Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 50

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 50

–**–**–

سلیمان ماموں اب اس کا تعارف ان لوگوں سے کروا رہے تھے جو ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ صاحب، خاتون، اور غالبا ان کا بیٹا۔
اس نے اپنے سیل فون میں دور بین کا لینس نکالا اور ان کو فوکس کیا۔ اب وہ ان کے چہرے دیکھ سکتا تھا۔ وہ تینوں مہمان اسے بہت دلچسپی سے دیکھ رہے تھے، بالخصوص ان کا بیٹا۔ اس کی نظریں تو بہت ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے پتا نہیں کیوں پھر سے غصہ آنے لگا اور تب ہی اس نے حیا کے چہرے کی جوت کو ماند پڑتے دیکھا۔ وہ خوش نہیں لگ رہی تھی۔ ذرا سی دیر میں ہی وہ ان کے پاس سے ہٹ آئی۔ گیٹ سے باہر آ کر اس نے انگلی کی نوک سے آنکھ کا کنارا صاف کیا۔
اس نے موبائل کے بٹن کو چند ایک دفعہ دبایا۔ وہ اس کی کوئی تصویر اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ وہ ان لوگوں سے مل کر خوش نہیں تھی شاید یہی وہ رشتے والے تھے، جن سے آج سلیمان ماموں نے فرقان ماموں سے ملوانا تھا۔ وہ اس پہ خوش اس لیے نہیں تھی کہ یہ رشتہ اس کے لیے ان چاہا تھا۔
دل کے کسی کونے میں اسے یک گونہ اطمینان سا نصیب ہوا۔ جیسے تسلی سی ملی ہو، جیسے ڈھارس سی بندھ گئی ہو، اب وہ پہلے جتنا نا خوش نہیں تھا۔
وہ بہت دیر ادھر ہی بیٹھا رہا۔ اسے فنکشن دیکھنے کی آرزو نہ تھی، بس وہ اس کی واپسی کے انتظار میں وہیں موجود تھا۔ وہ اسے ایک بار پھر دیکھنا چاہتا تھا۔ کافی دیر گزری ، تب وہ اسے واپس آتی دکھائی دی۔ وہ گھر کے اندر جا رہی تھی۔ کیا اسے اس سے ملنا چاہیئے؟ یا اس کے ترکی آنے کا انتظار کرے؟ وہ یہی سوچ رہا تھا جب اس کا فون بجا۔
اس نے سیل فون کی اسکرین کو دیکھا، پھر بے اختیار چونکا۔ یہ اس کی ترکی والی وہ سم تھی جو پوسٹ پیڈ تھی اور کبھی اس کے اور کبھی ممی کے زیر استعمال رہتی تھی۔ یہ نمبر ماموں کے پاس تھا اور اس میں ماموں کا نمبر محفوظ بھی تھا اور اب اس نمبر سے کال آ رہی تھی۔ ماموں کے گھر سے کال؟ وہ لمحے بھر کو گڑبڑا سا گیا۔
مگر اس نے فون اٹھا لیا چونکہ یہ ترک نمبر تھا اس لیے وہ ایک ہی لمحے میں خود کو ترکی لے گیا۔ ایک پیشہ ور ایجنٹ ہونے کے ناطے اس کو یہ ظاہر نہیں کرنا تھا کہ وہ ترکی سے باہر ہے اور اس کا نمبر رومنگ پہ ہے۔
وہ حیا تھی، ناقابل یقین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ممی کا پوچھ رہی تھی۔ وہ ان کی منتظر تھی، ممی ٹھیک کہتی تھیں۔ اس سب کے باوجود جب وہ بات کرنے لگا تو اس کا لہجہ خشک ہی تھا۔ وہ اتنی جلدی کسی کے ساتھ نرمی سے یا کھل کر بات نہیں کرتا تھا اور اس کو تو وہ ویسے بھی کوئی امید نہیں دلانا چاہتا تھا۔ پھر بھی، جب بات کے اختتام پہ اس نے حیا کی آواز کو بھیگتے ہوا سنا تو اس کا دل دکھا تھا۔
فون بند کرتے ہی اس نے وہ خط کا لفافہ نکالا جو وہ پھولوں کے ساتھ رکھنے کے لیے لایا تھا۔ ابھی اندر موجود سفید موٹے کاغذ پہ اس نے لکھا نہیں تھا اور اب اس کو معلوم تھا کہ اس کو کیا لکھنا ہے۔
اس لڑکی کے نام جو کبھی کسی ان چاہے رشتے کے بننے کے خوف سے روتی ہے تو کبھی کسی بن چکے ان چاہے رشتے کے ٹوٹنے کے خوف سے۔
یہ آخری بات محض اس کا گمان تھا، مگر کیا پتا وہ صحیح بھی ہو۔ اس نے پی کیپ سر پہ لی اور مفلر گردن کے گرد یوں لپیٹا کہ اگر اب وہ خود کو کوریئر سروس مین کہہ کر گھر کے کسی ملازم کے حوالے وہ پھول کرے تو کل کو دن کی روشنی میں وہ اسے پہچان نہیں پائیں گے۔ پھول اور خط ایک ملازم کے حوالے کر کے وہ واپس چلا آیا۔ وہ صرف حیا کو چونکانا چاہتا تھا اور اسے امید تھی کہ اس کا مقصد پورا ہو جاۓ گا۔
* * * *
داور کی بارات کے روز اس کا قطعا ارادہ نہ تھا کہ وہ آج بھی حیا کے لئے ادھر جائے گا۔ آج ویسے بھی اسے اپنے بہت سے کام تھے۔ سیکنڈ سیکرٹری تک وہ ابھی بھی رسائی حاصل نہیں کر سکا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ کام وقت طلب ہوتے ہیں۔ صبر، انتظار، اور خاموشی، یہ تین چیزیں اس نے اپنی جاسوسی مہمات کے دوران سیکھی تھیں۔ آج بھی اس کا کام نہیں ہو سکا تھا اور وہ واپس گھر جا رہا تھا، مگر صرف آخری منٹ میں اس نے یونہی سرسری سا سلیمان ماموں کے گھر کا جائزہ لینے کا سوچا۔ معلوم نہیں وہ بار بار وہاں کیوں جاتا تھا۔
جب وہ ان کی گلی کے دہانے پہ پہنچا تو اس نے زن سے اپنے سامنے سے گزرتی گاڑی میں حیا کو دیکھا۔ وہ بے اختیار چونکا تھا۔ اس گاڑی میں اسے وہی کل والی فیملی نظر آئی تھی اور وہی بے باک نگاہوں والا فضول انسان گاڑی چلا رہا تھا۔
آخر وہ ان کے ساتھ کیوں جا رہی تھی۔
وہ فارغ تھا، اگر نہ ہوتا تب بھی ان کے پیچھے ضرور جاتا۔ جو بھی تھا، وہ اس کی بیوی تھی اور وہ اس وقت کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ تھی، جو اسے پہلی نظر میں ہی اچھے نہیں لگے تھے۔ کل اسے وہ ان سے مل کر ناخوش لگی تھی، مگر آج وہ ان ہی کے ساتھ تھی۔ وہ کل غلط تھا یا آج؟ وہ یہی دیکھنا چاہتا تھا۔ اور جب اس نے میرج ہال کے ایک طرف حیا کو گاڑی سے اتر کر دوبارہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھتے دیکھا تو اسے دھچکا سا لگا تھا۔ وہ کیسے یوں کسی کے ساتھ بیٹھ سکتی تھی؟ کیا وہ ہر ایک کے ساتھ بیٹھ جانے والی لڑکی تھی؟ اسے شدید غصہ آیا تھا۔ ایک تو اس کا لباس، پھر وہ اتنا میک اپ کرتی تھی۔ اتنی نک سک سے تیار ہوتی تھی، اوپر سے رات کا وقت۔ اس کا دل چاہا تھا وہ ابھی اس کو ہاتھ سے پکڑ کر اس آدمی کی کار سے نکال لے اور اگر اس نے وہ عجیب سا حلیہ نہ اپنایا ہوتا تو شاید وہ یہ کر بھی دیتا۔
جب وہ گاڑی سے نکلا تھا تو فرائی پین بھی ساتھ اٹھا لیا جو اپنے اس گیٹ اپ کے ساتھ وہ رکھا کرتا تھا۔ کاملیت اس کے ہر “کور” میں نمایاں ہوتی تھی۔ اور جب اس نے اس نوجوان کے سر کے پچھلے حصے پہ فرائی پان مار کر اسے گرایا تو بھی اس کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا، کوئی حق نہیں جتا سکتا تھا، مگر اس لڑکی کو گردن سے پکڑ کر میرج ہال کے دروازے تک چھوڑ سکتا تھا۔
اور یہ اس نے کیا۔ اپنے لباس کا وہ گھٹیا سے رنگ کا دوپٹہ بھی اس پہ اچھال دیا مگر جب جانے لگا تو بہت سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوۓ اگر وہ بولا تو صرف ایک لفظ، جو اس کی زبان پہ آیا تھا۔ “بے حیا”۔
ہاں وہ اسی قابل تھی۔ پچھلے دو روز میں اگر اس کے دل میں کوئی نرم گوشہ جاگا تھا تو اب وہ ختم ہو چکا تھا۔ جیسے کوئی دل سے اتر جاتا ہے، جیسے کسی کے بارے میں انسان شک و شبہہ میں پڑجاتا ہے۔ وہ اس وقت ایسا ہی محسوس کر رہا تھا۔
اب وہ اس سے نہیں ملنا چاہتا تھا اور اگر وہ اسے اسنبول آنے سے روک سکا تو ضرور روکے گا لیکن وہ ان کے گھر نہیں جاۓ گا۔ اس کا فیصلہ آسان ہو گیا تھا۔ ہر مشرقی مرد کی طرح اس کی بھی خواہش تھی کہ اس کی بیوی ہر کسی کی گاڑی میں بیٹھ جانے والی نہ ہو اور آج جو اس نے دیکھا، اس سے نہ صرف وہ بدظن ہوا تھا بلکہ وہ اس لڑکی کے بارے میں شدید شک و شبہے میں پڑ گیا تھا۔
یہ بھی تو ممکن تھا کہ وہ اس لڑکے کو پسند کرتی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی جرات نے اسے بوکھلا دیا ہو اور وہ فطری ردعمل کے تحت بھاگی ہو، مگر کم از کم ایک بات واضح تھی کہ پسند نا پسند ایک طرف، مگر وہ کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتی تھی۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے اس لڑکے کے والد کے رشتہ بھیجنے میں حیا کی رضا شامل ہو اور اسی لیے وہ جہان یا ممی کی آمد کا پوچھ رہی تھی تا کہ جلد از جلد یہ رشتہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے اور وہ اپنی مرضی سے کسی اور سے شادی کر سکے۔
لعنت ہے مجھ پر جو میں نے سلیمان ماموں کی بیٹی اور فرقان ماموں کی بھتیجی سے اچھی امید رکھی۔
دل میں آئے بغض کو ختم کرنے کے لیے اسے بہت سا وقت چاہیے تھا۔ وہ ایسا آدمی نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد ٹھنڈا ہو کر سوچنے پر دل صاف کر لے۔
اس نے برسوں اس دنیا میں کام کیا تھا، جہاں ہر شخص کے دو سے زیادہ چہرے ہوتے تھے۔ دوسرے انسانوں پر سے اعتبار تو وہ بہت پہلے کھو چکا تھا، اب اپنی بیوی پر سے بھی کھو دیا تھا۔ اچھا ہی ہوا کہ وہ ماموں سے ملنے نہیں گیا۔ امید دلائے بغیر رشتہ ختم کرنا زیادہ بہتر تھا۔ بس چند دن وہ اس لڑکی پہ نظر رکھے گا۔ آخر اسے ممی کو رشتہ توڑنے کے لیے ٹھوس وجوہات بھی تو دینی تھیں۔
ایک دفعہ پھر وہ اپنی سوچ میں ”حیا“ سے ”اس لڑکی“ تک آ گیا تھا۔
* * * *
وہ نوجوان جو اس لڑکی کے ساتھ اس نے بیٹھا دیکھا تھا اور بعد ازاں اسے فرائی پان بھی دے مارا تھا وہ اس کے ذہن سے نہیں نکل پا رہا تھا۔ اگلے کچھ دن وہ بہت مصروف رہا اور اسے اپنے ماموؤں کے گھر کے پاس سے بھی گزرنے کا وقت نہ ملا مگر شک کا جو کھٹکا دل میں پر گیا تھا، اس کی تصدیق کے لیے اس نے حیا کے ای میل ایڈریس پہ ”کلون“ لگا دیا تھا (اس کا ای میل ایڈریس ممی نے روحیل سے لے کر دیا تھا اسے) اس کلون ہیکر کے باعث اب اس ای میل ایڈریس میں جیسے ہی کوئی ای میل آتی یا جاتی تو اگلے ہی سیکنڈ وہ اسے اپنے فون پر موصول ہو جاتی۔ وہ اس لڑکے کا نام نہیں جانتا تھا اور نہ اتنا وقت تھا کہ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتا پھرے۔ اسے بس یہی معلوم کرنا تھا کہ اس کی منکوحہ کسی اور کے ساتھ وابستہ تو نہیں۔ اگر ہے تو کوئی ٹھوس چیز اس کے ہاتھ لگ جائے پھر وہ ممی کو راضی کر لے گا۔ ابھی تک اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی، مگر اس کا تذبذب بہرحال ختم نہیں ہوا تھا۔
داور کی شادی کو آٹھ، نو دن گزر چکے تھے۔ اس سہ پہر جب وہ اپنے اپارٹمنٹ کا لاک کھول رہا تھا، اس کا موبائل بجا۔ دروازہ احتیاط سے تھوڑا سا کھول کر اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے آنے والا پیغام کھولا۔ وہ حیا کی ایک ای میل کی کاپی تھی، جو اس نے ابھی ابھی بھیجی تھی۔ دروازہ دوبارہ اندر سے لاک کرتے ہوئے جہان نے موبائل کی اسکرین پر چمکتا پیغام پڑھا۔
نیشنل رسپانس سنٹر فار سائبر کرائم، اس نے اچنبھے سے ایڈریس کو دیکھا جس کو ای میل بھیجی گئی تھی، اس کو کیا ضرورت پڑ گئی سائبر کرائم کو ای میل کرنے کی؟
میل میں ایک ویب سائٹ پر کسی ویڈیو کا پتا لکھا تھا اور ساتھ میں ایک مختصر سی شکایت درج تھی، جس کے مطابق اس کے کزن کی مہندی کی تقریب جو کہ چند دن پہلے منعقد ہوئی تھی، کی کوئی فیملی ویڈیو انٹر نیٹ پر ڈال دی گئی تھی۔ وہ اس کے خلاف پرائیویسی ایکٹ کے تحت شکایت کر رہی تھی کہ اسے فوری طور پر ہٹایا جائے۔
جہان نے ویڈیو کے پتے کو چھوا، مگر بہت بھاری ہونے یا نیٹ کی رفتار سست ہونے کے باعث کھل نہ سکی۔
خیر ویڈیو وہ بعد میں دیکھ لے گا، ابھی اسے اس کی مدد کرنی چاہئیے۔ یہ تو طے تھا کہ جس سائبر کرائم سیل سے اس نے رجوع کیا تھا، وہ ایک غیر فوجی ایجنسی کا سیل تھا اور وہ میل کا جواب تین چار دن بعد دیا کرتے تھے اور ان کا طریقہ کار ذرا پچیدہ تھا۔ پہلے وہ شکایتی فارم بھیجتے، جو ایف آئی آر کے مترادف ہوتا پھر ایک بیان لینے کے لیے ایجنسی کے تھانے ضرور بلایا کرتے تھے۔ اب یہ خاندانی لڑکیاں کہاں تھانے کچہری کے چکر کاٹیں گی، اس لئے اسے کچھ کرنا چاہئیے۔ اس سے لاکھ گلے شکوے ہونے کے باوجود وہ اس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔
ممی سے اس نے حیا کا موبائل نمبر بھی ای میل ایڈریس کے ساتھ ہی لیا تھا۔ (ممی کا حیا سے کوئی خاص رابطہ تو نہیں تھا، بس ایک بار فاطمہ مامی نےحیا کے نمبر سے کال کی تھی تو نمبر آ گیا۔) اس نے چند لمحے سوچا پھر اپنے لینڈ لائن سے اس کا موبائل نمبر ڈائل کیا۔ یہ سرکاری فون تھا، اس کا نمبر کسی سی ایل آئی پہ نہیں آتا تھا۔ بس ”پرائیویٹ نمبر“ لکھا آتا تھا۔
آواز بدلنا کبھی بھی اس کے لئے مسئلہ نہیں رہا تھا۔ ان کو اس چیز کی بہت اچھی تربیت دی جاتی تھی، مگر صرف آواز بدلنے میں غلطی کا یا پکڑے جانے کا احتمال کافی زیادہ تھا۔ اس لیے اس نے voice changing application بھی آن کر دی۔ یہ خود کار نظام اس کے لبوں سے نکلے ہر لفظ کو سیکنڈ کے دسویں حصے بعد حیا کی سماعت تک ایک مختلف مردانہ آواز میں پہنچاتا تھا۔
جب وہ اس سے مخاطب ہوا تو اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔ خوبصورت، مگر مدھم سا گھمبیر پن لیے۔ صوفے پہ نیم دراز ہوۓ، وہ بہت اطمینان سے ایسی باتیں کر رہا تھا، جو اس لڑکی کو چونکانے کے لیے کافی تھیں۔ وڈیو ہٹانے کا وعدہ لے کر اس نے وہی بات کہی جو سائبر کرائم والے بھی لازما کہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے آفس آ کر باقاعدہ رپورٹ کریں۔ اس بات پہ وہ باقاعدہ سٹپٹا گئی اور پھر جلدی سے فون بند کر دیا۔ جہان نے قدرے اچنھبے سے ریسیور کو دیکھا۔ وہ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں لگ رہی تھی؟ شاید مسئلہ سنگین تھا۔ اسے وہ ویڈیو دیکھ لینی چاہیے۔
قریبا دس منٹ بعد وہ اس ویڈیو کو اپنے لیپ ٹاپ پہ کھول رہا تھا۔ جیسے ہی صفحہ لوڈ ہوا اور اوپر ویڈیو کا نام جگمگایا، وہ ایک دم چونک کر سیدھا ہوا۔ جیسے جیسے ویڈیو چلتی جا رہی تھی، اس کے چہرے کے تاثرات سخت ہوتے گئے۔ پیشانی کی رگیں تن گئیں اور آنکھوں میں شدید غصہ در آیا۔
یہ تھا اس کے ماموؤں کا عزت دار خاندان؟ فرقان ماموں اور سلیمان ماموں کی عزت و عصمت والی بیٹیاں؟ وہ مکمل طور پر زنانہ فنکشن نہیں تھا۔ اسے پیچھے پس منظر میں ویٹرز اور ڈی جے بھی نظر آ رہے تھے۔ وہ بھی تو مرد ہی تھے۔ ان سے کوئی پردہ نہیں؟ کوئی شرم لحاظ نہیں؟ کیسے لوگ تھے یہ؟ کیا ہو گیا تھا پاکستان کو؟
دکھ، طیش، استعجاب۔ ایک دم وہ بہت اپ سیٹ ہو گیا تھا۔ بے حد غصے سے اس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور اٹھ کر کمرے میں بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ جیل میں گزرے وہ ایک ماہ دس دن اس کے اندر بہت تلخی بھر گئے تھے اور گو کہ وہ اس تلخی کو دبا گیا تھا، مگر ختم نہیں کر پایا تھا اور دبانے اور ختم کرنے میں خلیج بھر فرق ہوتا ہے۔
اسے اتنا غصہ تو اس لڑکی کو اس گاڑی میں بیٹھتے دیکھ کر نہیں آیا تھا جتنا اس واہیات ویڈیو کو دیکھ کر آ رہا تھا۔ یہ لڑکی اس جیسے آدمی کے ساتھ تو کبھی خوش نہیں رہ سکتی تھی۔ وہ یہ نہیں کہ رہا تھا کہ وہ بہت باکردار اور اچھا تھا۔ بس وہ دونوں دو مختلف طریقوں سے پروان چڑھنے والے دو مختلف انسان تھے۔ دریا کے دو کنارے اور اب تو ممی کی خوشی کے لیے بھی اس لڑکی سے باقاعدہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسے پچھتاوا ہوا کہ اس نے ”میجر احمد“ یعنی اپنا نام کیوں بتایا۔ بہرحال وہ اس غلطی کو کور کر لے گا۔
وہ اسے معلوم نہیں ہونے دے گا کہ وہی میجر احمد ہے۔ یہ بعد کی بات تھی۔ ابھی مسئلہ اس کے اسکالرشپ کا تھا۔ جب یہ طے تھا کہ وہ اس کے ساتھ رشتہ نہیں رکھنا چاہتا، تو پھر وہ کیوں اگلے پانچ ماہ استنبول میں اس کیے لیے ہلکان ہو؟ ممی کا خیال تھا کہ وہ آئے گی تو ان کہ پاس رہے گی۔ اس صورت میں تو اور مسئلہ ہو گا کہ وہ استنبول میں دو شناختوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ کبھی جہانگیر میں رہنا پڑتا تو کبھی بیوک ادا میں۔ اگر وہ دو دن بھی اس کے گھر رہی تو جان جائے گی کہ اس کی سرگرمیاں مشکوک ہیں۔ ایسے میں اس کے لیے خود کو چھپا کر رکھنا مشکل ہو جاۓ گا اور اب جب کہ اسے زندگی میں شامل نہیں کرنا تو پھر رازوں میں بھی نہیں شریک کرنا۔
وہ بار بار یہی بات سوچے جا رہا تھا۔
* * * *
ان کے ہاں کام کرنے کہ دو طریقے بتاۓ جاتے تھے۔ بالواسطہ اور بلا واسطہ۔ بلاواسطہ طریقہ وہ عموما پہلے استعمال کرتا تھا، اگر وہ ناکام ہو جاۓ، تو پھر باواسطہ طریقہ چنا جاتا۔
فی الحال وہ یہی چاہتا تھا کہ کسی طرح وہ لڑکی ترکی نہ آئے۔ اس کی وجہ اس نے اپنے آپ کو یہی بتائی کہ وہ یہ صرف اور صرف اپنی دوسری زندگی میں کوئی گڑبڑ ہونے سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔ وہ آۓ گی، اور پھر وہ اس سے ملے گی، اس سے امیدیں وابستہ کر لے گی یا شاید وہ طلاق لینا چاہے، اس صورت میں ممی ہرٹ ہو گی، اف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سارے مسئلوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ کچھ ایسا ہو جائے جس سے وہ رک جائے اور استبول جانے کا پروگرام منسوخ کر دے۔
حماد آج کل آفیشل کام میں اس کی مدد کروا رہا تھا۔ وہ اپنے ایکسیڈنٹ کے بعد لمبی چھٹی پہ تھا، اس لیے بآسانی اس کے ساتھ کام کر سکتا تھا۔ اس نے حماد سے مدد لینے کا سوچا۔
دیکھو! میں صرف تمہاری تسلی کے لیے تمہاری مدد کرنے کو تیار ہوں، ورنہ میرا ذاتی خیال ہے کہ وہ ترکی پڑھنے جا رہی ہے، تمہاری نگرانی کرنے نہیں۔ اس کع کبھی بھی تمہاری سرگرمیں پہ شک نہیں ہو گا۔ تم ہر چیز ٹھیک سے سنبھالنا جانتے ہو۔
اصل بات یہ ہے کہ تم وہاں اسے اپنے قریب نہیں دیکھنا چاہتے، تمہیں ڈر ہے کہ کہیں تم اس سے محبت نہ کرنے لگ جاؤ اور اس صورت میں تمہیں اپنے ماموؤں کے سامنے ہارنا پڑے گا۔ تمہارا دل اس رشتے کو رکھنے پر راضی ہے، مگر دماغ جو آج بھی اپنے ماموؤں سے انتقام لینے کا خوائش مند ہے، خائف ہے کہ کہیں دل کے جزبات انا پہ حاوی نہ ہو جائیں۔ پھر بھی میں جو کر سکا، کروں گا۔
حماد نے بہت اطمینان سے کہا تھا۔ جہان خفگی سے سر جھٹک کر رہ گیا، جیسے اسے سچ سن کر برا لگا ہو۔
بہرحال، وجہ جو بھی ہو، وہ پاکستان سے روانگی سے قبل اس درد سر سے چھٹکارہ چاہتا تھا۔ دوسری طرف اس نے وہ ویڈیو انٹرنیٹ پہ ڈالنے والے کو بھی ٹریس کر لیا تھا۔ وہ وہی مووی میکر تھا جو مہندی کی تقریب کی ویڈیو بنانے وہاں گیا تھا اور وہاں یہ کام اس نے اپنے موبائل کے کیمرے کے ذریعے ایک ویٹر سے لیا تھا۔ اس نے اپنی ایجنسی کے سائبر کرائم سیل والوں کے حوالے اس آدمی ک کر دیا تھا۔ اور اس نے جس جس کو وہ ویڈیو دی تھی، وہ بھی نکلوا لی تھی۔ پھر بھی، اگر انٹرنیٹ پر سے کسی نے اسے اپنے کمپیوٹر میں سیو کر لیا ہو تو اس کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ کہیں نہ کہیں تو وہ ویڈیو ضرور ہو گی۔ ساری دنیا سے تو وہ نکلوا نہیں سکتا تھا۔ بہرحال اس نے اس مووی میکر کے اکاؤنٹ کو اپنی دسترس میں لے لیا تھا۔ ویڈیو اس نے ہٹائی نہیں کہ ہٹانے کہ صورت میں وہ لڑکی کبھی اس سے ملنے نہ آتی۔ مگر اس کا صفحہ بلاک ضرور کر دیا، یوں کہ اس کے ماموں کے گھر کے سیکٹر کے علاوہ وہ ملک میں کہیں بھی دیکھی نہیں جا سکتی تھی۔ اسے پورا یقین تھا کہ اپنی ویڈیو ہٹوانے کے لیے وہ اس کے پاس ضرور آئے گی۔
اگلے روز اس کو حماد کے ساتھ چار پانچ گھنٹے سڑک پہ میڈم سیکنڈ سیکرٹری کے انتظار میں گزارنے تھے۔ وہ ایک ایسی مرکزی شاہراہ تھی جہاں ہر پل رش ہوتا تھا۔ اسے موہوم سی امید تھی کہ شاید وہ بھی یہاں سے گزرے۔ وہ عموما ہر وقت باہر ہی نکلی ہوتی تھی۔ وہ گھر میں بیٹھنے والی لڑکیوں میں سے نہیں تھی۔
اس سڑک پر تو نہیں مگر قریب کی ایک ذیلی سڑک پر وہ ٹریفک جام میں ضرور پھنسی ہوئی تھی۔ جہان اور حماد کا کام آج بھی نہیں ہو سکا تھا سو اس نے سوچا، وہ یہ دوسرا کام نپٹا ہی دے۔ پاکستان میں اس نے عورتوں کو اگر کسی شے سے بہت ڈرتے دیکھا تھا تو وہ خواجہ سرا کی بد دعا تھی، بالخصوص سفر سے پہلے اگر کوئی خواجہ سرا بد دعا دے دے تو اس بد شگونی کے بعد لوگ سفر ترک کر دیا کرتے تھے۔ وہ اس وقت بددعا کے اس اصل کو بھول جایا کرتے تھے کہ بددعا چاہے نیک آدمی دے، یا فاسق، چاہے معذور شخص دے یا صحت مند، وہ تب تک آپ کو نہیں لگ سکتی، جب تک آپ اس کے اہل نہ ہوں اور اگر آپ اس کے اہل نہ ہوں تو وہ دینے والے پہ پلٹ آتی ہے مگر اسے امید تھی کہ اس کی بیوی بھی ان ہی ضعیف العقیدہ لوگوں سے ہی ہو گی جو خواجہ سرا کی بددعا سے ڈرتے تھے۔
وہ صرف پانچ منٹ اس کام کے لیے نکال سکتا تھا، اسے واپس جا کر رپورٹ کرنی تھی۔ مگر جب ان دونوں نے اسے متوجہ کیا تو وہ ایک دم سے اتنے غصہ میں آ گئی کہ ان کی کوئی بات سنی ہی نہیں۔ حماد تو جانے کون سی باتیں لے کر بیٹھ گیا۔ مگر وہ کچھ سننے پہ تیار نہ تھی۔ اس نے جیسے بھلا دیا تھا کہ ڈولی نے اس پر کوئی احسان کیا تھا۔ وہ کوئی بات سننے پر تیار ہی نہ تھی، بلکہ مسلسل اسے ہٹنے اور جانے کا کہہ رہی تھی۔ یہاں تک ہوتا تو ٹھیک تھا، مگر وہی اس لڑکی کی ایک دم ری ایکٹ کر دینے کی عادت۔
اس نے حماد کی انگلیاں شیشے میں دے دیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: