Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 56

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 56

–**–**–

پتا نہیں کیوں وہ ان کی پرواہ کرنے لگ گیا تها۔
شاید اس لیے کے پاکستان آ کر اس پہ ایک انکشاف بہت شدت سے ہوا تها کہ وہ جو ہمیشہ میرے دونوں ماموں اور میرے ماموؤں نے جیسے صیغوں میں سوچتا تها تو وہ غلط تها۔
وہ زمانے گئے جب دونوں ماموں ایک فریق تهے۔ اب وہ دو فریق تهے۔ سلیمان تو بڑے ماموں کی بہت عزت کرتے تهے مگر ڈنر پہ فرقان ماموں اور صائمہ مامی کی گفتگو سے ہی یہ بات واضح تهی کہ اگر وہ حیا سے رشتہ توڑے گا تو وہ ہر گز نا خوش نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے اور سلیمان ماموں کے درمیان اب وہ پہلے والا ایکا نہ تها۔ اتنے برس ایک ساتھ رہنے کے باعث ہونے والی چهوٹی موٹی تلیخوں نے ان کے آپس کے رشتے میں بهی بہت سی درائریں ڈالی تهیں۔ ہاں بظاہر سب ٹهیک تها، سلیمان ماموں کی طرف سے بهی سب ٹهیک تها، البتہ فرقان ماموں اور صائمہ ممانی حیا کی زندگی میں آنے والی ہر تکلیف پہ اس کے ساتھ نہیں ہوں گے، وہ جان گیا تها۔ وہ بیٹھ کر تماشا دیکهنے والوں میں سے تهے۔ یہ بات کاش اسے پہلے پتہ چل جاتی، مگر کیسے چلتی؟ وہ اور ممی تو ابهی تک کئی سال پیچهے کهڑے تهے۔
اور اب اگر وہ فرقان ماموں کے اس برسوں پرانے رویے کی وجہ سے سلیمان سے تعلق خراب کرتا ہے، تو یہ ناانصافی تهی۔ اب جب کہ یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ وہ یہ شادی قائم رکهنا چاہتا ہے تو پهر اسے اپنا رویہ بهی ٹهیک کرنا ہو گا۔ جتنے دن وہ یہاں ہے، وہ اس کی پوری کوشش کرے گا، اس نے خود سے عہد کیا تها۔
* * * *
اگلے روز زاہد ماموں کی بیٹی کی مہندی تهی۔ وہ ویسے ہی رش سے بهاگتا تها، مگر یہاں اس کے سوا کوئی چاره نہ تها کہ وہ بهی فنکشن اٹینڈ کرے۔ اس پہ مستزاد، فاطمہ ممانی اس کے لیے کچھ کرتے وغیرہ لے آئی تھیں، پیسے البتہ انہوں نے اس کے بہت اصرار پہ بهی نہیں لیے تهے۔ اب اس کو وہ پہننا ہی تها۔
صبح حیا کمرے سے باہر نہیں آئی تهی۔ وہ کافی دیر اس کا انتظار کرتا رہا، کہنا کچھ بهی نہیں تها، بس اسے دیکھنا تھا، وہ شاید سو رہی تهی، سو بلاآخر اس نے وہیں اوپر والے کمرے سے اسے کال کی_۔
وہ اسے اس پزل باکس کے بارے میں بتانا چاہتا تها مگر مجال ہے جو وہ لڑکی کسی کی پوری بات سنے۔ اس نے حسب معمول اس کو لعنت ملامت کر کے فون بند کر دیا۔ اب کیا کرے؟خیر، پزل باکس اس تک وہ پہنچا ہی دے گا کسی نہ کسی طرح۔
حماد نے تو سننے سے ہی انکار کر دیا۔
معاف کرنا مگر میں ان کی خوش اخلاقی سہہ نہیں پاؤں گا، مجهے معاف رکهو بهائی!
مگر وہ جانتا تها کہ جب وہ اصرار کرے گا تو حماد کو مانتے ہی بنے گی۔ اور یہی ہوا۔
وہ مان گیا۔ بس یہ آخری دفعہ ہے، پهر نہیں۔
شام میں وہ پهر سے حیا کو ڈهونڈ رہا تها۔ دونوں کی کوئی خاص بات نہیں ہو سکی تھی پاکستان آ کر۔ اب اس کے پاس یہی بہانہ تها کہ وہ اس سے فلائٹ کا پوچھ لے گا۔ گریٹ!
وہ اس سے یہیں پوچهنے فرقان ماموں کے گهر آیا تها، اور اسے اس وقت وہ سیڑھیوں سے اترتی دیکهائی دی۔ بہت سی لڑکیاں اچھے کپڑے پہنتی ہیں، اس کی چال کی بے نیازی، کسی ملکہ کی طرح سہج سہج اترنا، وہ واقعی بہت خوبصورت تهی۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں یہی ”مگر“ ہر دفعہ آ جاتا تها۔ جس وقت وہ سیڑهیاں اتر رہی تهی، وہاں آس پاس کتنے کزنز گهوم رہے تهے۔ سب اس کو گاہے بگاہے دیکھ رہے تھے، اور یہیں آ کر اس کی پیشانی پہ بل پڑ جایا کرتے تھے۔
وہ اس سے کوئی بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا تها، مگر اس وقت جب وہ بات کرتے ہوۓ اس کے ساتھ آکهڑی ہوئی تو زاہد ماموں کی چهوٹی بیٹی ثناء ان کی تصویر کهینچنے لگی۔ وہ جانتا تها کہ یہ لڑکی فورا سے یہ تصویر فیس بک پہ لگا دے گی، اور ایسی بداحتیاطی وه افورڈ نہیں کر سکتا، سو ثناء کو ذرا سا ڈانٹ دیا۔ اب وہ دوباره اس کی تصویر کهینچنے کا سوچے گی بھی نہیں۔
اور حسب معمول، اس کے کسی اور مقصد کے لیے کیے جانے والے عمل سے آخر میں ہرٹ حیا ہوئی تهی۔
* * * *
مہندی کے فنکشن میں وہ فرقان ماموں کے ساتھ بیٹھا رہا تھا۔وہ ایک دفعہ پھر وہی پرانے قصے لے کر بیٹھ گئے تھے۔ کس طرح انہوں نے سبین کی مدد کرنی چاہی، مگر کس طرح سبین نے مدد نہیں لی۔ وہ خاموشی سے سر ہلاتا رہا۔ کوئی اعتراض نہیں، کوئی اختلاف نہیں۔ کمانڈو ٹریننگ کے دوران ایک مرحلہ ایسا ہوا کرتا تھا جس پہ لڑکے ضبط ہار دیتے تھے، وہ تب ہارتے جب ٹرینر ان کے منہ پہ تھوکتا۔ اس کے ایک دوست نے ایسے موقعے پہ اپنے ٹرینر کو طمانچہ دے مارا تھا ،سو اسی وقت اسے بتا دیا گیا کہ وہ کمانڈو نہیں بن سکتا۔ جہان کے منہ پہ بھی آفیسر نے تھوکا تھا، وہ خاموشی سے کھڑا رہا۔ ایک دفعہ، دو دفعہ، کئی دفعہ تھوکا گیا، گالیاں دی گئیں، مگر اس نے صبر نہ ہارا اور وہ پاس ہو گیا۔
اب بھی اس نے خود کو ایسے ہی پاس کر دیا تھا۔
* * * *
فنکشن کے دوران بدمزگی تب پھیلی جب ایک دم سے لائٹ چلی گئی۔ اس کے ماموؤں کے گھر میں لائٹ کا مسئلہ کبھی نہ ہوتا اگر جنریٹر جواب نہ دے دیتا۔ ایک دم سے دھکم پیل مچ گئی تھی۔ مکینک کا انتظار، شور، افراتفری۔ کوئی خود ہاتھ پیر ہلانے کے لئے تیار نہ تھا، بس مکینک آئے گا تو ٹھیک کر لے گا۔ وہ کچھ دیر بیٹھا رہا، پھر اسے کوفت ہونے لگی۔ یہ لوگ دوسروں پہ انحصار کیوں کرتے ہیں؟ اپنے مسئلے خود حل کیوں نہیں کرتے؟
وہ اٹھا، اور چپ چاپ جنریٹر کا معائنہ کرنے لگا۔ ذرا سا مسئلہ تھا، اور طوفان ایسے مچا دیا تھا سب نے۔ پانچ منٹ بھی نہیں لگے اسے سب ٹھیک کرنے میں اور تب تک وہ پورے مجمعے کی توجہ پا چکا تھا۔ یہ چیز زیادہ کوفت دلانے والی تھی۔ وہ ہاتھ دھونے کے بہانے جلد ہی اندر چلا گیا، البتہ وہ جانتا تھا کہ سارا وقت حیا بہت مسرور انداز میں اسے دیکھتی رہی تھی۔ وہ جیسے اس پہ فخر کر رہی تھی۔
بعد میں سب مرد لاؤنج میں بیٹھ گئے، تو وہ بھی وہیں بیٹھا رہا۔ لاشعوری طور پر وہ حیا کا منتظر تھا۔ کب وہ آئے گی، اور وہ اسے دیکھ سکے۔ بہت دیر بعد وہ نظر آئی، ساتھ میں زاہد ماموں کی چھوٹی بیٹی بھی تھی، وہ دونوں کچن کی طرف جا رہی تھیں۔ اسے ابھی حیا کو دیکھ لینے کی ٹھیک سے خوشی بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس نے محسوس کیا، جب وہ چلتی ہوئی جا رہی تھی تو سب کزنز اسے ہی دیکھ رہے تھے، یہاں تک کہ داور بھی۔ اسے غصہ چڑھا، اتنا شدید کہ حد نہیں۔ مگر وہ کیا کر سکتا تھا۔ وہ تو اپنی ماں تک پہ کچھ امپوز نہیں کر سکا تھا کبھی، اپنی بیوی پہ کیا کرتا؟
پھر اک دم سے کہیں سے زاہد ماموں کی بیٹی جس کی شادی تھی، تن فن کرتی آئی اور داور کے اونچا بولنے کے سبب اس کو سنا کر واپس ہو لی۔ وہ واقعی شاکڈ ہو گیا، اور کچھ پچھلا غصہ بھی تھا، وہ اک دم سے کھڑا ہو گیا۔ باقی سب بھی اس کے پیچھے باہر آئے تھے۔
کسی نے البتہ اس لڑکی کو نہیں ٹوکا۔ کسی نے اسے نہیں ڈانٹا۔ کسی نے اسے وہ باتیں نہیں سنائی جو انہوں نے کئی برس پہلی اس کی ماں کو سنائی تھیں۔ تب بھی فرقان ماموں لوگ ان کے لاؤنج میں تھی، تب بھی وہ یونہی اٹھے تھےاور باہر نکل گئے تھے، مگر اب نکلنے سے قبل کسی نے کچھ نہیں کہا تھا۔ کیا فرق تھا دونوں واقعات میں؟
ممی نے ان کی بے عزتی نہیں کی تھی، وہ گواہ تھا۔ مہوش نے داور کی بلکہ سب کی بے عزتی کی، وہ اس کا بھی گواہ تھا۔ پھر کیوں مہوش کو ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا؟
کیونکہ وہ اثر و رسوخ والے باپ کی بیٹی تھی، کیونکہ اس کا باپ سامنے بیٹھا تھا، کیونکہ اس کا ہونے والا شوہر بہت امیر کبیر تھا۔ اور ممی کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا اس وقت۔
اور ہاں! یہ اس کا ہونے والا شوہر، چلو وہ بھی دیکھے گا کتنا عرصہ اس کے امیر ہونے کا ڈھکوسلہ چلتا ہے۔ جس طرح اس لڑکے کا بڑا بھائی بار بار اپنی دولت کی وجہ بتا رہا تھا، صاف ظاہر تھا کہ وہ ایک دم سے آئی ہوئی بلیک منی کی صفائی دے رہے ہیں۔ گدھے!
مہوش کی بدتمیزی کے بعد جب سب بنا کھانا کھائے وہاں اٹھ آئے تو اس کے ذہن میں صرف یہی تھا کہ سلیمان ماموں نے کھانا نہیں کھایا۔ حیا نے باہر کھا لیا تھا، مگر ماموں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ان کی اتنی پرواہ کیوں کر رہا ہے؟ پتا نہیں مگر جو بھی ہو، ماموں ،ماموں تھے۔ سو حیا کے ساتھ مل کر اس رات اس نے صرف سلیمان ماموں کے لئے پاستا بنایا تھا۔ اور یوں ان دونوں کے درمیان سرد مہری کی دیوار بھی اسی طرح پگھل گئی تھی۔
ماموں حیران تھے مگر زیادہ ظاہر نہیں کیا۔ وہ اس سے خفا رہتے تھے وہ جانتا تھا، مگر اب شاید حالات بدل جائیں۔ شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے روز حماد کی بہت منت کر کے اس نے وہ باکس حیا تک پہنچا ہی دیا۔ اس کے اندر جواہر کے ایک لاکر کی بار کوڈ سلپ اور اندرونی تجوری کی چابی تھی۔ لاکر ابھی خالی تھا، مگر وہ واپس جاتے ہی کچھ ریکارڈ کر کے اس میں رکھ دے گا، اس نے سب سوچ رکھا تھا۔ بس اس کے لیے اسے حیا کو واپس لے جانا ہو گا۔
لازما۔
ان چند دنوں میں اس کے باقی رشتہ داروں سے بھی تعلقات بہتر ہوتے گئے۔ مہوش کی چھوٹی بہن سے لے کر سلیمان ماموں تک، اب کوئی اس سے ناراض نہ تھا۔ جب وہ بعد میں اپنی جاب کے متعلق بتائے گا، تو ان کا کیا ردعمل ہو گا، وہ نہیں سوچنا چاہتا تھا۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی، ابھی تو اسے سب سیٹ رکھنا تھا۔
اس رات حیا نے پزل باکس اسے ہی لا کر تھما دیا۔ پہلے تو وہ واقعی گڑبڑا گیا کہ وہ جان چکی ہے، اور اب اس کا حساب لینے آئی تھی، مگر نہیں، وہ صرف باکس کھولنے میں مدد چاہ رہی تھی۔
پاگل لڑکی، یہ رازداری سے رکھنے والی چیز تھی، وہ کیا اب ہر کسی سے یوں ہی مدد مانگتی پھرے گی۔
اس کا علاج کرنا ضروری تھا۔ سو اس نے فورا ہی چھرا اور ہتھوڑا مانگا۔ حیا نے گھبرا کر باکس واپس لے لیا۔ چلو اس کو اس کی توڑ کر نہ کھولنے والی خواہش کا احترام تو تھا ہی۔ اب اس کے لاکر سے ویڈیو نکالنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ واپس استنبول جائے۔ ایک وقت تھا جب وہ اسے روکنا چاہتا تھا، مگر آج وہ خود سلیمان ماموں کے پاس گیا کہ وہ انہیں سمجھا سکے۔
وہ کمرے میں اکیلے تھے، وہ سامنے کرسی پہ بیٹھ گیا، چھوٹی چھوٹی باتوں سے آغاز کیا، وہ خاموشی سے اسے سنتے رہے۔
تم اور کیا کرتے ہو، ریسٹورنٹ کے علاوہ؟
انہوں نے سادہ سے انداز میں پوچھا، وہ ذرا دیر کے لیے ٹھٹھکا۔ وہ کچھ جانتے تو نہیں تھے؟ آرمی کے بارے میں وہ نہیں جان سکتے تھے وہ، مگر کہیں عبدالرحمن پاشا والے کور کے بارے میں تو کچھ نہیں جانتے تھے؟ یا شاید روحیل نے امریکہ والی بات کا ذکر کیا ہو، مگر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ان کی تسلی کرتا گیا، پورے اعتماد کے ساتھ۔ پھر اس نے حیا کی بات کی۔ اور جب یہ کہا کہ اگر وہ واپس نہیں جائے گی تو کبھی ڈی جے کے دکھ سے نکل نہیں سنبھل پائے گی تو سلیمان ماموں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے اجازت دے دی۔ انہیں اس کا حیا کے لیےفکرمند ہونا اچھا لگا تھا۔
* * * *
سب ٹھیک جا رہا تھا۔ وہ دونوں واپس آئے تو اس کا ارادہ تھا کہ وہ کچھ دن اسے اپنے گھر رکنے کا کہے گا۔ آہستہ آہستہ وہ اس کا لاکر ڈھونڈھ لے گی اور اس سے پہلے کہ وہ کسی دوسرے کے منہ سے کچھ سنے، وہ ویڈیو اسے مل جائے گی۔ پھر وہ مل کر کچھ فیصلہ کریں گے کہ آگے زندگی انہیں کیسے گزارنی ہے۔ سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا۔
پاکستان سے واپسی پہ اس کے سر کا درد بڑھتا ہی گیا تھا، اور اس کے باعث اسے بخار ہو گیا تھا۔ پہلے دن تو حیا چلی گئی، اس نے کہا تھا وہ کل آئے گی، ابھی وہ سبانجی دیکھنا چاہتی تھی۔ ڈی جے کی وجہ سے یقیناً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس رات کے لئے حیا نے آنے کا کہا تھا، اس شام سے ہی اس کا سر درد ناقابل برداشت صورت اختیار کر گیا تھا۔ ایسا لگتا تھا، ابھی سر پھٹ جائے گا۔ وہ اپنا کام خود کر لیتا تھا، مگر آج عرصے بعد اس نے ممی سے کہا کہ وہ اسے دودھ گرم کر کے لا دیں اور ساتھ میں نیند کی گولی بھی۔ ممی فورا دونوں چیزیں لے آئیں۔ ذرا پریشان بھی ہو گئیں۔ ان کو فکر نہ کرنے کا کہہ کر اس نے دوا لی اور پھر لیٹ گیا۔ حیا آئے گی تو وہ اٹھ جائے گا۔ ابھی تھوڑا سو لے۔ نیند میں جاتے ہوئے بھی اس کے اندر متضاد سی جنگ چھڑی ہوئی تھی کہ وہ اپنا ایم آر آئی پھر سے کروائے یا اس درد کو نظر انداز کرتا رہے؟
وہ کسی بری خبر سے ڈرتا تھا۔
اس کا کیریئر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی منزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناکارہ فوجی قرار دے کر ریٹائرمنٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ مسلسل بجتی گھنٹی سے کھلی۔ اس نے اٹھنا چاہا تو سر بے حد وزنی ہو رہا تھا۔ بمشکل وہ کہنی کا سہارا لے کر سیدھا ہوا، اور فون دیکھا۔
سفیر عثمان
جب اس نے فون کان سے لگایا تو اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار اندھیرا چھا رہا تھا اور جب اس نے سفیر کی بات سنی تو اسے جیسے زور کا چکر آیا تھا۔
آبی (بھائی) ایک لڑکی کا فون آیا ہے، وہ اپنا نام حیا بتا رہی ہے، اور وہ کہہ رہی ہے کہ اسے اغوا کر لیا گیا ہے!
وہ رات شاید اس کی زندگی کی طویل ترین رات تھی۔ انڈیا میں را کی تحویل میں گزری راتوں سے بھی زیادہ تلخ، زیادہ تکلیف دہ اور زیادہ بھیانک۔
اسے لگا تھا، وہ حیا کو کھو چکا ہے۔ صرف اس لیے کہ وہ اس کی نگرانی نہیں کر سکا۔ وہ اس کی حفاظت نہیں کر سکا، وہ لوگ اسے اغواء کر چکے تھے۔ صرف اس لیے کہ اس رات عبدالرحمٰن پاشا سو گیا تھا۔ وہ اس کو لے گئے تھے۔ وہ کیا کرے؟ وہ کدھر جائے؟ وہ کیا کرے گا اب؟
وہ بمشکل بستر سے اٹھا، چہرے پہ پانی بھی نہیں ڈالا، بس جیکٹ اٹھائی، پستول جیب میں رکھا، اپنا خاص چاقو جراب کے ساتھ باندھا، اور فون ہاتھ میں لیے باہر بھاگا۔ گاڑی تک آتے آتے اس کو چکر آ رہے تھے۔
باہر سردی تھی۔ ہڈیوں کو جما دینے والی سردی۔ اور اندھیرا۔ دنیا جیسے ختم ہو کر برف کا ڈھیر بن گئی تھی۔ وہ رات برف جیسی رات تھی۔ سرد اور کہر آلود۔ سفید اور ٹھنڈی۔
کار اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے سفیر کو کال بیک کیا۔
کچھ بتایا اس نے؟ وہ کدھر ہے؟
بوسفورس برج کہا تھا، میں کال بیک کر رہا ہوں مگر کال نہیں جا رہی۔ اس کا نمبر رومنگ پہ ہے اور بیلنس ختم ہو گیا ہو گا۔”
مگر مسئلہ یہ تھا کہ بوسفورس برج بھی تو دو تھے۔ ایک فرسٹ بوسفورس برج جس کو عرف عام میں “بوسفورس برج“ کہا جاتا تھا اور دوسرا سیکنڈ بوسفورس برج جس کا عام نام سلطان احمد برج تھا۔ یہ پل سلطان احمد مسجد (نیلی مسجد) کی پشت پر ہی تھا۔
چونکہ حیا نے سفیر کو پاکستانی موبائل سے کال کی تھی، اس لیے اس نے سب سے پہلے اپنے ٹریسر کا اسٹیٹس چیک کیا۔ وہ واقعی سلطان احمد برج کے قریب میں ہی کہیں تھا۔ دوسرا ٹریسر جواب نہیں دے رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں سکا کہ حیا نے اسے کال کیوں نہیں کی۔ اس نے عثمان شبیر سے مدد مانگی، مگر اس سے کیوں نہیں۔ نہ جہان سے، نہ عبدالرحمٰن سے۔ کیوں؟ ان سے کیوں نہیں ؟
لیکن ابھی یہ ثانوی باتیں تھیں۔ اسے جلد از جلد حیا کو ان لوگوں کے شکنجے سے نکالنا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کون لوگ ہوں گے۔
وہ آرگنائزڈ کرمنلز تھے جو لڑکیوں کو اغوا کرتے تھے اور استنبول میں ان کے بہت سے گروہ کام کر رہے تھے۔ ترکی اس شے کے لیے خاصا بدنام تھا۔ روس، یوکرائن اور مالدووا کی لڑکیاں نوکری کے لالچ میں ادھر لائی جاتیں اور بیچ دی جاتی تھیں پھر زبردستی ان سے وائٹ سلیوری کرائی جاتی، یعنی کال گرلز بنا دیا جاتا اور ان سے پیسے وصولے جاتے۔
جتنا وہ سمجھ پایا تھا، وہ کسی شپ پہ تھی۔ وہ لوگ اسے کہیں دور لے جا رہے تھے۔ سلطان احمت برج پہ پہنچ کر اس بات کی تصدیق بھی ہو گئی۔
ایک شپ سامنے ہی تھا۔ اس کا ٹریسر بھی وہیں کا اشارہ دے رہا تھا۔ وہ وہیں تھی۔ جہان پل پہ کھڑا تھا تو وہ چند کوس دور تھی۔ برف کی طرح ٹھنڈی رات میں وہ اس کے پاس ہوتے ہوئے بھی بہت دور تھا۔ سلیمان ماموں سے حیا کا خیال رکھنے کا وعدہ بھی نہ نبھا سکا تھا وہ۔ بے بسی کی انتہا تھی۔
اس نے پھٹتے سر اور تناؤ کا شکار اعصاب کے ساتھ سوچنے کی کوشش کی، اب وہ کیا کرے؟ وہ اکیلا آدمی ان کے کسی شپ پہ حملہ تو نہیں کر سکتا تھا۔ اسے پولیس کی مدد چاہیے تھی۔ اسے فورس چاہیے تھی۔
ایسے لوگ جو اس کے کہے سے آگے پیچھے نہ ہٹیں، سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اسے صرف حیا کو بچانا ہی نہیں بلکہ میڈیا اور تفتیشی افسران کی نظروں سے اس کو دور بھی رکھنا تھا۔
اس کہر آلود، یخ بستہ رات میں وہیں کھڑے کھڑے اس نے اپنے تمام کانٹیکٹس استعمال کیے۔ بے حد شدید سر درد اور بار بار دھندلی پڑتی بصارت کے ساتھ وہ پل کے اس پار کھڑا تھا۔
ایک خوف جو ہر سو اس کے ساتھ تھا۔ کہیں وہ دیر نہ کر دے، کہیں کچھ برا نہ ہو جائے۔ بہت عرصے بعد اس نے خود کو اتنا بے بس اور مضطرب محسوس کیا تھا۔
وہ عبدالرحمان پاشا تھا مگر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ عبدالرحمان پاشا ایک بڑے نام کے سوا کچھ نہ تھا۔
استنبول میں خفیہ پولیس کی ایک برانچ ” ٹرسٹ ٹیم ” کہلاتی تھی۔ یہ سادہ کپڑوں میں سڑکوں پہ پٹرول کرنے والے اہلکار تھے۔ بہت قابل تھے اور ان سے اس کی اچھی شناسائی تھی۔ ایک آفیسر کے لیے تو اس نے کئی کام بھی کر کے دیے تھے، صرف اس لیے کہ کل کو وہ اس کے کام کر کے دے گا، اور اب وہ وقت آن پہنچا تھا جب اسے احسان کا بدلہ احسان سے چاہیے تھا۔
ٹرسٹ ٹیم کا وہ یونٹ جلد ہی جگہ پہ پہنچ گیا۔ ایک ایک منٹ قیمتی تھا۔ انہوں نے علاقے کو گھیر کر باری باری، خاموشی سے شپ پہ اترنا شروع کر دیا۔ چند بندے پکڑے اور چند کو گرایا۔ کسی کے سر پہ پستول رکھ کر لڑکیوں کا پوچھا، اور بالآخر ان کو وہ راہداری مل ہی گئی جہاں ایک کمرے میں لڑکیاں بند تھیں۔
وہ اس کمرے کا دروازہ کھول کر داخل ہونے والوں میں سب سے آگے تھا۔ اندر ایک دم روشنی کی گئی، اندھیرے میں بے ہوش، نیم جان پڑی لڑکیاں بہت بری حالت میں تھیں۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور حیا کو ڈھونڈھنا چاہا۔ کئی لڑکیوں کے چہرے دائیں بائیں ڈھلکے ہوئے تھے، اس نے ایک ایک چہرے کو موڑ کر دیکھا۔ حیا کہیں بھی نہیں تھی۔
یہ کیسے ہو سکتا تھا؟
آفیسر اپنی کاروائی کر رہے تھے، وہ کمرے سے باہر بھاگا۔ ایک آفیسر اس کے پیچھے آیا تھا۔ وہ پوچھ رہا تھا کہ اسے اس کی لڑکی ملی یا نہیں۔ وہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ بس اس نے موبائل سے ٹریسر اسٹیٹس چیک کیا۔ وہ آس پاس ہی تھی مگر کدھر؟
شپ کے ایک بندے کو ایک اہلکار نے اپنے نرغے میں لے رکھا تھا۔ وہ ان سے ان کے بڑوں کا پوچھ رہے تھے۔ وہ ہکلاتے ہوئے اندر کی طرف جاتی راہداری کا بتانے لگا۔ جہان نے پوری بات نہ سنی۔ وہ اس طرف بھاگا۔ ساتھ ہی اس نے حیا کو کال ملائی۔ حیا کا فون رومنگ پہ تھا، اور کال نہیں جا سکتی تھی کیونکہ بیلنس ختم تھا، مگر اس نے سسٹم ہیک کر کے کال ملائی، اور یہ سب تب ہوا جب وہ اور ساتھی افسر دوڑتے قدموں سے راہداری میں بھاگتے جا رہے تھے۔
* * * *
اور تبھی اس نے ایک کمرے کے پیچھے سے اس نے حیا کی چیخیں سنیں۔ وہ رک گیا۔ اس آواز کو وہ اچھے سے پہچانتا تھا۔ یہ حیا ہی تھی۔ اس کا دماغ گول گول گھومنے لگا۔ وہ دیوانہ وار چیخ رہی تھی۔ اسے لگا وہ اس کو کھو چکا ہے۔ وہ ناکام ہو چکا ہے۔ وہ اسے محفوظ نہیں رکھ سکا۔ وہ اپنی بیوی کی حفاظت نہیں کر سکا۔
وہاں مزید لوگ بھی آ گئے تھے۔ دو آفیسرز کمرے کے دروازے کی درز سے اندر دھواں پیدا کرنے والے بم چھوڑنے لگے، وہ ہر چیز سے بے نیاز دروازے کو زور زور سے ٹھوکر مارنے لگا۔ وہ چیخ رہی تھی، کمرے میں یقینا دھواں بھر رہا ہو گا اور وہ چیخے جا رہی تھی۔ ایک مردانہ آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔
زور دار ٹھوکر کے ساتھ دروازہ کھلا، وہ لوگ کسی سیلاب کی طرح اندر داخل ہوئے، عین اسی وقت اس آدمی نے اس کی بیوی کو آتش دان پہ پھینکا تھا۔
وہ اس کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ منظر تھا۔ کمرے میں بہت سا دھواں پھیلا تھا۔ وہ برف کی رات نہیں تھی۔ وہ آگ کی رات تھی اور وہ کرسی پہ بندھی، زخمی، دھکائے گئے بازو کے ساتھ، آگ کے قریب اوندھے منہ گری ہوئی تھی۔ اس کے لباس کا دامن جل رہا تھا مگر باقی اس کا لباس ٹھیک تھا۔
ایک آفیسر تیزی سے اس کے لباس کو بجھانے لگا۔ جہان حیا کی طرف نہیں گیا، وہ تیزی سے اس پستہ قد روسی کی جانب بڑھا تھا جس نے اس کی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی کہ وہ اس کی بیوی کو ہاتھ بھی لگائے؟
سردرد، بخار، فرسٹریشن اور غصہ، ایک جنون تھا جو اس پر سوار ہو گیا تھا۔ اس نے اس روسی کو گردن سے پکڑا اور پھر اسے دھکیلتے ہوئے اس کا سر دیوار سے دے مارا۔ روسی نے جواب میں اس کے سینے پہ زور سے لات ماری وہ لمحے بھر کو سنبھل نہ سکا اور پیچھے جا کر لگا سر پہ چوٹ لگی، پہلے سے موجود دردر جیسے پھٹنے کے قریب آ گیا۔ مگر اگلے ہی پل وہ دیوانہ وار آگے بڑھا اور روسی کو پھر سے گردن سے دبوچا۔ اسی جنون آمیز انداز میں اب وہ اس کا سر بار بار دیوار سے مار رہا تھا۔ لہولہان ہوئے روسی نے جوابی حملہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ نہیں رکا۔ اگر اس کا دوست آفیسر اس کو نہ پکڑتا تو شاید وہ اسے جان سے مار چکا ہوتا۔ بمشکل ان لوگوں نے اندونوں کو چھڑایا۔
اپنے ہونٹ سے رستا خون جیکٹ کی آستین سے صاف کرتے ہوئے وہ خود کو آفیسر کی گرفت سے چھڑاتا ہوا تیزی سے حیا کی جانب بڑھا۔
تب تک وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ شاید اس نے دھویں سے بھرے کمرے میں بھی اسے پہچان لیا ہو، گو کہ یہ مشکل تھا مگر یہ وقت یہ باتیں سوچنے کا نہیں تھا۔ وہ ابھی صرف اور صرف اس کی خیریت چاہتا تھا۔ وہ زخمی تھی۔ اس کا خون نہیں نکل رہا تھا، مگر اس کو جلایا گیا تھا، داغا گیا تھا، اس کے سر پہ گرم مائع گرا تھا۔ اسے جلد از جلد طبی امداد چاہیئے تھی۔
اگر وہ عبدالرحمن پاشا نہ ہوتا تو وہ سیکورٹی آفیسر کبھی بھی بازیاب ہونے والی لڑکیوں کی تعداد چونتیس سے پینتیس لکھنے پہ اور اسے خاموشی سے اپنی دوست کو اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہ دیتا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: