Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 66

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 66

–**–**–

ان کے لیے تو فجر کی تازہ ٹھنڈی ہوا ہر سو چل رہی تھی۔
ان گزرے دو دنوں میں جب وہ اس کے ساتھ نہیں تھی۔ اسے بہت سی باتوں کا خیال آیا تھا جو وہ اس سے اسپتال میں نہیں پوچھ سکی تھی۔ معلوم نہیں یہ سوال ہمیں تب کیوں یاد آتے ہیں جب مسئول ہمارے ساتھ نہیں ہوتا۔
ایک بات پوچھو؟ چند لمحے گزرے اس نے پھر سلسلہ کلام جوڑا۔ بہارے اب سر جھکائے اپنے گلابی پرس میں کچھ تلاش کر رہی تھی۔
ہوں؟
غبارہ اب ہوا سے پھول کر عین ان کے سروں کے پہ ٹوکری کے اوپر بالکل سیدھے آسمان کی جانب رخ کیے کھڑا ہو چکا تھا۔ اعلان کرنے والا اب ان کو سفر کی مزید تفصیلات سمجھا رہا تھا جس میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
تم نے روحیل سے پیسے کیوں منگوائے تھے؟ اب تک وہیں اسے وضاحتیں دیتی آئی تھی اور اب جہان کی باری تھی۔
کچھ اکاونٹس کا مسئلہ تھا نکلوا نہیں سکتا تھا۔ سو، روحیل سے لے لیے پھر واپس بھی بھجوا دیے تھے۔
ایک اور بات بتاؤ، کیا تمہیں واقعی میرا پردہ کرنا برا لگتا ہے؟
میں نے کب کہا کہ برا لگتا ہے؟ وہ دونوں دھیمی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ غبارہ گرم ہوا سے بھر چکا تھا اتنا زیادہ کہ اب وہ زور لگا کر ٹوکری کو ہوا میں اٹھانے لگا تھا۔ جیسے ہی ٹوکری اوپر اٹھی اندر بیٹھے سیاحوں میں شور سا مچ گیا، جوش خوشی، چہک۔ مگر بہارے گل ابھی تک اپنے بیگ میں کوئی ایسی شے تلاش رہی تھی جو وہ ڈھونڈنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
میں نے تو یوں ہی ایک بات پوچھی تھی، اگر مجھے پتا ہوتا کہ ارم سن رہی ہے تو میں ایسا کبھی نہ کرتا۔
اور تم نے مجھے برگر کنگ میں اس لیے بلایا تھا تا کہ میں تمہیں پاشا بے کے ساتھ دیکھ لوں۔
ہاں مگر میں چاہتا تھا کہ تم میرا مسئلہ سمجھو، نہ کہ مجھے برا سمجھو، مگرتم کسی کو جہنم میں بھیجتے ہوئے کہاں کسی کی سنتی ہو؟ وہ سن گلاسز کو اتار کر سامنے گریبان میں اٹکاتے ہوئے بولا تھا۔ حیا نے خفگی سے سر جھٹکا۔ بس ایک بات پکڑ لی تھی اس نے اب ساری زندگی دہراتا رہے گا۔
ٹوکری اب ہوا میں چار، پانچ فٹ اوپر اٹھ گئی تھی۔
پائیلٹ اپنے پروگرام کے مطابق ابھی کم اونچائی پہ فضا میں بیلون گویا تیرا رہا تھا۔ پھر کافی دیر بعد اس نے آہستہ بیلون اوپر اٹھانا تھا۔
بہارے گل! وہ اب سرد لہجے میں پکارتا اس کی طرف متوجہ ہوا، بہارے نے سر اٹھایا پھر تھوک نگلا۔
کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم نے میری بات کیوں نہیں مانی؟
میں نے کیا کیا ہے؟ وہ منہ بسورتے بولی۔
تم حیا کے ساتھ کیوں آئی ہو؟
میں اور حیا کپادوکیہ دیکھنے آئے ہیں۔ ہمیں تو پتا بھی نہیں تھا کہ تم ادھر ہو۔ کیا تم ہمارے لیے ادھر آئے ہو؟ کہہ کر اس نے تائیدی نگاہوں سے حیا کو دیکھا۔ حیا نے اثبات میں سر ہلایا۔ صبح ہی اس نے بہارے کو یہ بیان رٹوایا تھا۔
تم ہمیشہ میرے لیے مسئلے کھڑے کرتی ہو۔ تمہیں اندازہ ہے کہ تمہاری بہن کتنی پریشان ہے؟
برہمی سے اسے جھڑکتا اب وہ جہان نہیں عبدالرحمن لگ رہا گیا تھا یا پھر ترکی میں پہلے دنوں کا جہان۔
اگر تم نے مجھے ڈانٹا تو میں ٹوکری سے نیچے کود جاؤں گی۔ وہ ناراضی سے ایک دم بولی۔ حیا کا گویا سانس ہی رک گیا۔
بہارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اسے منع کرنا چاہا مگر۔
یہ تو بہت اچھا ہو گا، شاباش ،کودو! میں انتظار کر رہا ہوں۔ وہ ٹیک لگا کر بیٹھا اور کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی۔
بہارے خفا خفا سی کھڑی ہوئی اور ٹوکری کی منڈیر پہ دونوں ہاتھ رکھ کر نیچے جھانکا, پھر مڑ کر ان دونوں کو دیکھا۔
جہان! مت کرو۔ اس کا دل کانپ اٹھا تھا۔ وہ اٹھنے لگی
مگر جہان نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔
تم درمیان میں مت بولو۔ ہاں تو بہارے خانم! میں انتظار کر رہا ہوں۔ جلدی کودو۔ میرا وقت نہ ضائع کرو۔
ان کی طرف دوسرے سیّاح قطعًا متوجہ نہ تھے۔ وہ اپنی تصاویر میں مشغول تھے۔ بہارے منڈیر پہ ہاتھ رکھے جھکی۔ زمین کو دیکھا جو چھ سات فٹ دور تھی اور پھر ایک دم دھپ سے آ کر واپس بیٹھ گئی۔ عائشے گل کہتی ہے خودکشی حرام ہے۔ منہ پھلائے وہ خفا خفا سی بولی۔ حیا کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔ یہ چھوٹی بلی بھی نا۔
میں تمہیں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ جہان نے سر جھٹکا اور گردن پھیر کر ٹوکری سے باہر دیکھنے لگا۔ کپادوکیہ کی چاند سی سر زمین دِکھائی دے رہی تھی۔ پہاڑ, میدان, عجیب و غریب ساخت کے نمونے, جن کا بیان الفاظ میں نا ممکن ہے۔
غبارہ اب درختوں کی ایک قطار کے ساتھ فضا میں تیر رہا تھا۔ درختوں کے سِرے اور ٹوکری کی منڈیر برابر سطح پہ تھے۔ وہ خوبانی کے درخت تھے۔ پھلوں کے بوجھ سے لدی شاخیں اور ان کی رسیلی مہک۔
کیا ہم یہ توڑ سکتے ہیں؟ چھوٹی بلی کو اپنی ساری ناراضی بھول گئی۔
نہیں! حیا نے قطعیت سے نفی میں سر ہلایا۔
ہاں! جہان کہتے ہوئے کھڑا ہوا اور منڈیر پہ جھک کر قریب سے گزرتے درخت کی ایک ٹہنی کو ہاتھ بڑھا کر پکڑا۔
یہ مہمان نوازی کے درخت ہیں اور ادھر بیلون اس لیے اڑایا جا رہا ہے تا کہ تم ان کو توڑ سکو۔ حیران سی حیا کو وضاحت دیتے ہوئے اس نے ایک خوبانی کھینچ کر توڑی۔ پھل شاخ سے الگ ہوا تو شاخ فضا میں جھول کر رہ گئی۔
غبارہ آہستہ آہستہ اسی طرح ہوا میں تیرتا رہا۔ دنیا جیسے ٹرانسفارم ہو کر ہیری پوٹر کی کتابوں میں جا پہنچی تھی۔
کیا تم کھاؤ گی؟ اس نے پوچھا مگر انکار سن کر اس نے پھل بہارے کو تھما دیا۔ اس نے اپنے پرس سے پہلے رومال نکالا۔ اس سے خوبانی اچھی طرح رگڑ کر صاف کی, پھر کھانے لگی۔
عائشےگل کی بہن۔
تمہیں کس نے بتایا روحیل کے ولیمہ کا؟ اسے اچانک یاد آیا۔ دیرین کیو کے زیر ِزمین شہر میں جہان نے ذکر کیا تھا۔
جب تم اس سے فون پہ بات کر رہی تھیں تو میں وہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ وہ واپس آ چکا ہے اپنی بیوی کو لے کر؟ اس نے آبرو سوالیہ انداز میں اُٹھائی۔ حیا نے اسے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھ کے قریب لگا نشان دیکھ کر ہی تکلیف ہوتی تھی۔
ہم روحیل کے ولیمے تک واپس پہنچ جائیں گے نا جہان؟
ہاں شیور! بس دو دن مزید لگیں گے کپادوکیہ میں۔ پھر مجھے یہاں سے جانا ہے۔
غبارہ اپنے پنجوں میں ٹوکری کو اُٹھائےاب اوپر اُٹھتا جا رہا تھا۔ دور صبح کی سفیدی آسمان پہ پگھلنے لگی تھی۔ درخت نیچے رہ گئے تھے۔
پھر کہاں جاؤ گے؟
یہاں سے انقرہ، وہاں ایک کام ہے، پھر وہاں سے ایک چھوٹا سا گاؤں ہےترکی کے بارڈر پہ، ادھر جانا ہے، پھر ادھر سے شام۔
تو انقرہ سے ڈائریکٹ شام چلے جاؤ!
انقرہ اور شام کا بارڈر نہیں ملتا حیا!
بارڈر سے کیوں جاؤ گے؟ ائرپورٹ سے چلے جاؤ۔ اپنے تئیں اس نے اچھا خاصا مشورہ دیا تھا۔ جہان نے گردن موڑ کر تاسف بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔
مادام! ائرپورٹ پہ پاسپورٹ دکھانا ہوتا ہے اور میں ادھر ال لیگل ہوں بارڈر کراس کر کے آیا تھا رات میں۔ ایسے ہی واپس جاؤں گا۔
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسنی خیز لہر دوڑی۔
تم۔۔۔۔۔۔۔۔ تم غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر کے جاؤ گے؟ اس نے دبی آواز میں دہرایا۔ وہ دونوں اپنی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔
مجھے قانون کی پاسداری پہ کوئی لیکچر مت دینا۔ مجھے اسی طرح واپس جانا ہے۔ شام کیلئے ترکوں کا ویزا درکار نہیں ہوتا، مگر پاسپورٹ دکھانا پڑتا ہے۔
اچھا ٹھیک ہے! پھر کب جانا ہے؟
ابھی نہیں کل بتاؤں گا۔
دور، نیچے زمین بہت چھوٹی نظر آرہی تھی۔ وہ اب Fairy Chimneys کے اوپر سے اڑ رہے تھے۔ فیری چمنی یا پری بجلاری ایک قدرتی ساخت تھی جو لاوا سوکھنے کے بعد اس سر زمین پہ تشکیل پا گئی تھی۔ کافی فاصلے پہ اونچے اونچے ستون کھڑے تھے۔ جن کے سروں پہ ٹوپیاں تھیں۔ بالکل جیسے مشروم ہوتے ہیں۔ بس ان کھمبیوں کی ڈنڈیاں بہت اونچی تھیں۔
مطلب ہم باڈر تک ساتھ جائیں گے؟
حیا۔۔۔۔۔۔۔ ہم انقراہ تک ساتھ گئے یہ بہت ہے تم اب ادھر آ کر کیا کرو گی؟ وہ جیسے اکتا گیا۔
ہماری بات ترکی تک ہوئی تھی۔ ڈیل ڈیل ہوتی ہے بس۔ ہم بارڈر تک ساتھ ہیں۔
ویسے تم تو صرف کپادوکیہ دیکھنے آئی تھی- نہیں؟
اس کے انداز پہ حیا کا دل چاہا کہ وہ کہے کہ نہیں ہر گز نہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انا ہر دفعہ اڑے آ جاتی تھی۔
ہاں اور اب تمہاری وجہ سے میں زیادہ دن کپادوکیہ میں رہ بھی نہیں پاؤں گی۔ اس لیے اسے میرا احسان گرداننا۔ وہ بے نیازی سے شانے اچکا کہ بولی۔
ہاں میں نے یقین کر لیا۔ ویسے یہ جگہ دیکھ کر بتاؤ دنیا کا سب سے خوبصورت شہر کون سا ہے۔
اسلام آباد، آف کورس۔ وہ مسکرا کر بولی۔
تم دونوں کیا باتیں کر رہے ہو؟ بہارے یقینا ان دونوں سے بور ہو کر پنار کو مس کرنے لگی تھی۔ انسان کا ازل سے ابد تک کا مسئلہ۔ اسے اپنی تعریف کرنے والے ہمیشہ سے ہی اچھے لگتے ہیں۔
میں آتا ہوں تمہارے پاس۔ پھر وہ حیا کی طرف مڑا۔ اسے کچھ مت بتانا غلطی سے بھی نہیں۔
فکر نہ کرو مجھے راز رکھنے آتے ہیں۔
جہان نے ایک نظر اس کو دیکھتے ہوئے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔ وہ ایک نظر بہت اپنی اپنی سی تھی۔ جیسے وہ دونوں شریک راز تھے۔ اپنے تھے، رازوں کی اپنائیت، اسے بہت اچھا لگا تھا۔
تمہیں لگتا ہے میں بہت کم عقل ہوں؟ وہ اسی خوشگوار موڈ میں کہنے لگی اور تمہیں یہ بھی لگتا ہے کہ میں تمہاری باتیں سمجھ نہیں سکتی۔ مگر یو نو واٹ جہان! تم یہ بات ماننا ہی نہیں چاہتے کہ تمہاری بیوی تم سے زیادہ اسمارٹ ہو سکتی ہے۔ روانی میں”تمہاری بیوی” کب اس کے لبوں سے نکلا اسے پتا ہی نہیں چلا۔
جہان اس سارے میں پہلی دفعہ مسکرایا۔
میری بیوی،جتنی بھی اسمارٹ ہو مجھ سے دو قدم پیچھے ہی رہے گی۔ ویسے آپ کا پاؤں کیسا ہے؟
میرے پاؤں کو کیا ہوا؟ بالکل ٹھیک تو ہے۔ اس نے شانے اچک کر کہا۔ اس کا پاؤں اتنا ہی درد کرتا تھا جتنا پہلے دن کر رہا تھا مگر وہ ظاہر ہونے دے یہ نہیں ہو سکتا تھا۔
جہان نے مسکرا کر سر جھٹکا اور اٹھ کر بہارے کے ساتھ خالی جگہ پہ جا بیٹھا۔
جہان! اسے مت ڈانٹنا، میں اسے لے کر آئی ہوں، اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کب بہت اچھی لگتی ہو؟
وہ جو بولے جا رہی تھی ایک دم رکی آنکھیں ذرا سی حیرت سے پھیلی۔
کب؟
جب تم خاموش رہتی ہو۔
حیا کے ہونٹ بھینچ گئے۔ وہ چہرا موڑ کر خاموشی سے ٹوکری کے پار دیکھنے لگی۔
وہ دونوں اب دھیمی آواز میں اپنی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔ بیلون اب بجلاری کے عین اوپر ہوا میں کسی کشتی کی طرح تیر رہا تھا۔
* * * *
رات کا کھانا انہوں نے آشیانہ کے قالینوں والے ڈائیننگ روم میں کھایا،۔ جہان صبح سائیٹ سے ہی واپس ہو گیا تھا۔ اسے موہوم سی امید تھی کہ وہ کھانے کے وقت کہیں سے نمودار ہو جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کا دل کسی پنڈولم کی طرح امید اور نا امید کے درمیان گھومتا رہا یہاں تک کہ اس نے خود کو سمجھا دیا کہ وہ سارا دن ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا اس کے اپنے بھی کام ہیں۔
آشیانہ میں آج دو، تین مزید فیملیز آئی ہوئی تھی۔ پھر بھی مولوت بے اور مسز سونا ان کا پہلے دن جتنا خیال رکھ رہے تھے۔ رات میں وہ سوئی اور صبح فجر کیلئےاٹھی۔ نماز پڑھ کر دوبارہ سو گئی۔ دو، تین گھنٹے بعد دستک سے آنکھ کھلی۔
آبلہ آبلہ! فاتح پکار رہا تھا۔
ایک تو یہ آبلہ کا زبردستی کا بھائی بھی نا، آرام نہیں کرنے دے گا۔ وہ جب تک کلستی ہوئی دروازے تک آئی وہ جا چکا تھا۔ دروازے کی درز سے البتہ اس نے ایک چھوٹا سا لفافہ ڈال دیا تھا۔
اس نے جھک کر لفافہ اٹھایا، اسے کھولا، اس کے اندر رکھا سفید موٹا کاغذ نکالا اور یہ لکھائی جو وہ ہمیشہ پہچان سکتی تھی۔
۔ “I hope ladies are۔ rejoinnig at 2PM”
سطر پڑھ کر وہ بے اختیار مسکرا دی۔ یعنی وہ دو بجے مل رہے ہیں کدھر؟ جگہ اس نے نہیں لکھی تھی مگر وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ان کے پاس آئے گا پھر وہ اکھٹے کہیں جائیں گے۔
بعد میں جب اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو گلابوں کے بوکے بھی وہاں پڑا تھا۔ جو فاتح نے لفافے کیساتھ ہی رکھا ہو گا۔ وہ ان کو بھی اندر لے آئی اور صوفے کے ساتھ میز کے گلدان میں سجا دیا۔
گلاب کی تازہ دلفریب مہک دنیا کی سب سے خوبصورت مہک ہوتی ہے۔ بچپن میں اسے گلاب کی پتیاں کھانے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ وہ نہ میٹھی ہوتی نہ نمکین۔ بس کوئی الگ سا ذائقہ تھا۔ ابھی وہ یہ حرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ بہارے اٹھ جاتی اور اسے دیکھ لیتی تو کتنی شرمندگی ہوتی۔
بہارے نے ناشتے کے بعد وہ پھول دیکھے۔
یہ کہاں سے آئے ہیں؟
عبدالرحمن نے بھیجوائے ہیں۔ وہ بستر سمیٹ رہی تھی۔
کتنے پیارے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہارے ذرا رک کر بولی۔ کیا تم نے کبھی گلاب کی پتیاں کھائیں ہیں؟
وہ جو بیڈ کور طے کر رہی تھی، پلٹ کر اسے دیکھا۔
تمہیں لگتا ہے کہ مجھ جیسی ڈیسنٹ لڑکی ایسا کر سکتی ہے؟
سچ بولنے کا موڈ نہیں تھا اور جھوٹ وہ بولنا نہیں چاہتی تھی۔ سو الٹا سوال کر لیا
ڈھیر بجے وہ تیار ہو کر صوفے پہ بیٹھ تھیں۔ انتظار اس دنیا کی سب سے تکلیف دہ شے ہے۔ بار بار گھڑی کو دیکھنا جانے کب آئے گا وہ؟
اس نے پھر سے اس کا خط نکال کر پڑھا۔ دو بجے کا ہی لکھا تھا اس نے، وہ کاغذ واپس ڈالنے لگی پھر ٹھہر گئی۔
یوں تو وہ عام سی سطر تھی مگر کچھ تھا اس سطر میں جو غلط تھا۔ بہارے اس کے کندھے کے اوپر سے جھانک کر پڑھنے لگی۔
ہاں! یہ اسی نے لکھا ہے۔ یہ اسی کی لکھائی ہے۔ دیکھو! ہر ورڈ کا پہلا حرف بڑا لکھا ہے۔ جو چیز اسے الجھا رہی تھی بہارے نے اس کی نشان دہی کر دی۔ وہ ذرا سی چونکی۔
ہاں! مگر کیوں؟
جب اس نے مجھے سیاروں کے نام سکھائے تھے تو ایسے ہی لکھا تھا۔ دکھاؤں تمہیں؟ وہ چھٹ سے اپنا گلابی پرس اٹھا لائی اور اندر سے ایک گلابی ڈائری نکالی پھر کھول کر ایک صفحہ حیا کے سامنے کیا۔ اس پہ لکھا تھا
My Very Elegant Mother Just Served Us Nine Pizzas
یہ کیا ہے؟ اس نے اچنبھے سے وہ عبارت پڑھی. ہر لفظ کا پہلا حرف بڑا تھا۔
دیکھو! ہر بڑے حرف سے سیارے کا نام بنتا ہے. مائی کے ایم سے مرکری۔ ویری کے وی سے وینس۔ ای سے ارتھ اور اس طرح یہ فقرہ یاد کرنے سے مجھے سیاروں کی ترتیب یاد ہو گئی۔۔۔۔۔ سناؤں؟
نہیں مجھے یہ دیکھنے دو۔ اس نے جلدی سے ایک قلم اٹھایا اور جہان کے اس فقرے کے ہر بڑے حرف کو نیچے اتارا۔
اس سے بھی کوئی دوسرا فقرہ بنے گا شاید۔۔۔۔۔۔۔۔ الفاظ اس کے لبوں میں رہ گئے۔ وہ چھ حرف ایک ساتھ لکھے ہوئے اس کے سامنے تھے۔
I.H.L.A.R.A
اہلارا؟ اس نے بے یقینی سے دہرا کر بہارے کو دیکھا۔
اہلارا۔ بہارے گل چیخی۔
اللہ اللہ! قریبا بھاگتے ہوئے اس نے اپنا پرس اور عبایا اٹھایا۔ پھر گھڑی دیکھی۔ دو بجنے میں زیادہ قوت نہیں تھا۔
* * * *
وادی اہلارا کا نام اہلارا گاؤں کے نام پہ تھا۔ جو اس وادی کے قریب واقع تھا۔ یہ وادی یوں تھی کہ دو دیوہیکل چٹانیں چند کلو میٹر کے فاصلے پہ آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ ان کے درمیان سے دریا بہتا تھا اور جنگل ہی تھا۔ اطراف میں پہاڑ تھے۔ یہ درمیان کی وادی اہلارا وادی تھی۔ سیاح اکثر کپادوکیہ میں عشق وادی (لو ویلی) گل شہر (روز ویلی) اور اہلارا ویلی وغیرہ میں ٹریکنگ کے لیے آیا کرتے تھے۔
اہلارا کا ٹریک یہ تھا کہ ایک چٹان سے دوسری چٹان تک دریا کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جانا تھا۔ اصل ٹریک سولہ کلو میٹر لمبا تھا مگر دو شارٹ کٹ بھی بنے تھے۔ ایک سات کلو میٹر جبکہ دوسرا ساڑھے تین کلو میٹر لمبا تھا۔
یہ اس کا اندازہ تھا کہ آپریشن کے باعث وہ بہت زیادہ پیدل نہیں چل سکتا ہو گا اس لیے وہ انہیں سب سے چھوٹے ٹریک کے دہانے پہ مل جائے گا۔ مولوت بے نے انہیں وہیں ڈراپ کر دیا تھا۔ دو کب کے بج چکے تھے اور ان کو کافی دیر ہو چکی تھی۔ وہ ان سے پہلے کا پہنچ چکا تھا۔ سیاحوں کی چہل پہل میں بھی دور سے حیا نے اسے دیکھ لیا تھا۔
ایک بڑے پتھر پہ بیٹھا سر پہ پی کیپ کندھے پہ بیگ اور گلاسز سامنے گرے شرٹ پہ اٹکے ہوئے۔ وہ ان ہی کو دھوپ کے باعث آنکھیں سکیڑ کر دیکھ رہا تھا۔
وہ درمیانی رفتار سے چلتی بہارے کا ہاتھ تھامے اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔ اسے جہان پہ غصہ تھا۔ کیا تھا اگر وہ انسانوں کی زبان میں بتا دیتا کہ اہلارا ویلی آ جاؤ۔ اگر جو وہ یہ کوڈ نہ جان سکتی اگر وہ جو نہ مل سکتی تب؟ لیکن تب بھی وہ اسی پہ ملبہ ڈال دیتا۔ آخر وہ اس جیسی اسمارٹ تھوڑی تھی۔
وہ دونوں اس کے قریب آئی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
میری لغت میں دو بجے کا مطلب ایک بج کر پچپن منٹ ہوتا ہے۔ اور اب ٹائم دیکھو! وہ سنجیدگی سے سرزنش کر رہا تھا۔
کاش اس کی یہ لغت کتابی شکل میں ہوتی تو وہ اسے اٹھا کر اف!۔
اچھا پھر واپس چلی جاتی ہوں۔
خیر اب تو میں نے اتنا وقت ضائع کر لیا ہے اب چلتے ہیں۔ ہاتھ سے درختوں کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ وہ خود بھی چل پڑا۔
تم نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں کہ میں کیسی ہوں؟ بہارے نے احتجاجا اسے اپنی موجودگی کااحساس دلانا چاہا۔
سوری تم کیسی ہو؟ بجاۓ جھڑکنے کہ وہ معذرت کرنے لگا۔ بہارے بہت اچھی کہہ کر اسے آشیانہ کے بارے میں بتانے لگی۔ جہاں دنیا کی سب سے اچھی لڑکی پنار رہتی تھی۔
اچھا! ہاں، حیا! اس کی بات سنتے سنتے اس نے ایک دم حیا کو پکارا۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔ تمہیں آئیڈیا نہیں ہوا کہ ہم نے ٹریک پہ جانا ہے۔ میں نے تو صبح ہی بتا دیا تھا (میری سمجھ میں اب آیا یو ایڈیٹ)
ہاں تو
اور تم ان جوتوں کے ساتھ آئی ہو۔ ذرا خفگی سے کہتے ہوۓ اس نے حیا کے جوتوں کو دیکھا حیا نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں نظر جھکائی اور ایک کراہ اس کے لبوں سے نکلتی نکلتی رہ گئی۔ اللہ اللہ وہ جلدی میں وہی سرخ ہیل پہن آئی تھی۔
ہاں میں ان جوتوں میں دو گھنٹے پیدل چل سکتی ہوں اور ڈی جے نے ہی تو کہا تھا کہ کوئی بھی چیز انسان کو نہیں ہرا سکتی جب تک وہ ہار نہ مانے۔
شیور تمہارا پاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میرا پاؤں۔ چلو اب! وہ اکتا کر بولی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: