Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 62

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 62

–**–**–

وہ دونوں ایئرپورٹ کے کیفے ٹیریا میں آئیں اور ایک میز کے قریب اپنا سامان رکھ کر کرسیاں کیھنچیں۔ آس پاس کم ہی لوگ تھے۔ کاؤنٹر ساتھ ہی تھا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استقبالیہ پر موجود لڑکے کے ساتھ دو تین نوجوان لڑکے کھڑے ہنستے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ ترکی میں لڑکیوں کا تنہا سفر کرنا بہت عام سی بات تھی مگر لڑکے تو لڑکے ہوتے ہیں۔ چند ہی لمحے گزرے کہ وہ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ مسکراتے ہوئے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے۔ اگر اسے جہان کو نہ ڈھونڈنا ہوتا تو وہ کبھی ادھر نہ آتی۔ جب بار بار ان کا گردن موڑنا برداشت نہیں ہوا اور بہارے بھی ناگواری سے ناک سکوڑنے لگی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
آپ آرٓڈر نہیں کرے گی؟کاؤنٹر والے لڑکے نے پہلے ترک اور پھر بہارے کے انگلش پلیز کہنے پہ انگریزی میں یہی بات دہرائی تا کہ حیا سمجھ سکے۔
نہیں ہمیں جانا ہے۔ وہ کوفت سے کہتی اپنا سامان اٹھانے لگی۔ پتا نہیں اب آگے کیا کرنا تھا۔ ہالے کو بتایا نہیں تھا۔ سو ہوٹلز کے بارے میں نہیں پوچھ سکی تھی۔
آپ کو ہوٹل چاہیے تو میں مدد کر سکتا ہوں۔ ایک لڑکے نے دانت نکالتے ہوئے پیشکش کی۔
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس ہوٹل ہے۔ وہ رکھائی سے کہہ کر بہارے کا ہاتھ پکڑے پلٹنے ہی لگی تھی کہ وہ پھر بولا۔
کون سا ہوٹل؟ جتنی تیزی سے اس نے پوچھا تھا اس سے زیادہ تیزی سے حیا کے لبوں سے نکلا۔ یہ اوپر والا۔اس نے بے ساختہ جان چھڑانے کے لیے کاؤنٹر پہ رکھے گائیڈ بک لیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ جہاں پہلے صفحے پہ تین ہوٹلز کی تصاویر اور معلومات درج تھیں۔ اتنے فاصلے سے اس سے ہوٹل کا نام تو پڑا ہی نہیں گیا مگر وہ سب غیر ارادی طور پہ ہوا تھا۔
چاروں لڑکوں نے بے اختیار گائیڈ بک کے صفحے کو دیکھا۔ اوپر والے ہوٹل کی تصویر پہ نگاہ ڈالی اور پھر بے ساختہ کاؤنٹر والے کے دانت اندر ہوئے، ٹیک لگا کر کھڑا لڑکا سیدھا ہوا۔ دوسرے نے فوراً جیسے شانوں سے قمیض کی نادیدہ سلوٹیں ٹھیک کیں۔
آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ مولوت بے کی مہمان ہیں؟ پہلے کیوں نہیں بتایا۔ پلیز بیٹھیں۔ کاؤنٹر والا گڑبڑا کر وضاحت کرتا تیزی سے باہر آیا تھا۔ حیا نے رک کر ان کو دیکھا۔باقی تینوں لڑکے سلام جھاڑ کر فورا ادھر سے رفو چکر ہو گئے تھے۔
میں نے مولوت بے کو ابھی آدھا گھنٹہ پہلے بازار میں دیکھا تھا۔ وہ ادھر ہی ہیں، میں انہیں فون کرتا ہوں۔ وہ جلدی سی اپنا موبائل نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگا۔ حیا اور بہارے نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر حیا نے کرسی دوبارہ کھینچ لی۔
مولوت بے آ رہے ہیں آپ کو لینے۔ فون بند کر کے وہ مستعدی سے مینیو کارڈ لے آیا۔ آپ آرڈر کر دیں، میں لے آتا ہوں۔
اس کے جانے کے بعد بے چین بیٹھی بہارے گل نے اس کا ہاتھ ہلایا۔
حیا! مولوت بے کون ہیں اور ہم ان کے ساتھ کیوں جا رہے ہیں؟
مجھے نہیں پتا، مجھے کچھ سوچنے دو۔
ہم ایسے ہی ان کے ساتھ نہیں چلے جائیں گے۔ عائشے گل کہتی ہیں اچھی لڑکیاں ہر جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم دو منٹ کے لیے عائشے گل کا لیکچر بھول نیہں سکتیں؟ اب ہمیں کہیں تو رہنا ہے نا۔ اگر نہیں اچھے لگے یہ مولوت بے تو نہیں جائیں گے ان کے ساتھ۔
بہارے نے خفگی سے منہ میں کچھہ بدبدا کر رخ پھیر لیا۔
وہ خود بھی ذرا مضطرب تھی۔ پتا نہیں کون تھے وہ صاحب اور کیوں ان کو لینے آ رہے تھے۔ ایسے تو وہ نہیں جائے گی ان کے ساتھ۔ کوئی مرضی کے بغیر تو نہیں لے کر جا سکتا نا؟
مولوت بے آ گئے۔ بمشکل پندرہ بیس منٹ گزرے تھے کہ کاؤنٹر والے لڑکے نے صدا لگائی تو بے اختیار ان دونوں نے مڑ کر دیکھا۔
سامنے سے ایک ادھیڑ عمر، گورے سے ترک صاحب چلے آ ٓرہے تھے۔ دراز قد، بے حد اسمارٹ، سر کے بال ماتھے سے ذرا کم، چہرے پہ نرم سی مسکراہٹ، نفیس سے پینٹ شرٹ میں ملبوس۔ مگر وہ شہانہ تھے۔ ایک قدرے پستہ قد آنٹی ان کے ایک طرف تھیں۔ دوسری جانب ایک لمبا پتلا سا لڑکا انیس بیس برس کا اور اس کے ساتھ اسی عمر کی لڑکی جس کے بال کندھوں سے کافی نیچے تک آتے سیاہ اور لہردار تھے۔ اس نے کیپری کے اوپر ڈھیلی شرٹ پہن رکھی تھی اور ایک موٹی، سفید گھنے بالوں والی ایرانی بلی بازوؤں میں اٹھائے ہوئے تھی۔ لڑکی نے دور سے انہیں ہاتھ ہلایا۔
کیا یہ تمہاری رشتے دار ہے؟ بہارے نے پیچھے سے اسے مخاطب کیا۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو اس فیملی کو جانتی بھی نہیں۔ وہ متذبذب سی اٹھ کھڑی ہوئی۔
مرحبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ہمیں دیر تو نہیں ہوئی۔ اگر پہلے پتا ہوتا تو آپ کو اتنا انتظار نہ کرنا پڑتا۔ رئیلی سوری۔ مولوت بے استقبالیہ مسکراہٹ کے ساتھ معذرت کر رہے تھے۔ ان کی مسز خوش دلی سے اسے ملنے کے لیے آگے ہوئیں۔ ترکوں کے مخصوص انداز میں باری باری گال ملا کر چوما اور الگ ہو گئیں۔ وہ قد میں حیا سے کافی چھوٹی تھیں۔
تم پہلے کال کر دیتیں تو ہم جلدی آ جاتے اور کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟ اس سے الگ ہو کر وہ افسوس سے کہنے لگیں۔ میں سونا ہوں یہ میری بیٹی پنار ہے اور یہ فاتح ہمارے ساتھ کام کرتا ہے۔ میرا بیٹا گوخان آج کل انقرہ گیا ہوا ہے۔ ورنہ اس سے بھی ملاقات ہو جاتی۔
میں حیا ہوں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ مزید کیا کہے۔
میں پنار اور یہ میری گارفیلڈ! پنار نے بلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزے سے بتایا۔ یہ پورے ”آشیانہ“ کی لاڈلی ہے۔ آج کل ذرا بیمار ہے۔ اسے علاج کے لئے لائے تھے ادھر اور اس چھوٹی بلی کا نام کیا ہے؟
بات کے اختتام پہ پنار نے جھک کر بہارے کا گال چھوا اور چھوٹی بلی کا پہلے تو تحیر سے منہ کھل گیا اور پھر بے اختیار شرمائی یوں کہ رخسار گلابی پڑ گئے اور پلکیں جھکائے بہت باریک اور نازک سی آواز میں بولی۔
اناطولیہ کی بہارے گل۔ حیا نے پوری آنکھیں کھول کر اس چھوٹی سی اداکارہ کو دیکھا۔ جس کی یہ آواز تو خود اس نے بھی نہیں سن رکھی تھی۔
آپ استنبول سے آئے ہیں؟مولوت بے پوچھ رہے تھے۔
میں پاکستان سے ہوں اور یہ ترکی میں میری رشتہ دار ہیں۔ ان سب کے والہانہ اور خوش خلق انداز کے آگے اس کا نو تھینکس کہنے کا ارادہ کمزور پڑنے لگا۔
باقی باتیں گھر چل کر کر لیں گے۔ فاتح! آپا کا سامان اٹھاؤ۔ دیکھو وہ کتنی تھکی ہوئی لگ رہیں ہیں۔ آؤ بیٹا کار باہر ہے۔ مسز سونا اپنے مہمانوں کو مزید تھکانا نہیں چاہتی تھیں۔ فاتح سامان اٹھانے کے لئے آگے بڑھا تو حیا نے بے اختیار بہارے کو دیکھا۔
چلو جلدی کرو حیا! تازہ تازہ تعریف سے گلنار ہوئی بہارے نے اٹھلا کر اس کی آستین کھینچی۔ حیا نے گہری سانس لے کر بیگ فاتح کو تھما دیا۔ کہیں تو رہنا ہی تھا اور فیملی رن ہوٹلز سے اچھا کوئی ہوٹل نہیں ہوا کرتا۔
وہ دونوں ان کے ساتھ چلتی ہوئی باہر آئیں جہاں چھوٹی سی وین کھڑی تھی۔ اسے بے اختیار اپنا اور ڈی جے کا ترکی میں پہلا دن یاد آیا۔ جب احمت اور چغتائی ایسی ہی ایک وین میں انہیں لینے آئے تھے۔
مولوت بے کا ہوٹل عرگپ میں تھا۔ تقریبا گھنٹے کی ڈرائیو تھی۔ کھڑکی کے اس پار کپادوکیہ کا خشک علاقہ نظر آ رہا تھا۔ پراسرار خاموش دنیا سے الگ تھلگ غاروں سے بنی خوب صورت گھوڑوں کی سرزمین۔ دور کہیں کوہ حسن کے دونوں پہاڑ دکھائی دیتے تھے۔ جو اپنے اندر کا سارا لاوہ صدی قبل زمین پہ انڈیل کر اب سکون سے کھڑے تھے۔
ڈی جے کو بہت حسرت تھی کپادوکیہ دیکھنے کی۔ کھڑکی کے باہر بھاگتے مناظر دیکھ کر بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا۔ پھر فورا چپ ہو گئی۔
ڈی جے کون؟ پنار جو بلی کو تھپک رہی تھی بے ساختہ پوچھ بیٹھی۔
میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دوست تھی۔ اس کے جواب میں بہارے نے آہستگی سے اضافہ کیا۔ ”مر گئی ہے۔“
اوہ! پنار نے اسے تاسف سے دیکھا۔
جب تمہاری بلی مر جائے گی تو وہ ڈی جے کے پاس چلی جائے گی۔ چند لمحوں بعد بہارے نے بہت سمجھ داری سے پنار کی معلومات میں مزید اضافہ کرنا چاہا۔
بہارےگل! بہت ہو گیا۔ اس نے ہڑبڑا کر اسے ٹوکا۔ پھر معذرت کرنی چاہی۔ سوری! یہ بس ایسے ہی بولتی رہتی ہے۔
مگر پنار اور مسز سونا ہنس پڑی تھیں۔
یہ چھوٹی بلی کتنی پیاری ہے نا۔ پنار نے جھک کر اس کا گال چوما۔ آج سے گارڈفیلڈ بڑی بلی اور تم چھوٹی بلی۔
بہارے نے شرما کر لب دانت سے دبائے۔ اثبات میں سر ہلایا پھر ”دیکھا تم نے“ والی فاتحانہ نظروں سے حیا کو دیکھا۔ حیا نے گہری سانس لے کر سر جھٹکا۔ یہ لڑکی بہت پٹے گی اس کے ہاتھوں۔
”آشیانہ کیو ہاؤس“ ایک چھوٹا سا دو منزلہ ہوٹل تھا۔ ننھی سی پہاڑی کو کاٹ کر بنایا گیا تھا۔ سامنے سے جیسے کوئی بنگلہ سا لگتا تھا۔ ایک طرف باہر سے جاتی سیڑھیاں، اوپر ٹیرس، سامنے صحن تھا۔ ٹیرس اور گراؤنڈ فلور دونوں کے برآمدے محرابی تھے۔ اندر آدھے کمرے پہاڑ کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔ وہ کوئی بہت اونچی پہاڑی نہیں تھی۔ ہوٹل کی چھت سے بھی ذرا کم تھی۔ ہوٹل کی پشت اس پہاڑی میں گویا دھنسی ہوئی تھی۔ چھوٹا سا خوب صورت سا آشیانہ۔
مولوت ہلیگج کا کپاودکیہ میں ایک خاص مقام تھا۔ وہ اس علاقے کے ڈسٹرکٹ چیف تھے۔ لوگ ان سے ڈرتے بھی تھے اور ان کی عزت بھی کرتے تھے۔ ان کے مہمان کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کر سکتا تھا اور آج ہوٹل کے ساتوں کمرے خالی تھے۔ وہ اور بہارے ہی آشیانہ کی مہمان تھیں۔
یہ ہے تمہارا کمرا، مجھے لگا، تمہیں یہ پسند آئے گا۔ اگر بدلنا ہے تو بتا دو۔ متحرک سی مسز سونا ان کو اوپری منزل کے ایک کمرے میں لے آئیں۔ وہ خاکی، سرمئی سنگ مرمر سے بنا کمرا بہت خوبصورت تھا۔ کونوں میں زرد بلب لگے تھے۔ سارے جلا دو تب بھی کمرے میں غار کا نیم مدھم سا اندھیرا برقرار رہتا۔ سرخ سے قالین کا ٹکڑا فرش پہ بچھا تھا۔ اسی سرخ رنگ کا ایک بڑا سا صوفہ کھڑکی کے آگے رکھا تھا۔ ڈبل بیڈ پہ بھی گہرے سرخ، میرون رنگ کی چادر بچھی تھی۔ بیڈ کی عقبی دیوار پہ ایک جالی دار گلابی پردہ لگا تھا جو آگے کو ہو کر بیڈ کی پائینتی تک گرتا اور بیڈ پہ سونے والے کو جیسے ڈھک لیتا۔
باہر ٹیرس پہ گول گول میزیں تھیں۔ جن کے گرد کرسیوں کے پھول بنے تھے۔وہاں بیٹھ کر دیکھو تو کھلا آسمان اور سارا کپادوکیہ دکھائی دیتا تھا۔ اتنی خوبصورت جگہ پہ نامعلعم سی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ جہان کے بغیر اسے سب کچھ اداس لگ رہا تھا۔ اگر اس نے واقعی ریسیور آف کر دیا ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
مجھے یہ کمرا پسند ہے اور میری چھوٹی بلی کو بھی۔بظاہر بشاثت سے مسکراتے اس نے مسز سونا کو اطمینان دلایا۔
آشیانہ شہر سے ذرا الگ تھلگ تھا۔ سو مولوت بے نے کہہ دیا تھا کہ وہ جہاں جانا چاہیں وہ انہیں ڈراپ کر دیں گے۔ وہ خالصتا مہمان نواز ترک خاندان تھا۔ وگرنہ ہوٹل کا مالک جو شہر کا ڈسٹرکٹ چیف ہو کہاں اپنے مہمانوں کو ڈرائیو کر کے لے جایا کرتا ہے۔ مولوت بے کو پورا کپادوکیہ جانتا تھا۔ ان کے مہمانوں کو کسی بھی قسم کے ٹور پیکج پہ خصوصی ڈسکاؤنٹ مل جاتا تھا۔ ان کا نام ”مولوت“ اردو لفظ ”نومولود“ کا ”مولود“ ہی تھا۔ہمارے وہ نام جو ”د“ پہ ختم ہوتے ہیں۔ ترک انہیں ”ت“ پہ ختم کرتے تھے۔ وہ احمد کو احمت بلند کو بلنت اور مولود کو مولوت پکارتے تھے۔ایسے ہی ہمارے وہ نام جن کے آخر میں ”ب“ آتا ہے۔ ترک ان کے آخر میں ”پ“ لگایا کرتے تھے۔ یوں طیب سے بنا طیپ ایوب سے ایوپ اور زینب سے زینپ۔
وہ سارا دن کمرے میں ہی رہیں۔ پھر شام کو مسز سونا اور فاتح شہر جا رہے تھے۔ تو ان کے ساتھ چلی گئیں۔حیا کی ٹریسر والی ڈبی پرس میں ساتھ ہی تھی۔ اگر وہ ادھر ہوا تو جان لے گا کہ وہ اس کے قریب ہے۔ پتا نہیں دل کے رشتے زیادہ مضبوط تھے یا جی پی ایس کے۔ مگر جب رات اتر آئی اور فون نہیں بجا تو وہ امید کھونے لگی۔
اگلا پورا دن بھی انہوں نے کمرے میں گزارا۔ کھانا بھی وہیں منگوایا۔ مسز سونا کے ہاتھ کے بنے سلاد، جیلی، جام، بالکل گھر جیسا ذائقہ۔پھر بھی وہ بہت بے زاری محسوس کر رہی تھی۔ بہارے باہر جانا چاہتی تھی۔ مگر اس نے منع کر دیا۔
کیا عبدالرحمن کال نہیں کرے گا؟ اس نے صبح سے کوئی دسویں دفعہ پوچھا۔
مجھے نہیں پتا۔ فضول باتیں مت کرو۔ بہارے کی آنکھوں میں ناراضی در آئی۔
تم نے اگر دوبارہ مجھ سے ایسے بات کی تو میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔
میں نے کہا نا فضول باتیں مت کرو! سختی سے جھڑک کر وہ ڈریسک روم میں جانے کے لیے اٹھی۔بہارے ناک سکوڑ کر منہ میں کچھ بڑبڑائی۔
کیا کہا تم نے؟ وہ جاتے جاتے جیسے تپ کر پلٹی۔
نہیں بتاؤں گی۔ بہارے اتنے ہی غصے سے کہتی ٹیرس کی طرف چلی گئی۔
رات میں مسز سونا انہیں بلانے آ گئیں۔
تم لوگ صبح سے کمرے سے نہیں نکلے۔ طبیعت تو ٹھیک ہے؟ حسب توقع وہ فکر مند ہو گئ تھیں۔ ٹورسٹ سیر کے لئے نا جائے یہ ان کے لئے عجیب سی بات تھی۔
نہیں! وہ دراصل ایک دوست نے استنبول سے آنا تھا، اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ آ جائے تو مل کر کپادوکیہ دیکھیں گے۔ اس نے جلدی سے وضاحت دی۔ اور پھر ان کے اصرار پر وہ دونوں ڈنر کے لیے نیچے چلی آئیں۔
نچلی منزل کا ڈائننگ ہال پتھر کی دیواروں سے بنا مدھم سا روشن تھا۔ دو چار میزیں، کرسیاں رکھی تھیں۔ دیواروں کے ساتھ فرشی نشست کے طرز کے زمین سے دو بالشت اونچے پتھر کے صوفے بنے تھے۔ جن پہ میرون ترک قالین بچھے تھے۔ اس نے بھی اسی میرون شیڈ کا اجرک کا کرتا اور سیاہ ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔ اوپر سیاہ حجاب-
اسے حجاب سے کھاتا دیکھ کر ٹرے اٹھائے ہال میں داخل ہوئی پنار ٹھٹک کر رکی اور پھر سامنے کاؤنٹر پر کھڑے فاتح کو پکارا۔
فاتح! تم کچن دیکھ لو۔ وہ کمفرٹیبل نہیں ہیں۔ اس نے ترک اور انگریزی دونوں میں کہا کیونکہ فاتح کی انگلش کمزور تھی۔ جی آپا کہہ کر وہ تابعداری سے وہاں سے ہٹ گیا۔
‏ تھینکس! وہ ہلکے سے مسکرائی۔ دل پہ اتنی کلفت چھائی تھی کہ مسکرانا بھی دشوار لگتا تھا-
کھانے کے بعد وہ دونوں آگے پیچھے سیڑھیاں چڑھتی اوپر آ گئیں۔ اس کے پیر میں درد تھا اس لئے وہ آتے ہی بستر پہ لیٹ گئی اور پیچھے دیوار سے لٹکتا جالی دار پردہ اپنی پائینتی تک پھیلا دیا۔ اب چت لیٹے اسے چھت گلابی جالی کے پار دکھائی دے رہی تھی۔
حیا! کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟ ساتھ لیٹی بہارے تھوڑی دیر بعد ذرا قریب کھسک آئی۔ حیا نے گردن ذرا سی ترچھی کر کے اسے دیکھا۔
کیوں پوچھ رہی ہو؟
کیوں کہ عائشے گل کہتی ہے کسی کو ناراض کر کے نہیں سوتے۔ کیا پتا ہم صبح اٹھ ہی نہ سکیں۔
نہیں! میں ناراض نہیں ہوں۔ وہ گردن سیدھی کر کے دوبارہ غار کی چھت کو دیکھنے لگی۔ میں بس پریشان ہوں-
تم پریشانی میں یوں ہی غصہ کرتی ہو؟
ہاں اور تم کیا کرتی ہو؟
میں؟ بہارے ایک دم جوش سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ میں آسمان میں اڑتی ہوں۔ ادالار کے بگلوں اور سلطان احمت مسجد کے کبوتروں کے ساتھ۔ کیا تمہیں یہ کرنا آتا ہے؟
‏ حیا نے چند لمحے اس کے معصوم شفاف چہرے کو دیکھنے کے بعد نفی میں سر ہلایا۔ بچپن بھی کتنا پیارا ہوتا ہے نا۔ کندھے اور دل بہت سارے بوجھ سے خالی ہوتے ہیں۔
میں تمہیں سکھاتی ہوں۔ آنکھیں بند کرو۔
حیا نے آنکھیں بند کیں۔ وہی ایک شخص ہر جگہ نظر آنے لگا تھا۔ تکلیف کا احساس جیسے سوا ہو گیا تھا۔
اب تم آہستہ اہستہ ہوا میں اڑ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوپر، بہت اوپر دیکھو! تم اڑ رہی ہو۔ ساتھ ہی وہ دبے قدموں بستر سے اتری۔ حیا نے پلکوں کی جھری سے دیکھا۔ وہ احتیاط سے بلی کی چال چلتی سوئچ بورڈ تک گئی اور پنکھا فل چلا دیا۔ اور پھر اسی طرح واپس آ گئی۔ دیکھو! اب تم اوپر ہوا میں اڑ رہی ہو۔ دیکھو! ہوا چل رہی ہے۔ آنکھیں مت کھولنا ورنہ نیچے گر جاؤ گی۔
ہوں! اس نے بند آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا۔ اگر زندگی کا وہ فیز کوئی خواب تو واقعی وہ نیچے گرنے کے خوف سے آنکھیں کھولنا نہیں چاہتی تھی۔ مگر حقیقت تو ہمیشہ نیچے گرا دیا کرتی ہے۔ اس نے ایک دم سے آنکھیں کھول دیں۔
ہا! یہ کیا کیا؟ دیکھا! نیچے گر گئیں۔ بہارے نے بوکھلا کر احتجاج کیا پھر پھرتی سے اٹھ کر پنکھا بند کیا۔ ہوا سے گلابی پردہ پھڑپھڑانے لگا تھا
اللہ تمہیں سمجھے۔ وہ خفگی سے کہتی واپس آ کر لیٹ گئی۔
کیا تم نے نماز پڑھی؟ وہ نماز پڑھنے کے لیے اٹھنے لگی تو بہارے سے پوچھا۔ بہارے نے جھٹ خود پہ بیڈ کور تان لیا۔
ہاں! میں ابھی پڑھتی ہوں۔ اوہ! میری آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔ کھل ہی نہیں رہی۔ اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر وہ لمحے بھر میں ہوش و خرد سے بیگانہ سو چکی تھی۔ حیا سر جھٹک کر رہ گئی۔ پھر وضو کرنے اٹھی تو فون بجنے لگا۔ روحیل کالنگ اس نے کال پک کی۔
کب آ رہی ہو تم واپس؟
یہ مت کہنا کہ تم مجھے مس کر رہے ہو۔ وہ کھڑکی کے آگے رکھے صوفے پہ بیٹھی مسکرا کر فون کان سے لگاۓ کہہ رہی تھی۔
وہ تو خیر نہیں کر رہا۔ مگر ابا چاہتے ہیں کہ میری شادی اناؤنس کریں۔ ایک ولیمہ ریسیپشن دے کر۔ لیکن جب تم اور جہان آؤ گے تب ہی فنکشن ہو پاۓ گا۔
ہوں! گڈ فار یو۔ بس کچھ دن تک آ جاؤں گی۔ اس نے بہت سے آنسو اندر اتارے۔ کتنے دعوے سے کہہ کر آئی تھی کہ وہ اور جہان ساتھ واپس آئیں گے مگر وہ تو کہیں نہیں تھا۔
فون بند کر کے اس نے وضو کیا۔ پھر وہی جاۓ نماز ڈال کر نماز پڑھی۔ سلام پھیر کر دعا کے لیے اٹھے ہاتھوں کو یوں ہی دیکھنے لگی۔
دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا عرصہ ہوا جب اس نے دعا مانگنی چھوڑ دی تھی۔ جیسے ڈی جے کے لیے مانگی ویسے پھر کبھی نہ مانگ سکی۔ کچھ تھا جو ڈی جے کہ ساتھ ہی مر گیا تھا۔ پھر معافی مانگی، استقامت مانگی، مگر دنیا مانگنا چھوڑ دی۔ لوگ، رشتے، ناتے، یہ سب دنیا ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہی سب کو چاہیے ہوتا ہے۔ اسے بھی چاہیے تھا۔ پھر لبوں پہ آ کر ساری دعائیں دم کیوں توڑ جاتی ہیں؟ ایسا کیوں لگتا تھا کہ معافی ابھی تک نہیں ملی؟
وہ گم صم سی ہاتھوں کی لکیریں دیکھنے لگی۔ اللہ تعالی کے ساتھ تعلق بھی کتنا مبہم سا تھا۔ یہ خواہش تھی کہ میں اسے اچھی لگوں، میں اس کی مانوں، مگر اس پہ مجھے کتنا بھروسہ ہے۔ کتنا اعتبار ہے، یہاں آ کر زندگی جیسے خالی جگہ کا سوال بن جاتی تھی۔ پورے فقرے کے درمیان ایک خالی جگہ تھی۔ ادھر کون سا لفظ لکھنا تھا۔ اس جگہ پہنچ کر وہ لکھنا بھول جاتی تھی۔
کوئی دعا مانگے بنا وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور میز پہ رکھے موبائل کی اسکرین کو انگلی سے چھوا۔ وال پیپر جگمگا رہا تھا۔ کتنا زہر لگتا ہے یہ وال پیپر۔ بالخصوص تب جب کسی خاص ٹیکسٹ کی توقع ہو۔ پھر جاۓ نماز رکھی ۔ دوپٹا اتار کر بالوں کو انگلیوں سے سنوارا اور ڈریسنگ روم کا پردہ ہٹا کر ادھر آئی۔ ہیر برش ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھا تھا۔ وہی رات سونے سے قبل سو دفعہ برش کرنے کی عادت۔ اپنے بالوں جلد اور خوبصورتی کی حفاظت پہ اسے کوئی سمجھوتا نہ تھا۔
برش کے ساتھ نقلی پھولوں کا گلدان رکھا تھا جس کے اندر شیشے کی ایک ڈبی تھی جو سنہری افشاں سے بھری تھی۔ اس نے یوں ہی وہ ڈبی نکالی اور کھولی۔ سنہری چم چم چمکتی افشاں۔ اس کی پشت کی طرف سے آتی روشنی میں مزید چمک رہی تھی۔
پھر ایک دم سے دمکتی افشاں پہ چھایا سی بن گئی۔ جیسے اس کے اور بلب کے درمیان کوئی آڑ آ گئی تھی۔ کسی خیال کے تحت اس نے سر اٹھا کہ آئینے میں دیکھا۔ اس کے عکس کے پیچھے کوئی کھڑا تھا۔
افشاں کی ڈبی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ ایک زور دار شاکڈ سی چیخ حلق سے نکلنے ہی لگی تھی کہ پیچھے کھڑے شخص نے سختی سے اپنا ہاتھ اس کے لبوں پہ جما دیا۔
شش۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیخنا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری فیملی بھاگتی ہوئی آ جاۓ گی۔ وہ چہرہ اس کے قریب کیے دھیمی سرگوشی میں بولا تھا۔
حیا کی آواز ہی نہیں سانس بھی جیسے رک گیا۔ وہ پھٹی پھٹی بے یقین نگاہوں سے دم سادھے آئینے کو دیکھ رہی تھی۔ چند لمحے لگے اس کے اعصاب کو ڈھیلا پڑنے میں اور پھر اس نے ایک نڈھال سے احساس کے تحت آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
جہان نے آہستہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔
سنہری افشاں اس کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی قدموں میں جا گری تھی۔ اس کی انگلیاں، فرش، پیر کا انگوٹھا، ہر جگہ سونے کے زرات چپکے تھے۔ ایک لمحے کو اس نے دونوں ہاتھ جھاڑ کر افشاں اتارنی چاہی مگر وہ پورے ہاتھ پہ پھیلتی گئی۔ وہ دھیرے سے اس کی طرف پلٹی۔ وہ ابھی تک شاکڈ اور شل تھی۔
تم تم ادھر کیا کر رہے ہو؟خالی خالی نگاہوں سے جہان کا چہرا دیکھتے ہوئے وہ بدقت کہہ پائی۔
یہی سوال میں تم سے پوچھنے آیا ہوں۔ تم ادھر کیا کر رہی ہو؟ وہ جیسے ڈھیروں غصہ ضبط کر کے سختی سے بولا۔
تم اندر کیسے آئے؟ حیا کا دماغ ابھی تک سن تھا۔ وہ جواب دیے بنا آگے بڑھا اور ڈریسنگ روم کا پردہ برابر کر دیا۔ بیڈ روم کا منظر چھپ گیا۔ پھر وہ حیا کے مقابل دیوار سے ذرا ٹیک لگا کر جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر منتظر سا کھڑا تھا۔ وہ جیسے علیحدہ جگہ تفصیل سے بات کرنا چاہتا تھا۔
اس کے حواس دھیرے ھیرے بحال ہونے لگے۔ وہ اپنے سنہری ذرات والے ہاتھ اضطرابی انداز میں ایک دوسرے سے ملتی ڈریسنگ ٹیبل پہ جا ٹکی پھر اپنے کھلے بال کانوں کے پیچھے اڑسے۔ سنہری ذرات سیاہ بالوں میں بھی ٹھہر گئے مگر اسے پتا نہیں چلا۔
اگر مجھے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ تم میرے پیچھے ادھر آ جاؤ گی تو میں تمہیں کبھی نہ بتاتا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔
تمہارے پیچھے؟ اس نے جیسے تلملا کر سر اٹھایا۔ بس ایک پل لگا تھا۔ اسے اپنے ازلی انداز میں واپس آنے میں۔ تم نے مجھے کب بتایا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ تم بھول گئے ہو شاید، تم بغیر کچھ کہے سنے آ گئے تھے۔
اچھا، تمہیں نہیں پتا تھا کہ میں کپادوکیہ میں ہوں؟ وہ اسی طرح جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
مجھے کیسے پتا ہو سکتا ہے؟تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہارے لیے اتنا ٹریول کر کے آؤں گی؟ اس نے جیسے افسوس بھری حیرت سے سر جھٹکا۔ میں تو خود تمہیں ادھر دیکھ کر حیران ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟ بلکہ ایک منٹ۔ وہ جیسے رکی۔ ڈی جے اور مجھے کپادوکیہ آنا تھا اسپرنگ بریک میں۔ اوہ، تم یہ بات جانتےتھے شاید، تم میرے پیچھے آئے ہو ۔ کیا ایسا ہی ہے؟ اس نے لاء ٹیچرز سے سن رکھا تھا کہ جب اپنا دفاع کمزور ہو تو مخالف پہ چڑھائی کر دینی چاہئے۔ وہ اپنے دفاع کے چکر میں پسپائی اختیار کر لیتے ہیں۔
نہیں! میں اتنا فارغ نہیں ہوں کہ تمہارے لیے ادھر آؤں گا۔
میں بھی اتنی فارغ نہیں ہوں۔ حد ہے۔ جہان نے ایک گہری نظر اس پہ ڈالی۔ اس کے بال ویسے ہی ماتھے پہ ذرا بکھرے سے تھے۔ شیو ہلکی سی بڑھی ہوئی تھی۔ اور سفید رف سی پوری آستین کی شرٹ کو کہنیوں سے موڑا ہوا تھا۔
اور اس کو کیوں لائی ہو؟ اس نے ابرو سے پردے کی جانب اشارہ کیا جس کے پار بیڈ روم تھا۔ حیا نے بظاہر لاپروائی سے شانے اچکائے۔
اس کے پاسپورٹ کا مسئلہ تھا کوئی۔ وہ بےکار ادھر رہ رہی تھی اور پھر ابا نے کہا تھا کہ میں اکیلی نہ جاؤں تو میں نے سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ باڈی گاڈ ساتھ لے جاؤں۔ ہے نا؟
کیا ہے جہان! میں کپادوکیہ گھوم پھر بھی نہیں سکتی اپنی دوستوں کے ساتھ؟ وہ تنک کر کہتی اپنی انگلی مینج پلاٹینیم بینڈ گھمانے لگی۔ سنہری افشاں سے انگھوٹی بھر چکی تھی۔ جہان تھوڑی دیر جانچتی نظروں سے بغور اسے دیکھتا رہا۔
ٹھیک ہے! میں نے مان لیا کہ تم میرے لیے ادھر نہیں آئیں اور تمہیں بالکل علم نہیں تھا کہ میں ادھر ہوں۔ بہر حال کل صبح قیصری سے ایک فلیٹ اتا ترک کے لئے نکل رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک صبیحہ گورچن کے لئے۔ تم کون سی لو گی؟ بہت سنجیدگی سے اس نے استبول کے دونوں ائیر پورٹس کے نام لیے۔
کیا مطلب؟ میں واپس نہیں جا رہی۔ میں نے تو ابھی کپادوکیہ دیکھا بھی نہیں۔
ہرگز نہیں! میں نہیں چاہتا کہ تم ادھر رہو۔ تم ادھر یوں اکیلے کیسے رہ سکتی ہو بھلا؟
یہ میرا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں اکیلی نہیں ہوں۔ ہم دو ہیں۔ تم میری فکر نہ کرو۔ وہ کرو، جس کے لئے تم ادھر آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ویسے، مجھے ڈھونڈنے کے علاوہ تم ادھر کس مقصد کے تحت آئے ہو؟
مجھے بہت سے کام ہیں زمانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہتے کہتے وہ ایک دم رکا۔ حیا کا دل زور سے دھڑکا۔ جہان نے کلائی میں بندھی گھڑی دیکھی پھر نفی میں سر ہلایا۔
میں اتنی دیر یہاں نہیں رک سکتا۔ تم کل واپس جا رہی ہو حیا!
میں نہیں جا رہی، تمہیں کیا پرابلم ہے میرے ادھر رہنے سے؟ اسی پل کمرے میں رکھے اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی وہ بات روک کر ڈریسنگ ٹیبل کے کنارے سے اٹھی اور پردہ ہٹا کر میز تک گئی۔ جہان نے گردن موڑ کر اس کے قدموں کو دیکھا۔
پاؤں کو کیا ہوا ہے؟
میز سے موبائل اٹھاتے ہوۓ اس کا دل لمحے بھر کو تھما۔ اللہ اللہ، اس آدمی کی نظریں؟ اس سے کوئی بات مخفی کیوں نہیں رہتی؟ اس نے تو پاؤں پہ پٹی بھی نہیں باندھی تھی۔ چل بھی ٹھیک رہی تھی، پھر بھی اف!
میرے پاؤں کو؟ موبائل لے کر واپس مڑتے اس نے حیرت سے گردن جھکا کر اپنے پاؤں کو دیکھا۔
اوہ! یہ افشاں گر گئی تھی۔ وہ ہی لگ گئی ہے۔ ساتھ ہی اس نے انگوٹھا قالین سے رگڑا۔ سرخ قالین کا وہ حصہ فورا چم چم کرنے لگا مگر پاؤں سے افشاں نہیں اتری۔
ٹخنے، ایڑی کو کچھ ہوا ہے۔ موچ آئی ہے یا پاؤں مڑ گیا؟ وہ گردن ترچھی کر کے اس کے پاؤں کو دیکھتا کہہ رہا تھا۔
نہیں! میرا پاؤں تو بالکل ٹھیک ہے۔ مگر وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں سمجھی۔ موبائل پہ ہالے کا فارورڈ میسج چیک کر کے وہ سر ہلاتی اس کی طرف آئی۔ تم مجھے واپس بھیجنے کے لیے بہانہ ڈھونڈ رہے ہو۔
جہان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ایک تو جب بھی وہ یوں دیکھتا لگتا تھا اندر تک دل کا سارا حال جان لے گا۔
ٹھیک ہے! تم ادھر میری وجہ سے نہیں آئیں اور تمہارے پاؤں کو بھی کچھ نہیں ہوا۔ مجھے ابھی جانا ہے۔ ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے۔
پھر کب ملو گے؟ وہ دروازے
کی طرف بڑھا ہی تھا کہ وہ بے اختیار کہہ اٹھی۔ جہان نے رک کر اسے اسی طرح دیکھا۔
جب تم میرے لیے آئی ہی نہیں ہو تو پھر دوبارہ ملنا؟
ابھی خود ہی تو تم نے کہا کہ بعد میں بات کریں گے ورنہ مجھے کیا۔ اس نے خفگی سے شانے اچکاۓ۔ جہان نے ذرا مسکرا کر سر جھٹکا۔
کل دوپہر ایک بجے شارپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کنویں پہ ملنا۔
کون سا کنواں؟
مادام! آپ میرے لیے نہیں، کپادوکیہ کی سیاحت کے لیے آئی ہیں تو آپ کو یہاں کی تمام ٹورسٹ اٹریکشن کا پتہ تو ہو گا۔ کل ہم کنویں پہ ملیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دھیان رکھنا کنواں کافی گہرا ہے۔ تمہیں کلاسٹرو فوبیا تو نہیں ہے؟ وہ جیسے یاد آنے پہ جاتے جاتے پلٹا۔ حیا نے نفی میں گردن ہلائی۔
اوکے۔ اس نے دروازہ کھولا۔ احتیاط سے اطراف میں جھانکا پھر باہر نکل گیا۔ بہارے اسی طرح سو رہی تھی۔ حیا نے دروازہ بند کیا اور پھر بے اختیار دل پہ ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لیا۔ ایک دبی دبی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ بکھر گئی۔
بہت اسمارٹ بنتا تھا جہان۔ شاید وہ اس سے ذیادہ اسمارٹ تھی کہ اس نے اسے ڈھونڈ ہی نکالا تھا۔ ہاں اس کے سامنے یہ نہیں مانے گی کہ وہ اس کے لیے آئی ہے۔ جس بندے نے اسے خوار کیا اس کو تھوڑا بہت خوار کرنے کا حق تو اسے بھی تھا۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے واپس آئی اور ہیئر برش اٹھاتے ہوۓ آئینے میں دیکھا۔
اجرک کے کرتے پہ سامنے، بالوں پہ، کانوں کے قریب اور دونوں ہاتھوں پہ افشاں لگی تھی۔ ازبیلی اسٹون کے فرش پہ ڈبی ابھی تک الٹی پڑی تھی۔ وہ ڈبی اٹھانے کے لیے نہیں جھکی۔ افشاں کی سب سے پیاری بات یہ تھی کہ اسے جتنا خود سے اتارنے کی کوشش کرو یہ پھیلتی چلی جاتی ہے اور جس کو چھوتی ہے اس کو چمک عنایت کر دیتی ہے۔
دوپہر ایک بجے شارپ۔ اس نے زیر لب مسکراتے ہوۓ اپنے عکس کو دیکھتے برش بالوں میں اوپر نیچے چلانا شروع کیا۔ ابھی اسے سو دفعہ برش کرنا تھا۔
* * * *
صبح آشیانہ کے اطراف کے پہاڑوں پہ بہت سہانی اتری تھی۔ کپادوکیہ کو جیسے اس کا حسن واپس مل گیا تھا۔
اس نے بہارے کو تیار ہونے کو کہا۔ پھر مزید کچھ نہیں بتایا۔ بہارے ابھی بال بنا رہی تھی۔ وہ اسے وہاں چھوڑ کر اپنے عبایا اور اسکارف کو پن لگاتے ہوۓ نیچے آئی۔ آج اس کا موڈ بہت خوش گوار تھا۔
فاتح استقبالیہ کاونٹر پہ تھاوہ لابی بھی چھوٹے سے پتھریلے کمرے کی مانند بنی تھی غاروں میں غار
صبح بخیر آپا جلدج سے سب کام چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوا
شکریہ فاتح!وہ اسکےسامنےآکھڑی ہوئی ایک بات پوچھنی تھی یہاں آس پاس کوئی کنواں ہے؟
کنواں؟فاتح نے اچھنبے سے دوہرایا پتا نہیں کنویں ہیں بہت سے مگر آپ کس کنویں کی بات کررہی ہیں؟
کوئی ایسا کنواں جو ٹورسٹ اٹریکشن ہو اور بہت گہر ہو
فاتح کو بات سمجھانے کیلئے اسے آہستہ سے الداظ دوہرانے پڑ رہے تھے فاتح نے تزبزب سے نفی میں سر ہلایا
نہیں آپا!میں ایسے کنویں کو نہیں جانتا ویران کنویں مل جائیں گے مطر سیاحتی مرکز مشکل ہے
سوچوفاتح!کوئی بہت گہرا کنواں ہو گا ادھر سوچونا اس کے دل میں بےچینی سی انگڑائی لینے لگی اللہ سمجھے جہان سکندر کو کبھی انسانوں کی زبان میں بات نہی کریگا پھر ایک پہیلی؟
مجھے واقعی کسی گہرے کنویں کا نہیں پتا وہ زرا دیر کو رکا
آپ گہرے کنویں کا تو نہی پوچھ رہیں؟
تو اتنی دیر سے می اور کیا پوچھ رہی ہوں فاتح؟
نہی،نہیں آپ کسی کنویں کا پوچھ رہیں ہیں؟اصلی کنویں کا جو گہرا ہو یا آپ’گہرے’کنویں کا پوچھ رہی ہیں؟
دونوں میں کیا فرق ہے؟ اس نے سوالیہ آبرو اٹھائی شائد وہ کسی منزل کے قریب تھی
دیکھیں آپا!فاتح دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی انگلش میں کہنے لگا ایک تو ہوتا ہے کنواں جس سے لوگ پانی نکالتے ہیں جس کے بارے میں،میں زیادہ نہیں جانتا اور ایک ہے ‘گہرا کنواں’ وہ کنواں نہیں ہے وہ..یلنار شہری ہے
یلنار شہری..مطلب؟اس نے نا سمجھی سے پوچھا فاتح نے بے بسی سے اسے دیکھا اورنفی میں سر ہلایا اسی پل مسز سونا لانڈری باسکٹ اٹھائے وہاں داخل ہوئیں فاتح نے فورا انہیں پکارا
سوناخانم یلتار شہری کو انگلش میں کیا کہے گے؟
انڈرگراونڈسٹی انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ایک منٹ مسز سونا وہ مجھ سے کمرے میں افشاں گر گئی تھی وہ صاف ہو جائے گی نا؟
ہاں،فکرنہ کرو پنار کر لے گی اسے مطمئین کر کے وہ باہر نکل گئی
انڈرگراونڈسٹی آپا!وہ زیرے زمین شہر ہے جس کا نام “ویرین کیو”یعنی گہرا کنواں ہے آپ اسکا پوچھ رہی تھیں
حیاپریقین نہیں تھی
شائد!میں نے کپادوکیہ کے زیرزمین شہروں کا سناتو ہے مگر وہ تو بہت سے ہوں گے کیا یہ”ویرن کیو”کوئی مشہور سپاٹ ہے؟
یہ کپادوکیہ سب سے بڑا یلتار شہر ہے آپا!مگر آپ کو کلیسٹر فوبیا تو نہیں ہے؟
وہ جیسے چونکی اسکے دل کی دھڑکن ایکدم سے بڑھ گئی
نہیں!اورہاں مجھے یہی جانا ہے بلکل یہی جگہ ہے وہ جیسے پر جوش ہو گئی
پھر آپ پنار کیساتھ چلی جائیں وہ آج شہرجا رہی ہے گارفیلڈ کی دوا لینے
ٹھیک ہے وہ ایک دم سے اتنی خوش ہوئی کہ اسکی آنکھیں چمکنے لگیں فاتح نے زرا اچھنبے سے اسے مڑکرجاتے دیکھا آشیانہ کے کسی مہمان کو اس نے کلاسٹر فوبیا نہ ہونے پہ اتنا پرجوش ہوتے ہوئے پہلی بار دیکھا تھا۔
* * * *
ترقی کے صوبہ’نوشہر’کا وہی معنی تھا جو پاکستان کے شہر”نو شہرہ” کا ہے ویرین کیو یہاں کا سب سے بڑا زیر زنین شہرتھا ایسے سینکڑوں شہر کپادوکیہ میں موجود تھےجو کم سے کم بھی دو منزلہ تھے جیسے تہہ خانے ہی تہہ خانے ہوں- گئے زمانے میں کپادوکیہ کے باسیوں (عیسائی آبادیوں) نے یہ شہر بنائے تھے تاکہ جنگ کے دنوں میں یہاں پناہ لی جا سکے انکے پاس شہر کے دہانوں کو مکمل طور پہ بند کرنے کا نظام بھی موجود تھا پانی خوراک، روشن دان نکاسی اور اخراج کا نظام غرض یہ تمام انتظامات سے آراستہ مکمل شہر تھےبس ان سے آسمان نظر نہیں آتا بیسویں صدی کے آغاز میں عیسائی یہاں سے چلے گئے تھے اب برسوں سے یہ شہر ویران تھے چند سال پہلے انکو سیاحوں کیلئے کھول دیا گیا تھا
ویرین کیو’کی آٹھ منزکیں سیاحوں کیلئے کھولی تھی ویرن کا مطلب گہرا اور کیو یعنی کنواں اردو میں گہری دوستی اور دشمنی کیلئے استعمال ہونے والا لفظ’دیرینہ کا ماخز بھی یہی ویرین تھا
مولوت بے،اسےبہارے اورپنارکو ایک لمبی ڈرائیو کے بعد ویری کیو لے آئے تھے وہ گارفیلڈ کو لیکر خود شہر سے چلے گئے اور وہ تینوں شہر کی داخلی سرنگ کیطرف آ گئی جہاں سیاحوں کی لمبی قطار لگی تھی ویرین کیو باہر سے یوں لگتا جیسے کوئی چھوٹی پہاڑی ہو جسکی دیواروں میں بہت سے سوراخ تھے یوں جیسے کوئی جادو گرنی خاکی چغہ اوڑھ کر جھکی بیٹھی ہو اور اسکے چغے سے بہت سی آنکھیں جھانک رہی ہوں داخلی سرنگ غار کے دہانے پہ وہ چھوٹا سا راستہ تھا جس سے اندر جانا تھا باہر دھوپ نکلی تھی لیکن سرنگ دور سے ہی اندھیری لگ رہی تھی
یہ سویٹر رکھ لو شائد ضرورت پڑ جائے پنارنے خود بھی سویٹر پہن لیا تھااوراب دوسرا اسکی طرف پڑھا رہی تھی حیا نے حیرت سے اسے دیکھا پھر چلچلاتے سورج کو
اتنی گرمی میں؟
رکھ لو پنار کے دوبارہ کہنے پہ اس نے سویٹر طے کر کے بازو پہ ڈال لیا سیاہ پرس دوسرے کندھے پہ تھا بہارے بے پنار کی انگلی پکڑ رکھی تھی بالوں کو پونی میں باندھے وہ دھوپ کے باعث آنکھیں سکیڑے کھڑی تھی
آپنی باری پہ وہ ٹکٹ دکھا کر وہ آگے پیچھے سرنگوں میں داخل ہوئی باہر دھوپ تھی اندر اندھیرا سا پھیلا تھا کپادوکیہ کے غاروں اور پہاڑو کی مہیب پراسرار خوشبو ہرسو پھیلی تھی گایئڈ ان سب کی رہنمائی کرتا جا رہا تھا رش کافی تھا اور راہ داری تنگ بعض جگہ گو اتنی تنگ ہوتی کہ دونوں کندھے اطراف کی دیوار سے تکراتے اور بعض جگہ گردن جھکا کر آگے ہونا پڑتا
چند راہداریاں اور سیڑھیاں گزر کر وہ سب سیاہ ایک بڑے کمرے میں جمع تھے جہاں شورسا مچا تھا سیاحوں کے سوال اور اونچی آواز میں بولتا گائیڈ عجی مچھلی بازار سا بنا ہوا تھاوہ بور ہونےلگی جہان کا کوئی آتاپتا نہیں تھا اور فی الوقت اسے یہ جاننے میں دلچسپی نہیں تھی کہ شہر کا روشن دان اور پانی کسطرح کام کرتا تھا سو وہ پنار کیطرف مڑی
تم بہارے کا خیال رکھنا..میں بس آرہی ہوں
تم کہاں جا رہی ہو؟ بہارے پریشانی سے کہہ اٹھی
میں اپنے طورپہ اندر سے یہ شہر دیکھنا چاہتی ہوں تم پنار کو تنگ تو نہیں کرو گی؟
بہارےنے نفی میں سرہلا دیا مگر وہ اسکے جانے پہ خوش نہیں تھی
تم جاو میں چھوڑی بلی کا خیال رکھوں گی
وہ اس کمرے سے آگے کھسک آئی کمرے ہی کمرے راہداریاں، محرابی چوکھٹیں جیسے دی ممی کا سیٹ ہو دیواروں پہ دوور دور ،شعلوں کی مانند بلب لگے تھے جو اندھیر گلیو کو مدھم زرد روشنی بخش رہے تھے پراسرار مگر خوبصورت
وہ سیاحوں کے جھمگٹوں سے زرا آگے ہوئی تو ٹھنڈ کا آھساس ہو پنار ٹھیک کہتی گھی اس نے گرے سویٹر عبایا کے اوپر پہن لیااور بٹن سامنے سے کھولے رہنے دیے وہاں آس پاس کوئی نہ تھااور گٹھن والی جگہ تھی سو نقاب ٹھوڑی تک نیچے کر دیا
وہ یوں ہی طویل راہداریوں سے گزرتی جا رہی تھی کہ دفعتا…
حیا!کسی نے اسکے کندھوں کو زرا سا چھوا تو وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے مڑی سانس لمحے بھر کو روکا پھر بحال ہو گیا
بس!ڈر گئیں؟
خاکی پینٹ،بھورے آدھی آستین کی ٹی شرٹ،کندھے پہ بھورا دستی بیگ اور سر پہ سیاہ پی کیپ وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پہت سنجیدگی سے اسےدیکھ رہاتھا وہ لمحے بھر کو تو کچھ کہہ نہیں پائی
ہائیں!اتنی جلدی ڈر گئیں اور کل مجھے کسی نےکہا تھا کہ وہ اکیلے کپادوکیہ میں رہ سکتی ہے۔
چونکہ ابھی وہ گزشتہ رات کیطرح نہیں ڈری تھی سو لمحے بھر میں وہ خود کو سنبھال چکی تھی
کل کسی نےیہ بھی کہا تھا کہ وہ اکیلی نہیں ہے
اوہ!تمہارا باڈی گارڈ تو بھول ہی گیا تھا ابھی کدھر ہے وہ؟وہ دونوں نیم روشن راہ داری کےوسط آمنےسامنے کھڑے تھے
میں مان ہی نہیں سکتی کہ تمہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے
جہان ایک نظر اس پہ ڈال کر دائیں طرف کمرے میں داخل ہو گیا وہ اسکے پیچھے چلی آئی وہ ایک بڑا سا کمرہ تھا زیرزمین شہر کا کچن ایک طرف زمین پہ چکور چولہا بنا تھا(جیسے پاکستان میں گاوں میں مٹی کے چولہے ہوتے ہیں)اور دوسر طرف دیور میں کھڑکی کی مانند چوکور بڑا سا خلا تھا اسے آپنا کچن یاد آیا جہان سے لاونچ میں جھانکنے کیلئے آدھی دیوار جتنا خلا تھا
کچھ کہا تھا میں نے کل حیا!وہ اس کھلی بغیرپٹ کی کھڑکی کیساتھ ٹیک لگائے جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا ہو گیا
کیا؟وہ انجان بن گئی
تم واپس جا رہی ہو یا نہیں
دیور پہ لگے بلب کی روشنی جہان سے ٹکر کر گزرتی تھی یوں کہ سامنے والی دیوار پہ اسکا سایہ پڑنے لگاحیا اسکے بالکل مقابل چولہے کی چوکی پہ آکر بیٹھ گئی اسکا سایہ جہان کے سائے کے مقابل گرنے لگا وہ اصل میں کافی فاصلے پہ بیٹھے تھے مگر ایک ہی دیوار پہ گرتے آمنے سامنے بیٹھے سائے کافی بڑے اور قریب لگ رہے تھے
اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں واپس نہیں جا رہی
مگر کیوں؟وہ جیسے اکتا گیا
کیونکہ میں تمہارے لیے نہیں کپادوکیہ دیکھنےآئی ہوں اور دیکھ کر ہی جاوں گی
مگر میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں سے چلی جاو اتنے دن کیسے رہو گی ادھر؟
میں نے وہ ویڈیو کھول لی تھی جہان کے چہرے کی بجائے اسکے سئے کو دیکھتے ہوئے رسان سے بولی
لمحے بھر کو زیرزمین شہر پہ سناٹا چھا گیا جہان بالکل چپ ہو گیا اسے لگا وہ ہنس دے گا پھر اسے رکنے کو کہے گا مگر
تو؟تمہیں ابھی تک اندازہ نہیں ہوا کہ میں کیوں تمہیں یہاں سے بھیجنا چاہتا ہوں وہی سنجیدگی بھرا خشک سا انداز اسے دھچکا لگا کوئی اپنائیت کوئی راز بانٹنے والا احساس نہیں،وہ تو ویسا ہی تھا
نہیں مجھے واپس نہیں جانا..اور میرے یہاں رہنے سے تمہیں کیا مسئلہ ہورہا ہے؟اسکی آواز میں غصہ در آیا
مجھے تمہاری فکر ہے اور چاہتا ہوں کہ تم محفوظ رہو اور یہ محفوظ جگہ نہیں ہے
کھڑے سائے نے اتنے ہی غصے سے سر جھٹکا تب ہی زیر زمین شہر کی دیواروں نے بیٹھے سائے کو اٹھتے اور کھڑے سائے کے سامنے آکر کھڑے ہوتے دیکھا
اور واپس جانے سے میں محفوظ ہو جاو گی جہان بے؟
ہاں بالکل مجھے یہاں سے دوچار دنوں میں انقرہ چلے جانا ہے پھروہاں سےایک اور شہر اور پھر ادھر سے شام میں شام سے چند دن بعد اسلام باد آجاو گا میں تم سے وہی ملوں گا ہو سکتا ہے روحیل کے ولیمے پہ ہم دونوں ساتھ ہوں اس لیے ابھی تم چلی جاو
کیا گارنٹی ہے اس بات کی؟ہوسکتا ہے واپسی پہ میری فلیٹ کریش کر جائے؟
چند لمحے وہ واقعی کچھ کہہ نہ سکا مگر مدھم مشعل کی روشنی میں بھی حیا نے اس کے بے تاثر آنکھوں میں کچھ زخمی ہوتے دیکھا۔
ایسے مت کہو اس کی آواز دھیمی ہو گئی۔
نہیں جہان بے! مجھے بولنے دو!کیا گارنٹی ہے کہ میں وہاں محفوظ رہوں گی؟ ہو سکتا ہے کہ کوئی پرانا دشمن مجھے گاڑی تلے کچل دے۔
حیا! میں۔۔۔۔۔۔۔
ہو سکتا ہے یہ ہمارا آخری سفر ہو۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: