Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 52

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 52

–**–**–

پنکی نے پزل باکس اسے تهماتے ہوۓ کہا تها کہ جب تک وہ اسے کهول پاۓ گی تب تک وہ شاید اس دنیا میں نہ رہے۔ نہیں وہ یوں ہی کہہ رہا ہو گا۔ اس نے سر جھٹکا۔ وہ جہان کو ڈهونڈ لے گی۔ وہ اسے کہیں نہ کہیں ضرور مل جاۓ گا۔
اس نے موبائل نکالا۔ وه صبح سے سائلنت پہ تها اور اماں کی کئی مسڈ کالز اور مسیج آۓ پڑے تهے۔ اس نے میسج کهولا۔ وه کہ رہی تھیں کہ انہیں ابا کی گاڑی اور ڈرائیور چاہیے تهے۔ اس لیے انهہوں نے آفس فون کر کے دونوں منگوا لیے تهے۔ ایک اور پیغام میں انهوں نے بتایا کہ وه ظفر کو اس کی گاڑی کے ساتهہ بھیج رہی ہیں، وہ اسے گهر لے آۓ گا۔
بس کار بھیج کر ظفر کو واپس جانے کا کہہ دیتیں، ضروری تها کہ تایا ابا کا ملازم بهی ادهار لینے کا احسان لیا جاۓ؟ اسے خوامخواہ کوفت ہوئی۔ بہرحال اس نے سر جهٹک کر فون بک میں سے عائشے کے گهر کا نمر ڈهونڈ کر ملایا۔ کوئی جواب نہیں۔ پهر اس نے حلیمہ آنٹی کا نمبر ملایا۔ وه یقینا ان سے ہوٹل گرینڈ کا نمبر لے سکتی تهی، جہان وہیں ہو گا۔
آلو؟ وه اداس، مگر باریک سی آواز، اسے خوش گوار حیرت کا جهٹکا لگا۔
بہارے! میں حیا بول رہی ہوں۔
اوہ حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کہاں چلی گئی تهی؟ وه جیسے بہت اداس سی لگ رہی تھی۔
میں گهر آ گئی تهی مگر تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجهے پتا چلا تها کہ تم لوگ ملک چهوڑ کر چلے گئے ہو۔
سب چلے گۓ ہیں، میں نہیں گئی، میں اکیلی رہ گئی ہوں۔ وہ جیسے آنسو پیتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔ عائشے بهی نہیں ہے، آن بھی نہیں ہے، سب چلے گۓ۔
عب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدالرحمن؟وه کہاں ہیں؟ اس کی آواز میں لرزش تهی۔
وہ صبح آیا تها مجهے۔ اتنا سارا ڈانٹ کر گیا ہے، اس نے کہا وه جا رہا ہےاو یہ بهی کہ وہ اب مجھ سے ملنے نییں آۓ گا۔
کدهر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کدھر گیا ہے وه؟ ایک دم بہت سے آنسو اس کی پلکوں پہ آ رکے تهے۔
مجهے نہیں پتا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جیسے ٹهہری۔ اس نے کہا تها کہ اس نے تمہیں آنے سے کچھ دن پہلے بتا دیا تها کہ وہ کدهر جاۓ گا۔ تمہیں پتا ہے حیا؟
نہیں۔ وہ حیران ہوئی۔ اس نے تو مجھے نہیں بتایا۔ آنکهیں اس نے ہاتھ سے رگڑ کر صاف کیں۔
مگر تم فکر مت کرو بہارے!میں اگلے ہفتے ترکی آؤں گی نا، مجهے اپنی کلیئرنس کروانی ہے، تب میں اور تم مل کر اسے ڈهونڈیں گے۔ ہم اسے ڈهونڈ لیں گے۔ تم میرے آنے تک وہاں ہو گی نا؟
مجهے نہیں پتا۔ مجهے کچھ نہیں پتا۔ وه جیسے سارے زمانے سے خفا ہو رہی تھی۔
اس نے فون بند کر دیا۔ کتنی ہی دیر وہ سر ڈیسک پہ رکھ کر آنکهیں بند کیے بیٹھی رہی۔ اس کا ذہن صرف ایک ہی بات پہ مرکوز تها۔ جہان نے اسے جانے سے قبل نہیں بتایا کہ وہ کہاں جا رہا ہے، پهر اس نے بہارے کو ایسا کیوں کہا؟ یہ وڈیو تو پرانی تهی جبکہ بہارے نے جانے سے کچھ دن قبل کے الفاظ استعمال کیے تهے۔ کب بتایا جہان نے اسے؟
جب وہ اپنی چیزیں سمیٹ کر اٹهی تو بهی اس کا ذہن الجها ہوا تها۔
شام ڈهل چکی تهی۔ سب جا چکے تهے۔ وہ شاید اکیلی ره گئی تهی۔ جب وہ لفٹ میں داخل ہونے لگی تو تایا فرقان بهی ساتھ ہی داخل ہوۓ۔
آپ ابھی تک یہیں ہیں؟ وہ ان کو دیکھ کر ذرا حیران ہوئی تهی۔
ہوں! کچھ کاغذات لینے آیا تها۔ وہ اسی سرد مہر لہجے میں بولے۔ تناؤ اور برف کی دیوار ابهی تک بیچ میں حائل تهی۔ اسے پهر سے اماں پہ غصہ آیا کہ کیا ضرورت تهی ظفر کو بلوانے کی۔ وہ گاڑی چهوڑ کر چلا جاتا۔ وہ خود ڈرائیو کر کے آ جاتی۔ ان کا احسان لینا ضروری تها؟ اور جہان اس نے کب بتایا تها کہ وہ کدهر جا رہا ہے؟
لفٹ گراؤنڈ فلور پہ رکی تو اس نے پیچھے ہٹ کر تایا ک راستہ دیا، وہ نکل گئے تو وہ سست روی سے الجھی الجھی سی چلتی باہر آئی۔
جہان نے کب بتایا؟ جھولے پہ اس رات؟ یا ہسپتال میں جب وہ دونوں ابا کہ پاس تھے؟ یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات سنو میری! ولید پتہ نہیں کہاں سے سامنے آیا تھا۔ حیا بے اختیار ایک قدم پیچھے ہوئی۔ لابی خالی تھی۔ سواۓ شیشے کے دروازے کے ساتھ کھڑے گارڈ کے، جو ان کو ہی دیکھ رہا تھا۔
کیا ہے؟ اگر تم نے سلیمان انکل سے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں تمہارے ساتھ بہت برا کروں گا۔ انگلی اٹھا کر چبا چبا کر بولتا وہ اسے تنبیہہ کر رہا تھا۔ حیا نے کوفت سے اسے دیکھا۔
یہ دھمکیاں کسی اور کو دو۔ میں جا رہی ہوں گھر اور میں ابا کو سب صاف صاف بتا دوں گی۔ کر لو جو تم کو کرنا ہے۔ اپنی ساری فرسٹریشن نکال کر وہ اس کے ایک طرف سے نکل کر وہ آگے بڑھ گئی۔ ولید کچھ کہے بنا تیز قدموں سے چلتا اس کے دائیں طرف سے گزر کر باہر نکل گیا۔
وہ گارڈ کو معمول کی ہدایات دینے کہ بعد باہر کی سیڑھیاں اترنے لگی۔ باہر آسمان نیلایٹ بھری سیاہی سے بھرتا جا رہا تھا۔ وہ اب بھی جہان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اس نے کب بتایا تھا اسے کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟
وہ سیڑھیاں اتر کر اب ایک طرف بنے پارکنگ ایریا کی طرف بڑھنے لگی، اس کی گاڑی دوسری طرف کھڑی تھی۔ اس تک پہنچنے کے لیے اسے چند قدم اس لمبی، چوڑی روش پر چل کر جانا تھا۔ وہ بہت غائب دماغی سے قدم اٹھا رہی تھی۔
اگر جہان کہہ رہا تھا کہ اس نے حیا کو بتایا تھا تو اس نے بتایا ہو گا۔ وہ سیدھی طرح کوئی بھی بات نہیں کہتا تھا۔ اس کی ہر بات پہیلی ہوتی تھی۔ آخر اس نے کب بتایا؟ روش پہ چلتے ہوۓ اس نے ذہن پر زور ڈالنے کی کوشش کی۔
کہیں دور اسے کوئی پکار رہا تھا۔ اس کے نام کی پکار بار بار پڑ رہی تھی۔ وہ اتنی الجھی ہوئی تھی کہ سن ہی نہیں پائی۔ تیز روشنی سی اس کی پیچھے سے آ رہی تھی۔ ساتھ میں ٹائرز کی آواز۔
ایک دم جیسے کسی خواب سے جاگ کر وہ چونک کر پلٹی۔ وہ ولید کی گاڑی تھی اور وہ تیز رفتار سے اسے روش پہ چلاتا آ رہا تھا اس کے اوپر چڑھانے کے لیے۔
ولید رکو! اس کے لبوں سے ایک کراہ تک نہ نکل سکی۔ سانس رکا اور ساتھ میں پورا وجود شل ہو گیا۔ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی۔ تیز ہیڈ لائٹس اتنے قریب تھیں کہ اس نے اپنے بچاؤ کے لیے صرف اپنے دونوں ہاتھ ہی چہرے پہ رکھے۔
دوسرے ہی لمحے زور کی ٹکر نے اسے سڑک کے دوسری طرف لڑھکا دیا۔ گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی۔
#باب_12
ہوٹل گرینڈ کے بالائی منزل کے اس پرتعیش پاور آفس میں پرفیوم کی خوشبو کے ساتھ سگریٹ کی مہک بھی پھیلی تھی۔ وہ ریوالونگ چیئر پہ بیٹھا، لیپ ٹاپ پہ ہوٹل کے ریکارڈ چیک کر رہا تھا۔ قریب پڑا ایش ٹرے سگریٹ کے آدھ جلے ٹکروں اور راکھ سے بھر چکا تھا۔ یہ اس کی واحد بری عادت تھی جسے وہ بہت چاہ کر بھی نہیں چھوڑ سکا تھا۔
اس کی غیر موجودگی میں ہوٹل عثمان شبیر دیکھتے تھے۔ وہ ایک اچھےاور ایماندار آدمی تھے۔ ان کا بیٹا سفیر بھی ہوٹل میں کام کرتا تھا۔ لیکن جہان کی کوشش ہوتی، وہ اس لڑکے کو ایڈمنسٹریشن کے معاملات سے دور ہی رکھے۔ سفیر قدرے غیر زمےدار اور فطرتا لالچی واقع ہوا تھا۔ عثمان شبیر کل پاکستان جا رہے تھے۔ سو ان کی غیر موجودگی میں اسے سفیر کو ذرا کھینچ کر رکھنا تھا۔ کل! ہاں کل جا رہے تھے عثمان شبیر پاکستان!
ڈاکومنٹس دیکھتے ہوئے وہ ایک دم چونکا۔
عثمان شبیر کل پاکستان جا رہے تھے؟ اور ان کی واپسی بھی جلد ہی متوقع تھی۔ کیا وہ ان ہی تاریخوں میں واپس آئیں گے، جب پاکستان سے دو ایکسچینج اسٹوڈنٹس حیا سلیمان اور خدیجہ رانا استنبول آئیں گی؟
کچھ دیر وہ اسی نہج پہ سوچتا رہا، پھر سیل فون اٹھا کر دیکھا۔ حیا کی ای میلز میل باکس پہ لگے کلون کے باعث اسے ملتی رہتی تھیں۔ اس نے آج کی میلز چیک کیں۔ تازہ ترین میل اس کے ٹکٹ کی کاپی اور الیکٹرونک فارم تھا جو ڈورم الاٹمنٹ کے لیے حیا نے پر کر کے بھیجاتھا۔ اسے یہ میل صبح ملی تھی۔ وہ مصروفیت کے باعث پڑھ نہیں سکا تھا۔ اب پڑھی تو بے اختیار چہرے پہ مسکراہٹ آ گئی۔
اسموکنگ، ڈرنکنگ سب کرتی ہوں۔ سخت جھگڑالوں ہوں۔
پاگل لڑکی۔ کیا، کیا لکھ کر سبانجی والوں کو بھیج رہی تھی۔ انہیں واقعتا اب اسے خونخوار قسم کی لڑکیوں کے ساتھ ڈورم دینا تھا۔ اس نے اسی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا اور پھر ٹکٹ والی میل چیک کی۔
پانچ فروری کو ان دونوں لڑکیوں کی فلائٹ تھی۔ ابھی اس میں پورے دو ہفتے تھے۔
اب کیا کرنا چاہئے اس کو؟
بلآخر ایک فیصلے پہ پہنچ کر اس نے فون اٹھایا اور عثمان صاحب کی آیکسٹینشن ملائی۔
آلو؟
عثمان بے۔ آپ نے واپس کب آنا ہے؟ بنا تمہید کے اس نے کام کی بات پوچھی۔ بلاوجہ کی تمہیدوں سے تو اسے نفرت تھی۔
پندرہ، بیس دن تک- کیوں؟
پندرہ یا بیس؟
آٹھ فروری کی فلائٹ ہے، آپ حساب لگا لیں، تقریبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جیسےخود بھی گننے لگ گئے۔
کیا آپ اتحاد ائیر لائینز کی پانچ فروری کی فلائٹ لے سکتے ہیں۔ اصل میں چھوٹا سا مسئلہ ہے، میرے ایک دوست کی بہن اپنی فرینڈ کے ساتھ استنبول آ رہی ہے۔
پھر اس نے مختصر الفاظ میں ان کو سمجھایا کہ ان کے درمیان کچھ فیملی کلیش ہیں۔ وہ ان کے بارے میں فکرمند ہے کہ پہلی دفعہ استنبول آنے کے پیش نظر ان کو یہاں کوئی مسئلہ نہ ہو، سو وہ چاہتا ہے کہ عثمان شبیر ان سے اپنا تعارف کروا دیں، تاکہ اگر کبھی مشکل میں وہ ان سے رابطہ کرے، تو وہ فورا عبدالرحمن کو بتائیں۔ لیکن ظاہر ہے اس کا نام درمیان میں نہیں آنا چاہیے۔ سخت قسم کا ایگو ایشو ہے۔
متوقع طور پر عثمان شبیر نے فورا ہامی بھر لی۔
فون رکھتے ہوئے وہ اب پہلے سے زیادہ مطمئن تھا۔ پتا نہیں وہ کب اس سے اور ممی سے رابطہ کرتی ہے۔ اس دوران اس کو کہیں کوئی مسئلہ نہ ہو۔ وہ اس کی بیوی تھی۔ اس کی ذمہ داری اور اگر وہ جان بھی لے کہ عثمان شبیر، عبدالرحمن پاشا کے کہنے پہ یہ سب کر رہے تھے، تب بھی وہ یہ سب نہیں جان سکتی تھی کہ عبدالرحمن پاشا کون تھا؟آخر جان بھی وہ کیسے سکتی تھی؟
عبدالرحمن پاشا اور عبدالرحیم پاشا، یہ دونوں حبیب پاشا کی پہلی بیوی کی اولاد تھے۔
حبیب پاشا ایک درمیانے درجے کے بھارتی بزنس مین تھے۔ وہ کچھ وجوہات کی بنا پر پہلی بیوی اور دو بیٹوں کو چھوڑ کر کئی برس قبل استنبول آ گئے تھے۔ ترکی میں انہوں نے امت اللہ نامی خاتون سے شادی کی اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ان دونوں کا ایک ہی بیٹا تھا۔
طیب حبیب پاشا، المعروف پاشا بے۔
(عربی اور اردو کے وہ نام جن کے آخر میں ب آتا ہے ترک زبان میں وہاں سے ب ہٹا کر پ یا P لگا دیا جاتا ہے۔ وہ عرب کو Arep زینب کو Zeynep اور طیب کو Tayyip لکھتے ہیں۔ مگر ہم اسے طیب ہی لکھیں گے)
بیوک ادا میں امت اللہ کا خاندانی گھر، وہ عثمانی طرز کا سفید محل تھا۔ طیب حبیب ابھی چھوٹا تھا جب حبیب پاشا کا انتقال ہو گیا۔ تب امت اللہ اپنے بیٹے کو لے کر اناطولیہ کے ایک گاؤں چلی گئیں جہاں ان کے رشتے دار رہتے تھے۔ یوں وہ گھر بند ہو گیا۔ کئی برس وہ گھر بند رہا۔ پھر طیب حبیب جوانی کی دہلیز عبور کرتے ہی فکر معاش کی خاطر ادالار (شہزادوں کے جزیرے) پہ آ گیا۔ اس نے وہ گھر کھولا اور پھر ایک شہزادے کی طرح جینے کی خواہش کے ساتھ بیوک ادا رہنے لگا۔
دور اناطولیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بیٹھی اس کی سادہ سی ماں نہیں جانتی تھی کہ وہ ادالار میں کیسے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ امت اللہ نے بہت دفعہ چاہا کہ وہ بیٹے کے پاس بیوک ادا چلی آئیں، مگر طیب حبیب نے ایسا کبھی نہ ہونے دیا۔ اس کی ماں اس کی کمزوری تھی۔ وہ اسے بہت عزیز تھی اور وہ جانتا تھا کہ جس دن اس کی ماں کو معلوم ہوا کہ وہ مافیا کا حصہ بن چکا ہے، اس دن اس کی ماں مر جائے گی۔
* * * *
ترک ڈرگ اور آرم اسمگلنگ مافیا اپنی مثال آپ تھا۔ برطانیہ میں پہنچائی جانے والی اسی فیصد ڈرگز ترکی کے راستے سے ہی آتی تھیں۔ البتہ ادالار کا مافیا برطانوی یا Sicillian طرز کا مافیا نہیں تھا۔ اطالوی مافیا فیمیلز مضبوط اور منظم طریقے سے ایک علاقے میں کام کرتی ہیں۔ لوگ کسی منظم فوج کی طرح درجہ بددرجہ اس میں عہدے پاتے ہیں۔ اس طرح کی مافیا فیمیلز کو ٹریک کرنا اور پکڑنا پولیس کے لیے آسان ہوتا ہے۔ اگر اطالوی یا سسلین فیملی کے کسی ممبر کو کچھ بھی ہو جائے، فیملی وہیں رہتی ہے اور اپنا کام جاری رکھتی ہے۔
ترک مافیا ایسا نہیں تھا۔ وہ روس کے قریب ہونے کے باعث روسی مافیا کی طرح کام کرتے تھے۔ روسی فیملیز ایک علاقے میں اٹھتی تھیں۔ کچھ عرصہ وہاں وارداتیں کرتی تھیں اور غائب ہو جاتیں۔ کچھ عرصے بعد چہروں کے نقاب بدل کر وہ کسی دوسرے علاقے میں اٹھتیں اور یوں ان کا کام جاری رہتا۔ پولیس کا ان پہ ہاتھ ڈالنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ اطالوی مافیا کی طرح وہ قدیم طرز کے جرائم میں نہیں، بلکہ جدید جرائم (جیسے سائبر کرائم، جعلی کمپنیاں، کریڈٹ کارڈ، فراڈز، اسمگلنگ وغیرہ) میں ملوث ہوتی تھیں۔
یونان سے ترکی اور ایران کے راستے ایشیائی ملکوں بالخصوص پاکستان میں بڑے پیمانے پر اسلحہ اسمگل کیا جاتا تھا اور بعد میں یہی اسلحہ دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے متاثرہ ممالک کی ایجنسیوں کے قابل ایجنٹس ان فیملیز میں Panatrates کر کے، ان کا اعتماد جیت کر، ان کی شپ منٹس کی مخبری کیا کرتے تھے۔ کسی کو نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کون سا آدمی اصل مافیا فیملی ممبر ہے یا کسی دوسرے ملک کا جاسوس۔
طیب حبیب نے اپنی مافیا فیملی میں جگہ بنا لینے کے بعد دولت تو بہت کمائی، ساحل کنارے ایک اونچا سا ہوٹل بھی کھڑا کر لیا۔ مگر وہ ان لوگوں میں سے تھا جو بہت زبوں حالی کے بعد لکشمی کو اپنے قریب پاتے ہیں تو اپنا ماضی اور احساس کمتری چھپانے کے لیے کسی جدی پشتی رئیس کا خول چڑھا لیتے ہیں، بلکہ خول چڑھانے کی کوشش ہی کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ فیشن خریدا جا سکتا ہے، مگر اسٹائل نہیں۔ طیب حبیب بھی کوے اور ہنس کے درمیان پھنس کر رہ گیا تھا۔ زندگی کا ایک لمبا عرصہ چھوٹے لوگوں کے ساتھ گزارنے کے باعث ذہنی طور پر وہ آج بھی اسی کلاس میں تھا۔ بھاؤ تاؤ کر کے خریداری کرنے والا، کسی ڈھابے نما ہوٹل کے شیف کے ساتھ بیٹھ کر ملکی حالات پر تبصرہ کرنے والا۔ خود بھی وہ ہوٹل میں اپنے پاور آفس کی بجائے کچن میں پایا جاتا تھا۔ ہوٹل کو اس نے کبھی اپنی مافیا سرگرمیوں کا مرکز نہیں بنایا تھا اور وہاں وہ ایک شریف آدمی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی اسی فطرت کے باعث ورکرز اس سے خاصے بے تکلف تھے۔ یہاں پہ آ کر اس کے مصنوعی خول میں دڑاریں پڑنے لگتی تھیں۔ تب ہی اس نے خود کو پاشا بے کہلوانا شروع کیا کر دیا۔
ترکی میں عموما پہلے نام کے ساتھ پکارا جاتا تھا، جبکہ ادالار میں آخری نام (سر نیم) کے ساتھ ”مسٹر“ کہلوانا خودپسندی اور تکبر کی علامت سمجھا جاتا تھا- مگر طیب حبیب کبھی نہیں جان سکا کہ انسان کا قد اپنے نام یا لقب کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق اور کارکردگی کی وجہ سے بڑا ہوتا ہے۔
طیب حبیب نے اپنی مافیا فیملی میں ایک عرصہ بطور فیملی ممبر کام کیا۔ مگر پھر زیاده پیسے کے لیے جہان کی ایجنسی سے ڈیلنگ شروع کر دی۔ بہت جلد وه ان کے مہرے کے طور پر کام کرنے لگا اور پھر اس نے اپنے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنے ایک ساتھی ایجنٹ کو اپنے سوتیلے بھائی کی حیثیت سے متعارف کروایا۔ عبدالرحمن پاشا جو واقعی اس کے سوتیلے بھائی کا نام تھا- جہان سکندر نے یہ نام استعمال کر کے بہت جلد طیب حبیب کی فیملی میں اپنا مقام بنا لیا- فیملی سے مراد اس کا خاندان نہیں، اس کا مافیا کا گروه تھا- اور چونکہ یہ اطانوی مافیا نہیں تھا اور اس میں man_made اور capo۔ نہیں ہوتے تھے۔ سو اس روسی مافیا میں اپنی جگہ بنانا مشکل ثابت نہیں ہوا-۔ پیسہ اس دنیا کے مسائل حل کرنے کا ریڈی میڈ حل ہوتا ہے، زندگی اور خوشی کے علاوه اس سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔
طیب حبیب اور عبدالرحمن پاشا ایک ڈیل کے تحت بھائیوں کی طرح کام کرنے لگے تھے۔ طیب اسے اپنی ماں سے ملوانے بھی لے گیا تھا۔
اور وه اچھی طرح جانتا تھا کہ ایک ساده لوح عورت کو اپنے نرم رویے اور محبت بھرے انداز سے کیسے موم کرنا ہے۔ امت الله اس کے بارے میں بس اتنا جانتی تھیں کہ وه ان کے بیٹے کا دوست ہے اور اس نے ان کے بیٹے کی جان بچائی ہے جس کے باعث وه اس کی احسان مند تھیں۔ چونکہ وه بیوک ادا میں نہیں رہتی تھیں، اس لیے طیب حبیب کو یہ سب بتانے میں عار محسوس نہیں ہوئی تھی۔ وه سب سے جھوٹ بول سکتا تھا۔ مگر آنے سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا-
حبیب پاشا کے انتقال پہ انکے دونوں بیٹے انڈیا سے یہاں آئے تھے۔ بھلے درمیان میں کتنے برس گزر جائیں، آنے کو ان کی شکلیں اور رنگ اچھی طرح یاد تھا- وه جانتی تھیں کہ وه عبدالرحمن ان کے شوہر کا بیٹا نہیں ہے مگر جب ان کا اپنا بیٹا بضد تھا کہ اپنے دوست کو اپنے بھائی کے طور پر متعارف کروانے میں اس کا فائده ہے تو وه بھی اس کی یہ بات نبھانے کے لیے راضی ہو گئیں۔ ویسے بھی عبدالرحمن ایسا بیٹا تھا جیسا وه طیب حبیب کو بنانا چاہتی تھیں۔ اس کے اقدار، تہذیب، اخلاق، فرض ہر شے آنے کے لیے فخر کا باعث تھی۔
کافی عرصہ ان دونوں نے ایک ساتھ بیوک ادا میں کام کیا- البتہ طیب حبیب یہ نہیں جانتا تھا کہ عبدالرحمن پاشا ٹرپل ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ادالار میں اپنا نام بنانے کے لیے اسے ترک خفیہ ایجنسی کی مدد چاہیۓ تھی۔ تاکہ گرفتاری کی تلوار سر پہ لٹکنا بند ہو جاۓ۔ بدلے میں وه مافیا کی معلومات ترکوں کو دیتا تھا اور اگر اسے ترکوں کی کوئی خبر ملتی تو مافیا تک پہنچا دیتا تھا۔ یوں وه ایک خالص ٹریل ایجنٹ تھا۔ جو صرف اپنی ایجنسی کے ساتھ وفادار تھا- تاش کے پتوں کا گھر اس نے بھت محنت سے کھڑا کیا تھا اور اسے معلوم تھا جس دن یہ پتے ذرا سی پھونک سے الٹے، اس روز وه اپنی جان بچانے کے لیے ترکوں اور مافیا، دونوں سے بھاگ رہا ہو گا۔ مگر پھر، خطرات کے بغیر بھی کوئی زندگی ہوتی ہے؟
اس نے نا محسوس انداز میں طیب حبیب کے ہوٹل گرینڈ میں عمل دخل شروع کر دیا تھا۔ وه طیب حبیب سے برعکس شخصیت کا مالک، ورکرز سے خاص فاصلہ رکھنے والا باس تھا۔ اس کے بیش قیمت سوٹ، وه قیمتی پتھروں والی انگوٹھیاں جو بظاہر سونے کی لگتیں اور گلاسز، ہر شے طیب سے مختلف اور پرفیکٹ ہوا کرتی تھی۔
پاکستان سے اجازت تھی کہ وه چاہے تو یہاں شادی کر سکتا ہے، وطن واپسی پہ اس کو پاکستانی شہریت دی جائے گی۔ مگر وه اس نہج پہ نہیں سوچا کرتا تھا۔
پھر ایک روز طیب حبیب اچانک سے یونان میں گرفتار ہو گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: