Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 61

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 61

–**–**–

سوری! صبح میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، صحیح سے مل نہیں سکی۔ انگریزی میں اس سے بات کرتے ہوئے اس نے ایک نظر اماں پہ ڈالی۔ اماں اتنی نارمل کیوں تھیں؟کیا اماں اور ابا نے اس لڑکی کو قبول کر لیا تھا؟ اتنی آسانی سے؟
اٹس اوکے! نہ تو انداز میں رکھائی تھی نہ ہی والہانہ گرمجوشی۔ بس نارمل سوبر سا انداز۔ حیا ابھی تک کھڑی تھی۔ اس سے بیٹھا ہی نہ گیا۔ عجب سی بے چینی تھی۔ سو معذرت کر کے کچن کی طرف چلی آئی۔ کچن اور لانچ کے بیچ کی آدھی دیوار کھولی تھی سو اسے دور سے پھپھو کام کرتی نظر آ گئی تھی۔
تم ٹھیک ہو؟ وہ ایک ڈش کی ڈریسنگ کرتے ہوئے آہٹ پہ پلٹیں۔ وہی جہان والی آنکھیں وہی نرم مسکراہٹ۔
جی، سوری میں دوپہر میں ذرا تھکی ہوئی تھی۔
نتاشا سے مل لیں؟ پھوپھو نے دور لاونچ کے صوفوں پہ بیٹھی عورتوں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ چونکی۔
اس کا نام نتاشا ہے؟ سرگوشی میں پوچھتے بظاہر چیزیں اٹھا اٹھا کر پھوپھو کو دے رہی تھی۔
ہاں کیوں کیا ہوا؟اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھوپھو سمجھ گئیں۔ اگر روسی اس خوب صورت نام سے کچھ غلط مطلب لیتے ہیں تو اس میں اس نام کا کیا قصور؟ قصور تو روسیوں کا ہے نا۔
صیح مگر روحیل اچانک آ گیا، ابا کا کیا ری ایکشن تھا؟ اب وہ ولید کی باتوں کے اثر سے ذرا نکلی تھی تو ان باتوں کا خیال آیا؟
وہ اسی لیے بغیر بتائے آیا ہے۔ بس بھائی نے تھوڑا بہت جھڑکا اور پھر روحیل نے معافی مانگ لی اور نتاشا نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے سو بھائی مان گئے۔
وہ بے یقینی سے انہیں دیکھے گئی۔
اتنی آسانی سے یہ سب کیسے ہوا؟ اسے یاد تھا کہ اس شادی کی وجہ سے ابا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔
اوون میں ڈش رکھ کر ڈھکن بند کرتے پھپھو نے گہری سانس لی۔
تو پھر اور کیا کرتے بھائی؟ اب وہ شادی کر ہی چکا ہے اور نتاشا کو مسلمان کر ہی چکا ہے تو بس بات ختم۔ روحیل ان کا اکلوتا بیٹا ہے۔ پہلوٹھی کی اولاد۔
اوون کا ٹائم سیٹ کر کے وہ اس کی طرف پلٹیں تو ان کے چہرے پہ ایک تھکان زدہ مگر بے شکوہ مسکراہٹ تھی۔
وہ ان کا بیٹا ہے حیا اور بیٹوں کے قصور جلدی معاف کر دیے جاتے ہیں۔ صلیب پر لٹکانے کو صرف بیٹیاں ہوتی ہیں۔
کچھ تھا جو اس کے اندر ٹوٹ سا گیا تھا۔ پھوپھو اب کاونٹر کی طرف چلی آئی تھیں۔ بہت سے آنسو اس نے اپنے اندر اتارے اور پھر چہرے پہ ظاہری بشاشت لا کر وہ ان کی طرف پلٹی۔
آپ یہ سب کیوں کر رہی ہیں؟ اور نور بانو کدھر ہے؟
وہ ڈرائینگ روم میں بھائی وغیرہ کو چائے دینے گئی ہے۔ میں نے سوچا میں کھانے کو آخری دفعہ دیکھ لوں کھانے کا کام عورت کو خود کرنا چاہیے تا کہ کھانے میں عورت کے ہاتھ کا ذائقہ بھی آئے۔
تو نور بانو ہے نا پھوپھو!
بیٹا! عورت کے ہاتھ کا ذائقہ صرف اس کی فیملی کے لئے ہوتا ہے۔ نور بانو کے بنائے کھانے میں اس کے اپنے بچوں کو ذائقہ آئے گا مگر اس کے مالکوں کو نہیں۔
وہ جہان کی ماں تھیں ان سے کون بحث کرتا؟ سو وہ واپس لاؤنچ میں آ کر بیٹھ گئی۔ ذہن میں ولید کی باتیں ابھی تک گردش کر رہی تھیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا ہو گیا؟ درمیان میں ابا ایک دفعہ کسی کام سے آئے تو اسے بلا کر پوچھا۔
الہی بخش کہہ رہا تھا کہ ولید نے تمہارا رستہ روکا ہے؟ ولید کا نام لیتے ہوئے ان کی آنکھوں میں برہمی در آئی تھی۔ ویسے وہ نارمل لگ رہے تھے جیسے نتاشا سے کوئی مسئلہ نہ ہو۔
جی! وہ دھمکی دے رہا تھا کہ اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم نے اس کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو ہم پر ذاتی حملے بھی کر سکتا ہے۔ اٹک اٹک کر اس نے چند فقرے جوڑے۔
میں اس کو دیکھ لوں گا۔ اب اکیلے باہر مت جانا۔ ابا کہہ کر آگے بڑھ گئے۔ اب کیا فائدہ؟ کل تو ویسے بھی اسے استنبول چلے جانا تھا۔
کھانے کے بعد ثنا نے اس سے کہا کہ وہ ترکی کی تصاویر دکھائے سب کو۔ وہ لیپ ٹاپ لینے کمرے کی طرف جانے لگی تو ارم اس کے ساتھ آ گئی۔ اس کے سر میں درد تھا اور وہ ذرا لیٹنا چاہ رہی تھی۔
تم نے دیکھا، عابدہ چچی اور سحرش کیسے سارا وقت پھپھو کے آگے پیچھے پھر رہی تھیں۔ ارم بیڈ پہ تکیہ درست کر کے لیٹتی بولی تھی۔ واقعی سحرش سارا وقت صرف پھپھو سے بات چیت کرتی رہی تھی۔
جیسے مجھے ان کی پروا ہے۔ وہ لیپ ٹاپ اٹھائے باہر آ گئی۔
جب وہ لیپ ٹاپ میز پہ رکھے، اپنے ساتھ بیٹھی ثنا کو ایک ایک کر کے تصاویر دکھا رہی تھی تو نتاشا ثنا کے دوسری جانب سنگل صوفے پہ بیٹھی تھی۔ وہ زیادہ وقت خاموش ہی رہی تھی بس کبھی کسی بات کا جواب دے دیتی کبھی مسکرا دیتی وار کبھی امریکیوں کے مخصوص انداز میں نخرے سے شانے اچکا دیتی۔
‏ ایک منٹ پیچھے کرنا۔ وہ بیوک ادا کی اپنی اور ڈی جے کی تصاویر آگے کرتی جا رہی تھی جب اس نے نتاشا کو سیدھا ہوتے دیکھا۔ وہ بے اختیار رکی مڑ کر نتاشا کو دیکھا اور تصویر پیچھے کی۔
وہ ڈی جے تھی۔ ادا کے بازار کا منظر۔ عقب میں جہان کھڑا بگھی بان سے بات کر رہا تھا۔ وہ بگھی کی سواری سے چند منٹ قبل کا فوٹو تھا۔ وہ تصویریں نہیں بنواتا تھا مگر اتفاق سے اس تصویر میں نظر آ ہی گیا تھا۔
‏یہ جہان ہے نا۔ نتاشا جیسے خوش گوار حیرت سے بولی۔ لاؤنج میں موجود تمام خواتین رک کر اسے دیکھنے لگیں۔ وہ ذرا آگے ہو کر بیٹھی، مسکراتے ہوئے اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔
تم کیسے جانتی ہو؟ فاطمہ نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔
یہ ہمارے پاس آیا تھا ایک دفعہ، نائٹ اسٹے کیا تھا ہماری طرف۔ بہت سویٹ ہے۔ ہے نا؟ اس نے تائیدی انداز میں حیا کو دیکھا۔ حیا نے ایک نظر سب پہ ڈالی اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ کتنا سویٹ ہے مجھ سے بڑھ کر کون جانتا ہے۔
ہاں، اس نے بتایا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ تمہیں یاد رہا۔ پھپھو مسکرائی تھیں۔ روحیل سے وہ ان ٹچ تھیں مگر نتاشا سے نہیں سو انہیں اچھا لگا تھا۔
آف کورس آنٹی! اس نے بالخصوص بتایا تھا کہ وہ روحیل کی بہن کا شوہر ہے سو میں کیسے بھول سکتی تھی؟
سحرش نے عابدہ چچی کو دیکھا اور عابدہ چچی نے صائمہ تائی کو۔ چند متذبذب نگاہوں کے تبادلے ہوئے اور جیسے لمحے بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پہلی بار اسے نتاشا بہت اچھی لگی۔ ولید کی باتوں سے چھائی کلفت ذرا کم ہو گئی اور وہ انہیں باقی تصاویر دکھانے لگی۔ پھر جب لیپ ٹاپ رکھنے کمرے میں آئی تو ارم اس کے بیڈ پہ بیٹھی اس کے فون کو کان سے لگائے دبی دبی غصیلی آوااز میں بات کر رہی تھی۔
یہ لڑکی بھی نا۔ حیا نے بمشکل نا غصہ ضبط کیا۔ ارم اسے دیکھ کر تیزی سے الوداعی کلمات کہنے لگی۔
پلیز کال لاگ کلیئر مت کرنا۔ میرے اہم نمبر ضائع ہو جائیں گے۔ اس نے ابھی کال کاٹی ہی تھی کہ حیا نے فون کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔
ارم نے بغیر کسی شرمندگی کے فون اس کو واپس کر دیا اور کمرے سے نکل گئی۔
حیا نے کال لاگ چیک کیا۔ اسی نمبر پہ جو اس نے اپنے موبائل کے اندر ایک میسج میں محفوظ کر رکھا تھا ارم نے آدھا گھنٹہ بات کی تھی۔ تیس منٹ اور پچاس سیکنڈ چونکہ نمبر فون بک میں محفوظ نہیں تھا سو ارم ک نمبر ملاتے معلوم نہ ہو سکا کہ یہ نمبر اس فون میں پہلے سے درج ہے۔ وہ تاسف بھری گہری سانس لے کر رہ گئی۔ یہ لڑکی پتا نہیں کیا کر رہی تھی۔
عائشے گل کہتی تھی ”اچھی لڑکیاں چھپے دوست نہیں بناتیں۔“
کاش! وہ یہ بات ارم کو سمجھا سکتی۔ ‏
وہ واپس لاؤنج میں آئی تو باتوں کا دور ویسے ہی چل رہا تھا۔‏‎ ‎پھر صائمہ تائی نے ایک دم اسے مخاطب کیا۔
جہان کی واپسی کا کیا پروگرام ہے حیا؟ شاید یہ جتانا مقصود تھا کہ اسے جہان کی خبر تک نہیں۔ اس نے بہت ضبط سے گہری سانس لی۔ سبین پھپھو ابھی اٹھ کر کچن تک گئی تھیں۔
کل میں استنبول جا رہی ہوں نا، تو پھر دیکھتے ہیں کیا پروگرام ڈیسائڈ ہوتا ہے۔
تمہاری کب واپسی ہو گی؟ سحرش نے بہت سادگی سے پوچھا۔ اسے لگا، سب مل کر اس کی تحقیر کر رہے ہیں۔
کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جہان کے پروگرام پر منحصر ہے۔ اس نے بے پروائی سے شانے اچکائے۔ شاید ہفتہ لگ جائے، پھر ہم ساتھ میں واپس آئیں گے۔
اس کے لہجے کی مضبوطی پہ سب نے حتٰی کہ فاطمہ نے بھی اسے بے اختیار دیکھا۔ وہ نظر انداز کر کے ثنا کی طرف متوجہ ہو گئی، جو پیالی میں پانی بھر کر لائی تھی اور اپنے پرس سے سرخ، گلابی اور کاسنی نیل پالش کی شیشیاں نکال کر میز پر رکھ رہی تھی۔ اسے ماربل نیل پالش لگانی تھی اور وہ جانتی تھی کہ حیا سے بہتر کوئی یہ کام نہیں کر سکتا۔
لگا کر دے رہی ہوں، مگر وضو کرنے سے پہلے دھو لینا۔سب ابھی تک اسے دیکھ رہے تھے وہ جیسے بے نیاز سی ہو کر ہر نیل پالش کا ایک ایک قطرہ پانی میں ٹپکانے لگی۔ تینوں رنگ بلبلوں کی صورت میں پانی کی سطح پہ تیرنے لگے۔ اس کی امیدوں اور دعوں جیسے بلبلے۔ وہ جانتی تھی کہ وہ بہت بڑی بات کہہ گئی ہے۔ جہان ترکی میں نہیں تھا اور وہ اس کے ساتھ واپس نہیں آئے گا، مگر وہ ان کو مزید خود پہ ہنسنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔
اب انگوٹھا ڈالو۔ اس کے کہنے پہ ثنا نے انگوٹھا پانی میں ڈبو کر نکالا تو ناخن پہ تینوں رنگوں کا ماربل پرنٹ چھپ گیا تھا۔
واؤ! ثنا ستائش سے انگوٹھے کو ہر زاویے سے دیکھنے لگی۔ وہ قدرتی سا ڈیزائن تھا اور بہت خوبصورت تھا۔ قدرت کے ڈیزائن بھی کس قدر خوبصورت ہوتے ہیں ناں۔ انسان کی ڈیزائننگ سے زیادہ خوبصورت۔
* * * *
رات دیر سے وہ روحیل کے ساتھ تایا ابا کے طرف گئی تھی تا کہ جانے سے قبل ان سے مل لے اور طبعیت بھی پوچھ لے۔ تایا ابا کی پٹی بندھی تھی اور وہ قدرے بہتر لگ رہے تھے۔
تم بہن بھائیوں کا بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔ وہ بیڈ پہ تکیوں سےٹیک لگا کر نیم دراز تھے۔ پرسوں اگر اسے لگا تھا کہ وہ پہلے جیسے تایا فرقان بن گئے ہیں تو وہ غلط تھی گو کہ سرد مہری کی دیوار گر چکی تھی اور وہ نارمل انداز میں اس سے بات کر رہے تھے پھر بھی پہلے والی بات نہ تھی۔ اس نے اپنے حجاب سے ان کے زخم کو مرہم دیا تھا، یہ بات جیسے پرانی ہو گئی تھی۔ فطرت کبھی نہیں بدلتی۔
اور جہان کا کیا پروگرام ہے؟
جہان میرے ساتھ ہی واپس آئے گا۔ تایا کے جواب میں اس نے ذرا اونچی آواز میں کہتے ہوئے قریب بیٹھی صائمہ تائی کو پھر سے سنایا تھا۔ تائی کو جیسے یہ بات پسند نہیں آئی تھی، انہوں نے رخ پھیر لیا۔
واپسی پہ دونوں گھروں کا درمیانی دروازہ عبور کرتے ہوئے روحیل نے پوچھا۔ صائمہ تائی صبح بتا رہی تھیں کہ جہان تمہیں تمہارے برقعے کی ضد کی وجہ سے چھوڑ کر گیا ہے؟
حیا نے گہری سانس لیتے ہوئے درمیانی دروازہ لاک کیا اور پھر روحیل کی طرف مڑی۔
تمہارے ایف ایس سی پری انجینئرنگ میں کتنے مارکس آئے تھے؟
میرے مارکس؟ وہ حیران ہوا۔ نو سو اکانوے۔ کیوں؟
اور جب تمہارت نو سو اکانوے نمبر آئے تھے تو صائمہ تائی نے کہا تھا کہ اس فیڈرل بورڈ والوں سے پیپر گم ہو گئے تھے، سو انہوں نے Randomly مارکنگ کرتے ہوئے شیرینی کی طرح نمبر بانٹے ہیں اور اس بات کو خاندان والوں سے سن کر تم نے کہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک منٹ مجھے تمہارے الفاظ دہرانے دو۔ وہ اس شام میں پہلی مرتبہ مسکرائی۔
تم نے کہا تھا، صائمہ تائی اس دنیا کی سب سے جھوٹی خاتون ہیں۔
اوکے، اوکے! سمجھ گیا۔ روحیل ہنستے ہوئے سر جھٹک کر اس کے ساتھ پورچ کی طرف بڑھ گیا۔
چھ ماہ قبل اس نے ایک بھیانک خواب دیکھا تھا۔ اس واہیات ویڈیو کی سی ڈی گھر پہنچ گئی تھی۔ ارم لاؤنچ میں زمین پہ بیٹھی رو رہی تھی اور تایا، ابا، روحیل سب وہاں موجود تھے۔ تب اس نے سوچا تھا کہ روحیل تو امریکہ میں ہے، پھر ادھر کیسے آیا؟ مگر اب روحیل ادھر آ گیا تھا۔ اس بھیانک منظر کے سارے کردار یہاں موجود تھے۔ جب وہ ترکی سے واپس آئے گی تو کیا اس کا استقبال اس خواب جیسا ہو گا؟ اس سے آگے وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔
* * * *
استنبول ویسا ہی تھا جیسے وہ چھوڑ کر گئی تھی۔ ٹاقسم کے مجسمئہ آزادی کے پتھروں کا رنگ، ٹیولیپس کی مہک، استقلال جدیسی میں چلتے لوگ، سبانجی کی مصنوعی جھیل، ہر شے پہلے جیسی تھی۔ بس ڈی جے نہیں تھی اور جہان نہیں تھا، مگر ان دونوں کا عکس استنبول کے ہر گلی کوچے اور باسفورس کے نیلے جھاگ کے ہر بلبلے میں جھلملا رہا تھا۔ اس شہر نے اس کی زندگی بدل دی تھی اور اب اس بدلی ہوئی پوری زندگی میں وہ اس شہر کو بھول نہیں سکتی تھی۔
بیوک ادا کی بندرگاہ سے چند کوس دور وہ پتھروں کے ساحل پہ ایک بڑے پتھر پہ بیٹھی، ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی انگلی میں پڑے پلیٹنم بینڈ کو گھماتی سمندر کو دیکھ رہی تھی۔ پرسوں جب وہ استنبول آئی تھی، تب سے اب تک وہ جہان کا ہر نمبر ملا چکی تھی، مگر سب بند تھے۔ وائس میسج اس نے پھر بھی نہیں چھوڑا تھا۔ کیا کہے؟ الفاظ ہی ختم ہو جاتے تھے۔ کلیئرنس کے تمام معاملات اس کی توقع سے جلدی حل ہو گئے تھے۔ ویزا اس نے بڑھوا لیا تھا۔
پہلے اسے لگا کہ وہ دیر سے واپس آئی ہے مگر فلسطینی لڑکے اور اسرائیلی ٹالی بھی ابھی گئے نہیں تھے۔ ان کی آج رات کی فلائٹ تھی اور فریڈم فلوٹیلا نے جو دوستی توڑی تھی، وہ اب تک جڑ نہ پائی تھی۔ صبح ادالار آنے سے قبل اس نے معتصم کو پھر سے عبایا کے لیے شکریہ کہا تھا۔ وہ جواباً مسکرا کر رہ گیا تھا۔ بالآخر آج شام ان کا ترکی میں یادگار سمسٹر اختتام پذیر ہو جانا تھا۔ خود اس کا کیا پروگرام تھا۔ وہ ابھی کچھ فیصلہ نہیں کر پائی تھی۔ جہان لندن میں ہی تھا اور وہ ادھر نہیں جا سکتی تھی اور اس کو لیے بغیر وہ واپس جانا نہیں چاہتی تھی۔ کیا کرے؟
ایک لہر تیرتی ہوئی اس کے قریب آئی اور پھر واپس پلٹ گئی۔ وہ اپنے خیالوں سے چونکی۔ لہر اس کے قریب ایک چھوٹا سا سیپ ڈال گئی تھی۔
اس نے سیپ چننے عرصہ ہوا ترک کر دیے تھے۔ خالی سیپ کھولنے سے بڑی مایوسی کیا ہو گی بھلا؟ مگر نہ جانے کیوں وہ اٹھی اور ذرا آگے جا کر جھکتے ہوئے وہ سیپ اٹھا لیا۔ دائیں پیر پہ زور پڑنے سے اب بھی تکلیف ہوئی تھی۔
سیپ لے کر وہ واپس بڑے پتھر پہ آ بیٹھی اور دونوں ہاتھوں میں اسے الٹ پلٹ کر دیکھا۔ سفید، سرمئی سیپ جس پہ بھوری، گلابی رگیں سی بنی تھیں۔ سیپ گیلا تھا، اور ریت کے ذرات بھی اس پہ لگے تھے۔ اس نے پرس سے ٹشو نکالا، سیپ کو اچھی طرح صاف کیا، یہاں تک کہ ٹھنڈا، سخت خول چمکنے لگا۔ اور پھر وہاں سے اٹھ آئی۔ پکنک کے لیے دور دور تک ٹولیوں میں بیٹھے سیاحوں سے اسے چھری ملنے کی توقع تھی۔ مگر ایک خوانچہ فروش سامنے ہی کھڑا نظر آ گیا۔ اس کے پاس چاقو تھا۔
حیا نے اس سے چاقو لیا اور وہیں اس کی ریڑھی کے ساتھ کھڑے کھڑے سیپ کو چاقو سے کاٹا۔
اس نے طے کر لیا تھا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری سیپ ہو گا۔ اس میں سے یا تو سفید موتی نکلے گا یا پھر نہیں نکلے گا۔ مگر ان دونوں ممکنات میں سے جو بھی ہو، وہ دوبارہ کبھی سیپ نہیں چنے گی۔
اس نے کٹے ہوئے سیپ کے دونوں باہم ملے ٹکڑوں کو آہستہ سے الگ کرتے ہوئے کھولا۔ دھیرے دھیرے دونوں ٹکڑے الگ ہوتے گئے۔
وہ یک ٹک سی کھلے سیپ کو دیکھ رہی تھی۔
تیسرا امکان بھی ہو سکتا تھا۔ یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔
* * * *
قریباً آدھے گھنٹے بعد وہ بہارے گل کے سامنے، حلیمہ آنٹی کے فرشی نشست والے کمرے میں بیٹھی تھی۔
تم کہاں چلی گئی تھیں حیا! سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ بہت اداسی سے کہہ رہی تھی۔ وہ دونوں آمنے سامنے زمین پہ بیٹھی تھیں۔ بہارے نے سبز فراک کے اوپر گھنگھریالے بھورے بالوں کو ہمیشہ کی طرح ہم رنگ پونی میں باندھ رکھا تھا۔ مگر اس کا چہرہ ہمیشہ جیسا نہ تھا۔
تو تم نے اپنا پاسپورٹ کیوں جلایا؟ اس نے جب سے حلیمہ آنٹی سے یہ بات سنی تھی، وہ اچنبھے کا شکار ہو گئی تھی۔
تا کہ وہ نیا پاسپورٹ دینے کے لیے میرے پاس آ جاۓ۔ بہارے نے کہتے ہوۓ سر جھکا لیا۔ حیا نے الجھن سے اسے دیکھا۔ بہارے بہت سمجھدار، بہت ذہین بچی تھی، مگر اس طرح کی بات کی امید اس نے بہارے سے نہیں کی تھی۔
تمہیں کیوں لگا کہ وہ اس طرح واپس آۓ گا۔ وہ اس کے جھکے سر کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔ بہارے خاموش رہی۔
بہارے گل! تمہیں کس نے کہا کہ ایسا کرنے سے وہ واپس آ جاۓ گا۔ اب کے اس نے سر اٹھایا اس کی بھوری سبز آنکھوں میں بے پناہ اداسی تھی۔
سفیر نے کہا تھا کہ ایسا کرو گی تو وہ آ جاۓ گا۔
اچھا! وہ اب کچھ کچھ سمجھنے لگی تھی۔ تو سفیر بے کیوں چاہتے ہیں کہ وہ ادھر آ جاۓ جب کہ ادھر آنا اس کے لیے ٹھیک نہیں ہے؟ بہارے ٹکر ٹکر اس کا دیکھنے لگی۔ حیا نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔ یہ سفیر کوئی گڑبڑ کر رہا ہے۔
کیا تمہیں پتا ہے کہ عبدالرحمن کدھر ہے اور۔۔۔۔۔۔ وہ ہچکچائی کیا تمہیں پتہ ہے وہ تمہارا۔
ہاں مجھے سب پتہ ہے اور اب اس بات کا ذکر مت کرو۔ اس نے جلدی سے بہارے کو چپ کرایا۔ دروازہ کھلا تھا۔ حلیمہ آنٹی کچن تک ہی گئی تھیں۔
تم نے کہا تھا ہم مل کر اسے ڈھونڈیں گے۔ بہارے نے بے چینی سے اسے کچھ یاد دلایا۔
وہ ترکی میں نہیں ہے اور ہم اسے نہیں ڈھونڈ سکتے۔ میرے ابا نے اجازت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر آہٹ ہوئی تو وہ جلدی سے خاموش ہو گئی۔ حلیمہ آنٹی دوائی کی شیشی پکڑے اندر آ رہی تھیں۔ ہمیشہ کی طرح دوپٹہ اوڑھے مسکراتا حلیم چہرہ۔ ان کو یقینا خود بھی نہیں پتہ تھا کہ ان کا بیٹا کیا کرتا پھر رہا ہے۔ کچھ تو تھا جو غلط تھا۔
مجھے نہیں کھانی دوائی۔ بہارے نے برا سا منہ بنایا تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گئیں۔
اس کو کل سے بخار ہے پلیز اسے دوائی پلا دو حیا! میں تب تک کچن دیکھ لوں۔ انہوں نے سیرپ اس کی طرف بڑھایا تو اس نے جلدی سے پکڑ لیا۔
میں پلا دیتی ہوں۔
تھینک یو بیٹا۔ میں تب تک کھانا نکالتی ہوں۔ تم کھانا کھا کر جانا۔ مسکرا کر کہتی وہ باہر نکل گئیں۔ حیا نے گردن ذرا سی اونچی کر کے دروازے کو دیکھا۔ جب وہ اوجھل ہو گئی تو وہ بہارے کی طرف مڑی۔
کیا تم نے انہیں بتایا کہ یہ سب کرنے کے لیے تمہیں سفیر نے کہا تھا۔ ساتھ ہی اس نے چمچ میں بوتل سے جامنی سیرپ بھرا۔ بہارے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے منہ کھولا۔ اس نے چمچ اس کے منہ میں رکھا۔
اللہ اللہ! میرا منہ کڑوا ہو گیا۔ سیرپ پینے کے بعد وہ منہ کے زاویے بگاڑے شکایت کرنے لگی تھی۔
اللہ تمہیں سمجھے، اللہ تمہیں سمجھے! وہ جلدی جلدی پانی کا گلاس پیتی برا سا منہ بناۓ کہہ رہی تھی۔ پانی پی کر بھی اس کے منہ کی کڑواہٹ ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ جیسے اپنی اصل اداسی کا چڑچڑا پن اس سیرپ پہ نکال رہی تھی۔
اتنا بھی کڑوا نہیں تھا۔ ٹھہرو میرے پاس کینڈی یا چاکلیٹ ہو گی۔ اس نے قالین پر رکھا اپنا پرس کھولا اور اندر ہاتھ سے ٹٹولا۔ صبح پرس میں چیزیں ڈالتے ہوۓ اس نے دیکھا تھا کہ کینڈی اندر رکھی تھی۔ ایک گلابی ریپر والی کینڈی اور ایک خالی ریپر۔ اس نے دونوں چیزیں باہر نکالی اور کینڈی بہارے کو دی۔
شکریہ! بہارے نے جلدی سے کینڈی کھول کر منہ میں رکھی۔ حیا نے خالی ریپر کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اسے اس ریپر کے ساتھ ڈاکٹر ابراہیم کی باتیں بھی یاد آئی تھیں۔ احزاب کی پہیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہارے! تمہیں یاد ہے، عائشے نے کہا تھا کہ حجاب لینا احزاب کی جنگ جیسا ہے۔ ساری کڑواہٹ بھلاۓ کینڈی چوستی بہارے نے اثبات میں سر ہلایا۔
پتا ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس میں کچھ مسنگ ہے۔ کیا عائشے کچھ بتانا بھول گئی تھی؟ بہارے کی ہلتے لب رکے، آنکھیں میں خوشگوار سی حیرت ابھری۔
ہاں، مجھے پتا ہے۔ عائشے نے آخر میں بتایا ہی نہیں تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کینڈی والے منہ کے ساتھ جوش سے بولتی بولتی ایک دم رکی۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی سی اتر آئی تھی۔ تمہیں بگلوں نے بتایا کیا؟
بگلے!! حیا نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔
ہاں، ہاں۔ بہارے جوش سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ جب سمندر کنارے عائشے یہ سب بتا رہی تھی تو میں نے دل ہی دل میں بگلوں کو یہ بات بتائی تھی۔
مرمرا کے بگلے اور سلطان احمت مسجد کے کبوتر دل کی بات سن لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر تم عائشے کو نہ بتانا کہ میں نے یہ کہا ہے، وہ آگے سے کہتی ہے، دل کی بات اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں سن سکتا۔ حیا بے اختیار ہنس پڑی۔
وہ ٹھیک کہتی ہے۔ مجھے یہ بات میرے ٹیچر نے کہی تھی۔ بگلے اور کبوتر کیسے کسی کے دل کی بات سن سکتے ہیں بہارے!
بہارے کو اس کا یوں کہنا جیسے بہت برا لگا۔
کیوں؟ کیوں وہ ماہ سن کے دل کی بات تو سنتے تھا نا، اسی لیے وہ کبوتر بن گئی تھی۔ تو میرے دل کی بات کیوں نہیں سن سکتے۔
ماہ سن کون؟ وہ ذرا سا چونکی۔ اسے لگا اس نے یہ بات پہلے بھی کہیں سن سنی تھی۔ ماہ سن جو کبوتر بن گئی تھی۔
کیا تم نے ماہ سن کا واقعہ نہیں سن رکھا؟ بہارے کو اس کی لاعلمی نے حیران کیا۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم سناؤ۔
اوکے! بہارے نے کڑچ کڑچ کی آواز کی ساتھ جلدی جلدی کینڈی چبائی اور کسی ماہر داستان گو کی طرح سنانے لگی۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کپادوکیہ میں ایک نواب کی بیٹی رہتی تھی، اس کا نام ماہ سن تھا۔ ایک دن ماہ سن نے دیکھا کہ اس کے گھر کے باہر ایک لڑکا کچھ چیزیں بیچ رہا ہے۔ اس کے پاس کڑھائی کیے ہوئے رومال، قالین اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک منٹ! اتنی لمبی کہانی میں نہیں سن سکتی۔ صرف ہائی لائٹس بتاؤ! حیا نے دونوں ہاتھ اٹھا کر بہارے کو روکا۔ وہ جو بہت شوق سے سنا رہی تھی، خفا سی ہو گئی۔
بس اسے وہ لڑکا پسند آ گیا مگر نواب نے ان دونوں کو علیحدہ کر دیا اور ماہ سن کو قلعے میں بند کر دیا۔ وہاں کھڑکی پہ روز کبوتر آ کر بیٹھ جاتے تھے۔ ایک دن انہوں نے ماہ سن کے دل کی بات سن لی۔ پھر وہ کبوتر بن گئی وہ روز صبح کبوتر بن کر اڑ جاتی اور شام میں واپس آ کر پھر سے لڑکی بن جاتی۔ نواب کو پتا چل گیا تو اس نے زہریلے دانے رکھ دیے، ماہ سن نے وہ کھا لیے اور وہ مر گئی اور پھر اس کا باپ بھی پتا نہیں کیسے مر گیا۔
آخری بات بہارے نے ہاتھ جھلا کر بہت ناراضی کے عالم میں کہی تھی مگر حیا سن نہیں رہی تھی۔ وہ ہاتھ میں پکڑے ریپر کو دیکھ رہی تھی۔
جس رات جہان گیا تھا اس سے قبل آخری دفعہ وہ اس سے اٹالین ریسٹورنٹ میں ٹھیک سے بات کر پائی تھی اور جب اس نے جہان سے واپسی کا پوچھا تھا تو اس نے کہا تھا۔
”میرا دل چاہتا ہے میں ماہ سن کی طرح کبوتر بن کر کسی غار میں چھپ جاؤں“۔ اس نے شکن زدہ ریپر پہ انگلی پھیری۔ اس پہ بنے غار کو دیکھ کر اسے بہت کچھ یاد آیا تھا۔ اس نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
کپادوکیہ- بہارے الجھ کر اسے دیکھ رہی تھی۔
مجھے کپادوکیہ جانا ہے۔ وہ کپادوکیہ میں ہے۔ مجھے اسے ڈھونڈنا ہے۔ اس نے پرس سے موبائل نکالا اور تیزی سے فلائٹ انکوائری ڈائل کرنے لگی۔
کیا وہ کپادوکیہ میں ہے؟ کیا تم اب ادھر جاؤ گی؟ بہارے بہت پرجوش ہو گئی تھی۔ حیا اک دم ٹھہر سی گئی۔ اسے اپنی ایکسائٹمنٹ میں بہارے کے سامنے کپادوکیہ کا ذکر نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اگر بہارے نے کسی کو بتا دیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اف، اسے تو راز بھی رکھنا نہیں آیا تھا۔ اس نے خود کو کوسا اور فون بند کر دیا۔
کیا میں بھی تمہارے ساتھ کپادوکیہ جا سکتی ہوں؟ بتاؤ! بہارے نے اس کا گھٹنا ہلا کر پوچھا۔
شش! اس نے ہونٹوں پہ انگلی رکھی اور کھلے دروازے کی طرف دیکھا۔ وہ اب یو ٹرن نہیں لے سکتی تھی۔ وہ بہارے کو بتانے کی غلطی کر چکی تھی۔
پلیز مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو۔ پلیز حیا! بہارے اب دبی آواز میں منت کرنے لگی تھی۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے اپنی آنکھوں میں زمانے بھر کی اداسی و بے بسی سمو لی تھی۔ پلیز میں وعدہ کرتی ہوں میں اچھی لڑکی بن کر رہوں گی۔ تمہیں تنگ بھی نہیں کروں گی۔
میں تمہیں کیسے لے جا سکتی ہوں؟ حیا نے بےچینی اور تذبذب سے کھلے دروازے کو دیکھا۔ حلیمہ آنٹی کسی بھی وقت آ سکتی تھیں۔
پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا پلیز! بہارے کی اداس آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
اس کا دل پسیجنے لگا۔ کیا بہارے کو ساتھ لے جانا اتنا مشکل تھا؟ اور اگر وہ اسے یہیں چھوڑ گئی اور اس نے سفیر یا کسی اور کے سامنے کپادوکیہ کا ذکر کر دیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جو بات جہان نے صرف اسے بتائی تھی اس کی ہر جگہ تشہیر ہو اس سے بہتر تھا کہ وہ اس لڑکی کو اپنے ساتھ لے جائے۔ کیا وہ درست نہج پہ سوچ رہی تھی؟
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہارے! کھانا کھا لو۔
حلیمہ آنٹی کھانے کے لئے آوزیں دینے لگیں تو بہارے نے جلدی جلدی گیلی آنکھیں رگڑ ڈالیں۔ حیا کچھ کہے بنا اٹھ کھڑی ہوئی۔
کھانے میں پلاؤ کے ساتھ مچھلی بنی تھی۔ وہ ذرا بے توجہی سے کھاتی بہارے کے بارے میں سوچے جا رہی تھی۔ سفیر اس بچی کو اسی گھر میں روکے رکھنا چاہتا تھا ایسا کر کے کہیں وہ جہان کو بلیک میل تو نہیں کر رہا تھا؟ اگر بہارے کسی مصیبت میں ہوئی تو جہان کو واپس آنا پڑے گا۔ وہ بہارے کے لئے ضرور آئے گا۔ اس کو جیسے جھرجھری سی آئی۔
عثمان انکل اور سفیر کہاں ہیں آنٹی؟ اس نے بظاہر سرسری سے انداز میں پوچھا۔
ہوٹل پہ ہیں دونوں۔ عثمان شاید آنے والے ہوں، سفیر ذرا لیٹ آتا ہے۔ آنٹی نے مسکرا کر بتایا تو حیا نے سر ہلا دیا۔ سفیر اب گھر پہ نہیں تھا ایسے میں وہ بہارے کو لے کر وہاں سے جا سکتی تھی۔ یہی ٹھیک تھا۔ بھلے اسے کوئی جلدی میں فیصلہ کرنے والی کہے مگر وہ ایسی ہی تھی۔ اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ بہارے کو ساتھ لے جائے گی۔
حلیمہ آنٹی! میں چند دن کے لئے ازمیر جا رہی ہوں۔ کیا بہارے میرے ساتھ چل سکتی ہے؟
بہارے نے تیزی سے گردن اٹھائی۔ اس کے چہرے پہ چمک در آئی تھی۔
بہارے؟ پتا نہیں، عائشے یا اس کی دادی سے پوچھ لو، اگر انہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو۔
حلیمہ آنٹی نے جیسے راضی برضا انداز میں شانے اچکائے۔ انہیں لگا تھا کہ بہارے اس بات سے خوش ہے سو انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
عائشے کا نمبر بہارے سے لے کر اس سے اجازت لینا ایک رسمی کاروائی تھی۔ حلیمہ آنٹی نے بتایا تھا کہ بہارے کا پاسپورٹ عبدالرحمن ایک ہفتے تک بھجوا دے گا۔ وہ کدھر تھا وہ بھی نہیں جانتی تھیں سو اس ایک ہفتے تک بہارے اس کے ساتھ اگر رہ لیتی ہے تو کسی کو اس بات سے کوئی مسئلہ نہ تھا۔
بہارے نے جلدی جلدی اپنا چھوٹا سا بیگ تیار کر لیا اور گلابی پرس کندھے سے ٹکائے بالکل تیار ہو کر خوشی خوشی اس کے ساتھ آن کھڑی ہوئی۔ چند منٹ پہلے تک لٹکی ہوئی صورت کا اب شائبہ تک نہ تھا۔ چھوٹی سی اداکارہ۔
حلیمہ آنٹی سے رخصت ہو کر وہ پہلی فیری لے کر استنبول واپس آئی۔ اپنے ڈورم میں آ کر اس نے ایک چھوٹے بیگ میں بہارے کا سامان ڈالا اور پھر اپنے چند کپڑے اور ضروری چیزیں رکھیں۔ کم سے کم سامان بہتر تھا۔
بہارے کا نیکلس وہ گزشتہ روز خرید چکی تھی مگر اس نے ابھی دینا مناسب نہ سمجھا۔ اسے کسی خاص موقع کے لئے سنبھال کر وہ ابھی صرف اور صرف جہان کے بارے میں سوچنا چاہتی تھی۔
حیا! ہم اسے وہاں کیسے ڈھونڈیں گے؟ اوپر اس کے بنک پہ بیٹھی اسے پیکنگ کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
میں ذرا کچھ فرینڈز سے مل آتی ہوں۔ وہ آج جا رہے ہیں۔ وہ باہر چلی آئی اور کمرا مقفل کر دیا۔
معتصم، حسین اور مومن گورسل اسٹاپ پہ کھڑے تھے۔ ٹالی بھی ان سے ذرا فاصلے پہ کھڑی تھی۔ سب کے بیگز ان کے پاس تھے۔ لطیف، چیری اور سارہ یہ لوگ کب کے جا چکے تھے۔
کی حال ہے حیا؟ معتصم نے پکارا۔
حالی بخیر، کیا تم لوگ ابھی نکل رہے ہو؟ فلسطینیوں کے قریب پہنچ کر اس نے ان کو مخاطب کیا تو آواز میں نامعلوم سی اداسی در آئی۔
ہوں۔ حسین نے ڈھیلے ڈھیلے انداز میں سر ہلا دیا۔ زندگی میں ہر چیز کا اختتام ہوتا ہے اور اب جبکہ اس ”سفر“ کا اختتام پہنچ رہا تھا۔ ایک عجیب سی کسک دل میں اٹھ رہی تھی۔
کاش! یہ سفر کبھی ختم نا ہوتا کاش! ہم سب ہمیشہ ادھر رہتے۔
اور ایک ساتھ پڑتے رہتے۔ وہ بہت سی نمی اندر اتارتے ہوئے بولی۔ مفرب کے وقت کی اداسی ہر سو چھائی ہوئی تھی۔ بس اسٹاپ اور سبانجی کا سبزہ زار ویران سا لگ رہا تھا۔
اگر ایسا ہوتا تو اس جگہ کا چارم ہی ختم ہو جاتا اس لیے یہی بہتر ہے کہ زندگی کے اس فیز کا اختتام ہو جائے تاکہ ہم ساری عمر اسے یاد رکھیں۔ معتصم ٹھیک کہہ رہا تھا۔
میں تم لوگوں کو یاد رکھوں گی۔ تم سب بہت اچھے ہو۔
تھینکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاں! کیا تمہیں اپنے پزل باکس سے کوئی کارآمد چیز ملی یا وہ سب مذاق تھا؟ معتصم کو اچانک یاد آیا۔
ہاں! بہت اچھی چیز ملی مجھے اس سے۔ ایسی اچھی چیز جو میں نے پا کر کھو دی، مگر اسے دوبارہ ڈھونڈنے کی کوشش کرو گی۔ خیر! اپنا خیال رکھنا۔
اللہ حافظ کہہ کر ان کے پاس سے ہٹ کر وہ ٹالی کی طرف آئی۔ بے چاری ٹالی۔ کتنی بے ضرر سی تھی وہ۔ ذرا سا چھیڑ ہی دیتی تھی اور وہ خوامخواہ اتنی ٹینشن لے لیتی۔ اہل مکہ تو اہل مکہ ہوتے ہیں۔ ان سے کیا شکوہ اصل دکھ تو بنو قریظہ دیتے ہیں۔ ہم سارا وقت ترکی، اٹلی، اور فرانس کی حکومتوں کو حجاب پہ پابندی لگانے کے باعث برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ اگر اس سے آدھی توجہ اپنے خاندان کے ”بڑوں“ کی طرف کر لیں تو کیا ہی اچھا ہو۔
اس کے پکارنے پہ ٹالی، جو رخ پھیرے کھڑی تھی، چونک کر مڑی، پھر اسے دیکھ کر مسکرا دی۔
اوہ حیا! آج تمہارے بال کس رنگ کے ہیں؟
ہمیشہ کی طرح خوبصورت ہیں۔ رنگ جو بھی ہو۔ وہ بہت خشگوار اور پر اعتماد انداز میں جواب دیتی اس سے گلے ملی۔
میں تمہیں مس کروں گی۔
میں بھی۔ وہ پھر وہاں اس وقت تک کھڑی رہی جب تک وہ لوگ گورسل میں سوار نہ ہو گئے۔ جب بس کیمپس کی حدود سے دور چلی گئی تو وہ واپس ڈورم میں آئی۔ بہارے منہ بسورے بیٹھی تھی۔
حیا! ہم عبدالرحمن کو کپادوکیہ میں کیسے ڈھونڈیں گے؟
میں ذرا فلائٹ بک کروا لوں۔ اس نے ان سنی کرتے ہوئے وہیں کمرے میں ٹہلتے ہوئے موبائل پہ نمبر ملایا۔ اتاترک ایئرپورٹ سے ان کو قیصری کے ایئرپورٹ ”قیصری ہوالانی“ کی صبح کی فلائٹ ملی تھی۔
ہوالانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگ ایئرپورٹ کو ہوالانی کہتے ہو اور ہم ہوائی اڈہ۔ اردو کے الفاظ ترک سے بھی نکلے ہیں اس لیے۔ فون بند کرتے ہوئے وہ جیسے محفوظ ہو کر بولی۔ بہارے بہت غور سے اس کی بات سن رہی تھی۔
لیکن اگر ڈی جے ہوتی تو کہتی۔ ترک اردو سے نکلی ہو گی، مگر ہماری اردو اوریجنل ہے بالکل۔ وہ دھیرے سے ہنسی اور سر جھٹکا۔ وہ ”میڈ ان پاکستان“ پہ کوئی کمپرومائز نہیں کرتی تھی۔اس کا لہجہ کہیں کھو سا گیا۔
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہی جو مر گئی تھی نا؟ بہارے نے بہت سمجھداری سے پوچھا۔ وہ اپنا سوال بھول چکی تھی۔
ہوں! اور اب وہ کبھی واپس نہیں آ سکتی۔ بعض لوگ اتنی دور چلے جاتے ہیں کہ ان سے دوبارہ ملنے کے لیے مرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے چہرے پہ تاریک سائے آن ٹھہرے۔ وہ کھڑکی کے پاس آئی اور سلائیڈ کھولی۔باہر تاریکی میں ڈوبتے سبانجی کے وسیع و عریض میدان نظر ا ٓرہے تھے۔
تمہیں پتا ہے، وہ روز صبح اس جگہ کھڑے ہو کر کیا کہا کہتی تھی؟
کیا؟
وہ کہتی تھی گڈمار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفاظ لبوں پہ دم توڑ گئے۔ جب پچھلی دفعہ وہ پاکستان سے آئی تھی تب بھی ڈی جے کا مقولہ دہرانے سے قبل الفاظ اسی طرح دم توڑ گئے تھے۔ مگر تب وجہ شدت غم تھی اور آج۔۔۔۔۔ وجہ سامنے کھڑی تھی۔ بلکہ کھڑا تھا۔
سفیر! سفیر عثمان! اس نے جلدی سے سلائیڈ بند کی اور پردہ برابر کیا۔ بہارے اسپرنگ کی طرح بنک سے اچھل کر نیچے اتری۔
یہ یہاں کیوں آیا ہے؟ وہ بے یقینی سے دہراتی پردے کی درز سے دیکھنے لگی۔ بہارے بھی اس کے ساتھ کھڑی ایڑیاں اونچی کر کے کھڑکی سے جھانکنے لگی۔
دوور سبزہ زار پہ سفیر کھڑا ایک اسٹوڈنٹ کو روک کر جیسے کچھ پوچھ رہا تھا۔ وہ جوابا نفی میں سر ہلا رہا تھا۔
یہ ہمارے بارے میں پوچھ رہا ہے؟ خطرے کی گھنٹی کہیں بجتی سنائی دے رہی تھی۔ بہارے نے پریشانی سے اسے دیکھا۔
کیا وہ مجھے لے جائے گا؟
نہیں! تم میرے ساتھ رہو گی۔ میں کچھ کرتی ہوں۔ اس نے موبائل نکالا اور جلدی سے ہالے کا نمبر ملایا۔ ہر مشکل وقت پہ ہالے ہی اس کے کام آتی تھی۔
سفیر برا نہیں ہے۔ وہ میرا اور عائشے کا بہت خیال رکھا کرتا تھا۔ وہ بالکل ہمارے بھائی جیسا ہے۔
بھائی صرف وہی ہوتا ہے، جسے اللہ نے آپ کا بھائی بنایا ہو بہارے اور جسے اللہ آپ کا بھائی نہ بنائے۔ وہ کبھی بھائی نہیں ہو سکتا۔
بس! تم اور عائشے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگ بہت سادہ ہو۔ نمبر ملا کر اس نے فون کان سے لگایا۔
ہالے لائبریری میں تھی۔ اس کے کہنے کے مطابق وہ فورا باہر آئی اور سیدھی سفیر کی طرف گئی۔ وہ اسے پہچان گیا تھا۔ ہوٹل گرینڈ پہ وہ اس سے مل چکا تھا۔ سفیر نے اس سے پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹ کا پوچھا تو ہالے نے بتایا کہ وہ تو دوپہر کی ٹرین سے ازمیر چلی گئی تھی۔ کس اسٹیشن سے، یہ ہالے نہیں جانتی تھی، لیکن سفیر نے اسے اپنا نمبر دے دیا کہ اگر حیا کے بارے میں کچھ معلوم ہو تو اسے ضرور آگاہ کرے۔ ہالے نے اس کی پوری تسلی و تشفی کروا کر فون نمبر رکھ لیا۔
اور وہ ایک بچی کا بھی پوچھ رہا تھا جو غالبا یہی ہے۔ ڈونٹ ٹیل می حیا! کہ تم نے اسے اغوا کیا ہے۔ سفیر کے جانے کی تسلی کر لینے کے بعد اب ہالے ان کے ڈورم میں بیٹھی خوش ہوتے ہوئے اپنی کارگزاری بتا رہی تھی۔
میں اناطولیہ کی بہارے گل ہوں۔ مجھے کوئی اغوا نہیں کر سکتا۔ بہارے باقاعدہ برا مان گئی۔
پھر ہالے! کل تمہارا خوش قسمت دن ہو گا یا بد قسمت دن؟ اس نے بہارے کو مکمل طور پہ نظر انداز کر کے اپنی پیکنگ سمیٹتے ہوئے پوچھا۔ صبح وہ گورسل کی بجائے ہالے کی کار میں ائیر پورٹ پہ جانا چاہتی تھی۔ کوئی خبر نہیں کہ سفیر صبح پھر واپس آ جائے۔
خوش قسمت دن۔ ہالے نے ہمیشہ کی طرح پر خلوص انداز میں بتایا۔ ترک اور ان کی مہمان نوازی۔
وہ واپس جا کر ان سب کو بہت مس کرے گی وہ جانتی تھی۔
صبح منہ اندھیرے ہالے انہیں لینے آ گئی۔ اس نے احتیاطا ہالے کو بتایا تھا کہ وہ انقرہ جا رہے ہیں اور یہ کہ وہ لڑکا بہارے کا ہمسایہ ہے اور اسے اس سے کچھ تحفظات ہیں۔ جب ہالے چلی گئی تو اس نے کپادوکیہ کے لیے دو ٹکٹس خرید لیے۔
حیا! بہارے نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے اس کے عبایا کی آستین ذرا کھینچ کر اسے متوجہ کرنا چاہا۔ ہم اسے کپادوکیہ میں کیسے ڈھونڈیں گے؟ صبح سے وہ کوئی تیسری مرتبہ یہ سوال دوہرا رہی تھی۔
تیز چلو بہارے! ہمیں جلدی پہنچنا ہے۔
حیا! ٹیل می ناؤ۔ بہارے کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔ وہ ایک دم زور سے چیخی۔ حیا نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ وہ بہت غصے اور خفگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اطراف میں لوگ بھی مڑ مڑ کر دیکھنے لگے۔
سوری، سوری! وہ ہاتھ اٹھا کر ان ٹھٹھک کر دیکھتے لوگوں سے معذرت کرتی واپس بہارے کے پاس آئی۔ اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھی اور گہرا سانس لے کر اسے دیکھا۔
تم نے کبھی سمندر سے مچھلیاں پکڑی ہیں؟
بہارے کی آنکھوں میں الجھن در آئی، مگر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
جب اتنے بڑے سمندر سے مچھلی پکڑنی ہو تو کیا کرتے ہیں بہارے! فش راڈ کی کنڈی پہ چھوٹی مچھلی لگاتے ہیں اور راڈ پانی میں ڈال کر کنارے پر بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں۔ بڑی مچھلی خود بخود تیر کر ہمارے پاس آ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے نا؟ ہم کپادوپہ مچھلیاں پکڑنے جا رہے ہیں حیا؟ بہارے کو بے پناہ حیرت ہوئی۔
نہیں، میری بہن! اس نے گہری سانس لی۔ کیسے سمجھاۓ؟ وہیں بیٹھے بیٹھے پرس کھول کر اس نے وہ ڈبی نکالی، جسے وہ سبانجی کے ڈورم میں رکھ کر بھول گئی تھی۔
اس ڈبی میں ایک ٹریسر ہے جو عبدالرحمن کا ہے۔ اس ٹریسر کا ریسیور اس کے پاس ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب میں اس کے قریب ہوتی ہوں چند میل کے فاصلے پہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کو اپنے ریسیور پہ پیغام مل جاتا ہے کہ میں اس شہر میں ہوں۔
کیا ہمیں بھی پتہ چل جاۓ گا کہ وہ کدھر ہے؟
نہیں بہارے! ہمیں اس کو نہیں ڈھونڈنا ہے۔ اسے ہمیں ڈھونڈنا ہے جیسے ہی اسے پتا چلے گا کہ میں اس کے قریب ہوں، وہ مجھے کال کرے گا اور میں پہلی دفعہ میجر احمد کی کال کا انتظار کروں گی۔ اس نے آخری فقرہ دل میں کہا تھا اور کھڑی ہو گئی۔
بہارے نے نیم فہمی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ اس کا پھر سے ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ شاید ٹھیک سے سمجھ نہیں پائی تھی۔
* * * *
آج سے لاکھوں برس قبل اناطولیہ کے پہاڑوں بشمول حسن داغ اور ارجیئس داغ (داغ ترک میں پہاڑ کو کہتے ہیں) کا لاوا پھٹا تھا اور یوں سیال مادہ ان پہاڑوں کی چوٹیوں سے بہتا اردگرد کے میدانوں میں دور دور تک پھیلتا گیا۔ کئی صدیاں اس لاوے کو سوکھنے میں لگیں اور قریبا تیس لاکھ برس قبل یہ لاوا مکمل طور پر خشک تو ہو گیا لیکن بارش اور کٹاؤ کے بعد یہ اپنے پیچھے زمین کے چہرے پر ایک عجیب و غریب علاقہ چھوڑ گیا۔ چاند کی سر زمین سے مشابہت رکھنے والے میدان اور وادیاں جہاں حیرت انگیز نقش و نگار بنے رہ گئے۔ جیسے ہاتھ سے کسی ماہر مصور نے بنائے ہوں۔
کپادوکیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوبصورت گھوڑوں کی سر زمین۔
کپادوکیہ کا پہلا نام کس نے رکھا اس بارے میں کئی روایات ہیں البتہ اس کا موجودہ نام کپادوکیہ کے بارے میں عام راۓ یہ ہی ہے کہ یہ فارسی کے ”کت پتوکہ“ سے نکلا ہے یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (خوبصورت گھوڑوں) کی سر زمین۔
اس خشکی اور سبزے کا امتزاج لیے علاقے کی مٹی کی اوپری سطح خاصی نرم ہے جس کے باعث گئے وقتوں کی عیسائی تہذیبوں نے یہاں پہاڑوں کے اندر غار نما بڑے بڑے گھر اور چرچ بنا لیے تھے۔ ان کی کھڑکیاں یوں ہوتیں کہ دور سے لگتا جیسے کسی پہاڑی کی بہت سی آنکھیں ہوں۔ زمین کے اندر بنے سینکڑوں شہر آج بھی یہاں موجود تھے۔
صدیوں پرانا غاروں سے بنا ہوا خوبصورت کپادوکیہ۔
ماہ سن کے کبوتروں کی سر زمین۔
* * * *
کپادوکیہ ترکی کے صوبے ”نوشہر“ میں واقع ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے شہر تھے۔ جیسے عرگپ اور گوریمے وغیرہ۔ جہاں گھر، عبادت گاہیں، ہوٹل، سب غاروں کی صورت بنے تھے۔ عرگپ سے گھنٹہ بھر کی ڈرائیو پہ قیصری کا ائیرپورٹ قیصری ہوالانی تھا جہاں اس کا جہاز اس صبح اترا تھا۔
ہم کہاں رہیں گے حیا؟ بہارے اس کا ہاتھ پکڑے ائیر پورٹ کے لاؤنج میں اس کے ہمراہ چلتے ہوۓ اس سے بار بار پوچھ رہی تھی۔
کسی ہوٹل میں رہیں گے نا، پہلے کچھ کھا لیتے ہیں۔
اور اگر عبدالرحمن نے فون ہی بند رکھا ہوا تو؟
اس نقطے پر پہنچ کر اس کا اپنا دل ڈوب کر ابھرا۔ یہ وہ آخری بات تھی جو وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔
اس کے سارے نمبر بند ہیں۔ مگر اس نے کوئی دوسرا نمبر آن کر رکھا ہو گا اور یقینا جی پی ایس ریسیور بھی آن ہو گا۔ وہ ضرور کال کرے گا۔ اس نے بہارے سے زیادہ خود کو تسلی دی۔ ابا اور پھپھو کو بھی بتا دیا تھا کہ وہ اپنی دوست کے ساتھ کپادوکیہ جا رہی ہے۔ اگر اس نے پھپھو سے رابطہ کیا تو جان لے گا ورنہ۔۔۔۔ ورنہ نہیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: