Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 58

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 58

–**–**–

جب ادھر بیٹھے حیا نے اس سے کبھی جلنے کا زخم محسوس کرنے کا پوچھا تو لمحے بھر میں جیل میں بیتے وہ تاریک دن اور اندھیری راتیں اس کے ذہن میں امڈ آئیں مگر وہ بات ٹال گیا۔ اسے اپنے زخم دکھا کر ہمدردی حاصل کرنے کا شوق ہرگز نہیں تھا۔ وہ اس سے باتیں کرتے ہوئے دور الاؤ کے پاس بیٹھے لڑکوں کے گروپ کو دیکھ رہا تھا۔ اسی میں ایک لڑکا اس کا دوست تھا۔ابھی ملاقات میں وقت تھا مگر وہ وہیں سے اسے پہچان گیا تھا اس لڑکے کی عمر کم تھی شاید پچیس برس اس کے لیے وہ ایک جونیئر ایجنٹ ہی تھا۔ جونیئر مگر بہادر اور ذہین۔ اس کو پاکستان جانا تھا اور جہان سے کچھ چیزیں لے کر جانا تھا۔ دو ایک کام وہ پہلے بھی ساتھ کر چکے تھے اور اپنے سنیئر ایجنٹ کی وہ لڑکا بہت عزت کرتا تھا۔ اس کو عمر کا اصل نام معلوم نہ تھا اور نہ کبھی وہ اپنے ملک کی باتیں کرتے تھے اجازت ہی نہیں تھی مگر وہاں بیٹھے حیا سے اس کی رپورٹ کا پوچھتے ہوئے بھی وہ عمر کی موجودگی سے ہی بہت اچھا محسوس کر رہا تھا۔ اپنے ملک کی تو ہوا بھی اپنی لگتی ہے یہ تو پھر بھی ہم پیشہ ہم وطن تھا۔
میں عبدالرحمن پاشا کے گمشدہ بھائی پہ رپورٹ لکھ رہی ہوں۔ کسی اور دھیان میں اس نے حیا کی بات سنی اور اگلے ہی لمحے وہ سیدھا ہو بیٹھا۔ وہ کیا کہہ رہی تھی۔ جب جب فون پہ حیا نے کہا تھا کہ وہ کچھ لکھ رہی ہے تو وہ اسے یونہی خالی خوبی سی دھونس سمجھتا تھا مگر اب جو کچھ وہ بتا رہی تھی اس نے لمحے بھر کو تو جہان کا سانس ہی روک دیا۔
بات رپورٹ کی نہیں تھی، اس کی رپورٹ نہ کبھی لکھی جانی تھی نہ کسی نے شائع کرنی تھی۔ بات یہ تھی کہ اس کو یہ ساری باتیں کون بتا رہا تھا۔ اگر عائشے نے بتایا تو پھر یہ خطرے کی علامت تھی کہ عبدالرحمن کے گھر سے باتیں باہر نکل رہی تھیں۔ پاشا بے نئی زندگی شروع کرنے جا رہا تھا۔ ذاتی اختلاف ایک طرف وہ ان کا ایجنٹ تھا اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانا ان کا فرض۔ اب اس کے گھر سے اس کی بیوی کی طرف سے کوئی ایسی بات باہر نکلے جو پاشا بے کو نقصان پہنچائے یہ اس کو مضطرب کر دینے کے لیے کافی تھا۔ حیا اور عائشے پھر یہ باتیں اور لوگوں سے بھی کہتی ہوں گی۔ ایک صرف جہان سے تو ذکر نہیں کیا ہو گا نا۔ دنیا ویسے تو چھوٹی تھی ہی مگر بیوک ادا تو بہت چھوٹا تھا۔
بہت مشکل سے اس نے بات کا رخ پھیرا۔ چونکہ وہ حیا سے ایسی بات کی توقع نہیں کر رہا تھا اس لیے وہ خود بھی ذرا سا پریشان ہو گیا تھا۔ وہ اس کے ساتھ پہاڑی کے نیچے تک آیا تھا اور پھر وہ سامان لینے چلی گئی تو وہ واپس اوپر آیا عمر سے ملا امانت پہنچائی اور واپس بندرگاہ پہ آ گیا۔
کل وہ دوبارہ بیوک ادا آئے گا پھر عائشے سے نپٹے گا مگر آج کل اسے وہ ویڈیو لاکر میں رکھ دینی چاہیے۔ ہو سکتا ہے وہ پزل باکس کھول چکی ہو اور اب جب کہ وہ استنبول جا ہی رہی تھی تو وہ جلد یا بدیر لاکر ڈھونڈ ہی لے گی۔
اگلے روز وہ بیوک ادا آ ٓگیا۔وہ ہوٹل میں تھا جب عائشے نے اسے میسج کیا کہ حیا کل چلی گئی تھی اور وہ گھر آسکتا ہے۔ عائشے جانتی تھی کہ وہ اسی کے ساتھ گئی ہے مگر اسے اطلاع دینے کا مقصد اسے گھر بلانا تھا۔ آنے بھی گزشتہ رات آ گئی تھیں۔وہ زیادہ دیر تک ان کو ادلار سے دور نہیں رکھ سکتا تھا سو اچھا ہوا حیا ان کے آنے سے قبل جا چکی تھی۔
عائشے کو اس نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے سلام بھی نہیں کیا نہ ہی اس کے مخاطب کرنے پہ ٹھیک سے بات کی۔ عائشے کو موتیوں والی بات معلوم ہو چکی تھی اور اس نے یہی قیاس کیا کہ عبدالرحمن اس سے اسی تھپڑ پہ ابھی تک خفا تھا تب ہی سوائے اس رات کے اس نے عائشے سے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی۔ وہ پھر سے معذرت کرنے آئی تھی مگر، جہان کے حیا کو پاشا بے کے متعلق بتانے پہ جھڑکنے پہ وہ خفا ہو کر واپس چلی گئی۔ ہ اسٹڈی سے مطلوبہ اشیاء لے کر پلٹنے لگا تھا کہ اس کی نظر میز پہ رکھے پزل باکس پہ پڑی۔ وہ ایک دم ٹھہر گیا پھر باکس اٹھا کر دیکھا۔ جلی ہوئی اطراف ابھری ہوئی سطور چھے چوکھنے الٹ پلٹ کر دیکھنے سے ہی وہ جان گیا تھا کہ یہ وہی پزل باکس ہے۔
جب اس نے عائشے سے باکس منگوایا تھا تو اس کی شکل یہ نہ تھی اور اس کا کوڈ عائشے پہ سیٹ تھا۔ چونکہ وہ انگریزی حروف تہجی پہ بنایا گیا تھا اس لیے عائشے کے نام کے ہجے انگریزی کے حساب سے تھے۔ورنہ مرک میں اس کا نام Aysegul لکھا جاتا تھا۔ (اس میں انگریزی حرف S کے نیچے ننھی سی لکیر ہوتی تھی۔ ترک اگر عام S لکھتے تو اسے سین کی آواز میں پڑھتے لیکن اگر ایس تلے لکیر ہوتی تو اسے شین کی طرح پڑھا جاتا۔)
بعد میں جہان نے اس کو کھول لینے کے بعد اس کا کوڈ ٹاقسم سیٹ کر دیا تھا۔ وہیں اسٹڈی میں کھڑے کھڑے اس نے کوڈ کو اوپر نیچے کیا، ٹاقسم پہ باکس کھل گیا۔ اندر اس کے لاکر کی سلپ، چابی اور کاغذ ویسے ہی پڑے تھے اس نے پھر سے باکس بند کیا، سلائیڈز آگے پیچھے کیں اور وہیں کھڑے کھْڑے سوچنا چاہا کہ اس لاپروائی کی وہ اپنی بیوی کو کیا سزا دے۔ حد ہو گئی، جو چیز اس نے بہت احتیاط سے اس تک پہنچائی تھی، اس کو یوں ادھر بھول کر چلی گئی تھی۔ اسے غصہ بہت آیا مگر دبا گیا۔
اب وہ کیا کرے۔ یہ باکس یہیں پڑے رہنے دے۔ مگر ایسی صورت میں یہ باکس ملازمہ یا عائشے کے ہاتھ لگ سکتا تھا اور عائشے سے وہ ویسے ہی ذرا محتاط رہتا تھا۔ تو پھر کیا کرے۔ عائشے کو دے دے کہ اسے بحفاظت حیا تک پہنچا دے۔ جو بھی تھا عائشے ایک ایمانت دار لڑکی تھی امانت کو کھول کر نہیں دیکھے گی۔
مگر نہیں۔ ہاشم نے باکس بنواتے وقت یہی کہا تھا کہ عبدالرحمن کو اس بات کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔
پھر عبدالرحمن جو کہ اس کام میں ملوث ہی نہیں تھا وہ باکس کیوں حیا تک پہنچائے گا۔ اس کی کور اسٹوری میں جھول آرہا تھا۔
وہ کچھ دیر وہیں کھڑا سوچتا رہا پھر ایک دم سے اسے خیال آیا۔
بہارے گل۔ وہ ہر کسی سے راز رکھ سکتی تھی سوائے اپنی بہن کے۔ وہ اپنا سارا کھایا پیا اپنی بہن کو ضرور بتاتی تھی۔ اس نے ذہن میں ایک لائحہ عمل ترتیب دیا اور باکس پکڑے باہر آیا۔
یہ تو حیا کا ہے۔ اس کے استفسار پر بہارے نے حیرت سے باکس کو دیکھتے ہوئے بتایا۔ وہ یہیں بھول گئی؟ کل اس کا کزن اسے لینے آیا تو اسے جلدی میں جانا پڑا تمہیں پتا ہے اس کا کزن بہت ہینڈسم ہے۔ اس نے بڑے اشتیاق سے بتایا۔
بہارے نے حیا کے کزن کو کہاں دیکھا۔ اسے اچنبھا ہوا مگر جان بوجھ کر اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بہارے سے سوالات پوچھنے شروع کیے۔ باکس کس نے حیا کو دیا اور کس نے بنایا وغیرہ۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا پکڑا جا سکتا ہے یا نہیں۔ مگر لگتا تھا کہ حیا کو صرف باکس کھولنے بیں دلچسپی تھی اس نے بھیجنے والے کی زیادہ تحقیق نہیں کی تھی۔
اس نے بہارے سے کہہ دیا کہ اب وہ باکس اس کے پاس رہے گا اور وہ جانتا تھا بہارے زیادہ دیر تک یہ راز نہیں رکھ سکے گی۔ وہ عائشے کو ضرور بتائے گی۔ آنے کہتی تھیں یہ دونوں آنے گل کی بیٹیاں ہیں ان کی ماں نے ان کو تب تک کچھ نہیں کھلایا جب تک کہ اللہ کا نام نہیں اس پہ پڑھ لیا اس لیے یہ نہ کبھی خیانت کر سکتی ہیں نہ ہی کسی کو دھوکہ دے سکتی ہیں۔ بہارے کو لاکھ عائشے کے درس سے چڑ ہو وہ آخر میں تھی تو عائشے کی بہن۔ وہ حیا کی امانت مہمان کی امانت اس تک ضرور پہنچائے گی۔ ساتھ میں یہ بھی بتائے گی کہ عبدالرحمن یہ باکس اس سے دور کرنا چاہتا تھا شاید یہی سن کر حیا اسے اگلی دفعہ کہیں رکھ کر نہیں بھولے گی۔
جب وہ واپس پلٹا تو جانتا تھا کہ بہار ے بھی دبے قدموں اس کے پیچھے آئے گی۔ اس کو میز کے نیچے دروازوں کے چابی کے سوراخوں اور دیواروں کے پیچھے سے باتیں سننے کا بہت شوق تھا۔ اس لئے اس نے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ ذرا سا کھلا رہنے دیا
اور بہارے کے سامنے الماری لاک کر کے چابی دراز میں رکھ دی۔
اب وہ پہلی فرصت میں یہ بات عائشے کو بتائے گی اور عائشے فورا سے بیشتر وہ باکس حیا تک پہنچائے گی۔ اور کم از کم اس سے وہ یہ تو جان لے گا کہ بہارے گل راز رکھ سکتی ہے یا نہیں۔ شاید اپنی بہن سے تو بالکل نہیں۔
اسی رات اس نے اپنے کمرے میں وہ ویڈیو ریکارڈ کی اور اس میں وہ سب کہہ دیا جو وہ کہنا چاہتا تھا۔ اگر نہیں کہا تو ابا کے ہاتھوں جاسوس کو مارنے کا قصہ کہ وہ ابا کا راز تھا اور فریحہ کی جاسوسی کا قصہ کہ وہ فریحہ کا راز تھا اور اپنے سر درد کا قصہ کہ وہ اس کا اپنا راز تھا اور اسے راز نبھانے بہت اچھے سے آتے تھے۔
اس رات وہ سو نہیں سکا۔ صبح جب وہ واپس استنبول آیا تو سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ جواہر جا کر اس نے اپنے لاکر میں یو ایس بی فلیش رکھی اور واپس ریسٹورنٹ آگیا۔ پوری رات کی بیداری کے بعد اب پچھلے کمرے میں صوفے پہ بیٹھا اور سر صوفے کی پشت سے لگایا ہی تھا کہ آنکھیں بند ہونے لگیں۔ ابھی اسے نیند میں گئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ موبائل بجنے لگا۔ وہ بدقت اس نے آنکھیں کھولیں، سیدھا ہوا اور جیب سے موبائل نکال کر دیکھا۔ ایکسچینج اسٹوڈنٹ کال کر رہی تھی۔ ایک تو یہ ایکسچینج اسٹوڈنٹ ٹھیک سے چین بھی نہیں لینے دیتی۔ ایک لمحے کے لیے جہان نے سوچا کہ نظر انداز کر دے پھر پتا نہیں کیوں وہ کر نہیں سکا اور کال اٹھا لی۔
آپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت سو رہا ہے براہ مہربانی کافی دیر بعد رابطہ کریں۔ شکریہ! وہ بولا تو اس کی آواز خمار آلود تھی۔
جہان! اٹھو اور میری بات سنو۔ وہ بہت جھلا کر کہہ رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی جہان ابھی اسی وقت ٹاقسم میں مرمرا ہوٹل پہنچے، سلیمان ماموں کے کوئی دوست آئے ہوئے تھے۔ وہ سخت کبیدہ خاطر ہوا۔
میں نہیں آ رہا، مجھے آرام کرنے دو۔ جواب میں وہ بے حد خفا ہوئی اور اپنا پسندیدہ ”جہنم میں جاؤ“ بول کر فون رکھ دیا۔
جہان نے پھر سے سر صوفے کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں مگر اب نیند کا آنا ناممکن تھا۔ کچھہ دیر بعد حیا کا پھر میسج آیا۔ وہ اسے بلیو موسق بلا رہی تھی۔ اس کو جوابی ٹیسکٹ کر کے وہ اٹھا، شرٹ بدلی، منہ پہ چھینٹے مارے اور چابی اٹھا کر ریسٹورنٹ سے باہر آ گیا۔
حیا نے میسج پہ بلیو موسق کا کہا تھا اور نیلی مسجد کے باہر سبزہ زار پہ نصب بنچوں پہ ہی وہ سے دور سے نظر آ گئی۔ ایک لمحے کے لیے تو وہ اسے واقعی پہچان نہیں پایا تھا۔
حیا نے سر پہ دوپٹہ لے رکھا تھا۔ گہرے سبز رنگ کا دوپٹا جس کو وہ مستقل چہرے کے گرد ٹھیک کر رہی تھی۔ چونکہ اسے دوپٹہ لینے کی عادت نہیں تھی اس لیے وہ بار بار سر سے پھسل جاتا تھا۔
نیلی مسجد کے باہر کبوتو پر پھڑپھڑاتے ہوئے اڑ رہے تھے۔ کتنی ہی دیر تو وہ اس منظر کو ٹھہر کر دیکھے گیا۔ ایک دم سے اسے کچھ یاد آیا تھا۔
جب وہ انڈیا میں تھا، اور اس بک اسٹال کے ساتھ وہ لڑکی ملی تھی جسے ظاہر ہے کہ اس کے اپنوں نے ہی بھیجا تھا۔ اور وہ اسے اس آفیسر کا نام دکھا گئی تھی۔ جو اس کی مدد کرے گا اور بعد میں اسی کی مدد سے وہ جیل سے فرار ہوا تھا اس لڑکی کے سر پہ بھی ایسے ہی سفید دوپٹا تھا۔ خوبصورت، بہت خوبصورت جیسی علی کرامت کی ممی تھیں، جیسے آنے گل کی بیٹیاں تھیں، اور جیسی اب اس کی بیوی تھی۔
یہی تو چاہا تھا اس نے کہ اس کی بیوی ایسی ہو۔ بھلے وہ چہرہ نہ ڈھکے مگر باقی ہر طرح سے خود کو ڈھکے اور آج اس کی ساری خواہشیں پوری ہو گئی تھیں۔ اس کو بھی ایک مرمرا جمیلہ مل گئی تھی۔
اور تب ہی اس کی نگاہ حیا کے مقابل بیٹھے نوجوان پہ پڑی۔ اوہ ریسٹورنٹ سے وہ فرائنگ پان کیوں نہیں لایا۔آخر یہ شخص یہاں کیا کر رہا تھا۔ ایک لمحے کو اسے شدید غصہ چڑھا مگر جب اس نے دوبارہ حیا کو دیکھا تو جیسے بہت سے مناظر اس ایک منظر کی روشنی میں غائب ہو گئے۔
داور کی مہندی کی ویڈیو، حیا کا اس کار میں بیٹھنا، بارش میں سرخ کوٹ میں ٹاقسم پہ چلتی لڑکی۔
سارے منظر غائب ہو گئے ایسے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ پیچھے صرف ایک منظر بچا۔ بار بار چہرے کے گرد ڈوپٹہ ٹھیک کرتی خفا اور اداس سی بیٹھی لڑکی جو ذرا غصے سے سامنے بیٹھے شخص کو کچھ کہہ رہی تھی۔
جب وہ ان کے قریب آیا تو وہ چونکی اور ایک دم اس کا چہرہ جیسے کھل اٹھا۔ وہ حیران تھی اور خوش بھی۔ وہ اتنی بے اختیار ہو کر اٹھی کہ موبائل جو شاید اس کی گود میں تھا زور سے نیچے جا گرا۔
جہان! یہ ابا کے دوست کے بیٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تعارف کروانے لگے، اب وہ کیا بتاتا کہ وہ اس آدمی کو پہلے سے جانتا ہے، مگر ولید کو وہ ضرور کچھ بتانا چاہتا تھا۔ سلیمان ماموں اور حیا سے بہت ہی اپنائیت سے بات کرنے کے بعد اس نے لغاری صاحب کی سوالیہ نگاہوں کے جواب میں مسکراتے ہوئے ہی اپنائیت سے سارے رشتوں کی وضاحت ایک فقرے میں کر دی۔
میں جہان سکندر ہوں، سلیمان ماموں کا بهانجا اور حیا کا ہزبینڈ۔ اور اس ایک فقرے نے اس کے اپنوں کو جو حیرت بهری خوشی عطا کی، اس سے سلیمان ماموں کا بھانجا اور حیا کا ہیزبینڈ بلآخر یہ بات جان گیا کہ وہ سب یہ رشتہ چاہتے تهے۔ ساری ناراضگیاں دور ہوئیں سارے گلے ختم ہوئے۔ اس نے اپنی بیوی کو اس شخص کے سامنے مان دیا جس کے اور اس کی بیوی کے درمیان کبھی کچھ نہیں رہا تھا، ہو ہی نہیں سکتا تها۔
شام کو جب ماموں اور ممی لاؤنچ میں تهے وہ کچن میں حیا کی مدد کروا رہا تها۔ تب اس نے حیا کا پلان جاننے کی کوشش کی۔ وہ اسے ترکی سے بهیجنا چاہتا تها مگر حیا نے ابهی کچھ طے نہیں کیا تها کہ اسے ترکی میں رہنا ہے یا دوسرے ملک۔ ممی اور ابا کو وہ لندن میں سیٹل کر رہا تها، اگر حیا لندن جانے پہ راضی ہو گئی تو وہ اسے ان کے ساته لندن بھیج دے گا، لیکن اگر وہ نہیں راضی ہوتی تو وہ دوسرا طریقہ استعمال کرے گا۔
شام میں ان کی منگنی ہوئی۔ ممی کو جیسے پتا چلا کہ اس نے سب کے سامنے یہ اعتراف کیا ہے وہ بہت خوشی سے دو انگوٹهیاں نکال لائیں جو انہوں نے اس موقع کے لیے بہت عرصے سے سنبھال رکهی تھیں۔
وہ واقعی اس روز مطمئن تها۔ جب رات میں وہ ماموں کو چھوڑ کر گھر واپس آیا تو اس کا ارادہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھی سی کافی پینے اور کوئی اچھی سی مووی دیکھنے کا تها۔ فیملی والا احساس بہت عرصے بعد دل میں جاگا تها اور وہ اس احساس کو جینا چاہتا تها۔
مگر اس سے قبل حیا نے اسے بری خبر سنا دی۔
تمہارے لیے فون آیا تھا کوئی لڑکی تھی، نام تو نہیں بتایا مگر کہہ رہی تھی کہ تمہارا پارسل اسے نہیں ملا، کسی غلط ایڈریس پہ چلا گیا ہے۔
اور کسی نے وقعتا اس کا سانس روک دیا۔ اس کا گھر ایک سیف ہاؤس کے طور پہ استعمال ہوتا تھا۔ وہ جانتا تھا وہاں شام سے ایک کانٹیکٹ کی کال ہی آ سکتی تھی، اور اس کو پارسل نہ ملنے کا مطلب بہت واضع تھا۔ جو کچھ اس نے یہاں سے بھیجا تھا، واپس نہیں پہنچا تھا، بلکہ کسی غلط ایڈریس پہ چلا گیا تھا۔ اس نے ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں پیغام کو ڈی کوڈ کیا۔ اس کا بھیجا ہوا لڑکا، عمر واپس نہیں پہنچا تھا۔ بلکہ گرفتار ہو گیا تھا تو یقینا بہت ایمرجنسی سچویشن تھی، اس لیے پیغام اس کے گھر چھوڑ دیا گیا تھا۔ عین ممکن تھا کہ پیغام جس نے بھیجا ہو، وہ بھی جلدی جلدی اپنی جگہ سے پیک اپ کر کے نکل رہی ہو۔ خدایا یہ کیا ہو گیا تھا۔
اس کا لڑکا پکڑا گیا تھا۔ جیل تشدد، اذیت اس کی ہر طرف وہی تنگ و تاریک سیل چھانے لگا۔ ایسے میں کافی، مووی، سب فضول تھا۔
پوری رات وہ اسی صوفے پہ بیٹھا ہینڈلر کی کال کا انتظار کرتا رہا، مگر کال نہیں آئی۔ دو راتوں کی بےخوابی کے باعث صبح تک اس کی آنکھیں سرخ پڑنے لگی تھیں، مگر وہ وہیں بیٹھا رہا۔ ہر کوئی جیل سے فرار نہیں ہو پاتا۔ لوگ برسوں جیل میں سزا اور تشدد کاٹ کر وہیں خاموشی سے جان دے دیتے ہیں۔ ایک اور اسپائی ضائع ہو گیا۔ ایک اثاثہ ضائع ہو گیا۔ اس کی اذیت کی کوئی حد نہیں تھی۔
اس سارے میں حیا کا خیال اس کے ذہن سے بالکل نکل گیا۔ صبح ہوتے ہی وہ واپس چلی گئی۔ جہان نے روکا بھی نہیں۔ اس کے پاس کرنے کو بہت سے دوسرے کام تھے۔
اگلے روز وہ بیوک ادا چلا گیا۔ حیا، پزل باکس، جواہر کا لاکر، اس نے سب کچھ ذہن سے جھٹک کر خود کو ہوٹل گرینڈ میں مصروف کر لیا۔ ریسٹورنٹ میں اس نے بتا دیا تھا کہ اگر اس کی دوست (حیا) شام میں آئے تو کہنا، جہان جلدی اٹھ کر چلا گیا ہے، اگر صبح آئے تو کہنا، وہ آج آیا ہی نہیں۔ چند روز وہ واقعی نہیں آئی۔ عمر کی گرفتاری کی تصدیق ہو گئی۔ پھر انہی دنوں وہ بلآخر خود کو راضی کر کے انقرہ لے آیا۔ یہاں اسے اپنا چیک اپ کرانا تھا، سر کا بدترین درد جو سر سے ہوتا ہوا گردن تک جاتا، اسے اب اس کا علاج چاہیے تھا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد اس نے گردن کے ایک طرف کا ایم آر آئی کروایا تھا، مگر برین ایم آر آئی اس نے نہیں کروایا تھا۔ اپنا درد اس نے ہر جگہ چھپایا تھا، تب اتنی تکلیف ہوتی بھی نہیں تھی۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھی تھی۔ پانچ سال جہان نے اس اذیت کے ساتھ گزارے تھے، اب بلآخر وہ اس کا سامنا کرنا چاہتا تھا۔
ایم آر آئی سے قبل، سادہ ایکسرے سے ہی سارا معاملہ صاف ہو گیا۔ اس کو ایکسرے دکھانے سے قبل ڈاکٹر نے پوچھا تھا۔
کیا کبھی تمہیں سر پہ کوئی چوٹ آئی تھی۔ کوئی ایکسیڈنٹ جس میں سر کسی چیز سے ٹکرایا ہو؟
ہاں! میری لڑائی ہو گئی تھی کچھ لوگوں سے، انہوں نے میرے سر پر کوئی تلے کی طرح کی چیز سے مارا تھا جس سے سر سے خون بھی نکلا تھا۔ مگر خون اتنا زیادہ نہیں تھا۔ آنکھ کے قریب زخم سا ہوا تھا جس سے تھوڑا سا خون نکل کر کنپٹی تک ہی گرا تھا۔
مجھے افسوس ہے، لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی ڈاکٹر نے اس کا ایکسرے اس کے سامنے رکھا۔ شاید جس چیز سے ان لوگوں نے تمہیں مارا تھا اس پہ چھوٹی سی کیل لگی ہوئی تھی۔ ایک اشاریہ ایک انچ کی کیل جو تمہاری آنکھ کے قریب گھس گئی تھی۔
اس نے بے اختیار آنکھ کے قریب چہرے پہ ہاتھ رکھا، وہ ایک Object Foregin کے ساتھ پچھلے پانچ برس سے رہ رہا تھا اور اسے کبھی پتا نہیں چل سکا۔
اب کیا ہو گا۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ ماضی کا افسوس کرے یا مستقبل کے لئے فکر مند ہو۔ اسے واقعی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
ہمیں سرجری کے ذریعے یہ فارن آبجیکٹ ریموو کرنا پڑے گا، مگر، ڈاکٹر متذبذب سا رک گیا۔
آپ بتا دیں جو بھی بتانا چاہتے ہیں۔ میں تیار ہوں۔ بمشکل اس نے خود کو کمپوز کر لیا تھا۔
دیکھو! میڈیکل ہسٹری میں بہت سے ایسے کیسز آئے ہیں جس میں لوگ برسوں فارن آبجیکٹ کے ساتھ رہتے ہیں اور انہیں علم بھی نہیں ہوتا۔ وہ آدمی جس کے گلے کے قریب چاقو کا پھل، اور میرا مطلب ہے واقعی چاقو کا پھل گھس گیا تھا، چار برس تک اس کو علم ہی نہ ہو سکا کہ اس کے گلے میں کچھ ہے اور جرمنی کی ایک عورت تیس پینتیس برس تک اپنے برین میں آٹھ سینٹی میٹر لمبی پینسل لیے رہی۔ سرجری سے ایسی بہت سی چیزیں نکالی جاتی رہی ہیں، مگر، وہ پھر رکا۔ یہ ننھی سی کیل تمہاری Optic Nerve کے بالکل ساتھ پھنسی ہے۔ چند ملی لیٹر بھی آگے پیچھے ہوتی تو تم اندھے ہو جاتے۔ اب اس سرجری کا کم از کم میں رسک نہیں لوں گا، اس کی کامیابی کا چانس کم اور تمہارے اندھے ہونے کا چانس زیادہ ہے
وہ خاموشی سے عادتا ًنچلا لب دانت سے دبائے سنتا گیا۔ کبھی وہ سوچتا تھا، وہ بہت خوش قسمت ہے کہ وہ بغیر کسی مستقل انجری کے جیل سے باہر آ گیا اور فوج کے لئے ناکارہ نہیں ہوا۔ مگر وہ غلط تھا۔ جیل افسران نے اسے پہلے دن کہا تھا کہ کوئی ان کی جیل سے مردہ یا اپاہج ہوئے بغیر نہیں جاتا تھا۔ وہ ٹھیک کہتے تھے۔ وہ بالکل ٹھیک کہتے تھے۔
پھر میں کیا کروں۔ بہت دیر بعد اس نے پوچھا تو ڈاکٹر نے نفی میں سر ہلا دیا۔
تم دوسری رائے کے لئے کسی اور کے پاس جا سکتے ہو۔ باہر چلے جاؤ۔ جرمنی بہتر رہے گا۔ یقیناً کوئی مجھ سے اچھا سرجن یہ رسک لینے پہ تیار ہو جائے گا۔
وہ رات بہت تکلیف دہ تھی۔ ایک طرف یہ سر درد اور اب نکسیر پھوٹنا اور دوسری طرف اندھے ہونے کا خدشہ وہ کس کا انتخاب کرے۔ کیا اس کیل کو سر میں پڑے رہنے دے۔ یا پھر نکلوانے کا خطرہ مول لے لے۔ اور اگر وہ اندھا ہو گیا یا اپاہج، تو کیا ہو گا۔ کیریئر ختم، ملک کی خدمت ختم، حکومت کا لاکھوں روپیہ خرچ کر کے اس کی تربیت دلانا ختم، زندگی ختم۔
صبح وہ سیدھا ریسٹورنٹ آیا۔ آج پہلی دفعہ اس کا دل کسی کام کے لئے نہیں چاہ رہا تھا۔ زندگی پہلے بھی بے یقین تھی، مگر اب تو مزید بے یقین ہو گئی تھی۔ کیریئر کا ختم ہونا اس کے لئے زندگی کے ختم ہونے کے برابر تھا۔ مگر پھر بھی وہ یہ رسک لے گا۔ خطرہ لئے بغیر بھی کوئی زندگی ہوتی ہے بھلا۔
جہان بھائی، وہ آپ کی دوست آئی تھی رات کو۔ کاؤنٹر پر جز وقتی بیٹھنے والے لڑکے نے بتایا تو وہ چونکا۔
حیا۔ کیا کہہ رہی تھی۔
اپنی دوست کے ساتھ آئی تھی، آپ کا پوچھا پھر چلی گئی۔ کافی دیر بعد دونوں دوبارہ آئیں، ان کے شاید کوئی پیچھے لگا ہوا تھا، انہوں نے بیک ڈور کا راستہ مانگا۔ پھر وہ وہیں پینٹری میں بیٹھی رہیں۔ سوا ایک بجے وہ پیچھے سے نکل گئیں۔
اور کچھ۔
اور پاشا بے بھی آئے تھے۔ اب کی بار وہ بری طرح چونکا۔
کیا کہہ رہا تھا وہ۔
آپ کا انتظار کرتے رہے۔ یہیں دروازے کے پاس کرسی پہ بیٹھے رہے۔ اچھے موڈ میں نہیں تھے۔ آپ سے ملنا چاہتے تھے۔
کیا وہ دونوں لڑکیا اس کی موجودگی میں آئی تھیں۔ بہت دن اپنے مسئلوں میں الجھنے کے بعد آج اسے پھر حیا کی فکر ہو رہی تھی۔
جی۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں دروازے کے پاس کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ وہ ساتھ ہی بیٹھے تھے، انہوں نے چہرے کے آگے اخبار کر رکھا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہو گا۔ جب وہ دوسری دفعہ آئیں تب تک وہ جا چکے تھے۔
اچھا۔ وہ مطمئن ہو کر اندر چلا گیا۔ پاشا نے حیا کو دیکھ بھی لیا ہو تب بھی وہ ہرگز نہیں جان سکتا تھا کہ وہ جہان کی بیوی ہے۔ اسے جاننا بھی نہیں چاہئے تھا۔ کمزوریوں کو کیسے پکڑا جاتا ہے، جہان سے بہتر کون جان سکتا تھا۔ اس لئے کوئی اس کی کمزوری پکڑے وہ نہیں چاہتا تھا۔ بس اب وہ جلد از جلد حیا کو یہاں سے بھیج دے گا۔ استنبول غیر محفوظ تھا۔ کم ازکم اس کی فیملی کے لئے۔
مگر اسے واپس بھیجنے سے قبل ضروری تھا کہ وہ اپنا پزل باکس کھول لے اور لاکر بھی۔ وہاں موجود گارڈ کو اس نے ہدایات دیے دی تھیں۔ جب بھی کوئی ۹ نمبر کا لاکر کھولنے آئے گا، گارڈ اس کے ایک نمبر پہ مسیج کر دے۔ چند پیسے لے کر گارڈ اس کام کے لئے راضی ہو گیا تھا۔ اور ابھی تک لاکر کھولنے کوئی نہیں آیا تھا۔
جب وہ دوبارہ بیوک ادا گیا تو اس نے اپنی الماری چیک کی۔ اس میں پزل باکس نہیں تھا۔ وہ عائشے نے رکھ لیا تھا یا واپس حیا تک پہنچ گیا تھا۔ یہی پوچھنے کے لئے اس نے بہارے کو بلایا۔
وہ سر جھکائے اوپر آئی اور صاف صاف بتا دیا کہ پزل باکس اس نے حیا کو دے دیا ہے۔ چند لمحے وہ کچھ نہیں کہہ سکا۔ اس کا اندازہ ٹھیک تھا۔ بہارے گل عائشے سے راز نہیں رکھ سکتی تھی۔ یقیناً اس نے سب سے پہلے عائشے گل کو بتایا ہو گا۔
اس نے بہارے پہ غصہ نہیں کیا۔ غصے والی بات تھی ہی نہیں۔ وہ اس کے سامنے پنجے کے بل بیٹھا اور اس سے اپنے راز کے بارے میں پوچھنے لگا۔
پھر تو مجھے تمہارے دوسرے وعدے کا بھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔
اور اب تو اسے اس وعدے کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت تھی۔ وہ اس پاک اسپائی کو جنازہ نہیں دے سکا تھا جس کو اس نے ابا کے ساتھ دفنایا تھا مگر شاید بہارے اس کو جنازہ دے سکے۔ یہ الگ بات تھی کہ کور Blow ہونے پر سب لوگ آپ کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ مگر بہارے مصر تھی کہ ایسا نہیں ہو گا۔
پورا ادالار بلکہ پورا ترکی تمہیں چھوڑ دے مگر بہارے گل تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی۔
مگر بہارے گل کے چہرے پہ شدید غصہ امڈ آیا جب جہان نے بہارے کی نئی دوست کا ذکر کیا۔ وہ حیا کو بہت پسند کرتی تھی مگر عبدالرحمن اس میں دلچسپی رکھتا ہے یہ بات اس کو پسند نہیں تھی۔
وہ اپنے کزن کو پسند کرتی ہے اور اس کا کزن بہت ہینڈسم ہے
اس نے اپنے تئیں عبدالرحمن کو مقابلے کا احساس دلایا۔ بہارے نے حیا کا کزن کہاں دیکھا یہ وہ بعد میں عائشے سے پوچھے گا لیکن ابھی اس نے عبدالرحمن کے متعلق حیا کی رائے جاننی چاہی تو وہ فورا بولی۔
“یہ سچ ہے کہ اسے تم بالکل پسند نہیں ہو۔”
تب وہ بہارے کے سامنے سے اٹھ گیا۔ وہ زیادہ دیر رکے گا تو بہارے سمجھے گی کہ عبدالرحمن نے اسے معاف کر دیا ہے جبکہ وہ عائشے کی طرح اسے بھی یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ وہ حفگی اتنی جلدی بھلانے والوں میں سے نہیں ہے۔
تب بہارے نے اس سے پہیلی لکھنے والے کی بابت پوچھا۔ وہ ذرا چونکا پھر لاعلمی ظاہر کی، مگر اس کی اگلی بات نے جہان کو واقعتا چونکا دیا۔ اس نے کیوں نظرانداز کر دیا کہ جو باکس اس نے بہارے کو دیا تھا اور وہ جو حیا کو دیا تھا دونوں کی پہیلیوں کی لکھائی کا انداز ایک سا تھا۔ جبکہ ایک عبدالرحمن نے دیا تھا اور دوسرا میجر احمد نے۔ دونوں کو ایک سا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حیا نے محسوس کر لیا تو عائشے نے بھی کر لیا ہو گا۔ عبدالرحمن کا اصل تعارف میجر احمد عائشے کو نہیں پتا چلنا چاہئے۔
شام میں وہ عائشے کے پاس بالخصوص اسی مقصد سے آیا تھا مگر حیا نے اس کے سامنے کسی میجر کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ وہ مطمئن ہو گیا۔ پھر خیال آنے پر پوچھا
بہارے کہہ رہی تھی۔ حیا کا کزن کافی ہینڈسم ہے۔ تم تو اس دفعہ اسے ساتھ نہیں لائی تھی جب میں حیا سے ملنے آیا تھا۔ پھر اسے کیسے پتا چلا۔ عائشے کا چہرہ خفت سے گلابی پڑ گیا۔
نہیں، وہ دراصل حیا نے اس سے کہا تھا کہ اس کی شادی اپنے کزن سے ہو چکی ہے، تو بہارے بار بار مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ اس کا کزن کیسا ہے۔ میں کہہ دیا کہ بہت اچھا ہے جو سچ تھا وہی کہا۔ وہ گڑبڑا کر سر جھکا کر لکڑی چھیدنے لگی۔
“تھینک یو عائشے! تم نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا، میں کبھی تم سے کوئی اور فیور مانگوں تو کیا تم دو گی۔ بنا کسی تاثر کے اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔ عائشے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا چند لمحے دیکھتی رہی پھر گردن اثبات میں ہلا دی۔
تم مجھ پہ بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ تمہیں کرنا چاہئے۔ پھر وہ جیسے کچھ کہتے کہتے رک گئی اور سر جھٹک کر دوبارہ سے کام کرنے لگی۔ وہ یقینا موتیوں کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی۔ مگر کیا فائدہ-
پھر ایک روز اس نے حیا کو میجر احمد کی طرف سے فون بھی کر لیا۔ اس کی باتوں سے اسے نہیں لگا کہ وہ باکس کے عبدالرحمن کی طرف سے ہونے کے بارے میں جان چکی ہے۔ اس روز وہ ذرا جنجھلائی ہوئی تھی۔ شاید وہ تنگ آ گئی تھی، چلو خیر، جلد یا بدیر یہ کھیل حتم ہونے والا تھا-
چند روز اسی روٹین میں گزر گئے۔ صبح ہوٹل گرینڈ اور دوپہر کی فیری لے کر استنبول آ جانا۔ طیب جبیب پاشا واپس استنبول آ چکا تھا اور اس نے بار بار کی مداخلت شروع کر دی تھی۔ جو وعدے کیے تھے وہ پورے کرو۔ وہ جواب میں اسے ٹال نہیں رہا تھا، مگر صرف تھوڑا سا وقت مزید مانگ رہا تھا
اپنی جگہ پہ طیب حبیب بھی ٹھیک تھا۔ اس کی زندگی استنبول میں تنگ ہو چکی تھی۔ اس کے دشمن، عبدالرحمن کے دشمنوں سے زیادہ تھے۔ مگر وہ کیا کرتا کہ ہر چیز اس کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ سارے احکامات پیچھے سے آتے تھے، سو وہ طیب حبیب کو جھڑک کر خاموش کروا دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ طیب بکتا جھکتا مگر پھر خاموش ہو جاتا۔ وہ عبدالرحمن کو انکار نہیں کیا کرتا تھا۔ اپنے غصے کا اظہار کر دینے کے بعد پسپائی بھی اختیار کر لیا کرتا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس کی بقا عبدالرحمن کے ساتھ میں ہے۔ اس کی دشمنی میں نہیں۔
چند روز بعد اسے احساس ہوا کہ حیا کو اپنے فون میں اس کے ٹریسر کے بارے میں علم ہو گیا تھا، کیونکہ اس روز جب وہ اچانک سے برگر کنگ آئی تو وہ ذرا حیران ہوا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ دونوں چلتے چلتے استقلال اسٹریٹ کو ختم کر لیں۔ وہ کام چھوڑ کر باہر آ گیا اور ساتھ میں اپنا فون بھی چیک کیا۔ اس کا ریسیور اسے بتا رہا تھا کہ اس کا ٹریسر سبانجی میں ہی ہے جب کہ حیا کا موبائل اس کے ہاتھ میں ہی تھا۔ اچھا تو اس نے ٹریسر نکال لیا تھا۔ شاید اسی لیے اس نے صبح میجر احمد کے نمبر پہ ٹیکسٹ کیا تھا کہ وہ کوئی خاص بات کرنا چاہتی ہے۔ جہان نے سوچا وہ فارغ ہو کر اسے کال کرے گا مگر فراغت سے قبل ہی وہ خود آ گئی تھی۔
وہ دونوں ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوۓ استقلال اسٹریٹ میں آ گے بڑھنے لگے۔ جہان کو یاد تھا جب حیا کا جنجر بریڈ ہاؤس توڑنے پہ وہ اس کے ڈروم کے باہر کھڑا رہا تھا اور اس نے اسے ٹائمڈ کال کی تھی۔ شاید اس کی موجودگی میں کال آنے پہ حیا اسے اپنا مسئلہ بتا دے۔ اس دن وہ بات ادھر ادھر کر گئی تھی۔ آج اس کے ساتھ جدیسی میں چلتے ہوۓ اس کے ساتھ وہی کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیا اب ان دونوں میں اتنا اعتبار پیدا ہو چکا تھا کہ حیا اسے سب کچھ بتا دے۔
وہ جوس لینے ایک کیفے میں گیا اور کال کا ٹائم سیٹ کر کے جوس لیے باہر آ گیا۔ اس نے ریکارڈنگ نہیں لگائی تھی ۔ جب حیا کال اٹھاۓ گی تو رابطہ منقطع ہو جاۓ گا۔ وہ سمجھے گی کہ دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی ہے۔ وہ سننا چاہتا تھا کہ اس کال کی وہ کیا وضاحت دیتی ہے۔
وہ دونوں اب گلی میں کافی آگے بڑھ گئے تھے۔ حیا نے اس سے لندن جانے کا پوچھا ضرور مگر خود اس کا اپنا ارادہ بیوک ادا میں رہنے کا تھا۔
میں اپنی دوستوں کے ساتھ بیوک ادا میں رہنا چاہتی ہوں۔ وہ بے نیازی سے شانے اچکا کر کہتی چل رہی تھی۔ اس روز بھی اس نے اسکارف چہرے کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ جو وہ چاہتا تھا وہ اس نے کبھی حیا سے نہیں کہا پھر بھی وہ ہو گیا تھا۔ اس سے آگے وہ کیا چاہتا تھا۔ بس اعتبار کا ایک رشتہ جب وہ پیدا ہو جاۓ گا تو وہ اسے خود بتا دے گا کہ وہ ان جنت کے پتوں میں کتنی خوبصورت لگتی ہے۔
ابھی جہان نے اسے ایک ٹرک دکھا کر اخبار طے کر کے پکڑا ہی تھا کہ حیا کا موبائل بجنے لگا۔ حیا نے موبائل نکال کر دیکھا اور کال کاٹ دی۔
میجر احمد کی کال تھی، کچھ کام تھا ان سے۔ وہ سرسری سے انداز میں بولی اور اسے سمجھ نہیں آیا وہ اس کو کیا کہے۔ وہ اتنی صاف گوئی سے بتا دے گی اس نے توقع نہیں کی تھی۔
اس کہ پوچھنے پہ حیا نے بس اتنا بتایا کہ میجر احمد کون ہے، مگر آگے پیچھے کچھ نہیں۔ سچ بتانے اور اعتبار کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ان کے درمیان سچ بولنے کا تعلق قائم ہو چکا تھا مگر اعتبار کا شاید نہیں۔ نہ اس نے حیا کو خود سچ بتایا تھا نہ ہی حیا نے اسے وہ تمام واقعات کے بتائے تھے جو اس کے ساتھ پچھلے چند ماہ سے ہو رہے تھے۔
جب وہ واپس چلی گئی تو وہ ریسٹورنٹ آ گیا۔ اس کا دل مطمئن تھا بھی اور نہیں بھی۔ حیا نے اس سے جھوٹ نہیں بولا تھا مگر اس پہ اعتبار بھی نہیں کیا۔ وہ لندن بھی اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی۔ وہ بیوک ادا میں رہے وہ یہ نہیں چاہتا تھا مگر جب دونوں کے درمیان اعتبار کا رشتہ تھا ہی نہیں تو وہ کس مان پہ اس سے کچھ منوا سکتا تھا۔
وہ ترکی صرف جہان کے لیے آئی تھی وہ جان گیا تھا۔ اب وہ اس کو یہاں سے صرف اپنی وجہ سے ہی بھیج سکتا تھا۔
تب ہی حیا کا فون آنے لگا۔ اس نے کال کاٹ کر خود فون کیا۔ یہ پہلی دفعہ تھا جب حیا نے خود اس سے بات کرنی چاہی تھی۔ زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اب وہ اسے بتا رہی تھی کہ اس نے جہان سے میجر احمد کا ذکر کیا تھا۔
کیوں۔ آپ نے کیوں بتایا۔ وہ یہی جاننا چاہتا تھا۔
شوہر کو علم ہونا چاہیے کہ اس کی بیوی کس سے بات کرتی ہے۔ اس کے جا کر کہنے پہ وہ بے اختیار مسکرا دیا۔
اب وہ اسے وہ باتیں بتا رہی تھی جو اس نے عبدالرحمن اور طیب حبیب کے بارے میں سنی تھی۔ وہ تحمل سے اس کی سنتا اور سمجھاتا رہا۔ اسے صرف یہ جاننے میں دلچسپی تھی کہ حیا نے یہ ساری باتیں کس سے سنی تھیں۔ کس بات کے جواب میں وہ میں نے سنا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہہ رہی تھی کہ جہان نے اس کی بات کاٹی۔
کس سے سنا ہے۔ اتنی تیزی سے پوچھنے پہ وہ بے اختیار کہہ اٹھی۔
کبری خانم سے۔ الادار میں۔
تو یہ کبری خانم تھیں۔ عائشے سے ان کی اچھی سلام دعا تھی اور ان کا بیٹا ہوٹل گرینڈ میں ایک معمولی سی ملازمت کرتا تھا۔ ان خاتون سے تو وہ ذرا واپس جا کر نپٹے گا۔ ابھی اسے حیا کے ذہن سے اس خیال کو نکالنا تھا۔ جو بھی تھا وہ میجر احمد پر بھروسا کرتی تھی۔
اس روز حیا نے پہلی دفعہ اس سے پوچھا تھا کہ وہ جنت کے پتے کسے کہتا ہے۔ جواب میں وہ اسے وہ سب بتاتا گیا جو اس نے علی کرامت کی ممی سے بچپن میں سنا تھا۔ وہ ادھوری، پوری باتیں، وہ نرم سا احساس، وہ دل میں اترتے لفظ، وہ ہر چیز دہراتا گیا، یہاں تک کہ وہ کہہ اٹھی۔
آپ اچھے انسان ہیں، اچھی باتیں کرتے ہیں۔
آہ کاش! کہ وہ بتا سکتا کہ اس نے اس اچھے انسان کو کب کب، اور کیا کیا، دے مارا ہوا ہے۔
* * * *
بیوک ادا کے ساحل پہ لہریں پتھروں پہ سر پٹخ رہی تھیں۔ ان کا شور اس اونچے سفید قصر عثمانی کے اندر تک سنائی دے رہا تھا۔ محل اندھیرے میں ڈوبا تھا سوائے اس کی اسٹڈی کے جہاں وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ سامنے لیپ ٹاپ کی چمکتی اسکرین پہ وہ پیغام کھلا تھا جو اسے اپنوں کی طرف سے آیا تھا۔ اس کا کام ادالار میں آخری مراحل پہ تھا۔ تاش کے پتوں کے گھر کا آخری مرحلہ۔ پھر اسے روپوش ہو جانا تھا۔
کچھ عرصہ روپوش رہ کر وہ دوبارہ استنبول آئے گا ایک آخری کام نپٹائے گا پھر واپسی۔ اپنے ملک واپسی۔
جب سے اس نے میل پڑھی تھی وہ انگوٹھیاں اور گلاسز خود سے علیحدہ کر کے میز پہ رکھ دی تھیں اور یہ سگریٹ نوشی، اس سے بھی اس کو جلد از جلد چھٹکارہ حاصل کر لینا چاہیئے، اب عبدالرحمن پاشا کو چھوڑنے میں کم وقت رہ گیا تھا۔
اس کے سر کا درد ویسا ہی تھا اور بہت سوچنے کے بعد اعصابی دباؤ بھی محسوس ہو رہا تھا۔ جرمنی میں اس نے پندرہ جون کے بعد کی ایک تاریخ بھی اپنی سرجری کے لئے لے لی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے امید دلائی تھی کہ آپریشن کی کامیابی کا چانس اتنا ہی تھا جتنا کہ ناکامی کا۔ چونکہ وہ بیوک ادا سے پیک اپ کرنے سے قبل آپریشن کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا اس لیے اس نے تاریخ بعد کی لی تھی۔ یہ اس کے کام کا آخری مرحلہ تھا۔ انڈیا میں آخری مرحلے میں سب کچھ بگڑ گیا تھا آخری مرحلے میں اس کے دوست نے جس کے پاس وہ مدد کے لئے گیا تھا اس کو پکڑوا دیا تھا۔ سر کا درد ہمیشہ اسے اس دوست کی یاد دلاتا تھا۔ اس نے جہان کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا۔
لوگ بعض دفعہ آپ کے ساتھ بہت برا کر جاتے ہیں، اتنا برا کہ بس!
تمام سوچوں کو جھٹک کر اس نے فون اٹھایا اور ایکسچینج اسٹوڈنٹ کا نمبر نکالا۔
میرے پاس آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے۔ آے آر پی۔
مختصر پیغام لکھ کہ اس نے حیا کو بھیج دیا۔ جب وہ جواب دے گی تو وہ اسے برگر کنگ پہ بلائے گا۔ وہاں پاشا بے کو بھی وہ بلا لے گا۔ اسے پتا تھا کہ حیا کو وہ منظر کیسے دکھانا ہے۔ جب وہ اپنے شوہر کو اس گمشدہ شہزادے کے ساتھ دیکھے گی تو جہان کا کام آسان ہو جائے گا یا تو وہ جان جائے گی کہ وہی عبدالرحمن پاشا ہے یا وہ طیب حبیب کا دوست سمجھے گی دونوں صورتوں میں وہ اس سے دور چلی جائے گی۔ بھلے ترکی سے نہ جائے بس استنبول سے چلی جائے۔ بعد میں ہمیشہ کی طرح وہ اس سے معذرت کرنے چلا جائے گا اور اسے منا لے گ۔ا مگر وہ ویڈیو-
اس نے گہری سانس لے کر موبائل رکھ دیا۔ ویڈیو ابھی تک لاکر میں تھی۔ اگر جانے سے قبل وہ اسے نہیں نکال پاتی تو وہ ویڈیو واپس رکھ لے گا۔
حیا یہ سب 9 جون سے 15جون تک کے وقت میں سیٹ اپ کرنا ہو گا ابھی نہیں۔
وہ ریسٹورنٹ آیا تو طیب حبیب اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے مطالبے وہی تھے اور جہان کا رویہ بھی ویسا ہی تھا۔
چند دن انتظار کر لو میں تمہاری فیملی کو باہر بھجوا دوں گا۔ میں نے بات کی ہے بہت جلد سب کچھ سیٹل ہو جائے گا۔ وہ بے تاثر لہجہ میں کہتے ہوئے رجسٹر چیک کر رہا تھا۔ آج جوابا پاشا بے نے غصہ نہیں کیا اور نہ ہی لعن طعن کی ہے بس اتنا کہا:۔
میں امید کرتا ہوں کہ تم جلد از جلد میرا کام کر دو گے جہان بے، آخر فیملی سب کے لئے اہم ہوتی ہے۔ میرے لیے بھی اور تمہارے لیے بھی۔
اس کے آخری الفاظ پہ جہان نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ پاشا بے نے کوٹ کا کالر درست کیا اور الوداعی مسکراہٹ کے ساتھ وہ پچھلے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
شاید وہ صرف دھمکی دے رہا تھا۔ وہ اس کی فیملی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ ایسے ہی اسے دھمکانا چاہ رہا تھا۔ جہان سر جھٹک کے کام کرنے لگا۔
انسان کا اپنی انفرادی صلاحیتوں پہ حد سے زیادہ اعتماد بعض دفعہ اسے دوسروں کو انڈرایسٹیمیٹ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔اس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا مگر ابھی وہ یہ نہیں جانتا تھا۔
شام میں وہ معمول کے مطابق ریسٹورنٹ کے کچن میں کھڑا گوشت کاٹ رہا تھا جب اس کا موبائل ہلکے سے بجا وہ ٹون سے سمجھ گیا کہ پیغام کس کی طرف سے تھا۔ مگر اس نے فون جیب سے نہیں نکالا۔ قریب ہی اس کے دو شیف کام کر رہے تھے۔ ایک تو پرانی ورکر تھی مگر دوسرا ترک لڑکا نیا تھا۔ اس کو جہان نے حال ہی میں رکھا تھا اور وہ جانتا تھا کہ وہ ترک ایجنسی کا ہے اور صرف اس کی جاسوسی کے لیے یہاں کام کر رہا ہے۔ اس کو رکھنے کا فائدہ یہ تھا کہ اب وہ اپنی مرضی کی باتیں ترکوں تک پہنچا سکتا تھا۔ ٹرپل ایجنٹ بن کر کام کرنا اس طرح اور بھی آسان ہو گیا تھا۔
اس نے ہاتھ صاف کیے، گوشت رکھا اور خاموشی سے باتھ روم کی طرف چلا گیا۔ اندر آ کر اس نے دروازہ بند کیا اور پیغام کھولا۔ چند لمحوں میں اس نے پیغام ڈی کوڈ کیا اور پھر، جیسے ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔
وہ لڑکا، عمر، وہ نہیں رہا تھا۔ اسے کس نے مارا، اور کب اور کہاں مارا، کچھ معلوم نہ تھا۔ وقت جیسے ایک دفعہ پھر برسوں پہلے کے انطاکیہ میں پہنچ گیا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مٹی کھود رہا تھا۔ وہ مٹی جس سے آج بھی خوشبو ٓآتی تھی۔ کیا عمر کو دفن ہونے کے لیے مٹی ملی ہو گی۔ کیا اسے خود وہ مٹی مل پائے گی۔
اس کے دل میں تکلیف اُٹھ رہی تھی، شدید تکلیف۔ اس نے جیب میں فون ڈالا ٹوٹنی کھولی اور سنک پہ جھک کر چہرے پہ پانی کے چھینٹے مارے، پھر سر اٹھا کر آئینے میں خود کو دیکھا۔ شدت ضبط سے اس کی آنکھیں سرخ پڑ رہی تھیں۔
دادا کہتے تھے کہ مومن کے لیے دنیا قید خانہ ہوتی ہے۔ وہ ٹھیک ہی کہتے تھے۔ اس وقت برگر کنگ ایک قید خانہ ہی تھا۔ وہ سارا کام چھوڑ کہیں دور جانا چاہتا تھا، وہ بوسفورس کے کنارے بیٹھ کر ڈھیر سارا رونا چاہتا تھا۔ اگر دادا ہوتے تو کہتے کہ فوجی رویا نہیں کرتے۔ کاش وہ ان سے پوچھ لیتا کہ اگر فوجی کا دل درد سے پھٹنے لگے اور جیسے سارے جسم میں ٹوٹے کانچ اترنے لگیں تو پھر وہ کیا کرے، کیا دنیا میں رونے سے بہتر بھی کوئی دوا ہوتی ہے۔
سلام۔۔۔۔۔۔۔۔ جہان کہاں ہے۔ بلند آواز سے اتھل پتھل سانسوں کے درمیان وہ باہر کہیں پوچھ رہی تھی، جیسے وہ دوڑ کر آئی تھی، جہان نے ہولے سے نفی میں سر جھٹکا تولیے سے چہرہ خشک کیا اور نم آنکھیں رگڑتا باہر آیا۔
وہ فریڈم فلوٹیلا کے اسٹریٹ پروٹیسٹ کے لیے آئی تھی اور اب وہ چاہتی تھی کہ وہ بھی ان کے ساتھ چلے۔ جہان اس سے نظریں ملائے بغیر گوشت کے ٹکڑے اٹھانے لگا۔ ٓکنکھیون سے وہ دیکھ رہا تھا کہ حیا نے نقاب لے رکھا تھا۔ اس کے نقاب کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے نیا نیا نقاب لینا سیکھا ہے، مگر پھر بھی نقاب نیٹ تھا۔ اسے کیا ہو گیا تھا؟ وہ اتنا بدل کیسے گئی تھی؟ وہ بھی ایک دم سے نہیں آہستہ آہستہ سے۔ مگر یہ تبدیلی کتنی اچھی لگتی تھی اس میں۔ ابھی وقت تھا نہیں تھا اس خوشی کو جینے کا ابھی اور موقع تھا دل میں کچھ مر سا گیا تھا۔
حیا بول رہی تھی مسلسل اور وہ کٓنکھیوں سے صرف اسے نہیں بلکہ پیچھے کام کرتے نئے شیف کو بھی دیکھ رہا تھا جس کے ڈریسنگ بناتے ہاتھ ذرا سست پڑ گئے تھے۔ بچہ ذرہ کچا تھا۔ یہاں کہی گئی ایک ایک بات کہیں اور پہنچائی جاتی تھی اور یہ پاگل لڑکی ترک فوج کے ایک کارندے کے سامنے اسے کہہ رہی تھی کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت کرے۔
گو کہ تربیت کے مطابق وہ کبھی کسی متنازعہ ہنگامے والی جگہوں پہ نہیں جاتا تھا کوئی اور موقع ہوتا تو بھی وہ حیا کو منع کر دیتا مگر پیچھے کھڑا لڑکا سب سن رہا تھا۔ ترک فوج بے حد سیکیولر قسم کی فوج تھی جہاں عبداللہ گل اوع طیب اردگان کی حکومت کو ماڈرن مولویوں کی حکومت کہا جاتا تھا۔ وہیں ترک فوج اپنے دین سے بے حد متضاد خیال رکھتی تھی اور اپنی بیوی کو مطمئن کرنے کے لیے وہ ترکوں کی گڈبکس سے نکلنا نہیں چاہتا تھا۔ نتیجتآٓ وہ لڑکا تو پرسکون ہو گیا مگر حیا پچھلی کئی دفعہ کی طرح ایک بار پھر اس کو اور اس کے ریسٹورنٹ کو جہنم میں بھیج کر غصے سے وہاں سے چلی گئی۔
وہ اس کے پیچھے نہیں گیا۔اس کا موڈ پہلے ہی بہت خراب تھا وہ وہیں کھڑا خاموشی سے کام کرتا رہا۔ کام اسے کرنا تھا کیونکہ حیا کی طرح وہ موڈ خراب ہونے پہ دو چار چیزیں ہاتھ مار کر گراتے ہوئے ہر کسی کو جہنم میں بھیج کر کہیں دور نہیں جا سکتا تھا۔ یقینا اس معاملے میں وہ کافی خوش قسمت تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: