Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 53

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 53

–**–**–

اس میں جہان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ہاں وہ طیب کو چھڑانے کے لیے بہت کچھ کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے نہیں کیا۔ اس کے باس نے کہہ دیا کہ وہ خاموشی سے اپنا کام کرے اور طیب کو س کے حال پہ چھوڑ دے۔ اس نے بھی چھوڑ دیا۔ اپنی مرضی اس کام میں وہ نہیں چلا سکتا تھا۔ طیب نے کئی دفعہ اسے پیغام پہنچایا کہ وہ اس کے لیے کچھ کرے۔ مگر اس نے سنی ان سنی کر دی۔
البتہ ایک بات جہان نے اس کی مانی اور وہ یہ تھی کہ اس کی ماں کو کچھ خبر نہ ہو کہ وہ جیل میں ہے۔ اس نے سب کو کہہ دیا کہ وہ خود بھی لاعلم ہے کہ پاشا بے کہاں ہے۔
اس کام میں اس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ آنے کبھی ایسا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ وہ گواہ تھیں کہ عبدالرحمن، پاشا بے سے بہت محبت کرتا ہے اور اس پہ پانی کی طرح پیسہ بہاتا ہے۔ ان کو معلوم تھا کہ ان کے بیٹے کے ہوٹل کو ترقی صرف اور صرف عبدالرحمن کے تجربے و سرمائے کی وجہ سے ملی ہے۔ وہ بھلا کیسے اس پہ شک کر سکتی تھی۔ بس وہ بہت اداس، بہت پریشان رہنے لگی تھیں۔ وہ ان کے لیے دکھی تھا، مگر اسے حکم نہیں تھا کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر پاشا بے کے لیے یونان چلا جائے۔
پهر گردونواح میں ہر جگہ اس نے کہنا شروع کر دیا کہ پاشا بے کام کے باعث یونان منتقل ہو گیا ہے۔ یہ گرفتاری صیغہ راز میں تھی۔ سو اس کی اس بات سے سب مطمئن تھے اور سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا۔
طیب حبیب پاشا کے جانے کے بعد اس نے ہوٹل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ پہلے اس نے ملازمین کو قابو کیا۔لوگ لالچ یا خوف سے ہی قابو ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان سے کام نکلوایا جاتا ہیں جس کو وہ لالچ دے کر وفادار بنا سکتا تھا۔ اس کو ویسے بنایا اور پھر ہر ورکر کی زندگی کے سیاہ اوراق چھانے، تا کہ جب کبھی وہ ٹیڑھ پن کرے، تو وہ اس کی رسی کھینچ سکے۔ اب وہ ہوٹل گرینڈ کا بلا شرکت غیرے مالک تھا اور اس نے ادالار میں بھی اپنی ایک شہرت بنا لی تھی۔
اور پھر، تب آنے کے ساتھ وہ دو لڑکیاں آ گئں۔
وہ امت اللہ حبیب کی رشتے کی پوتیاں تھی۔ ان کے ماں، باپ کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔
وہ گاؤں میں آنے کا واحد رشتہ دار گھرانہ تھا، ماں باپ کی انتقال کے بعد ان کا اکیلے گاؤں میں رہنے کا کوئی جواز نہ تھا تو امت اللہ ان کو ساتھ لے آئیں۔
جہان کو آ ج بھی وہ دن یاد تھا، جب وہ پہلی دفعہ ان لڑکیوں سے ملا تھا۔ آنے نے اس کو فون پہ بتایا تھا کہ وہ ان بچیوں کو ساتھ لا رہیں ہیں۔ وہ اس وقت ہوٹل میں تھا۔ بعد میں جب وہ گھر پہنچا تو بنا شاپ اندر داخل ہوتے ہوئے وہ لاؤ ج میں بیٹھی دو لڑکیوں کو دیکھنے لگا۔ ایک اسکارف لپیٹے بڑی لڑکی تھی اور دوسری گھنگریالی پونی والی چھوٹی بچی۔ وہ بچی پانی پی کر گلاس رکھ رہی تھی۔جب اس نے بڑی لڑکی کو تاسف سے نفی میں سر ہلا کر کہتے سنا۔
بہارے گل! پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یاد ہے ہمارا وہ چوزہ جو اپنی کٹوری سے پانی چونچ میں لینے کے بعد گردن اٹھا کر آسمان کو دیکھ کر پہلے شکر ادا کرتا تھا اور پھر گردن جھکا کر دوسرا گھونٹ پیتا تھا۔
چھوٹی بچی نے اس سے بھی زیادہ تاسف سے پیشانی پہ ہاتھ مارا۔
مگر عائشے گل! وہ تو گردن اس لئے اونچی کرتا تھا کہ پانی اس کے حلق سے نیچے اتر جائے، مجھے بابا نے خود بتایا تھا۔
اسے جیسے اپنی بڑی بہن کی کم علمی پہ افسوس ہو رہا تھا۔
تم نہیں سدھرو گی۔ بڑی لڑکی گلاس اٹھا کر کچن کی طرف چل پڑی۔ وہ جو لابی کے دروازے کی اوٹ میں کھڑا تھا۔ باہر نکل کر سامنے آیا۔ کسی مقیم ایجنٹ کے لیے کور فیملی میں کسی نئے فرد کا اضافہ خوش آئند بات نہیں ہوتی۔ وہ بھی ان کے آنے سے خوش نہیں تھا۔
چھوٹی بچی نے آہٹ پہ چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ پھر بےاختیار اس کے جوتوں کو۔ اس کی بھوری سبز آنکھوں میں حیرت ابھر آئی۔ وہ واقعی گاؤں کی لڑکیاں تھیں۔ جن کو نہیں معلوم تھا کہ استنبول کے ہائی ایلیٹ گھر میں جوتے پہن کر داخل ہوتی ہے۔ مرحبا۔۔۔۔۔۔ کیا تم آنے کے بیٹے ہو۔ اگلے ہی لمحے وہ حیرت بھلائے، اسے دلچسپی سے دیکھتی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
ہوں۔۔۔۔۔۔اور تم۔ وہ گردن ذرا جھکا کر اس نھنی سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔
میں بہارے گل ہوں۔ اناطولیہ کی بہارے گل۔
تمہارا مطلب گل بہار۔ اس نے سوالیہ آبرو اٹھائی۔ ترکی میں کبھی بھی گل اور بہار کو بہارے گل کہہ کر نہیں ملاتے تھے۔ بلکہ گل بہار کا مرکب بنایا جاتا تھا۔
نہیں! میں بہارے گل ہوں۔ یہ ایرانی نام ہے اور اس کا مطلب ہے گلاب کے پھل پہ آئی بہار۔ پتا ہے میرا یہ نام کیوں ہیں۔
کیوں۔
میری آنم (ماں) کا نام آئے گل تھا۔ یعنی چاند کا پھول، میری نانی کا نام غنچے گل تھا اور بہن کا نام عائشے گل ہے۔ یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والا گلاب۔ اس نے بہت سمجھداری سے کسی رٹے رٹائے سبق کی طرح اپنے نام کی وجہ تسمیہ بیان کی جو شاید محض ہم آواز کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔
بہت دلچسپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترکی کے سارے پھول تو آپ کے خاندان میں ہیں۔ تمہارے بابا کا نام کیا ہو گا۔ شاید گوبھی کا پھول۔ وہ ذرا مسکراہٹ دبا کر بولا تو بہارے کی آنکھیں حیرت سے وا ہوئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان میں شرارت کی چمک ابھری اور وہ مسکرائی۔
نہیں! ان کا نام غفران تھا۔
بہارے گل! اسی پل اس کی بہن کچن سے باہر نکلی۔ جلدی سے ناخن کاٹ لو۔ لمبے ناخن بلیوں کے اچھے لگتے ہیں، لڑکیوں کے نہیں۔ پھر اس پہ نگاہ پڑی تو سنجیدگی سے مرحبا کہہ کر آگے نکل گئی۔
بہارے گل نے افسوس سے اپنی بہن کو جاتے ہوئے دیکھا۔ پھر اس کی طرف چہرا کر کے بہت رازداری سے بتایا۔
برا مت ماننا، میری بہن آدھی پاگل ہے۔
اور شاید بہت عرصے بعد وہ بہت زور سے ہنسا تھا۔
اسی دن اس کی اس چھوٹی سی شرارتی اور ذہین سی لڑکی سے ایک وابستگی سی پیدا ہو گئی۔ وہ اس کی ہر بات پہ نہیں ہنستا تھا۔ نہ ہی بہت زیادہ بےتکلف ہوتا تھا۔ مگر اس بچی کو تو جیسے وہ پسند آ گیا تھا۔ وہ اسٹڈی میں بیٹھا کام کر رہا ہے تو وہ دبے پاؤں آ کر اس کے قریب بیٹھ جائے گی۔ صبح وہ ہوٹل جانے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ تو وہ کبھی اس کے جوتے پالش کر کے لا دے گی، تو کبھی گلاس صاف کر کے۔ بعد میں اسے معلوم ہوا کہ وہ کام عائشے کرتی تھی یا ملازمہ، مگر مجال ہے جو بہارے گل نے کبھی کسی اور کو کریڈیٹ لینے دیا ہو۔ وہ اپنی بہن سے بہت مختلف، ذرا باغی طبیعت کی مالک تھی۔
عائشے ایسی نہیں تھی۔ وہ کم بولنے والی، دھیمی اور سنجیدہ مزاج کی، ایک فاصلے پہ رہنے والی لڑکی تھی۔ ان دونوں کی بات چیت ڈائننگ ٹیبل پر ہی ہو پاتی، یا یوں ہی گزرتے ہوئے۔
مگر وہ شروع سے ہی اس کی طرف سے لاشعوری طور پر فکرمند رہنے لگا تھا۔ وہ اسے واقعی طیب حبیب کا سوتیلا بھائی سمجھتی تھی۔ مگر جو بھی تھا وہ اس گھر کی مالکن بن گئی تھی۔ (یہ سفید محل آنے نے عائشے کے نام کر دیا تھا اور اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا) وہ قانونی طور پر آنےاور طیب حبیب کی اصل وارث تھی۔ اگر کبھی وہ ہوٹل کے معالات میں دخل دینے لگے تو وہ کیا کرے گا۔ بیس سال کی لڑکی سے اسے یہ امید نہیں کرنی چاہیے تھی۔ مگر اس کا ماننا تھا کہ انسان کا کچھ پتا نہیں ہوتا اور لوگوں پہ اعتبار تو ویسے بھی نہیں کرتا تھا۔
پھر کچھ عرصہ گزرا تو عائشے کے کانوں میں بھی لوگوں کی باتیں پڑنے لگیں۔ آنے تو عبادت میں مشغول رہنے والی، ایک بہت ہی غیر سوشل خاتون تھیں۔ ان کی طرف سے اس کو فکر نہیں تھی۔ مگر جب عائشے الجھی الجھی رہنے لگی اور ایک دن صبح اس نے جہان کو کہا کہ شام میں وہ اس سے بات کرنا چاہتی ہے تو وہ اچھا کہہ کر باہر نکل گیا۔ مگر اندر سے وہ ذرا پریشان ہو گیا تھا۔
تاش کے پتوں کا گھر بکیھرنے کے لیے آنے والا جھونکا عموما وہاں سے آتا ہے جہاں سے کبھی امید بھی نہیں کی جا سکتی۔ اب اسے اس لڑکی کو اچھے سے سنبھالنا تھا، تاکہ وہ اس کے لیےکوئی مسئلہ نہ پیدا کرے۔
انسانوں کو قابو ان کی کمزوریوں سے کیا جاتا ہے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کے معاملے میں دخل نہ دے تو آپ کو نامحسوس طریقے سے اس شخص کو اس کے اپنے معاملات میں الجھانا و مصروف کرنا پڑتا ہے۔ عائشے کی کمزوری اس کا دین تھا۔ وہ بہت مذہبی اور Practising قسم کی مسلمان تھی۔ اسے یاد تھا کہ ایک روز وہ سوتی رہ گئی اور اس کی فجر چھوٹ گئی تو وہ پچھلے باغیچے میں بیٹھ کر کتنا روئی تھی۔ سو اس شام جب وہ اس سے بات کرنے آئی تو وہ اسٹڈی میں قرآن کھولے بیٹھا تھا۔
قرآن پڑھنے کا جو وقت اسے جیل میں ملا تھا، پھر دوبارہ کبھی نہیں مل سکا تھا۔ اب بس کبھی کبھی وہ قران پڑھ پاتا تھا۔ اب بھی عائشے آئی تو جہان نے اس کی سننے سے پہلے اپنی کہنی شروع کر دی۔ وہ جانتا تھا کہ عائشے کے نزدیک اسکارف لینا زندگی اور موت کا مسئلہ تھا اور بہارے گل اس چیز سے سخت بےزار تھی۔ اس نے سورہ الاحزاب کھولی اور اس سے پوچھنے لگا کہ کیا وہ جانتی ہے سورہ الاحزاب میں آیت حجاب کیوں اتری ہے۔ اور یہ کہ یہ بھی ایک پہیلی ہے۔ ویسےتو سورہ نور میں بھی آیت خمار ہے، مگر اصل آیت حجاب سورہ الاحزاب میں ہے۔ کیا وہ یہ پہیلی حل کر سکتی ہے۔ یہ بات بہت پہلے اس نے کسی سکالر سے سنی تھی۔ البتہ اس نے اسکالر کا پورا لیکچر نہیں سنا تھا۔ اس لیے وہ خود نہیں جانتا تھا کہ ان دونوں چیزوں میں کیا تشبیہہ ہے۔
مگر عائشے اپنا مسئلہ بھول کر اسی بات میں اٹک گئی۔
اس کے بعد جہان نے اسے اپنے خلاف پھیلی خبروں کو دشمنوں کی پھیلائی ہوئی افواہ سمجھ کر نظرانداز کرنے پر بہت اچھے سے قائل کر لیا۔ عائشے جب اس کے پاس سے اٹھ کر گئی تو اس کا ذہن شکوک و شبہات سے خالی تھا، اور وہ صرف سورہ الاحزاب کی پہیلی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
پھر وہ روز صبح پچھلے باغیچے میں قرآن اور ایک کاپی لے کر بیٹھ جاتی اور قلم سے اس کاپی پر خدا جانے کیا، کیا لکھتی رہتی۔
ایک دن آخر اس نے جہان کو وہ پہیلی بھی اپنےطور پر حل کر کے بتا دی۔ اب وہ اسے دوبارہ کیسے مصروف کرے۔ خیر،اس نے حل نکال لیا۔ عثمان شبیر کی بیوی حلیمہ جدیسی کے بچوں کو قرآن پڑھایا کرتی تھیں، اس نے عائشے کو وہاں بھیج دیا اور وہ تو جیسے اپنے سے لوگ ڈھونڈ رہی تھی، وہ روز صبح ادھر جانے لگی۔ (بہارے نے البتہ جانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔)
عائشے کو مصروف کرنے کے لیے اس نے یہ بھی چاہا کہ وہ کالج میں داخلہ لے لے۔ مگر گاؤں چھوڑنے کی وجہ سے ان دونوں کا تعلیمی سال ضائع ہو گیا تھا۔ سو وہ دونوں مصر تھیں کہ اگلے سال داخلہ لیں گی۔
پھر ایک روز اس نے بہارے کے پاس چائنیز پزل باکس دیکھا تو بہارے نے اسے بتایا کہ یہ فن عائشے کو کسی چینی بوڑھے نے سکھایا تھا۔ یہ بات بہت حوصلہ افزا تھی۔ اس نے عائشے کو سمجھایا کہ اسے یہ باکسز دوبارہ سے بنا کر بیچنے چاہیے اس مقصد کے لیے کافی دقتوں سے اس نے عائشے کے لیے بیوک ادا کے جنگلوں میں لکڑی کاٹنے کا پرمٹ بنوا دیا تھا۔ بالآخر وہ دونوں لڑکیاں اپنے اپنے کاموں میں اتنی مصروف ہو گئی تھیں کہ ان کے پاس عبدالرحمن پاشا کے معاملات میں مداخلت کا وقت نہیں رہا تھا۔ عائشے تو جیسے اب اس پہ شک نہیں کر سکتی تھی۔ جو شخص قرآن کو اتنی گہرائی سے پڑھتا ہو، وہ بھلا برا آدمی کیسے ہو سکتا تھا۔
چند روز مزید آگے سرکے۔ ہر کام نپٹاتے ہوئے اس کے لاشعور میں دنوں کی گنتی جاری تھی۔
پانچ فروری، یعنی اس کی بیوی کے آنے میں کتنے دن تھے۔ دس، نو، آٹھ
‏پھر اسے یہ احساس ہونے لگا کہ وہ اس کے بارے میں فکرمند بھی رہنے لگا ہے۔ ہاں ٹھیک ہے، اتنا خیال تو اسے استنبول میں مقیم اپنی سگی ماں کا بھی تھا کہ وہ ان کے متعلق باخبر رہا کرتا اور بار بار ان کے بارے میں پتا کرتا رہتا تھا۔ اب اس کی بیوی کا بھی حق تھا کہ وہ اس کا خیال رکھے۔ پاکستان میں ایک طرح سے وہ فارغ تھا۔ وہاں ہر وقت گرفتاری کا خدشہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن استنبول میں وہ اپنی بیوی کی ہر موو پر نظر نہیں رکھ سکتا تھا۔ مگر رکھنا ضرور چاہتا تھا۔ کوئی ایسا آدمی جو قابل اعتبار ہو۔ جو اس کی نگرانی کر سکے۔
ہاشم الحسان کا نام سب سے پہلے اس کے ذہن میں آیا تھا۔ ہاشم اس سے پہلے بھی اس کے کئی ایسے کام کر چکا تھا۔
جہان نے فورا اس سے رابطہ کرنا چاہا تو اس کی بیوی نے بتایا کہ وہ دبئی گیا ہوا ہے۔ ہاشم چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث رہنے اور استنبول میں جیل ریکارڈ رکھنے کے باعث یہاں کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں کر سکتا تھا۔ پتا نہیں دبئی میں اس کا کون بیٹھا تھا، مگر وہ ادھر چلا گیا تھا۔ البتہ وہاں بھی اس کی کوئی خاص کمائی نہیں ہو رہی تھی۔ شاید اس کا بچہ بیمار تھا اور اس کو کافی رقم کی ضرورت تھی۔ جہان نے اسے بلوا لیا۔ مگر ہشام نے ابو ظہبی سے اسی فلائٹ پہ آنے کا کہا یہ وہی فلائٹ جو حیا اور اس کی دوست کو لینی تھی۔
وہ چاہتا تھا کہ ہاشم ایئر پورٹ پر اسے سفید پھولوں کا گلدستہ پہنچا سکے۔ یہ اس لیے تھا تا کہ حیا ان سفید پھولوں کو بھیجنے والے کو نہ بھولے۔ مگر یہ نہ ہو سکا۔
ہاشم نے واپس آ کر اسے بتایا کہ جب وہ فون پہ بات کر رہا تھا تو وہ لڑکی اس کے پاس کارڈ ڈالنے کا طریقہ پوچھنے آئی تھی۔ ایسے میں وہی اس کو چند منٹ بعد پھول لا کر دے، یہ ٹھیک نہیں تھا۔ ہاشم کی بات سن کر جہان ایک گہری سانس لے کر خاموش ہو گیا تھا۔
زندگی میں ہر چیز پھر اپنی پلاننگ سے تو نہیں ہوتی نا!پانچ فروری کو حیا نے آنا تھا، اور اسی صبح ایک سرپرائز اس کے آفس میں اس کا منتظر تھا۔
طیب حبیب پاشا!
وہ واپس آ گیا تھا۔
جانے وہ کیسے فرار ہو کر واپس پہنچا تھا۔ مگر وہ بہت برے حال میں تھا۔ استنبول میں اس کے دشمن بڑھ گئے تھے اور وہ ان سے بچنے کے چکر میں بالکل کسی مفرور مجرم کی طرح خانہ بدوشی کی زندگی گزار رہا تھا۔ وہ جہان سے سخت بدگمان بھی تھا کہ اس نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔ پاشا بے بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ جہان نے اسے دھوکا دیا ہے۔ (وہ اس کی دوسری شناخت سے بھی واقف تھا۔ کیونکہ برگر کنگ اس کا ریسٹورنٹ تھا۔ جہاں حالات خراب ہونے کی صورت میں جہان چلا جایا کرتا تھا۔) اب اس کا اصرار تھا کہ جہان اور اس کی ایجنسی اپنا وعدہ پورا کرے اور اس کو اپنے خاندان سمیٹ کسی دوسرے ملک سیٹل کروا دے۔ جہان جانتا تھا کہ ایجنسی یہ کروا دے گی۔ مگر پھر بھی وہ چاہتے تھے کہ پاشا بے ذراا صبر کرے۔ مگر پاشا بے کو بہت سا پیسہ اور نئی زندگی بہت جلدی چاہئے تھی۔
وہ بہت لڑ جھگڑ کر وہاں سے گیا تو وہ فیری لے کر استنبول آ گیا۔ برگر کنگ اور ہوٹل گرینڈ یہ دو واحد جگہیں تھیں جہاں پاشا بے اس سے ملنے آ سکتا تھا اور ایسے جھگڑے کو وہ برگر کنگ پہ کرنے کا متحمل تھا، مگر ہوٹل گرینڈ پہ نہیں۔
ممی سے وہ آج ملا تھا۔ وہ اس کے آنے پہ حسب توقع بہت خوش تھیں مگر زیادہ خوشی اپنی بھتیجی کے آنے کی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ کل یا پرسوں وہ ہوسٹل جا کر حیا سے مل آئیں۔ پتا نہیں وہ ادھر خود آۓ یا نہیں۔
اس نے کہہ دیا کہ وہ نہیں جاۓ گا۔ اس کا ذاتی خیال تھا کہ سلمان ماموں کی بیٹی اتنی جلدی خود تو ان سے ملنے نہیں آۓ گی۔ مگر اگلے دن جب وہ کچن میں کھڑا ممی کا کیبنٹ جوڑ رہا تھا تو اس کا فون بجا۔
جہان نے فون نکال کر دیکھا۔ یہ اس کا جی پی ایس ٹریسر تھا جو اگر اس کی حدود میں آتا تو بجنے لگتا۔
یعنی اگر اس سے ایک فاصلے تک وہ آۓ گی تو ٹریسر جہان کو اطلاع دے دے گا۔ یہ اس نے اس لئے کر رکھا تھا کہ اگر کبھی وہ کسی خاص مہمان کے ساتھ کسی جگہ موجود ہے اور اسی جگہ اتفاقیہ یا غیر اتفاقیہ طور پہ حیا آجاۓ، تو وہ بر وقت اطلاع پا لے۔
اس وقت اس کا ٹریسر بتا رہا تھا کہ وہ اس کے قریب ہی ہے اور جس سڑک پہ وہ ہے، وہ جہانگیر کو ہی آتی ہے۔
وہ دوسرے ہی دن اس کے گھر آ رہی تھی؟
ویری اسٹرینج!
اس نے ممی کو کچھ نہیں بتایا۔ مگر اپنے گھر سفید پھول ضرور منگوا لیے۔ وہ اسے ذرا ستانا چاہتا تھا۔ جس لڑکی کے لیے وہ اتنا عرصہ خوار ہوا تھا۔ اسے تھوڑا سا خوار کرنے میں کیا حرج تھا۔ چلو دیکھتے ہیں کہ وہ کیسا ردعمل دیتی ہے!
گھنٹی ہوئی تو اس نے خود جا کر دروازہ کھولا۔ پہلی دفعہ وہ س سے بطور جان سکندر کے مل رہا تھا۔ وہ آج بھی سیاہ رنگ میں ملبوس تھی۔ (اس رات کی طرح جب وہ ان کے گھر گیا تھا)، ذرا نروس، انگلیاں چٹخاتی ہوئی، اس کے جوتوں کا رخ سارا وقت دروازے کی سمت ہی رہا، جیسے وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی ہو۔ جیسے وہ اپنی مرضی کے بغیر اچانک وہاں آئی ہو۔
وہ اس سے اسی خشک طریقے سے ملا جیسے وہ اپنے ماموں کی بیٹی سے مل سکتا تھا، جیسے اسے ملنا چاہیے تھا۔ پھر بھی اسے امید تھی کہ اس کے “کون حیا سلیمان” کہنے کے جواب میں وہ شاید کہہ دے، تمہاری بیوی اور کون۔ مگر وہ بہت نروس اور الجھی الجھی لگ رہی تھی۔ وہ جہان سے اتنی مختلف تھی کہ وہ پھر سے بد دل ہونے لگا۔ پتا نہیں کیا بنے گا ہمارا؟؟؟؟؟؟؟؟
* * * *
ممی اس سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ ہونا بھی چاہیے تھا، مگر سارا ماحول تب بدلا جب وہ اسی اپنے باپ اور تایا والی طنزیہ ٹون میں ان کو احساس دلانے لگی کہ وہ رشتے داروں کے ساتھ بنا کر نہیں رکھتے۔ وہ بظاہر کام کرتے ہوئے سب سن رہا تھا۔ غصہ آیا اور افسوس بھی ہوا، اگر ممی سامنے نہ ہوتیں تو پھر اسے بتاتا کہ کس نے کس سے رشتہ توڑا تھا۔
پھر اس لڑکی نے ابا کے آرمی سے تعلق کا پوچھا۔ یا تو وہ نہیں جانتی تھی، یا پھر طنز کرنے کا کوئی اور بہانہ۔ اس کے اندر مزید تلخی بھرتی گئی۔ وہ شاید واقعی یہ رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ پہلے اس کا ارادہ محض پھول بھیجنے کا تھا، مگر اس ساری تلخ گفتگو کے بعد جب وہ پھول لینے گیا تو داخلی دروازے کے اندر کی طرف رکھے اسٹینڈ سے قلم کاغذ اٹھایا، اور موٹے گتے کے گروسری لکھنے کے پیڈ پہ ویلنٹائن کا پیغام لکھ کر اندر ڈال دیا۔ یہ اس کا طریقہ تھا بدلہ لینے کا۔ اور وہ بھی جیسے وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔ ایک منٹ نہیں رکی۔ کھانا بھی ادھورا چھوڑ دیا اور چلی گئی۔ اپنے کمرے کی کھڑکی سے وہ اسے اس وقت تک جاتے دیکھتا رہا جب تک کے وہ سڑک پہ دور نہ چلی گئی۔
بعد میں ممی بہت خفا ہوئیں۔ وہ اپنے بیٹے اور اس کے انداز کو بہت اچھی طرح پہچانتی تھیں۔ مگر وہ ان کی سرزنش اور ساری خفگی کو سنی ان سنی کر گیا۔ اسے لگا اسے سلیمان ماموں کی بیٹی کے ساتھ یہی کرنا چاہیے تھا، لیکن پھر بعد میں اسے پتا نہیں کیوں افسوس ہونے لگا۔ اس میں اضافہ تب ہوا جب ممی نے فاطمہ مامی سے فون پہ بات کی تو انہوں نے بتایا کہ حیا کو اس کی دوست اچانک ہی وہاں لے گئی تھی۔ اس وقت جلدی میں تھی۔ بعد میں تسلی سے اس ہفتے کسی دن آۓ گی، تحائف وغیرہ اسی لیے نہیں لا سکی۔ سو وہ مغرور لڑکی اپنی مرضی سے واقعی نہیں آئی تھی۔ خیر، اب کیا ہو سکتا تھا؟
وہ آج کل استقلال اسٹریٹ میں ہی ہوتا تھا۔ یہ گلی مافیا راج کے لیے خاصی مشہور تھی۔ چھوٹے چھوٹے بھکاری بچے ج بھیک مانگنے کے بہانے سیاحوں کے قریب آتے اور پرس جھٹ کر بھاگ جاتے۔ ان بچوں سے لے کر ڈرگز بیچنے والوں تک، سب آرگنائزڈ کرائم کا حصہ تھے۔ برگر کنگ طیب حبیب کا تھا۔ مگر اس کا انتظام بھی جہان ہی سنبھالتا تھا۔ جب اسے Deactivate (غیرفعال) ہونا پڑتا وہ یہیں آ کر چھپ جاتا۔ آ کر چھپ جاتا۔ کچن میں کھڑے ہو کر عام سے حلیے میں سارا دن چند ورکرز کے ساتھ کام کرتے ہوئے یہ اندیشہ کبھی نہ تھا کہ کوئی ادلار کا بندہ اسے وہاں آ کر اسے پہچان لے گا۔ استنبول بہت بڑا شہر تھا
اتنا پڑا کہ انسان اس میں گم ہو جائے۔ سو یہ تاش کے پتوں کے سارے گھر بہت اچھے سے چل رہے تھے اور اس کا ارادہ اس دفعہ حیا کے اپنے گھر آنے پہ اس سے ملنے کا تھا تاکہ وہ ذرا تمیز سے بات کر کے آپنے پچھلے رویے کی معذرت کر لے۔ مگر اس سے پہلے پاکستان سے کال آ گئی۔
پاکستان کی کال تو حکم کا درجہ رکھتی تھی۔ ایسا حکم جس پہ آنکھیں بند کر کے عمل کرنا ہوتا۔ چاہے آپ مر بھی رہے ہیں، آرڈر، آرڈر ہوتا تھا۔ اب اسے کہا گیا تھا کہ اسے دو دن کے لیے اسلام آباد آنا تھا۔ ویک اینڈ تک وہ واپس آ جائے گا۔ کوئی اہم بریفینگ تھی۔ اب جس طرح بھی آئے، فورا آئے۔
اس سہ پہر اس نے آپنا ٹریسر چیک کیا تو حیا ٹاقسم کے قریب ہی تھی۔ گورسل بس اسے ٹاقسم ہی اتارتی تھی۔ وہ گورسل کا سارا شیڈول نیٹ سے دیکھ کر حفظ کر چکا تھا۔ یعنی ابھی وہ ٹاقسم پر اترے گی۔ اگر وہ وہیں اس سے مل لےاور ویک اینڈ پہ گھر آنے کا کہہ دے تو وہ اس کی موجودگی میں ہی آئے گی۔ اگر غیر موجودگی میں آتی تو ابا کا کچھ بھروسہ نہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ وہ پاکستان جاتا ہے اور وہ ادالار بھی جاتا تو بھی ان کی زبان پہ اس کے لیے محض گالیاں اور لعنتیں ہی ہوتیں کہ وہ پاکستان کیوں جاتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہہ حیا ایسی کوئی بات سنے۔
اس لیے اس برستی بارش میں وہ اس کے لیے ٹاقسم آیا تھا۔ اور چونکہ اس سے مل کر وہ فیری لے کر ادلار چلا جائے گا۔ تب ہی اس نے اپنا بریف کیس بھی ساتھ رکھ لیا تھا۔ اس وقت وہ مکمل ایگزیکٹو لگ رہا تھا، اور ابھی وہ حیا کو اپنا یہی کور بتانا چاہ رہا تھا، کہ وہ بیوک ادا کے ایک ہوٹل میں کام کرتا ہے۔ برگر کنگ والی بات اسے نہیں بتائے گا، اس نے طے کر رکھا تھا۔
وہ جب میٹرو کی سیڑھیوں پہ تھی تو جہان نے اسے دور سے لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا۔ تب اس نے اس کی ایک تصویر کھینچی تھی۔ کبھی بعد میں وہ اسے یہ تصویر دیکھائے گا کہ ہاں وہ اس وقت بھی اس کے ساتھ تھا جب اس کی جوتی ٹوٹی تھی۔ وہ اسے پسند کرے یا نہ کرے، وہ اس کے ساتھ تھا۔
اندر ٹرین میں وہ اتفاقیہ طور پر اس سے ملا اور پہلی بات اس نے حیا کو ویک اینڈ پہ گھر آنے کو کہی، وہ اس کے اس رویے پہ حیران تھی۔ (وہ خود بھی حیران تھا!)۔ البتہ اس سارے میں ایک چیز اسے مسلسل ڈسٹرب کر رہی تھی کہ میٹرو میں کچھ لوگ مڑمڑ کر اس کی بیوی کو دیکھ رہے تھے۔ بات سرخ کوٹ کی نہیں تھی۔ بلکہ بات گہری سرخ لپ اسٹک کی تھی۔ مگر شاید وہ نہیں جانتی تھی کہ اکیلی لڑکی جمع سرخ کوٹ جمع گہرا میک اپ برابر ہیں کس کے استنبول میں!
اور سرخ ہیل بھی تو تھی۔ وہ ٹوٹے ہوئے جوتے کے ساتھ بیٹھی رہے، اور ایسے ہی چل کر مارکیٹ تک جائے تو پھر لعنت ہے جہان سکندر پر-ساری باتیں ایک طرف، وہ ننگے پاؤں پورے استنبول میں پیدل چل سکتا تھا مگر حیا نہیں۔ اس نے فورا سے اپنے جوتے اتار دیے۔ وہ پہلے سے زیادہ حیران تھی۔ (اب کی بار وہ حیران نہیں تھا-ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔)
ریسٹورنٹ میں اس نے یوں ہی مزاقا اس کے کوٹ کا حوالہ دیا تاکہ وہ واپس جا کہ کسی سے اس بات کا مطلب پوچھے اور آئندہ اس طرح کا پہن کر باہر نہ نکلے۔
مگر ساری گڑبڑ تب ہوئی جب کافی کا کپ لبوں تک لے کر جاتے ہوئے اس نے حیا کو عبدالرحمن پاشا کے بارے میں استفسار کرتے سنا۔ کافی کے بھاپ نے لمحے بھر کو اس کے چہرے کو ڈھانپ لیا تھا گو کہ وہ ایک سیکنڈ میں ہی سنبھل گیا تھا۔ مگر وہ سیکنڈ بہت بھاری تھا۔ اگر اس وقت وہ اس کا چہرا دیکھ لیتی تو ایک پل نہ لگتا اسے جاننے میں کہ اس کے سامنے بیٹھا گدھا ہی عبدالرحمن تھا۔ گدھا ہی تو تھا کہ وہ جان ہی نہ پایا کہ اس کی بیوی اس کے کور سے واقف ہے!
وہ مگر کیسے جانتی تھی؟
اس نے بالخصوص اس سے ہی عبدالرحمن پاشا کا کیوں پوچھا؟
وہ اندر تک گڑبڑا گیا اور بات کو ادھر ادھر گھماتے ہوئے شاید لمحے بھر کو وہ ذہنی طور پہ اتنا الجھ گیا تھا کہ بل کی فائل میں اپنا کریڈیٹ کارڈ رکھتے ہوئے یہ خیال نہ کر سکا کہ اس پہ عبدالرحمن پاشا لکھا ہے۔
یہ خیال اسے تب آیا جب اس نے حیا کو غصے سے اپنے ملک کی حمایت کرتے ہوئے فائل کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھا- اللہ للہ، آج کا دن ہی خراب تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: