Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 48

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 48

–**–**–

”را“ کی تحویل جہنم سے بھی بدتر تھی۔
وہ اس کے بے ہوش ہوتے وجود کو گھسیٹتے، دھکیلتے اس کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ہاتھ، آنکھیں سب باندھ دیا تھا۔ وہ اندھا، مفلوح ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ اتنے سارے اہلکار تھے اور وہ اکیلا تھا۔ وہ ان سے نہیں لڑ سکتا تھا۔ اس پہلی ہی ضرب نے اسے بے بس کر دیا تھا۔
کہیں کسی عمارت کے اندر ایک کال کوٹھڑی نما سیل میں لے جا کر اس کی آنکھوں سے پٹی اتاری گئی، پھر ایک آفیسر نے اس کو بالوں سے پکڑ کر چہرہ اونچا کیا، منہ پہ لگی ٹیپ اتاری اور پلاس کی قسم کے آلے سے اس کے ہر ایک دانت اور داڑھ کو باری باری کھینچا۔ جیسے ہی وہ آلہ نقلی داڑھ پہ آیا، زہر بھری داڑھ کھینچ کر الگ ہو گئی۔
یہ نقلی داڑھیں لگانے کا طریقہ دنیا کی ہر انٹیلی جینس ایجنسی میں پایا جاتا ہے، سو ہر ایحنٹ کو گرفتار کرتے ہوئے وہ سب سے پہلے اس کی داڑھ الگ کرتے ہیں۔ سو انہوں نے پاکستانی جاسوس کو گرفتار کرتے ہی سب سے پہلے اس کا فرار کا واحد راستہ ختم کیا، پھر دوبارہ سے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے اپنے ساتھ چلاتے باہر لے گئے
ایسی جیلوں میں قیدی کے فرار کا ہر امکان ختم کرنے کے لئے، کہ کہیں وہ تفتیشی سیل سے اپنے سیل کا فاصلہ اور سمت نہ جان لے اور اس طرح فرار ہونے کا کوئی منصوبہ ترتیب دے لے، اسے ہر چند قدم کے بعد لٹو کی طرح گھمایا جاتا تاکہ وہ سمت کھودے اور پھر وہ آگے چلاتے۔ اسے تربیت کے دوران بتایا گیا تھا کہ ایسے میں کیا کرنا چاہئے۔ اپنے قدم گننے چاہئیں، اور آس پاس کی خوشبو سونگھنی چاہئے۔ آوازیں سننی چاہئیں۔ اس نے یہی کیا۔ ہر طرف کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی آواز تھی۔ پھر حب قریباً ساٹھ قدم ہو گئے تو وہ اسے ایک کمرے میں لائے، کرسی پہ بٹھایا اور ہاتھ پاؤں کرسی کے ساتھ باندھے پھر آنکھوں سے پٹی اتاری۔
تاریکی سے تیز روشنی۔ اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ سامنے میز پہ ایک بڑے ریفلیکٹر میں لگا بلب روشنی کے ٹارچر کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ اس کی روشنی سے آنکھوں میں تکلیف ہوتی تھی۔ اس نے بے اختیار چہرہ پیچھے کر کے آنکھیں سکیڑیں اور سامنے دیکھنا چاہا۔ میز کے اس پار ایک آدمی کرسی پر بیٹھا تھا جو اپنے حلیے سے کوئی اعلٰی افسر لگتا تھا۔ میز پہ ایک ہینٹر سے ملتی جلتی چیز بھی رکھی تھی۔
ایک طرف دیوار میں شیشہ لگا تھا۔ جہان نے ذرا سی گردن موڑ کر ادھر دیکھا، اسے اس آئینے میں اپنا عکس نظر آیا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ اس کی طرف سے آئینہ تھا، جب کہ اس کی دوسری طرف یہ شیشے کا کام دے رہا تھا۔ یعنی اندر بیٹھے آدمی کو اس میں اپنا عکس نظر آئے گا، لیکن جو آفیسرز اور سائیکاٹرسٹ اس شیشے کے پار کھڑے ہوں گے، وہ اس کو شیشے کی طرح استعمال کرتے ہوئے اس میں سے اندر کا منظر دیکھ رہے ہوں گے۔
وہاں ہونے والی تمام گفتگو انگریزی میں ہوتی تھی۔ انہوں نے اس پہلی گفتگو میں اس کو بتایا کہ اس کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ان کی جیلوں سے مردہ یا اپاہج ہو کر ہی لوگ نکلتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ پاک اسپائی (پاکستانی جاسوس) ہے، اس لیے وہ سب سچ سچ بتا دے۔ اس صورت میں وہ اس کے ساتھ رعایت برتیں گے۔
وہ جانتا تھا کہ اس کی گرفتاری دوست کے کہنے پہ عمل میں آئی ہے، اور صاف ظاہر تھا کہ وہ بخوبی واقف ہیں کہ وہ جاسوس ہے لیکن اس کے پاس جو اسمگلر والا کور تھا، ( کہ وہ ایک اسمگلر ہے اور اس دوست نے کسی پرانے بدلے کے باعث اسے جاسوس کہہ کر پھنسوایا ہے) وہ کور اسے اب مرتے دم تک قائم رکھنا تھا۔
اس کا انٹرویو شروع ہو چکا تھا۔
نام؟ فرید حیات۔
قومیت؟ پاکستانی۔
دین؟ اسلام۔
شہر؟ سیالکوٹ۔
کس نے تربیت دی؟
جدّی پشتی اسمگلرز ہیں ہم، ہمارے باپ دادا ہماری تربیت کرتے ہیں۔ اس نے اپنی ازلی بےنیازی سے کہا۔
میں بھی جانتا ہوں اور تم بھی جانتے ہو کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ ایک موقع اور دیتا ہوں۔ اس رعب دار آفیسر نے غصے سے کہا تھا۔ بتاؤ، بھارت کس لیے آئے تھے؟
ہیروئن اسمگلنگ کے لیے۔
افسر اٹھا، اور وہ شے اٹھا کر پوری قوت سے اس کے سر پہ ماری۔ ایک، دو، تین پوری تین ضربوں کے بعد اس کا دماغ جیسے گھوم گیا۔ وہ سر کے پچھلے حصے میں پڑنے والی بدترین ضرب تھی۔
ہاں اب بولو! کس لیے آئے تھے؟
تمہاری ماں سے ملنے۔
ایک دفعہ پھر اس آدمی نے اس کے سر پہ وہ چیز ماری۔ ایسے لگتا تھا جیسے کھال تک کٹ گئی ہو۔ اذیت ہی اذیت تھی۔ وہ کرسی پہ پیچھے بندھے ہاتھوں کے ساتھ، آنکھیں سختی سے میچے ذرا سا کراہا تھا۔
درد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکلیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلن۔
اب بتاؤ! کس لیے آئے تھے؟ وہ پھر پوچھ رہے تھے۔
ہر بار اس نے وہی جواب دیا۔ ان گنت دفعہ انہوں نے سوال دہرایا اور اتنی ہی ضربیں اس کے سر پہ پڑیں۔ پھر وہ بے ہوش ہو گیا۔
جب ہوش آیا تو واپس اپنے سیل میں زمین پہ لیٹا تھا۔ سر اتنا دکھ رہا تھا کہ لگتا تھا ابھی پھٹ جائے گا۔ کنپٹی کے قریب سے خون نکل کر چہرے پہ جم گیا تھا۔ سر میں گومڑ اور جسم پہ کئی جگہ نیل تھے جیسے اس کے بے ہوش ہونے کے باوجود انہوں نے تشدد ختم نہیں کیا تھا۔
اس نے آنکھیں بند کیں تو وقت جیسے کئی برس پیچھے استنبول پہنچ گیا۔ وہ ہاتھ میں پکڑی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بگلوں کی طرف اچھالتے ہوئے سمندر کنارے چل رہا تھا۔ دادا بھی ساتھ تھے۔ وہ ہمیشہ کی طرح آگے نکل گۓ تھے۔ پھر ایک دم وہ پیچھے مڑے اور اسے دیکھ کر مسکرائے۔
کل تمہاری ماں کی سالگرہ ہے۔ اسے تو یاد بھی نہیں ہو گا۔ ہر وقت کاموں میں جو الجھی رہتی ہے۔ یوں کرتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی تحفہ لے جاتے ہیں۔
ٹھیک۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
مگر اس کو بتانا نہیں۔ کل اسے سرپرائز دیں گے۔ نہیں بتاؤ گے نا؟ پھر رک کر انہوں نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔ کیا تمہیں راز رکھنے آتے ہیں جہان؟
جہان نے آنکھیں کھولیں۔ ٹھنڈے فرش پہ دکھتے جسم کو اس نے محسوس کیا اور دھیرے سے بڑبڑایا۔ مجھے راز رکھنے آتے ہیں دادا!
اس کا وہ بدترین درد جو پھر ہمیشہ اس کے ساتھ رہا تھا، اس کا آغاز اسی جیل سے اسی روز ہوا تھا۔
پھر چند گھنٹے بیتے تو ایک ڈاکٹر آ گیا۔ اس نے اس کے زخموں پہ دوا لگائی۔ کھانے کو اسپرین کی دو گولیاں دی اور چند مزید درد کی دوائیں اس اینٹ کے ساتھ رکھ دیں جس کو تکیہ بنا کر وہ فرش پہ آنکھیں موندے لیٹا تھا۔ رات میں وہ ڈاکٹر دوبارہ آیا۔ اب کی بار اس کی موجودگی میں ہی چند تفشیشی اہلکار اسے اپنے مخصوص کمرے میں لے جانے کے لیے آۓ تو ڈاکٹر نے انہیں سختی سے جھڑک دیا۔
تم دیکھ نہیں رہے، اس کا سر کیسے زخمی ہے۔ مجھے اس کو زندہ رکھنے کا حکم ہے، میں اس کو زندہ رکھوں گا۔ اپنی تفتیش بعد میں کرنا۔ آج تم نے اس کو مزید ٹارچر کیا تو یہ مر جاۓ گا۔
جہان نے ذرا کی ذرا آنکھیں کھول کر ڈاکٹر کو دیکھا جو ان اہلکاروں پر غصہ ہو رہا تھا۔ وہ بڑبڑاتے ہوۓ واپس ہو لیے۔ ڈاکٹر اب تاسف سے سر جھٹکتا اس کے سر کی پٹی کرنے لگا تھا۔
یہ انسان نہیں ہیں، درندے ہیں۔ وہ ساتھ ہی زیر لب انگریزی میں کہہ رہا تھا۔ جہان بس اپنی نڈھال، نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔
تم فکر مت کرو، میں تمہاری ہر ممکن مدد کروں گا۔ پھر وہ اس کے قریب جھکتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا۔ میں مسلمان ہوں۔ اگر تمہیں قرآن یا جاۓ نماز چاہیۓ تو اس کا بھی بندوبست کر دوں گا۔
جہان چند لمحے خاموش نظروں سے اسے دیکھتا رہا، پھر بولا۔
کیا تم مجھے سورۃ الایمان لا کر دے سکتے ہو؟
ہاں، بلکہ میں تمہیں پورا قرآن منگوا دیتا ہوں۔
منگوا دو۔ وہ ہولے سے مسکرایا اور آنکھیں پھر سے موند لیں۔
کیسا مسلمان تھا یہ ڈاکٹر جسے یہ تک معلوم نہ تھا کہ قرآن میں الایمان نام کی کوئی سورۃ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گدھا نہ ہو تو۔ وہ جانتا تھا کہ یہ مجرموں، خصوصا جاسوسی کے مجرموں کی تفتیش کا پرانا طریقہ تھا۔ ایک آفیسر آپ پہ بے حد سختی اور ٹارچر کرتا ہے، جبکہ دوسرا آپ کی طرف داری کرتا ہے۔ خود کو آپ کا ہمدرد ثابت کر تا ہے، تا کہ ایسے حالات میں جب انسان کو اپنے قریب کوئی نظر نہ آۓ، وہ خود کو مدد کے لیے آنے والا فرشتہ ثابت کرے اور اہم معلومات اگلوا لے۔
بہرحال اسے اردو ترجمے والا قرآن، نماز والی ٹوپی اور جاۓ نماز لا دی گئی۔ وضو کا پانی بھی دیا گیا۔ یہ اس کال کوٹھڑی کا واحد روزن تھا ورنہ دو دن بہت تاریک تھے۔ اپنے ملک سے دور ایک دشمن ملک میں دشمنوں کے درمیان زخمی ہو کر قید رہنا، دنیا کا سب سے تکلیف دا امر تھا۔
وہ روزانہ اس کو تفتیشی کمرے میں لے جاتے۔ کبھی بازوؤں کے درمیان راڈ پھنسا کر دیوار سے لگا کر پیٹا جاتا، کبھی الٹا لٹکا کر سر گرم پانی کی بالٹی میں ڈبویا جاتا۔ اس کے پاس کہنے کو بس ایک ہی بات تھی۔
۔I am not a spy
(میں جاسوس نہیں ہوں)
وہ چونکہ ایک دوست کے ہاتھوں پکڑوایا گیا تھا، اس لیے ان کو اس بات میں قطعاً کوئی شک نہ تھا کہ وہ جاسوس نہیں ہے۔ ان تکلیف دہ، پرتشدد دنوں میں جہان نے اس ساتھی ایجنٹ سے بہت نفرت کی تھی جس نے چند پیسوں کے لیے اسے اور نا جانے کتنے لڑکوں کو پکڑوایا تھا۔ اس نے واقعتاً قسم اٹھائی کہ زندگی میں اگر کبھی اسے موقع ملا تو وہ اس آدمی سے بدلہ ضرور لے گا، لیکن یہ موقع کبھی اسے ملا نہیں تھا۔ وہ اپنے اس دوست کا نام جانتا تھا، نہ ہی کوئی دوسری شناخت اور اس دنیا کے ساڑھے چھ ارب انسانوں میں وہ اس ایک آدمی کو تلاش نہیں کر سکتا تھا۔ ہاں اگر کبھی وہ واپس جا سکا تو اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے کو کوشش کرے گا۔ یہ الگ بات تھی کہ ایسی کوششیں عموماً کامیاب نہیں ہوا کرتیں اور یہ بھی کہ واپسی ان دنوں بہت ناممکن سی چیز لگتی تھی۔
قریباً بارہ دن بعد اس نے سورج اس وقت دیکھا جب وہ اسے اس کے سیل سے نکال کر باہر برآمدے میں لائے، جہاں لوہے کے بڑے بڑے بلاک تپتی گرمی میں تپ رہے تھے۔ وہ اس کو باری باری ان بلاکس پہ لٹاتے تھے۔ جلن، آگ، تپش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلنے سے بڑا بھی کوئی عذاب ہو سکتا ہے بھلا؟ اس کی انا اور مردانگی کو گوارا نہ تھا کہ ان لوگوں کے سامنے اس کے لبوں سے اف تک نکلے، مگر بعض اوقات کراہنے اور درد سے بلبلا اٹھنے سے وہ خود کو روک نہیں پاتا تھا۔ تب اسے بہت غص ، بہت بےبسی محسوس ہوئی تھی۔
مگر ایک بات طے تھی۔
۔He will not sing
(وہ اپنی زبان نہیں کھولے گا!)
پھر وہ اندھیر دن اور رات اس کے اندر سے ہر چیز آہستہ آہستہ نگلنے لگے۔ اپنی ذات کا وقار اور عزت نفس تو وہ کھو چکا تھا، پھر جب ہر روز وہ اسے بے پناہ تشدد کر کے نیم جان حالت میں سیل کے سخت فرش پہ پھینک کر چلے جاتے تو اندر موجود ہر جذبہ فرش کی گرمی میں بھسم ہونے لگتا۔ جیل جانے سے قبل وہ اتنا تلخ اور بے حس نہیں تھا۔ زندگی اور زندگی کی تمام تر نرمی اس کے اندر موجود تھی۔ مگر ان تاریک دنوں نے ہر چیز اپنے اندر جذب کر لی۔ وہ دن اور رات کا حساب نہ کر پاتا۔ آہستہ آہستہ دن رات برابر ہو گئے۔
اس نے وقت کا حساب مکمل طور پر کھو دیا۔ جب کھانا آتا تو معلوم ہوتا کہ رات ہو گئی ہے۔ کھانے کی پلیٹ جو پہرے دار دروازے کی درز سے جان بوجھ کر یوں ترچھا کر کے تھماتا کہ اس کے پکڑتے پکڑتے پلیٹ زمین پہ گر جاتی۔ اسے اس گندی زمین سے کھانا اٹھا کہ کھانا پڑتا جس کو چباتے ہوئے بھی اندر ریت اور پتھر محسوس ہوتے تھے۔
جب کبھی پاکستان اور انڈیا کا میچ لگا ہوتا تو پہرےدار کمینٹری سنتے ہوئے، زور زور سے پاکستان اور محمد علی جناح، اور مسلمانوں کو ایسی ایسی گالیاں دیتے، ایسے ایسے الفاظ سے نوازتے کہ اس کا خون کھول اٹھتا، مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلتا۔
زندگی، خواہشات، امیدیں، امنگیں، اس کے اندر سب کچھ مر گیا تھا۔ ساری دنیا اور اس کی ہر چیز من گھڑت فسانہ تھی۔ اگر کہیں کوئی حقیقت تھی تو وہ یہ تنگ، تاریک، غلیظ سا سیل تھا۔
وہ اس روز بھی فرش پہ لیٹا چھت کو خالی خالی نظروں سے تک رہا تھا۔ اسے ممی یاد آ رہی تھیں۔ وہ ہر روز رات کو سونے سے پہلے سوچتی ہوں گی کہ ان کا بیٹا کہاں ہے۔ وہ ان سے عرصے سے رابطے میں نہیں تھا مگر اب تک تو شاید ان کو علم ہو گیا ہو کہ وہ زیرِحراست ہے۔ کیا وہ پھر کبھی دوبارہ ان سے مل سکے گا؟ کیا وہ پھر کبھی پاکستان کو دیکھ سکے گا؟ اس نے سوچنا چاہا تو ہر طرف مہیب اندھیرا نظر آیا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں کیا جائے گا، نہ ہی اس کا ملک اسے تسلیم کرے گا۔ کوئی ملک اپنے جاسوس کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر یہ اس کا اپنا انتخاب تھا۔
اس نے خود یہ زندگی چنی تھی اور اس تمام اذیت کے باوجود وہ جانتا تھا کہ اگر اسے دس زندگیاں دی جائیں، تب بھی وہ یہی جاب چنے گا۔ اسے اپنے کام سے محبت تھی۔ وہ پچھتا نہیں رہا تھا۔ مگر وہ یہ ضرور سوچتا تھا کہ اس پاکستانی جاسوس کے گھر والوں نے نہ جانے کتنا عرصہ اس کا انتظار کیا ہو گا، جس کو اس نے اپنے ہاتھوں سے دفنایا تھا لیکن اسے لاوارث نہیں چھوڑا گیا تھا۔ اس کی نعش کی بے حرمتی اللہ کی زمین نے نہیںہونے دی تھی۔ تب اس کی صرف یہی خواہش تھی کہ اسے لاوارث نہ چھوڑا جائے۔ پچھلی رات بھی پہریداروں نے سیل میں دو سنپولیے چھوڑ دیے تھے، جنہیں اس نے ہاتھ میں پکڑ کر جوتے کی نوک سے مارا تھا۔ اگر کل کو اس کے سوتے ہوئے وہ اس کو مار دیں اور اس کی لاش کو دریا میں بہا دیں تب وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اسے نہ نام چاہیے تھا، نہ شہرت، نہ ستائش، اسے بس عزت دار جنازہ چاہیے تھا۔
وہ بہت اذیت ناک روز و شب تھے۔
اسی وقت، جب وہ سوچوں میں غلطاں تھا، پہرے دار اس کے سیل میں لا کر کسی کو پھینک گئے تھے۔ اس نے آنکھیں کھول کر گردن ذرا سی موڑ کر دیکھا۔
وہ ایک کم عمر لڑکی تھی، جو بے تحاشا رو رہی تھی۔ اس نے پاکستانی طرز کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور دوپٹہ پھٹا ہوا تھا۔ چوٹی سے الجھے ہوئے بال نکل رہے تھے۔ اس کے حلیے سے لگ رہا تھا، اسے شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
کون ہو تم؟ وہ بولا تو اس کی آواز دھیمی تھی۔ وہ اسی طرح لیٹے ہوئے گردن ذرا سی موڑے اسے دیکھ رہا تھا۔
میں نے کچھ نہیں کیا۔ ہم پوری فیملی کرکٹ میچ دیکھنے آئے تھے۔ انہوں نے ہمیں جانے نہیں دیا۔ یہ کہتے ہیں، ہم پاکستانی جاسوس ہیں۔
وہ روتے روتے اسے اپنے بارے میں بتانے لگی۔ اسے بیس دن ہو گئے تھے، ان لوگوں کی قید میں اور وہ بہت دکھی تھی۔ وہ طپ چاپ اس کی روداد سنتا رہا۔ ابھی وہ بول ہی رہی تھی کہ سپاہی دوبارہ آئے اور اسے کھینچتے، گھسیٹتے باہر لے جانے لگے۔ وہ بے اختیار خوف سے روتی چلاتی، جہان کو دیکھ کر اسے مدد کے لیے بلاتی رہی۔
جہان نے گردن واپس موڑ کر آنکھیں بند کر لیں۔ وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
تین دن تک روز رات کو وہ اس لڑکی کو لے جاتے۔ ٹارچر سیل قریب ہی تھا۔ وہاں سے اس کی دردناک چیخیں، آہیں، سسکیاں، یہاں تک صاف سنائی دیتیں۔
صبح کے قریب وہ اسے سیل میں واپس پھینک جاتے، اس حالت میں کہ وہ مزید زخمی ہوتی اور رو رہی ہوتی۔
تیسری صبح وہ اٹھا، اپنے درد کو بھلائے اس نے پانی کے برتن سے ایک گلاس بھرا اور اس کے قریب لے کر آیا۔ وہ بند آنکھوں سے نڈھال سی کراہ رہی تھی۔ اس نے اس لڑکی کی آنکھوں کو دیکھا تو ایک دم سے جیسے کوئی یاد ہر سو چھانے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ ایکان رضا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوبصورت اور طراحدار فریحہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک روز ان کے گھر گیا تو اس نے لاونچ میں بیٹھی فریحہ کو آئینہ پکڑے، موچنے سے اپنی بھنوؤں کو تراشتے دیکھا۔ علی کرامت کی ممی اپنی بھنوؤں کو نہیں تراشتی تھیں۔ ان کے ابرو قدرتی تھے مگر اچھے لگتے تھے۔
آپ کیوں مسز فریحہ کی طرح اپنی آئی بروز کو شیپ نہیں دیتیں؟ اس نے ان سے پوچھ ہی لیا تو وہ ہنس کر بولیں۔
اللہ تعالی کی بنائی ہوئی چیزیں اپنی مرضی سے ردوبدل نہیں کرتے بیٹا! اللہ تعالی کو یہ اچھا نہیں لگے گا۔
وہ اس نیم بے ہوش لڑکی کی بھنویں دیکھ رہا تھا۔ بالکل فریحہ کی طرح کمان کی شکل میں بنی ابرو بہت صاف تھیں۔ اگر وہ ایک ماہ سے زیر حراست تھی تو ابھی تک ابرو کی شیپ خراب کیوں نہیں ہوئی تھی؟ کیا اسے جیل میں ابرو تراش ملا کرتا تھا؟
لعنت ہے! اس نے گلاس پورے کا پورا اس کے چہرے پر انڈیلا اور اٹھ کر واپس اپنی جگہ پر آ گیا۔ وہ کراہ کر رہ گئی مگر زیادہ حرکت نہیں کی۔
ایسے سٹول پیجین Stool Pigeons اکثر جیل میں مطلوبہ ملزم کے ساتھ ڈالے جاتے تھے تا کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی داستان اور اپنی چیخیں سنا کر ملزم کو ڈرا سکے اور وہ اپنی زبان کھول دے یا کم از کم اس کی ہمدردی لے کر وہ اسٹول پیجین اس کے بارے میں کچھ جان سکے۔
وہ اب دن رات اپنے فرار کے متعلق سوچا کرتا تھا۔ وہ جیل اتنے زیادہ پہروں میں بند تھی کہ وہاں سے بھاگنا نا ممکن تھا۔ کرے تو کیا کرے؟ وہ اسے پولی گراف ٹیسٹ پہ لے کر گئے تھے، اور اس کو تربیت کے دوران اس مشین کو دھوکا دینا سکھایا گیا تھا، سو وہ اس کو نہیں توڑ سکے، لیکن اسے خوف تھا کہ مخصوص انجیکشن دے کر وہ اس سے بہت کچھ اگلوا لیں گے۔ پھر اس کی ایجنسی اس کا کبھی اعتبار نہیں کرے گی۔ وہاں یہی کہا جائے گا، وہ غدار کا بیٹا تھا، وہ باپ جیسا ہی نکلا۔ کیا کرے، کدھر جائے؟
پھر کئی دن بعد ایک روز وہ اسے سیل سے نکال کر ایک مختکف کمرے میں لے آئے جہاں الیکٹرک شاکس کا انتظام تھا۔ بجلی کے جھٹکے لینے کا مطلب تھا، ساری عمر صحت کے مختلف مسائل کا شکار ہو کر وہ فوج کے لیے ناکارہ ہو جائے۔ اس نے سوچنے میں بس ایک منٹ لگایا۔
اوکے، اوکے! ائی ایم اے اسپائی۔ اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اعتراف کر لیا۔ مجھے شاکس مت دو میں سب بتاتا ہوں۔
تفتیشی ٹیم دوبارہ بیٹھی۔ ریکارڈنگ کا انتظام ہوا۔ سوال و جواب اور بیان دوبارہ لیے گئے۔ اس نے اپنے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ان کو بتانا شروع کیا کہ وہ سویلین جاسوس ہے۔ اپنی ایجنسی کا نام اسے نہیں معلوم، اور چند دوسری کہانیوں کے بعد اس نے بتایا کہ اس ماہ کی تیرہ تاریخ کو اسے اپنے ساتھی جاسوس سے ملنا ہے۔ وہ ان کو وہاں لے جائے گا، تا کہ وہ اس ساتھی کو گرفتار کر لیں اور اس کے ساتھ رعایت برتیں۔
وہ جانتا تھا کہ وہ اس جیل سے بھاگ نہیں سکتا، ہاں کھلی فضا میں شاید یہ ممکن ہو۔ اس نے کہا کہ اگر وہ تیرہ تاریخ کو نہیں آیا تو پھر ایک یا دو ہفتے بعد اسی جگہ پہ دوبارہ آئے گا۔
خوب وارن کرنے اور جھوٹ بولنے یا فرار کی کوشش میں ملنے والی سزا کے بارے میں ڈرا دھمکا کر وہ یہ خطرہ لینے کو تیار ہو گئے۔ اس کے پاس بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، اور ان کے پاس بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
وہ انہیں ایک پرہجوم جگہ پہ لے آیا مگر وہاں اتنی سیکیورٹی اور مکمل انتظامات تھے کہ ادھر سے فرار ہونا کسی اسپائیڈر مین کے لئے تو ممکن تھا، مگر انسان کے لیے نہیں۔ اس نے وہاں ادھر ادھر ٹہلتے ہوئے بہت دفعہ کوشش کی کہ کہیں کوئی جھول مل جائے، مگر یہ نا ممکن تھا۔
وہ چپ چاپ واپس آ گیا۔
اگلے ہفتے وہ پہلے سے زیادہ سکیورٹی کے ساتھ وہاں پہ لے جایا گیا۔ ادھر اس کا کوئی دوست نہیں آنا تھا۔ سو کوئی نہ آیا۔تین گھنٹے اس پل پہ ادھر ادھر ٹہل کر وہ اس سے ہٹ کر ایک بک اسٹال پہ چلا آیا۔ ہر طرف سادہ کپڑوں میں موجود سیکیورٹی اہلکار اس پہ نگاہیں مرکوز کیے ہوئے تھے۔
وہ ایک رسالہ اٹھا کر اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ اس کا ارادہ گھنٹہ بھر مزید ٹہل کر واپس ہو لینے کا تھا۔ کون سا کسی نے آنا تھا۔ اب اتنی گرمی میں وہ کیوں خوار ہوتا رہے؟
رسالہ رکھ کر وہ مڑنے ہی لگا تھا کہ شاپ سے نکلتی تین لڑکیاں ہنستی مسکراتی، باتیں کرتی یوں ایک دم اس کے سامنے آئیں کہ وہ ان سے ٹکرا گیا۔
اوہ! جس لڑکی سے وہ ٹکرایا تھا، وہ ایک دم اتنی بوکھلائی کہ اس کی کتابیں اور فائل نیچے جا گریں۔ وہ جلدی جلدی معذرت کرتا اس کی کتابیں اٹھانے لگا۔
وہ کالج یونیفارم میں ملبوس لڑکیاں تھیں۔ جس سے وہ ٹکرایا تھا، اس نے سر پہ دوپٹہ لے رکھا تھا۔ سفید دوپٹے کے ہالے میں چمکتا چہرہ بہت معصوم، بہت گھبرایا ہوا لگ رہا تھا۔ جہان کے ساتھ جھک کر اس نے اپنی فائل اٹھائی اور کچھ اس طرح سے اٹھائی کہ اس پر لکھے الفاظ واضح ہو گئے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: