Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 6

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 6

–**–**–

ان کا سامان خاصا وزنی اور بےتحاشا تھا۔ دونوں لڑکے سرمئی رنگ کی ہائی ایس میں بیگز رکھتے رکھتے ہانپ گئے تھے۔
آپ واقعی صرف پانچ ماہ کے لیے آئیں ہیں؟ چغتائی نے سادگی سے پوچھا، تو احمت نے موضوع بدل دیا۔ہماری روایت ہے کہ جو بھی اتاترک ائرپورٹ سے استنبول آتاہے، ہم اسے سب سے پہلے سلطان ابو ایوب انصاریؓ کے مزار پر لے کر جاتے ہیں۔ اس سےاس کا ترکی میں قیام اچھا گزرتا ہے۔ احمت کہہ کر بیگ گاڑی میں رکھنے لگا تو ڈی جے نے سرگوشی کی۔
مگر حیا یہ تو توہم پرستی اورشرک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے زور سے کہنی مار کر ڈی جے کو خاموش کروایا، پھر اندر بیٹھتے ہوئے دبی آواز میں گھرکا۔
میزبانوں سے اس سردی میں بحث کی تو وہ تمہیں یہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے پاگل! صبح تک منجمد ہو کر پڑی ہو گی اور آئیندہ ترکی آنے والے سب سے پہلے تمہارے منجمد مجسمے کی زیارت کیا کریں گے۔

احمت کو ٹوٹی پھوٹی انگریزی آتی تھی، سو وہ سار راستہ گردوپیش کے متعلق بتاتا رہا۔ حیا کو اس سفر نامے سے دلچسپی نہ تھی سو رخ پھیرے کھڑکی کے باہر دیکھے گئی۔
وہ جو امریکی فلموں والی بلندوبالاتر عمارتوں کی آس لگائے بیٹھی تھی، قدرے مایوس ہوئی، کیونکہ استنبول شروع میں تو یوں لگا جیسے اسلام آباد ہو مگر آہستہ آہستہ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ واقعی یورپ تھا۔ دکانوں کے چمکتے شیشے، صقف سڑکیں، مغربی لباس میں پھرتے لوگ، دکانوں کی چھتوں اور درختوں کے اوپر پڑی برف اور سڑک کنارے بچھی برف کی تہیں، گویا سفید گھاس ہو۔
عجیب بات یہ تھی کہ اس کہر اور سردی میں بھی ترک لڑکیاں بڑے مزے سے منی اسکرٹس میں ملبوس ادھر ادھر گھوم رہی تھیں۔
خدا کرے آج رات برف نہ پڑے۔ چغتائی نے موڑ کاٹتے ہوئے ایک پرتشویش نگاہ باہر پھیلے برف زار پہ ڈالی۔
ہاں! خدا کرے رات واقعی برف نہ پڑے۔
احمت نے تائید کی۔
حیا اور ڈی جے نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ڈی جے آہستہ سے اردو میں بڑبڑائی۔
ایویں نہ پڑے۔۔۔۔۔ خد تو برف باری دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں، ہمیں تو دیکھنے دیں۔ اللہ کرے، رات برف ضرور پڑے آمین، ثم آمین۔ اور حیا نے دل میں اس کی تائید کی۔
ونڈ سکرین کے اس پار یورپین شہر کا اختتام دکھائی دے رہا تھا۔ آگے نیلا سمندر بہہ رہا تھااور اس کے دوسری طرف استنبول کا ایشیائی حصہ آباد تھا۔ دونوں حصوں کو ایک عظیم الشان پل نے جوڑ رکھا تھا۔ دو خطوں کا ملاپ، دو تہزیبوں کا سنگم۔۔۔۔۔۔۔
مرمرا کے سمندر کا جو حصہ استنبول کے درمیان سےگزرتا ہے، اسے بوسفورس کا سمندر کہا جاتا ہے۔ اس پل کا نام بھی باسفورس برج ہے۔ احمت بتانے لگا۔
مگر ہم تو مزار پر جا رہے تھے جو کہ یورپین حصے میں ہی ہے، پھر پل عبور کرنے کا مقصد؟ قریب آتے پل کو دیکھ کر حیا نے حیرت سے پوچھا، کیونکہ پل کے اس طرف اناطولین شہر تھا۔
ہم نے پل عبور نہیں کرنا، اس کے قریب سے کسی کو اٹھانا ہے۔ ہم دونوں یہاں سے چلے جائیں گے، آگے مزار تک آپ کو اسی نے لے کر جانا ہے۔
چغتائی نے گاڑی ایک طرف روک دی۔ احمت ب لاک کھول کر باہر نکل رہا تھا۔
حیا نے اس خوبصورت، اونچے پل کو دیکھا اور سوچا
کہ کتنے برس وہ اسی پل پر سے گزرا ہو گا۔ کتنی ہی دفعہ اس نے بوسفورس کے نیلے پانی پہ چاند کی پریوں کا رقص دیکھا ہو گا۔ جب وہ اس سے ملے گی تو کیا اس کی آنکھوں میں استنبول کی سفید گھاس سی برف جمی ہو گی یا مرمرا کے پانیوں کا جوش ہو گا؟ اور کیا وہ کبھی اس سے مل پائے گی؟ اس خیال پہ اسکا دل جیسے مرمرا کے سمندر میں ڈوب کر کسی لٹی پٹی کشتی کی طرح ہولے سے ابھرا تھا۔
کھڑکی کے اس پار سے ایک دراز قد لڑکی کار کی طرف چلی آ رہی تھی۔ چہرے کے گرد اسکارف لپیٹے، بلیو جینز کے اوپر گھٹنوں تک آتا سفید کوٹ پہنے، وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکائے چلتی آ رہی تھی۔ اس کی رنگت استنبول کے سورج کی سنہری اور آنکھیں نوجھل بادلوں کی طرح سرمئی تھی۔
وہ لڑکی ان دونوں ترک لڑکوں کے پاس پہنچی اور مسکراتے ہوئے چغتائی کے ہاتھ سے چابی لی۔ احمت پیچھے کھڑی ہائی ایس کی طرف اشارہ کر کے کچھ کہنے لگا۔ وہ لڑکی اپنی نرم مسکراہٹ کےساتھ سر ہلاتی سنتی گئی۔ پھر وہ دونوں لڑکے چلے گئے اور وہ لڑکی کار کی طرف آئی۔ دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ کر گردن پیچھے گھمائی۔
سلام علیکم۔۔۔۔۔۔ اور ترکی میں خوش آمدید۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی انگریزی شستہ اور انداز بےحد نرم تھا۔ حیا نے محسوس کیا کہ ترک السلام علیکم کے بجائے سلام علیکم Salamun Alaikum کہتے تھے۔
وعلیکم السلام۔ حیا نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما تو اسے لگا، اس نے اتنا نرم ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ وہ ہاتھ نہیں گویا مکھن کا ٹکڑا تھا۔
میرا نام ہالےنور ہے، میرا تعلق رومی فورم سے ہے۔ میں سبانجی سے میٹیریل سائنس اور انجینئرنگ میں ایم ایس کر رہی ہوں۔ ائرپورٹ پر آپکو لینے کے لیے بھی مجھے ہی آنا تھا، مگر میں کہیں پھنس گئی تھی، اس لیے نہیں آ سکی، بہت معذرت۔ اس نے کار واپس موڑ دی تھی۔
حیا سلیمان۔۔۔۔۔۔۔
خدیجہ رانا۔۔۔۔۔۔۔
ان کے تعارف کو ہالے نور نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ سنا اور سر اثبات میں ہلایا۔ وہ واقعی نور کا ہلہ تھی۔ دھلی ہوئی چاندنی۔
اب ہم انصاری محلہ جا رہے ہیں۔ وہ اسٹیرنگ گھماتے ہوئے بولی۔
محلہ؟ اردو والا محلہ، حیا! ڈی جے نے دھیرے سے سرگوشی کی۔
شاید۔۔۔۔۔۔۔۔ تب ہی توکہتے ہیں کہ اردو ترک سے نکلی ہے، تم نے میٹرک میں اردو زبان کے مضمون میں اس فقرے کا رٹا نہیں لگایا تھا کیا کہ، لفظ اردو ترک زبان سے نکلا ہے جس کے معنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لشکر کے ہیں! ڈی جے نے چہک کر فقرہ مکمل کیا۔
”ایوب سلطان جامعہ“ کے بیرونی بازار کا نام ہے انصاری محلہ۔ بے حد رش، بہت سے لوگ اور ہر سو اڑتے، چگتے کبوتر، وہ تینوں لوگوں کے درمیان بمشکل راستہ بناتیں مسجد کے احاطے تک پہنچی تھیں۔
نماز سے فارغ ہو کر حیا نے دیکھا، وہاں جامعہ مسجد کا نام Eyup Sultan Cammi لکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ جامعہ میں j کی جگہ C لکھا ہے، جو کہ غلط لگ رہا تھا۔
ہماری زبان میں C کو عربی کے جیم کی آواز سے پڑھا جاتاہے۔ انصاری محلہ کے رش سے گزرتے ہوئے اس کی حیرت پر ہالے نے بتایا۔ وہ مسکرای ہوئی بڑے اعتماد سے اپنے سفید کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چل رہی تھی۔ اس کی بات پہ حیا بے اختیار چونکی۔
حیران کیوں ہو؟ ہالے نےرک کر شاپر سے اپنے جوتے نکالتے ہوئے اسے دیکھا۔ وہاں مسجد میں داخلے کے وقت جوتے باہر رکھنے کے بجائے شاپر میں رکھنے اور ساتھ شاپر ہمہ وقت اٹھائے رکھنے کا رواج تھا۔
یعنی اگر کسی کا نام جہان ہو تو وہ ترک ہجوں میں اسے کیسے لکھے گا؟ بلا ارادہ اس کے لبوں سے نکلا۔ پھر فورا گڑبڑا کر ڈی جے کو دیکھا۔ وہ ذرا فاصلے پر کبوتروں کی تصاویر کھینچ رہی تھی۔ اس نے نہیں سنا تھا۔
ہالے ڈسٹ بن میں شاپر پھینک کر سیدھی ہوئی اور مسکرا کر ہجے کر کے بتایا۔(Cihan)
اوہ! اس نے خفیف سا سر جھٹکا۔ تب ہی وہ اسے فیس بک پر نہیں ملاتھا۔ وہ اس کو jihan لکھ کر ڈھونڈتی رہی، مگر وہ تو اپنے نام کو Cihan لکھتا ہو گا۔
گلی صاف ستھری اور کشادہ تھی۔ دونوں اطراف میں دکانوں کے دروازے کھلے تھے۔ آگے کرسیاں میزیں بچھی تھیں ارد گرد بہت سے اسٹال لگے تھے۔ سڑک کے کناروں پہ کھلےعام کتے ٹہل رہے تھے۔ مگر وہ بھونکتے نہیں تھے۔
حیا کو بھوک لگ رہی تھی اور وہ اب اس سفر نامے سے بور ہونے لگی تھی۔ بمشکل وہ تینوں اس رش بھرے محلے سے نکلیں۔
ایکسچینج اسٹوڈنٹس کو ان کا پہلا کھانا ایک ترک میزبان خاندان دیا کرتاہے۔ اور ابھی ہم اسی میزبان خاندان کے گھر جا رہے ہیں۔
جب وہ کار میں بوسفورس پل پر سے گزر رہی تھیں تو ہالے نے بتایا۔ کھان کا سن کر اس پر چھائی بیزاریت ذرا کم ہوئی۔
میزبان خاندان کا گھر استنبول کے ایک پوش علاقے میں واقع تھا۔ کشادہ سڑک، خوبصورت بنگلوں کی قطار، اور بنگلوں کے سامنے سبزے پہ جمی برف۔
ان کے اسکالرشپ کوآرڈینیٹر نے چند باتیں انھیں ذہن نشین کروا دی تھیں کہ:
ترکی میں جوتے گھر سے باہر اتارنے ہیں۔۔۔۔۔۔
گھاس پہ نہیں چلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ملاقات کے وقت ترک خاندان کے بڑے کا ہاتھ چومنا ہے۔
اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس تکلف کو رہنے دو۔ ان دونوں نے گھر کے داخلی دروازے کے باہر بچھے ہوئے میٹ پر جوتے اتارے تو اندر سے آتی وہ مشفق اور معمر خاتون پیار بھری خفگی سے بولی تھیں۔ پہلے دن کوئی اصول نہیں ہوتے، سلامً علیکم اور ترکی میں خوش آمدید۔
آپ کے اصولوں کی پاسداری میں ہمارے لیے فخر ہے۔ حیا نے مسکراتے ہوئے اب کا ہاتھ تھاما اور سر جھکا کر ان کے ہاتھ کی پشت کو لبوں سے لگایا۔
معمر خاتون، مسز عبداللہ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا۔ اندر آ جاؤ۔ وہ راستہ دینےکے لیے ایک طرف ہٹیں۔ ان کی سرخ بالوں والی بیٹی آگے بڑھی اور کارپٹ شوز حیا اور ڈی جے کے قدموں میں رکھے۔ وہ ریشمی کپڑے سے بنے کوٹ شوز کی شکل کے جوتے تھے۔ دونوں نے جھک کر وہ جوتے پہنے اور اندر داخل ہوئیں۔
اس ترک گھر کا فرش لکڑی کا بنا تھا۔ لونگ روم کے فرش پہ بہت خوبصورت قالین بچھے تھے۔ وہ باتھ روم ہاتھ دھونے آئی تو دیکھا، وہاں الگ ٹوٹنی وغیرہ نہیں تھی۔ بلکہ ایک طرف قطار میں نل لگے تھے۔ البتہ، باتھ روم کے فرش پر بھی رگز اور کاؤچ بچھے تھے، حیرت انگیز!
وہ واپس آئی تو ڈائننگ ہال میں کھانا لگایا جا رہا تھا۔ ڈی جے جھک کر پیار سے مسز عبداللہ کی نواسی عروہ سے کچھ کہہ رہی تھی۔ وہ تین خواتین ر مشتمل چھوٹا سا کنبہ تھا اور چونکہ وہ دونوں لڑکیاں تھیں، سو ہالے نے ایسے ترک خاندان کا چناؤ کیا تھا، جس میں کوئی مرد نہ ہو۔ اسی پل مسز عبداللہ سوپ کا بڑا سا پیالہ اٹھائے آئیں۔ ہالے مستعدی سے ان کی ہیلپ کروا رہی تھی۔
تم کیا کہہ ہی تھیں، تمہارا کوئی رشتہ دار بھی ہے ادھر؟ انہوں نے سوپ کا پیالہ میز پر رکھا۔ حیا نے ایک نظر اس ملغوبے کو دیکھا۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری پھپھو ہیں ادھر۔ وہ سوپ کر دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی۔
کدھر رہتی ہیں؟
ادھر! اس نے پرس سے مڑا تڑا کاغذ نکال کر ہالے کو تھمایا۔ ہالے نے ایک نظر اس کاغذ کو دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
کل میں ملوا دوں گی تمہیں ان سے، کھانا شروع کرو۔ اس نے کاغذ واپس حیا کی طرف بڑھا دیا۔
ڈی جے! ہم واقعی ترکی میں بھوکوں مریں گے۔ اس ملغوبے کی شکل دیکھو، مجھے تو پھر سے متلی ہو رہی ہے۔ حیا جبرا مسکراتے ہوئے ہولے سے اردو میں بولی۔ مسز عبداللہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
یہ کہہ رہی ہے کہ ان خواتین کا خلوص اسے شرمندہ کر رہا ہے۔ ڈی جے نے جلدی سے ترجمانی کرتے ہوئے میز کے نیچے سے اس کا پیر زور سے کچلا۔
اوہ شکریہ۔ مسزعبداللہ مسکرا کر کھانا پیش کرنے لگیں۔
سوپ دراصل مسور کی دال کا شوربہ تھا او اردو جیسی ترک میں اسے چوربہ کہتے تھے۔ وہ ذائقے میں شکل سے بڑھ کر بدمزہ تھا۔ چند لمحوں بعد ہی دونوں پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹس کی برداشت جواب دینے لگی۔
حیا مجھے الٹی آنے والی ہے۔
اور میں مرنے کے قریب ہوں۔
وہ بدقت چہروں پر مسکراہٹ سجائے چمچہ بھر رہی تھیں۔ ترک خواتین بہت مرغوبیت سے سوپ پی رہی تھیں۔
چوربہ ختم ہوا تو کھانا آ گیا۔ وہ اس سے بھی بڑھ کر بدمزا تھا۔ ایک چاولوں کا پلاؤ تھا۔ پلاؤ شکل میں ابلے چاولوں سے مختلف نہ تھا۔ ساتھ چنے کا سالن اور مرغی کی گریوی تھی جو کہ منچورین کی طرح دکھتی تھی۔
وہ ڈیڑھ دن کی بھوکی تھیں اور اوپر سے یہ بدمزا کھانے مزید حالت خراب کر رہے تھے۔ وہی ترک خواتین ہی کھا رہی تھیں۔ پلاؤ کا پیالہ بھی ختم ہو کا تھا اور ہم پاکستانی میزبانوں کے برعکس وہ اسے دوبارہ بڑھنے کے لیے دوڑی نہیں تھیں۔ وجہ ان کے خلوص کی کمی نہ تھی، بلکہ شاید یہی ان کا طریقہ تھا کہ پیالہ ایک ہی دفعہ بھرکر رکھا جاتا تھا۔
خدیجہ! تمہاری دوست مجھے کچھ پریشان سی لگ رہی ہے، خیریت، مسز عبداللہ نے پوچھ ہی لیا۔
ڈی جے نے گڑبڑا کر اسے دیکھا۔ سب کھانے سے ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگے تھے۔
•••••••••••••••••••••••••
لگتا ہے آپ لوگ پڑھ کر ہی تھک جاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔ کمنٹ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک کہہ رہی ہوں نا گرلز۔۔۔۔۔
حیا نے میز تلے آہستہ سے اپنا پاؤں ڈی جے کے پاؤں پہ رکھا۔
فیملی فرنٹ کی ہما، کوئی معقول وجہ بتاؤ ان کو۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دراصل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا بہت ڈرپوک ہے۔ اسے اسٹریٹ کرائم سے بہت ڈر لگتا ہے اور یہ پلی دفعہ اکیلی یورپ آئی ہے، تو یہ پوچھ رہی ہے کہ کہیں استنبول میں کوئی آرگنائزڈ کرمنلز سے تو واسطہ نہیں پڑے گا؟
حیا خفت سے سر جھکائے لب کاٹتی رہی۔ وہ خالی ہاتھ ان کے گھر آئی تھیں۔ اور انھوں نے میز بھر دی تھی، پھر بھی اس کے نخرے ختم ہونے میں نہیں آ رہے تھے۔ اسے بےحد پچھتاوا ہوا۔ وہ بات سنبھالنے پر ڈی جے کی بےحد ممنون تھی۔
قطعا نہیں، استنبول بہت محفوظ شہر ہے۔
سرخ بالوں والی لڑکی رسان سے بولی۔ یہاں پولیس کی پولیس ایسے لوگوں کو کھلے عام نہیں پھرنے دیتی۔
بالکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استنبول میں قانون کی بہت پاسداری کی جاتی ہے۔ ہالے نے تائید کی۔ مسز عبداللہ خاموشی سے سنتی رہیں۔ ان کے چہرے پر کچھ ایسا تھا کہ حیا انہیں دیکھے گئی۔
جب ہالے نور استنبول کی شان میں ایک لمبا سا قصیدہ پڑھ کر فارغ ہوئی تو مسز عبداللہ نے گہری سانس لی۔
خدا کرے، تمہارا واسطہ کبھی عبدالرحمن پاشا سے نہ پڑے۔
حیا نے دھیرے سے کانٹا واپس پلیٹ میں رکھا۔ ایک دم پورے ہال میں اتنا سناٹا چھا گیا تھا کہ کانٹے کی کانچ سے ٹکرانے کی آواز سب نے سنی۔
کون پاشا؟ ڈی جے نے الجھ کر مسز عبداللہ کو دیکھا۔
وہ ممبئی کا ایک اسمگلر ہے، یورپ سے ایشیاء اسلحہ اسمگل کرتا ہے۔ استنبول میں اگر چڑیا کا بچہ بھی لاپتہ ہو جائے تو اس میں پاشا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بوسفورس کے سمندر میں ایک جزیرہ ہے، ببوک ادا۔ اس جزیرے پہ اس مافیا کا راج ہے۔
اور میری مام کو خواب بہت آتے ہیں۔ ان کی بیٹی نے خفگی سے ان کو دیکھا۔
یہ لڑکیاں سمجھتی ہیں، میری عقل میرا ساتھ چھوڑنے لگی ہے۔
بالکل ٹھیک سمجھتی ہیں اور ایکسچینج اسٹوڈنٹس!کان کھول کر سن لو۔ ہالے نے قدرے تلملا کر مداخلت کی۔ استنبول میں ایسا کوئی کرائم دین نہیں ہے، یہ سب گھریلو عورتوں کے افسانے ہیں۔ یہاں کوئی بھارتی اسمگلر نہیں ہے۔
دونوں ترک لڑکیاں اپنے تئیں بات ختم کر کے اب سویٹ ڈش کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔ خدیجہ بھی ان کی باتوں پہ مطمئن ہو کر شکرپارے کھانے لگی تھی، مگر حیا کے حلق میں بہت میٹھے سے شکرپارے کہیں اٹک سے گئے تھے۔
ابوظہبی انٹرنیشنل ائرپورٹ پہ س نے اس حبشی کے منہ سے پاشا کا نام سنا تھا۔ وہ نہایت مضحمل سا اپنی بیوی سے عربی میں بات کر رہا تھا۔ اپنے بیٹے کے علاج کا ذکر۔ مگر ہو سکتا ہے کہ وہ کسی اور پاشا کے کام کا ذکر کر رہا ہو اور واقعی ترک گھریلو عورتوں کے افسناوں پاشا کا کوئی وجود نہ ہو۔
الوداعی لمحات میں جب باقی سب آگے نکل چکے تو مسز عبداللہ نے دھیرے سے حیا کے قریب سرگوشی کی۔
یہ لڑکیاں ستنبول کی برائی نہیں سن سکتیں۔ تمہیں اس لیے بتایا کہ تم کرائم سے ڈرتی ہو اور خوبصورت بھی ہو، خوبصورت لڑکیوں پر عموما ایسے لوگ نظر رکھتے ہیں۔
حیا نے چونک کر انہیں دیکھا۔ ان کے جھریوں زدہ چہرے پر سچائی بکھری تھی۔
وہ واقعی اپنا وجود رکھتاہے۔ وہ بالکل سن سی ہوئی انہیں دیکھے گئی۔ کیا افواہوں کا خوف مجسم صورت میں ان کے سامنے آ گیا تھا، یا ان کی عقل واقعی ان کا ساتھ چھوڑ ہی تھی؟
•••••Zyan ali•••
شام کے سائے گہرے پڑ رہے تھے، جب وہ سبانجی یونیورسٹی پہنچیں۔ سبانجی امراء کی جامعہ تھی۔ وہاں چار ماہ کے ایک سمسٹر کی فیس بھی دس ہزار ڈالر سے کم نہ تھی۔ شہر سے دور، مضافات میں واقع وہ قدرے گولائی میں تعمیر کردہ عمارت بہت پرسکون دکھتی تھی۔ چونکہ وہ جگہ استنبول شہر سے قریبا پینتالیس منٹ کے فاصلےپر تھی، اس لیے سبانجی میں ڈے اسکالرز نہیں ہوتے تھے۔ اس کے تمام طلبہ و طالبات بشمول ہالےنور جیسے لوگوں کے، جن کے گھر استنبول میں ہی تھے، ہاسٹل میں رہائش پزیر تھے۔
یونیورسٹی کی عمارت سے دور برف سے ڈھکے میدانوں میں ایک جگہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر اونچی عمارتیں کھڑی تھیں۔ وہ ان کے رہائشی ڈروم بلاکس تھے۔ انگریزی حرف ایل کی صورت کھڑی تین تین منزلہ عماتیں، جن کے کمروں کے آگے بالکونیاں بنی تھیں۔ چھ کمرے ایل کی ایک لکیر پر تھے اور چھ دوسری لکیر پہ تھے۔
تمہارا کمرہ دوسری منزل پر ہے۔ ہالے نے اس کا سامان گاڑی سے نکالتے ہوئے بتایا۔ حیا اور ڈی جے دوسرا بیگ گھسیٹ کر لا رہی تھیں۔
ایل کی شکل کا ڈروم بلاک جسے ہالے بی ون کہہ رہی تھی، کے باہر گولائی میں چکر کھاتی سیڑھیاں کھلے آسمان تلے بنی تھیں، جو اوپر تک لے جاتی تھیں۔ لوہے کی ان سیڑھیوں کے ہر دو زینوں کے درمیان خلا تھا اور زینوں پہ برف کی موٹی تہہ تھی۔ ذرا سا پاؤں پھسلے اور آپ کی ٹانگ اس گیپ میں سے نیچے پھسل جائے۔ وہ تینوں گرتی پڑری بمشکل حیا کا سامان اوپر لائیں۔
کمرہ تو اچھا ہے، ہم یہاں رہیں گے؟ حیا نے ہالے کی تھمائی چابی سے اپنیdormitory کا دروازہ دھکیلا تو بے اختیار لبوں سے نکلا۔
ہم نہیں، صرف تم، کیونکہ خدیجہ کا بلاک بی ٹو ہے۔ وہ جو سامنے ہے۔ اس نے انگلی سے دور برفیلے میدان میں بنی عمارت کی جانب اشارہ کیا۔
کیا مطلب، میں ادھر اکیلی؟ وہ دنگ رہ گئی۔
بعد میں رم بدلوا سکتی ہو ڈروم آفیسر سے کہہ کر۔ ابھی تم آرام کرو۔ ہر کمرے میں چار اسٹوڈنٹس ہوتے ہیں۔ ہر اسٹوڈنٹ کی ٹیلی فون ایکسٹینشن اس کی میز پر ہوتی ہی۔ آج کل چھٹیاں ہیں، اکثر طالبعلم اپنے گھر گئےہوئے ہیں۔ تمہارا کمرہ خالی ہے مگر تم جا کر اپنے بیڈ پر ہی سونا، ترک لڑکیوں کے بستر پر کوئی سو جائے تو وہ بہت برا مانتی ہیں۔ کوئی مسئلہ ہو تو میرا ڈروم بلاک بی فور میں ہے، اوکے؟ وہ مسکرا کر بولی تو حیا نے سر ہلا دیا۔
ڈی جے نے بےچارگی سے اسے دیکھا اور ہالے کے ساتھ سیڑھیاں اترنے لگی۔
ہالے! سنو، اس بلڈنگ کے پیچھےکیا ہے؟ کسی خیال کے تحت اس نے پوچھا۔ ہالے مسکرا کر پلٹی اور بولی جنگل پھر وہ دونوں زینے اتر گئیں۔
حیا ایک جھرجھری لے کر پلٹی اور اندر کمرے میں قدم رکھا۔
کمرا خوبصورتی سے آراستہ تھا۔ ہر دیوار کے ساتھ ایک ایک ڈبل سٹوری بنک bunk رکھا تھا۔ عموما ایسے بنکس میں نیچے ایک بیڈ اور اوپر بھی بیڈ ہی ہوتا ہے لیکن اس میں نیچے بڑی سی رائٹنگ ٹیبل پڑی تھی۔ اس کے ساتھ ہی لکڑی کی سیڑھی اوپر جاتی تھی، جہاں ایک آرام دہ بیڈ تھا۔ میز پہ ایک ٹیلیفون رکھا تھا۔ وہ چاروں بنکس کو دیکھتی اپنے نام کی میز کی کرسی کھینچ کر نڈھال سی بیٹھ گئی۔
وہ ایک تھکا دینے والا دن ثابت ہوا تھا، مگر ابھی وہ تھکن کے بجائے عجیب سی اداسی میں گری تھی۔
غیر ملک، غیر خطہ، غیر جگہ اور تنہا کمرا۔ جس کے پیچھے جنگل تھا۔ اسے جانے کیوں بےچینی ہونے لگی۔ وہ فریش ہونے کے لیے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی، تاکہ باہر کہیں باتھ روم ڈھوندے، ابھی اس نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ دو کمرے چھوڑ کر ایک کمرے کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک لڑکا بیگ اٹھائے نکلا۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور پھر مقفل کر دیا۔
گرلز ہاسٹل میں لڑکا؟ اگر پاکستان میں ہوتی تو یقینا یہی سوچتی۔ مگر یہ بات تو سبانجی کے پراسپیکٹس میں پڑھ چکی تھی کہ وہ مخلوط ہاسٹل تھا۔ البتہ ایک کمرے کے اندر صرف ایک ہی صنف کے افراد رہ سکتے تھے۔
وہ بددل سی ہو کر واپس کرسی پہ آ بیٹھی۔
سامنے والی دیوار پر ایک سفید اور سیاہ تصویر آویزاں تھی، پینسل سے بنایا گیا وہ خاکہ ایک کلہاڑے کا تھا، جس کے پھل سے خون کی بوندیں گر رہی تھیں۔
خاکہ بےرنگ تھا، مگر خون کے قطروں کو شوخ سرخ رنگ سے بنایا گیا تھا۔
اس نے جھرجھری لے کر دوسری دیوار کو دیکھا۔
وہاں ایک لڑکی کے چہرے کا بےرنگ پنسل سے بنا خاکہ ٹنگا ہوا تھا، وہ تکلیف کی شدت سے آنکھیں میچے ہوئے تھی اس کی گردن پر چھری چل رہی تھی۔ اور اس سے بھڑکیلے سرخ خون کے قطرے ٹپک رہے تھے۔
وہ مضطرب سی اٹھ کھڑی ہوئی۔ ان تصاویر والی دیوار کے ساتھ لگے بنک کی میز پہ بہت سے چاقو اور چھریاں قطار میں رکھے تھے۔ ہر سائز ہر قسم اور ہر دھار کا چاقو۔ جن کے لوہے کے پھل مدھم روشنی میں چمک رہے تھے۔
وہ ایک دم بہت خوفزدہ ہو کر باہر لپکی۔
کوریڈور میں بہت اندھیرا تھا۔ دور نیچے برف سے ڈھکے میدان دکھائی دے رہے تھے۔ وہ تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھی، جیسے ہی اس نے پہلے زینے پر قدم رکھا اوپر چھت پہ لگا بلب ایک دم جل اٹھا۔
وہ ٹھٹک کر رکی اور گردن گھمائی۔ کوریڈور خالی تھا وہاں کوئی نہیں تھا۔ پھر بلب کس نے جلایا؟
اس کی گردن کی پشت کے بال کھڑے ہونے لگے۔ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ پلٹی اور زینے اترنے لگی۔ تب ہی ایک دم ٹھا کی آواز کے ساتھ اوپر کوئی دروازہ بند ہوا۔ اس نے پتھر بن جانے کے خوف سے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی چلی گئی۔
آخری زینے سے اتر کر اس نے جیسے ہی برف زار پر قدم رکھا اوپر بالکونی میں جلتا بلب بجھ گیا۔
باہر زوروشور سے برف گر رہی تھی۔ تازہ پڑی برف سے اس کے قدم پھسلنے لگے تھے۔ سفید سفید گالے اس کے بالوں اور جیکٹ پہ آ ٹھہرے تھے۔ وہ گرتے پڑتے ڈی جے کے بلاک کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسے پہلی دفعہ اپنی مانگی گئی کسی دعا پہ پچھتاوا ہوا تھا۔ کاش! آج یہ برف نہ پڑتی۔
بی ٹو کی دوسری منزل کی بالکونی میں دم لینے کو رکی۔ اسے منزل یاد تھی مگر کمرے کا نمبر بھول چکا تھا۔
اس نے ہونٹوں کے گرد ہاتھوں کا پیالا بنا کر زور سے آواز دی۔
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کہاں ہو؟
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دروازہ جھٹ سے کھلا اور کسی نے ہاتھ سے پکڑ کر اسے اندر کھینچا۔
اگر تم دومنٹ مزید تاخیر کرتیں تو میں مر چکی ہوتی حیا! ڈی جے بھی اس کی طرح تنہا اور خوفزدہ لگ رہی تھی۔ مگر اس کمرے میں آ کر حیا کا سارا خوف اڑن چھو ہو چکا تھا۔
ڈرو مت، تمہارے لیے ہی تو آئی ہوں۔ مجھے پتہ تھا، تم اکیلی ڈر ہی ہو گی، ورنہ میرا کیا ہے میں تو کہیں بھی رہ لیتی ہوں۔ وہ لاپروائی سے شانے اچکا کر بولی، پھر بے اختیار جمائی روکی۔ خوف ختم ہوا تو نیند طاری ہونے لگی۔
مگر ڈی جے! میں سوؤں گی کدھر؟
ان تین خالی بیڈز پر کانٹے بچھے ہوئے ہیں کیا؟
مگر ہالے نے کہا تھا کہ ترک لڑکیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فی الحال یہاں نہ ہالے نور ہے، نہ ہی ترک لڑکیاں۔۔۔۔۔۔
مگر اللہ تو دیکھ رہا ہے! غیر ملک میں اس کا سویا ہوا خوف خدا جاگ اٹھا تھا۔
اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ہالے نور کو پتا نہیں لگنے دے گا۔ اب بستر میں گھسو اور سو جاؤ۔ خدا جانے مجھے کس پاگل کتے نے کاٹا تھا، جو ترکی آ گئی۔ آگے جھیل، پیچھے جنگل، اتنی وحشت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈی جے کمبل میں لیٹے مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔ نیند سے تو وہ بھی بےحال ہونے لگی تھی۔
سو ڈی جے کے قریبی بینک کی سیڑھیاں پھلانگ کر اوپر کمبل میں لیٹ گئی۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچی نیند میں تھی جب ڈی جے نے اسے پکارا۔
ہوں؟ اس کی پلکیں اتنی بوجھل تھی کہ انہیں کھول نہیں پا رہی تھی۔
سامنے والے کمرے بڑے ہینڈسم لڑکے رہتے ہیں، میں نے انہیں کمرے میں جاتے دیکھا ہے۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا ذہن غنودگی میں ڈوب رہا تھا۔
اور سنو، وہ پِلاؤ اتنا برا بھی نہیں تھا، ہمیں سفر کی تھکاوٹ ے باعث برا لگا، اور سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ڈی جے کے بات مکمل ہونے سے قبل ہی وہ سو چکی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: