Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 47

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 47

–**–**–

ﺳﺮ! ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻓﺎﺋﻞ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﺐ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﯽ؟ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﭼﺎﺑﯽ ﺳﺎﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻻ۔
ﺍﻭﮦ ﮨﺎﮞ! ﻭﮦ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﺗﮯ ﺍﭨﮭﮯ۔ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ
ﺷﮑﺮﯾﮧ ﯾﻨﮓ ﻣﯿﻦ!
ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﻥ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﮨﻮﮞ۔ ﺁﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺍﻧﮩﻮﮞﻧﮯ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ۔
اﺳﮑﻮﻝ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﺟﮩﺎﻥ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﺣﻤﺪ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻧﯿﻢ ’’ﺷﺎﮦ‘‘ ﮨﮯ۔
ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﭽﮫ ﺍﺗﮭﻞ ﭘﺘﮭﻞ ﺳﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻓﺮﻗﺎﻥ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﭘﮭﺮ سے ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮞ، ﺑﮩﺖ ﺍﺫﯾﺖ ﻧﺎﮎ ﺗﮭﺎ۔
ﮨﻢ ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﺮﺳﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭘﻠﭧ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﺑﺎ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﮐﺮﻧﻞ ﺭﺅﻑ ﮔﯿﻼﻧﯽ، ﺷﺎﯾﺪ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺳﻨﺎ ﮨﻮ؟ ﺑﺎﮨﺮ اﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﻓﭩﺒﺎﻝ ﮐﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﮯﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﺳﻔﯿﺪ ﺍﻭﻭﺭ ﮐﻮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﺍﭼﮭﮯ ﻗﺪ ﮐﺎﭨﮫ ﮐﮯ ﻣﮩﺬﺏ سے ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻟﮕﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﻘﺎﮨﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺟﮭﻠﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍبا ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ ﺗﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﻌﻤﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺗﮭﺎ، ﺟﺘﻨﮯ ﻭﮦ ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺗﮭﮑﻦ ﺯﺩﮦ، ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭼﮩﺮﮦ۔
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﺑﺎ ﻗﺼﻮﺭ ﻭﺍﺭ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮯ ﻗﺼﻮﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﭨﺎﺭﭼﺮ ﺳﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍ ﮐﺎﭨﯽ۔ ﺗﯿﻦ ﺑﺮﺱ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻋﺰﺕ ﺑﺮﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﭼﺎﺭﺟﺰ ﮨﭧ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ لیے ﻟﻨﺪﻥ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﺮﮐﯽ ﺁ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﻮں۔
وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ جس شخص نے ان کی زندگی کے کئی برس برباد کیے۔ اس کے بیٹے کو وہ کیوں دیکھنا چاہتے تھے، وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔
میرا بیٹا حماد بھی تمہاری عمر کا ہے۔ اس نے بھی بہت برا وقت گزارا ہے۔ میری بیوی نے بھی سزا کاٹی ہے۔ وہ بھی اتنے بے قصور تھے جتنے تم اور تمہاری والدہ۔
ہم سکندر شاہ کے گھر والے ہیں اور ہم یہ سب ڈیزرو کرتے ہیں۔ مجھے آپ کی ہمدردی نہیں چاہیے سر! اس کی آواز میں تلخی گھل گئی تھی۔
نہیں، تم یہ ڈیزرو نہیں کرتے تھے۔ جلاوطنی کی سزا سب سے اذیت ناک سزا ہوتی ہے۔ تم لوگوں نے بہت عرصہ یہ سزا کاٹی ہے۔ کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ تم سر اٹھا کر جیو، جیسے اب حماد جیے گا؟
اس کے فادر بے قصور تھے، میرے قصور وار ہیں۔ میں کبھی سر اٹھا کر نہیں جی سکتا، میں جانتا ہوں۔ وہ دونوں درخت تلے نصب ایک بینچ پر بیٹھ گئے تھے۔ سامنے سرسبز میدان تھا جس پہ سورج کی کرنیں ترچھی ہو کر پڑ رہی تھیں۔ استنبول میں سرما کا سورج ایسا ہی ٹھنڈا ہوتا تھا۔
مجھے تم سے ہمدردی نہیں ہے۔ مجھے صرف تمہارا خیال ہے۔ میں نے اپنے گھر والوں کی اذیت دیکھی ہے بچے! اور میں آج تمہاری ماں سے جب ملا تو میں نے انہیں بھی اسی اذیت میں دیکھا۔ وہ سکندر کو نہیں چھوڑ سکتیں، مگر تم تو اپنے ملک واپس جا سکتے ہو۔
میں نے اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ میں جانتا ہوں، میں کبھی فوج میں نہیں جا سکتا۔ مجھے وہ کبھی چھاؤنی کے قریب بھی نہیں بھٹکنے دیں گے۔ میں پھر سے ذلیل ہونے وہاں نہیں جانا چاہتا۔
وہ بہت تکلیف سے بول رہا تھا۔ فرقان ماموں کی باتیں کسی انی کی مانند ابھی تک دل میں گڑی تھیں۔
یہ تمہیں کس نے کہا کہ تمہیں فوج میں کمیشن نہیں مل سکتا؟ وہ حیران ہوئے۔
کیونکہ میں ایک غدّار کا بیٹا ہوں اور غدّار کے بیٹے کو فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا۔
مجھے افسوس ہے کہ تمہیں کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ میں تمہیں نامور ملکی غداروں کے نام گنوا سکتا ہوں۔ جن کے خاندان کے کتنے ہی لڑکے فوج میں کام کر رہے ہیں۔ اگر تم قابل ہو اور تم ایک دفعہ پھر سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ رکھتے ہو تو تمہیں چاہیے کہ تم اپنے ملک واپس آ جاؤ۔
وہ کتنی ہی دیر بیٹھے اسے سمجھاتے رہے کہ اسے ایک دفعہ کوشش کرنا چاہیے اور پھر ملک کے لئے قابل قدر خدمات سر انجام دے کر وہ اپنے خاندان کے نام پہ لگا دھبہ مٹا سکتا ہے۔ اچھائی برائی کو ڈھانپ دیتی ہے۔ ان کا اپنا بیٹا بھی اگلے سال آرمی میں کمیشن کے لئے درخواست دینے جا رہا تھا، وہ بھی ہائی سکول ختم کر کے ان کے پاس آ جائے اور ساتھ ہی امتحان دے۔
وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ اگر اسے کوئی شک و شبہ تھا کہ وہ دھوکے سے اس کے باپ کو ملک واپس لے جانے اور سزا دلوانے کے لئے یہ سب کر رہے تھے تو وہ زائل ہو گیا۔ پھر بھی اس نے ان کو کوئی خاص جواب نہیں دیا۔ وہ اس نہج پہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ فرقان ماموں کی خواہش کے مطابق وہ کتوں کی طرح ذلیل ہو کر زندگی گزار تو رہے تھے، باعزت جینے کا حق ان کو نہیں تھا۔
سہ پہر میں جب وہ گھر لوٹا تو ممی نے کرنل گیلانی کی آمد کا بتایا اور یہ بھی کہ وہ ان سے اسکول کا پتہ پوچھ کر گئے تھے۔ ان کی فلائٹ شام میں تھی اور وہ آج ہی اس سے ملنا چاہتے تھے۔ پھر اس نے بھی سب کچھ بتا دیا۔
مگر میں ادھر نہیں جاؤں گا۔ مجھے فرقان ماموں کے گھر نہیں جانا۔ میں ان لوگوں سے پھر کبھی نہیں ملنا چاہوں گا۔ اس نے اپنے تئیں بات ختم کر دی تو ممی خاموش ہو گئیں۔
لیکن سوچیں خاموش نہیں ہوئیں۔ خواب خاموش نہیں ہوئے۔ وہ خواب کسی بوجھ کی طرح دل کو گھیرے رہا۔ کچھ دن بعد نیند میں وہ خود کو وہیں پاتا۔ انطاکیہ میں وہ بڑا سا دالان، فوارہ اور ساتھ کھڑا گھوڑا اور جب وہ پلٹنے لگتا تو اسے پکارا جاتا۔ شعور کی منزلیں طے کرتے کرتے وہ خواب جو آغاز میں ”خوف“ تھا اب ”دکھ“ بنتا گیا۔ جانے وہ کون تھا، اس نے اپنے ہاتھوں سے اس وجیہہ آدمی کو دفنایا تھا، مگر وہ کبھی اس کے خاندان کو نہیں تلاش کر سکے گا۔ اس کی بیوی، بچے برسوں اس کی راہ تکیں گے۔ حکومت، فوج، ایجنسی، کسی کو علم نہیں ہو سکے گا کہ وہ کہاں دفن تھا۔ جاسوس کی زندگی، جاسوس کی موت، یہی تھی جاسوس کی قسمت۔
پھر کیوں جوانوں میں یہ ہمت ہوتی تھی کہ وہ اپنی گردنیں ﷲ کے پاس رہن رکھوا دیں؟ وہ کہاں سے یہ جذبہ اپنے اندر لاتے تھے کہ بنا وردی، بنا تمغوں اور بنا ستائش کے خود کو کسی عظیم مقصد کیلئے صرف کر دیں؟ چپ چاپ اپنا فرض نبھائیں اور چپ چاپ مر جائیں؟ بلاشبہ وہ عظیم لوگ تھے اور وہ ان لوگوں میں سے کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔ بعض دفعہ انسان اپنے خواب کسی شے میں ڈال کر ان کو سیل بند کر دیتا ہے۔ موم کی ایسی سیل جو کوئی کھول نہ سکے۔ اس نے بھی اپنے خواب مہر بند کر دیے تھے۔
یہ چند ماہ بعد کی بات تھی۔ ابھی اس کا ہائی اسکول ختم نہیں ہوا تھا کہ اسکول کا ایک ٹرپ انطاکیہ کیلئے پلان ہونے لگا۔ تاریخی اور قدیم شہر انطاکیہ جانے کیلئے تمام طلبا و طالبات بہت پرجوش تھے۔ وہ بھی تھا مگر اس کی وجہ کچھ اور تھی۔ اس کو اپنے خوابوں سے پیچھا چھڑانے کا راستہ نظر آ گیا تھا۔ ممی سے اس نے بہت اصرار سے اس فام ہاؤس کا پتا پوچھ لیا جس کے دالان میں فوارے کے ساتھ کچھ ”آثار“ ثبت تھے۔ وہ ان آثار کو کھوجنا چاہتا تھا۔ اس نے ممی کو کچھ نہیں بتایا۔ نہ ہی ابا کا راز اور نہ ہی اپنا ارادہ جو کہ اس فام ہاؤس کے مالک کو یہ کہانی سنانے کا تھا کہ وہ اس جگہ کو اکثر خواب میں دیکھتا ہے، شاید یہاں کوئی دفن ہے۔ وہ اسے راضی کر لے گا، وہ اس جگہ کی کھدائی کرے، پھر جب وہ لوگ اس پاک اسپائی کی نعش ڈھونڈ لیں گے تو وہ پاکستانی سفارت خانے اطلاع کر دے گا۔ شاید اس کی نعش واپس پاکستان بجھوانے کی کوئی سبیل نکل آئے۔
اس وجیہہ صورت پاکستانی اسپائی کو اس کے خاندان کو واپس لوٹانے کا اس سے بہتر لائحہ عمل اسے نہیں معلوم تھا۔ بلآخر وہ اس قرض کو اتار دے گا جو دادا نے کہا تھا کہ اس کے کندھوں پہ آ گرا ہے۔ بلآخر وہ ابا کے راز کے بوجھ سے نجات حاصل کر لے گا۔ اسے یقین تھا کہ وہ نعش آج بھی ویسی ہی گرم اور نرم ہو گی۔ اس کا خون اب بھی بہہ رہا ہو گا اور اس کی گردن پہ اب بھی پسینے کے قطرے ہوں گے۔ شہید مرتے تھوڑا ہی ہیں۔ وہ تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
بہت دقتوں سے وقت نکال کر، ڈھونڈ ڈھانڈ کر اس فارم ہاؤس پہنچا۔ اندر کا راستہ اسے ابھی تک یاد تھا۔ بس اس گیٹ کو عبور کر کے ذرا آگے جا کر دائیں طرف مڑ جائے گا تو وہاں سے فوارے والا دالان صاف نظر آئے گا۔ گیٹ سے وہ جگہ نظر نہیں آتی تھی۔ ملازم نے اسے اندر آنے دیا اور فارم کے مالک کو بلانے چلا گیا۔ جہان ادھر نہیں رکا، وہ تیز قدموں اور دھڑکتے دل کے ساتھ بھاگتا ہوا آگے آیا اور عمارت کے دائیں جانب سے آ مڑا تاکہ دالان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دالان کے عین سرے پہ ٹھٹک کر رک گیا۔ پھر بے یقینی سے پلکیں جھپکیں۔ چند لمحے کیلئے ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا۔
اس نے ہر چیز سوچی تھی، سوائے اس کے کہ آٹھ برس بیت چکے تھے۔ سامنے، جہاں پہلے کچی مٹی کا وسیع احاطہ اور درمیان میں فوارہ تھا، اب وہاں ایک گہرا اور خوب لمبا چوڑا سا تالاب تھا۔
وہ بے دم سا گھٹنوں کے بل زمین پہ آ گرا۔ تالاب؟ اتنا بڑا تالاب؟ اس کو تعمیر کرنے کیلئے تو کئی فٹ نیچے تک زمین کھودنی پڑی ہو گی، تو کھدائی کے دوران اس نعش کا کیا بنا ہو گا؟
آپ کو یقیناً خواب میں ایسا کچھ نظر آتا ہو گا، مگر یقین کریں! چار سال پہلے اس پوری جگہ کی کھدائی میرے سامنے ہوئی تھی۔ میں ایک دن بھی مزدوروں کے سر سے نہیں ہٹا اور ہم نے بہت نیچے تک زمین کھودی تھی۔ یہاں سے کچھ نہیں ملا تھا۔ انسانی لاش تو دور کی بات، کپڑے کا ٹکڑا بھی نہیں ملا۔
جب فارم ہاؤس کا مالک آیا تو اس کی کہانی سن کر بہت وثوق سے بتانے لگا۔ اس کے لہجے اور آنکھوں سے سچائی جھلک رہی تھی۔
ہاں! صرف ایک بات تھی۔ وہ کہتے کہتے ذرا رکا، اور پھر جیسے یاد کر کے بولا۔ اس جگہ کی مٹی بہت اچھی تھی۔ اس سے عجیب سی خوشبو آتی تھی۔ ایسی خوشبو جو ہم نے کبھی نہیں سونگھی تھی۔ اس کی وجہ میں شاید کبھی معلوم نہ کر سکوں۔
بہت سے آنسو اس نے اپنے اندر اتارے تھے۔ وہ خوشبو کی وجہ جانتا تھا، مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ پاک اسپائی کی نعش کہاں گئی مگر یہ تو طے تھا کہ اس زندگی میں وہ کبھی نہیں جان پائے گا اور طے تو یہ بھی تھا کہ اس نے اس پاک اسپائی کو ہمیشہ کیلئے کھو دیا ہے۔
اس واقعے نے اسے ایک بات سمجھا دی تھی۔ وہ جو سمجھتا تھا کہ جاسوس لاوارث خاموشی سے مر جاتا ہے تو وہ غلط تھا۔ ﷲ بہت غیرت والا ہے۔ کسی کا احسان نہیں رکھتا۔ جو آدمی اس کے لیے جان دے دے، وہ اسے لاوارث چھوڑ دے گا؟ اس کو اپنی زمین میں باعزت جگہ بھی نہیں دے گا؟ یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ نہیں ہوتا تھا۔
اس روز اسے شدت سے فرقان ماموں کی باتیں یاد آئیں مگر آج ان باتوں کی تکلیف پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوئی تھی۔ وہ کہتے تھے۔
تم ذلیل ہو گے، تم خوار ہو گے، تم کبھی سر اٹھا کر نہیں جی سکو گے۔ تم کتوں کی سی ذلیل زندگی گزارو گے۔
مگر اب بلآخر اس کے خوابوں پہ لگی موم کی مہر پگھل گئی تھی۔ سارے خواب پھر سے لفافے سے باہر آ گئے تھے۔
نہیں، وہ ان کی باتوں کو درست نہیں ثابت ہونے دے گا۔
وہ واپس جاۓ گا اور وہ بہت محنت کرے گا۔ اپنے ملک سے وفاداری کا عہد نبھاۓ گا۔ یوں مفرور مجرموں کی طرح ایک دوسرے ملک میں ساری زندگی چھپ کر نہیں گزار دے گا۔ اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ وہ سر اٹھا کر کیوں نہیں جی سکتا؟ نہیں۔ وہ کتوں کی سی ذلیل و رسوا کن زندگی نہیں جیے گا۔ وہ حشر کے بڑے دن اپنے دادا کو کیا چہرہ دکھاۓ گا۔ اسے سرخرو ہونے کے لیے وہی نوکری کرنی تھی جو اس کے باپ نے کی، مگر اسے اپنے خاندان اور دادا کے نام پر سے ذلت کا دھبہ اتارنے کے لیے وہ نہیں کرنا تھا، جو اس کے باپ نے کیا۔ اس کو ثابت کرنا تھا کہ اچھائی، برائی کو رفع کر دیتی ہے۔ اور وہ یہ سب کر کے دکھائے گا۔ وہ فرقان ماموں کو یہ ثابت کر کے دکھاۓ گا کہ وہ اپنے باپ جیسا نہیں ہے۔ ایک دن آۓ گا، جب وہ ان کے سامنے سر اٹھا کر کھڑا ہو گا۔ وہ اس دن سرخرو ہو جاۓ گا، اس کی ماں اور دادا سرخرو ہو جائیں گے۔
اپنے تمام تر عزم و ہمت کے باوجود ایک بات طے تھی۔ اگر وہ پاکستان جاۓ گا تو کرنل گیلانی کے پاس جاۓ گا، یا کسی اور کے پاس یا فٹ پاتھ پہ رات بسر کر لے گا مگر ماموؤں کے گھر نہیں جاۓ گا۔
تم نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ اب جب تمہیں مدد چاہیے ہو تو ہمارے پاس مت آنا۔ ہمارا در مت کھٹکھٹانا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ تم بہت جلد پچھتاوؤں کا شکار ہو کر ہمارے دروازے پہ ضرور آؤ گے۔ یہی کہا تھا نا انہوں نے۔ اب اس کی عزت اسی میں تھی کہ وہ ماموں کی طرف نہ جاۓ۔ اس کےلیے یہ عزت نفس کا مسئلہ تھا، مگر ممی یہ سب کسی اور وجہ سے چاہتی تھیں۔
میں ہمیشہ سے چاہتی تھی کہ تم بھی فوج میں جاؤ اور میں تمہارے اس فیصلے پہ بہت خوش ہوں مگر میں نہیں چاہتی کہ تمہارے ماموں اس بارے میں کچھ جانیں۔ میں اپنے بھائیوں کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ اس چیز کو اپنی شکست سمجھتے ہوئے ہر ممکن کوشش کریں گے کہ تمہیں کامیاب نہ ہونے دیں۔ تم ان کے سہارے کہ بغیر کچھ بن جاؤ، اور سب سے بڑی بات، آرمی میں کوئی عہدہ پا لو، وہ یہ کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ وہ تمہارے خلاف ہو کر تمہیں اپ سیٹ کر دیں گے۔
پھر ہم اسے راز کیسے رکھیں گے؟
اس کی بات پہ ممی مسکرائی تھیں۔
کم آن جہان! تمہیں راز رکھنے آتے ہیں۔
مگر انہیں پتا چل جاۓ گا ممی!
دیکھو! ایک نہ ایک دن ان کو پتا لگنا ہی ہے، مگر تب تک تمہیں اس قابل ہو جانا چاہیے کہ تم ان کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہو سکو۔ ویسے بھی ہر سال سیکڑوں کیڈٹ بھرتی ہوتے ہیں، تمہارے ماموں کو کیا معلوم کہ ان کے نام کیا ہیں اور وہ کون ہیں؟
اس نے اثبات میں گردن ہلا دی۔ یہ اتنا مشکل بھی نہیں تھا، جتنا وہ سمجھ رہا تھا۔
ہمارا استنبول میں کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔ حلقہ احباب بھی تھوڑا سا ہے۔ میں سب کو کہہ دوں گی کہ تم انقرہ گئے ہو، وہاں کالج میں داخلہ لے لیا ہے۔
نہیں! انقرہ میں سلجوق عمران کے کزنز پڑھتے ہیں، وہ میرے ہم عمر ہیں، انقرہ کہا تو پول کھل جاۓ گا۔ یونان ٹھیک رہے گا۔ ممی نے نم مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
ہاں، تمہیں راز رکھنے آتے ہیں۔
ممی کے بقول، ماموں کے آس پاس خاندان میں دور دور تک کوئی فوج میں نہ تھا۔ وہ سب کاروباری لوگ تھے۔ ان کے حلقہ احباب میں اگر کوئی آرمی فیملی تھی بھی تو سکندر شاہ کے مشہور زمانہ کیس کے بعد فرقان ماموں وغیرہ اب ان سے احتزاز برتتے تھے۔ کرنل گیلانی ویسے بھی لاہور میں رہائش پزیر تھے، یوں جب وہ پاکستان گیا تو اسے اپنے ماموں کے شہر نہیں جانا پڑا تھا۔
ان سب احتیاطی تدابیر کے باوجود اسے علم تھا کہ جلد یا بدیر فرقان ماموں جان لیں گے کہ وہ ادھر ہی ہے اور اس وقت کو سوچ کر وہ خوف زدہ ہو جاتا تھا۔ ممی کے سامنے وہ ہمیشہ یہی ظاہر کرتا تھا کہ وہ یہ سب اپنی انا کے لیے کر رہا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ تھی، کہ اس کی عزت نفس مجروح ہوئی تھی، مگر یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ وہ اپنے ماموؤں کے سامنے خود کو کمزور محسوس کرتا تھا۔ وہ واقعی ان کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اسے یہی خوف تھا کہ وہ اسے اس کے باپ کا طعنہ دیں گے اور وہ ایک دفعہ پھر ٹوٹ جائے گا۔
رؤف گیلانی بہت اچھے اور دھیمے مزاج کے حامل انسان تھے۔ وہ ان کی بہت قدر کرتا تھا۔ اس کے باپ کی ساری زیادتیاں نظر انداز کر کے انہوں نے اسے اپنے گھر جگہ دی اور پھر ہر موقع پہ اس کی مدد کی۔ صرف مالی مدد ان سے نہیں لیتا تھا، مگر اخلاقی طور پر وہ ہمیشہ اس کا سہارا بنے رہے۔ وہ اور حماد اکٹھے کیڈٹ بھرتی ہوۓ تھے اور ترقی کی منازل انہوں نے اکٹھے طے کی تھیں۔ وہ سکندر شاہ غدار کا بیٹا ہے، یہ بات کبھی بھی اس کے لیے تازیانہ نہیں بنائی گئی۔ اب رؤف گیلانی، ان کی بیگم ارسلہ، حماد اور اس کی چھوٹی بہن نورالعین (عینی) اس کے لیے دوسری فیملی کی طرح تھے۔ چھاؤنی میں عمومی طور پہ آپ کے اپنے کردار اور اعمال کو پہچان کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، نہ کہ آپ کے پرکھوں کے کردار اور اعمال کو۔ اس نے اپنا نام جہاں ایس احمد لکھنا شروع کر دیا۔ زیادہ تر وہ اپنے سر نیم احمد کے ساتھ ہی پکارا جاتا تھا مگر جب کبھی پورا نام لکھنا یا بتانا ہوتا، وہ جہان سکندر احمد ہی لکھا اور بتایا کرتا۔
کرنل گیلانی کہتے تھے، مسلمان اپنی زندگی میں اپنے باپ کے نام سے ہی پکارا جانا چاہیئے اور باپ کا نام اسے کبھی اپنے نام کے آگے سے ہٹانا نہیں چاہیئے، چاہے باپ جیسا بھی ہو۔ بہت عرصے بعد اس نے بلآخر اپنے احساس ِکمتری کو دبا لیا تھا۔رشتے ختم نہیں کر سکا تھا۔ختم کرنے اور دبانے میں خلیج جتنا فرق تھا، اور یہی فرق اس کی ذات میں ایک خلیج چھوڑ گیا تھا۔
وہ چلا گیا تو ممی نے مصلحتا ً ماموؤں سے ٹیلی فونک رابطہ استوار کر لیا، تا کہ اگر کبھی وہ یہ خبر جان لیں تو ممی کو معلوم ہو جاۓ اور ایک دفعہ فرقان ماموں نے باتوں باتوں میں کہہ بھی دیا کہ کسی نے ان سے استفسار کیا تھا کہ کیا کرنل سکندر کا بیٹا لاہور میں پوسٹڈ ہے؟ تو جواباً ماموں نے بہت فخر سے بتایا کہ ذلت و شرمندگی کے مارے سکندر شاہ کا خاندان کبھی بھی پاکستان کا رخ نہیں کرے گا۔ آخر کارنامہ بھی تو خاصا شرمناک سرانجام دیا تھا انہوں نے۔ وہ کوئی اور جہان ہو گا۔
ممی خاموش ہو گئیں، پھر انہوں نے ماموں کو یہی کہا کہ وہ کوئی اور ہی ہو گا۔ماموں کے ذہن میں ایک غلط تصوّر قائم تھا کہ غدار کا بیٹا فوج میں کبھی بھرتی نہیں ہو سکتا، اس لیے انہوں نے اس معاملے کی چھان پھنک نہیں کی۔ شاید کچھ عرصہ بعد وہ جان بھی لیتے، مگر تب تک اس کا تبادلہ وہاں ہو گیا، جہاں کبھی کوشش کرنے سے بھی پوسٹ نہیں ملتی اور جو خود کو “خفیہ والوں” میں شامل کروانے کی رتی بھر بھی کوشش نہ کرے، وہ وہاں بھیج دیا جاتا ہے۔ اب اس جاب کی ضرورت تھی کہ وہ اپنا سوشل سرکل محدود رکھے۔ منہ بند اور آنکھیں و کان کھلے رکھے اور اپنے کام کو بھی خفیہ رکھے۔
بالآخر وہ پچیس برس کی عمر میں، چھ ماہ کی ٹریننگ، چار ماہ دس دن میں مکمل کر کے ایک ایجنٹ بننے جا رہا تھا۔ “پاکستانی جاسوس” جس کا وہ ہمیشہ خواب دیکھا کرتا تھا۔ اب اسے امید تھی کہ شاید وہ برسوں دیکھا خواب اسے دکھائی دینا بند ہو جائے۔ گو کہ اس کی شّدت میں کمی آ چکی تھی مگر بہرحال وہ اب بھی اس کے ماضی کا آسیب بن کر اس کے ساتھ تھا۔
فوج اور ایجنسی میں (اس زمانےمیں) آپ کا ایک ہی ہدف، ایک ہی دشمن، ایک ہی تعصب، ایک ہی نفرت کا منبع ہوتا تھا۔
!.‏Dear Neighbours۔
جس رات اسے پہلی دفعہ غیر قانونی طور پر بھارت جانا تھا، اس سے پچھلے روز اس کے انسٹرکٹر کی موجودگی میں، مروجہ اصول کے مطابق ڈاکٹر نے اس کی داہنی طرف کی ایک ڈاڑھ نکال کر اس کی جگہ ایک خاص پلاسٹک کی بنی مصنوعی ڈاڑھ لگا دی تھی جس میں سائنائڈ سے بھرا کیپسول تھا۔
سائنائڈ جو کنگ آف پوائزنز تھا۔ یہ کیپسول ایک شیشے کے خول میں بند تھا اور زبان کی مدد سے باہر نکل آتا تھا۔اگر غلطی سے نگل لیا جائے تو جب تک شیشہ نہ ٹوٹے، یہ بہ آسانی کوئی نقصان دیئے بغیر جسم سے گزر جاتا ہے۔ لیکن اگر چبا لیا جائے تو شیشہ ٹوٹ جائے گا اور انسان چند پل میں مر جائے گا۔ یہ اس لیے تھا کہ اگر کبھی وہ گرفتار ہو جائے اور تشدد برداشت نہ کر سکے اور اسے خدشہ ہو کہ مزید تشدد کی صورت میں وہ اپنے راز اگل دے گا، تو بہتر تھا کہ وہ اپنی زہر بھری ڈاڑھ کو نکال کر چبا لے اور خاموشی سے جان دے دے۔
یہ اس سے بہتر تھا کہ وہ تفتیشی افسران کے سامنے بولنا شروع کرے، اپنے ساتھیوں کی جان خطرے میں ڈالے اور ملک کو نقصان پہنچائے۔ مر جانا، راز اگل دینے سے ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔
وہ سوا سال انڈیا میں ایک دوسری شناخت کے ساتھ رہا۔کور شناخت وہ جعلی شناخت ہوتی ہے جس کے زریعے جاسوس اس معاشرے میں متعارف ہوتا ہے۔ ہر کور کے ساتھ ایک لیجنڈ بھی ہوتا ہے۔
لیجنڈ اس فرضی ماضی کو کہا جاتا ہے جو اس جعلی کور کے پیچھے گھڑا جاتا ہے۔ مثلا یہ آدمی کہاں پیدا ہوا۔
آدمی کہاں پیدا ہوا، کہاں سے گریجویٹ ہوا، سابقہ بیوی کا نام، وغیرہ وغیرہ۔
آپ کے پیچھے آپ کی ایجنسی اس لیجینڈ کو اتنے اچھے طریقے سے نبھاتی ہے کہ اگر کوئی آپ کے بارے میں تحقیق کرنے نکلے تو اس کو آپ کی جائے پیدائش کے ہسپتال میں آپ کا نام رجسٹر میں لکھا بھی مل جائے گا۔ گریجویشن سرٹیفکیٹ بھی وہ دیکھ لے گا اور آپ کی سابقہ بیوی سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ یہ سب تاش کے پتوں کے گھر کی مانند ہوتا تھا، جس کو بعض دفعہ ایک پھونک ہی اڑا کر بکھیر دیتی تھی۔ اس چیز کو ایجنٹ کا کور بلو (Cover Blow) ہونا کہتے تھے۔
سوا سال اس کا اپنی ماں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ اس کا پاکستان میں صرف ایک شخص سے رابطہ تھا، جو اس کے “باس” تھے۔ وہ لوگ اپنا باس اس کنٹرولر یا ہینڈلر کو کہتے تھے جو ہمہ وقت جاسوس سے رابطے میں رہتا تھا۔ ممی کو کوئی پیغام دینا ہوتا تو باس تک پہنچاتیں اور وہ اس تک پہنچاتے۔ باس کی ہر بات ماننا فرض تھا۔ بعض دفعہ اچھے بھلے حالات میں بھی دو دو ماہ خاموشی سے گھر میں بیٹھنے اور اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کا حکم ملتا اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کرنا پڑتا۔ بعض دفعہ مسلسل کام کرنا ہوتا، بس جو ادھر سے حکم آئے، وہی کرنا ہوتا تھا۔ ہوتے ہیں نا کچھ لوگ جو اپنی گردنیں اللہ کے پاس رہن رکھوا دیتے ہیں۔ اس نے بھی رکھوا دی تھی۔
اور اپنی گردن رہن رکھوانا کیا ہوتا ہے، یہ اس کو تب علم ہوا تھا، جب سوا سال تک ریزیڈنٹ اسپائی کے طور پہ کام کرنے کے بعد ایک دن بہت اچانک وہ گرفتار ہو گیا تھا۔
* * * *
اس نے ہمیشہ گرفتاری کے امکان کو مد نظر رکھا تھا مگر “را” کی تحویل اور تشدد کیا ہوتا ہے، یہ اسے تب معلوم ہوا جب اس نے خود کو ان کی حراست میں پایا۔
ایک مقامی بینک کے باہر وہ اپنے مقررہ وقت پہ ”دوست“ سے ملنے آیا تھا۔ دوست سے مراد اس کا کوئی فرینڈ یا عزیز نہیں جس سے اس کی دوستی تھی بلکہ وہ اپنے ملک کے ایحنٹس کو ”دوست“ کہا کرتے تھے۔ اس مقامی دوست کو اس تک چند اشیاء پہچانی تھیں۔ وقت جگہ سب کچھ دوست کا مقرر کردہ تھا۔ وہ پہلے بھی اس ساتھی جاسوس سے کئی بار مل چکا تھا۔ وہ تیس بتیس برس کا خوش شکل سا پاکستانی تھا، جو بھارت میں بھارتیوں کی طرح ہی رہ رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر کبھی جہان کو نہیں لگا تھا کہ یہی دوست اس کو یوں دھوکا دے گا۔
وقت مقررہ پر اسے بلا کر وہ خود نہیں آیا۔ وہ اس جگہ کے قریب ہی انتظار کرتا رہا، جب تک دوست نے نہیں آجانا تھا، وہ ادھر سے نہیں جا سکتا تھا، مگر پھر ایک دم سے پیچھے سے کسی نے اس کے سر پہ کچھ دے مارا اور وہ ضرب اتنی شدید تھی کہ وہ چند لمحے کے لئے واقعتاً سنبھل نہ سکا اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چند لمحے اسے زندگی کے بد ترین دور میں لے گئے۔
را کی تحویل جہنم سے بھی بدتر تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: