Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 57

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 57

–**–**–

ٹرسٹ ٹیم نے اس کے ساتھ تعاون کیا تھا البتہ اسے پتا تھا کہ اس کیس کی مزید تفتیش کے لیے اسے بار بار بلایا جائے گا، وہ بھلا اسے سینکڑوں دفعہ بلوا لیں مگر حیا کو نہیں۔ وہ اسے ان سب سے دور کرنا چاہتا تھا- وہ اس کے لیے یہی کر سکتا تھا-
اس سب کے باوجود وہ جانتا تھا کہ وہ اس پہ کوئی احسان نہیں کر رہا۔ یہ سب اسی کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس نے ہاشم کو گرفتار شدگان میں دیکھا، اور جیسے کسی نے اس کے اوپر دہکتے کوئلے ڈال دیے تھے۔ ہاشم، جس کو اس نے حیا کا تعاقب کرنے کا کہا تھا۔ وہ ہاشم اس کی بیوی کو بیچ آیا تھا- یہ سب اس کا اپنا قصور تھ۔ا اس نے غلط آدمی پہ بھروسہ کیا، اس نے اپنی وجہ سے حیا کو اتنا نقصان اٹھانے پہ مجبور کر دیا۔ وہی ذمہ دار تھا اس سب کا۔
اپنے آپ کو ملامت کرتا وہ حیا کو وہاں سے لے آیا تھا۔ ایک ہی جگہ تھی جہاں وہ اس کو لے جا سکتا تھا۔ جہانگیر ممی کے پاس بھی نہیں، ممی یا کسی بھی رشتے دار کو کچھ پتا لگے، یہ نہیں ہونا چاہے تھا، چاہے وہ ممی ہی کیوں نہ ہوں۔ اب بس ایک ہی جگہ تھی۔
بیوک ادا۔
عائشے گل!
وہ اسے اسپتال نہیں لے جانا چاہتا۔ اگر وہ اسے اسپتال لے جائے گا تو صبح تک پورے ادالار کو خبر ہو جائے گی۔ اپنے کسی آدمی پہ اسے بھروسہ نہ تھا کہ وہ حیا کو کسی دوسرے کے ساتھ ہسپتال بھیج دے۔ وہ اتنا ہرٹ اور اتنا پریشان تھا کہ وہ آخری جگہ جہاں سے بات باہر نہیں نکلے گی اسے ادالار میں اپنا گھر ہی لگی تھی۔
حیا کے زحم ایسے نہ تھے کہ اسے فوری طبی امداد کی ضرورت پڑتی۔ مرہم پٹی تو خود بھی اس کی کر سکتا تھا۔ مگر سارا مسئلہ اس کے بالوں کا تھا، اگر وہ خراب ہو گئے تو وہ ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر سکے گا۔
ابھی جلد از جلد اس کے بالوں سے ویکس اتارنا تھا اور اس سلسلے میں عائشے اس کے لیے کچھ کر سکتی تھی۔
عائشے کو ان کاموں کا کوئی تجربہ نہ ہو گا، وہ کوئی پیرا میڈیکل اسٹاف نہیں تھی، وہ تو چھوٹی سی لڑکی تھی۔ مگر وہ ایک بات جانتا تھا۔ وہ اس لڑکی پہ بھروسہ کر سکتا تھا۔ آگے عائشے کیسے حیا کے بال ٹھیک کر سکتی تھی، یہ عائشے کا مسئلہ تھا۔ خوف اور اچانک پڑی افتاد انسان کا اصل پوٹینشل اس کے سامنے لاتے ہیں، اور وہ اس طرح کے شدید حالات میں ایسے کام کر جاتا ہے جو عام زندگی میں اسے لگتا ہے کہ اس سے کبھی نہیں ہو پائیں گے۔ اس وقت بھی اسے عائشے سے اسی پوٹینشل کی امید تھی۔ وہ عبدالرحمن کے لیے کچھ نہ کچھ کر لے گی۔
عائشے اور بہارے اس روز اکیلی تھیں۔ آنے کچھ رشتے داروں سے ملنے شہر سے باہر گئیں تھیں۔ وہ پچھلے دروازے سے گھر میں داخل ہوا تھا اور اس بےہوش، زخمی لڑکی کو اس نے بالائی منزل پہ بنے اپنے پرتعیش سے بیڈروم کے بیڈ پہ لٹا دیا۔ تب بھی وہ بے ہوش تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کون ادھر تک لایا ہے، اس برف اور آگ کی رات میں!
وہ تیزی سے زینے پھلانگتا نیچے آیا اور عائشے کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دھڑ، دھڑ، دھڑ، اس نے دروازہ پیٹ ڈالا تھا۔
کیا ہوا؟کون؟
عائشے سر پہ اسکارف لپیٹتی، نیند سے گبھرا کر اٹھی اور باہر نکلی تو اسے سامنے دیکھ کر حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں۔
تم۔ تم انڈیا سے کب آئے۔
اور اسے تب یاد آیا کہ ادالار والوں کے لیے وہ انڈیا ہی میں تھا۔
آج ہی آیا تھا۔ مجھے تمہاری مدد چاہیے۔ اوپر آؤ۔ جینز اور سویٹر، رف حلیہ، بکھرے بال، عینک غائب، یہ وہ عبدالرحمن تو نہیں تھا جسے وہ جانتی تھی۔
مگر جیسے کہ اس نے کہا، وہ دونوں بہنیں اٹھ کر اس کے ساتھ اوپر آئیں۔ سارا معاملہ ان کو سمجھا کر جہان نے جب مدد کے لیے کہا تو عائشے تذبذب سے بیڈ پہ پڑی حیا کو دیکھنے لگی۔
تم اسے ہسپتال لے جاؤ۔ یہی ٹھیک رہے گا، مجھے تو کچھ نہیں سمجھ آ رہا۔
نہیں! کل صبح ہم ڈاکٹرگھر پہ بلا لیں گے، ابھی مجھے صرف اس کے بال بچانے ہیں۔ تم کسی طرح یہ ویکس اتار دو!
تمہیں کیوں لگتا ہے، کہ میں یہ کر سکوں گی؟ تم خود ہی تو کہتے ہو عائشے گل کبھی کچھ نہیں کر سکتی۔ اس نے ملال سے کہتے ہوئے بے ہوش پڑی لڑکی کے چہرے کو دیکھا۔ وہ اکثر یہ بات کہہ دیا کرتا تھا تا کہ عائشے سب کچھ کرنا سیکھ جائے۔
پلیز عائشے! کچھ کرو۔ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے اور اگر تم کچھ نہ کر سکتی ہوتیں تو میں فیور لینے تمہارے پاس کیوں آتا؟
وہ اس کے سامنے کھڑا، بہت ٹوٹے ہوئے لہجے اور ستے چہرے کے ساتھ کہہ رہا تھا۔
اوکے! ہم کوشش کرتے ہیں۔ اس کے انداز میں کچھ تھا کہ عائشے سوئیٹر کی آستین پیچھے چڑھاتی اتھی اور غنودہ لڑکی کے سرہانے آ بیٹھی۔ بہارے البتہ صوفے پہ بیٹھی ہتھیلیوں پر چہرہ گرائے گہری سوچ میں گم تھی۔
“کچھ بھی کرو، مگر مجھے اس کے بال واپس چاہئیں۔ وہ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے پھر سے جیسے منت کر رہا تھا۔ اس کے چہرے پہ زمانوں کا کرب و تکلیف رقم تھی۔ اس کے بال بہت خوبصورت ہیں اور مجھے وہ واپس چاہئیں۔
کیا وہ تمہیں اچھی لگتی ہے۔ بہارے نے بہت سوچ کر سوال کیا، عائشے نے تادیبی نظروں سے اسے گھورا مگر وہ جہان کی طرف متوجہ تھی۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے سر اثبات میں ہلایا۔
بہت زیادہ
اور اگر اس کے بال خراب ہو جائیں تو یہ تمہیں اچھی نہیں لگے گی۔
بس بہت ہو گیا، بہارے گل! عائشے نے سختی سے اسے ٹوکا، تو اس نے منہ بسور کر سر جھٹکا۔
وہ مجھے تب بھی اچھی لگے گی۔ کچھ دیر بعد وہ مضبوط لہجے میں بولا تو بہارے نے ناک سکیڑ کر منہ پھیر لیا۔ اسے جیسے یہ بات بالکل بھی پسند نہ آئی تھی۔
عائشے اب اس کے بالوں کو چھو کر دیکھ رہی تھی۔
ویکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویکس کھینچ کر اتاری جائے تو بالوں کو نقصان دے گی، لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ذہن پر زور ڈالنا چاہا۔ لیکن اگر اس کو ہم پگھلا کر اتاریں تو یہ اتر جائے گی، مگر Scalp کو جو نقصان پہنچا ہو گا، وہ۔
تم Scalp کے زخموں کی فکر مت کرو، صرف یہ ویکس اتارو۔
ہاں! بعض دفعہ ہاتھ پہ بھی گرم گرم گر جاتی ہے، اتنا نقصان نہیں ہوتا جو بھی زخم ہیں، وہ بھر جائیں گے مگر اس کو کیسے پگھلائیں؟ وہ بے بسی سے بولی۔ آخر کون سی چیز ہے جو ویکس گھول سکتی ہے؟ عائشے جمے ہوئے ویکس کو ہاتھ سے چھو کر دیکھتی سوچ میں پڑ گئی تھی۔
گرم پانی؟ مگر عائشے نے نفی میں سر ہلایا۔
ہم اس کا چہرہ بچائے بغیر گرم پانی میں نہیں ڈال سکتے۔ ویکس اس کی مانگ پر گری ہے۔ ہمیں بہت ابلتا ہوا گرم پانی چاہیئے ہو گا، مگر اس کے چہرے کو وہ جلا دے گا! صرف بالوں پر کچھ لگانا ہو گا! پھر وہ ایک دم چونکی۔ شیمپو۔ ہاں شیمپو ہے جو ویکس کو گھول سکتا ہے۔ شیمپو بالوں پر لگی چیزوں کو گھول سکتا ہے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جوش سے کہتی کہتی رکی۔ جہان اور بہارے منتظر سے اسے دیکھ رہے تھے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ عموما تمام شیمپوز میں ویکس پہلے سے وجود ہوتی ہے، ہمیں کوئی ایسا شیمپو استعمال کرنا ہو گا۔ جس کے اجزاء میں ویکس شامل نہ ہو۔ ایسا کون سا شیمپو ہے جس میں ویکس موجود نہیں ہوتی؟
سن سلک! وہ ایک دم سر اٹھا کر بولا۔ سن سلک میں ویکس نہیں ہوتی۔
تمہیں کیسے پتا۔ بہارے نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
جب میں جیل میں تھا تو وہاں ایک مرتبہ باتھ روم میں سن سلک کی بوتل قسمت سے مجھے دی گئی تھی۔ میں نے اس کے سارے اجزاء ترکیبی حفظ کر لیے تھے۔ مجھے یاد ہے ان میں ویکس نہیں تھی۔
تم جیل میں بھی رہ چکے ہو؟ عائشے کو جہاں شاک لگا، وہیں بہارے مارے ایکسائٹمنٹ کے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
واقعی، تم جیل میں بھی رہ چکے ہو؟ وہ بے حد متاثر ہو چکی تھی۔
ہاں! بس ایک دفعہ غلطی سے۔ بس ایک رات کے لیے۔ جاؤ تم سن سلک لے کر آؤ، میں اسٹڈی میں ہوں، مجھ سے یہ سب نہیں دیکھا جائے گا۔
دکھتے سر کے ساتھ وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں بتا پا رہا تھا۔ سو اٹھ کر اسٹڈی میں جا بیٹھا اور سگریٹ جلا لی۔ وہ آگ اور برف کی رات تھی۔ یہ خیال ہی کہ حیا کو نقصان پہنچا ہے، اس کے سارے جسم کو برف کی طرح ٹھنڈا اور مردہ کر دیتا تھا۔ اور پھر وہ آگ یاد آ جاتی، جو اس لڑکی نے سہی تھی۔ سب اس کا قصور تھا۔ اس آگ اور برف کی رات پہ وہی قصور وار تھا۔ اس کا دل بہت بری طرح سے دکھا ہوا تھا۔
اندر عائشے نے بہت مستعدی سے کام شروع کر دیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے ٹشو رول لیا، اور بہت سا ٹشو اچھے سے حیا کے سر پر اس جگہ لپیٹا جہاں ویکس گری تھی۔ پھر اوپر سے اس نے ہئیر ڈرائیر چلا دیا۔ تیز گرم ہوا ٹشو سے گزر کر اس کے بالوں کو چھونے لگی۔
عائشے اس طرح حیا کے سرہانے کار پٹ پہ گھٹنوں کے بل بیٹھی، ہئیر ڈرائیر پکڑے اس کے بالوں کے قریب آگے پیچھے کر رہی تھی۔
آہستہ آہستہ ٹشو تلے جمی ویکس پگھل کر ٹشو میں جذب ہونے لگی۔ جیسے ہی ٹشو کا وہ ڈھیر گیلا ہو گیا بہارے نے جلدی سے اسے حیا کے بالوں سے اتارا اور ٹوکری میں پھینکا۔ تب تک عائشے نیا رول کھول کر حیا کے بالوں میں لپیٹنے لگی تھی۔
یوں تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ ٹشو بدل دیتیں۔ بہت سارا ویکس یوں ہی اتر گیا، یہاں تک کہ اب ویکس کی آخری تہہ بالوں پہ جمی رہ گئی جس سے بال نظر آ رہے تھے۔ پتلی مگر سب سے مشکل تہہ۔
اس کے لیے اس نے شیمپو استعمال کیا۔ تولیے کو اس کی گردن کے آگے پیچھے پھیلا کر (کہ وہ عبدالرحمن کا بیڈ تھا اور اس پہ وہ ایک بھی داغ برداشت نہیں کرتا تھا) اس نے سپرے سے حیا کے بالوں کو گیلا کر کے نرمی سے ان پہ شیمپو کا مساج شروع کیا۔
امی! درمیان میں ایک دفعہ اس کی آنکھ بھی کھل گئی، شاید اس کی آنکھوں پہ پانی گرا تھا۔ اس نے فوراً بہارے کو آہستہ سے کہا۔
عبدالرحمن کو کہہ کر آؤ کہ وہ جاگ گئی ہے۔ عائشے کے ہاتھ ابھی جھاگ سے بھرے، حیا کے بالوں پہ تھے۔ بہارے سر ہلا کر تیزی سے باہر بھاگی۔
وہ اسی طرح اسٹڈی میں بیٹھا، کھڑکی سے باہر تاریک رات دیکھتا، سگریٹ پھونک رہا تھا۔ بہارے بھاگ کہ اس کے پاس آئی۔
وہ اٹھ گئی ہے، بس تھوڑی سی، زیادہ نہیں۔ اب کیا کریں؟
اس کے پکارنے پہ وہ چونکا۔ پھر چند لمحے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ پھر فوراً اٹھ کر باہر گیا۔ اس کا رخ ایٹک کی طرف تھا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک sleep spray تھا۔
اس کو اس کے تکیے پہ اسپرے کر دو وہ پھر سے سو جائے گی!
اس نے اسپرے بہارے کو دے دیا۔ وہ اسپرے پکڑے سر ہلا کر واپس اندر بھاگ گئی۔
اس کی ہدایت کے مطابق عائشے نے سلیپ اسپرے حیا کے تکیے پہ کر دیا۔ وہ جو ہلکی ہلکی جاگنے لگی تھی، پھر سے غنودگی میں چلی گئی۔
صبح فجر سے قبل، تھوڑے بہت ضیاع کے بعد اس کے بال واپس اپنی حالت پہ آ چکے تھے۔ دوسری طرف وہ بھی واپس اپنی حالت پہ آ چکا تھا۔ البتہ اس نے ایک اور کام کیا تھا کہ جو تصاویر اس کے پاس حیا کی تھیں، وہ اس نے اسٹڈی کے کمپیوٹر سے پرنٹ آوٹ کر کے اسٹڈی کی دیواروں پہ آویزاں پینٹگز کے فریم میں اصل پینٹنگ اور شیشے کے درمیان لگا دی تھیں، تا کہ یوں لگے کہ وہ تصاویر ہی فریم کی گئی ہیں۔ جب وہ ادھر رہے گی اور کسی دن وہ اس کمرے میں آ کر یہ دیکھے گی، تو جان لے گی کہ وہ برا آدمی نہیں تھا۔وہ اس کے بہت سے لمحوں میں اس کے ساتھ تھا۔ اور اس کا خیال رکھا کرتا تھا۔
صبح تم ڈاکٹر کو لے آنا، باقی سارے کام وہ کر دے گی، مگر ایک بات!
صبح جب وہ دونوں کمرے سے نکلیں تو وہ اپنے مخصوص حلیے میں، سوٹ میں ملبوس، بال جیل سے پیچھے کیے، عینک لگائے، بریف کیس اٹھائے، واپس جانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔
کیا؟
تم اس کو نہیں بتاؤ گی کہ میں یہاں آیا تھا۔ بہارے اگر تم نے منہ سے ایک لفظ بھی نکالا تو میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
اوکے! میں کیا کہہ رہی ہوں! وہ نروٹھے پن سے شانے اچکا کر بولی۔
جب بہارے منظر سے ہٹی، تو اس نے عائشے کو مخاطب کیا۔
تم نے مجھے بہت بڑا فیور دیا ہے۔ تم اس کے بدلے مجھ سے کچھ بھی مانگ سکتی ہو۔ میں انکار نہیں کروں گا۔ وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔ عائشے کھلے دل سے مسکرا دی۔
میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ زندگی میں دوبارہ کبھی اگر تمہیں کسی بڑے فیور کی ضرورت پڑے تو تم مجھ سے ضرور مانگو۔
بالکل۔ میں دوبارہ بھی مانگوں گا۔ وہ کیا ہو گا، میں نہیں جانتا، مگر ضرورت پڑنے پہ میں تمہارے پاس ضرور آؤں گا۔ ایک بات اور۔
قدرے رک کر اس نے کچھ بتانا شروع کیا جس کو سن کر عائشہ کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
وہ تمہاری بیوی ہے۔ اور وہ تمہیں کسی دوسرے نام سے جانتی ہے۔ پھر تم نے آنے سے کیوں کہا کہ تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو؟ وہ سچ بولنے والی لڑکی ایک دم ششدر رہ گئی تھی۔
میں صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ کسی امیر آدمی کے لیے اپنے شوہر کو چھوڑ سکتی ہے یا نہیں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ وہ اب عائشے کے سوالوں سے جان چھڑانا چاہ رہا تھا۔
اپنوں کو ہر وقت آزاماتے نہیں ہیں عبدالرحمن۔
جو بھی ہے، تم بہارے کو یہ سب مت بتانا۔ میں نہیں چاہتا کہ حیا کسی اور کے منہ سے میرے بارے میں یہ سب سنے۔ ایسی صورت میں وہ کبھی میرا اعتبار نہیں کرے گی۔ میں اسے خود سب بتا دوں گا، مگر کچھ وقت بعد۔
تم بہت جھوٹ بولتے ہو۔ عائشے نے دکھ سے اسے دیکھا۔ اور جوابا اس کے تاثرات پھر سے سپاٹ ہو گئے۔
پوری رات جس شخص کو عائشے نے دیکھا تھا، وہ چلا گیا تھا، اور پرانا عبدالرحمن واپس آ گیا تھا جو اس تھپڑ کی بابت ابھی تک اس سے خفا تھا۔ بس ایک لمحے میں ہی وہ ساری رات کے لئے بنا، بکھرا بکھرا سا عبدالرحمن غائب ہو گیا تھا۔
کوشش کرنا وہ کچھ دن تمہارے پاس ٹھہر جائے۔ میں جا رہا ہوں، فون کرتا رہوں گا۔ سنجیدگی سے کہہ کر وہ پلٹ گیا۔ عائشے ملال سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔ اب اسے وہی کرنا تھا جو وہ کہہ رہا تھا۔
** * *
چونکہ اسے واپس انڈر گراؤنڈ ہو جانا تھا، اس لیے اگلے ہی روز اس نے کال کر کے عائشے کو بتایا کہ وہ واپس انڈیا جا رہا ہے۔ حسب معمول وہ مان گئی۔ اب وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ جتنے دن حیا اس گھر میں رہے، امت اللہ حبیب واپس آئیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو جائے گی کہ وہ عبدالرحمن کی اصلیت جان جائے گی۔ وہ اچھی خاصی ذہین لڑکی تھی
وہ اسے انڈر اسٹیمیٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر کسی دوسرے کے منہ سے وہ سنے گی تو وہ اس کا اعتبار کھو دے گا۔ اس لیے بہتر تھا کہ جب تک وہ اپنا پزل باکس نہ کھولے، تب تک وہ عبدالرحمن کی حقیقت سے بے خبر رہے۔ اس لیے اس نے آنے کے ذمہ کچھ کام ایسے لگا دیے جو چند دن انہیں مزید مصروف رکھیں گے۔ بس یہ چند دن ہی تو رہے گی حیا عائشے کے گھر۔ پھر بھلے آنے واپس آجائیں، خیر تھی!
تیسرے روز اس نے عائشے کو انڈین نمبر سے کال کی۔ وہ حیا سے بات کرنا چاہتا تھا، وہ اس کی آواز سننا چاہتا تھا۔ اس کے دل کو اس دن سے اب تک قرار نصیب نہیں ہوا تھا۔
مگر وہ اس کی بات سننا ہی نہیں چاہتی تھی۔ اگر وہ اسی میں خوش تھی تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہلوا دیا کہ وہ ادالار نہیں آئے گا، وہ آرام سے ادھر رہے۔ اگر یہی حیا کے سکون کا باعث تھا تو وہ ایسا ہی کرے گا۔
مگر ان دنوں بار بار اس رات کے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے آتے اور اسے تکلیف دیتے تھے۔ حیا کے بازو پہ داغا، WHO اور ساتھ میں آخری سلاخ کے دو حروف RE جو جلد ہی سلاخ ہٹا لینے کے باعث ٹھیک سے داغے نہ جا سکے تھے، اور آبلے سے بن گئے تھے، وہ منظر بہت اذیت رساں تھا۔ اگر وہ دو حروف ٹھیک سے داغ دیے جاتے، تو؟ وہ کتنا عرصہ اسے اذیت دیتے، کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ ہاں ٹھیک ہے، سرجری سے وہ مٹ جاتے، مگر جب تک نہ مٹتے تب تک تو وہ اسے اذہت دیتے نا! کاش وہ ذرا پہلے پہنچ گیا ہوتا۔ کاش وہ اسے جلنے کی تکلیف سے بچا پاتا۔ کاش!
ممی البتہ پریشان تھیں کہ حیا کہنے کے باوجود کیوں نہیں آئی۔ اس صبح جب وہ گھر پہنچا تو ممی نہیں تھیں انہوں نے رات کو اسے جاتے نہیں دیکھا تھا سو ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ رات کہاں رہا تھا۔ دوپہر میں دونوں کی ملاقات ہوئی تو ممی نے بتایا کہ وہ حیا کے ہاسٹل گئیں تھیں، اور ایک اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ اسے اپنی میزبان فیملی کی طرف رکنا تها۔ اس کے دونوں نمبرز بند آ رہے تهے، یہی بات ممی کو پریشان کر رہی تهی۔ اس نے ممی کو کچھ نہیں بتایا، اس کو راز رکهنے آتے تهے، بس اس نے تسلی دی کہ فون خراب ہو گا۔ وہ فکر نہ کریں۔ البتہ عائشے کو اس نے فون پہ تاکید کی کہ وہ حیا سے کہے، وہ اپنے گهر فون کر لے۔ اگلے روز اس نے واقعی فون کر لیا، اب سرکاری طور پر جہان سکندر کے ہاں اس کا نمبر آ گیا تها، مگر وہ وہاں اس کو فون کرے، یہ مناسب نہیں تها۔ اس نے ہوٹل گرینڈ میں ایک بندے سے کہلوا کر حیا کے لیے نیا موبائل اور سم بهی دلوا دی تهی اور ظاہر ہے یہ نمبر بهی اس کے پاس تها، لیکن اگر جہان اس کو فون کرے تو اس کو نمبر کہاں سے ملا جیسے سوال کی کوئی لاجیکل وضاحت نہ بنتی تھی۔ عبدالرحمان سے وہ بات کرنا نہیں چاہتی تهی، جہان اسے کال کر نہیں سکتا تها، پهر۔ وہ کیسے اس کی آواز سنے۔ کیسے اس سے بات کرے۔
میجر احمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں، میجر احمد بهی تو ہے، وہ اسے کال کر سکتا تها کیونکہ میجر احمد عموما ہر بات جانتا ہوتا تها۔ شاید تب وہ اس کی آواز سن سکے۔
اور یہ کوشش کامیاب رہی۔ کتنے دنوں بعد اس نے حیا کی آواز سنی تهی۔ وہ حسب معمول میجر احمد سے بےزار تهی، مگر یہ طے تها کہ وہ اس پہ اعتبار کرتی تهی تب ہی وہ اس سے پوچھ رہی تهی کہ بلیک میلرز کو کیسے قابو کیا جاتا ہے، اسے کون بلیک میلز کر رہا تها؟ اس کا دهیان ہاشم کی طرف گیا، خیر اگر وہ عبدالرحمن پاشا تها ت وہ ہاشم کو کئی سال تک جیل سے باہر آنے نہیں دے گا۔ پهر اس نے اندهیرے میں تیر چلا کر اسے بتایا کہ وہ پزل باکس کهول چکی ہے۔ تب وہ ہنس دیا۔ اس کا لاکر ابهی تک خالی تها، جب اس نے ویڈیو رکهی ہی نہیں تو کیسا انکشاف۔ وہ تلملا کر فون رکهنا چاہتی تهی، مگر وہ اس کو مزید سننا چاہتا تها۔ یہاں تک کہ وہ سو گئی مگر وہ اس کی خاموشی سنتا رہا۔ اس وقت وہ اپنے ریسٹورنٹ کے کاؤنٹر پر بیٹها ریسیپشنٹ کے فرائض سرانجام دے رہا تها۔ وہ اپنے کام نپٹا رہا، اور دوسری جانب اسے حیا کے سانس لینے کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ ابهی آدها گهنٹہ گزرا تها کہ اسے لگا کہ اس کے نتھنے گیلے ہو رہے ہیں۔ تکلیف کی ہلکی سی لہر اٹهی، سر کا وہی درد ہر چیز پہ چھانےلگا
اس نے ہاتھ سے ناک کو چهو کر دیکها۔ خون۔ پہلی دفعہ سر درد سے اس کی نکسیر پهوٹی تهی، باتھ روم میں جا کر بیسن کے سامنے ناک اور سر کو دهوتے ہوۓ بھی اس نے فون اسپیکر آن رکها۔ وہ سو رہی تھی، اور وہ بیسن پہ نڈھال سا جھکا، گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔ تین گھنٹے اور بیس منٹ کے بعد کال خودبخود کٹ گئی۔ چونکہ وہ انٹرنیٹ سے کنیکٹ کر کے کال کر رہا تھا، اس لیے وہ گھنٹے بعد کٹنے کی بجائے کافی دیر سے کٹی۔ موبائل بند کرتے ہوۓ بلآخر اس نے فیصلہ کر لیا کہ اسے اپنا چیک اپ کروا لینا چاہیئے۔ کہیں نہ کہیں کچھ غلط تها۔
اگلی صبح حیا نے اسے اپنا نمبر بهیج دیا۔ اس نے نمبر ملتے ہی اسے فون کیا کرنے کو کوئی بات نا تهی، بس وه اس سے بات کرتے رہنا چاہتا تها۔ اگلے روز وہ صرف اس سے ملنے ادالار آیا۔ اس نے عائشے سے کہہ دیا تها کہ جب وہ پورٹ پہ آۓ تو بہارے کو ساتھ نہ لاۓ۔ عائشے ظاہر نہیں کرے گی، مگر بہارے چهوٹی بچی ہی تو تهی۔ سو عائشے نے ایسا ہی کیا۔
کهلی فضا میں کرسیوں پہ بیٹهے، ناشتہ کرتے اس نے چند ایک بار کریدنے کی کوشش کی، مگر حیا نے نہیں بتایا کہ عائشے بہارے سے اس کی دوستی کیسے ہوئی، اور نہ ہی یہ کہ اس کے زخم کیسے آئے۔ وہ ابھی اس پہ اعتبار نہیں کرتی تھی۔ البتہ وہ دوبارہ سے اس کے فون کے بارے میں پوچهنے لگی تهی۔گو کہ اس نے اسے ایک دو بار ہنٹ دیا تها کہ وہ اسپیشل گفٹ تها اور اسپیشل سے مراد ”اسپیشل سروسز“ ہی تهیں، مگر وہ ابهی تک بوجھ نہیں پائی تھی۔ خود سے یونہی وہ نہیں بتائے گا۔ وہ پہلے خود بوجهے گی، تب ہی وہ اسے ڈهونڈ پاۓ گی۔ البتہ تب وہ ذرا سا سنبهلا جب حیا نے کہا کہ اس کا چہرہ اپنے باس کے ذکر پہ چمکنے لگتا ہے۔ یہ اس کے اختیار میں نہیں تها۔ اپنا ملک، اپنی جاب، سب بہت یاد آتا تها۔ مگر کیا اس کی صحت اسے مزید نوکری کرنے کی اجازت دے گی۔ یہیں وہ الجھ جاتا تها۔
وہیں اس کے ساتھ بیٹهے، اس کو ممی اور عائشے دونوں کے ٹیکسٹ موصول ہوۓ تهے۔ صرف ممی کے میسج کا اس نے حیا کو بتایا، اور عائشے کا پیغام پڑھ کر وہ صرف مسکرا دیا۔
تم نے ٹهیک کہا تها۔ اتنے سارے لوگوں سے ایک وقت میں اتنے سارے جهوٹ بولتے تمہیں بالکل افسوس نہیں ہوتا۔ اب تو مجهے یقین ہو چلا ہے کہ تم کبهی انڈیا گئے ہی نہیں تهے۔ تم استنبول میں ہی تهے۔
یہ لڑکی بهی نا۔ اس نے مسکرا کر سر جهٹکتے شکریہ لکھ کر جوابی پیغام بهیج دیا۔
اس روز ساحل سمندر پہ چلتے ہوۓ غیر ارادی طور پہ اس کے لبوں سے روحیل کا ذکر نکل آیا تها۔ روحیل سے تین، ساڑهے تین برس قبل اس وقت ملا تھا جب وہ ایک چهوٹے سے کام کے سلسلے میں وہاں ایک تعلیمی ادارے میں گیا تها۔ تب ایک طالب علم نے اندها دهند فائرنگ شروع کر دی تھی اور ایک گولی اس کو بھی لگ گئی تھی۔ چونکہ وہ اللیگل کام کے سلسلے میں وہاں تھا سو وہ جلد از جلد موقع سے فرار ہو گیا۔ خراب ہوتے زخم کے باعث اس کو کسی قابل اعتماد شخص کے ہاں پناہ لینی تھی اور چونکہ امریکہ آنے سے پہلے وہ وہاں موجود ہر رشتے دار کا پتا کھوج کر لایا تھا، اس لئے وہ راحیل کے پاس چلا گیا تھا۔ یہ بات اس نے راحیل کو صیغہ راز میں رکھنے کو کہی تھی اور جواب میں وہ یہ بات راز رکھے گا کہ وہ لڑکی روحیل کے ساتھ رہ رہی ہے۔ اس ڈیل کے بارے میں وہ حیا کو تو نہیں بتا سکتا تھا سو بات ٹال گیا۔ اب وہ پوچھتی رہے اپنے بھائی سے۔ اسے کیا؟ ساحل پہ حیا نے سیپ چننے کی بات تھی۔ اس بات نے اسے اطمینان دلایا کہ اب وہ، وہ کام کر سکتا تھا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ عائشے بہارے کے ساتھ سیپ چننے کی عادی ہو گئی تھی۔ عائشے کے اکثر سیپ موتی سے بھرے نکلتے تھے جبکہ بہارے کے اکثر خالی۔ جب جہان نے عائشے کی سالگرہ پہ پچھلے برس ایک قیمتی انگوٹھی بطور تحفہ دی تو دو ماہ بعد جب عبدالرحمن پاشا کے پاسپورٹ کے مطابق اس کی سالگرہ آئی تو عائشے نے اسے اپنے ایک سیپ سے اکٹھے نکلے تین موتی دیے تھے۔ وہ موتی ایک ایک ننھی سی قدرتی خراش لئے ہوئے تھے۔ یعنی کہ ان کو پہچاننا آسان تھا۔ اس نے عائشے کو گو کہ اس لڑائی کے بعد بتا دیا تھا کہ وہ جلد یا بدیر ان کو چھوڑ دے گا، مگر اب جب تک وہ یہاں ہے، اس کو خود کو ان دو معصوم لڑکیوں سے دور رکھنا چاہیئے۔ اس طرح کی جذباتی وابستگیاں مستقبل میں ان دونوں کا دل بری طرح سے توڑ سکتی تھیں۔ چھوٹا زخم، بڑے زخم سے بہرحال بہتر ہوتا ہے۔ اس نے سوچا وہ عائشے کو چھوٹا زخم دے دے، تاکہ وہ مستقبل میں کبھی اس سے کوئی امید نہ رکھے،
وہ تین موتی آج اپنے ساتھ لایا تھا، البتہ اس نے کسی اور طرح سے ان کو حیا کو دینے کا سوچا تھا، مگر جب وہ سیپ کھولنے کے لیے چھرا لینے دور بیٹھے ان ٹورسٹس کے پاس گئی تو جہان نے رخ موڑ کر اپنی جراب کے ساتھ بندھا چاقو نکالا اپنے سیپ کو آدھا کاٹا اور تینوں موتی اندر کچھ اس طرح سے ڈالے کہ جب وہ حیا کے سامنے سیپ کاٹے گا تو وہ یہی سمجھے گی کہ موتی اندر قدرتی طور پر موجود تھے۔ اگر وہ یہ کام عائشے کے ساتھ کرتا تو وہ بھانپ لیتی اس کو سیپوں کا تجربہ تھا مگر حیا نہیں جان سکتی تھی۔ اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ مواقع کا انتظار کرنے والوں سے نہیں تھا۔ وہ خود موقع پیدا کرنے پہ یقین رکھتا تھا۔
حیا اس کے نکلتے تین موتی دیکھ کر بہت حیران ہوئی تھی۔ اور متاثر بھی۔ وہ خاموش مسکراہٹ کے ساتھ اپنے لیے خاموش ستائش وصولتا گیا۔ کوئی اس سے متاثر ہو رہا تھا تو اس کا کیا جاتا تھا بھلا؟؟؟؟؟؟
یہ چند روز بعد کی بات ہے، ایک روز ایک بہت ضروری کام آن پڑا۔ اسے اچانک سے کچھ بہت اہم پیپرز کی ضرورت پڑ گئی جو ادالار میں اس کے کمرے میں رکھے تھے۔ اس نے عائشے کو صبح میں فون کر کے پوچھا مگر وہ مدد کرنے سے قاصر تھی۔
تمہارا بریف کیس تمہاری الماری میں ہو گا اور وہ لاک ہوتی ہے۔ چابی بھجوا دو تو میں نکال سکتی ہوں۔ اس کا انداز سپاٹ تھا۔
تم رہنے دو میں خود کچھ کر لوں گا۔ عائشے کے لہجے کی خفگی وہ سمجھتا تھا۔ وہ یقینا حیا کے پاس ان تین موتیوں کو دیکھ کر بہت ہرٹ ہوئی ہو گی۔ مگر ان دونوں کے لیے یہی بہتر تھا۔ جو بھی تھا وہ سمجھدار لڑکی تھی اس نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ وہ اس کا اشارہ سمجھ گئی تھی۔
ویسے بھی دلوں کا سکون محبت پا۔لینے میں نہیں، اللہ کے ذکر میں ہوتا ہے، اور وہ جانتا تھا کہ عائشے کو دل کا سکون ہمیشہ نصیب رہے گا۔
اسی شام عائشے اور بہارے کو ایک جاننے والوں کے گھر فوتگی پہ جانا پڑ گیا۔ سو شام میں جب وہ ادالار آیا تو وہ دونوں گھر پہ نہیں تھیں۔
جہان گھر کے عقبی دروازے کو کھول کر ایک الگ تھلگ بنے زینے سے اوپر اپنے کمرے میں آ گیا۔ کمرے کی ایک چابی عائشے کے پاس اور دوسری اس کے پاس ہوتی تھی۔
اندر آ کر اس نے دروازہ لاک کر دیا پھر وہ اپنے کام میں لگ گیا۔ الماری سی اپنا بریف کیس نکال کر بیڈ پر رکھا اور اسے کھول کر مطلوبہ فائلز دیکھنے لگا۔ وہ جانتا تھا حیا نیچے ہی تھی، مگر وہ بھلا اوپر کیوں آئے گی۔ اتنا بڑا گھر اس کے لیے کافی تھا۔ اسے پتا ہی نہیں لگے گا کہ وہ اس وقت اوپر ہی موجود ہے۔
یہی سوچ کر اس نے نوٹ پیڈ اٹھایا اور فائل میں سے کچھ نام دیکھ کر اس پر لکھنے لگا۔ پہلے ہی لفظ پر پین کی روشنائی ختم ہو گئی۔
کیا مصیبت ہے۔ اس نے پین کو ذرا زور سے جھٹکا تو بریف کیس اور فائلز پر سیاہی کے موٹے موٹے قطرے گر گئے۔ اس نے تاسف سے سر جھٹکتے ہوئے لکھنا شروع کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو قلم سے لکھ کر لائحہ عمل ترتیب دینے پر یقین رکھتے تھے۔ لکھے بغیر اسے اپنی سوچی گئی بات بھی بعض اوقات سمجھ نہیں آتی تھی۔
ابھی فہرست درمیان میں تھی کہ سیاہی پھر سے سوکھنے لگی۔ اس نے دوبارہ قلم جھٹکا، موٹی موٹی بوندیں پھر سے بریف کیس پر گریں۔ اس سے قبل کہ وہ عبدالرحمٰن پاشا کی نفاست پسندی کے قتل پہ افسوس کرتا، کمرے کے دروازے کے لاک میں چابی گھمائے جانے کی آواز آئی۔
لمحے بھر کو تو وہ واقعی سکتے میں رہ گیا۔ عائشے بہارے واپس آ گئیں یا وہ حیا تھی؟
وہ جو بھی تھی، ایک ایک کر کے چابیاں لگا رہی تھی۔ وہ عائشے نہیں ہو سکتی تھی، عائشے کو پتہ تھا کہ دروازہ کون سی چابی سے کھلتا ہے۔ الله، الله!
دوسری چابی تک اس نے آنًا فانًا بریف کیس بند کیا، اور الماری میں ڈالا تیسری چابی تک وہ باتھ روم میں جا کر دروازے کے پیچھے کھڑا ہو چکا تھا۔ چوتھی چابی پہ دروازہ کھل گیا۔
وہ حیا ہی تھی، اور وہ اندر کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ اس نے باتھ روم کے دروازے کی درز سے دیکھا، وہ اب الماریاں کھول رہی تھی۔ جلدی میں نہ وہ بریف کیس بند کر سکا تھا نہ ہی آخری الماری، سو حیا سے بلآخر آخری الماری کھل گئی تھی، اور اب وہ اس کا بریف کیس نکال کر بیڈ پہ لے آئی جہاں چند لمحے قبل وہ بیٹھا تھا۔ اصولًا اس جگہ کو گرم ہونا چاہیے تھا، بلکہ چادر پہ شکنیں بھی پڑی تھیں، مگر وہ بریف کیس کی جانب اتنی متوجہ تھی سو محسوس نہ کر سکی۔
احمق لڑکی!
اندر تو اس کے ڈاکومنٹس تھے، برگر کنگ کی فائلز بھی تھیں۔ وہ ایسے پکڑے نہیں جانا چاہتا تھا۔ اگر وہ ایسے پکڑا گیا تو وہ کبھی اس کا یقین نہیں کرے گی۔۔۔۔۔۔ اوہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا Pager بھی اندر تھا۔
وہ اس کا پیجر ہی نہ کھول لے۔ اسے شدید غصہ آیا۔ خود پر بھی اور حیا پہ بھی۔ مگر وہ جانتا تھا کہ اسے کیسے وہاں سے نکالنا ہے۔
اس نے اپنے موبائل سے پیجر کو بیپ دی۔ نتیجتاً پیجر بجنے لگا۔ حسب توقع حیا نے گھبرا کر بریف کیس بند کر دیا اور الماری میں ڈالا۔ وہ واقعی گھبرا گئی تھی سو چند لمحوں بعد وہ کمرے سے باہر تھی۔
دروازہ دوبارہ اندر سے لاک کرتے ہوئے اس نے دوسرے نمبر سے اسے گھر پہ فون کیا پانچویں گھنٹی پر حیا نے بھاگ کر فون اٹھایا۔
اگر آئندہ آپ نے میرے کمرے کی تلاشی لی تو اپنے پیروں پہ گھر واپس نہیں جائیں گی!
بہت غصے سے اس کو کھری کھری سناتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اب اس لڑکی کو اس کے گھر سے چلے جانا چاہئیے۔حیا وہاں رہ کر صحت یاب ہو، وہ یہ چاہتا تھا، مگر وہ اس کی جاسوسی کرے وہ یہ ہر گز نہیں چاہتا تھا۔
پھر رات میں اس نے عائشے سے یہی بات کہی کہ اب حیا کو وہاں سے چلے جانا چاہیئے۔
ابھی اس کی سپرنگ بریک بھی ختم نہیں ہوئی، دو چار دن تو وہ اوپر بھی ٹھہر سکتی ہے، اس سے زیادہ وہ نہیں رکے گی، اور میں اپنی مہمان کو خود سے جانے کے لیے نہیں کہوں گی۔”
مگر یہ چار دن بھی جہان کے لیے کسی سزا سے کم نہیں تھے۔ وہ جانتا تھا کہ حیا صرف ادالار میں دو وجوہات کی بنا پہ رکی ہوئی ہے۔ ایک یہ کہ استنبول میں وہ زخموں والا چہرہ لے کر نہیں جانا چاہتی تھی، اور دوسرا تجسس۔ وہ اس شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتی تھی جو کافی عرصہ اسے ڈسٹرب کرتا رہا تھا۔ ہاں ٹھیک ہے اس نے حیا کو بہت تنگ کیا تھا مگر اب تو وہ بے چارہ باز آ چکا تھا۔ مگر حیا باز نہیں آئی تھی۔
دو روز قبل کی ڈانٹ بھلا کر اس دن حیا نے خود اسے کال کر کے اس سے بات کی تھی۔ اسے بہارے کے لیے اس جیولری شاپ کا پتا چاہیئے تھا۔ جوابا اس نے پتا دینے کی بجائے واؤچرز بھجوا دیے۔ کون سا اس کا اپنا پیسہ تھا۔ سب انہی لڑکیوں، آنے اور پاشا بے کا ہی تو تھا، سو اس نے وہی کیا جو ٹھیک تھا۔
زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک دن بیوک ادا فون کرنے پہ اسے حیا کا ہیلو سنائی دیا۔ اس نے جلدی سے بنا کچھ بولے پہلے وائس کنورٹر آن کیا، اور پھر بات کرنے لگا۔ مگر جو بات حیا نے آگے سے کہی، وہ اسے غصہ دلانے کے لیے کافی تھی۔
بالآخر وہ جان گئی تھی کہ عبدالرحمن پاشا کا ایک دوسرا بھائی بھی تھا۔ وہ پاشا بے کا نام نہیں لے رہی تھی، مگر نام بھی وہ جانتی ہی ہو گی یقینا۔ ساتھ میں وہ اخبار میں اس کے متعلق آرٹیکل لکھنے کی بات بھی کر رہی تھی۔ اس سے آگے جہان کی برداشت کی حد ختم ہو گئی تھی۔ یہی ڈر تھا اسے، وہ دو زندگیاں مینج نہیں کر پائے گا۔ اور اب وہی ہو رہا تھا۔ اس سے زیادہ حیا بیوک ادا میں رہے، اسے گوارا نہیں تھا۔ دو روز بعد یوں بھی اسے اپنے عبدالرحمن پاشا کے کور کو ایکٹیویٹ کرنا یعنی بیوک ادا واپس جا کر وہاں کچھ دن رہنا تھا، سو اب ان دونوں کو وہاں نہیں اکٹھا ہونا چاہیے۔ حیا کو اس نے پرسوں کا کہا، لیکن خود اگلی ہی صبح وہ بیک ادا آ گیا۔ آتے وقت اس نے حیا کو میسج کر دیا تھا۔ اس کا ارادہ آج ایک مقامی دوست سے ملنے کا تھا۔ آروی (وہ مقام جہاں دو جاسوس ملتے ہیں) اس کی اپنی طے کردہ تھی، اور وہ عیسی کی پہاڑی تھی۔ وہاں اسے اپنے ساتھی کو چند چیزیں پہنچانی تھیں۔ اس کے بعد وہ دوپہر میں حیا سے ملے گا اور اسے واپس چلنے پہ راضی کرے گا۔ ویسے بھی سلیمان ماموں نے دو دن بعد استنبول آنا تھا۔ اچھا بہانہ تھا۔ اب وہ واپس آ جاۓ گی، اور وہ آرام سے بیوک ادا میں کام کر سکے گا۔ ویسے بھی حالات جیسے جا رہے تھے، یوں لگتا تھا ترکی میں اس کا قیام جلد ختم ہونے والا ہے۔ ایسے میں اسے اپنی فکر نہیں تھی۔ ممی، ابا اور حیا کی فکر تھی۔ وہ تینوں اس کی فیملی تھے۔ ممی کو ان تین سالوں میں وہ استنبول چھوڑنے پہ راضی نہیں کر سکا تھا۔
پاکستان وہ جا نہیں سکتے تھے، اس نے بہت کوشش کی کہ وہ ابا کو لے کر جرمنی چلی جائیں، مگر پہلے وہ نہیں مانتی تھیں۔ البتہ اب اس کے یہاں کام کرنے کے بعد کسی بھی طرح سے یہ خطرے والی بات تھی کہ اس کے ماں باپ یہاں ہیں۔ بلآخر ممی راضی ہو گئی تھیں کہ وہ ابا کہ ساتھ جرمنی چلی جائیں گی، مگر جب تک جہان ادھر ہے، وہ یہیں رہیں گی۔
وہ پندرہ جون تک یہی تھا۔ پندرہ جون کو ایک اہم کنسائنمنٹ کے لیے اسے انقرہ جانا تھا اور کام کچھ اس قسم کا leak out تھا کہ پہلا شک اسی پہ آۓ گا۔ اس لیے اسے کچھ عرصے کے لیے روپوش ہو جانا تھا۔ یہاں اس نے اتنے دشمن بنا لیے تھے کہ اس کے روپوش ہو جانے کے بعد کہیں کوئی اس کی فیملی کو نقصان نہ پہنچاۓ، اس لیے بہتر تھا کہ وہ جانے سے قبل اپنے گھر والوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دے۔ ممی، حیا اور ابا اس کی پہلی ترجیح تھے۔ پاشا بے کی فیملی دوسرے نمبر پر تھی۔ سب کو وہ یہاں سے بھیج دے گا، مگر حیا کا سمسٹر پانچ جولائی کو ختم ہونا تھا۔ اسے وہ پندرہ جون سے پہلے کیسے بھیجے گا۔
اپنے آفس میں بیٹھے ہوۓ، کام شروع کرنے سے پہلے وہ اس الجھن میں گرفتار تھا۔ مسائل کا حل وہ عموما نکال ہی لیا کرتا تھا لیکن یہاں وہ قدرے مخمصے میں تھا۔ سگریٹ سلگاتے ہوۓ ساتھ میں اس نے کافی بھی منگوائی تھی اور جب تک دیمت کافی نہیں لے کر آئی، وہ یہی سوچتا رہا کہ حیا کو یہاں سے کیسے بھیجے۔ ایک حل تھا بالواسطہ۔ یعنی جہان اسے کہے کہ وہ واپس چلی جاۓ، اور دوسرا تھا بلاواسطہ، یعنی عبدالرحمن پاشا یا میجر احمد میں سے کوئی کہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ کیوں کسی کی مانے گی۔
جب اس کی سیکریٹری دیمت فردوس کافی لے کر آئی تو کچھ سوچ کر اس نے یہ بات دیمت سے پوچھ لی۔
کسی غیر ملکی کو ترکی سے واپس بھیجنا ہو تو کیا کیا جائے۔
دیمت ایک ایمان دار اور مستعد سی ورکر تھی۔ وہ اس کو اپنے باس کی حیثیت سے پسند کر تی تھی مگر کبھی کبھی وہ باتوں کے دوران پاشا بے کا ذکر کر دیا کرتی۔ آپ کے چھوٹے بھائی بھی بہت اچھے تھے۔ یہ فقرہ وہ اکثر دیمت سے سنا کرتا تھا۔ طیب حبیب شناختی کارڈ کے اعتبار سے اس سے دو سال چھوٹا دیکھنے میں کئی سال بڑا اور درحقیقت ہم عمر ہی تھا۔ دیمت کو پاشا بے کی طبیعت کی بے تکلفی پسند تھی کیوں نہ وہ خود چاہے عبدالرحمن ہو یا جہان ہو، اس کی طبیعت اور مزاج ایک جیسے ہی رہتے تھے۔ وہ عبدالرحمن پاشا کے روپ میں بھی اتنا ہی سنجیدہ مزاج، خاموش طبع تھا اور قدرے تلخ تھا جتنا وہ فطری طور پہ تھا۔ دیمت اس کو پسند کرتی تھی مگر چونکہ پاشا بے کے برعکس جہان نے ہوٹ گرینڈ کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اس لیے دیمت اس قسم کے لوگوں کی ہوٹل آمد سے ذرا الجھی الجھی رہتی تھی۔ خیر، اس کی ساری دکھتی رگیں وہ جانتا تھا، اس کو پتہ تھا کہ کب کس کو کہاں سے دبانا ہے۔
دیمت کے پاس اس مسئلے کا سادہ سا حل تھا جو نہ جانے اس کے ذہن میں کیوں نہیں آیا۔ وہ کہہ رہی تھی کہ اس لڑکی، جسے ترکی سے بھیجنا ہے، کی واحد کشش اگر اس کا شوہر ہے تو اسے شوہر سے بدگمان کر دیا جاۓ، اس کا شوہر کسی سے بھی اپنے کسی مشتبہ عمل کا ذکر کر سکتا تھا، اور اس لڑکی کو setup کر کے وہ گفتگو بظاہر اتفاقیہ طور پر یہ سنوائی جاۓ تو وہ فورا اپنے شوہر سے دور جانے کی کوشش کرے گی۔
دیمت شاید ساری بات کسی اور نقطہ نظر سے کر رہی تھی۔ مگر اس کا ذہن ایک ہی بات پر اٹک کر رہ گیا تھا۔ معصوم سا اتفاق۔ درست ٹائمنگ، ہاں، وہ حیا کو جانتا تھا۔ وہ ایک دم ردعمل دے دینے والی، ایک دم سے بڑے فیصلے لے لینے والی لڑکی تھی۔ جس چیز سے وہ بچتا رہا تھا، کہ کہیں پکڑا نہ جاۓ، اگر وہ چیز ہو بھی جاۓ، اور وہ از خود جان جاۓ کہ جہان ہی عبدالرحمن ہے، تو وہ وقتی طور پر بے شک اس کا اعتبار کھو دے گا، لیکن بعد میں جب وہ ساری حقیقت جان لے گی تو وی بد گمانی دور ہو جاۓ گی۔ پندرہ جون سے چند دن قبل ہی اس کے امتحان ختم ہو نے تھے، اگر وہ یہ سب اس کے امتحان ختم ہونے کہ فورا بعد پلان کرے تو وہ اپنا آخری مہینہ کسی دوسرے ملک گزارنا پسند کرے گی، نہ کہ ترکی میں ایک دو چہروں والے کے ساتھ۔ وہ فورا اس سے دور جانے کا سوچے گی۔ وہ ہمیشہ یہی کرتی تھی۔ جب وہ ایک دفعہ استقلال اسٹریٹ میں ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے تھے، وہ ڈنر جو جنجر بریڈ ہاؤس توڑنے کی معذرت کے طور پہ تھا، تب بھی وہ غصے میں فورا اس کے پاس سے چلی گئی تھی۔ وہ غصے میں ہمیشہ یہی کرتی تھی۔ وہ اب بھی یہی کرے گی۔ بھلے وہ برا بن جائے، مگر اسے اپنی بیوی کا تحفظ اپنی ذات سے زیادہ عزیز تھا۔ وہ ترکی میں اسے اکیلا چھوڑ کر کبھی نہیں جا سکتا تھا۔ جانے سے قبل اسے یہ مسئلہ نبٹانا تھا۔
دیمت کو اپنے انداز میں متنبہ کر کے وہ کچھ دیر سوچتا رہا کہ سیٹ اپ کس کے ساتھ ترتیب دینا چاہیئے۔ وہ کون ہو گا جس کو اس کے ساتھ دیکھ کر وہ اس سے دور جانے کا سوچے گی۔ طیب حبیب پاشا، وہ بہت متجسس تھی نا عبدالرحمن پاشا کے گمشدہ بھائی کے بارے میں تو چلو اس طرح وہ اس کا تجسس دور کر دے گا۔ پاشابے سے اسے ملنا ہی تھا۔ باقیوں کی طرح وہ اس کے لیے بھی انڈیا میں تھا، اور چونکہ پاشا بے اس سے ناراض بھی بہت تھا، اس لیے پہلے جہان کو اپنے اور اس کے تعلقات درست کرنے تھے۔ وہ اس سے بہت خفا ہی سہی، مگر وہ اس کو ”نہ“ نہیں کر سکتا تھا۔ لالچی انسان کبھی اپنے عبدالرحمن جیسے بھائی کو نہ نہیں کیا کرتے۔
طیب حبیب پاشا کے لئے استنبول میں دو ہی جگہیں محفوظ تھیں جہاں وہ عبدالرحمن سے مل سکتا تھا۔ ایک برگر کنگ اور دوسرا ہوٹل گرینڈ، وہ جانتا تھا کہ طیب حبیب استنبول ہی میں ہے، اور چونکہ وہ خود بیوک ادا آ چکا تھا، اس لیے اس نے نہایت مناسب انداز سے اسے پیغام لکھا۔ آیا کہ طیب ہوٹل گرینڈ آئے گا یا وہ خود برگر کنگ آ جائے۔
اسے معلوم تھا کہ طیب حبیب انکار نہیں کرے گا، اور اس نے انکار نہیں کیا۔ اسے عبدالرحمن کی ضرورت تھی۔ اس نے برگر کنگ پہ کچھ دن بعد ملنے کی حامی بھر لی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ابھی استنبول سے باہر ہے، واپس آتے ہی اس سے ملے گا۔ اب نہ معلوم یہ سچ تھا یا نہیں، بہرحال اسے اب طیب حبیب کا انتظار کرنا تھا۔
کافی پی کر اس نے ایک میٹنگ بلا لی تھی۔ ابھی اس سے فارغ ہوا ہی تھا کہ حیا کا فون آنے لگا۔ پتا نہیں یہ کیسا رشتہ تھا جس کا وہ اس سے ذکر نہیں کرتا تھا مگر اس کا فون کاٹ بھی نہ سکا۔ میٹنگ اس وقت برخاست ہو رہی تھی، سب اٹھ رہے تھے، کانفرنس روم میں شور سا مچا تھا جب اس نے حیا کی کال وصول کی۔ حیا کو اس نےسچ ہی بتایا کہ وہ دوست سے ملنے آیا تھا۔ عجلت میں بات ختم کرتے ہوئے اس نے فون کان سے ہٹایا اور بورڈ ممبران سے اختتامی الفاظ با آواز بلند کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ اپنی چیزیں اٹھاتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ فون ابھی تک آن تھا۔ اس نے جلدی سے کال کاٹی، وہ ترک میں بات کر رہا تھا، حیا نے کچھ نہیں سنا ہو گا یقینا سو اسے پریشانی نہیں ہوئی۔
واپس اپنے آفس آ کر بیٹھے اسے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی جب اس کے موبائل میں ٹریسر الرٹ بجنے لگا۔ وہ چونک سا گیا۔ اس کا ٹریسر اسی علاقے کے قریب تھا۔ کیا حیا آس پاس تھی۔ وہ کیوں ادھر آ رہی تھی۔
ابھی دوست سے ملاقات میں کافی وقت تھا اور ہوٹل کا کام وہ بعد میں دیکھ لے گا، پہلے اسے اپنی بیوی کو ہینڈل کرنا تھا۔
لباس بدل کر، جینز والا رف حلیہ بنا کر، سر پر پی کیپ لیے، وہ اپنے آفس کی پرائیوایٹ لفٹ سے نیچے آیا، اور آخری فلور سے پیچھے کی طرف سے باہر نکل آیا۔ قریب سے اس نے بھگی لی، اور اسے پھولوں کی مارکیٹ کا چکر لگانے کو کہا۔ جب اسے بلآخر وہ پھولوں کے اسٹال پہ نظر آ گئی، تو وہ بھگی سے اترا اور واپس ہوٹل کے عقبی پارکنگ ایریا تک آیا۔ ایک کام کرنا وہ بھول گیا تھا اور بھلے وہ اسے دیکھتی رہے، یہ کام اسے کرنا تھا۔ اس نے اپنے گارڈ کو اپنے والٹ میں لگی حیا کی تصویر دکھائی۔
یہ لڑکی کبھی تمہیں اپنے آس پاس نظر آئی ہے۔
نہیں سر! گارڈ نے نفی میں سر ہلایا۔
ٹھیک ہے، اگر یہ کبھی ہوٹل میں داخل ہونے کے لئے اس طرف آئے تو اس کو اندر مت جانے دینا اور فورا مجھے اطلاع کرنا۔
تمام، تمام! (اوکے اوکے) گارڈ نے فورا تابعداری سے سر ہلایا۔ جہان نے والٹ واپس اپنی جیب میں ڈالا اور پلٹ آیا۔ ابھی اسے اپنی بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑنا تھا جو اس کی جاسوسی کر رہی تھی۔ پھر اسے اچھا خاصا شرمندہ کر کے، تاکہ وہ دوبارہ اس کا تعاقب کرنے کی کوشش نہ کرے، وہ عیسی کی پہاڑی کی طرف جاتے راستے پہ چل دیا۔ مگر چونکہ وہ پہلے اسے کہہ چکا تھا کہ وہ تین سال بعد ادھر آیا ہے لہذا اس بات کو نبھانے کے لئے وہ کبھی کبھی ظاہر کر دیتا تھا کہ اسے راستہ یاد نہیں۔ توقع کے عین مطابق وہ اس کی طرف پہ مطمئن تھی۔
وہاں عیسی کی پہاڑی کے سبزہ زار پہ بیٹھے، اس نے نوٹ کیا تھا کہ حیا نے ان تینوں موتیوں کو پہن رکھا تھا اور یہ گردن والی چین تو بہارے کی تھی، وہ پہچانتا تھا۔ البتہ ایک فرق اس نے محسوس کیا تھا۔ وہ عموما گردن کے گرد دوپٹہ لیا کرتی تھی، البتہ آج اس نے شال شانوں کے گرد اچھی طرح لپیٹ رکھی تھی۔ یا تو عائشے کی کمپنی کا اثر تھا، یا وہ اسے حلیمہ عثمان کے پاس لے گئی ہوں گی۔ جو بھی تھا، اسے یہ نا محسوس سی تبدیلی اچھی لگی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی تب بھی وہ اسے اس کی تمام خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کر چکا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: