Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 54

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 54

–**–**–

اسی وقت قریب سے دو ویٹرز ایک ساتھ گزر رہے تھے۔ میزوں کے میز پوش زمین تک گرتے تھے۔ ایسے میں جب اس نے اپنے بریف کیس کے ساتھ رکھی چھتری کو راستے پہ ذرا سا سرکایا، تو اس کی یہ حرکت نہ حیا نے دیکھی، نہ ہی سزلر پلیٹر ‏Sizzler platters‏ اٹھائے ویٹر نے اور نتیجتا سب کچھ الٹ گیا۔ اس سارے میس میں حیا کو بل والی بات بھول چکی تھی۔ اس نے بہت آرام سے کریڈٹ کارڈ نکال کر کرنسی نوٹ رکھ دیے۔ ہاں مگر حیا کا ہاتھ جلا تھا، اور پتا نہیں کیوں تکلیف اسے ہوئی تھی۔ لیکن وہ اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔
اور پتا نہیں وہ اس کے بارے میں کتنا جانتی تھی؟ کہیں وہ اس کے ساتھ کوئی گیم تو نہیں کھیل رہی تھی؟ اس دنیا میں کچھ بھی ممکن تھا۔
یہی جاننے کے لیے اس نے واپسی پہ حیا سے کہا کہ وہ کیچڑ ٹھیک سے گھٹنے پہ لگائے، کیونکہ اس کی کور اسٹوری میں جھول ہے۔ اس نے کور اسٹوری کے الفاظ کہتے ہوئے بغور حیا کا چہرہ دیکھا کیونکہ کور اسٹوریز جاسوس ہی بنایا کرتے ہیں، اور اگر وہ کچھ جانتی تھی تو اس بات پہ ضرور چونکتی، مگر وہ نہیں چونکی۔
اسے ذرا اطمینان ہوا۔ وہ اتنا مشہور نہیں تھا کہ باہر سے آنے والا کوئی سیاح پہلے ہی روز اسے جان لے، مگر شاید اس نے کسی ایسے شخص سے عبدالرحمن پاشا کا ذکر سنا ہو جو اس کو ذاتی طور پہ جانتا ہو۔ پہرحال پہلے اس نے سوچا تھا کہ وہ اسے کہے گا کہ وہ ادالار میں کام کرتا ہے۔ مگر اب یہ خطرے والی بات تھی۔ سو اس نے دوسرا کور ڈھونڈا۔
وہ بے چارا تو استقلال اسٹریٹ کا ایک معمولی سا ریسٹورنٹ اونر تھا۔ حیا نے یقین کر لیا-
* * * *
پاکستان جانے سے قبل وہ ممی سے کہہ کر گیا تھا کہ اگر وہ اس کی غیر موجودگی میں آ جاتی ہے تو وہ اسے ابا سے ملنے مت دیں۔ وہ بہت تاکید کر کے گیا تھا۔ پھر پاکستان جا کر وہ ذرا مصروف ہو گیا اور یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ارم کے پاس جا سکے، مگر وہ ”ڈولی“ کو ارم کے پاس بھیجنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے ایک پروفیشنل کو اس کام کے لیے بھیجا تھا۔ اسے معلوم تھا ارم، ضرور فون کر کے حیا کو بتائے گی۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ حیا اسے نہ بھولے۔ کہیں دور اندر اس کو یہ ان سکیورٹی تھی کہ وہ اسے بھول جائے گی اس خیال کے بعد دل جیسے خالی ہو جاتا تھا۔
ویک اینڈ پہ وہ واپس آ گیا۔ ابھی ایئرپورٹ کے راستے میں تھا، پرانے شہر میں، جب حیا کا اس کو فون آ گیا۔ وہ ان کے گھر آ رہی تھی۔ وہ پتا نہیں کیوں ذرا مسرور ہوا۔ اسے اچھا لگ رہا تھا کہ وہ ان کے گھر آ رہی تھی۔ لیکن جب تک وہ پہنچا، وہاں ایک ناخوشگوار واقعہ رونما ہو چکا تھا۔ کتنی ہی دفعہ وہ کہہ کر گیا تھا کہ ابا کو اس سے ملنے مت دینا، مگر ممی بھی تو اس بات پہ دھیان نہیں دیتی تھیں۔ اسے سخت غصہ اور افسوس ہوا تھا۔ پتا نہیں ابا نے کیا، کیا کہہ دیا ہو گا۔ وہ اکثر پاک اسپائی کا ذکر کرتے جس کو انہوں نے مارا تھا۔ ممی ان کی ان باتوں کو پاگل پن پہ محمول کرتیں۔ البتہ وہ ان کا پس منظر جانتا تھا۔ اس لیے اس کو تکلیف ہوتی۔ البتہ کوئی دوسرا ان کی باتوں سے کھٹک بھی سکتا تھا۔
حیا شاید ابا کے بارے میں نہیں جانتی تھی ہاں، ماموؤں نے اس بات کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ہو گی سو اس نے گھر کی بیرونی سیڑھیوں پہ بیٹھے ہوئے حیا کو ابا کے بارے میں بہت کچھ بتا دیا، اور یہ بھی کہ ”ہم پاکستان نہیں جا سکتے۔“ بات ٹھیک بھی تھی، وہ، ممی اور ابا اکٹھے پاکستان کبھی نہیں جا سکتے تھے، مگر وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے الفاظ کی پہیلیاں نہیں پکڑ سکتی۔
مگر اس واقعے نے اس کا سارا موڈ برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ پھر بھی وہ جاتے ہوئے حیا سے کہہ کر گیا تھا کہوہ کھانا ضرور کھا کر جاۓ۔ پچھلی بار بھی وہ نہیں کھا کر گئی تھی وہ اس کا مداوا کرنا چاہتا تھا۔
حیا کو وہیں چھوڑ کر وہ ادالار چلا آیا۔ ہوٹل جانے کی بجائے وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تا کہ ذرا حلیہ ٹھیک کر کے باہر نکلے۔ تب ہی عائشے نے دروازہ کھٹکٹایا۔ وہ اس سے کچھ بات کرنا چاہتی تھی۔
‏ جب وہ بولنا شروع ہوئی تو اس کی خوش گمانی کہ اس نے عائشے کو اپنے کاموں میں مصروف کر دیا ہے ہوا میں اڑ گئی۔ یہ لڑکی واقعتا اس کے لیے مصیبت کھڑی کرنا چاہتی تھی۔
کیا پاشا بے تمہارا کا تم سے کوئی رابطہ ہے؟
میں نے تو پچھلے برس سے اسے نہیں دیکھا۔ اس نے شانے اچکا کر لاپروائی سے کہا۔
وہ چند لمحے تک لب بھینچے اسے دیکھتی رہی،پھر ایک دم زور سے اس کے منہ پہ تھپڑ مارا۔ اسے عائشے سے یہ امید کبھی نہیں تھی۔ لمحے بھر کو وہ خود بھی سناٹے میں رہ گیا۔
115 kubra
تم دنیا کے سب سے بڑے جهوٹے ہو۔ تم نے خود اس کو نکالا ہے۔ مجهے کبری خانم کے بیٹے نے بتایا ہے کہ کچھ دن پہلے وہ تمہارے آفس میں آیا تها اور تم دونوں جھگڑ رہے تهے۔ تم جانتے ہو اس کی وجہ سے آنے کتنی تکلیف میں ہیں اور تم پهر بهی ان کو دکھ دے رہے ہو۔ ان کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ پاشا بے زنده ہے، وہ ٹهیک ہے۔ تم سچ کیوں نہیں بولتے۔ وہ بهیگی آنکهوں سے کہتی، اپنا سرخ پڑتا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے دبا بهی رہی تهی۔ اس کا اپنا ہاتهہ بهی بہت دکھ گیا تها، اور وہ جیسے یہ سب کر کے ذرا خوفزدہ بهی ہو گئی تهی۔
مجهے تمہاری کسی بات کا اعتار نہیں رہا اب۔ تم ہماری زندگیوں سے دور کیوں نہیں چلے جاتے۔ اور تم کسی دن سارا مال سمیٹ کر دور چلے بھی جاؤ گے، میں جانتی ہوں۔ اور پهر کیا ہو گا۔ آنے، وہ کتنا ہرٹ ہوں گی۔ اور میری بہن! اس کی آواز میں دکھ کی جگہ غصے نے لے لی۔
میری بہن سے بے تکلف مت ہوا کرو۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ تمہاری وجہ سے ہرٹ ہو۔ سنا تم نے! وہ سرخ ہاتھ کی انگشت شہادت اٹها کر تنبیہ کرتے ہوئے بولی تهی۔
جہان نے اسی کے انداز میں ہاتھ اٹها کر دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
نکل جاؤ اس کمرے سے۔ ابهی اسی وقت نکل جاؤ۔ میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔
وہ مزید کوئی الفاظ کہے بنا گیلے چہرے کے ساتھ بهاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے جانے کے بعد جہان نے ہاتھ سے اپنے دخسار کو چهوا۔
کیا یہ صلہ ہوتا ہے قربانیوں کا۔ ساری زندگی غارت کر دو اور بدلے میں کیا ملے؟ گالیاں؟ تهپڑ؟ لعنت ملامت؟
مگر نہیں، انسان تو کبھی کسی چیز کا صلہ نہیں دیا کرتے، پهر ان کے رویے کا افسوس کیا کرنا۔
رات کهانے کے بعد وہ بہت سوچ کر عائشے کے پاس پچهلے باغیچے میں آیا۔ وه اپنی ورک ٹیبل پہ کام کر رہی تهی، اسے بس نظر اٹها کر دیکها اور خاموشی سے کام کرنے لگی۔
وہ اسے مزید جهوٹ بول کر نہیں رام کر سکتا تها۔ سو اس نے سچ کی ذرا سی ملاوٹ کر کے اسے بتایا کہ وہ دراصل ترک انٹیلی جنس کے لیے کام کرتا ہے، اس کی اور پاشا بے کی یہی ڈیل تهی، اسی لیے وہ ساتھ کام کرتے ہیں، مگر پاشا بے گرفتار ہو گیا تها اور اگر آنے کو یہ بتایا جاتا تو وه بہت زیاده ہرٹ ہوتیں۔ ہاں وہ پاشا بے سے اس دن جهگڑا ضرور تها مگر صرف اس لیے کہ وہ چاہتا تها کہ طبیب حبیب پاشا آنے سے آ کر مل لے، مگر پاشا اپنی مجبوریوں کا رونا روۓ جا رہا تها جن کی وجہ سے وہ آنے سے نہیں مل سکتا۔
کون سی مجبوریاں۔ اگر وہ جیل سے رہا ہو گیا ہے، تو وہ یہاں کیوں نہیں آتا۔ وہ متذبذب سی پوچھ رہی تهی۔
دیکھو! وہ رہا نہیں ہوا، وہ مفرور ہے، اب وہ انڈر گراؤنڈ ہے، اس طرح آزادی سے نہیں گهوم پهر سکتا۔ مگر بہت جلد وہ واپس آ جاۓ گا، لیکن یہ جیل والی بات وعده کرو، تم کسی کو نہیں بتاؤ گی۔ اس کے سنجیدگی سے کہنے پہ عائشے نے وعده کر لیا اور معذرت بهی کر لی۔ مگر اس نے عائشے کی معذرت قبول نہیں کی۔
آخر اس نے بہت سختی سے کہا کہ ”مجهے تمہارے رویے سے دکھ پہنچا ہے۔ میں اپنا کام ختم کر کے تمہارے خاندان کا سارہ پیسہ تمہیں لوٹا کر یہاں سے چلا جاؤں گا اور تم یا تمہاری بہن سے بے تکلف نہیں ہوں گا، لیکن تمہاری اس بدتمیزی کو بھلانے کے لیے مجهے کچھ وقت لگے گا۔“
سوری! اس نے ندامت سے سر جهکا دیا۔ وہ بنا کچھ کہے اٹھ آیا۔ ایک دفعہ وہ پھر عائشے کو مصروف کرنے میں کامیاب ہو گیا تها۔ اب کتنے ہی دن وہ اس ندامت سے باہر نہیں نکل پاۓ گی۔ گڈ، ویری گڈ!
ویلنٹائن کی رات اس نے ہاشم کے ذریعے حیا کے کمرے کے باہر پهول رکهوائے تهے، البتہ آج اس نے کاغذ پہ اپنے پیغام کے ساتهہ نیچے لائم انک سے اے آر پی لکھ دیا تها۔ ساتھ میں اس نے کاغذ کو ذرا لائم کی خوشبو کا اسپرے کر کے بند کیا تها، تاکہ کهولنے پہ وہ گیلا ہی محسوس ہو، اور وہ اسے آنچ ضرور دیکهاۓ۔ پتا نہیں وہ ”اے آر پی“ سے کیا اخذ کرتی ہے۔ اس نے اے آر پی کے نام کی تختی ادالار میں اپنے آفس کے باہر بهی لٹکا رکهی تهی۔ لوگ اس کو عبدالرحمن پاشا کا مخفف ہی اخذ کرتے تهے جبکہ وہ اس سے اپنے کوڈ نیم Agent rose petal مراد لیا کرتا تها۔ شاید اس لیے کہ عبدالرحمن پاشا کی حیثیت سے کام کرتے ہوۓ بھی وہ کبهی نہ بهول سکے کہ اس کی اصلیت کیا ہے۔
مگر ایک بات اسے تنگ کر رہی تهی۔ حیا کو کس نے بتایا کہ عبدالرحمن پاشا کون ہے؟ وہ ادالار میں مشہور تها، مگر استنبول تو ایک پوری دنیا تهی۔ وہاں اس کو کم ہی لوگ جانتے تهے۔ یقینا کسی ایسے شخص سے ملی ہو گی جس کا عبدالرحمن پاشا سے ماضی میں کوئی واسطہ رہ چکا ہو گا۔ جو بھی تھا، دنیا واقعی گول تھی۔ مگر وہ صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا وہ جانتی ہے کہ جہان ہی عبدالرحمن پاشا ہے۔ وہ ایک دن اسے ضرور بتا دے گا، مگر اس دن کے آنے تک اسے اس چیز کو راز رکھنا ہو گا، جب تک وہ یہ نہ جان لے کہ وہ دونوں زندگی کے سفر میں ایک ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں۔ ہاں تب تک وہ ایک اچھے ایجنٹ کی طرح اپنے ادالار والے کور کو استقلال اسٹریٹ والے کور سے الگ رکھے گا۔
بہارے سے اس نے بے تکلف ہونا واقعی چھوڑ دیا تھا۔ عائشے سے وہ خود مخاطب بھی نہیں ہوتا تھا۔ آج کل ویسے بھی ادالار میں حالات اتنے اچھے نہیں جا رہے تھے کہ وہ زیادہ وقت ادھر گزارتا۔ اسے معلوم تھا طیب حبیب پاشا پھر کسی دن جھگڑا کرنے پہنچ جائے گا، لالچی انسان صبر نہیں کر پا رہا تھا۔ اور پھر ایک دن وہ خود تو نہیں آیا، مگر اپنی ایک ساتھی عورت کو برگر کنگ اس سے بات کرنے بھیج دیا۔ پاشا بے فوری طور پر کسی دوسرے ملک سیٹل ہونا چاہ رہا تھا، مگر اسے اس کی فیملی سمیت یہاں سے بھیجنا جہان کے لیے مسائل پیدا کر سکتا تھا۔ وہ کافی دیر اس کی ساتھی خاتون سے بحث کرتا رہا کہ وہ انتظار اور اعتبار کرنا سیکھ جائے، مگر گفتگو تلخ سے تلخ ہوتی جا رہی تھی۔ ساتھ ہی بار بار اس کا موبائل الرٹ دے رہا تھا۔ بالآخر اس نے گفتگو درمیان میں روک کر موبائل دیکھا۔ اس کا ٹریسر الرٹ۔ اس کی بیوی قریب میں ہی تھی۔ استقلال اسٹریٹ کے دہانے پر۔
اللہ اللہ، یہ سری عورتوں کو لڑنے کے لیے آج کا دن ہی ملا تھا؟! وہ جی بھر کے بےزار ہوا تھا۔ یہی ڈر تھا اسے۔ اپنی ذاتی اور کاروباری زندگی کو الگ الگ رکھنے کی کوشش میں کچھ غلط نہ ہو جائے۔ اس کے کاروباری لوگ اس کی ذاتی زندگی سے وابستہ کسی لڑکی کو دیکھیں، دوسرے معنوں میں اس کی کوئی کمزوری پکڑنے کی کوشش کریں، یہ وہ آخری چیز تھی جو وہ چاہتا تھا۔ جب ہی وہ فورا نباہت (پاشا بے کی ساتھی لڑکی) سے کھلی فضا میں بات کرنے کا کہہ کر باہر نکلا تھا، مگر پھر بھی اس کا سامنا حیا سے ہو گیا، کیونکہ وہ سامنے سے آ رہی تھی۔
وہ اکیلی تھی، اور اس کو دیکھ کر اس کے چہرے پر چمک سی آ گئی تھی۔ وہ جیسے اس کو اپنے سامنے پا کر بہت خوش ہوئی تھی۔ وہ یقینا اسی سے ملنے آئی تھی، مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ نباہت اس کے بارے میں کچھ جانے، اسی لئے اسے سختی سے بات کر کے حیا کو خود سے دور کرنا پڑا۔ مزید مسائل پالنے کا وہ متحمل نہیں تھا۔ مگر اس کا اپنا دل دکھ گیا تھا۔ واپس مڑنے سے پہلے اس نے آخری پل میں حیا کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔ وہ بری طرح ہرٹ ہوئی تھی اور یہ بات اب جہان کو ہرٹ کر رہی تھی۔
کچھ دن اس نے صبر کیا، پھر سوچا جا کر اس سے معذرت کر لے۔ پتا نہیں کیوں، مگر وہ اس لڑکی کو دکھ دینا نہیں چاہتا تھا۔ بھلے ان دونوں کا رشتہ قائم ہو یا نہ ہو، وہ اس کے ڈورم کا نمبر وغیرہ سب جانتا تھا، مگر پھر بھی اس نے ممی سے پاکستان فون کروا کر فاطمہ مامی سے ڈورم بلاک اور کمرے کا نمبر معلوم کروایا تھا، تاکہ وہ بعد میں وضاحت کر سکے کہ اسے ڈورم نمبر کیسے پتا چلا۔
جب وقت ملا تو ایک شب وہ سبانجی چلا آیا۔ حیا کے ڈورم بلاک کی بیرونی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے ایک لڑکی کو کتابیں تھامے، فون کان سے لگائے، زینے اترتے دیکھا۔ اسکارف میں لپٹا دودھیا چہرہ اور سرمئی آنکھیں۔ وہ بظاہر تیزی سے اوپر چڑھتا گیا، مگر اس کی بہت اچھی یادداشت اسے بتا رہی تھی کہ اس لڑکی کو اس نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔ مگر کہاں، کب اور کیسے۔ وہ یہی سوچتا ہوا اوپر آیا، اور انہی سوچوں میں غلطاں اس نے اپنے ازلی بنا چاپ پیدا کیے انداز میں چلتے ہوئے کامن روم کا دروازہ ذرا زور سے دھکیلا۔
اور پھر جو ہوا، وہ بہت برا تھا۔
حیا ہاتھ میں جنجر بریڈ ہاؤس کی ٹرے پکڑے دروازہ بند کر رہی تھی، اسے غیر متوقع سی ٹکر لگی اور ٹرے زمین بوس ہوئی۔ وہ سخت متاسف و ششدر رہ گیا۔ بہت محنت سے بنائی گئی چیز کو صرف اس کی لمحے بھر کی غفلت نے تباہ کر دیا تھا وہ ایکسکیوز کرنا چاہ رہا تھا، اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا، مگر اس کی بیوی کی ایک دم سے ری ایکٹ کرنے والی عادت! پہلے سلش، پھر حماد کی انگلیاں اور اب جنجر بریڈ کا ٹکڑا اٹھا کر اس نے جہان کے منہ پہ دے مارا مگر اسے زیادہ تکلیف اس کے الفاظ نے پہنچائی۔ وہ اس کی زندگی سے نکل جائے کیونکہ وہ اس کے لیے دکھ اور عذاب کے سوا کچھ نہیں لاتا؟ وہ واقعی چاہتی تھی کہ وہ اس کی زندگی سے نکل جائے؟
وہ جھیل تک اس کے پیچھے گیا، پھر اسے بتانے کی کوشش کی کہ اپنی تیز زندگی میں بہت تیز چلتے ہوئے وہ اس کا بہت سا نقصان کر بیٹھا ہے، مگر وہ اس کی کوئی بات نہیں سننا چاہتی تھی۔
اس کے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک جھیل کے کنارے بیٹھا رہا۔ آج وہ بہت غصے میں تھی اور یہ غصہ صرف جنجر بریڈ ہاؤس کے ٹوٹنے کا نہیں تھ۔ا کیا ان دونوں کے درمیان کچھ باقی تھا۔ اس نے کہا اس کی زندگی میں جنجر بریڈ ہاؤس سے بڑے مسائل ہیں، کیا وہ اس سفید پھولوں کے بھیجنے والے سے بھی پریشان تھی، کیا وہ اسے خوامخواہ اذیت دے رہا تھا۔ کیسے وہ کچھ ایسا کرے کہ حیا کے مسائل حل کر لے یا کم از کم وہ اس پہ اتنا بھروسہ تو کرے کہ اپنے مسائل شیئر کرے۔ ہاں ایک کام ہو سکتا تھا۔ اگر وہ اپنی موجودگی میں عبدالرحمن پاشا کی طرف سے اسے کال کرے، تو شاید وہ اس کو بتا دے کہ یہ آدمی اسے ستا رہا ہے۔ تب وہ اس کو اکھٹے بیٹھ کر حل کر لے گے، مگر وہ اس پہ اعتبار کرے تو نا!
اس نے ریکارڈڈ کال کا ٹائم سیٹ کیا، اور پھر حیا کے ڈروم تک گیا۔ اسے کال کی اور حسب توقع اس نے کال اٹھا لی۔ لیکن جیسے ہی حیا کو پتا چلا کہ وہ اس کے کمرے کے باہر ہے، وہ ایک دم بھاگتی ہوئی باہر آئی۔ وہ حواس باختہ بھی ہوئی تھی، اور شرمندہ بھی۔ جیسے وہ سب کچھ کرنے کے بعد اسے پچھتاوا تھا۔ مگر یہ بات کہہ بھی نہیں پا رہی تھی۔ جہان نے سوچا، چاۓ کے ساتھ ڈسکس کر لیتے ہیں، سو وہ دونوں کچن میں چلے آۓ۔
اگر جو اسے بہارے گل یوں کام کرتے ہوۓ دیکھ لیتی، تو غش کھا کر گر پڑتی۔ مگر یہاں تو وہ برگر کنگ کا ہیڈ شیف تھا۔ اور اس کام میں اسے زیادہ آرام دہ احساس ہوتا تھا، شاید اس لیے کہ یہ اس کی فطرت کے زیادہ قریب تھا۔
وہ دونوں کچن میں تھے، جب اس کی ٹائمڈ کال بج اٹھی۔ اس نے سوچا تھا کہ دس سیکنڈ کی ریکارڈنگ کے بعد اسے فون حیا کے ہاتھ سے لے لینا ہے، اسی لیے کال دس سیکنڈ کی ریکارڈ کروائی تھی، اور پھر اس نے ایسا ہی کیا، مگر اس کے باوجود حیا نے اسے کچھ نہیں بتایا۔ وہ یا تو اس پہ بھروسہ نہیں کرتی تھی یا پھر اپنے مسائل خود حل کرنا چاہتی تھی۔
اب وہ پچھلی باتیں بھلانا چاہ رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ حیا اس پہ بھروسہ کرنے لگے۔ اس کے ساتھ کچھ تو شیئر کرے۔
سو اس نے ایک اور کوشش کرنی چاہی۔ حرج ہی کیا تھا آخر! ویسے بھی اس دن کے رویے کی معذرت ابھی قرض تھی۔ اس لیے اس نے ہفتے کی رات کا ڈنر پلان کیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ اس پہ کتنا اعتبار کرتی ہے۔ وہ اس کو پھول بھیجے گا، وہ پھول لے کر جہان کے سامنے کیا ردعمل دے گی۔ اگر وہ اسے سچ سچ بتا دیتی ہے تو وہ اس کو سچ بتا دے گا۔ ہاں وہ اسے اسی وقت سب کچھ سچ بتا دے گا۔ ایک ایک بات۔ ٹاقسم اسکوائر کے گرد کسی تاریک گوشے میں بیٹھ کر وہ اپنی زندگی کے سب پہلوؤں پہ اس کے سامنے روشنی ڈال دے گا، ہاں ٹھیک ہے، وہ ایسا کر دے گا۔ اس سے زیادہ اس ڈرامے کو وہ نہیں چلانا چاہتا تھا۔ اور آج تو اصولا وہ اتنی پریشان ہو گی کہ لازمی اس ”اے آر پی“ کا سد باب کرنے کی سعی کرے گی۔ کیونکہ وہ پہلے گاڑی بھی تو بھیجے گا، تاکہ وہ مزید پریشان ہو جاۓ۔ بس یہی چاہتا تھا وہ۔ اس کا ارادہ ڈنر پہ وہ سارا میس کری ایٹ کرنے کا ہر گز نہیں تھا، مگر جس چیز نے اسے غصہ چڑھایا وہ یہ تھی کہ وہ عبدالرحمن کی بھیجی ہوئی گاڑی میں بیٹھ گئی۔
وہ اتنے آرام سے یوں کسی کی گاڑی میں بیٹھ گئی؟
گاڑی بھیجتے ہوۓ ہاشم کو تاکید کی تھی کہ وہ عبدالرحمن کا نام صرف اس کے پوچھنے پہ لے گا، ورنہ وہ ”جہان سکندر، ٹاقسم“ کہے گا اور کوئی بھی عقلمند لڑکی اس طرح کنفرم کیے بغیر نہیں بیٹھے گی کسی کے ڈرائیور کے ساتھ۔ مگر جب وہ اسی گاڑی میں آئی تو اسے بے اختیار دھکا سا لگا تھا۔
کیا وہ واقعی ہر کسی کی گاڑی میں بیٹھنے والی لڑکی تھی؟
بے اختیار اسے وہ رات یاد آئی جب اس نے حیا کو اس لڑکے کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا تھا۔ جو نرم گوشہ پھر سے اس کے دل میں بننے لگا تھا، وہ پل بھر میں دب گیا۔ گو کہ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ اسے جہان کی گاڑی ہی سمجھی تھی مگر اتنی بھی کیا لاپرواہی کہ آپ یونہی ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔ اسے سخت غصہ چڑھا تھا، مگر پھر، وہی حیا کی عادت۔
وہ غصے میں ہاتھ مار کر گلدان توڑ کر چلی گئی۔
اسے ذرا سا افسوس ہوا لیکن یہ کوئی چھوٹی غلطی تو نہ تھی۔ اگر اس کی جگہ وہ گاڑی کسی اور نے بھیجی ہوتی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گلدان کے پیسے ادا کیے، اور تب دیکھا کہ وہ اپنا موبائل بھی ادھر ہی بھول گئی تھی۔
اس نے موبائل اٹھایا اور برگر کنگ آ گیا۔ یہ حیا کا ترک سم والا موبائل تھا جس کو وہ عموما اپنے ساتھ رکھتی تھی۔ اب وہ کل ادالار جاۓ گا تو وہاں رکھے سرویلنس آلات میں سے ایک اچھا سا ٹریسر اس میں لگا دے گا۔ یہی سوچ کر وہ اس کا موبائل لیے بیوک ادا آ گیا۔
ہوٹل میں کچھ مسئلے بڑھ گئے تھے۔ اس طرح کا موقع چھ سات ماہ قبل آیا تھا اور ایسے وقت میں پیچھے سے آپ کا باس آپ کو deactivate ہو جانے کی ہدایت کر دیا کرتا ہے، اسے بھی اب یہی ہدایت مل گئی تھی یعنی اب وہ کچھ دن کے لیے منظر سے غائب ہو جاۓ۔
یوں وہ آفیشلی کچھ ہفتوں کے لیے انڈیا جانے کا کہہ کر ادالار سے پیک اپ کرنے لگا۔ درحقیقت جانا اس نے بس استقلال اسٹریٹ تک تھا، مگر آنے کو بس یہی بتایا تھا کہ وہ انڈیا جا رہا ہے، شاید اس دفعہ واپس نہ آ سکے۔ وہ ہر دفعہ جانے سے پہلے یہی کہا کرتا تھا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اگر اسے کچھ ہو جاۓ یا واپسی کا حکم نہ ملے تو کوئی ایک اس کی راہ دیکھتا رہے۔ اور پھر دنیا میں تو سب کچھ ممکن تھا نا!
وہ ہوٹل ہی میں تھا جب اسے حیا کی دوست ڈی جے کا فون آ گیا۔ وہ دونوں لڑکیاں بیوک ادا جانا چاہتی تھیں اور ان کو کمپنی چاہیے تھی۔ اب وہ چاہتی تھیں کہ جہان ان کے ساتھ ادالار تک آئے۔
اب وہ کیا کرے؟
جہان سکندر تو پچھلے تین برس سے ادالار نہیں گیا تھا۔ وہاں تو ہمیشہ عبدالرحمن پاشا جاتا اور رہتا تھا مگر حیا ناراض تھی، اسی لیے اس نے اس دن کا انتخاب کیا، جس کی صبح اسے ادالار چھوڑنا تھا۔ حیا کی ناراضگی دور بھی تو کرنی تھی۔ پتا نہیں کیوں کرنی تھی، مگر کرنی تھی
درمیان کے دو دن اپنے سارے کام پیک اپ کرتے ہوئے بھی وہ اپنے اور حیا کے رشتے کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔ (نامحسوس طریقے سے وہ پھر اس لڑکی سے حیا پر آ گیا تھا۔)
تب کچھ سوچ کر اس نے حیا کو فون کیا۔ عبدالرحمن پاشا کے نمبر سے۔ اس سے ملنا چاہتا ہے، یہ بات سن کر وہ کیا کہے گی۔ اب بلآخر اس ناٹک کو ختم ہونا چاہیے۔ میجر احمد کو جب اس نے انکار کیا تھا، تب وہ جہان جیسے بےمروت اور اکھڑ آدمی کو نہیں جانتی تھی، مگر اب وہ جانتی تھی۔ کیا اب وہ کسی امیر آدمی کی ساری جاہ و حشمت دیکھ کر بھی اسی معمولی سے ریسٹورنٹ اونر کی وجہ سے انکار کر دے گی۔ اور ہر دفعہ یہ وجہ جہان کیوں ہو۔ وہ لڑکا جس کے ساتھ وہ گاڑی میں بیٹھی تھی، اس کا ذکر کیوں نہیں کرتی وہ۔
وہ انسانوں سے اتنا بے اعتبار اور مشکوک ہو چکا تھا کہ اتنا سب کچھ دیکھنے کے باوجود اس کا دماغیہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ لڑکی اس جیسے آدمی کے ساتھ رشتہ رکھنا چاہتی ہو گی۔ مگر حیا نے اس دفعہ بھی رکھائی سے بات کر کے فون بند کر دیا۔ چلو ایک آخری کوشش، اور پھر عبدالرحمن اس کا پیچھا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے گا۔
* * * *
آنے ان لوگوں میں سے تھیں جو اس کی مٹھی میں تھے۔ اس نے آنے کی مدد چاہی۔ ان کو ایک اسکرپٹ یاد کروایا کہ اس لڑکی کو آپ نے یہ اور یہ کہنا ہے، اگر وہ ہاں کہے تب یہ کہنا ہے، اگر ناں کہے تب یہ- آنے کو اس نے یہ بتایا تھا کہ وہ اس لڑکی کو پسند کرتا ہے، مگر وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے۔
آنے مان گئیں۔ ویسے بھی جو باتیں انہوں نے اسے کہنی تھیں، ان میں کچھ بھی جھوٹ نہیں تھا۔ عبدالرحمن نے واقعی اسے اس چیریٹی لنچ والے دن دیکھا تھا، ڈولی اس کے آبائی گھر کا پرانا خادم تھا۔ خادم یعنی سرونٹ۔ سول سرونٹ، گورنمنٹ سرونٹ- وہ بےچارہ میجر جسے اس نے بےعزت کیا تھا وہ کرنل گیلانی کا بیٹا تھا اور حیا کی ویڈیو ہٹوانے کے لیے اس نے جہان کی مدد کی تھی۔۔۔۔۔۔ بہرحال، اہم بات یہ تھی کہ وہ انکار کرتی ہے یا سوچنے کے لیے وقت مانگتی ہے۔
اس نے سوچا تھا کہ بیوک ادا کی گلیوں میں اپنی رف سی جینز، سوئیٹر اور بکھرے بالوں والے حلیے میں پھرتے ہوئے اسے اپنا کوئی شناسا نہیں ملے گا، آخر بیوک ادا کے سات ہزار رہائشی افراد میں سے ہر شخص اس کا جاننے والا تو نہیں تھا، مگر وہ غلط تھا۔
وہ ان لڑکیوں کے ساتھ ادالار آ گیا، اور جب وہ تینوں ٹہلتے ہوئے مین بازار میں پہنچے تو سڑک کے وسط میں مجمع سا لگا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: