Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 59

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 59

–**–**–

پوری رات وہ بے حد ڈسٹرب رہا، پھر صبح سب کچھ ذہن سے جھٹک کر وہ گھر سے نکل آیا۔
فیری اس نے کدی کوئے سے پکڑنی تھی۔ کدی کوئے شہر کی ایشین سائیڈ کی بندرگاہ تھی اور سبانجی بھی ایشین سائیڈ پہ واقع تھی۔ سو وہ منہ اندھیرے اس سے ملنے چلا گیا۔
وہ جھیل کے پاس بیٹھی تھی۔ کتابیں سامنے پھیلائے، وہ جیسے کافی دیر روتی رہی تھی۔ اسے بے اختیار وہ رات یاد آئی جب جنجر بریڈ ہاؤس ٹوٹا تھا اور وہ تب بھی ایسے ہی رو رہی تھی۔ اسے ایک لمحے کو اس لڑکی پر بہت ترس آیا جس کی زندگی اس نے اتنی مشکل بنا دی تھی۔
اس کے ساتھ چاندی کے پانی جیسی جھیل کے کنارے بیٹھے وہ بہت دیر تک اسے دھیرے دھیرے بہت کچھ سمجھاتا رہا۔ وہ اسے خواب نہیں دکھانا چاہتا تھا، سو حقیقت میں رہ کر مستقبل کے حوالے سے باتیں کر رہا تھا۔ اٹھنے سے قبل اس نے پھر سے ”لندن چلنے کا موڈ ہو تو بتانا“ کہا تھا۔ کتنا ہی اچھا ہو کہ وہ ممی کے ساتھ لندن چلی جائے، پھر بعد میں ایک دو روز کے لیے اپنی کلیئرنس کروانے بے شک آ جائے۔ مگر اپنا آخری مہینہ وہ اس شہر میں نہ گزارے اس روز اسے لگا تھا کہ حیا اس کو اس کی غیر متوقع فطرت کے ساتھ قبول کرنے پہ راضی تھی مگر اعتبار وہ ابھی تک ان دونوں کے درمیان قائم نہیں ہوا تھا۔ وہ روٹھنے اور منانے سے آگے نہیں بڑھے تھے۔
جس روز اس کے امتحان ختم ہوئے، اس سے اگلے دن وہ بیوک ادا گئی تھی۔ یہ عائشے نے اسے بتایا تھا کیونکہ اب اس کا ٹریسر صرف سبانجی میں پڑا رہتا تھا۔ اس نے دوبارہ اس کو ٹریس کرنے خود ہی کوشش کی یہ اتنا ضروری نہیں تھا۔
گیارہ جون کی رات وہ ممی کے ساتھ ان کی پیکنگ کروانے میں مصروف تھا جب ممی نے حیا کے بارے میں پوچھا۔
کیا وہ ہمارے ساتھ جائے گی۔
پتا نہیں آپ کی بھتیجی کہاں ہمیں اپنا پروگرام بتاتی ہے۔ اس نے شانے اچکا کر لاپرواہی سے جواب دیا تھا۔ پھر اس نے سوچا، وہ حیا سے پوچھ ہی لے کہ اس کا کیا پروگرام ہے۔ وہ اپنا آخری مہینہ استنبول میں نہیں تو کدھر گزارے گی۔ یہی سوچ کر اس نے میجر احمد کی طرف سے ”کیسی ہیں آپ۔“ لکھ کر بھیج دیا۔ پتا نہیں وہ کیسی تھی۔ پورے دس دن اس نے حیا کو نہیں دیکھا تھا نہ ہی کوئی بات ہوئی تھی۔
مجھے جنت کے ان پتوں نے دنیا والوں کے لیے اجنبی بنا دیا ہے میجر احمد! اس کے جواب میں بہت ٹوٹا، بکھرا پن سا تھا۔ شاید وہ رو رہی تھی۔ وہ اس کی عادت کو اتنی اچھی طرح سے جاننے لگا تھا کہ اس کے انداز سے اس کے موڈ کا اندازہ کر لیا کرتا تھا۔
وہ موبائل لے کر کچن میں آ گیا اور بہت سوچ کر اس نے ایک ایسا جواب لکھا جو اس وقت اسے تسلی دے سکے۔ یقینا اس کے نقاب پہ کسی پہ نے کچھ کہہ دیا ہو گا اور وہ دل چھوڑ بیٹھی تھی۔ عین ممکن تھا وہ کہنے والے کو ہاتھ میں آئی چیز بھی دے مار چکی ہو یا کم از کم اسے جہنم تک پہنچا چکی ہو۔ پتا نہیں اس کی تسلی ہوئی یا نہیں مگر اس کا مزید کوئی ٹیکسٹ نہیں آیا۔
صبح وہ بیوک ادا نہیں گیا کیونکہ آج ہفتہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ حیا کے حوالے سے کچھ طے کر لے مگر تبھی کام کے دوران اس کو جواہر مال کے لاکرز کے گارڈ کا پیغام موصول ہوا۔ ایک لڑکی جو سیاہ عبایا میں تھی نو نمبر لاکر سے کچھ لے گئی ہے۔
گریٹ۔ وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ سسلی سے واپس سبانجی جاتی وہ اسے اور پاشا بے دونوں کو اپنے ریسٹورنٹ پہنچنے کا کہہ چکا تھا۔ پاشا بے کا مسکن قریب ہی تھا سو وہ حیا سے پہلے پہنچ گیا۔
کیا میرا کام ہو گیا؟ پینٹری میں جا کر اس نے پہلی بات یہی پوچھی تھی۔
نہیں، اس میں ابھی وقت ہے تم تھوڑا صبر نہیں کر سکتے۔ وہ زچ ہوا تھا۔
پھر تم کیوں ملنا چاہتے تھے۔
ہوٹل گرینڈ کے بارے میں کچھ بات کرنی تھی۔ اس نے پینٹری کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔ اپنے پرانے شیف کو وہ پہلے ہی سمجھا چکا تھا کہ اسے کیسے حیا کو پچھلی طرف سے بھیجنا ہے۔ اب پاشا بے کو ہوٹل کے معاملات کے بارے میں بتاتا وہ کنکھیوں سے روشن دان کی طرف دیکھ رہا تھا جو اس نے کھول رکھا تھا۔ وہ آئے گی تو اسے شیلف کے چمکتے شیشے میں روشن دان کا عکس نظر آ جائے گا۔ تب وہ ان دونوں کی باتوں سے جان جائے گی کہ دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا چل رہا ہے۔ حسب توقع پاشا بے جلد ہی ہوٹل گرینڈ کی بات ختم کر کے اپنے کام کی طرف آ گیا تب ہی اسے وہ روشن دان کے عکس میں نظر آئی۔
وہ جیسے ٹھٹھک کر رک گئی تھی۔ وہ ظاہر کیے بنا اپنے مخصوص انداز میں بات کہے گیا۔ اسے معلوم تھا کہ حیا اندر نہیں آئے گی اگر اس نے دروازے پہ دستک دی یا گھنٹی بجائی تب وہ اسے فورا جانے کا کہہ دے گا۔ وہ زبردستی تو اندر نہیں آنا چاہے گی۔ مگر جو ہوا وہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا۔
تمہاری بیوی باہر کھڑی ہے جہان اسے اندر نہیں بلاؤ گے۔ جیسے ہی پاشا بے کی نظر اس پہ پڑی وہ مسکرا کر بولا۔
جہان کو لگا، کسی نے پینٹری کا سارا سامان اس پر الٹ دیا ہو۔ وہ کیسے جانتا تھا حیا کو۔ یہ نا ممکن تھا۔ اگر وہ اسے جہان کی دوست کہتا تو وہ اتنا ششدر نہ ہوتا مگر جہان کی بیوی۔ اسے کیسے پتا چلا۔ اس بات کا تو ترکی میں کوئی ڈاکومنٹ پروف بھی نہیں تھا، پھر۔
اب وہ اسے حیا کے بارے میں اور بھی بہت کچھ بتا رہا تھا، سبانجی، ایکسچینج اسٹوڈنٹ، ڈورم نمبر ،وہ سب جانتا تھا۔ ان کی ملاقات بھی ہو چکی تھی۔
حیا نے گردن ہلا کر تصدیق کی، مگر وہ انہی بے یقین نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اگر وہ دونوں مل چکے تھے تو اس نے پتا نہیں کیا کیا حیا کو بتایا ہو گا۔ سب کچھ الٹا ہو گیا تھا۔ اس نے پاشا بے کو واقعی انڈر ایسٹیمیٹ کیا تھا۔
اس نے بے اختیار پاشا بے کو گریبان پکڑ لیا۔ اگر وہ اس کی بیوی کو نقصان پہنچانے کا سوچے بھی تو وہ واقعی اسے جان سے مار دے گا۔ حسب عادت حبیب پاشا کی مسکراہٹ سمٹی۔ وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اسے اس کی بیوی سے غرض نہیں تھی، بس اس کے کام سے تھی۔ اس کے جاتے ہی وہ حیا کی طرف پلٹا مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ دیمت نے ٹھیک کہا تھا بعض باتیں سیاق و سباق کے بغیر پیش کی جائیں تو ہیرو کو ولن بنا دیتی ہیں۔ وہ اس کا اعتبار کھو چکا تھا۔ حیا نے اس کی کوئی بات نہیں سنی اور فورا وہ جگہ چھوڑ کر چلی گئی۔
وہ اسے ترکی سے بھیجنا چاہتا تھا مگر اس طرح نہیں۔ خود سے بدظن کر کے نہیں خود کو بے اعتبار کر کے نہیں۔ سب کچھ الٹ گیا تھا۔ بہت دفعہ منصوبے الٹے پڑ جاتے ہیں کوئی بھی انسان ماسٹر پلانر نہیں ہو سکتا۔ وہ بھی نہیں تھا۔
دیمت کی بات پوری ہوئی۔ وہ شوہر سے بدظن ہو کر اس سے دور چلی گئی۔ اس نے حیا کو بہت فون کیا مگر اس نے جہان کی کوئی بات نہیں سنی۔ وہ چلی گئی اور جیسے بوسفورس کا پانی خاموش ہو گیا سرمئی بگلے اڑنا چھوڑ گئے ٹیولپس مرجھا گئے اور جیسے سارا استنبول اداس ہو گیا۔
وہ چلی گئی اور اپنا ٹریسر سبانجی کے ڈورم میں ہی چھوڑ گئی۔ ایسا اس نے کبھی نہیں چاہا تھا۔ دیمت کی بات پوری ہوئی تھی۔
حیا کے جانے کے بعد ممی اور ابا کے جانے کے انتظامات بھی مکمل تھے۔ ممی مضبوط عورت تھیں۔ اپنے کام اکیلے دیکھ سکتی تھیں۔ ساری زندگی انہوں نے ایسے ہی گزاری تھی سو وہ استنبول میں اپنا کام مکمل کرکے جرمنی جانے کا ارادہ کر رہا تھا۔ یہ روپوشی کے دن تھے اور ان دنوں میں وہ سرجری کروا لینا چاہتا تھا۔ دو تین ہفتے بعد اسے پھر ترکی جانا پڑ سکتا تھا شاید ایک آخری کام کے لیے۔ اس کے بعد ترکی کے باب کو اس کی زندگی سے نکل جانا تھا۔
جرمنی آنے سے قبل وہ حبیب پاشا سے آخری بار ملا تھا۔ اس کی تمام چیزیں اس کے حوالے کرنے سے قبل اس نے صرف ایک بات پوچھی تھی۔ کہ تم میری بیوی کو کیسے جانتے ہو۔ مجھے صرف سچ سننا ہے۔
اور طیب حبیب نے سچ بتانے سے انکار نہیں کیا۔ وہ اسے کبھی انکار نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے بقول اس رات جب وہ برگر کنگ کے داخلی دروازے کے ساتھ والی میز پر چہرے کے سامنے اخبار پھیلائے بیٹھا تھا تو اس نے ان دو لڑکیوں کی گفتگو سنی تھی جو وہاں کھڑی تھیں۔ سیاہ اسکارف والی لڑکی دوسری لڑکی کو اپنی انگوٹھی دکھاتے ہوئے جہان سکندر سے اپنی منگنی اور شادی کا ذکر کر رہی تھی۔ اس لئے وہ ان کے پیچھے گیا اور کافی شاپ تک مگر وہ ڈر گئیں اور اسٹریٹ میں اس کے آگے بھاگتی ہوئی واپس برگر کنگ آ گئیں۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ اسکوائر تک ضرور آئیں گی سو وہ وہیں ان کا انتظار کرتا رہا۔ جب رات ڈیڑھ بجے والی بس انہوں نے اسکوائر سے پکڑی تو اس نے ان کا یونیورسٹی کیمپس تک پیچھا کیا اور اگلے روز اس نے ایک جاننے والے سے کہہ کر وہ تمام معلومات نکلوا لیں جو وہ حیا کے متعلق یونیورسٹی سے نکلوا سکتا تھا
اس نےطیب حبیب پاشا کو اس کے ڈاکو منٹس دے دیے پھر بیوک ادا جا کر آنے کو بالآخر وہ خبر سنا دی جس کا وہ ڈیڑھ برس سے انتظار کر رہی تھیں۔ ان کابیٹا مل گیا تھا وہ ایران میں تھا اور اس کے کچھ دشمن استنبول اس کی واپسی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اتنے عرصے بعد پہلی دفعہ طیب حبیب نے اپنی ماں کو فون کیا آنے خوشی و تشکر سے بے حال تھیں۔ جب طیب حبیب نے چاہا کہ وہ تینوں اب اس کے پاس ایران آ جائیں تو آنے بخوشی راضی ہو گئیں۔ اب عائشے کی باری تھی۔ آنے نے اپنے اور جہان نے اپنے طور پر اس کو ساتھ چلنے کے لیےکہا۔ وہ صبر شکر والی لڑکی تھی اور وہ جانتا تھا کہ وہ سمجھ چکی ہے کہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ جب مصنوعی رشتے کی ڈور ٹوٹ جائے گی۔ عبدالرحمن ان کی زندگیوں سے نکل جائے گا اور وہ ایک دفعہ پھر ایک فیملی کی طرح رہیں گے۔
عائشے نے صبر کر لیا۔ ساری اذیت کو دل ہی دل میں دبا کر وہ روانگی کے لیے پیکنگ کرنے لگی۔
بہارے کے رونے اور عائشے کی چپ نے اسے اندر ہی اندر بہت ڈسٹرب کیا۔ یہ سب اس کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس کی وجہ سے اس کا کانٹیکٹ (طیب حبیب) ادھر نہیں رہ سکتا تھا۔ عائشے اور بہارے کو عبدالرحمن کو بھلانے میں ایک عرصہ لگے گا، اس کے بعد وہ ساری زندگی کسی اجنبی پہ اعتبار نہیں کر سکیں گی۔ وہ اپنے اندر کی بہت سی تلخی ان کی زندگیوں میں چھوڑ کر جا رہا تھا، مگر وہ کیا کرتا یہی اس کی جاب تھی۔
ممی کو ابھی ترکی سے جانے میں چند دن تھے، مگر اس کا کام ختم تھا، سو وہ جرمنی چلا گیا۔ جس روز اس کی سرجری متوقع تھی، اس صبح اس نے حیا کو فون کیا۔ وہ اسے کہنا چاہتا تھا کہ وہ بیمار ہے، اس کی سرجری ہے، وہ اس کے لیے دعا کرے، مگر وہ کسی اور موڈ میں تھی۔ اسے زیادہ فکر فلیش ڈرائیو کے پاس ورڈ کی تھی۔
ایک لمحے کو اس کا جی چاہا کہ وہ اسے بتا دے کہ پاسورڈ، پاسورڈ ہی ہے۔ دنیا کا آسان ترین پاسورڈ۔ وہ ویڈیو کھلتے ہی اسے کال بیک کرے گی۔ وہ آج ہی آپریشن ٹیبل پہ جانے سے قبل اس کی آواز سن لے گا، مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔ اپنی کہہ کر اس نے بہت خشک لہجے میں تمام تعلقات منقطع کرنے کا مژدہ سنایا اور فون رکھ دیا۔
بہت ہی اضطراری کیفیت میں جہان نے پھر سے اس کا نمبر ڈائل کیا مگر اب وہ فون اٹھانے سے بھی انکاری تھی۔ وہ جہان سے بھی بدظن تھی اور وہ اپنے نمبر سے کال کر کے کسی لمبی چوڑی صفائی کے موڈ میں نہ تھا سو بد دلی سے اس نے فون ایک طرف ڈال دیا۔
آپریشن سے قبل ڈاکٹر نے آخری دفعہ اس سے پوچھا تھا۔
کیا تمہیں یقین ہے کہ تم آپریٹ کروانا چاہتے ہو؟
وہ اس وقت آپریشن ٹیبل پہ لیٹا تھا ہسپتال کے سبز گاؤن میں ملبوس اس کا چہرا بھی یژمردہ لگ رہا تھا۔ آخری دفعہ اس نے آپریشن تھیٹر کی چھت لائٹس اور تیار ہوتے ڈاکٹرز اور اسٹاف کو دیکھا اور سر ہلا دیا۔ وہ اپنے رسک پہ سرجری کروا رہا تھا سارے سودوزیاں اس کے کھاتے میں ہی لکھے جانے تھے۔
جب انسیتھیز دینے ایک ڈاکٹر اس کے قریب آیا تو اس کا جی چاہا کہ وہ انہیں روک دے۔ وہ سرجری نہیں چاہتا تھا۔ وہ اندھا نہیں ہونا چاہتا تھا۔ وہ اپاہج نہیں ہونا چاہتا تھا مگر الفاظ نے جیسے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ چہرے پہ ماسک لگتے وقت اس کا سارا جسم سن پڑتا گیا۔ آنکھیں بند ہو گئیں۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ جیسے سیاہ مخمل کا کوئی پردہ ہو۔ جیسے بنا تاروں کے رات کا آسمان ہو۔
کتنے گھنٹے گزرے کتنے پہر بیتے وہ نہیں جانتا تھا۔ جب حسیات لوٹیں تو پلکوں سے ڈھیر سارا بوجھ اترا۔ اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں
وہ ہسپتال کے لباس ہی میں تھا مگر کمرہ مختلف تھا۔ اس نے پلکیں جھپکائیں۔ دھندلا منظر واضع ہوا۔ وہ اب دیکھ سکتا تھا۔
کیا آپریشن کامیاب ہوا تھا؟
سسٹر اسے جاگتے دیکھ کر فورا باہر چلی گئی۔ اس کی واپسی اس کے سرجن کے ساتھ ہوئی۔
ہو گیا؟ اس نے داکٹر کو دیکھ کر لبوں کو ذرا سی جنبش دی۔
نہیں! ہم نے آپریٹ نہیں کیا۔ ڈاکٹر اس کے قریب آئے اور بتانے لگے۔ تم بے ہوشی کے دوران بار بار کہہ رہے تھے کہ ہم تمہیں جانے دیں تمہاری ماں کو تمہاری ضرورت ہے۔ اس کے بعد میں یہ آپریشن نہیں کر سکتا تھا۔ رسک فیکٹر تم جانتے ہو۔
اوہ! ایک تھکی ہوئی سانس لبوں سے خارج کر کے اس نے آنکھیں موند لیں۔
تم کچھ وقت لے لو، خود کو ذہنی طور پہ تیار کر لو، پھر ہم تمہاری سرجری کریں گے۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ہسپتال سے چھٹی ملنے پہ وہ اپنے ہوٹل واپس چلا آیا۔ ڈاکٹر ٹھیک کہتا تھا۔ اسے یہ خطرہ مول لینے سے قبل خود کو مکمل طور پہ راضی کرنا تھا۔
ہوٹل کے کمرے میں بیٹھے، اس نے اپنا ترکی والا نمبر آن کیا اور ایک ایک کر کے وائس میسج سننے لگا جو فون بند ہونے پہ کالرز نے ریکارڈ کروائے تھے چوتھا میسج ممی کا تھا۔
جہان! کیا تم شہر میں ہو؟ تمہارے ابا کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔ میں انہیں ہسپتال لے کر جا رہی ہوں۔
وہ ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور جلدی سے اگلا میسج کھولا۔
جہان! تمہارے ابا کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔ اسے لگا کسی تیز رفتار ٹرک نے اسے کچل دیا ہے۔ وہ بالکل سن سنا رہ گیا۔ ممی کے میسجز یکے بعد دیگر فون پہ چل رہے تھے۔
میں باڈی لے کر پاکستان جا رہی ہوں۔
تم جہاں بھی ہو، کوشش کرنا جنازے پہ پہنچ جاؤ۔
الفاظ تھے یا چابک۔ اس کی ماں کو اس کی کتنی ضرورت تھی، وہ کتنی اکیلی ہوں گی، وہ کتنی دکھی ہوں گی، سب بے حساب تھا۔ وہ مشکل وقت میں ان کے پاس نہیں پہنچ سکا۔ وہ مشکل وقت میں کبھی ان کے ساتھ نہیں ہوتا تھا۔
ابا چلے گئے اور وہ ان کا آخری چہرہ بھی نہیں دیکھ سکا‎ ۔‎زندگی بھی بعض دفعہ ہماری مرضی سے زیادہ قربانیاں مانگ لیتی ہے۔
جلدازجلد پاکستان پہنچنا ممکن نہ تھا۔ اس کی آزادی کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی اجازت، پروٹوکول، احتیاط اور وہ ابا کے جنازے کے تیسرے دن اسلام آباد پہنچ سکا۔ اگر وہ ڈی ایکٹیویٹ نہ ہوتا تو شاید تب بھی نہ پہنچ سکتا۔ جب حیا کی دوست کی ڈیتھ ہوئی تھی تب حالات فرق تھے۔ اب حالات دوسرے تھے۔
اس رات جب وہ ایرپورٹ پہنچا تو سب سے پہلے اس نے حیا کو کال کی۔ وہ اس کے گھر کا راستہ جانتا تھا مگر اس کو پہلے قبرستان جانا تھا۔ وہ پچھلی تین چار راتوں سے مسلسل حالت سفر میں تھا اور بمشکل سو پایا تھا۔ سر درد بھی ویسا ہی تھا۔ اس کو اپنے باپ دادا سے ملے بغیر سکون نہیں مل سکتا تھا-
حیا خاموش خاموش سی تھی۔ اس کی خفگی، گریز، سنجیدگی، وہ سب سمجھ رہا تھا۔ اپنے باپ اور دادا کی قبروں کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھے، اس نے بہت سے بیتے لمحوں کو یاد کرنا چاہا۔ تلخ باتیں، کڑوے لمحے۔ادھوری یادیں، پورے دکھ۔
وہ گھر آئے تو حیا نے اسے اس کا کمرہ دکھایا۔ وہ جوتوں سمیت بستر پہ اس ارادے سے لیٹا کہ ابھی چائے پئیے گا پھر ممی کے اٹھنے کا انتظار کرے گا۔ وہ فجر پہ اٹھیں گی تو وہ ان سے مل لے گا لیکن تھکاوٹ اور سر درد کی وجہ سے اس کی وہیں آنکھ لگ گئی۔
جب وہ جاگا تو دوپہر ہو چکی تھی۔ سائیڈ ٹیبل پہ چائے کی پیالی پڑی تھی۔ حیا اس کے لیے فورا چائے لے آئی تھی۔ اس کا مطلب تھا اس کی خفگی اتنی نہیں تھی کہ وہ اسے دور نہ کر سکے۔
وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو فرقان ماموں سمیت سب نیچے بیٹھے تھے۔ حیا وہاں نہیں تھی۔ وہ اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ پہ گئی تھی۔ حیا اور اس کے شوق-
فرقان ماموں اور صائمہ ممانی اسے باتوں باتوں میں کافی سنا گئے۔ ان کے نزدیک اس کا رویہ قابل مذمت تھا۔ بیٹا باپ کے جنازے پہ نہ پہنچ سکے ایسی بھی کیا مصروفیت۔ وہ خاموش رہا۔
رات کھانے پہ فاطمہ ممانی نے اس کا پروگرام پوچھ کر بہت اپنائیت سے کہا تھا۔
الگ اپارٹمنٹ کی کیا ضرورت ہے۔ یہی گھر ہے سبین کا۔
وہ کتنے ہی دن بعد پہلی دفعہ مسکرایا وقت کیسے بدلتا ہے لوگ کیسے بدلتے ہیں رشتے کیسے بدلتے ہیں۔
فاطمہ ممانی کی خواہش بھی بجا تھی۔ مگر اسے لگتا تھا کہ اس کے نصیب میں پاکستان میں رہنا لکھا ہی نہیں ہے۔ ہاں شاید جب وہ ترکی کے لیے ناکارہ ہو جائے تو کچھ عرصہ یہاں رہ جائے۔ لیکن اپنے پلانز وہ ان لوگوں سے ابھی شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
حیا اس سے ویسی ہی کھینچی کھینچی سی رہتی تھی۔ کبھی شاپنگ کے بہانے کبھی کسی اور کام کے لیے وہ اس کو ساتھ لے جاتا اس سے ہلکے پھلکے انداز میں بات کرنے کی کوشش کرتا لیکن وہ ریزرو ہی رہتی۔ وہ انتظار کر رہا تھا کہ کب وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالتی ہے مگر وہ خاموش تھی۔ ہاں جب بھی وہ اسے دیکھ رہا ہوتا وہ محسوس کر کے چونکتی اور فورا اس کی طرف دیکھتی مگر اس کے چونکنے اور گردن موڑنے تک وہ نگاہوں کا زاویہ بدل چکا ہوتا۔
بالآخر فرقان ماموں کی بیٹی کی منگنی کی رات اس نے حیا سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کافی بنا کر اس کے پاس آیا تو اس نے دیکھا کہ حیا نے وہی موتیوں والے ایئر رنگز پہن رکھے تھے جن کی وجہ سے عائشے بہت ہرٹ ہوئی تھی۔
وہ دونوں چھت پہ جھولے پہ جا بیٹھے تو اس نے طیب حبیب کا ذکر چھیڑا کہ وہ اسے کیسے جانتی ہے۔
عبدالرحمن پاشا۔ امت اللہ حبیب پاشا کا بیٹا۔ حیا کی بات پہ وہ چونکا۔
عبدالرحمن۔ اوہ۔ وہ غلط سمجھی تھی۔ اس نے طیب حبیب کی تصویروں کو عبدالرحمن سمجھا تھا وہ تو تصاویر ہی نہیں بنواتا تھا۔ صرف ایک تصویر تھی بہارے کے پاس اس کی وگرنہ گھر میں تو ساری تصاویر طیب حبیب کی تھیں۔
جواب میں وہ اسے پوری روداد سنائے گئی۔ وہ بالکل خاموشی سے سنے گیا۔ وہ سب پہلے سے جانتا تھا سو کیا تبصرہ کرتا۔ صرف ایک بات نئی تھی۔ حیا نے پاشا بے پر کافی الٹی تھی۔ ویری گڈ پاشا بے نے یہ بات نہیں بتائی تھی مگر وہ اپنی بیوی کی خداداد صلاحیتوں کو کیسے بھول گیا۔
حیا نے ابھی تک وہ یو ایس بی نہیں کھولی تھی سو وہ چند آدھی سچی اور آدھی فرضی وضاحتوں سے اس کو وقتی طور پر مطمئن کر کے بات ختم کر گیا۔ اصل بات یہ تھی کہ ان کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہو چکا تھا۔ حیا نے اپنی طرف کی ساری کہانی سنا ڈالی تھی۔ وہ بھی اپنی کتھا سنا چکا تھا مگر حیا نے ابھی وہ سنی نہیں تھی۔
سلیمان ماموں کو جانے کس بات پر روحیل پر شک پڑ گیا تھا انہوں نے اس سے پوچھا مگر وہ دامن بچا گیا۔ اسے اپنی ڈیل نبھانی تھی۔ مگر ماموں کو علم ہو ہی گیا۔ ان کی روحیل سے اچھی خاصی بحث ہوئی اور پھر وہ ایک دم ڈھے سے گئے۔
فاطمہ ممانی اور حیا پہ وہ دن بہت بھاری تھے۔ وہ دونوں دکھ سے نڈھال تھیں۔ کیا ہوا جو سلیمان ماموں ان کے برے دنوں میں ان کے ساتھ نہیں تھے وہ اور ممی تو ان کا ساتھ دے سکتے تھے نا۔
وہ جانتا تھا جب باپ ناکارہ ہو جاتا ہے تو رشتے دار بدل جاتے ہیں۔ اس نے حیا کو اپنے رشتے داروں سے ہوشیار رہنے کو کہا اور پھر حالات ایسے بنتے گئے کہ حیا نے اپنے ابا کے آفس جانا شروع کر دیا۔ اس نے جہان سے مدد مانگی مگر وہ فورا پیچھے ہٹ گیا۔ اسے چند دن میں واپس ترکی چلے جانا تھا اس لئے بہتر تھا کہ وہ خود کو اپنی بیوی کی بیساکھی نہ بنائے۔
آج کل اس نے حیا سے اس کی گاڑی لے رکھی تھی۔ اسے اپنے کاموں کے لیے جانا ہوتا تھا سو اسے یہ کار ہتھیانی ہی تھی اور حیا کو اری ٹیٹ کرنا دنیا کا سب سے آسان کام تھا۔ وہ اس کی ڈکٹیشن سے اتنا تنگ پڑی کہ کار کی چابی خود اس کے حوالے کر دی۔
اس رات جب وہ واپس گھر پہنچا تو دیکھا وہ سیڑھیوں پہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔ قریب پہنچنے پہ حیا کی گاڑی میں اس نے دیکھا وہ رو رہی تھی۔ وہ ایک دم بہت پریشان ہو گیا۔ شاید اس نے ویڈیو کھول لی ہو اور وہ اب اس سے ناراض ہو۔ وہ کچھ بھی بتائے بنا اندر بھاگ گئی۔ اس نے فورا ممی کو جا لیا۔ ان کی زبانی معلوم ہوا کہ فرقان ماموں نے وہی کیا تھا جو وہ ہمیشہ کرتے تھے۔ اسے بہت دکھ ہوا۔ سوچا کہ صبح حیا سے بات کرے گا۔ مگر صبح وہ جلدی آفس چلی گئی۔ سو دوپہر میں اس نے حیا کو لنچ پہ بلایا۔ اسے اپنی بیوی کو کچھ خاص بتانا تھا۔ جب وہ بتا چکا تو کھانا آ گیا۔ وہ نقاب کے اندر سے بہت اعتماد اور سکون سے کھا رہی تھی پھر ایک دم وہ بولی۔
تمہیں اچھا لگتا ہے میرا یوں نقاب لینا۔
وہ بے اختیار چونکا اور پھر اس نے تائید تو کر دی مگر وہ الجھ گیا تھا۔ کیا وہ نقاب اس کے لیے کرتی تھی۔ وہی شک کرنے کی پرانی عادت۔ وہ واقعتا قدرے بے یقین ہو گیا تھا۔ پھر بھی اس نے سوچا کہ جانے سے قبل حیا سے اس بارے میں ضرور بات کرے گا۔
جس دن اس کے نانا کی برسی تھی اس شام فاطمہ ممانی نے اسے لاؤنج میں روک لیا۔ وہ ذرا جلدی میں تھا مگر اتنا بھی نہیں کہ ان کی بات نہ سنتا۔ ابھی اس کی فلائٹ میں وقت تھا۔ ممی کو اس نے صبح ہی بتا دیا تھا اور حیا کو وہ بتا دے گا اگر ملاقات ہوئی تو۔ ورنہ ممی بتا دیں گی۔
کیا تم حیا کو سمجھا نہیں ںسکتے۔ فاطمہ ممانی بہت مان سے اس کو کہہ رہی تھیں کہ وہ حیا کو سمجھائے تا کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دے۔ وہ تحمل سے سنتا گیا۔ حیا آ گئی تو ممانی چلی گئیں۔ دونوں کے درمیان ذرا تناؤ تھا۔ ان کے جانے بعد وہ کچھ سوچ کر حیا کے پاس آیا۔
اس وقت باہر بہت زور کی بارش ہو رہی تھی۔ اس برستی بارش کے دوران اس نے حیا سے جاننا چاہا آیا کہ وہ اس کے لیے اپنا نقاب چھوڑ سکتی ہے۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ وہ ایسا چاہتا ہے بس یہی کہا کہ اگر وہ ایسا کہے۔ مگر چند ہی لمحوں میں اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ اس کے لیے یہ سب نہیں کر رہی۔ اسے جہان کی مورل سپورٹ بھی درکار نہیں تھی۔ اس نے خود کو بہت مضبوط کر لیا تھا۔
اب مزید کیا پرکھنا۔ کوئی وضاحت، کوئی امید، کچھ بھی تھمائے بغیر وہ وہاں سے چلا آیا۔ اسے جانا تھا۔ اس کا کام اس کا انتظار کر رہا تھا۔
یہاں سے اسے پہلے استنبول جانا تھا۔ اگر وہاں کچھ کرنے کو نہ رہ گیا تو وہ وہیں چلا جائے گا جہاں کے بارے میں چند روز قبل وہ حیا کو بتا چکا تھا۔ وہ اس پاک اسپائی کی طرح کسی گمنام قبر میں دفن ہونا نہیں چاہتا تھا۔ اگر وہ واپس نہیں آتا تو کم از کم اس کی بیوی کو اتنا تو معلوم ہو کہ اس کی قبرکہاں ڈھونڈنی ہے ۔
#باب13
ایک زور دار ٹکر نے اسے سڑک کے دوسری طرف لڑھکا دیا۔
ولید کی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی۔
وہ اوندھے منہ نیچے گری تھی۔ دایاں گھٹنا، دایاں پاؤں زور سے سیڑھیوں سے ٹکریا تھا۔ وہ شاید سیڑھیوں پہ گر گئی تھی۔ پورا دماغ جیسے لمحے بھر کو شل سا ہو گیا تھا۔
امی! وہ درد سے کراہی۔ ہونٹ اور ٹھوڑی پہ جلن سی محسوس ہو رہی تھی۔ بدقت اس نے سیدھا ہونا چاہا۔ ساتھ ہی نقاب کھینچ کر اتارا۔ ہونٹ پھٹ گیا تھا اور اس میں سے خون نکل رہا تھا۔
حیا باجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی دور سے اسے پکار رہا تھا۔ اپنا دکھتا سر سہلاتے ہوۓ وہ بمشکل اٹھ بیٹھی۔ ولید نے اسے گاڑی تلے دے دیا تھا کیا؟ مگر وہ ٹکر کھا کر ایک طرف گر گئی، سو بچ رہی۔ اسے کندھے پہ شدید درد محسوس ہو رہا تھا۔ کسی نے شاید اسے کندھے سے پکڑ کر دائیں جانب دھکا دیا تھا۔
دھیرے دھیرے بیدار ہوتے حواسوں کے ساتھ اس نے گردن موڑی۔ ظفر دور سے بھاگتا ہوا آ رہا تھا۔ ولید کی گاڑی کہیں بھی نہیں تھی۔ پارکنگ ایریا میں اندھیرا چھا رہا تھا۔ تب اس کی نگاہ روش پہ پڑی جہاں سے ولید کی گاڑی گزری تھی۔ صرف ایک لمحہ لگا اس کے دماغ کو سامنے نظر آتے منظر کو۔سمجھنے میں اور دوسرے ہی پل جیسے اس کی ساری توانائی واپس آ گئی۔ وہ بدحواس سی ہو کر اٹھی۔
تایا ابا! وہ قدرے لنگڑا کر چلتی ہوئی ان تک پہنچی۔ وہ زمین پر گرے ہوۓ تھے۔ ان کو چوٹ کس طرح سے لگی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی مگر ان کا سر پھٹ گیا تھا اور پیشانی سے سرخ خون ابل رہا تھا۔ اور وہ نیم وا آنکھوں سے کراہ رہے تھے۔
تایا ابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تایا ابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ وحشت سے انہیں جھنجھوڑنے لگی۔ ظفر دوڑتے قدموں کے ساتھ اس تک آیا تھا۔
بڑے صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آپ کو پکار رہے تھے آپ سن نہیں رہی تھی۔ اس نے پریشانی سے حیا کو دیکھا پھر گڑبڑا کر چہرہ نیچے کر لیا۔
ان کو گاڑی سے ٹکر لگی ہے ظفر؟ اوہ خدایا! وہ مجھے بچاتے بچاتے۔ شدت جذبات سے وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔ اپنے ہاتھ اس نے تایا ابا کے ماتھے سے ابلتے خون پہ رکھے تو لمحوں میں ہاتھ سرخ، گیلے ہو گئے۔ تایا بند ہوتی آنکھوں سے نقاہت سے سانس لے رہے تھے۔
وہ آپ کو آواز دے رہے تھے۔ آپ آگے سے نہیں ہٹیں تو وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظفر اسے پیش آنے والا واقعہ بتا رہا تھا مگر اس وقت یہ سب غیر ضروری تھا۔ بمشکل اس نے حواس مجتمع کر کے سوچنا چاہا کہ سب سے پہلے اسے کیا کرنا چاہیے۔
ان کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کا خون بہہ رہا ہے۔ فرسٹ ایڈ باکس بھی نہیں ہے۔ کیا کروں۔ اس نے پریشانی سے کہتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا۔ ظفر اس سے بھی زیادہ حواس باختہ لگ رہا تھا۔ آفس بلڈنگ بھی بند ہو گئی تھی۔ نہ ہوتی تب بھی یہ جگہ آفس بلڈنگ کی پشت پہ تھی۔ آس پاس کوئی نہیں تھا جسے مدد کے لیے بلا پاتی۔
جاؤ دیکھو گاڑی میں کوئی کپڑا ہے تو لے آؤ۔ پہلے ان کا خون روکنا ہے پھر ہسپتال لے چلتے ہیں۔
پتہ نہیں جی! آپ کی گاڑی ہے، کدھر رکھا ہو گا آپ نے؟ وہ دیکھ کر واپس آیا اور شدید بدحواسی کے عالم میں بھی اپنے پاؤں کو دیکھتے ہوۓ بتایا۔
اوہ خدایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیا کروں؟ اس نے گردن ادھر ادھر گھمائی۔ اس کا سیاہ پرس سیڑھیوں کے قریب گرا پڑا تھا۔
ظفر! اس نے پکارا مگر وہ نیچے دیکھتا رہا۔
ظفر، میری بات سنو! وہ دبی دبی چلائی۔
پہلے تسی منہ تے ڈھکو۔ وہ ہکلایا تھا۔
افوہ! میری بات سنو۔ جاؤ میرا پرس اٹها کر لاؤ۔ کہنے کے ساتھ ہی ظفر اٹها اور بھاگ کر اس کا پرس لے آیا۔ پرس میں ایسا کچھ بهی نہ تها۔ تایا کے سانس کی ہلکی ہوتی آوازیں ویسی ہی سنائی دے رہی تهی۔ خدایا! وہ کیا کرے۔ زخم شاید بہت بڑا نہ تها۔ مگر بڑهاپے کو پہنچتی عمر میں یوں گرنا بہت تشویش ناک تها۔
تایا ابا! آنکهیں کهولیں۔ ہم آپ کو ہسپتال لے کر جا رہے ہیں۔ مگر پلیز آنکهیں کهولیں۔
تایا فرقان نے ذرا کی ذرا آنکهیں کهولیں اور سر کے اثبات سے بتانا چاہا کہ وہ ٹهیک ہیں پهر آنکهیں بند کر دیں۔ وہ ان کا ابلتا خون کیسے روکے۔ عبایا کرنے والی لڑکیوں کی اکثریت کی طرح وہ بهی عبایا کے نیچے دوپٹا نہیں لیتی تهی سو کچھ بهی نہیں تها کہ تایا کے زخم پہ رکهتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر نہیں۔ اس نے تیزی سے تایا کے ماتهے سے ہاتھ ہٹایا اپنی اسٹول کی پن کهینچی اور اسے سر سے اتارا- کیچر میں جکڑے بالوں کا جوڑا ڈهیلا ہو کر گردن کی پشت پہ آ گرا۔ چہرے کے گرد سے لٹیں نکل کر اطراف میں جهولنے لگیں۔
تایا نے نیم وا آنکهوں سے اسے دیکها۔ اس نے سیاہ کپڑے کو جلدی جلدی گول مول کر کے ان کے ماتھے کے زخم پہ دبا کر رکها۔ تایا نے کرب سے آنکهیں بند کر لیں۔
ظفر! گاڑی ادهر لے آؤ۔ ان کو جلدی سے ہسپتال لے چلتے ہیں؟ اس نے ایک ہاتھ سے تایا کے زخم کو کپڑے سے دبائے سر اٹها کر ظفر کو دیکها۔ وہ ہکا بکا سا اسے دیکھ رہا تها۔
ظفر! گاڑی ادھر لے کر آؤ۔ وہ غصے سے زور سے چلائی۔ وہ اسپرنگ کی طرح اچهل کر کهڑا ہوا اور گاڑی کی طرف بهاگا۔ چند ہی لمحوں بعد وہ دونوں تایا کو سہارا دے کر گاڑی میں ڈال رہے تهے۔
فرخ کہاں ہے۔ کیا وہ گهر پہ تها؟ کار میں بیٹهتے ہوۓ اسے تایا کے دوسرے نمبر کے بیٹے کا خیال آیا جو ہاؤس جاب کر رہا تها۔
نہیں جی فرخ بهائی کی آج کال تهی۔ وہ ہسپتال میں ہیں۔ ظفر نے کار اسٹارٹ کرتے ہوۓ بے چینی سے اسے بیگ ویومرر میں اسے دیکها۔
ٹهیک ہے ہسپتال لے چلو۔ جلدی کرو۔ وہ پچهلی سیٹ پہ تایا کے ساتھ بیٹهی ابهی تک ان کے زخم کو سیاہ کپڑے سے دباۓ ہوئے تهی۔
مگر باجی! آپ ایسے کیسے جائیں گیں؟ ظفر کو تایا سے زیاده اس کی فکر تهی۔
افوہ، جو کہا ہے، وہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیز چلاؤ گاڑی۔
ظفر چپ کر گیا مگر وہ بے حد غیر آرام دہ تھا۔ چند منٹ بعد اس نے کار گھر کے گیٹ کے سامنے روکی۔ حیا نے چونک کر اسے دیکھا۔ گھر ہسپتال کے راستے میں ہی تھا مگر انہیں ہاں رکنا نہیں تھا۔
ایک منٹ باجی، میں آیا۔
ظفر! وہ اچنبھے سے آوازیں دیتی رہ گئی مگر وہ گیٹ کے اندر جا چکا تها۔
پورا منٹ بهی نہیں گزرا تها جب وہ دوڑتا ہوا واپس آیا۔ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹها دروازہ بند کیا ایک دوپٹا اس کی طرف اچهالا اور کار اسٹارٹ کر دی۔
اوہ ظفر اس نے جیسے تهک کر نفی میں سر ہلایا پهر تہہ شده سفید دوپٹا کھولا اور لپیٹ کر سر پہ لے لیا۔ وہ صائمہ تائی کا دوپٹا تها وہ پہچانتی تهی۔تایا نیم وا آنکهوں سے اسے ہی دیکھ رہے تهے۔
اتنا وقت دوپٹا لانے میں ضائع کر دیا تم نے۔خیر تهی ظفر! میں ایسے ہی چلی جاتی۔
جواب میں ظفر نے ہولے سے سر جهٹکا۔
دو خاندانوں میں دخت ڈال کر اب حیا باجی کہتی ہیں کہ میں اسے ہی چلی جاتی۔ زیر لب وہ خفگی سے بڑبڑایا تها۔
اسے ایک دم زور سے ہنسی آئی مگر وہ بمشکل دبا گئی۔ اس بد تمیز ظفر کو تو وہ بعد میں پوچهے گی۔
فرخ ہسپتال میں ہی تها۔ تایا کو فوری طور پر داخل کر لیا گیا۔ انہیں کار سے ٹکر نہیں لگی تهی بس اسے آگے دهکیلتے ہوۓ وہ خود توازن برقرار نہ رکھ پاۓ تهے۔ معمر آدمی کے لیے گرنا ہی بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ مگر فرخ کا کہنا تها کہ اتنی تشویش کی کوئی بات نہیں معمولی چوٹیں ہیں ٹھیک ہو جائیں گے۔
ایک تو پتا نہیں ان ڈاکٹرز کو اتنے بڑے پیمانے پہ چیر پھاڑ کرنے کے بعد بھی اچھے خاصے زخم بھی معمولی کیوں لگتے ہیں۔
گھر فون مت کرنا ابھی۔ سب خوامخواہ پریشان ہو جائیں گے۔ ویسے بھی ٹانکا لگوا کر ان کو گھر لے کر جائیں گے اور تمہیں تو چوٹ نہیں آئی؟ فرخ اسے تایا اباّ کی حالت کے بارے میں بتانے کے بعد مڑنے لگا تو ایک دم جیسے اسے خیال آیا۔
نہیں! میں ٹھیک ہوں۔ تھینک یو۔ اس نے نہیں بتایا کہ اس کا دایاں گھٹنا اور پاؤں دکھ رہا ہے۔ وہ جہان سکندر کی بیوی تھی۔ اتنے معمولی زخموں کو لے کر کیوں پریشان ہوتی۔ جہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں وہ کہاں تھا۔ اس نے کب بتایا کہ وہ کدھر جا رہا ہے؟ اس کا ذہن پھر اس نہج پہ بھٹکنے لگا تب ہی فرخ نے کہا۔
تم ظفر کے ساتھ گھر چلی جاؤ۔ ابا خیریت سے ہیں۔ اس نے شائستگی سے پیشکش کی۔ ایک زمانے میں وہ صائمہ تائی کے بقول اس کو پسند کرتا تھا مگر جب سے وہ ترکی سے آئی تھی اس کے پردے کے باعث وہ محتاط ہو گیا تھا۔
میں تایا کو یہاں چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں۔ میں تم لوگوں کے ساتھ ہی جاؤں گی۔
فرخ گہری سانس لے کر آگے بڑھ گیا۔ ابا کو اس نے وہیں سے کال کر کے اطلاع کر دی تھی۔ یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ابھی کسی کو مت بتائیں۔ ذیشان انکل ابا کے ساتھ گھر پہ ہی تھے۔ انہوں نے ابا کو بتایا تھا کہ حیا صبح ان کے آفس آئی تھی مگر جلدی واپس چلی گئی۔ اس نے بے اختیار ماتھے کو چھوا۔ کیا وہ آج کا ہی دن تھا؟ یوں لگتا تھا اس بات کو صدیاں بیت گئیں۔
اوہ ابا! ان سے معذرت کر لیں۔ مجھے کچھ کام یاد آ گیا تھا۔
پھر اس نے ان دونوں کو ولید کے متعلق بتایا۔ وہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں تھی۔ اقدام قتل تھا اور زد میں تایا فرقان اصغر بھی آئے تھے۔ ابا کا غم و غصّے سے برا حال تھا۔ اس نے انہیں خود آنے اور گھر میں کسی کو بھی بتانے سے منع کر دیا کہ وہ لوگ بس واپس آ ہی رہے تھے۔
رات ابھی زیادہ گہری نہیں ہوئی تھی جب وہ فرخ اور ظفر کے ساتھ تایا ابا کو لے کر گھر پہنچے۔ تایا چل سکتے تھے مگر سہارا لے کر۔ ایک طرف سے فرخ نے ان کو سہارا دے رکھا تھا۔ اور دوسری طرف سے حیا نے ان کا بازو تھام رکھا تھا۔ گھر کے داخلیی دروازے پہ وہ بے اختیار رکی۔
ایک دم سے اسے بہت کچھ یاد آیا تھا۔ وہ اس گھر میں داخل نہیں ہو سکتی تھی۔
چلو حیا! میں زیادہ کھڑا نہیں رہ سکتا؟ تایا نے نقاہت بھری آواز میں اسے اکتا کر ڈانٹا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بہت سا پانی جمع ہونے لگا تھا۔ بمشکل جی کہہ کر وہ ان کے ہمراہ چوکھٹ کے اندر آئی۔
لاؤنج میں بیٹھے تمام افراد چونک کر کھڑے ہوئے۔
اس نے سیاہ عبایا پہ سفید ستاروں والے دوپٹے سے ترچھا نقاب لے رکھا تھا۔ ایک وہ رات تھی جب اسی جگہ سے تایا نے اسے سب کے سامنے بے عزت کر کے نکالا تھا۔ اور ایک آج کی رات تھی جب وہ اس حالت میں اس گھر میں داخل ہوئی تھی کہ اس کا ہاتھ تایا نے پکڑ رکھا تھا، تایا کا بیٹا ان کے ساتھ تھا اور اس نے جس دوپٹّے سے نقاب کر رکھا تھا وہ صائمہ تائی کا تھا۔
کیا ہوا! فرخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا! صائمہ تائی، ارم، سونیا بھابھی سب پریشانی سے دوڑے چلے آئے۔ فرخ سب کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ وہ بس خاموشی سے تایا کو سہارا دے کر ان کے کمرے تک لانے میں مدد کر رہی تھی۔ تایا ابا نے بیڈ پر لیٹنے تک اس کا ہاتھ تھامے رکھا تھا۔
سارے گھر والے پریشان اور متاسف سے ان کے گرد جمع ہو چکے تھے۔ تایا لیٹ گئے تو اس نے نرمی سے اپنا ہاتھ علیحدہ کیا اور ان کا تکیہ درست کیا۔ تب انہوں نے پوچھا۔
کیسے ہوا یہ سب؟ صائمہ تائی پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔
ولید لغاری نے ہمیں گاڑی سے ٹکر ماری تھی اور وہ بھی جان بوجھ کر۔
کون ولید لغاری۔ ارم ذرا حیرت سے چونکی۔
کمپنی میں ہمارا شیئر ہولڈر ہے، عمیر لغاری کا بیٹا۔ تایا کی گردن تلے تکیے رکھتے ہوئے وہ سب کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔ چونکہ وہ اس کمرے میں تھی اس لئے فرخ خود ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانی! سب کو چھوڑ کر انہوں نے اسے مخاطب کیا۔ وہ تیزی سے باہر نکلی۔ کچن میں آ کر پہلے خود پانی پیا پھر ان کے لئے پانی لے آئی۔
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری شال! انہوں نے گلاس لیتے ہوئے نقاہت زدہ لہجے میں یک لفظی استفسار کیا۔ شال سے مراد اس کی اسٹول تھی۔ اس نے سمجھ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ میں نے رکھ لی تایا ابا! استعمال کے لیے نئی اسٹول لے لوں گی مگر اسے اپنے پاس رکھوں گی۔ پھر وہ نم آنکھوں سے مسکرائی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر وہیں ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔ میں اس اسٹول کو کبھی نہیں دھوؤں گی تایا ابا! اس میں بہت کچھ ہے، جو میرے لیے بہت قیمتی ہے۔
تایا ابا نے ہلکے سے مسکرا کر سر کو اثبات میں ذرا سی جنبش دی اور آنکھیں موند لیں۔
صائمہ تائی حق دق ان کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔ جو حیا نے دونوں ہاتھوں میں تھام رکھا تھا۔ ان کی شاید سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہوا کیا ہے اور خود حیا شاید ساری زندگی اس لمحے کی، اس قیمتی لمحے کی وضاحت کسی کو نہیں دے سکتی تھی جو خاموشی سے آیا اور تھوڑے سے خون کا اخراج لے کر اسے اس کا بہت کچھ لوٹا گیا۔ خون، جو واقعی پانی سے گاڑھا ہوتا ہے۔
تایا سو گئے تھے۔ پھپھو، سلیمان صاحب اور فاطمہ، تائی ابھی وہیں بیٹھی تھیں۔ ان سب کو ظفر فوراً بلا لایا تھا۔ صائمہ تائی، داور بھائی، سونیا، بلکہ پورا گھر ہی جاگ رہا تھا۔ سب تایا کے لیے پریشان تھے۔ ا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: