Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 51

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 51

–**–**–

وہ ذرا سا زخم اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا، اگر حماد کا ہاتھ فریکچر کے بعد اب تندرستی کی طرف نہ بڑھ رہا ہوتا۔ ایسے میں اس کی وجہ سے وہ ہاتھ زخمی ہوا۔ اسے شدید غصہ آیا۔ دوسری طرف اس کا دوسرا کام بھی نہیں ہو سکا تھا، ان دونوں باتوں پہ وہ شدید غصے کا شکار ہو رہا تھا۔
وہ اسے نہیں روک سکا۔ اسے اپنی یہ بے بسی غصہ دلا رہی تھی۔ اس رات وہ بہت دیر تک اس بارے میں سوچتا رہا تھا۔ وہ منظر جب وہ اس لڑکے کی کار میں بیٹھ رہی تھی اور وہ ویڈیو۔ وہ کچھ بھی فراموش نہیں کر پا رہا تھا۔اسے اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا تھا، پھر بھی ایک دفعہ وہ اس سے ملنا چاہتا تھا۔ اگر وہ اسے کسی طرح اسکالرشپ لینے سے باز رکھ سکتا تھا تو یقینًا وہ اسے ترکی میں نہیں دیکھے گا۔ اس لیے یہ ملاقات اہم اور ضروری تھی۔
وہیں بستر پہ لیٹے لیٹے اس نے اپنے لینڈ لائن سے اس کا نمبر ملایا۔ کافی گھنٹیوں بعد اس نے فون اٹھا لیا اور چھوٹتے ہی ملنے کے لیے رضامندی ظاہر کر دی۔ ایسے لگتا تھا جیسے وہ نیند سے بیدار ہوئی ہو اور اس کے انداز سے یہ بھی ظاہر تھا کہ وہ گھر والوں کو بتائے بغیر ملنے آۓ گی۔ پتا نہیں اس نے ان سفید پھولوں کے بارے میں گھر میں کیا بتایا ہو گا۔شاید اس نے کوئی بہانہ کر دیا ہو۔ شاید پھول چھپا دیے ہوں۔ کوئی بعید نہیں کہ کل وہ اپنے ابا کو ساتھ لے آئے۔ ویسے اسے امید نہیں تھی کہ وہ گھر والوں کو درمیان میں لائے گی۔ جو بھی تھا، وہ لڑکی کافی باہمت اور اپنے مسائل خود حل کرنے والی لڑکی لگتی تھی۔
اس سی ملنے کے لئے ایک جعلی سیف ہاؤس کا انتظام زیادہ مشکل نہیں تھا۔ سب انتظام اس نے خود ذاتی طور پہ کیا تھا۔ البتہ یہ طے تھا کہ وہ اس سے اسکرین کے پیچھے سے بات کرے گا۔جیسے بعض اوقات کچھ لوگوں کو تفتیش یا پوچھ گچھ کے لیے بلا کر بات کی جاتی تھی۔ اس نے اپنا درست نام میجر احمد بتا کر البتہ غلطی کی تھی۔ ہو سکتا ہے فرقان ماموں کی وہ بات کہ سکندر کا بیٹا لاہور میں پوسٹڈ ہے، اس نے سن رکھی ہو اور وہ اس بارے میں شہبات کا شکار ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے دادا کا نام بھی ہو معلوم ہو اور اب اگر ایک میجر احمد اس کے سامنے خود کو چھپاتا ہے تو وہ دو جمع دو کر کے یہ جان سکتی تھی کہ وہ کون ہے۔
وہ اتنی ذہین تھی یا نہیں۔ وہ نہیں جانتا تھا۔ وہ خود ایک کاملیت پسند تھا۔ اس کی کور اسٹوری میں کوئی خامی، کوئی جھول نہیں ہونا چاہیے، یہ اس نے اپنی جاب کے دوران سیکھا تھا۔ اس کے پاس حیا کو دینے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ کیوں اس سے اسکرین کے پیچھے بات کر رہا ہے اور وجہ بہت سادہ سی تھی۔
وہ اسے یہ تا ثر دے گا کہ اس کا چہرہ جھلسا ہوا ہے۔ اسکرین چونکہ فروسٹڈ گلاس کی تھی تو اس کے پیچھے اگر وہ احمد کا آدھا جھلسا چہرہ دیکھتی تو جھلسا ہوا حصہ نمایاں نہ ہوتا، دھندلے شیشے کے باعث اسے کافی گہرے رنگ کا برن بنانا تھا۔ وہ یہی قیاس کرے گی کہ وہ اپنے احساس کمتری کا شکار ہے اور اسی لیے ایک خوب صورت لڑکی کے سامنے آنے سے خائف ہے۔ ایک کامل اور ٹھوس وجہ۔
اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی تھی۔ اگر وہ اس کی بات نہیں سمجھتی اور اسکالرشپ سے پیچھے نہیں ہٹتی تو وہ ایک آخری کوشش کے طور پہ حماد کو اس سے بات کرنے کو کہے گا اور حماد کے نزدیک اس مسئلے کا سب سے بہترین حل یہی تھا کہ وہ خود کو میجر احمد ظاہر کر کے اس سے مل لے اور کسی بھی طرح اسے سمجھا دے کہ اس کے شوہر کے لیے یہ درست نہیں ہو گا کہ وہ وہاں جائے اور یہ کہ اس کا شوہر کہیں اس کی وجہ سے مصیبت میں نہ پڑ جائے۔ ابھی اس گفتگو کا پورا متن طے ہونا باقی تھا، مگر یہ طے تھا کہ وہ یہ کوشش ضرور کرے گا۔ اس کا رشتےدار ان کے قریب استنبول میں رہے۔ یہ اس کے لیے کوئی خوش آئندہ بات نہیں تھی۔
مجھے لگتا ہے تم اپنی مسز کے آنے سے خائف اس لیے ہو کہ تم کہیں ان کی محبت میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔
کہیں تم ان سے متاثر نہ ہونے لگو اور کہیں تمہارے پاس ان کو اپنی زندگی سے نکالنے کی وجہ ختم نہ ہو جاۓ۔ حماد اس کا مکمل ساتھ دے رہا تها، مگر ساتھ میں وہ مسکرا کر ایسا تبصرہ بهی کر دیا کرتا تها۔ وہ سر جهٹک کر نظر انداز کر دیتا۔
جب وہ میجر احمد کے اس خود ساختہ آفس آئی تو چیکنگ کے بہانے اس کا موبائل اس سے لے لیا گیا اور اس میں ایک بہت وسیع رینج کا حامل جی پی ایس ٹریسنگ ڈیوائس ڈال کر واپس کر دیا گیا۔ اگر وہ ترکی چلی جاۓ، تب یہ ڈیوائس اس کے بہت کام آۓ گا۔
جب وہ اندر آئی اور جہان اس سے مخاطب ہوا تو سب سے پہلے اس نے اسے یقین دلایا کہ اس ویڈیو کو وہ شہر کے ایک ایک بندے سے نکلوا چکا ہے۔ یہ سچ تها۔ کم از کم شادی کے فنکسن کی مووی بنانے والے جس مووی میکر کی یہ حرکت تهی، اس نے پوچھ گچھ پہ ہر اس سخص تک ان کو رسائی دے دی تهی، جس کو اس نے یہ وڈیو دی تهی، پهر بهی وہ جانتا تها کہ اگر ان لوگوں نے ویڈیو مزید آگے کی ہو، یا لوگوں نے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر لی ہو، یا کسی بهی دوسری صورت میں کہیں نہ کہیں وہ وڈیو ضرور کسی کے کمپیوٹر میں پڑی ہو گی۔
لیکن بعض باتیں انسان غیر ارادی طور پر کہہ دیتا ہے۔ جیسے جب اس نے بتایا کہ اس نے صرف صبر نہ کر سکنے کے باعث ملاقات کا بہانہ بنایا تها تو لمحے بھر کو وہ خود بهی حیران رہ گیا۔ ان پچهلے چند دنوں میں دیکھے جانے والے ناقابل برداشت مناظر کے باوجود وہ اس لڑکی سے بغیر کسی وجہ کے ملنا چاہتا تها؟ یا پهر جو وجوہات اس کے پاس تهیں، وه محض اس کے قریب رہنے کا جواز تها؟ شاید حماد ٹهیک کہتا ہے۔ پهر بھی وہ جانتا تها کہ وہ دونوں دو مختلف سے لوگ کبهی بھی ایک نہیں ہو سکیں گے۔
اس ملاقات میں اس نے اس لڑکی سے چند ایک سوال پوچهے، جن پہ حسب عادت وہ تب اٹهی۔ یہاں تک کہ جب وہ اسے نصیحت کرنا چاہ رہا تها، اس نے ٹهیک سے جواب بهی نہیں دیا، نہ ہی اس کی بات میں دلچسپی لی۔ تب اس نے وہ سوال کیا، جس سے وه شادی کے بارے میں اس کی ترجیحات جان سکے۔ وہ جانتا تھا وه فورا انکار کر دے گی، مگر کس وجہ کی بنا پہ؟ اور جب اس نے وجہ بتائی تو لمحے بهر کو وه خود بهی چونک کر رہ گیا۔ وہ جتنے یقین اور استحاق سے ”میرا شوہر، میرا شوہر“ کہہ رہی تهی۔ وہ پھر سے اپنے بارے میں بے یقین ہونے لگا۔ نا چاہتے ہوۓ بهی اس نے فرقان ماموں کے وه الفاظ دہراۓ جو انہوں نے ممی، ابا اور اس کی پاکستان واپسی کے بارے میں کہے تھے۔ وہ صرف یہ جاننا چاہتا تها کہ وہ اس کے ابا کے بارے میں کتنا جانتی ہے؟ مگر وہ حسب عادت بھڑک کر اٹھ گئی۔
تب اس نے اپنے قریب رکھے سرخ گلابوں کے بکے میں (کہ آج اسے واقعتا سفید گلاب نہیں ملے تهے، نہ اس نے تگ و دو کی تهی۔) ایک ننھا سا کارڈ لکھ کر ڈالا۔
“آنے کا شکریہ۔ اے آر پی۔“
کارڈ اس نے پھولوں کے اندر رکھ دیا۔ اس کے ساتهی نے بعد میں باہر جا کر حیا کو پهول دینے چاہے، مگر اس نے تو ان کو دیکها تک نہیں اور چلی گئی۔ وه جیسے بہت غصے میں تهی۔
ان تمام دنوں میں یہ وہ پہلا دن تها، جب جہان نے اس پہ بہت وقت صرف کیا تها۔ گویا کے وه بنیادی طور پہ اتنا چوکس آدمی تها که اسے وقت نکالنا آتا تها، مگر ابهی تک جو وہ خود سے کہہ رہا تها که وه یہ صرف اسے اسکالر شپ لینے سے روکنے کے لیے کر رہا ہے۔ خود بهی نہیں سمجھ پایا کہ اگر وہ اس کے سامنے آئی بیٹهی تهی تو اس نے ہر بات کہہ دی، سواۓ اسکالر شپ نہ لینے کے۔ وہ اس بارے میں ایک لفظ بهی نہ کہہ سکا۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ ان کی گفتگو جس تلخ موڑ پہ آ رکی تهی، اس کے بعد اس کو کسی کام سے منع کرنے کا مطلب تها کہ وہ جان بوجھ کر وہی کام کرے گی۔
مگر وہ ایک دفعہ پهر سے کوشش کرنا چاہتا تها۔ اگلے دو دن وہ اپنے کام پیک اپ کرتا رہا۔ اس کا کام ٹهیک
سے نہیں ہو پایا تھا کیونکہ میڈم سیکنڈ سیکریٹری واپس جا رہی تھیں کسی میٹنگ کے سلسلے میں۔ اس کے پیشے میں اکثر ایسا ہی ہوتا تھا۔ بہت دن بہت صبر و تحمل سے کسی معلومات کے ملنے کے انتظار کے بعد ایک دم سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔
تیسرے روز وہ رات میں پھر جناح سپر مارکٹ کے ایک ویران سے چبوترے پہ اسے ملا تھا۔ دنیا کے ہر حساس ادارے میں سب سے زیادہ قدیم اور کسی حد تک گھسا پٹا طریقہ جو کسی بھی شخص کا احسان و اعتماد جیتنےکا بتایا جاتا تھا۔ وہ یہی تھا کہ پہلے آپ اپنے مطلوبہ شخص کو کسی مصیبت میں گرفتار کروائیں، پھر عین وقت پر پہنچ کر خود کو ہیرو ثابت کر دیں۔ اگر اگلا شخص عقل مند ہوا تو آپ کی حرکت جان جائے گا اور کبھی بھی آپ کا احسان مند نہیں ہو گا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کتنی عقل مند ہے۔ البتہ وہ یہ نہیں جان پائ کہ لڑکے اسے کس کے کہنے پر ستا رہے تھے۔ اسے اس روز وہ ذرا غائب دماغ لگی تھی۔ جیسے کسی بات پہ الجھی ہوئی ہو۔ وہ اپنے شوہر کو ڈھونڈنا چاہ رہی تھی۔ آج پھر اس کی گفتگو میں شوہر کا تزکرہ تھا۔ وہ اب بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ اپنے شوہر کا انتظار کیوں کر رہی ہے؟ تاکہ رشتہ ختم کر سکے؟ یا پھر رشتہ نبھا سکے؟
جو بھی تھا، وہ اس پہ میجراحمد کا امپریشن اچھا ڈالنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے شک بھی پڑے کہ وہی ڈولی دراصل میجر احمد ہے۔ چبوترے پر جانے سے قبل اس نے چند ایک رسمی فقرے ریکادڈ کر کے اس ریکارڈنگ کا ٹائم لگا دیا تھا۔ عین وقت ہونے پہ حیا کا فون بج اٹھا۔ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ میجر احمد کی احسان مند ہے بھی یا نہیں، مگر اس نے عادت کے مطابق پوری بات سنے بغیر ہی جھڑک کر فون بند کر دیا۔ وہ میجر احمد کو پسند نہیں کرتی، وہ جان گیا تھا۔
پھر اسے وہ گاڑی والا لڑکا یاد آتا تو لگتا کہ وہ واقعی جہان سے رشتہ ختم کرنا چاہتی ہے۔ شاید میجر احمد کے سامنے اپنے شوہر کا ذکر صرف دھمکی کے طور پر کر رہی تھی تاکہ وہ اسے تنگ نہ کر سکے۔
جب وہ جانے لگی تو اس نے وہی کہا جو وہ کہنا چاہتا تھا۔ شاید اس کی بد دعا سن کر وہ رک جائے۔ پھر وہ چبوترے کی دیوار کے عقب میں جا کھڑا ہوا تھا۔ تب بھی اسے امید تھی کہ وہ مڑ کر ضرور آئے گی۔ یہ دیکھنے کہ وہ کون ہے اور کیوں ہے؟ مگر وہ ذرا سی رکی، مڑ کر دیکھا اور پھر واپس آگے بڑھ گئی۔ اس کا ذہن واضع طور پہ کہیں اور الجھا ہوا تھا۔
جہان کا کام نہیں ہو سکا تھا۔ اب مزید یہاں ٹھہرنا بےکار تھا۔ اس کو اب واپس جانا تھا۔ پندرہ جنوری کو اس کی فلائیٹ تھی۔ اس کے پاس اب صرف ایک دن تھا۔ صرف اور صرف اپنے دل کو مطمئن کرنے کے لیے ایک آخری کوشش کرنا چاہتا تھا۔
میں صرف تمہاری تسلی کے لیے ان سے بات کر لوں گا، ورنہ مجھے یقین ہے کہ اب تم خود بھی نہیں چاہتے کہ وہ رک جائیں۔ اگر ایسا ہوتا تو تم اس کے لیے موثر طریقہ اپناتے۔ ان کے پیپر ورک میں مسئلہ کرواتے۔ ان کے والدین کو کسی طرح اپروچ کر کے انہیں باز رکھنے کا کہتے۔ مگر تم جو بھی کر رہے ہو، وہ اس لیے نہیں ہے کہ تم ان کو روک سکو، بلکہ اس لیے ہے تاکہ تم ہر دوسرے دن ان سے ملنے یا ان کو دیکھنے کا موقع پیدا کر لو۔ تمہارا دل کہتا ہے کہ تم یہ رشہ نبھاؤ اور یہ کہ وہ ضرور ترکی آئیں تاکہ تم ان کو بہتر طور پر جان سکو مگر تمہارے دماغ میں تمہارے ماموؤں کے خلاف جو عناد بھرا ہے۔ وہ تمہیں اس رشتے کو توڑنے پہ اکساتا ہے۔ تم خود کنفیوژڈ ہو جہان! کہ تمہیں کیا کرنا ہے مگر کبھی کبھی انسان کو خود سے سچ بول لینا چاہیے۔ اس سے بہت سی کنفیوژن ختم ہو جاتی ہے۔
مگر وہ حماد کی ساری باتیں نظر انداز کر رہا تھا۔ اب بھی وہ اسی بات پہ قائم تھا کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے قریب ترکی میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ چونکہ اب اس کو روانگی کا حکم مل چکا ہے اور کل دوپہر میں اس کی فلائیٹ تھی۔ سو وہ آخری کوشش آج کے دن کرنا چاہتا تھا-
حماد کو آج اپنی امی اور بہن عینی کے ساتھ شاپنگ پر جانا تھا۔ وہ لوگ اس کی شادی کی شاپنگ کر رہے تھے۔ دوسری طرف جہان اپنے اپارٹمنٹ میں پیکنگ کر رہا تھا۔ ساتھ میں وہ اپنے ٹریسر کا اسٹیٹس ضرور چیک کرتا تھا۔ صبح وہ ڈپلومیٹک انگلیو میں تھی، پھر پنڈی چلی گئی شاید۔
اس نے وہاں سے کچھ اٹھانا ہو، کیونکہ پھر وہ واپس ڈپلومیٹک انکلیو چلی گئی تھی۔ ابھی دوپہر پوری طرح سے نہیں چھائی تھی، جب جہان نے اسے ایف سیون کی طرف جاتے دیکھا۔ کل رات بھی وہ جناح سپر میں تھی۔ سو آج بھی شاید وہیں جا رہی ہو۔ اس لڑکی کو شاپنگ کا بہت شوق تھا۔ بہر حال اس نے حماد سے بات کی۔ وہ لوگ ایف ٹین جا رہے تھے، مگر چونکہ وہ حیا سے بات کرنے کے لئے راضی تھا، اس لیے وہ جناح سپر چلا آیا۔
حماد اس سب کو ایک اتفاقیہ ملاقات کی طرح پلان کرنا چاہ رہا تھا چونکہ یہ طے تھا کہ وہ اسے اپنے میجر احمد ہونے کا تاثر دے گا۔ اس لیے یہ غلط لگتا کہ جو شخص اپنی بدصورتی کے باعث پہلے اس کے سامنے نہیں آ رہا تھا۔ اب بالشافہ ملاقات پر راضی ہو گیا تھا۔ اپنی جاب میں وہ اکثر ایسے اتفاقیہ مواقع پیدا کرتے رہتے تھے۔ ان کے نزدیک وہ لوگ احمق تھے، جو موقع ملنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ مواقع ڈھونڈے نہیں، پیدا کیے جاتے ہیں۔ اب ایک بہت معصوم سے اتفاق میں وہ ایک ہی دکان میں اس سے ٹکرا جاتا۔ وہ یقینًا اس کا آدھا جھلسا چہرہ دیکھ کر چونکتی، اسی پل عینی اسے احمد بھائی کہہ کر پکارتی۔ عینی کو وہ پہلے ہی سمجھا چکا تھا کہ آج وہ اسے مارکیٹ میں احمد بھائی کہہ کر پکارے گی۔ کیونکہ وہ کسی کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اس کا نام حماد نہیں احمد ہے۔ عینی اپنے بھائی کی مشکوک حرکتوں کی عادی تھی۔ وہ شانے اچکا کر راضی ہو گئی۔ جو بھی تھا۔ اپنے بھائی کی مدد کر کے اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی۔
“میں فیملی کے ساتھ مارکیٹ میں ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس شاپ میں جائیں گی؟” حماد نے وہیں سے اسے فون کیا تھا۔
وہ اس وقت اپنا بیگ پیک کر رہا تھا۔
“وہ جو سعید بک بینک والا پلازہ ہے، اس میں جہاں ایک خالی چبوترہ سا بنا ہوا ہے۔”
“ہاں، مگر پھر کوئی بک فیئر لگا ہوا ہے۔ وہ خالی نہیں ہی۔”
“اس کے آس پاس کوئی کپڑوں یا جوتوں کی ایسی شاپ ہے جس پہ سیل لگی ہو؟” وہ سوچ سوچ کر بول رہا تھا۔ اس نے اتنے دنوں میں ایک چیز کا اندازہ کر لیا تھا۔ کہ وہ لڑکی کپڑوں، جوتوں کی بہت شوقین تھی۔
“ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے ایک جگہ سیل لگی ہوئی ہے۔”
“تم وہاں جاؤ، وہ ادھر ضرور آئے گی۔”وہ بہت وثوق سے بولا تھا۔
وہ کپڑے تہہ کرتے ہوئے پھر اسی نہج پہ سوچنے لگا۔ کیا وہ واقعی چاہتا تھا کہ وہ نہ جائے، یا پھر بس اس کی ہر پل خبر رکھنے کا بہانا ڈھونڈ رہا تھا؟” جہان! تم کنفیوژڈ ہو۔” اس نے خود کو سرزنش کی۔
پورا گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا جب حماد کا دوبارہ فون آیا۔ وہ لیپ ٹاپ سامنے رکھے کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔ حماد کا نمبر دیکھ کر ایک دم اس کا دل بہت اداس ہوا۔ یقینًا حماد نے اس سے بات کر لی ہو گی اور وہ ترکی نہیں آ رہی ہو گی۔ اس نے کال موصول کی۔
“اچھی بے عزتی کروائی آج تم نے میری۔” حماد ایک دم شروع ہوا۔ جہان سیدھا ہو بیٹھا وہ سخت غصے میں اسے ملامت کیے جا رہا تھا۔
“میرے بھائی! ہوا کیا ہے؟”
بھابھی نے مجھے پہچان لیا۔انہوں نے پوری شاپ میں سب کے سامنے اعلانیہ بتایا کہ میں پنکی بنا سڑک پہ گداگری کر رہا تھا۔ لعنت ہے مجھ پہ اور لعنت ہے اس دن پہ جب میں نے تمہاری مدد کرنے کا سوچا۔”
“اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کیسے پہچانا؟” جب اس کے منہ پہ سلش گرا تھا۔ تب بھی اسے جھٹکا لگا تھا اور اب بھی ایسا ہی جھٹکا لگا تھا۔
“میرے ہاتھ پہ جو نشان ہے اور انگلیوں پہ جو انہوں نے اس دن زخم دیے تھے۔ ان ہی سے انہوں نے پہچان لیا اور میری فیملی کے سامنے اچھی خاصی میری بے عزتی کر دی۔”
“تو تم نے اس سے بات نہیں کی؟”
“میں اس سارے ہنگامے کے بعد کیا بات کرتا؟ میں تو جلدی سے وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر شاپ کیپر آ گیا۔ اس دن ثانیہ اور میں نے یہیں سے شاپنگ کی تھی۔ وہ ہمیں جانتا تھا۔ بس شکر تھا اس نے میرا نام نہیں لیا تھا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غصے سے بولتے بولتے وہ ایک دم رکا۔
تم جو چاہ رہے تھے کہ میجر احمد کا امپریشن اچھا پڑے، وہ اب نہیں ہو سکے گا، کیونکہ میں نے عینی سے کہا تھا کہ وہ مجھے احمد کہہ کر پکارے گی اور اس نے تمہاری مسسز سے لڑتے ہوئے بھی میری ہدایت یاد رکھی۔
اس سے بہتر تھا، میں تمہیں کام نہ ہی کہتا۔
جہان! مجھ سے بول لو، خیر ہے، مگر خود سے جھوٹ نہ بولو۔ سچے دل سے تسلیم کر لو کہ تم ان کو روکنا نہیں چاہتے تھے۔ تم اب بھی چاہتے ہو کہ وہ تمہارے استنبول ضرور آئیں۔ اس لیے اس بارے میں پریشان مت ہو اور جانے کی تیاری کرو۔ ویسے اچھی خاصی خوش اخلاق بیگم ہے آپ کی۔
اس کی آخری بات پہ وہ بے اختیار ہنس دیا تھا۔
حماد ٹھیک کہتا تھا۔ اسے اپنے اندر کی کنفیوژن ختم کرنی چاہیے۔ وہ اس کے ترکی آنے سے پریشان تھا مگر ناخوش نہیں۔ اس نے بلآخر خود سے سچ بول ہی لیا۔ وہ کسی لڑکی کے اپنے اعصاب پر حاوی ہو جانے سے ڈرتا تھا۔ لڑکی بھی وہ جو سلیمان ماموں کی بیٹی تھی۔ مگر اسے ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔ جب اسے ماموں سے انتقام لینا ہی نہیں ہے تو پھر ان کے خلاف دل میں عناد کیوں رکھے؟ اور شاید وہ خود بھی یہ رشتہ نہ چاہتی ہو۔ جہان کو اس کا اس لڑکے کی گاڑی میں بیٹھنا یاد تھا۔ چلو ٹھیک ہے، وہ آ جائے گی تو کبھی نہ کبھی وہ اس سے یہ بات کلیئر کر لے گا۔
اب وہ مطمئن تھا۔
* * * *
آفس میں نیم اندھیرا پھیلا تھا۔ کھڑکیوں کے باہر شام اتر آئی تھی۔ وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھی یک ٹک لیپ ٹاپ کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔ آنسو اس کے گالوں پہ لڑھک لڑھک کر اب سوکھ چکے تھے۔ کہیں پس منظر میں فون کی گھنٹی بج رہی تھی مگر وہ اس جانب متوجہ نہیں تھی۔ وہ صرف اس ایک شخص کو دیکھ رہی تھی، جو اس سے ہم کلام تھا۔ بہت مختصر الفاظ میں اپنی کہانی سناتے ہوئے بھی درمیان میں اٹھ کر وہ کافی بنا لایا تھا۔ فارغ تو وہ بیٹھ ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ اسے جانتی تھی۔ مگر آج جب اس نے ویڈیو کے کھلتے ہی جہان کو بیوک ادا کے سفید محل میں موجود عبدالرحمن پاشا کے کمرے کی کمپیوٹر چیئر پہ بیٹھتے دیکھا تھا تو اسے لگا تھا وہ اس شخص کو نہیں جانتی، نہیں پہچانتی۔ وہ اس ویڈیو میں اور اے آر پی کے کمرے میں کیا کر رہا تھا؟ مگر جیسے جیسے وہ سنتی گئی اس کے عصاب سن پڑ گئے۔
پہلے اسے شاک لگا، پھر غصہ چڑھا، مگر ایسا غصہ جو شطرنج میں اپنے ذہین مقابل کی چال پہ مات کھا جانے سے چڑھتا ہے اور پھر اس کی جگہ دکھ نے لے لی۔ پہلی دفعہ اسے احساس ہوا تھا کہ جب تک انسان دوسرے کی جگہ پہ کھڑا نہ ہو، اسے پوری بات سمجھ میں نہیں آتی۔
ٹیلی فون کی گھنٹی ابھی تک بج رہی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ویڈیو کو وہیں روکا۔ ابھی وہ آدھی بھی نہیں ہوئی تھی اور ابھی تک جہان نے اس آدمی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ جس کے چہرے پہ حیا نے کافی الٹی تھی؟ اگر اس کا وہ غریب سا ریسٹورنٹ اونر جہان ہی عبدالرحمن پاشا تھا۔ عائشے اور بہارے کا عبدالرحمن پاشا۔ تو پھر بے چارہ وہ کون تھا، جس پہ اس نے کافی الٹی تھی؟ اور وہ جس کو اس نے جہان کے ساتھ پینٹری میں دیکھا تھا۔
مگر ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے دونوں کنپٹیوں کو انگلیوں سے دباتے ہوئے سوچنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو کس نے کہا تھا کہ وہ عبدالرحمن ہے؟ کسی نے نہیں۔ اس نے آنے کے ساتھ اس کی تصاویر دیکھ کر ازخود یہ فرض کر لیا تھا کہ وہی عبدالرحمن ہو گا۔ تب وہ نہیں جانتی تھی کہ آنے کا ایک دوسرا بیٹا بھی ہے۔ ان کا اصلی بیٹا، گمشدہ بیٹا، جو عرصہ پہلے ادالار چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ ہاں، وہی تو تھا ان کا گمشدہ بیٹا۔ تب ہی تو اس کی تصاویر گھر میں ہر جگہ لگی ہوئی تھیں۔ پاشا بے (مسٹر پاشا) اسی نام سے جہان اسے ریسٹورنٹ میں پکار رہا تھا، جب اس نے ان کی باتیں سنی تھیں۔ عبدالرحمن پاشا اور پاشا بے دو الگ الگ لوگ تھے۔
فون مسلسل بجے جا رہا تھا۔ اس نے اکتا کر میز پہ رکھے فون کو دیکھا۔ ابا کی سیکریٹری کو کہا بھی تھا کہ اسے مت ڈسٹرب کرے، مگر کوئی سنے تو۔ اس نے ریسیور اٹھایا۔
جی؟
میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولید صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ اصرار کر رہے ہیں۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہیں بھیج دیں! اس نے ناگواری کی اٹھتی لہر کو دبا کر کہا اور فون رکھا۔ صرف اس فضول آدمی کی وجہ سے اس کا کردار جہان کی نظروں میں مشکوک ہو کر رہ گیا تھا۔ صرف یہی نہیں, وه کمپنی کے ساتھ بھی وفادار نہیں تھا- آج تو وہ اچھی طرح نپٹے گی اس سے-
اس نے آفس کا لاک کھولا اور نقاب کی پٹی سر کے پیچھے باندھ لی- پھر لیپ ٹاپ بند کر کے فلیش ڈرائیو واپس ڈبی میں ڈال لی- باقی ویڈیو وه گھر جا کر دیکھے گی- ویسے بھی شام ہونے کو آئی تھی۔ وقت کا کچھ پتا ہی نہیں چلا تھا- ابھی تک اس کے اعصاب شل تھے-
دروازه کھلا اور ولید لمبے لمبے ڈگ اٹھاتا اندر داخل ہوا- ہمیشہ کی طرح اس کے لبوں په استہزائیہ مسکراہٹ بکھری تھی- وه کرسی پہ ٹیک لگائے دونوں ہاتھوں پہ کہنیاں جمائے اسے آتے دیکھتی رہی-
کیسی ہیں آپ میڈم ایم ڈی؟ اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے وه بولا-
آپ بتائیں، کیا کام تھا؟ وه خشک لہجے میں بولی- وه رات پھر سے تازه ہو گئی تھی کیا سوچتا ہو گا جہان اس کے بارے میں؟ افف!
کل بورڈ آف ڈائریکڑ کی میٹنگ میں ہم آپ کے خلاف قرارداد لا رہے ہیں- وه تپا دینے والے مسکراہٹ کے ساتھ اس کی میز سے پیپر ویٹ اٹھا کر انگلیوں میں گھمانے لگا-
کیسی قرارداد؟ اس نے حتی الامکان لہجے کو نارمل رکھنے کی سعی کی-
آپ جانتی ہیں کہ اگر سارے ڈائریکڑز مل کر ایم ڈی کے خلاف قرارداد لائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدم اعتماد کی قرارداد تو ایم۔ڈی کو ہٹایا جا سکتا ہے-
وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ شاید ولید نے تازہ تازہ کمپنی لاء پڑھا تھا۔ ورنہ اسے یہ خیال پہلے دن آ جانا چاہیے تھا۔ کل آپ اس آفس کے باہر ہوں گی۔ چچ چچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے مگر ہم نے بہت برداشت کر لیا آپ کو۔ آپ جیسی عورتوں کی جگہ گھر میں ہوتی ہے یا مدرسے میں، ادھر نہیں۔
وہ اب بھی لب بھینچے اسے دیکھتی رہی۔
آپ یوں کریں، اپنی ضروری اشیا سمیٹ لیں۔ آخر کل آپ کو یہ جگہ چھوڑنی پڑے گی۔ میں یہی بتانے آیا تھا ادھر۔ وہ فاتحانہ انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔
بیٹھیں! اس نے انگلی سے ایک دم اتنے تحکم سے اشارہ کیا کہوہ بے اختیار اگلے ہی پل واپس بیٹھا۔
اب میری بات سنیں۔ حیا دونوں مٹھیاں میز پہ رکھے، کرسی پہ ذرا آگے ہوئی۔
میں نے منگل والے روز ہیڈ آر کیٹیکٹ اور آپ کی گفتگو ریکارڈ کی تھی، سننا چاہیں گے؟
ولید کے چہرے کے تاثرات ناقابل فہم ہو گئے۔ اس نے سوالیہ ابرو اٹھائی۔
کون سی گفتگو؟
انجان بننا آپ کو فائدہ نہیں دے گا۔ میں جانتی ہوں کہ اس ٹریڈ سینٹر کے پروجیکٹ پلان میں آپ کے کہنے پہ آرکیٹکٹ نے گڑبڑ کی تھی۔ صرف یہی نہیں، بلکہ جس کمپنی کو وہ پروجیکٹ مل گیا تھا۔ ان کے مالکان سے آپ کے گہرے روابط ہیں۔ یہ ساری آپ کی اپنی کہی باتیں ہیں۔ میرے پاس ثبوت ہے۔ وہ کہہ رہی تھی۔ ولید کے لب پھینچ گئے اور آبرو تن گئے۔
آڈیو کسی چیز کا ثبوت کبھی نہیں ہو سکتی مادام!
مجھے کورٹ میں کسی کو کچھ نہیں دکھانا۔ مجھے صرف اپنے ابا کو سب بتانا ہے۔ ویسے بھی وہ اب ٹھیک ہو رہے ہیں۔ اسی ہفتے دوبارہ جوائن کر لیں گے۔ آج جب میں گھر جا کر ان کو آپ کی اصلیت بتاؤں گی تو وہ اپنی بیٹی کی ہر بات فوراً مان لیں گے۔ ہماری کمپنی لاء کے مطابق اگر ایسا ٹریزن ثابت ہو جائے تو نہ صرف آپ کے شئیرز فریز ہو سکتے ہیں بلکہ ابا کو آپ جانتے ہی ہیں، وہ اپنے ساتھ دغا کرنے والوں کو یوں ہی نہیں چھوڑتے ہیں۔ سڑک پہ لے آئیں گے وہ آپ کو۔
ولید کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔ وہ غصے سے غرایا تھا۔
میں نے کمپنی کے ساتھ کوئی دغا نہیں کیا۔ اگر تم نے اپنے ابا کو کوئی الٹی سیدھی بات بتانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
اس نے مسکرا کر سر اٹھا کر ولید کی طرف دیکھا۔ کسی سے تو وہ بھی ڈرتا تھا۔
میں دیکھ لوں گا تمہیں۔ ایک شعلہ بار نگاہ اس پہ ڈال کر وہ مڑا اور تیز تیز چلتا باہر نکل گیا۔
اس آدمی کو سمجھانے کے لیے وہ اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اور اس کی اس ایک حرکت نے اسے جہان کی نظروں میں مشکوک بنا دیا تھا۔ جب جہان اس سے ملے گا تو وہ سب سے پہلے یہی بات کلیئر کرے گی۔
جہان؟ وہ ایک دم چونکی۔ یہ ویڈیو اس نے لاکر سے ایک ماہ قبل نکالی تھی، یہ ساری باتیں تو پرانی ہو گئیں۔ وہ ابھی کہاں تھا؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: