Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 55

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 55

–**–**–

بہارے گل کا ریڈ کارپٹ شو۔
اف!!!!!!
حیا اور ڈی جے بے اختیار اس کی تصاویر بنانے لگیں اور وہ ذرا سا رخ موڑے، ناگواری سے سارا تماشا دیکھنے لگا۔ وہ اس طرح کھڑا تھا کہ بہارے کی اس کی جانب پشت تھی۔ اب وہ ڈی جے اور حیا کو فورا چلنے کا کہہ کر خود کو مشکوک نہیں کر سکتا تھا۔ سو اس نے ان کو مصروف پا کر عائشے کو میسج لکھا۔
تمہاری سات دن کی تربیت کا یہ اثر ہوا ہے کہ تمہاری بہن ادالار کے سیاحوں سے تصاویر بنوا رہی ہے۔ اسے معلوم تھا کہ عائشے سامنے دکان پہ ہی ہو گی جہاں وہ اپنے پزل باکسز بیچا کرتی تھی۔ پچھلے سات دنوں سے وہ زبردستی بہارے کو عثمان شبیر کے گھر قرآن پڑھنے لے جاتی تھی۔ اور اس وقت وہ عموما دکان پر اپنے باکسز دینے آیا کرتی تھی۔ یہ اتفاق تو نہیں تھا، وہ بس غلط جگہ پر غلط وقت پہ آگیا تھا۔
میں کچھ دوستوں کے ساتھ ہوں، مجھے پہچاننا نہیں۔ ایک دوسرا پیغام احتیاطا بھیج کر اس نے موبائل بند کر دیا۔ مگر وہ نہ بھی کہتا، تب بھی عائشے ایسی لڑکی نہیں تھی کہ بھرے مجمع میں اسے پکار لے۔ اس کی پہلی بات پہ وہ ہرٹ ہوئی تھی، تبھی فورا اپنی بہن کو لینے پہنچی اور اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مجمع چھٹنے لگا اور اس سے پہلے کہ بہارے گل اسے دیکھتی، وہ دونوں لڑکیوں کو لیے پلٹ گیا۔
بگھی پہ حیا کے ہمراہ، بیوک ادا کی گلیوں سے گزرتے ہوئے، عائشے مسلسل اسے پیغامات بھیج رہی تھی۔
آنے نے کہا تها تم نے صبح کی فلائٹ سے انڈیا جانا ہے، مگر تم تو یہیں ہوں۔ کیا خیریت ہے۔ اور کیا یہ وہ ہی لڑکی ہے جس کا ذکر آنے کر رہی تھیں۔
وہی عائشے کی تفتیشں کرنے کی عادت۔ اس کو یقینا آنے نے بتایا تها کہ وہ کسی سے محبت کرنے لگا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
وہ حیا کے ساتھ بات کرتے ہوۓ اسے جوابا یہی بتا رہا تها کہ وہ بعد میں وضاحت کر دے گا اور ابهی وہ نماز پڑهنے ان کی مسجد ہی آۓ گا اور اگر حسب معمول دنوں بہینیں مسجد میں ہوں تو اسے مت پہچانیں اور وہ بہارے کو اس معاملے سے دور رکهے۔
ہم مسجد میں ہیں مگر اندر والے کمرے میں، تم آ جاؤ۔ ہم تمہیں ویسے ہی نہیں پہچانتے تو اب کیا کہیں گے۔
عائشے کا ناراض سا جواب آیا تها۔ اس نے مزید اسے ٹیکسٹ نہیں کیا۔ چهوڑو، بولنے دو جو بولتی ہے، سوچنے دو جو سوچتی ہے۔
اپنے سفید محل کے سامنے سے سے گزرتے ہوۓ اس نے براۓ بات سرسری سا اشارہ ان گهروں کی جانب کیا تها۔ حیا اس کی بات کو ہلکا لے رہی تهی مگر وہ ٹهیک ہی کہہ رہا تها کہ وہ ان جیسا کوئی گهر اپنی تنخواہ سے نہیں بنا سکتا تها۔ وہ فلموں میں ہوتا ہے کہ اسائنمنٹ ختم ہونے کے بعد ایجنٹ کو نوٹوں سے بهرا بریف کیس ملا کرتا ہے، اصل میں صرف پیٹھ پہ تهپکی ملتی تھی اور کچھ نہیں۔
انڈیا اور پاکستان میں اسپائز سے زیادہ انڈر Paid شاید ہی کوئی ہو۔ معمولی تنخواہ اور آپ کے گرفتار ہونے یا مرنے کی صورت میں فیملی کو مالی امداد (ایک بہت قلیل مالی امداد) دینے کا وعدہ! بس یہی ملا کرتا تها۔ بعد میں جب ایجنسی سے تبادلہ ہو کر واپس فوج میں چلا جائے گا اور اگر اس مستقل سر درد نے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہ کیا، تو ترقی ملنے کے بعد شاید وہ ”غریب آدمی“ نہ رہے، لیکن ابهی وہ غریب آدمی ہی تها۔
مسجد سے نکلتے ہوۓ حیا نے پوچها کہ اس نے دعا میں کیا مانگا تو اس نے کہا، اس نے زندگی مانگی اور وہ ٹهیک ہی کہہ رہا تها۔ زندگی وہ ہمیشہ مانگا کرتا تها، مگر ابهی اس نے یہی مانگا تها کہ تهوڑی دیر بعد اس کی بیوی ایک امیر آدمی کا عالیشان محل دیکهنے کے بعد اپنے غریب شوہر کو چهوڑنے کا نہ سوچے۔ اپنوں کا کوئی ایسے امتحان لیتا ہے بھلا۔ اسے خود پہ افسوس ہوا۔ مگر یہی تو وہ دیکهنا چاہتا تھا کہ اس کے اپنوں میں سے ہے یا نہیں البتہ وہ اس کی ”زندگی“ والی بات نہ سمجھ سکی۔ وہ اس کی پہپلیوں کی زبان نہیں سمجهتی تهی۔
حیا عبرانی زبان کے لفظ حوا سے نکلا ہے جو کہ اماں حوا علیہ السلام کا نام تها۔ حوا کا معنی ہوتا ہے زندگی۔ سو حیا کا بھی یہی معنی ہے۔ اسی لیے عربی میں حیا کا لفظی معنی تروتازگی و شادابی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں زندگی کی علامت ہوتی ہیں۔ اسی سے لفظ حیات (زندگی) اور الله تعالی کی صفت الحیی (ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے)۔ اس کا اصطلاحی معنی عموما شرم اور Modesty Chastity اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ شرم انسان کی اخلاقی زندگی اور کردار کو تروتازہ اور زندہ رکھتی ہے، حیا میں انسان کے لیے زندگی ہوتی ہے، مگر وہ نہیں سمجھ سکی۔ وہ اس کی زبان سمجھ ہی نہیں سکتی تهی۔ چلو کبهی نہ کبھی وہ اسے اپنی زبان سمجها دے گا۔
اس نے عادت کے مطابق سب کچھ پلان کیا تها۔ بندرگاہ پہ جس بچے کو حیا کا پرس چهیننے آنا تها، وہ اس کی ہدایت کے مطابق بالوں میں لگانے والی موتیوں کی مالائیں لے کر ہی آیا تها۔ جس واحد چیز کے لیے وہ رکے گی، وہ اس کے بالوں کیخوب صورتی میں اضافہ کرنے والی کوئی چیز ہی ہونی چاہیے تھی اور جتنی جلدی ردعمل ظاہر کرنے والی وہ لڑکی تھی، وہ جانتا تها کہ وہ اپنے پاسپورٹ اور آئی ڈی کارڈ کے لیے ضرور بهاگے گی۔ ہاں اسے اچھی طرح پتا تها کہ حیا کے اس گولڈن کلچ میں اس کے کون کون سے کاغذ ہیں۔
حسب توقع وہ اس بچے کے پیچهے بهاگ پڑی۔ کبهی جو یہ لڑکی ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے دو منٹ سوچے؟ مگر پتا نہیں کیوں اسے اس کی یہی باتیں اچهی لگنے لگی تهی۔ کم از کم وہ باہر سے بھی وہی تھی جو وہ اندر سے تھی۔ ہاں، وہ اس پہ یقین کرنے لگا تها۔
جب وہ دونوں دوبارہ تهانے میں ملے تو وہ رو رہی تھی۔ پتا نہیں وہ کس بات پہ رو رہی تهی، آنے سے ابهی جہان کی بات نہیں ہوئی تهی، وہ نہیں جانتا تها کہ اس نے آنے کو کیا کہا ہو گا۔ مگر اس روز پہلی دفعہ اس نے پورے استحقاق سے اپنی بیوی کو جھڑکا تھا۔ اسے لگا تها، حیا نے اپنے غریب شوہر کو نہیں چهوڑا۔ اس کا کار والے لڑکے سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کو عبدالرحمن یا اس کی جاہ و حشمت سے بهی کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ واقعی جہان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، سو بس، یہ ڈراما ختم۔
رات آنے سے بات پہ اسی شے کی تصدیق کرنے کے بعد اس نے ہاشم کو کہا کہ وہ مزید اس لڑکی کا پیچها نہیں کرے گا۔ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ بہت آزما لیا اس نے۔ اس سے زیاده آزماۓ گا تو اس کا گناہگار ہو جاۓ گا۔
* * * *
ہاشم فون پہ اپنے بیٹے کی بیماری کا ذکر کر رہا تھا، مگر اس نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ ہوٹل گرینڈ کا پیسہ اس کا ذاتی نہ تھا، ذاتی تو اس کے پاس کچھ نہیں تھا اور ہاشم سدا کا جواری، اپنی ساری جمع پونجی تو وہ جوئے میں لٹا آتا تھا پھر وہ کیوں اس کی مدد کرے۔ اپنے تئیں اس نے بات ختم کر دی۔ تب ہی عائشے کا میسج آیا۔
میں نے آنے سے پوچھا تھا، وہ کہہ رہی ہیں کہ تم صبح کی فلائٹ سے انڈیا چلے گئے تھے۔ ویسے اتنے سارے لوگوں سے ایک وقت میں اتنے جھوٹ بولتے ہوئے تمہیں کبھی افسوس نہیں ہوتا؟
نہیں۔ اس نے یک لفظی جواب بھیج کر اے آر پی والی سم بند کر دی۔ یہ عائشے بھی نا، کسی دن مروائے گی اسے۔
اگلے ہی روز اس نے ہاشم کو ادالار بھیجا۔ وہ اس وقت تک دکان پہ کھڑا رہا جب تک کہ عائشے نہیں آ گئی۔ عائشے کے آتے ہی ہاشم اس سے ملا، اور اس نے چھ چوکھٹوں والے پزل باکس کا آرڈر لکھوا دیا اور چوکھٹے بھی وہ جن پہ ترک کی بجائے انگریزی حروف تہجی ہوں۔ ساتھ ہی اس نے عبدالرحمن کو بتانے سے سختی سے منع بھی کیا۔
وجہ صاف تھی۔ اسے وہ پزل باکس حیا کو دینا تھا۔ جیسے وہ اپنی معلومات اور کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس ایک ایجنٹ سے دوسرے کو منتقل کرتے تھے کہ کہیں کسی لاکر میں چھوڑ دیا، یا ٹریشن کین میں، اور بعد میں کسی دوسرے ایجنٹ نے اسے آ کر اٹھا لیا، تاکہ کسی ایجنٹ کو معلوم نہ ہو سکے کہ اس کا دوسرا ساتھی کون ہے اور پکڑے جانے کی صورت میں وہ اپنے ساتھی کے لیے خطرہ نہ بنے۔ اس نے بھی اپنی اصلیت بتانے کے لیے کسی ایسے ہی ٹریژر ہنٹ کا سوچا تھا۔ خود آمنے سامنے وہ کبھی نہیں بتائے گا۔ اس کی بیوی کو اس کو سمجھ کر، اسے خود ڈھونڈنا چاہیے۔ نہیں وہ اسے آزما نہیں رہا تھا، وہ تو بس اپنے انداز میں بات پہنچا رہا تھا۔
ہاں مگر جب وہ پزل باکس اس تک پہنچے گا اور بالفرض کسی طرح اس نے ادالار تک اس باکس کے بنانے والوں کو ٹریس کر بھی لیا، تو وہاں سے وہ محض اتنا جان پائے گی کہ یہ کام عبدالرحمن کے علاوہ کسی کا بھی ہو سکتا ہے۔ بس اس میں عبدالرحمن ملوث نہیں ہے۔ حیا اس کو تلاش کرے، یہ وہ چاہتا تھا، مگر وہ اس کی جاسوسی کرے، یہ وہ ہر گز نہیں چاہتا تھا۔
اگلے چند روز خیریت سے گزر گئے۔ وہ ڈی ایکٹیویٹ ہو کر بس گھر اور ریسٹورنٹ تک محدود ہو گیا تھا ۔انہی دنوں اسے اس لڑکی کا خیال بار بار آتا رہا جو اس نے سبانجی میں دیکھی تھی، وہ اس کو پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ اسے یاد تھا کہ پچھلے سال سبانجی کے کچھ اسٹوڈنٹس انٹری شپ پروگرام کے تحت ہوٹل گرینڈ آئے تھے اور چند ہفتے انہوں نے وہاں کام کیا تھا۔ اس نے کمپیوٹر میں سارا ڈیٹا کھولا اور ایک ایک انٹری کو چیک کرتے بالآخر وہ اسے مل ہی گئی۔
ہالے نور چولگ لو۔ رومی فورم کی ایک کارکن۔ اس کا فیلڈ ریکارڈ بھی کافی اچھا تھا۔ وہ اس کی ایمپلائی تھی، اور اپنے ہر ایمپلائی کا سارا بائیو ڈیٹا وہ اپنے پاس رکھتا تھا۔ اپنے ہر ملازم کو پہچانتا تھا۔ مگر اس کے ہر ملازم نے اسے نہیں دیکھ رکھا تھا۔
وہ ہوٹل مالکان کی طرح پرائیویٹ لفٹ استعمال کرتا تھا اور نچلے عہدوں پر کام کرنے والے ملازموں کی اس سے کوئی ملاقات نہ تھی اور انٹرنیز سے کہاں اس کا رابطہ ہو پاتا تھا۔ پھر بھی، شاید یونہی آتے جاتے اس لڑکی نے اسے دیکھ رکھا ہو۔ وہ اسی ڈورم بلاک سے نکل رہی تھی جو حیا کا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ وہاں کسی کام سے آئی ہو اور اس کا اپنا بلاک کوئی اور ہو اور اس کا حیا سے کوئی رابطہ نہ ہو اور اس نے کبھی گرینڈ ہوٹل کے اونر کو نہ دیکھ رکھا ہو۔ مگر پھر بھی آئندہ وہ سبانجی جاتے ہوئے احتیاط کرے گا، ورنہ دنیا واقعی بہت چھوٹی تھی۔
چند دن بعد ایک صبح جب وہ برگر کنگ کے کچن میں کام کر رہا تھا تو ایک دم سے اس کے سر کی پشت میں شدید درد اٹھنے لگا۔ یہ درد اسے بہت چڑچڑا بھی بنا دیتا تھا۔ سارا موڈ خراب ہو جاتا۔ اب بھی یہی ہوا۔ وہ تلخی بھرے انداز میں زور سے کھٹ کھٹ گوشت کاٹ رہا تھا۔ پچھلے ایک ہفتے سے قبضہ مافیا کے کچھ لوگ اسے تنگ کر رہے تھے۔ ریسٹورنٹ کی لیز کا معاملہ تھا اور پاشا بے کے ساتھ ان کی کوئی تلخی ہو چکی تھی۔ ایسے میں اسے اپنے ریسٹورنٹ کی سکیورٹی کے لیے اپلائی کرنا تھا، مگر اس سے قبل وہ کوئی ٹھوس واقعہ ایسا چاہتا تھا کہ جس سے اس کا کیس آسان ہو جائے۔ ارادہ تھا کہ آج سہ پہر میں اپنے کچھ آدمیوں سے ریسٹورنٹ میں توڑ پھوڑ کروا کر سکیورٹی کلیم اور انشورنس کلیم دونوں حاصل کر لیں گے۔ ایسے وقت میں اسے موقع سے ہٹ جانا چاہیے۔ وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ حیا اور ڈی جے آ گئیں۔
وہ ٹاپ قپی جانا چاہتی تھیں۔ تھوڑی سی پس و پیش کے بعد وہ ان کے ساتھ چل پڑا۔ سر کا درد بخار میں تبدیل ہوتا گیا، مگر وہ ان کا ساتھ دیتا رہا۔ پھر ڈی جے کو بھی سر درد کی شکایت ہو گئی، وہ واپس جانا چاہتی تھی۔ اس کے جانے کے بعد وہ دونوں ٹاپ قپی کے عقبی برآمدے میں آ بیٹھے۔ حیا نے اس سے کہا بھی کہ وہ واپس چلا جائے، مگر ابھی ریسٹورنٹ پہ sstaged اسالٹ ہونا تھا ابھی وہ واپس کیسے جا سکتا تھا۔ البتہ سر درد کے باعث وہ حیا کی شال تان کر لیٹ گیا۔ اسے نیند ویسے بھی مشکل سے ہی آتی تھی پھر ابھی ایک پبلک پلیس پہ وہ کیسے سو سکتا تھا۔ بس یونہی لیٹا رہا۔
تب ہی اس نے محسوس کیا کہ اس سے ایک زینہ نیچے بیٹھی حیا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا ہے شاید یہ جاننے کے لیے کہ وہ سو رہا ہے یا نہیں۔
وہ ذرا سا کھٹک گیا۔ اس نے آنکھوں سے بازو ذرا ترچھا کر کے دیکھا، حیا کی جہان کی طرف پشت تھی، اس نے ذرا گردن اٹھا کے دیکھا تو وہ موبائل پہ کسی کو میسج کر رہی تھی اوپر انڈیا کا نمبر نظر آ رہا تھا-
اسی کا نمبر۔
وہ پیغام تو نہیں دیکھ سکا، لیکن یہ وہی نمبر تھا جس سے چند روز قبل اس نے حیا کو میسج کیا تھا۔اے آر پی تو اس کا پیچھا چھوڑ چکا تھا، پھر یہ کیوں اس سے رابطہ کر رہی تھی۔ اسے تھوڑا عجیب سا لگا۔ برا نہیں لگا لیکن اچھا بھی نہیں لگا تھا۔
چند منٹ ٹھہر کر اس نے بائیں ہاتھ سے جینز کی جیب سے اپنا سیل فون نکالا۔ ( حیا اس کے دایاں جانب ایک زینہ نیچے بیٹھی تھی وہ نہیں دیکھ سکتی تھی) اس نے اسی طرح لیٹے لیٹے انڈین سم آن کی اور پھر ایکسچینج اسٹوڈنٹ کا نمبر ڈائل کیا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے سامنے بات نہیں کرے گی اور واقعی وہ کال آتے ہی اٹھ کر منڈیر تک چلی گئی۔ وہیں شال گردن سے اوپر تک لیے، آنکھوں پہ بازو رکھے، وہ ہینڈز فری سے اس سے بات کرتا رہا۔ حیا اگر اس سارا وقت میں اسے دیکھ رہی ہوتی تب بھی جان نا پاتی کہ اس کے لب ہل رہے ہیں۔ اور اس نے فون کیوں کیا؟
وہ چاہتی تھی کہ عبدالرحمن اس کے کزن کی مدد کرے۔ اس کی بات سن کر جہان بے اختیار ہنس پڑا۔ مدد کا وعدہ کر کے اس نے فون بند کر دیا۔
حیا واپس آ کر بیٹھی گئی۔ کچھ مضطرب سی تھی۔ خیر۔ پلان کے مطابق اسے ریسٹورنٹ سے کال آنے لگی۔ انہیں جانا پڑا۔ جب وہ واپس ریسٹورنٹ پہنچے تو توڑ پھوڑ دیکھ کر اسے احساس ہوا، حیا اسے عبدالرحمن پاشا کی حرکت سمجھ رہی تھی۔ اس کے چہرے کے تاترات کچھ ایسے ہی تھے۔
چلو، یہ بھی ٹھیک تھا۔ اسے سبق مل گیا ہو گا کہ اپنے مسائل حل کروانے کے لیے دوسروں کا رخ کبھی نہیں کرتے۔
•••••••••••••••••••
وہ دوبارہ پھر سبانچی نہیں گیا۔ بہار کے دن شروع ہوئے تو پورا استنبول مہکنے لگا۔ ایسے ہی ایک دن وہ گھر پہنچاا تو حیا آئی ہوئی تھی۔ مگر اکیلی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ تین لڑکیاں تھیں اور ان تین لڑکیوں میں ہالے نور کو دیکھ کر اس کا لمحے بھر ک سانس ہی رک گیا۔ سلام کا جواب دے کر ہالے نور نے بغور اس کو دیکھا۔ وہ بنا مزید کچھ کہے کچن میں چلا آیا۔
وہ لڑکی جس کا تعلق ہوٹل گرینڈ سے رہ چکا تھا اس کو اس گھر میں زیادہ دیر نہیں ٹھہرنا چاہیے تھا- اب ان کو کیسے نکالے یہاں سے؟ بڑی مصیبت سے بہتر چھوٹی مصیبت ہوتی ہی۔ اس نے چھوٹی مصیبت لے لی۔ اس نے ترک میں وہ تکلیف دہ الفاظ کہے کہ ممی تو شاکڈ رہ ہی گئیں، مگر وہ لڑکی بھی چونک گئی، لاؤنج تک کچن کی ساری باتیں سنائی دے رہی تھیں۔ پانچ منٹ بھی نہیں گزرے اور وہ چاروں وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں۔
یہ کیا بدتمیزی تھی جہان۔ ممی ابھی تک ششدر تھیں۔
وہ اسکارف والی لڑکی مجھے کسی اور حوالے سے جانتی تھی، اگر میری بیوی کی وجہ سے میرے کور کو نقصان پہنچا تو میرا کورٹ مارشل ہو جائے گاممی۔
اوہ! وہ خاموش ہو گئیں، مگر خوش نہیں تھیں۔
اس نے سوچا تھا، وہ پھر حیا سے معذرت کر لے گا، جیسا کہ ہمیشہ ہوتا تھا۔ لیکن موقع ملنے سے قبل ہی وہ انقرہ چلا گیا۔ وہاں کچھ کام تھا اور جس دن وہ واپس آ رہا تھا، اسے ائیرپورٹ پہ حیا کا میسج ملا۔
ڈی جے ٹاقسم فرسٹ ایڈ میں تھی، اسے برین ہیمرج ہوا تھا۔
وہیں ایرپورٹ سے اس نے ٹاقسم فرسٹ ایڈ میں اپنے ایک جاننے والے کو فون کیا۔ ڈی جے کا بیری اینورزم پٹھا تھا۔ اس نے جلدی سے حساب لگایا۔ اس کا مطلب تھا کہ اس کے پاس صرف چند ہی گھنٹے تھے۔ اسے یاد آیا وہ ٹاپ قپی میں بھی سر درد کی شکایت کر رہی تھی۔
وہ پرانے چہرے والے ائرپورٹ (صبیحہ گورچن ہوالانی) سے آیا تھا، سو یورپی استنبول پہنچتے ہی وہ سیدھا ٹاقسم آیا اور وہاں سے حیا کے پاس۔ اس کے حساب کردہ گھنٹے ختم ہونے کو تھے۔ کسی بھی وقت وہ ڈی جے کی موت کی خبر دے دیں گے، پھر باڈی کلیئرنس کروانے میں وقت لگے گا، باڈی پاکستان جاۓ گی، ظاہر ہے حیا بھی ساتھ ہی جاۓ گی، یعنی دو تین دن تو کہیں نہیں گئے اور موت کی خبر سننے کہ بعد تو وہ کچھ نہیں کھاۓ گی۔ حقیقت پسندی سے تجزیہ کرتے ہوۓ اسے صرف حیا کی فکر تھی۔ وہ جلدی سے کینٹین گیا اور اس کے لیے سینڈوچ لے آیا۔ اسی اثناء میں ڈاکٹر باہر آ گیا اور خبر بھی باہر آ گئی۔ پھر بھی یہ خبر اس نے حیا کو تب دی جب وہ تھوڑا سینڈوچ کھا چکی تھی۔ اور کاش وہ، وہ آخری بندہ ہوتا جو اسے یہ خبر دیتا۔
وہ دو تین دن بہت تکلیف دہ تھے۔ اسے ڈی جے کی موت کا بہت افسوس تھا، لیکن اپنی جاب کے دوران اتنے لوگوں کو اپنے سامنے مرتے دیکھا تھا کہ ڈاکٹرز کی طرح وہ بھی ذرا immune ہو چکا تھا۔ مگر حیا کو روتے دیکھ کر اسے تکلیف ہو رہی تھی۔ وہ جو سمجھتا تھا کہ جیل کے ان تاریک دنوں نے اس کے اندر سے ساری حساسیت کو نگل لیا ہے تو شاید وہ غلط تھا۔ اسے تکلیف ہو رہی تھی، بہت زیادہ۔ ڈی جے کی موت سے بھی زیادہ۔
باڈی کلیئرنس ملنے سے قبل وہ حیا کے ہمراہ سبانجی گیا تھا، (ہالے نور سمیت اسٹوڈنٹس کی اکثریت اسپرنگ بریک پہ جا چکی تھی۔) ڈی جے کی چیزیں اس نے حیا کے ساتھ ہی پیک کروائی تھیں۔ اس کے رجسٹر اکھٹے کرتے ہوۓ وہ بھیگی آواز میں کہہ رہی تھی کہ ڈی جے اپنے نوٹس یا رجسٹر فوٹو کاپیئر پہ بھول جاتی تھی، اس لیے وہ فوٹو کاپیئر تک گیا تاکہ اس کا اگر کچھ رہ گیا ہے تو وہ بھی اٹھا لائے، مگر جب ادھر رکھے ڈی جے کہ رجسٹر کا پہلا صحفہ اس نے پلٹایا تو اس پہ بڑا بڑا کر کے یونانی فلاسفر ہراقلیطس کا ایک قول لکھا تھا:-
“ into the same river no man can enter twice hearclitus.
وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر رجسٹر ادھر ہی چھوڑ کر واپس آ گیا۔ حیا اس وقت ذہنی طور پر اتنی ڈسٹرب تھی کہ اس کو کچھ پوچھنے کا ہوش ہی نہیں تھا۔ بعد میں وہ واپس آ کر یہ رجسٹر لے گی تو اس قول کو ضرور پڑھے گی، وہ اسے اپنے پزل باکس پہ پہیلی کے طور پر لکھ سکتا تھا۔ ڈی جے فلسفے کی طالبہ تھی تو شاید حیا بھی اس فلاسفی کے پس منظر سے واقف ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممی کے مجبور کرنے پہ وہ اپنے کنٹرولر سے اجازت لے کر حیا کے ساتھ پاکستان آ گیا۔ وہی موقع جس سے وہ بھاگتا تھا، بلآخر سامنے آ ہی گیا تھا۔ مگر صرف حیا کے لیے اس نے یہ کر لیا۔ اپنے ماموؤں کے سامنے آ ج بھی وہ خود کو کمزور محسوس کرتا تھا۔ ان کی باتیں سننا، ان کے تیور برداشت کرنا، وہ کچھ بھی تو نہیں بھولا تھا۔ لیکن اس کے سوا کوئی چارا بھی تو نہ تھا۔ حیا تو سیدھی اپنی امی کے ساتھ ڈی جے کے گھر چلی گئی۔ وہ سلیمان ماموں سے ملا، وہ کچھ دیر حیا وغیرہ کے لاؤنج میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ ماموں ذرا رکھائی سے ملے تھے۔ سرد انداز۔ ٹھیک ہے، وہ بھی تو اسی طرح ہی ملا تھا۔
سبین ٹھیک ہے؟ اسے بھی لے آتے؟
ابا کی وجہ سے نہیں آ سکتی تھیں وہ۔
اچھا! اور خاموشی۔ بس اسی طرح کی کچھ باتیں کر کے ملازمہ نے اسے اس کا کمرہ دکھا دیا۔ وہ نیچے والا ایک کمرہ تھا، اس نے پوچھا کہ اگر کوئی اوپر والا کمرا مل جاۓ تو؟ ملازمہ نے فورا اس کا سامان اوپر والے گیسٹ روم میں رکھ دیا۔
وہ کسی کے بھی گھر میں رہتا، ہمیشہ اوپر والی منزل پہ ٹھہرتا۔ اوپر سے نیچے پورے گھر کا جائزہ لینا آسان ہوتا ہے، آپ کا پینو راما وسیع رہتا ہے، فرار کا راستہ بھی مل جاتا ہے۔ آس پاس کے گھروں پہ بھی نظر رکھنا سہل تھا۔
* * * *
دوپہر میں وہ سو نہیں سکا، بس ٹیرس سے ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ مسجد کدھر ہے، کالونی سے نکلنے کے راستے، سیکٹر کے مرکز کی سمت۔
دوپہر میں حیا اور اس کی امی واپس آ گئیں۔ اس نے کھڑکی سے دیکھا تھا۔ حیا بیمار لگ رہی تھی مگر وہ اس طرح جا کر پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔
شام میں ذرا دیر کو آنکھ لگی ہی تھی کہ حیا کی امی، فاطمہ ممانی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ فرقان ماموں وغیرہ آۓ تھے نیچے۔
میں آ رہا ہوں بس فریش ہو کر۔
اوکے! اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رکیں۔ نور بانو بتا رہی تھی کہ آپ کو نیچے والا کمرہ پسند نہیں آیا؟ یہ ٹھیک ہے؟
جی۔ اس نے تردید کیے بغیر بس اثبات میں سر ہلایا۔ وہ تو ایسا ہی تھا، مگر فاطمہ ممانی کو شاید کچھ اچھنبا سا ہوا تھا مگر بولیں کچھ نہیں۔
کچھ دیر بعد وہ کمرے سے بنا چاپ کے نکلا تو ابھی سیڑھیوں کے گول چکر کے اوپر ہی تھا جب لاؤنج سے ملحقہ کچن کی آدھی کھلی دیوار کے پار فاطمہ ممانی حیا سے بات کرتی نظر آئیں۔ اس نے دانستہ طور پر رک کر سنا۔
یہ سبین کا بیٹا ذرا پراؤڈ نہیں ہے؟
چلو جی۔ پہلے اس کا باپ مغرور تھا، اب وہ مغرو ہو گیا۔ جو اپنی مرضی سے رہنا چاہے، وہ مغرور ہو گیا! وہ تو مغرور نہیں تھا۔ اسے تو کسی چیز کا غرور نہیں تھا۔ پتا نہیں کیوں وہ اس کے بارے میں ایسے اندازے قائم کر رہے تھے۔
نہیں، وہ شروع شروع میں ایسا ہی رہتا ہے۔ حیا کہہ رہی تھی۔
اور بعد میں؟
بعد میں بھی ایسا ہی رہتا ہے۔ اس شروع اور بعد کے درمیان کبھی کبھی نارمل ہو جاتا ہے۔
سیڑھیوں کے وسط میں دیوار پہ لمبا سا آئینہ آویزاں تھا جس میں وہ دونوں نظر آ رہی تھیں۔ اور وہ الفاظ کہتے ہوئے حیا کا چہرہ سپاٹ تھا۔ اسے برا لگا مگر پتا نہیں کیوں اب وہ اس کو مارجن دینے لگ گیا تھ۔ا ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔
لان میں ماموں فرقان اور صائمہ ممانی آئی ہوئی تھی۔ جب وہ چلتا ہوا لان کے دہانے تک آیا تو وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
تمہیں کیا لگتا ہے، تم یہاں عزت سے جی سکو سگے؟ کبھی نہیں، تم ذلیل ہو گے۔ تم خوار ہو گے۔
وہ آوازیں آج بھی اس کے ساتھ تھیں۔ وہ لوگ بہت عزت سے اب اس سے مل رہے تھے۔ سلام دعا،ممی کا حال،گلے، شکوے۔
تمہارا باپ تمہارے نام پہ ایک شرم ناک دھبہ ہے تم کبھی سر اٹھا کر نہیں جی سکو گے۔ تمہارے باپ کا نام تمہارا سر ہمیشہ شرم سے جھکاتا رہے گا۔
وہ ان کے سامنے کرسی پہ بیٹھا ہوا تھا۔ فاطمہ ممانی اس سے چائے کا پوچھ رہی تھیں۔ اس نے وہی کہا جو ایک ترک لڑکے کو کہنا چاہیے تھا۔ ایپل ٹی۔
تم کتوں کی طرح زندگی گزارو گے۔ کبھی عزت اور وقار سے اپنے ملک کا رخ نہیں کر سکو گے۔
وہ اب اس سے اس کی جاب اور دوسری مصروفیات کا پوچھ رہے تھے۔ وہ چھوٹے چھوٹے جواب دیتا رہا۔ حیا اس سارے وقت میں لا تعلق سی بیٹھی رہی۔ بس ایک دو دفعہ بولی۔ مگر وہ اسے نظرانداز کر رہی تھی یہ الگ بات تھی کہ اپنے تئیں جہان اسے نظرانداز نہیں کر رہا تھا۔ وہ تو ہمیشہ سے ہی خاموش اور ریزرو سا تھا۔ البتہ اپنے ماموؤں کے لیے اس کے دل میں نرم گوشہ نہیں تھا۔ ہاں نہیں تھا وہ اعلی ظرف- جن باتوں نے اسے اور اس کی ممی کو ایک عرصہ ڈسٹرب رکھا، ان کے کہنے والے تو بڑے مزے سے اپنی زندگی میں مگن تھے۔ کسی کو کوئی غرض نہیں تھی کہ سبین سکندر اور جہان سکندر کا کیا بنا ہے، کیونکہ ان کے ناموں کے ساتھ سکندر لگتا تھا۔
وہ پہلی ملاقات میں ان سے کوئی بات نہ کر سکا۔ اس سے ہوئی ہی نہیں! کچھ زخم بھرنے میں بہت وقت لگتا ہے اور اس کا وقت ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔
چونکہ وہ ترک شہری کے طور پر آیا تھا اس لیے اس کی حرکات و سکنات اس کے کور کی مطابق تھی۔ بھلے وہ انگریزی میں بات کرنا ہو، گھاس پر جوتوں سمیت نہ چلنا ہو، یا بنا جوتوں کے گھر میں داخل ہونا، وہ وہی بنا رہا جو وہ لوگ اسے سمجھتے تھے۔
اٹھنے سے قبل فرقان ماموں اپنے گھر آنے کی دعوت دے گئے تھے۔
تم نے میری بات نہیں مانی، اب جب مدد چاہیئے ہو تو میری طرف مت آنا۔
وہ آوازیں پیچھا نہیں چھوڑتی تھیں۔
سلیمان ماموں نے ان کے جاتے ہی قطیعت سے کہہ دیا تھا کہ اب حیا واپس نہیں جائے گی۔ اس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، البتہ وہ جان گیا تھا کہ وہ واپس جانا چاہتی ہے۔ ہاں، واپس تو اسے جانا ہی تھا۔ وہ کرے گا اس بارے میں بھی کچھ-
* * * *
اس پہلی ملاقات سے اس نے یہ اخذ کیا کہ فرقان ماموں کی باتیں اور طنزیہ انداز اس کی توقع کے عین مطابق ہی تھا، البتہ سلیمان ماموں یوں طنز نہیں کرتے تھے، بس اکھڑے اکھڑے سے رہتے تھے۔ وجہ شاید ان کا گزشتہ دفعہ استنبول کا دورہ تھا، جب وہ ادالار میں ہونے کے باعث ان کے لیے جہانگیر نہیں آ سکا تھا۔ اور جب آیا تو تھوڑی دیر ہی بیٹھ سکا۔ یہ وہ وقت تھا جب اس کے دل میں ان کے لیے موجود شکوے ختم نہیں ہوئے تھے اور اپنے اکھڑ رویے کے باعث سلیمان ماموں بھی بدظن ہو چکے تھے، وہ جانتا تھا۔ اور ان کا رویہ اب بھی ویسا ہی تھا۔ حیا کے ساتھ پاکستان آنے، یعنی ان کی بیٹی کا اتنا خیال رکھنے پر بھی وہ اس سے راضی نہ تھے۔ فرقان ماموں کی اسے کوئی پرواہ نہ تھی، مگر سلیمان ماموں۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: