Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 5

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 5

–**–**–

وہ اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ گلابی کپڑے کو ہاتھ میں مسل کر چیک کرتا ہواوہ مکمل طور پر اپنی فیملی کی طرف متوجہ تھا۔ وہ یہاں سے اس کا نیم رخ ہی دیکھ سکتی تھی۔
وہ درازقد تھا۔ رنگ صاف اور آنکھوں پر فریم لیس گلاسز تھے۔ چہرے پر متانت اور سنجیدگی تھی۔ جینز اور جیکٹ میں ملبوس وہ اچھا خاصا اسمارٹ نوجوان تھا۔
حیا نے دوبارہ اس کے ہاتھ کو دیکھا جس میں اس نے کپڑا پکڑ رکھا تھا۔ اسی پل اسکی بہن نے وہ کپڑا نرمی سے اپنی جانب کھینچا۔ گلابی ریشم اس کی ہتھیلی سے پھسل گیا۔ اب اس کی انگلیاں سامنے تھیں جن کے اوپری پوروں کی قدرتی لکیر پہ بھوری سی لکیر پڑی تھی۔
اسے بے اختیار شیشے میں آئی وہ انگلیاں یاد آئیں۔
بہت احتیاط سے اس نے اِدھر آدھر دیکھا۔ خدیجہ قدرے فاصلے پر کھڑی ڈمی کا لباس دیکھ رہی تھی۔ آس پاس کوئی اس کے جاننے والا نہیں تھا۔ یقینا وہ یہاں تماشا کر سکتی تھی۔
“پنکی!”
اس نے دانستی قریب کھڑے نوجوان کی طرف چہرہ کر کے بلند آواز سے پکارا۔ وہ اپنی بہن کی سمت دیکھ رہا تھا اس نے شاید سنا نہیں۔ البتہ اس کی بہن حیا کواپنی طرف دیکھتا پا کر کچھ بولتے بولتے رکی تھی۔
پنکی! اس نے ذرا زور سے پکارا۔
کم عمر لڑکی نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ اس کی والدہ بھی بیٹی کی نگاہ کے تعاقب میں اس کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔ ان دونوں کے یوں رک کر حیا کو دیکھنے کی وجہ سے اس نوجوان نے بھی گردن موڑی۔ حیا نے دیکھا، اس کا چہرہ جھلسا ہوا تھا۔ جھلسنے کا نشان بہت گہرا نہ تھا، بس اتنا کہ آدھا چہرہ صاف گندمی رنگ کالگتا تو دوسرا حصہ گہرا سانولا۔
پنکی! ڈولی کہاں ہے؟ وہ سینے پر بازو لپیٹے تیکھے انداز میں بولی اور چونکہ وہ اس نوجوان کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی اس لیے تو وہ ذرا الجھ سا گیا۔
“سوری”؟
میں نے پوچھا ہے، ڈولی کہاں ہے؟
کون؟ میں سمجھا نہیں! وہ دھیمے مگر الجھے ہوئے لہجے میں بولا۔
اگر آپ کے دماغ پر چوٹ آنے کی وجہ سے آپ کی یاداشت کھوگئی ہے تو بے فکر رہیے، میں آپ کو یاد کرائے دیتی ہوں۔ ڈولی آپ کا وہ خواجہ سرا دوست ہے جس کے ساتھ مل کر آپ روز خواجہ سرا بنے سڑک پر بھیک مانگ رہے تھے۔ پنکی نام بتایا تھا آپ نے اپنا، نہیں؟
اس کی پیشانی شکن آلود ہو گئی۔ آنکھوں میں غصہ درآیا، تاہم وہ ذرا برداشت کرکے بولا۔
میڈم! آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں آپ کو جانتا تک نہیں ہوں۔
مگر میں آپ کو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ یہ آپ کی انگلیوں پہ نشان میری گاڑی کے شیشے میں پھنسنے کے باعث ہی آئے تھے۔ مجھے یاد ہےمسٹر۔
آپ کون ہیں اور پرابلم کیا ہے آپکو؟ وہ لڑکی مزید برداشت نہیں کر سکی تھی۔
میں وہ ہوں جس نے آپ کے ان بھائی صاحب کو خواجہ سرا بنے دیکھا تھا۔
اٹس انف! اس نوجوان نے غصہ سے کھڑ کا۔ میں شرافت سے آپ کی بکواس سن رہا ہوں اور آپ بے لگام ہوتی جا رہی ہیں۔ اس سے آگے آپ نے کوئی فضول گوئی کی تو اچھا نہیں ہوگا۔
اتنی ہی شرافت ہے آپ میں تو خواجہ سراکیوں بنے ہوئے تھے؟ کسی نےاس کے عقب میں کہا تو وہ چونکی۔ خدیجہ بہت اعتماد سے کہتی اس کے برابر آن کھڑی ہوئی تھی۔ حیا کو ایک دم ہی جیسےڈھارس سی ملی۔
آپ کا دماغ خراب ہے، اپنی بہن کوسمجھائیں! میرے بھائی سےتعارف کااچھابہانہ ڈھونڈا ہے انہوں نے۔ لڑکی بھڑک کربولی۔ شاپ میں بہت سے لوگ سب کچھ چھوڑ کر ان کو دیکھ رہے تھے۔
تعارف، مائی فٹ! جواباً خدیجہ بھی اونچی آواز میں بولی۔ آپ کے بھائی کو میں نے خود خواجہ سرا بنا دیکھا تھا۔ میں ابھی دس اور لوگ لاسکتی ہوں جواس بات کی گواہی دیں گے۔
عجیب خاتون ہیں آپ، خوامخوا تنگ کیے جا رہی ہیں۔ یہ تعارف کے بہانے کسی اور کے سامنے جا کر بتائیے۔
“سر, میڈم!” شاپ منیجر تیزی سے ان کی طرف آیا تھا۔ پلیز آپ ادھر تماشا نہ کریں۔ دوسرے کسٹمرز ڈسٹرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ میجرصاحب۔۔۔۔۔۔ اب اس نے اس نوجوان کا چہرہ دیکھا تو شناسائی بھری حیرت سےبولا! بہت معذرت سر! آپ محترمہ۔ وہ حیا کی طرف مڑا۔ آپ پلیز شور نہ کریں۔ اگر آپ خریداری نہیں کرنی تو آپجاسکتی ہیں۔
آپ ہوتے کون ہیں مجھے شاپ سے نکالنے والے؟
احمدبھائی! چلیں ہم ہی چلتے ہیں۔ ان کا تودماغ خراب ہے۔ لڑکی نے خفگی سے اسے دیکھتے ہوئے کپڑا پھینکا اور پلٹی۔ وہ نوجوان ایک تنفر بھری نگاہ اس پہ ڈال کر، اپنی ماں کا شانہ تھامے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ حیا نے چونک کر اسے دیکھا۔ احمد بھائی۔۔۔۔۔۔۔ میجر صاحب۔۔۔۔۔۔۔تو کیا وہ۔۔۔۔۔۔۔
توبہ ہے، ان آج کل کی لڑکیوں کی۔ والدہ صاحبہ مسلسل ناپسندیدگی سے بڑبڑاتی نکل گئیں۔
وہ لب بھینچے کھڑی انہیں جاتے دیکھے گئی۔ اسے اس شخص کےمیجر احمد ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا تھا۔
حیا! اس سے پہلے کہ یہ مینجر ہمیں دھکے دے کر نکالے، ہم بھی کھسک جائیں۔ ڈی جے نے اس کے قریب سرگوشی کی تو وہ چونکی، پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔
باہر کھلی فضا میں آکر اس نے ب اختیار کہا تھا۔
تھینک یو ڈی جے! اور یہ پہلی بار تھا جب اس نے خدیجہ کو اس کے معروف نام سے پکارا تھا۔
ڈی جے بے ساختہ ہنس دی۔
مجھے پتا تھا آپ جھوٹ نہیں بولتیں۔ آپ نے واقعی وہی دیکھا ہوگا جو کہہ رہی تھیں۔
مگر ڈی جے! میں نے اسے واقعی جواجہ سرا بنے دیکھا تھا
“حیا” آپ نے اسےبس خواجہ سرابنے دیکھاتھا نا؟ تو ہوسکتا ہے وہ صرف ایڈونچر کے لیے ایسا بنا ہو۔
“پتا نہیں” اس نے بے زاری سے شانے اچکائے۔
چلو چلتے ہیں۔ وہ آگے بڑھ گئی۔ اس کا دل ہر شے سے اچاٹ ہو گیا تھا۔
******************
اٹھائیس جنوری کواسے اتحاد ائیر لائنز کا ٹکٹ ای میل کر دیا گیا جس کا اس کوپرنٹ آؤٹ نکلوانا تھا۔ پھر اسی ٹکٹ پراسے پانچ فروری کی صبح استنبول کےلئے روانہ ہونا تھا۔
شام میں وہ ارم سے اس کا Evo مانگنے تایافرقان کے گھر آئی تھی۔ اس کا نیٹ کام نہیں کر رہا تھا،اور ابا ابھی آفس سے نہیں آئے تھے ورنہ ان کا استعمال کر لیتی۔ خدیجہ کا پیغام آیا تھا کہ سبانجی یونیورسٹی نےہاسٹل کاالیکٹرک فارم پر کرنے کے لیے بھیجا ہے، سو وہ میل چیک کر لے۔
تایا فرقان لان میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ اسے آتا دیکھ کر مسکرائے۔
آگئی تایا کی یاد؟ انہوں نے صفحہ پلٹتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔
“جی” وہ بظاہر مسکراتے ہوئے ان کے پس چلی آئی۔ ورنہ اس روز کی صائمہ تائی کی باتیں نشتر کی طرح چبھتی تھی۔
فلائٹ کب ہے؟ وہ اخبار پر نگاہیں مرکوزکیے پوچھ رہےتھے۔
پانچ فروری کو۔
اپنا خیال رکھنا۔ ویسے بیٹیوں کوتنہا اتنا دور بھیجنا نہیں چاہیے۔ سلیمان کا حوصلہ ہے بھئی!خیر تم ترکی میں اپنے لباس اور اقدار کا خیال رکھنا، سرسے دوپٹا نا اتارنا ،جیسے ارم نہیں اتارتی۔
آخری فقرہ کہتے ہوئے ان کے لہجے میں فخر در آیا تھا۔ حیا کے حلق تک کڑواہٹ گھل گئی۔
“جی بہتر” میں زرا ارم سے مل لوں۔ وہ جان چھڑا کر اندر آ گئی۔
کاش کہ وہ تایا فرقان کو بتا سکتی کہ مغربی لباس جو وہ یہاں ان کی وجہ سے نہیں پہنتی، وہاں ضرور پہنے گی۔ اس نےبہت سے ٹاپس اور جینز خریدکر اپنے سامان میں رکھ لیے تھے، اور رہی سرڈھکنے کی بات تو وہ خیر سے سبانجی میں سختی سے ”حرام“ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکر!
ارم کمرے میں نہیں تھی۔ باتھ روم کا دروازہ بند تھا اور اندر سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔
وہ بے دلی سے اس کے بیڈ پربیٹھ گئی۔ ارم شاور لینے میں بہت دیر لگاتی تھی۔ سو مجبورا اسے انتظار لرنا تھا۔
دفعتاً سیل فون کی گھنٹی بجی۔ حیا چونکی۔
ارم کا سیل فون اس کےساتھ ہی تکیے پہ رکھا تھا۔ اس نے گرن جھکا کر دیکھا۔ سیل فون کی روشن سکرین پر ”ایک نیاپیغام“ جگمگا رہا تھا۔ ساتھ ہی بھیجنے والے کا نام لکھا آرہا تھا۔ “حیاسلمان“
وہ بےیقینی سے فون کی اسکرین کو دیکھے گئی۔
کیا کسی نے ارم کو اس کے نمبر سے پیغام بھیجا تھا یا ارم نےکسی کانمبر اس کےنام کے ساتھ محفوظ کررکھا تھا؟
حیا نے محتاط نگاہوں سے باتھ روم کے بند دروازے کودیکھا، اورفون پہ ایک دوبٹن دبائے۔ پیغام لمحے بھر بعد کھل گیا۔
میں کال کر لوں؟ صبح سےبات نہیں ہوئی اب مزید انتظار نہیں کر سکتا۔ یہ دل اتنا مضبوط نہیں ہے جان! ریپلائی!
اس نے جلدی سے پیغام مٹایا اور سیل فون واپس واپس تکیے پر الٹا کر کے رکھ دیا۔ ایک لمحے میں اسےسب سمجھ میں آگیا تھا۔ ارم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تایا ابوکی اسکارف والی، سر ڈھکنے والی بیٹی۔ ایک عددبوائے فرینڈ کی مالک تھی جسے لوگوں ے چھپانے کےلیے اس نے حیا سلیمان کا نام دے رکھا تھا۔ تب ہی وہ اس رشتے پر خوش نہیں تھی، حیا کویاد آیا۔
وہ مزید بیٹھے بنا وہاں سے نکل آئی۔ Evo اس نے تایا فرقان سے مانگ لیا، مگر جاتے جاتے ایک طنزواستہزاء بھری مسکراہٹ کے ساتھ ان کو دیکھا تھا۔ کاش! وہ ارم کے حجاب کا پول کھول سکتی تو تایا کی شکل دیکھنے والی ہوتی۔ حجاب اوڑھنا یانقاب کرنا کردار کی پختگی کی علامت نہیں ہوتی، اس نےبےاختیار سوچا تھا اور تب وہ ایسا ہی سوچتی تھی۔
سبانجی یونیورسٹی نے اسےاس کے ہاسٹل کےمتعلق ترجیحات جاننے کے لیے سوال نامہ بھیجا تھا۔ لیپ ٹاپ گود میں رکھے، وہ بیڈ پر نیم دراز دلچسپی سے سوالات پڑھتی، صرف اپنا موڑ بہتر کرنے کے لیے مضحکہ خیز جواب بھیجنے لگی۔
کیا آپ اپنی کسی ہم وطن ایکسچینج اسٹوڈنٹ کے ساتھ کمرہ شئیر کرنا چاہیں گی؟
“با لکل بھی نہیں! اس کی انگلیاں تیزی سے لیپ ٹاپ کی کنجیوں پہ حرکت کر رہی تھیں۔
کیا آپ اسموکنگ کرتی ہیں؟
“بالکل کرتی ہوں۔”
ڈرنک کرتی ہیں؟
“وہ بھی کرتی ہوں”
آپ کس قسم کی طبیعت کی مالک ہیں؟
“سخت جھگڑالو اور خونخوار۔”
وہ مسکراہٹ دبائے جواب لکھ رہی تھی۔ جب صحفہ ختم ہوا تو اس نے “نیکسٹ” کو دبایا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگلے صحفے کے جوابات پر کر کے اس فارم کو منسوخ کردے گی۔ اس فارم کو جمع کرانے کا اس کا قطعا کوئی ارادہ نہ تھا۔ مگر جب نیکسٹ دبانے پر اگلے صفحے کی بجائے،
فارم فل کرنے کا شکریہ ….. ہم آپ کا ڈروم الاٹ کرتے وقت آپ کی دی گئی ترجیحات کا خیال رکھیں گے۔
لکھا آیا تواس کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
لعنت ہو تم سب پر ! وہ جھنجھلا کر اٹھ اور لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا، فارم سبانجی کوجاچکا تھا اور اسکا پہلا ہی تاثر کتنا برا پڑاہوگا، وہ جانتی تھی۔
اس کی پیکنگ ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ اس نے ایک نگاہ کھلے سوٹ کیسز اور بکھری اشیا پہ ڈالی، پھر کچھ سوچ کر باہر آئی۔
لاؤنج خالی تھا۔ حیا نے ٹیلی فون اسٹینڈ پر کھی ڈائری اٹھائی اور صفحے پلٹنےلگی۔ ایس کے صفحے پر چار سطور میں سبین پھپھو کے گھر کا پتا اور یک فون نمبر لکھا تھا۔ اس نے وہ صحفہ پھاڑا اور تہہ کر کے مٹھی میں دبا لیا۔
ایک دفعہ جہاں سکند اسے مل جائے، پھر وہ ان بیتے ماہ وسال کاحساب ضرور لے گی۔ وہ واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی اور سامنے لیپ ٹاپ پہ کھلے پڑے میل باکس کو دیکھا۔ وہاں اب ایک نئی ای میل کا نشان جگمگا رہا تھا۔
“نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبرکرائم”
اس نے قدرے الجھ کر اس میل کو دیکھا اور کھولا۔ بھلا اب سائبر کرائم والے اس سے کیوں رابطہ کر رہے تھے؟
صفحہ کھل گیا اور وہ جیسے جیسے پڑھتی گئی، اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلتی گئیں۔
یہ ای میل سائبر کرائم سیل سے حیا کی اس میل کے جواب میں آئی تھی جو چند روز قبل اس نے بطور شکایت بھیجی تھی اور جس میں اس نے وڈیو کا زکر کیا تھا۔ اب اس کے جواب میں ہیلپ ڈیسک آفیسر نے اس کو ایک باقاعدہ کمپلینٹ فارم بھیجا تھا، جس کو بھرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنا فون نمبر، گھر کا پتا، شناختی کارڈ وغیرہ لکھ کر بھیجنے تھے۔ یہ فارم ایف آئی آر کے مترادف تھا، سو تمام تفصیلات ضروری تھیں۔
وہ یک ٹک اس فارم کو دیکھےگئی۔ اگر سائبر کرائم سیل نے اسے اب جواب دیا تھا تو وہ پرائیویٹ نمبر سے آنے والی کال، وہ میجر احمد کا آفس، وہ سب کیا تھا؟ کیا اسے بےوقوف بنایا گیا تھا؟ کیا واقعی وہ اصلی میجر تھا یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ مگر پھر اس کے پاس اس وڈیو کو مکمل طور پر انٹرنیٹ سے ہٹوانے کی طاقت اور اثرورسوخ کیسے آیا؟
وہ الجھتے ذہن کے ساتھ جلدی جلدی جواب ٹائپ کرنے لگی۔ اسے سائبر کرائم سیل کو مختصر الفاظ میں یہ یقین دہانی کروانی تھی کہ وہ وڈیو اب ہٹ چکی ہے، اور وہ اپنی شکایت واپس لے رہی ہے۔ اسے اب فوری طور پر ان خفیہ والوں سے پیھا چھڑانا تھا۔
میل لکھ کر اس نے ”سینڈ“ کو دبایا، اور پر سوچ نگاہوں سے اسکرین دیکھے گئی۔
میجر احمد کا تعلق سائبر کرئم سیل سے نہیں تھا، اس بات کا اس کو یقین ہوچلا تھا۔
********************
ائیرپورٹ پر ڈی جے بری طرح رو رہی تھی اس کے والدین اس کے ساتھ کھڑے اسے تسلی دے رہے تھے۔ حیا کچھ دیر تو اسے چپ کروانے کی کوشش کرتی رہی، پھر سی ہو کر قدرے فاصلے پر جا کھڑی ہوئی اور جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بڑے سکون سے ڈی جے کو روتے دیکھتی رہی۔
آج اس نے شلوار قمیض پہ سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اور ڈوپٹہ مفلر کی طرح گردن سے لپٹا تھا بس آج آخری روز تھا۔ پھر ترکی میں اپنی مرضی کا لباسق پہنے گی اور اپنی مرضی سے اکیلی ہر جگہ گھومے گی، بنا روک ٹوک، بنا تایا فرقان یا ابا کی ڈانٹ کے خوف کے۔
اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے اور انکی فلائٹ اگلی صبح چار بجے کی تھی۔
کتنا روتی ہے یہ، تم خیال رکھنا اس کا!
سلیمان صاحب کو ڈی جے کے مسلسل رونے پہ کوفت ہونے لگی تھی۔ جب تک وہ واپس ہوئے، ڈی جے روئے جا رہی تھی۔ اس کے آنسو تب تھمے جب اتحاد ائیرلائنز کی وہ پاکستانی نژاد آفیسر ان کے پاس آئی اور بہت شائستگی سے ان کو مخاطب کیا۔
میڈم! آپ لوگ پلیز اپنے ڈاکومینٹس اور لیپ ٹاپس سوٹ کیس سے نکال کر ہینڈ کیری میں رکھ لیں، تاکہ اگر آپ کا سامان گم بھی ہوجائے تو کم ازکم ڈاکومینٹس محفوظ رہیں۔
ایویں ہی سامان گم ہو جائے؟ ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کر کے ڈی جے غصہ سے بولی۔ وہ سارا رونا بھول گئی تھی۔ ہم نے ہینڈ کیری میں اتنا بوجھ نہیں اٹھانا۔
میم! یہی بہتر ہے، کیونکہ بعض اوقات سامان گم بھی ہو جایا کرتا ہے۔ کہیں یہ نا ہو کہ آپ کہ بعدازاں آپ کسی مسئلے سے دوچار ہوں۔
وہ اس ترک ایئر لائن میں کم کرنے والی ایک پاکستانی لڑکی تھی اور اس کی پہلی دفعہ بین الاقوامی فلائٹ لینے کے پیش نظر کہہ رہی تھی۔ اور حیا مان بھی جاتی مگر ڈی جے اڑ گئی۔
ہر گز نہیں، ہم نے اتنا بھاری ہینڈ کیری نہیں اٹھانا۔ پلین میں آپ کو نہیں اٹھانا پڑے گا۔ آفیسر کی شائستگی برہمی میں بدلنے لگی۔
پلین میں جانےتک تو اٹھانا ہی پڑے گا۔
پھر تو ترکی میں آپ پر اللہ ہی رحم کرے! وہ پیر پٹختی چلی گئی تو ڈی جے نے اپنی متورم آنکھوں اور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ حیا کو دیکھا اور انگلی سے عینک پیچھے کی۔
انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی، جب تک وہ خود نہ ہار مان لے۔
حیا بےاختیار ہنس دی۔ اسے ڈی جے اچھی لگی تھی۔
فلائٹ میں ان دونوں کو نشستیں ایک ہی قطار میں ملیں۔ درمیانی راستے کے دائیں طرف جڑی تین نشستوں میں سے کھڑکی کے ساتھ والی حیا کو ملی اور راستے والی نشست ڈی جے کو، درمیانی نشست خالی تھی۔
کیا ہی مزہ آجائے حیا! اگر اس سیٹ پہ کوئی ہینڈسم اور چارمنگ سا لڑکا آکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جےکے الفاظ ادھورے ہی رہ گئے۔
ایک بھاری بھرکم سے پاکستانی صاحب جو اپنے ٹو پیس میں بےحد پھنسے پھنسے لگ رہے تھے، اطمینان سے چلتے ہوئے آئے اور دھپ سے ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے۔
حیا غیر آرام ہ محسوس کر کےمزید کھڑکی کی طرف کھسک گئی اور خدیجہ مخالف سمت۔
مجھے عثمان شبیر کہتے ہیں، شیخ عثمان شبیر۔ اپنی بھاری آواز میں وہ خوشدلی سے گویا ہوئے۔
نائس! حیا بظاہر اپنے چھوٹے سے گولڈن کلچ کو کھول کر کچھ تلاش کرنے لگی۔ یہ وہی کلچ تھا جو داور بھائی کی مہندی پر اس نے گولڈن لہنگے کے ساتھ لیا تھا۔
گڈ ” ڈی جے نے میگزین اٹھا کر چہرے کے امنے پھیلا لیا۔
میں ترکی سے آیا ہوں، دراصل وہیں رہائش پزیر ہوں، میری بیوی اور بیٹا بھی وہیں رہتے ہیں۔
حیا مزید اپنے پرس پہ جھک گئی اور ڈی جے نے میگزین چہرے کے اتنا قریب کر لیا کہ اس کی ناک صفحات کو چھونے لگی۔
مگر وہ میرا بیٹا نہیں ہے، جانتی ہو وہ کس کا بیٹا ہے؟
مزید نظرانداز کرنا بےکار تھا۔ حیا نے رخ عثمان شبیر کی طرف موڑ لیا اور ڈی جے نے بے زاری سے میگزین نیچے کر لیا۔
آپ بتائیں، کس کا بیٹا ہے وہ؟
عثمان شبیر کو شاید برسوں سےکسی سامع کی تلاش تھی۔ وہ اپنی داستان حیات فورا ہی شروع کر بیٹھے۔ ڈی جے مسلسل جمائیاں روک رہی تھی اور حیا متی محسوس کر رہی تھی۔ وہ کل صبح کی جاگی ہوئی تھی اور اب اس صبح کے ساڑھے چار بج رہے تھے۔ اوپر سے جہاز کا سفر! اس نے ڈی جے کے سامنے ظاہر نہیں کیاتھا کہ وہ پہلی بار جہاز میں بیٹھ رہی، آخر ڈی جے کیا سوچتی کہ کیسی لڑکی ہے، کبھی ہوائی سفر ہی نہیں کیا۔ اب کیا بتاتی کہ کبھی کوئی ایسی صورت ہی نہیں بن سکی۔
اس سب پر مستزاد ان صاحب کی المناک داستان، جو مختصرا کچھ ایسے تھی کہ وہ اور ان کی بیگم عرصہ تیس سال سے ترکی میں رہائش پزیر تھے۔ چونکہ اولاد نہیں تھی اس لیے انہوں نے عثمان صاحب کے ایک کزن کا بیٹا گود لیا تھا۔ وہ بیٹابےجا لاڈ پیار سے خاص بگڑ چکا تھا، سو اس صورتحال کو سنوارنے کے لیے انہیں کے کھوہ میں رہائش پزیر اپنی بھانجی سے اس کا رشتہ ط کر دیا تھا۔ جس پہ آٹھویں فیل بھانجی صاحبہ بہت خوش اور بیٹا بہت ناراض تھا اور اس سے پیشتر کہ وہ اپنی پاکستان آمد کی وجہ بیان کرتے مینیو کارڈز آگئے۔
وہ دونوں پھر سے تازہ دم ہوگئیں۔ مینیو پہ کچھ نام جانے پہچانے اور کچھ اردو سے ملتے جلتے تھے۔
جیرہ آلو ود سبز کٹلٹس، پنیر جلفریزی، سادہ پراٹھا، تیکھی بریانی وغیرہ۔
حیا نے ڈی جے کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ درمیان میں مجود بھاری بھر کم دیوار کے باعث وہ آگے ہو کر بیٹھی تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھاکہ کیا منگوائیں۔
ٹرکش فوڈ بہت زبردست ہوتا ہے اور ترک لوگ کھانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں میں بتاتا ہوں کہ کیا منگواؤ۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر متذبذب سی حیا نے ہتھیار ڈال دیئے۔
بہت بہتر، بتائیے۔ وہ گہری سانس لےکر پیچھے ہو کر بیٹھ گئی۔
پہلےتو Sayadiat samak منگواتے ہیں۔ یہ روایتی ترک چاول ہیں، سفید مچھلی، فرائیڈ پیاز اور کاج کے ساتھ۔
مشروم اینڈ چیز آملیٹ، جیرہ آلو۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت اعتماد سے آرڈر لکھواتے گئے۔ مگر جب کھانا آیا تو حیا کا دل خراب ہونے لگا۔ کھانے کی خوشبو سونگھ کر ہی جی متلانے لگا تھا۔ عثمان شبیر بڑے بڑے لقمے لیتے مزے سے کھا رہے تھے۔ ڈی جے بمشکل ایک چمچہ لے کر ہی دوہری ہوگئی۔ حیا بھی بد مزہ ہوگئی تھی۔ اتنا پھیکا سالن اس نے آج تک نہیں کھایا تھا۔
بمشکل چکھ کر انہوں نے برتن پرے کر دیے۔عثمان شبیر ابھی تک پوری دلجمعی کے ساتھ کھا رہے ھے۔عجیب سی خوشبوئیں اس کے نتھنوں میں گھس رہی تھی۔ اگر یہی ترک فوڈ تھا تو اسے لگا، وہ ترکی میں پانچ ماہ بھوکی رہے گی۔ ایسا جی تو اس کا ڈائیوو بس میں بھی نہیں متلاتا تھا۔ جیسے اھر ہو ہا تھا۔وہ چہرے پر دوپٹا رکھ کر سوگئی۔
••••••••••••••••••••••••••
اسلام آباد سے پورے ڈھائی گھنٹے بعد انہیں ابوظہبی ائرپورٹ پہ اترنا تھا۔ وہاں کچھ دیر کا قیام تھا او پھر استنبول۔۔۔۔۔۔۔
ابوظہبی اترنے سے قبل کھڑکی کے پار زمین کا گولائی میں کٹاؤ دکھائی دینے لگا تھا۔ زمین کا وہ کرہ اتنا حسین تھا کہ اس کی بیزاری اور نیند بھاگ گئی۔ وہ محو سی یک ٹک وہ منظر دیکھے گئی۔
ابوظہبی ائرپورٹ پر انہوں نے ٹرمنل تھری پر لینڈ کیا تھا۔ استنبول کی فلائٹ انھوں نے ٹرمنل ون سے پکڑنی تھی، مگر پہلے۔۔۔۔۔۔ گھر فون کرنا تھا۔
وہ دونوں آگے پیچھے تیز تیز چلتی.، کالنگ کرڈ خریدنے گئیں۔ پانچ یوروز کا اتصلات کا کارڈ خریدا اور فون بوتھ کی طرف بھاگیں۔
قطار میں فون بوتھ لگےتھے۔ حیا نے ایک ایک کر کے پہلے تینوں پر کارڈ لگانے کی کوشش کی، مگر کارڈ تھا کہ ڈلنے کا نام ہی نہ لے۔ اسے ائرپورٹ پر فون بوتھ استعمال کرنے کا پہلا تجربہ تھا۔ کھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔
حیا اس بندے کو دیکھو جیسے یہ کارڈ ڈال رہاہے، ویسے ہی ڈالو۔ ڈی جے نے اسے کہنی ماری تو حیا نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ چوتھے بوتھ پہ ایک یک شخص ان کی طرف پشت کیے، اپنا کارڈ ڈال رہا تھا۔ حیا کو دکھائی نہیں دے ہا تھا کہ وہ کون سا طریقہ استعمال کر ہا ہے۔ سو وہ ڈی جے کا ہاتھ تھامے اسکے سر پر جا پہنچی۔
وہ رسیور کان سے لگائے نمبر ملا رہا تھا۔
پلیز ہمیں یہ کارڈ ڈال دیں۔ میں اسے ڈال نہیں پارہی۔ حیا نے کارڈ اس کی طرف بڑھایا، وہ چونک کر پلٹا۔
وہ سیاہ رنگت، گھنگریالے بالوں اور اونچے قد کا نسلا حبشی تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سے کارڈ لیتے ہوئے ان دونوں لڑکیوں پر نگاہ ڈالی۔ ایک سیاہ لمبے بالوں اور بڑی آنکھوں والی خوبصورت سی لڑکی جو کہ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالےکھڑی تھی۔ دوسری بڑے چشمے اور ڈھیلی پونی والی لڑکی جس نے سویٹر تہہ کر کے بازو پر ڈل رکھا تھا۔ دونوں منتظر سی اسے دیکھ رہی تھیں۔
اچھا، میں ذرا بات کر لوں، پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اسے شاید کان سے لگے رسیور میں کوئی آواز سنائی دی تھی، تب ہی رخ موڑ گیا۔
وہ دونوں اسی طرح کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ ان سے وہ انگریزی میں مخاطب ہوا تھا، مگر اب فون پہ عربی میں بات کر رہا تھا۔ ڈی جےتو بور ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی مگر شریعہ اینڈ لاء کے پانچ سالوں نے حیا کو عربی اچھی طرح سے سکھا دی تھی۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اپنے ایل ایل بی کے پہلے برس ان کو عربی ہی سکھائی جاتی تھی۔ اور ان کی کلاسز میں الجیرین اور مصری اساتذہ انہیں عربی میں ہی لیکچرز دیا کرتے تھے۔
میں استنبول آ رہا ہوں۔ وہ اب رخ پھیرے قدرے پریشانی سے کہہ رہا تھا۔ ہاں شام تک گھر پہنچ جاؤں گا۔ تم نے حارث کو ڈاکٹر کو دکھایا؟ اچھا؟ کیا کہتا ہے ڈاکٹر؟۔۔۔۔۔ کر دوں گا پیسوں کا انتظام، کہاجو ہے، بار بار ایک ہی بات مت دہرایا کرو، جاہل عورت! طیش سے اس کی دبی بی سی آواز بلند ہوئی۔ ہاں! میری عبدالرحمان سے بات ہو گئی تھی۔ اسی کے کام کے لیے خوار ہو رہا ہوں مگروہ زیادہ رقم نہیں دے گا۔ ایک جگہ اور بھی بات کی ہے۔
اس نے رک کر کچھ سنا اور پھر مزید جھنجھلاہٹ سے بولا۔ آچھا فون رکھ رہا ہوں، مرحبا! اس نے کھٹاک سے فون رکھا اور ان کی طرف پلٹا۔ سوری گرلز! بمشکل چہرے پر بشاشت لاتے ہوئے وہ اب ان کا کارڈ لگانے لگا۔ پہلی ہی کوشش کامیاب ہو گئی۔ وہ شاید کارڈ کو الٹا پکڑ رہی تھی۔
لیجیے! سیاہ فارم نے رسیور ان کی طرف بڑھایا۔ پھر ان سے ہٹ کر دور چلا گیا۔
بس ایک ایک منٹ کی کال کرے گے۔ حیا نے نمبر ملاتے ہوئےڈی جے کو تنبیہہ کی۔ سلیمان صاحب
نے پہلی ہی گھنٹی پر فون اٹھا لیا۔
وہ چپ ہوئی کہ نہیں؟ توبہ کتنا روتی ہے۔
جی جی ابا جی، وہ چپ ہو گئی ہے، اور پھر جلدی جلی اپنی خیریت بتا کر فون بند کر یا۔ ڈی جے نے بھی بمشکل ایک منٹ ہی گھر بات کی تھی۔ بعد میں بقیہ رقم دیکھی تو بمشکل ایک یورو استعمال ہوا۔ باقی چار یورو کا بیلنس ابھی موجود تھا۔ دونوں اپنی عجلت و کنجوسی پر خوب پچھتائیں کہ اب ابوظہبی سے نکل کر تو یہ کارڈ کسی کام کا نہیں تھا۔ حیا نے اسے اپنے گولڈن پاؤچ میں ڈال لیا۔
اب انہیں اپنا سامان لینا تھا۔ وہاں بہت سے ٹائرز چل رہے تھے۔ ہر ٹائر پر بیگز اور سوٹ کیس قطار میں رکھے چلے آ رہے تھے۔ انہیں قطعا علم نہیں تھا کہ اپنے بیگز کو کہاں تلاشیں۔
وہ دونوں بدحواس سی ایک ٹائر سے دوسرے کی طر بھاگنے لگیں۔ ڈی جے کا تھوڑی دیر میں ہی سانس پھول گیا۔ کبھی حیا کو ایک جگہ اپنے سیاہ سوٹ کیس کا گمان گزرتا تو وہ ڈی جے کا ہاتھ کھینچ کر ادھر بھاگتی، مگر قریب سے دیکھنے پہ وہ کسی اور کا بیگ نکلتا۔ تو کبھی ڈی جے اپنے بھورے تھیلے کوپہچان کر چلاتے ہوئے ایک طرف دوڑتی، مگر اس پر کسی اور کا نام درج ہوتا۔
حیا بتاؤ! اب بیگز کہاں ڈھونڈیں؟ ڈیجے نے پریشانی سے اسے دیکھا۔ اس کا سانس دھوکنی کی طرح چل رہا تھا۔ حیا نے بمشکل تھوک نگلی اور چہرے پر آتے بال کانوں کے پیچھے اڑسے۔ اب سچ بولنے کا وقت تھا۔
ڈی جے! مجھے سچ میں نہیں سمجھ آ رہی، میں آج زندگی میں پہلی دفعہ جہاز میں بیٹھ رہی ہوں۔
ڈی جے نے چند لمحے اس کا چہرہ دیکھا پھر ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی۔
ہاتھ مارو! میں بھی آج پہلی دفعہ جہاز میں بیٹھی ہوں۔
حیا نے زور سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور دونوں ہنس پڑی۔
کافی دیر بعد ان کو ٹائرز کی لسٹ نظر آئی، جس پر ہر فلائٹ کے مخصوص ٹائر کا نمبر درج تھا۔ فہرست دیکھ کر دو منٹ میں ہی اپنا مطلوبہ ٹائر مل گیا۔ سامان لے کر حیا اتنا تھک چکی تھی کہ جب ڈی جے نے وہی ایک جگہ چمکتے فرش پر بیٹھنے کوکہا تووہ اپنا سارا نخرہ اور غرور بالائے طاق رکھ کر ادھر زمین پر بیٹھ گئی۔ اپنے بیگز کے ساتھ اب وہ دونوں مزے سے فرش پر بیٹھیں ہر آتے جاتے کو دیکھ رہی تھیں۔ اور اردگرد مہزب، نفیس لوگ حیرت سے ان کو دیکھتے گزر رہے تھے۔
•••••••••••Iffa Noor•••••••••••
ٹرمنل ون سے جو پرواز ان کو ملی، اس میں بھی عثمان شبیر ساتھ ہی تھے۔ اپنی داستان حیات فراموش کر کے وہ اب ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کا انٹرویو کرنے لگے۔
کون ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟ کیوں آئی ہو؟ ترکی میں کھر جانا ہے؟ کیوں جانا ہے؟
سبانجی؟ سبانجی یونیورسٹی؟ انھوں نے اتنی بلند آواز میں دہرایا کہ اگلی نشست پر بیٹھی ترک خاتون نے گردن موڑ کر قدرے اونچا ہو کر ان کو دیکھا۔
سبانجی! اس سے آگے خاتون نے قدرے ستائش سے چند الفاظ تک میں کہے، جو حیا کو سمجھ نہ آئے۔ جوابا عثمان شبیر نے اپنی بھاری بھر کم آواز میں کچھ کہا تو وہ خاتون قدرے گڑبڑا کر واپس رخ پھیر گئیں۔
آپ نے ان کو کیا کہا؟ حیا نے کڑی نگاہوں سے انہیں گھورا۔
کچھ نہیں، تم بتاؤ، یہ پاکستان میں والدین اتنے آزاد خیال کب سے ہو گئے کہ جون بچیوں کو اکیلے ترکی بھیج دیں؟
اکیلے نہیں ہیں ہم، ہمارا پورا گروپ ہے، ہم دو اسٹوڈنٹس ہیں ٗاور باقی فیکلٹی ممبران ہیں، جو دو روز قبل روانہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے جیسے سنا ہی نہیں۔
خیر اب اکیلی جا رہی ہو تو اپنا خیال رکھنا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ان کا واعظ روع ہو گیا۔ نماز پڑھا کرو، قرآن پڑھا کرو، پردہکیاکرو، سچ بولا کرو، اللہ سے ڈرو، غرض ہر وہ بات جو اپنے بیٹے کی تربیت کے وقت انہیں بھول گئی تھی، اب اچانک یاد آگئی۔ حیا نے قدرے جھنجھلا کر رخ پھیر لیا۔
دوپہر دو بجے کھڑکی کے اس ہار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پرفسوں منظر پھیلنے لگا۔
مرمرا کا سمندر، اوپر بادل اور برف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں جیسے نیلی چادر پہ سفید روئی کے گالے تیر ہے ہوں، وہ اس منظر کے سحر میں کھوتی چلی گئی۔
جہان سکندر کا ترکی اس کے قدموں تلے تھا۔
یہ رکھ لو۔ پرواز اترنے کا اعلان ہونے لگا تو نہایت زبردستی عثمان شبیر نے اپنا وزیٹنگ کارڈ اسے تھمایا۔ اس پرمیرے گھر، سیل اور آفس کے نمبرز لکھے ہیں۔ کبھی کبھار میں گھر پر نہیں ہوتا اور کبھی کبھار میرا سیل بھی آف ہوتا ہے لیکن آفس کے نمبر پر میں ہمیشہ ملتا ہوں۔ میری سیکرٹری کی فضولیات سے بچنے کے لیے ڈائریکٹ میری پرائیویٹ ایکسٹینشن ڈائل کرنا۔ وہ ہے 14 یعنی چودہ، کیونکہ میری اور پاکستان کی تایخ پیدائش چودہ اگست ہے۔ رکھ لو، ضرور پڑ سکتی ہے۔
عثمان شبیر سے بمشکل جان چھوٹ رہی تھی۔ ان کو کبھی کال کرنا یا دوبارہ ملاقات کا تصور ہی حیا کے لیے سوہان روح تھا، پھر بھی ان کے اصرار پر اس نے اپنے سنہری پاؤچ میں وہ کارڈ دیکھے بغیر رکھ لیا۔اتاترک انٹرنیشنل ائرپورٹ استنبول کی یورپی طرف واقع تھا۔ یہ اسے بعد میں علم ہوا تھا البتہ جو بات اسے ہمیشہ سےمعلوم تھی، وہ یہ تھی کہ استنبول دنیا کا وہ واحد شہر تھا، جو دو خطوں کو باہم ملاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ یورپ اور ایشیا۔
استنبول کے دو حصے تھے۔ ایک یورپی طرف کہلاتا تھا اور دوسرا ایشیائی طرف یا اناطولین طرف (اناطولین طرف کو عرف عام میں ”پرانا شہر“ بھی کہا جاتا تھا)۔
وہ دونوں جب اپنے سامان کی ٹرالیاں دھکیلتے آگے آئیں تو رومی فورم کے دو ارکان ان کو مل گئے، جو انہیں لینے آئے ہوئے تھے۔ رومی فوم ایک ترک این جی او تھی جو بالخصوص ایکسچینج اسٹوڈنٹس کا بہت خیال رکھتی تھی۔
وہ دو لڑکے تھے، احمت اور چغتائی۔
چغتائی نام توہمارے ہاں بھی ہوتا ہے، جیسے مصور عبدالرحمن چغتائی، ہے نا حیا۔ ڈی جے نے سرگوشی کی تھی۔
السلام علیکم! وہ بہت گرم جوشی اور احترام سےملے۔ چغتائی نے ن سے بیگزلے لیے۔ آئیے! باہر گاڑی انتظار کر رہی ہے۔
چغتائی برادرز! پلیز پانی پلا دیں۔ بہت پیاس لگی ہے۔حیا کی طرح ڈی جے بھی پیاس سے بےحال تھی۔ چغتائی نے سر اثبات میں ہلایا اور احمت کے ساتھ سامان اٹھانے لگا۔ پھر وہ دونوں ان سے آگے چلتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئے۔
بے حد مہمان نواز قوم کے س سپوت نے ان کو پانی کیوں نہیں پلوایا، یہ معمہ وہ ساری زندگی نہیں حل کر سکی۔ قوی امکاں یہ تھا کہ چغتائی کی انگریزی کمزور تھی، جس کے باعث وہ ان کا مدعا سمجھ نہیں پایا تھا۔
باہر نکلنے سے قبل انہوں نے اپنی رقم ترک لیرا اور یوروز میں تبدیل کروا لی تھی۔ ایک لیرا پاکستانی پچپس روپے کا تھا اور ایک یورو ایک سو پچیس روپے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ففٹی فائیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ون ٹوئنٹی فائیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ففٹی فائیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ون ٹوئنٹی فائیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جے زیرلب کرنسی کی مالیت کا حساب لگاتی اور ان کی قیمت یاد کری باہر آئی تھی۔
ائرپورٹ کا دروازہ کھلتے ہی یخ بستہ، ہڈیوں میں گھستی، خون منجمند کرتی لہر نے ان کا استقبال کیا کہ چند لمحوں میں حیا کے ہونٹ نیلے پڑنے لگے۔ یہاں مری اور ایوبیہ کی سرد ترین ہوا سے بھی کئی گنا سرد ہوا چل رہی تھی۔ حیا نے بے اختیار بازو سینے پر لپیٹ لیے۔ وہ ٹھٹھرنے لگی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: