Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 65

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 65

–**–**–

بہارے نے تم سے جھوٹ نہیں بولا اس نے صرف آدھی بات بتائی ہے بچے ایسے گول مول بات کر دیتے ہیں تم تو بڑی تھیں۔ تم ہی عقل استعمال کر لیتی۔
پھر وہی عقل کا طعنہ؟
مگر تم نے کہا تھا کہ وہ لالچی ہے اور وہ۔۔۔۔۔۔
ہاں لالچی ہے اسی لیے تو وہ نہیں چاہتا کہ عبدالرحمن واپس جاۓ۔ پاشا بے جیسے لوگ جب مشکل میں پھنستے ہیں تو ان کی ساری فیملی خمیازہ بھگتتی ہے۔ سب کچھ بیچ کر نا محسوس انداز میں ایک ایک کو باری باری اس ملک سے نکلنا ہوتا ہے۔ ایک ساتھ سب نہیں جا سکتے۔ بہارے نے کہا تھا کہ وہ سب سے آخر میں جاۓ گی اور عائشے کے پاس ماننے کہ علاوہ کوئی چارا نہ تھا۔ مگر بہارے نے اپنا پاسپورٹ خود ہی جلا دیا۔ نتیجتا سفیر کی پریشانی بڑھ گئی۔ ہمارے وہاں سے نکلنے کے بعد سب اسی کا تو ہو گا۔ ہوٹل میں شئیرز گھر میں اور کیا کیا نہیں دیا ہم نے اسے۔ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ میں یا پاشا بے کا کوئی بھی فرد واپس آۓ۔
مگر وہ ہمارے پیچھے ڈورم بلاک تک آیا تھا اور۔۔۔۔۔۔
میں اس لڑکی کو اس کی ذمہ داری پہ چھوڑ کر گیا تھا اسے تمہارے پیچھے آنا چاہیے تھا۔ بہارے نے تمہیں ایک طرف کی بات بتائی اگر تم دوسری طرف کی بات سن لیتی تو اتنا مسئلہ نہ ہوتا۔
کاؤچ پہ بیٹھی حیا کو لگا وہ اس دنیا کی سب سے کم عقل اور بے وقوف لڑکی ہے اسے بہارے پہ بالکل غصہ نہیں آیا۔ اپنی چھوٹی بلی سے وہ خفا ہو بھی نہیں سکتی تھی۔ مگر اسے خود سفیر سے بات کرنی چاہیے تھی مگر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسئلہ یہ بھی نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ بہارے کو کپادوکیہ کے بارے میں بتا چکی تھی مگر یہ بات وہ اس وقت جہان کو نہیں کہہ سکتی تھی ایک دم اسے ڈھیر سارا رونا آیا تھا۔
میں نے وہی کیا جو مجھے صحیح لگا۔ بہت مشکل سے یہ کہہ کر اور جہنم میں جاؤ تم سب کے الفاظ کو لبوں پہ روک کر وہ اٹھ گئی۔
تم سو جاؤ مجھے کام ہے۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتی باہر آئی۔ وہی غصے یا دکھ میں جگہ چھوڑ دینے والی عادت۔
باہر کاریڈور میں ذرا آگے جا کر ایک بینچ سا نصب تھا۔ وہ اس بینچ پہ دونوں کہنیاں گھٹنوں پہ رکھے ہاتھوں میں چہرہ چھپاۓ بیٹھ گئی۔ بار بار دل بھر آ رہا تھا۔ شرمندگی کہ وہ جان گیا تھا کہ وہ اس کا فون چیک کرنے آئی ہے۔ بدتمیز کبھی سوتا بھی تھا کہ نہیں؟ اتنی زور سے ہاتھ پکڑا۔ اس نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر کلائی کو دیکھا۔ اتنی سرخ بھی نہیں پڑی تھی مگر پھر بھی اسے رونا آ رہا تھا۔
دفعتا دائیں جانب آہٹ ہوئی۔ حیا نے بے اختیار سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ کمرے سے نکل کر اس کی طرف آ رہا تھا۔ تو یہ طے تھا کہ وہ ہر دفعہ اس کے پیچھے آۓ گا۔
تم کیوں نکل آۓ جاؤ جا کر لیٹو۔ ابھی نرس نے دیکھا تو سو باتیں سناۓ گی مجھے۔ وہ پریشانی سے بولی تھی۔ جہان جواب دیے بغیر اس کے ساتھ بینچ پہ آ کر بیٹھ گیا۔
تم باہر کیوں آئی۔ اس کی طرف چہرہ کیے وہ دھیمے لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ کاریڈور میں روشنی تھی سفید روشنی پر وہ چاندی سی نہیں تھی۔
کیونکہ تمہیں میں اندر بیٹھی بری لگ رہی تھی۔
ہاں خیر لگ تو رہی تھی مگر اتنی بھی نہیں کہ باہر آ جاؤ۔ میں برداشت کر ہی لیتا۔ وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
اگر اس وقت اس کے ہاتھ میں کوئی بھاری چیز ہوتی تو وہ اس کے پٹی والے سر کا بھی لحاظ نہ کرتی۔
تم جاؤ میں یہی ٹھیک ہوں۔ وہ رخ سیدھا کیے سامنے دیوار کو دیکھنے لگی۔
اب نیا مسئلہ کیا ہے تمہارا؟
میرے مسئلے کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ میری زندگی بھی ایک پہیلی ہے جس کو میں کبھی حل نہیں کر سکتی۔ پتا نہیں اسے اتنی مایوسی اور بیزاری کس بات پہ تھی مگر تھی ضرور۔
تمہارا مسئلہ پتا کیا ہے؟ وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔ تم ایک بات سمجھ نہیں پا رہیں کہ تم کسی چیز کی کتنی ہی صفائی کیوں نہ کر لو اس پہ جالے پھر سے بن جائیں گے۔ یہ جو تم بار بار اسٹرگل کرتے کرتے تھکنے اور مایوس ہونے لگتی ہو نا یہ اسی وجہ سے ہے اور یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس فیز میں یوں بیزار ہو کہ بیٹھ نہیں جاتے بلکہ خود کو منفی ردعمل سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صبر اسی چیز کا نام ہے۔ خود کو منفی ردعمل سے روکنا اور مثبت سوچ پہ جمائے رکھنا۔
جب اس نے جالے کا لفظ استعمال کیا تھا وہ تبھی چونکی تھی۔ کچھ یاد آیا تھا۔
ڈاکٹر ابراہیم نے بھی ایسی ہی باتیں کہیں تھیں مجھ سے۔ مکڑی کے جالوں کی۔ وہ بولی تو اس کی آواز سے ناراضی مفقود تھی صرف گہری سوچ پنہاں تھی۔
سرد، خاموش کاریڈور میں ایک دم ہلکا سا اندھیرا چھا گیا اور دور کہیں سے پگھلی ہوئی چاندنی فرش پہ گرنے لگی۔
ضرور کہی ہو گی۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے والے اس کی پہیلیوں پہ اسی طرح غور کرتے ہیں۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر کہہ رہا تھا۔ کتنے عرصے بعد اسے لگا کہ اسے میجر احمد پھر سے مل گیا ہے۔ وہی دھیما،ٹھہرا ہوا لہجہ وہی باتیں۔
تو پھر میں قرآن کی پہیلیاں کیوں حل نہیں کر سکی۔ سر ابراہیم کا کہنا ہے کہ سورۃ الاحزاب کی آیت میں کچھ ہے جو میں مس کر گئی ہوں۔
دور کاریڈور کے سرے پہ گری چاندی ان کے گرد میں لپٹی جا رہی تھی۔
ہر آدمی ایک ہی آیت کو مختلف طور پہ دیکھتا ہے اور خود سے ریلیٹ کرتا ہے۔ وہ اسے کسی اور اینگل سے دیکھ رہے ہوں گے مگر وہ جو بھی چیز ہو گی وہ اس آیت کا آخری راز کبھی نہیں ہو گا تمہیں ہر دفعہ وہ آیت یا وہ سورۃ یا صرف وہ ایک لفظ کوئی نیا راز دے گا اور کوئی بھی راز آخری نہیں ہو گا۔
چاندی کا پانی سا فرش پہ بہتا اب ان سے ذرا سا ہی دور تھا۔
کیا تم میرے لیے اس پہیلی کو حل کر سکتے ہو؟
حیا! قرآن اور نماز یہ دو وہ چیزیں ہیں جو ہر انسان کو خود ہی کرنی ہوتی ہیں۔ یہ کبھی کوئی دوسرا آپ کیلئے نہیں کر سکتا۔
چاندی کا ورق ان کے قدموں میں آتا ان کو بھی لپیٹنے لگا۔ چاندی کے مجسمے لوٹ آئے تھے۔
لیکن میں تمہیں قرآن کی کچھ پہلیاں بتا سکتا ہوں جو بہت سے لوگوں نے حل کی ہین جیسے۔۔۔۔۔۔ جیسے۔۔۔۔۔۔۔ چاندی کے مجسمے نے دانت سے نچلا لب دبایا کچھ سوچا پھر کہنے لگا۔
جیسے تم نے سورہ الفلق تو پڑھی ہو گی۔
اوہ جہان کس کو سورہ الفلق اور سورہ الناس زبانی یاد نہیں ہو گی؟
اوکے پھر سورہ الفلق کی تیسری آیت یاد کرو، ”و من شر غاسق اذا وقب۔“ اس آیت کا ترجمعہ ہمارے یہاں عموما یوں کیا جاتا ہے کہ (میں پناہ مانگتا ہوں) رات کے شر سے جب وہ چھا جاتی ہے۔
ہوں، ٹھیک! چاندی کی تہہ پورے کاریڈور پہ چڑھ چکی تھی۔ ہر سو مدھم سی جگمگاہٹ تھی۔
یعنی کہ غاسق کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے یہاں۔ غاسق کا مطلب ہوتا ہے اندھیرا کرنے والا یعنی کہ رات، لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحے بھر کو ٹھہرا۔ غاسق کا ایک اور مطلب بھی ہوتا ہے، وہ مطلب جو آپﷺ نے غاسق کے لیے استعمال فرمایا تھا۔ کیا تم وہ مطلب جانتی ہو؟
نہیں۔ چاندی کے مجسمے نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا۔
وہ پلک جھپکے بنا پہلے مجسمے کو دیکھ رہی تھی کہ کہیں وہ سحر ٹوٹ نہ جائے۔
میں تمہیں اس کا دوسرا مطلب بتاتا بلکہ دکھاتا ہوں۔ ادھر آؤ۔ وہ اٹھا۔ وہ اس کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی۔ وہ اس کے آگے چلتا اپنے کمرے میں آیا اور دروازہ بند کیا۔
کمرے میں نیم اندھیرا تھا صرف گلاس ڈور سے چاندنی اندر جھانک رہی تھی۔ جہان اس دروازے کے پاس جا کھڑا ہوا اور جب وہ اس کے پہلو میں آ کھڑی ہوئی تو اس نے باہر اوپر کی جانب اشارہ کیا۔
وہ ہے غاسق! حیا نے اس کی انگلی کے تعاقب میں دیکھا۔ وہاں سیاہ آسمان پہ چاند کی ایک ٹکیہ جگمگا رہی تھی۔
چاند؟ غاسق کا دوسرا مطلب چاند ہوتا ہے؟ اس نے بے یقینی سے دوہراتے ہوئے جہان کو دیکھا۔
جہان نے ذرا سا مسکرا کر سر کو اثبات میں ہلایا۔ اس کا چہرا آدھا اندھیرے اور آدھا سلور روشنی میں تھا۔
چاند کے شر سے پناہ؟ مگر چاند میں کون سا شر ہوتا ہے؟ اسے ابھی تک اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
ہر چیز میں خیر اور شر دونوں ہوتے ہیں۔ چاند بہت پیارا اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ تم نے کبھی دیکھا ہے۔ سمندر کی لہروں کا مدوجزر؟
حیا نے سر اثبات میں ہلایا۔ یہ تو وہ جانتی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند کھینچتا ہے ان لہروں کو، چاند میں بہت کشش ہوتی ہے۔
مگر وہ سمندر کی بات ہے انسان کا اس سے کیا تعلق؟کہتے ہوئے حیا نے پھر گردن پھیر کر شیشے کے پار آسمان پہ چمکتے چاند کو دیکھا۔
حیا چاند سمندر کو نہیں، چاند پانی کو کھینچتا ہے۔ چاند ‘ہر’ پانی کو کھینچتا ہے اور اس نے انگلی سے حیا کی کنپٹی کو چھوا۔ ادھر تمہارے دماغ میں بھی فلیوڈز (Fluides) ہوتے ہیں، پانی ہوتا ہے، چاند اس کو بھی اہنی طرف کھینچتا ہے۔ جن لوگوں کا دماغ غیر متوازن ہو جاتا ہے وہ پاگل کہلاتے ہیں اور پاگل کو ہم انگریزی میں کیا کہتے ہیں؟ وہ لمحے بھر کو رکا، وہ کسی سحر کے زیر اثر سن رہی تھی۔
چاند کو ہم لیونا (Luna) کہتے ہیں اور پاگل کو لیونیٹک (Lunatic) کہتے ہیں۔ چاند اور دماغی امراض کا بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ انسان کے حواس پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے جو لوگ مرض عشق میں مبتلا ہوتے ہیں شاعر وغیرہ وہ چاند کا ذکر بہت کرتے ہیں۔ چاند بہت خوبصورت ہے یہ اندھیرے میں ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔ اس کی خیر ہمیں سمیٹنی چاہیئے مگر اس کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔ کیا اب تم مانتی ہو کہ قرآن کی پہیلیاں زیادہ دلچسپ ہوتی ہیں؟
حیا نے ہولے سے اثبات میں سر ہلایا۔ اس وقت سارے جہاں میں ایسا جادوئی اثر چھایا تھا کہ اسے لگا کہ اس کے کچھ کہنے سے وہ ٹوٹ جائے گا۔
اور ہاں! میں نے اپنے فون کا متبادل پاسورڈ ہٹا دیا تھا۔ اس نے کہا اور ایک دم سے سحر ٹوٹا چاندی چٹخ گئی اور اس کی پرتیں کہیں ہوا میں تحلیل ہو گئیں۔
وہ جیسے کسی خواب سے جاگی پھر ذرا سے شانے اچکائے اور واپس کاوچ پہ جا بیٹھی۔
جہان دھیمی مسکراہٹ سے اسے دیکھتا بیڈ کی طرف چلا گیا۔ حیا نے پھر گردن پھیر کر شیشے کے پار دکھتے چاند کو دیکھا۔
ونڈ چائم کی پنکھڑیاں ابھی تک چاندنی میں نہائی ہوئی تھیں۔
* * * *
صبح اس نے بہارے کی اچھی خاصی کلاس لی تھی۔
تم نے مجھے یہ تاثر دیا کہ سفیر نے تم سے یہ سب کہا تھا جبکہ اس نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔ تم نے مجھے مس گائیڈ کیا۔
میرا مطلب وہی تھا۔ وہ منمائی مگر حیا اس کے سامنے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہلتی سن ہی نہیں رہی تھی۔
تم نے جھوٹ بولا مجھ سے۔ تم نے جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا۔
اچھا سوری! آیندہ نہیں بولوں گی۔ وہ بار بار اس کو سوری کرتی منانے کی کوشش کر رہی تھی مگر حیا خفا خفا سی سامنے صوفے پہ جا بیٹھی۔
جہان کے سامنے اٹھائی جانے والی شرمندگی کا بدلہ کسی سے تو لینا تھا۔
کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟ وہ اٹھ کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ حیا نے ابرو اٹھا کر ایک سخت نگاہ اس پہ ڈالی۔
نہیں! میں تم سے بہت خوش ہوں اور اگر میں نے یہ سب عائشے کو بتا دیا تو۔۔۔۔۔۔۔؟
اس بات پہ بہارے نے اپنی سب سے معصوم شکل بنائی اور بہت ہی ناصحانہ انداز میں بولی۔
اچھی لڑکیاں شکایت نہیں لگایا کرتیں۔
ہاں! مگر اچھی لڑکیاں تھپڑ بہت اچھی طرح لگا سکتی ہیں اور میں تمہیں بتا رہی ہوں کسی دن تم میرے ہاتھوں بہت پیٹو گی۔
بہارے لپک کر اس کے پیچھے سے آئی اور اس کی گردن میں بازو دال کر چہرہ اس کے گال سے لگا لیا۔
بہارے گل تم سے بہت پیار کرتی ہے حیا سلیمان!
اچھا! مکھن مت لگاؤ مجھے ابھی جانا ہے پھر میں شام میں آؤں گی۔
بہارے نے بازو ہٹا کر خفگی سے اسے دیکھا۔
اور میں پھر اس چھوٹی چڑیل کے ساتھ رہو گی سارا دن؟
میں اب تمہاری کسی بات کا یقین نہیں کروں گی۔ اپنی مصنوعی ناراضی کو جاری رکھتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
اور چلو! اب کچھ گفٹ لینے ہیں میں نے نانی اور باقی سب کے لیے۔
میں اس چھوٹی چڑیل کے لیے کچھ نہیں لوں گی۔ بہارے نے ناک سکیڑتے ہوئے احتجاج کیا۔ مگر حیا نے رک کر اسے گھورا تو وہ سوری کہتے ہوئے ساتھ چل پڑی۔
کل جہان نے ڈسچارج ہونا تھا سو ان کو واپس کپادوکیہ چلے جانا تھا۔ یقینا یہ مسز عبداللہ کی فیملی سے اس کی آخری ملاقات تھی اور ان پانچ ماہ میں ان کی طرف سے دکھائے گئے خلوص اور مہمان نوازی کا بدلہ تو وہ نہیں اتار سکتی تھی پھر بھی سوچا کچھ تحائف خرید لے۔ ان کے دیے گئے تحائف بھی اس کے پاس تھے اور تحفہ تو محبت کا وہ نشان ہے جس کی واپسی ضروری ہوتی ہے۔
نانی مسز عبداللہ اور مہر نے اپنے تحائف لیتے ہوئے اس سے کہا بھی کہ اس تکلف کی کیا ضرورت تھی مگر وہ اس کی محبت پہ مسرور بھی تھیں۔ عروہ کے لیے اس نے کیپٹن پلانیٹ کارٹونز کی کچھ ڈی وی ڈیز لی تھیں۔ اس معصوم بچی نے دھیمی آواز میں شکریہ کے ساتھ انہیں وصول کیا۔ پھر اس نے شرمیلی مسکان کے ساتھ بہارے گل کو اپنا گفٹ دکھانے کی کوشش کی مگر ادالار کی شہزادی ناک سکوڑے بیٹھی رہی۔ جیسے اسے عروہ میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔ اور تب حیا کو سمجھ آیا کہ بہارے نے یہ موڈی انداز کس سے کاپی کیا ہے۔ جہان۔ وہ بھی ایسا ہی تھا اور بہارے اس کے ہر انداز کو اپنانے کی کوشش کرتی تھی۔
دوپہر میں وہ جہان کی طرف چلی آئی۔ اس کے پرائیوٹ روم کا دروازہ وہ کھولنے ہی لگی تھی کہ وہ اندر سے کسی نے کھولا۔ وہ رک گئی۔ اندر سے ایک ترک لڑکی باہر آ رہی تھی۔ ساتھ ہی کمرے کا منظر نمایاں ہوا۔ وہ لوگ ایک معمر مریض کو بیڈ پہ لٹا رہے تھے۔ حیا کا سانس جیسے کسی نے روک دیا۔ اس نے دوبارہ سے روم نمبر دیکھا۔
سسٹر میرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا مریض کہاں ہے؟ ایک شناسا نرس دکھائی دی تو وہ دوڑ کر اس کے پاس گئی۔ پریشانی، فکرمندی، خوف کیا تھا جو اسے اس وقت محسوس نہیں ہوا تھا؟
وہ صبح ڈسچارج ہو گیا تھا۔
وہ حق دق سی نرس کو دیکھنے لگی۔
مگر اسے تو کل جانا تھا۔
ہاں مگر وہ ٹھیک تھا اور تین ہفتے بعد تو بالکل پہلے جیسا ہو جائے گا۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔ وہ گیا کہاں؟اس بات پہ نرس نے شانے اچکائے اور ٹرے لیے آگے بڑھ گئی۔ حیا کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے پلٹی اور واپس جانے لگی۔ اب کیا کرے گی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
ابھی کاریڈور کے وسط میں تھی کہ ایک دم کچھ یاد آیا۔ وہ بھاگ کر اس روم کی چوکھٹ تک واپس آئی۔ دروازہ ابھی تک نیم واہ تھا۔ گلاس ڈور سامنے ہی نظر آ رہا تھا اور اس کے اوپر کیل پہ وہی پینٹنگ آویزاں تھی۔
میرا۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا ونڈ چائم تھا ادھر؟ باہر آتی نرس کو اس نے پھر روکا۔
میں نہیں جانتی۔ وہ اپنی ساری چیزیں لے گیا ہے۔
اور پتا نہیں ونڈچائم لے گیا ہے یا اسے کہیں پھینک دیا تھا؟ جہان سکندر کا کچھ پتا نہ تھا۔ یہ تو طے تھا کہ اسے دوبارہ کپادوکیہ جانا تھا اور انقرہ دیکھنے میں تو ویسے بھی اسے دلچسپی نہ تھی اس لیے وہ اسپتال سے نکل آئی۔
ہوٹل میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام اس نے ارم کو فون کرنے کا کیا تھا۔ ارم! وہ ویڈیو ولید کو کس نے دی؟تمہید کے بعد اس نے تیزی سے پوچھا تھا ارم ایک ثانیے کو خاموش ہوئی۔
جب سارے شہر میں پھیل سکتی ہے تو ہو سکتا ہے اسی ویب سائیٹ پہ اس نے بھی دیکھ لی ہو۔
یو نو واٹ ارم! میں نے تو یہ کہا ہی نہیں کہ میں کس ویڈیو کی بات کر رہی ہوں۔
ہمارے درمیان میں ایک ہی ویڈیو کا ایشو تھا اور ظاہر ہے تم اسی کی بات۔۔۔۔
جہنم میں جاؤ تم ارم۔ وہ سنبھل کر بات بنانا چاہ رہی تھی مگر حیا نے ٹھک سے فون بند کر دیا۔ اسے اس کا جواب مل گیا تھا۔
* * * *
ارم نے ایک لمحے کو ریسیور کو دیکھا اور پھر شانے اچکاتے ہوئے اسے واپس کریڈل پہ ڈال دیا اور وہاں رکھا چائے کا کپ اٹھا لیا۔
یقینا حیا کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ویڈیو اس نے ہی ولید کو دی ہے۔ لیکن اب اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس کے پاس کھونے کو اب مزید کچھ نہیں رہا تھا۔
اس نے چائے کا کپ لبوں سے لگایا، گرم، کڑوا سا سیال مائع اس کے اندر تک اترتا گیا۔
جہنم میں جاؤں میں؟ نہیں حیا یہ تم ہو گی جس کو اب اسی طرح بہت کچھ کھونا ہو گا جیسے میں نے بہت کچھ کھویا تھا۔ وہ بھی صرف تمہاری وجہ سے۔ اب اپنی دوائی کا مزہ تم بھی چکھو!
وہ دل ہی دل میں اپنی کزن سے مخاطب ہوئی۔
وہ دونوں چچا زاد بہنیں تھیں۔ فرسٹ کزنز۔ اور وہ بالکل ایسی ہی تھیں جیسی کزنز ہوتی ہیں۔ جب ماؤں کے تعلقات خراب ہوئے تو ان کے بھی ہو گئے مگر جب فضا موافق ہوئی تو دونوں پھر سے ایک ہو گئیں۔ دوستی بھی ان کی بہت تھی اور بڑے سے بڑے فیملی کلیش کے بعد وہ پھر سے ایک ہو جایا کرتیں تھیں۔
کزنز۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بہت پیارا رشتہ جو بڑوں کی سیاسیت اور منافقت کی گرد میں بہت میلا ہو جایا کرتا ہے۔
پچھلے دو تین برسوں میں ان کی ماؤں کے تعلقات خوشگوار تھے سو ان کی دوستی بھی اپنے عروج پہ رہی۔ اور یہ انہی دنوں کی بات ہے جب داور بھائی کی شادی بہت قریب تھی کہ وہ پہلی دفعہ ولید سے ملی۔
اس روز داور بھائی نے اسے یونیورسٹی سے پک کیا تھا مگر درمیان میں ایک کام ا ٓپڑا تھا تو وہ آفس کی طرف آ گئے۔ ابا ان دنوں ویسے بھی آٓفس نہیں جا رہے تھے۔ داور بھائی بلڈنگ میں چلے گئے اور وہ باہر گاڑی میں بیٹھی رہی۔
تب ہی کوئی اس کے پاس آ کر رکا تھا۔ وہ اسمارٹ گڈ لکنگ سا نوجوان داور بھائی کی کار کو پہچان گیا تھا اس لیے خیریت پوچھنے رک گیا۔
جلدی جلدی ساری بات بتا کر ارم نے شیشہ اوپر چڑھا دیا۔ اگر جو بھائی نے دیکھ لیا کہ وہ کسی لڑکے سے بات کر رہی ہے تو اس کی خیر نہیں تھی۔
وہ نوجوان چلا گیا مگر اسی دن شام میں اس نے ان کے لینڈ لائن پہ فون کر دیا۔
ارم کی تو جان نکل گئی۔ پہلے تو وہ گھبرا گئی مگر اس نے بہت شائستگی سے بتایا کہ اس کا نام ولید ہے وہ ان کے بزنس پارٹنر کا بیٹا ہے اور اس سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے۔
اسی وقت ابا کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔ وہ اگر فون رکھتی تو ولید دوبارہ کر لیتا اور تب ابا اٹھا لیتے کہ وہ اندر آنے ہی والے تھے سو جلدی میں اس نے یہی کہا کہ وہ بعد میں بات کرے گی اور اتنی ہی جلدی میں ولید نے اس کا موبائل نمبر پوچھ لیا۔
ارم نے بنا سوچے سمجھے نمبر بتا دیا اور فون رکھ دیا۔ ابا جب تک اندر آئے وہ کمرے میں جا چکی تھی۔ دل ابھی تک دھک دھک کر رہا تھا۔
مگر ولید نے پھر کبھی لینڈ لائن پہ فون نہیں کیا۔ وہ اب اسے موبائل پہ فون کر لیا کرتا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے والد اس کا رشتہ اس کے گھر میں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں چانتا تھا کہ سلیمان صاحب زاہد صاحب یا فرقان صاحب میں سے کس کی بیٹی کا ذکر کر رہے تھے۔ (یا اگر وہ جانتا تھا تب بھی اس نے ظاہر کیا کہ وہ نہیں جانتا لیکن اس کا خیال ہے کہ وہ ارم ہی تھی۔)
شروع میں وہ کشمکش کا شکار رہی مگر پھر آہستہ آہستہ اس کا ذہن خوش گمانیاں بننے لگا۔ اسے اب ولید سے بات کرتے ہوئے کسی قسم کا ڈر یا خوف محسوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض گناہ اس لمبی سڑک کی مانند ہوتے ہیں جن پہ کوئی اسپیڈ بریکر نہیں ہوتا۔ ان پہ چلنا شروع کرو تو بس انسان پھر چلتا ہی جاتا ہے اور جب تک کوئی بڑا ایکسیڈنٹ نہ ہو جائے وہ رک نہیں پاتا۔ ارم کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔
وہ حیا کے ہمراہ شاپنگ پہ جانے کا پلان کرتی تو حیا کو وہیں کسی شاپ میں چھوڑ کر قریب کسی ریسٹورنٹ میں آ جاتی جہاں ولید کو اس نے بلوا لیا ہوتا تھا ایسا موقع گو کہ ہفتے میں ایک بار آتا مگر آ ضرور جاتا۔
ولید ایک دو دفعہ ہی آفس گیا تھا۔ پھر نہیں گیا۔ اس کی فرقان صاحب سے کوئی ملاقات نہ تھی آج کل ذرا فارغ تھا اور باقاعدہ کام شروع کرنے میں ابھی وقت تھا سو وہ اس کے لیے ڈھیروں وقت نکال لیا کرتا تھا۔
مگر پھر داور بھائی کی مہندی والے دن اس نے اماں کی زبانی سنا کہ عمیر لغاری اپنے بیٹے ولید لغاری کا رشتہ حیا کے لیے مانگنا چاہ رہے ہیں اور ارم کو لگا وہ مٹی کا ڈھیر بن کے ڈھے گئی ہے۔
اس کے بعد زندگی عجیب سی ہو گئی۔ وہ اس کی پہلی محبت تھا اور وہ اسے کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وہ اس کو حیا سے جتنا برگشتہ کر سکتی تھی اس نے کیا۔ اس کے نکاح کے بارے میں بھی بتایا اور بظاہر ولید یہی کہتا کہ وہ حیا میں انٹرسٹڈ نہیں ہے اور پھر اس کے نکاح کا اس کے والد کو علم ہوا تو یہ رشتہ والا معاملہ ازخود دب گیا۔ مگر ارم محسوس کرتی تھی کہ وہ حیا کے بارے میں بہت سوالات کرتا تھا۔ وہکیا کر رہی ہے کدھر ہے اس کی پسند ناپسند اس کی کوئی کمزوری۔ وہ سب اتنے نامحسوس انداز میں پوچھا کرتا تھا کہ وہ بتا دیتی۔ مگر پھر بعد الجھ جاتی۔ وہ ولید سے کہتی رہتی کہ وہ اس کے لیے رشتہ بھیجے اور وہ بس چند دن اور کہہ کر ٹال دیا کرتا۔ مگر اس کا انداز بتاتا کہ وہ ارم سے زیادہ ارم میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ اسی میں خوش تھی۔ سب سے بڑی بات جو ولید سے شادی کرنے کی تھی وہ یہ کہ اسے اسکارف سے نجات مل جاۓ گی۔ وہ اپنی مرضی کا پہن اوڑھ سکے گی۔ اسے ابا کا خوف نہیں ہو گا۔ آزادی ایک نعمت تھی جو اس جبری پردے کے باعث اس کی دسترس میں نہیں تھی۔
پھر ایک رات سب کچھ الٹ گیا۔
وہ اپنے کمرے میں کرسی پہ بیٹھی آدھی رات کے بعد بھی ولید سے فون پہ بات کر رہی تھی۔ کمرہ لاک کرنا وہ بھول گئی تھی یا اب معمول سے یہ کام کر کے اس کا خوف کم ہو گیا تھا۔ یہ خوف واپس تب آیا جب اس نے ابا کو چوکھٹ پہ کھڑے دیکھا۔
گبھرا کر کھڑے ہوتے ہوۓ ارم نے فون بند کیا مگر وہ دیکھ چکے تھے۔ اس وقت کس سے بات کر رہی ہو؟ وہ سخت تیوروں کے ساتھ اس کی طرف آئے اور اس کے ہاتھ سے تقریبا موبائل چھینا۔ وہ کپکپاتے دل کے ساتھ ابا کو کال لاگ کھولتے ہوۓ دیکھ رہی تھی۔ اس نے ولید کا نمبر حیا کے نام سے سیو کر رکھا تھا۔ اس کی وہ تمام دوستیں جو چھپے دوست رکھتی تھی وہ اپنے ان دوستوں کے نام لڑکیوں کے نام سے محفوظ کرتی تھی۔ سعد کا نام رکھ دیا سعدیہ اور فائز کا رکھ دیا فضا۔ حیا سے اس وقت کیا کام تھا؟ انہوں نے نمبر دیکھا پھر کڑی نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
ٹائم کا فرق ہے ان کی اتنی رات نہیں ہوئی۔
یہ حیا کا نمبر تو نہیں ہے یہ پاکستان کا نمبر ہے۔ وہ نمبر چیک کرتے ہوۓ بولے تھے۔
رومنگ پہ ہے اس کا فون ابا۔ یہ اس کا دوسرا نمبر ہے۔ وہ تھوک نگلتے ہوۓ بمشکل کہہ پائی تھی۔ اسی وقت موبائل بجنے لگا۔ حیا سلیمان کالنگ۔ ولید اسے کال بیک کر رہا تھا۔ کبھی ایسی صورت حال پیش جو نہیں آئی تھی سو وہ سمجھ نہ سکا کہ ارم نے ایک دم کال کیوں کاٹی۔
اس لمحے اس نے بہت دعا کی کہ ابا کال نہ اٹھائیں جا ولید آگے سے کچھ نہ بولے مگر ابا نے کال اٹھائی اور کچھ بولے نہیں۔ وہ ابا سے چند قدم دور کھڑی تھی مگر اسے ولید کا ہیلو۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو؟ کہنا سنائی دیا تھا۔
کون بول رہا ہے؟ وہ درشتی سے بولے۔ دوسری جانب چند لمحے خاموشی چھائی رہی پھر کال کاٹ دی گئی۔ ابا نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوۓ ایک بار پھر کال ملائی مگر اس کا فون بند جا رہا تھا۔
یہ کوئی لڑکا تھا اور تم کہہ رہی ہو کہ حیا کا نمبر ہے؟ وہ اس پہ غراۓ تھے۔
صائمہ تائی بھی آواز سن کر ادھر آئ تھیں۔ ارم منمنا رہی تھی مگر ابا اس کی نہیں سن رہے تھے۔
اگر حیا کے ساتھ اس وقت کوئ لڑکا تھا تو اس میں ارم کا کیا قصور ہے؟ اماں نے بات کو نیا رخ دینے کی کوشش کی جس میں ابا لمحے بھر کو شہبے میں پڑے۔
ہو سکتا ہے حیا سبین کے گھر ہو اور سبین کے بیٹے نے فون اٹھا لیا ہو۔ لائیں مجھے دے فون میں پوچھتی ہوں حیا سے۔
مگر ابا نے اماں کو فون نہیں دیا۔ انہوں نے خود اپنے فون سے حیا کو کال کی۔
کسی سوکھے پتے کی طرح لرزتی ارم نے شدت سے دعا کی کہ حیا فون نہ اٹھاۓ یا پھر اسے بچا لے۔ پہلے تو اس نے واقعی فون نہیں اٹھایا مگر دوسری بار ملانے پہ اٹھا لیا۔ ابا اسی طرح غصے سے بھرے کھڑے اس سے پوچھنے لگے اور حیا نے اس کی عزت نہیں رکھی۔ اس نے صاف انکار کر دیا۔
فون رکھتے ہی ایک زور دار تھپڑ ابا نے اس کے چہرے پہ مارا۔ تھپڑ سے زیادہ تکلیف دہ وہ الفاظ تھے جو انہوں نے اسے اور اس کی تربیت کو کہے تھے۔ وہ اپنی عزت اور مقام ابا کی نظر میں کھو چکی تھی اور یہ سب کچھ صرف اور صرف حیا کی وجہ سے ہوا تھا۔ کیا تھا اگر وہ جھوٹ بول دیتی کیا تھا، کیا تھا اگر وہ اسے بچا لیتی؟ مگر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے دوستی رشتے کسی کا بھی پاس نہ رکھا۔ اماں تھی جو ابا کے سامنے اس کا دفاع کرنے کی کوشش کرتی رہیں مگر ان کے جاتے ہی وہ بھی پھٹ پڑیں کہ اپنی اولاد کو سب بہت اچھے سے جانتے ہیں۔
زندگی اس کے بعد بہت تنگ ہو گئی تھی۔ اس کا انٹرنیٹ اور موبائل بند ہو گیا دوستوں کے گھر جانے یا کہیں باہر جانے پہ پابندی لگ گئی۔ اٹھتے بیٹھتے ابا کی ناراضگی بے اعتباری سہنا سب بہت تکلیف دہ تھا اور پھر ولید سے دوری۔
اس نے بس ایک دفعہ لینڈ لائن سے ولید کے لینڈ لائن پہ کال کر کے ساری صورتحال بتا دی تھی پھر دوبارہ بات نہیں ہو سکی۔ ولید نے وہ نمبر ہی بدل لیا تھا۔ اب اس کے پاس بس اس کا آفیشل نمبر تھا جو ابا کے پاس بھی تھا۔ وہ اب کسی کے موبائل یا لینڈ لائن سے کال نہیں کر سکتی تھی کہ سب کے موبائل پوسٹ پیڈ تھے اور ابا سارے بل ایک دفعہ ضرور دیکھتے تھے۔ البتہ جب حیا اپنی دوست کی ڈیتھ پہ آئی تھی تو کچھ سوچ کر اس نے حیا سے تعلقات بحال کر لیے۔
وہ حیا کے موبائل سے ولید کو کال کرے گی تو حیا پھنسے گی وہ نہیں۔ مگر جب حیا سب کے سامنے اپنا موبائل واپس لینے آئی اور اس کے جانے کہ بعد ابا کی تفتیش اور ڈانٹ سہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سب نے اسے مزید ڈھیٹ بنا دیا۔
حیا کے جون میں واپس آ جانے کے بعد اسے جب موقع ملتا وہ حیا کا فون استعمال کر لیتی۔ بہت دفعہ تو حیا کو معلوم بھی نہ ہوتا تھا۔ جیسے سکندر انکل کی ڈیتھ اور سلیمان چچا کی بیماری والے دنوں حیا اتنی مصروف اور پریشان تھی کہ اسے پتہ بھی نا چلتا اور وہ فون استعمال کر کے واپس اسی جگہ پہ رکھ بھی دیا کرتی تھی۔ پھر بھی اسے لگتا کہ ولید اس سے بور ہو گیا ہے۔ شاید وجہ اس کی منگنی تھی۔ زبردستی کی منگنی جو ابا نے فورا کروا دی تھی۔ ان کو کیا لگتا تھا کہ وہ کسی کہ ساتھ بھاگ جاۓ گی؟ ہونہہ۔ وہ بھاگنے والوں میں سے نہیں تھی۔ اگر ولید اس کا ساتھ دیتا تو وہ اس کیلئے ابا اور بھائیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو جاتی مگر ولید ساتھ دیتا تب نا۔ پھر بھی وہ اس سے بات کرنا ترک نہیں کر سکی تھی۔ اور پتا نہیں وہ کون سا کمزور لمحہ تھا جب اس نے ولید کو اس ویڈیو کے بارے میں بتا دیا تھا۔ تب تک وڈیو ہٹ چکی تھی سو ولید اسے دیکھ نہ پایا اسے پتہ تھا کہ یہ وڈیو حیا نے ہٹوائی تھی اور یہ بھی کہ حیا میجر احمد سے ملنے گئی تھی۔ حیا کا خیال تھا کہ کسی کو بھی نہیں پتا مگر اسے پتہ تھا۔ اس نے حیا کو اپنی کھڑکی سے اس گراؤنڈ کی طرف جاتے ہوۓ دیکھا تھا جہاں سے ایک کار نے اسے پک کیا تھا اور پھر اسی دن وڈیو ہٹ گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ میجر احمد نے اسے رپورٹ درج کرانے کیلئے آنے کو کہا تھا ساری بات اس کے سامنے ہی تو ہوئی تھی۔ کڑی سے کڑی ملا کر اسے ساری کہانی سمجھ آ گئی تھی۔ کبھی نہ کبھی وہ یہ بات حیا کے خلاف ضرور استعمال کرے گی اور شاید اسی لیے اس نے ولید کو اس بارے میں بتایا تھا۔
ولید نے بہت دفعہ وہ ویڈیو مانگنا چاہی مگر وہ کیسے دے سکتی تھی؟ مگر وہ دن جب ابا کا ایکسیدنٹ ہوا اس سے پچھلے ہی دن اس نے سونیا کے کمرے سے نیٹ استعمال کر کے ولید سے بات کی تھی اور وہ بضد تھا کہ ارم وہ دیڈیو اسے دے دے تاکہ وہ اسے حیا کے خلاف استعمال کر کےاس زبردستی کی شادی اور ابا کی نظروں سے گرائے جانے کا بدلہ لے سکے۔ چاہے تو اپنا پارٹ ایڈٹ کر دے۔
اس خیال پہ وہ ایک دم چونکی تھی۔ ہاں یہ ہو سکتا تھا۔ وہ اپنا پارٹ ایڈٹ کر سکتی تھی۔ اس کو یہ کام آتے تھے۔ اپنی تصاویر یا ویڈیو وہ ولید کو دینے کا رسک بھی نہیں لے سکتی تھی۔ ریسٹورنٹس اور دیگر جگہوں پہ اس نے اپنے کیمرے سے اپنی اور ولید کی ڈھیروں تصاویر اتاری تھیں مگر اس کو کبھی اترنے نہ دی نہ ہی وہ تصاویر اس کو کبھی بھیجیں۔ وہ تصاویر اس کے لیپ ٹاپ میں ایک پاس ورڈ لاکڈ فولڈر میں محفوظ تھیں۔ اب بھی اس نے خود کو نکال لیا۔ ویڈیو صرف حیا کی رہ گئی ارم اس میں سے غائب ہو گئی اور وہ ویڈیو ولید کو میل کرنے کے بعد اس نے حیا کے ڈرائیور کے فون سے اسے کال کر کے بتا بھی دیا۔
اس رات ابا کو زخمی حالت میں حیا اور فرخ گھر لائے تھے۔ حیا اس سارے قضیہ کا الزام ولید کے سر رکھ رہی تھی مگر اسے یقین نہیں آرہا تھا ولید ایسا کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بہت مشکل سے دو روز بعد اسے حیا کا فون استعمال کرنے کا موقع ملا اور اس نے ولید کی ٹھیک ٹھاک کلاس لینی چاہی، گر وہ کہہ رہا تھا اس نے کچھ نہیں کیا اس کی گاڑی تو قریب سے گزری تھی جبکہ فرقان اصغر کو چوٹ گرنے کے باعث آئی تھی۔ شاید وہ چکرا کے گرے تھے۔ حیا خوامخواہ اسے اس معاملے میں گھسیٹ رہی ہے۔ ارم نے یقین کر لیا۔ اس کے پاس یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
اور آج حیا اس کو فون کر کے بتانا چاہ رہی تھی کہ وہ سب جان گئی ہے۔ اس کی بلا سے۔ اب خود بھگتے سب۔ اس وقت حیا نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا سو آج ارم بھی اس کے ساتھ کھڑی نہیں ہو گی یہ طے تھا۔
اس نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا۔ بھورا مائع ابھی تک کڑوا اور گرم تھا۔ اندر تک جلا دینے والا اور پھر جلنے سے زیادہ رسوا کن عذاب کون سا ہو سکتا تھا؟
* * * *
کپادوکیہ کا پراسرار حسن ویسا ہی تھا مگر ایک دفعہ پھر اس میں اداسیاں گھل چکی تھیں۔ آشیانہ کے مکینوں نے ان کا استقبال اسی گرم جوشی اور محبت سے کیا جو ان کا خاصا تھا مگر اس کا دل اداس تھا۔ وہ اسے کچھ بھی بتائے بغیر چلا گیا تھا بار بار واہمے ستا رہے تھے۔ اضطراب بے چینی اور فکر مندی۔ دنیا بس ان تین چیزوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
وہ دو دن کس کرب میں گزرے کوئی اندازا نہیں کر سکتا تھا۔ رات میں وہ اسی صوفے پہ جس کے عقب میں کھڑکی کھلتی تھی بیٹھ کر اسی طرح رونے لگی مگر کوئی نہیں آیا جو کہتا کہ وہ پھر سے اس کے لیے ا ٓگیا ہے۔ بہارے نیچے پنار کے ساتھ تھی۔ وہ سامنے ہوتی تو حیا یوں نہ روتی مگر اکیلے میں اور بات ہوتی ہے۔
بہارے کے آنے کے بعد بھی وہ اسی طرح بیٹھی رہی اور جب بیٹھے بیٹھے تھک گئی تو وہیں سو گئی۔ شاید کہ کوئی اسے اٹھائے۔ کوئی اس کے سامنے میز پہ آ بیٹھے اور ہولے سے اس کا شانہ چھو کر اسے آواز دے۔ مگر خواب ہر دفعہ پورا نہیں ہوتے۔
صبح اس کی آنکھ کسی شناسا آواز سے کھلی تھی۔ وہ آواز بہت دیر تک اس کی سماعت میں گونجتی رہی تھی یہاں کہ وہ ایک دم چونک کر اٹھ بیٹھی۔ یہ آواز۔۔۔۔۔ اتنی مانوس مگر نئی۔۔۔۔۔۔ یہ تو۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھ کر صوفے کے پیچھے آئی اور کھڑکی کے سامنے سے پردہ ہٹایا۔
کھڑکی کے باہر کسی ہک سے اس کا ونڈ چائم لٹک رہا تھا۔ دور کپادوکیہ کے افق پہ طلوع ہوتے سورج کی کرنوں سے اس کے کرسٹل کی پنکھڑیواں سنہری پڑھ رہی تھی۔ جیسے سونے کہ پتنگے جھول رہے ہوں۔ اسٹیل، کانچ اور لکڑی کے ٹکرانے کی آواز۔ مانوس آواز۔
اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھی۔ بے اختیار اس نے لبوں پہ ہاتھ رکھ کر جذبات کو قابو کرنا چاہا مگر آنسو پھر سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے۔ وہ آ گیا تھا۔ وہ کپادوکیہ واپس آ گیا تھا اور اس طرح سے اپنی خیریت بتا رہا تھا۔ وہ اب اس کی زبان سمجھنے لگی تھی۔ دفتعا اسے محسوس ہوا کہ ونڈ چائم کی ایک لڑی کے ساتھ ایک کاغذ سا بندھا ہے۔ اس نے کھڑکی کا پٹ کھولا اور ہاتھ بڑھا کر کاغذ پکڑا۔ وہ ایک ٹور گائیڈ کے ٹور کا معلوماتی پرچہ تھا۔ اس پہ جہان نے خود سے کچھ بھی نہیں لکھا تھا مگر وہ سمجھ گئی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اسے کل صبح اس ٹور کو لینا ہے کیونکہ وہی وہ جہان سے مل سکے گی۔ حیا نے پھر ایک نظر اس پرچے پہ بنی تصویر پہ ڈالی اور بے اختیار ایک اداس مسکراہٹ اس کے لبوں پہ پھیل گئی۔ ڈی جے اور اس کا سب سے بڑا خواب۔ سب سے بڑی ایکسائٹمنٹ۔ ہاٹ ایر بیلون۔
اگلی صبح ابھی سورج نہیں نکلا تھا اور فجر کپادوکیہ پہ قطرہ قطرہ اتر رہی تھی۔ حیا نے کھڑکی کا پردہ ذرا سا سرکا کر دیکھا۔
کپادوکیہ کے پہاڑ ابھی تک جامنی اندھیرے میں میں ڈوبے تھے۔ وہ خود بھی ابھی ابھی نماز پڑھ کے ہٹی تھی۔ پردہ برابر کر کے اس نے وال کلاک کو دیکھا۔ صبح کے ساڑھے تین۔ بہارے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی مندی مندی آنکھوں سے خود کو آئینے میں دیکھتی بال برش کر رہی تھی۔ حیا اپنی اجرک کی لمبی قمیص پہ عبایا پہن چکی تھی اور اب چہرے کے گرد نقاب لپیٹ رہی تھی۔ حیا کیا وہ مجھے ڈانٹے گا۔ برش سنگھار میز پہ رکھتے ہوۓ بہارے نے تشویش سے پوچھا۔ نہیں میں ہوں نا۔ وہ کچھ نہیں کہے گا۔ بہارے نے سر ہلا کر اپنے گلابی پرس سے بینڈ نکالا۔ بال پونی کی طرح سمیٹے اور پھر بینڈ لگانے سے قبل مڑ کر حیا کو دیکھا۔
اگر میں بال نہ باندھوں تو کیا تم عائشے کو نہیں بتاؤ گی؟
ہو سکتا ہے بتا دوں۔ ویسے اگر تم نے بال کھولنے ہے تو کھول لو اور اوپر اسکارف لے لو۔ اس مشورے پہ بہارے نے ناپسندیدگی سے ناک سکیڑی اور اس سے تو پونی بہتر ہے والی نظروں سے حیا کو دیکھتے ہوۓ پونی بنا لی۔
آبلہ وین آ گئی ہے۔ فاتح نے باہر سے آواز لگائی۔ حالانکہ وہ اس سے بہت بڑی نہیں تھی پھر بھی وہ اسے آبلہ کہتا تھا۔ (ترک میں آبلہ آپا اور بھائی کو آبی بولتے ہیں۔)
ہم تیار ہیں۔ وہ جلدی جلدی نقاب کو پن لگاتی بہارے کا ہاتھ تھامے باہر آئی۔
آشیانہ کے باہر ان کو ٹور کی وین لینے آئی تھی۔ جس نے انہیں ہاٹ ایر بیلون تک پہنچانا تھا۔ سارے انتظامات مولوت بے نے کرواۓ تھے۔ اس لیے انہیں ڈسکاؤنٹ مل گیا تھا۔ ہاٹ ایر بیلون فجر کے وقت اڑا کرتے تھے۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ یعنی کپادوکیہ کے اوپر اڑ کر سارہ خطہ دیکھ کر وہ واپس اتر آئیں۔ وین نے جب انہیں بیلون سائٹ پہ اتارا تو اس وقت فجر تازہ تھی وہ ایک ہاۓ وے تھی۔ اس کی سائیڈ پہ کھلا صاف علاقہ تھا۔ سڑک پہ ان کی قطار کے ساتھ بیسیوں وین کھڑی تھی۔ بہت سے سیاح ادھر ادھر آجا رہے تھے۔ وہ بھی بہارے کا ہاتھ تھامے سڑک سےاتر کر بائیں طرف کے کھلے میدان میں آ گئی۔ وہاں ایک قطار میں ہاٹ ائیر بیلون زمین پہ رکھے تھے۔ یوں کہ ان کی ٹوکریاں سیدھی رکھی تھیں جبکہ ٹوکری سے نتھی غبارہ بچوں کے پلاسٹک کے ننھے سے بغیر ہوا کے غبارے کی مانند ایک طرف ڈھلکا ہوا زمین پہ سجدہ ریز پڑا تھا۔ بڑے بڑے غبارے اور بڑی بڑی ٹوکریاں۔
اب ہم کو کیا کرنا ہے حیا؟ بہارے کا سوال نامہ شروع ہو چکا تھا۔
مجھے کیا پتا۔ میں تو خود پہلی دفعہ ہاٹ ایئر بیلون میں بیٹھنے لگی ہوں۔
اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی پہلی دفعہ بیٹھوں گی۔ بہارے چہکی۔ حیا نے چونک کر اسے دیکھا۔ بے اختیار اسے اپنی اور ڈی جے کی پہلی فلائٹ یاد آئی تھی۔
فلائٹ کے اڑنے میں وقت کم رہ گیا تھا۔ وہ دونوں گائیڈ کے کہنے کے مطابق اپنی ٹوکری میں جا بیٹھی تھیں۔ یہ پانچ سے سات افراد کی ٹوکری تھی۔ اگر خود ارینچ کرتیں تو بیس افراد کی ٹوکری میں جگہ ملتی۔ مگر مولوت بے کی وجہ سے کھلے کھلے سفر کرنے کی خواہش پوری ہو گئی تھی۔
ٹوکری کے اوپر ایک آڑ نما چھت تھی۔ جس کے اوپر آگ جلانے کا انتظام تھا۔ جب آگ جلتی تو گرم ہوا غبارے میں بھرتی اور اسے اوپر اٹھا دیتی۔ فی الوقت ان کا نیلا اور زرد غبارہ زمین پہ بے جان سا ڈھلکا پڑا تھا۔
وہ دیکھو! تب ہی بہارے نے اس کی کہنی ہلائی۔
حیا نے بے اختیار اس طرف دیکھا جہاں وہ اشارہ کر رہی تھی۔
دور سیاحوں کے درمیان وہ چلا آ رہا تھا۔ سر پہ پی کیپ آنکھوں پہ سیاہ گلاسز ذرا سی بڑھی شیو۔ سفید پوری آستین کی ٹی شرٹ کو کہنیوں تک موڑے نیلی جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ سر جھکائے قدم اٹھا رہا تھا۔ بیگ کندھے پہ تھا اور ماتھے پہ پٹی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ہفتہ تو ہو گیا تھا اس کے آپریشن کو اب تک اس کی پٹی کھل ہی جانی چاہیے تھی۔
وہ ان کے ساتھ آ ٓکر ٹوکری میں بیٹھا اور حیا کو لگا خوب صورت گھوڑوں کی سر زمین کو اس کی ساری رعنائی واپس مل گئی ہے۔
کیسے ہو؟ وہ جہان کی طرح سامنے سیدھ میں دیکھتی بہت آہستہ سے بولی تھی۔ بہارے ان کے مقابل ہی سر جھکائے بیٹھی تھی۔ باقی کے دو سیاح ابھی ٹوکری میں چڑھ رہے تھے۔
ٹھیک ہوں۔ وہ سامنے دیکھتے ہوئے زیرلب بولا۔
آخری دفعہ سچ کب بولا تھا؟
ابھ دس سیکنڈ پہلے جب میں نے کہا کہ ٹھیک ہوں۔
حیا نے ذرا سی گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ اسی طرح سامنے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھ کے قریب incision کا نشان گلاسز کے سائیڈ سے صاف نظر آ رہا تھا۔ اس نشان کے سوا پہلے سے وہ بہتر لگ رہا تھا۔
کیا ہمیں ہی ظاہر کرنا ہو گا کہ ہم تمہیں نہیں جانتے؟ وہ دوبارہ چہرا سیدھا کیے اسی طرح مدھم سا بولی تھی۔
جب تک بیلون اوپر نہیں چلا جاتا تب تک ہاں!
پائلٹ اب بیلون کے اڑنے کا اعلان کر رہا تھا۔
ٹوکری اطراف اور چھت سے کھلی تھی سوائے اس چھجے کے جس کے اوپر آگ جلائی جا رہی تھی۔ جیسے جیسے شعلے بڑھتے گئے گرم ہوا اس پھس غبارے تک پہنچنے لگی۔ زمین پہ اوندھے منہ گرا غبارہ ہولے ہولے پھڑ پھڑانے لگا۔
کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ اس دن تم بغیر بتائے اسپتال سے کیوں چلے گئے؟
نہیں! وہ اتنی قطعیت سے بولا کہ وہ بالکل چپ ہوگئی۔
گرم ہوا اب ڈھلکے ہوئے غبارے کو اٹھانے کی سعی کر رہی تھی۔ جیسے جیسے ہوا کا زور بڑھتا گیا۔ غبارہ ذرا پھول کر سیدھا ہونے لگا۔ گرم ہوا ٹوکری کے اندر بیٹھے سیاحوں کو نہیں چھو رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: