے کو فوج میں کبھی نوکری نہیں ملتی۔ ارے! وہ تو اسے چھاؤنی کے قریب بھی نہیں بھٹکنے دیں گے۔ اس لئے ایسی کوشش بھی مت کرنا اور اگر کرنے کے بعد بے عزت کر کے نکالے جاؤ تو مدد کے لئے میرا دروازہ نہ کھٹکھٹانا۔
بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی شعلہ بار نگاہوں کا رخ جہان کی طرف کیا جو بالکل دم سادھے انہیں دیکھ رہا تھا۔ پھر اسی طرح انگشت شہادت اثھائے انہوں نے اسے ان آخری الفاظ سے متنبہ کیا جو ایک عمر اس کے ذہن میں گونجتے رہے تھے۔
تم لوگوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ اب جب تمہیں مدد چاہیے ہو تو ہمارے پاس مت آنا۔ ہمارا در مت کھٹکھٹانا، لیکن مجھے یقین ہے کہ تم بہت جلد پچھتاوؤں کا شکار ہو کر ہمارے دروازے پہ ضرور آؤ گے۔ اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئے۔ ملال زدہ سے سلیمان ماموں بھی ان کے پیچھے ہو لیے۔
ممی سر ہاتھوں میں لیے صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئیں اور وہ اسی طرح بت بنا کچن کی چوکھٹ پر کھڑا رہا۔ فرقان ماموں کے الفاظ نے اس کا اندر باہر توڑ کر رکھ دیا تھا۔اتنی ذلت، اتنی بے عزتی، کتوں کی سی زندگی گزارنے کی بد دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماموں نے اپنی زخمی انا کی تسکین کے لئے کیا کچھ نہیں کہہ دیا تھا۔ تب اسے لگتا تھا کہ وہ کبھی سر اٹھا کر نہیں جی پائے گا۔ وہ فوجی چھاؤنی کے قریب بھی نہیں بھٹک سکتا، پاک اسپائی بننا تو پھر دور کی بات تھی۔ یہ احساس ہی اس کے سارے خوابوں کو ڈبو گیا۔ کئی دن تک تو وہ اور ممی نارمل ہی نہیں ہو سکے۔ دونوں چپ چپ سے رہتے تھے، ایک دوسرے سے نگاہیں چرائے، اپنے کام نبٹاتے رہتے، آہ! وہ بہت تکلیف کے دن تھے۔
مگر ممی روئیں نہیں۔ انہوں نے اپنا کام بڑھا لیا۔ اس نے بھی اپنے کام کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ ابا کی بیماری بھی بڑھتی گئی۔ کبھی کبھی تو وہ بہت ہی قابو سے باہر ہو جاتے۔ چیختے چلاتے، ہاتھ میں آئی چیز دے مارتے، ان بلیو پرنٹس کا ذکر کرتے جو انہوں نے آگے بھیحے تھے۔ اس پاک اسپائی کا ذکر کرتے، جس کو انہوں نے قتل کیا تھا، مگر اب ممی اور وہ انہیں سنبھال لیا کرتے۔ بس خود کو سنبھالنے میں انہیں بہت عرصہ لگا تھا۔ کہنے والے تو کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر سننے والوں کے لئے وہ باتیں ساری زندگی کے لئے ایک چبھن بن جاتی ہیں۔
وقت پھر بھی گزرتا گیا۔ باسفورس کے پل تلے پانی بہتا گیا۔ سمندری بگلے استنبول کے اوپر پرواز کرتے رہے۔
وہ ہائی اسکول کے آخری سال میں تھا، جب پیون نے آ کر اسے اطلاع دی کہ ہاؤس ماسٹر کے آفس میں کوئی ملاقاتی اس کا منتظر ہے۔ وہ الجھتا ہوا کلاس سے نکلا اور ہاؤس ماسٹر کے آفس کے دروازے تک آیا۔
اندر جیسے کوئی طوفان بدتمیزی مچا ہوا تھا۔
* * * *
ہاؤس ماسٹر کے آفس کے اندر جیسے کوئی طوفان بدتمیزی مچا ہوا تھا۔ کھلی درازیں، بکھرے کاغذ، ہر چیز الٹ پلٹ پڑی تھی۔ ہاؤس ماسٹر احمت طور پریشانی کے عالم میں ایک دراز کھنگال رہے تھے۔ ان کا اسسٹنٹ دوسری دراز کی چیزیں نکال نکال کر باہر رکھ رہا تھا۔ ذرا دور رکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسی پہ ایک صاحب خاموشی سے بیٹھے تھے۔
آخر چابی گئی کدھر؟ احمت بے جھنجھلا کر کہہ رہے تھے۔ جہان کی نظریں دیوار کے ساتھ لگے لاکر پر پھسل گئیں، جو مقفل تھا۔ یقیناً اس کی چابی نہیں مل رہی تھی۔
بولو! بتاؤ، اب میں ہیڈ ماسٹر کو کیا کہوں کہ میرے اسسٹنٹ کی لاپرواہی کی وجہ سے لاکر نہیں کھل رہا اور فائل نہیں نکالی جا سکتی؟ اپنی جھنجھلاہٹ اور پریشانی میں انہوں نے دروازے میں کھڑے لڑکے کو نہیں دیکھا تھا۔
سر! میں نے یہیں رکھی تھی، میں ڈھونڈ رہا ہوں۔ ابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسسٹنٹ کی بات کو فون کی گھنٹی نے کاٹا۔ اس نے جلدی سے ریسیور اٹھایا۔
ﺟﯽ، ﺟﯽ ﺳﺮ! ﺑﺲ اﺣﻤﺖ ﺑﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻓﺎﺋﻞ ﻻ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﯽ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ! ﺑﻤﺸﮑﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﮭﺒﺮﺍﮨﭧ ﭘﮧ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﺗﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﭘﮧ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﺎﺅﺱ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺮﺥ ﭘﮍﺗﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮ! ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﺠﺎﯾﺎ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧﺍﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﭘﮭﯿﺮ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭﮞ؟
ﮐﯿﺎ؟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﻟﺠﮭﻦ ﺩﺭ ﺁﺋﯽ۔
ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ آگے ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻻﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮨﻮﻝ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮏ ﺩﻡ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﭼﮭﺎ ﮔﺌﯽ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮭٹر پٹر، ﻣﺘﺤﺮﮎ ﮨﺎﺗﮫ، ﺳﺐ ﭨﮭﮩﺮ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﭘﻨﯿﮟ ﻧﮑﺎﻟﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﮓ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮟ۔ ﺁﮔﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ نے ﻭﮦ ﭘﻦ ﺗﺮﭼﮭﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﯽ ﮨﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯽ، ﭘﮭﺮ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﻝﮐﻼﮎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻧﻔﻮﺱ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻡ ﺳﺎﺩﮬﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦﻧﭽﻼ ﮨﻮﻧﭧ ﺩﺍﻧﺖ سے ﺩﺑﺎﺋﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﻮ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺳﻤﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺩﮬﻢ ﮨﻮ۔ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﺮﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻠﮏ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻻﮎ ﮐﮭﻞ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﻭﺍﻝ ﮐﻼﮎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺷﺎﭖ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺯ ﮐﺎ ﺳﯿﻒ ﮐﮭﻮﻟﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﮯ ﭘﭽﭙﻦ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﻟﮕﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﯿﻨﮉﻝ ﮔﮭﻤﺎﯾﺎ، ﺳﯿﻒ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ۔
ﺗﻢ ﻧﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺎ؟ ﮨﺎﺅﺱ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺷﺸﺪﺭ تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: