Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 67

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 67

–**–**–

وہ اکتا کر کہتی آگے بڑھ گئی۔ بہارے نے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑ دیا۔
وہ گھنے درختوں میں آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ دریا ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ دونوں اطراف خشک اونچی چٹانیں تھیں جن میں غار کی صورت چرچ بنے تھے۔ تھوڑی دور جا کر ہی اس کا پاؤں جواب دینے لگا تھا۔ وہ موچ جس کو وہ کب سے نظر انداز کرنے لگی تھی شاید موچ سے بڑھ کر تھی۔
ابھی وہ زیادہ دور نہیں گئے تھے جب جہان نے کہا ذرا رک جاتے ہیں۔ بائیں جانب چٹان میں سیڑھیاں بنی تھیں جو اوپر ایک غار نما چرچ میں جاتی تھیں۔ وہ ان سیڑھیوں پر چڑھتے اوپر آ گئے۔ بہارے کو اس نے اپنا کیمرا دے کر چرچ کی تصاویر بنانے بھیج دیا اور وہ خود سیڑھیوں کے دہانے پہ اوپر نیچے بیٹھ گئے۔
کیا تم مجھ سے خفا ہو؟ وہ نیچے گہری وادی دریا اور چٹانیں دیکھ رہی تھی۔ اس کے دوستانہ انداز پہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔
تمہیں ایسا کیوں لگا؟
یونہی۔ حالانکہ اب تو میں تمہیں اپنے ساتھ بارڈر تک بھی لے جا رہا ہوں مگر تم ہمیشہ خفا رہتی ہو۔ کہنے کے ساتھ اس نے کندھے سے اپنا بیگ اتارا اور اندر سے ایک طے شدہ کاغذ نکالا۔
نہیں! میں خفا نہیں ہوں اور تمہارا پروگرام۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نے اسے نقشہ کھول کر دونوں کے درمیان میں پھیلاتے دیکھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔
دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کپادوکیہ ہے۔ جہاں ہم ہیں۔ اس نے نقشے پہ ایک جگہ انگلی رکھی۔ حیا نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس پل وادی اہلارا پہ ہر سو چھایا سی تن گئی تھی۔ ٹھنڈا میٹھا سا موسم اور نیچے بہتے دریا کا شور۔
یہ رہا ترکی اور شام کا بارڈر۔ اس نے بارڈر کی موٹی لکیر کو انگلی سے چھو کر بتایا۔ یہاں ترکی کا چھوٹا سا قصبہ ہے کیلیس (kilis) نام کا۔ ہمیں کیلیس جانا ہے۔ وہاں سے یہ بارڈر کراس کر کے میں ادھر شام کے شہر ایلیپو (Aleppo) چلا جاؤں گا۔ کیلیس سے بارڈر قریباً تین کلو میٹر دور ہے۔ منگل کی رات ٹھیک ڈھائی بجے مجھے یہ بارڈر کراس کرنا ہے۔ وہاں سے تم واپس چلی جاؤ گی اور پھر میں خود ہی پاکستان آ جاؤں گا۔
اللہ اللہ! وہ اتنی خطرناک باتیں کتنے آرام سے کر لیتا تھا۔
کیا بارڈر کراس کرنا اتنا آسان ہو گا؟ وہ متذبذب تھی۔ دل کو عجیب سے واہمے ستانے لگے تھے۔
حیا! ترکی اور شام کا بارڈر آسان ترین بارڈر ہے۔ یہ نو سو کلو میٹر لمبا ہے۔ اب کیا سارے نو سو کلو میٹر پہ پہرہ لگا سکتے ہیں بارڈر فورسز والے؟ نہیں نا۔ سو یہاں صرف خاردار تاریں ہیں جن میں بہت سے سوراخ ہیں۔ ہر رات کتنے ہی لوگ اس بارڈر کو پورے پورے اہل و عیال سمیت کراس کر لیتے ہیں۔ وہ بہت بے نیاز سے انداز میں نقشہ لپیٹتے بتا رہا تھا۔ حیا نے اچنھبے سے اسے دیکھا۔
اور بارڈر سیکیورٹی فورسز؟ وہ کیوں نہیں ان لوگوں کو پکڑتیں؟
وہ صرف ان کو پکڑتیں ہیں جو خود چاہیں۔ اگر ہم نہ پکڑے جانا چاہیں تو فورسز ہمیں نہیں پکڑ سکتیں۔
مگر جہان! میں نے تو سنا ہے کہ اس بارڈر پہ بارودی سرنگیں ہوتی ہیں جو پاؤں پڑنے پہ پھٹ سکتیں ہیں۔ وہ جتنی پیشان ہو رہی تھی وہ اتنا ہی پرسکون تھا۔
اوہ! مجھے پتا ہے کون سی سرنگ کہاں ہے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ فکر مت کرو۔
وہ کچھ دیر اسی طرح باتیں کرتے رہیں پھر اس نے گردن اٹھا کر سورج کو دیکھا۔
میں ذرا نماز پڑھ لوں۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ جہان نے اس کے سرخ جوتوں کو دیکھا۔
جب تم وضو کرنے کے لیے یہ جوتے اتارو گی تو میں انہیں دریا میں پھینک دوں گا۔ حیا نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
تو میں انہیں اتاروں گی ہی نہیں۔ میرا دین بہت آسان ہے۔
وہ نیچے اتری اور دریا سے وضو کر کے صاف جوتوں کو پھر سے صاف کر کے ان ہی میں نماز پڑھی۔ جب وہ واپس آئی تو جہان اور بہارے چرچ کے داخلی دروازے کے پاس آمنے سامنے کھڑے تھے۔
تمہاری عادت نہیں گئی چھپ کر باتیں سننے کی! تم کیوں کر رہی تھی ایسا؟ وہ غصے سے اسے کہہ رہا تھا۔ سر جھکاۓ کھڑی بہارے نے منمنانا چاہا۔
میں نے کچھ نہیں سنا۔ بس تھوڑا سا خودبخود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہارا خودبخود اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ میری بات کان کھول کر سن لو۔ اگر تم نے اس بات کا ذکر کسی سے بھی کیا تو میں برا پیش آؤں گا۔ تمہیں سمجھ میں آیا جو میں نے کہا۔
تبھی جہان نے حیا کو دیکھا تو سر جھٹک کر اس تک آیا۔
کیا وہ ہماری باتیں سن رہی تھی؟ حیا نے تعجب سے اسے دکیھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں میرا نہیں خیال اس نے کچھ خاص سنا ہو۔ بہرحال میں اسے خبردار کر رہا تھا۔
تم پریشان مت ہو اگر اس نے کچھ سنا بھی ہو گا تو سمجھ میں کہاں آیا ہو گا۔
جہان نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔
وہ اپنی بہن کی جاسوس ہے۔ ایک ایک بات ادھر بتاۓ گی۔ اس پہ نظر رکھنا۔ یہ کسی کو فون نہ کرے۔
اس کا فون تو آشیانہ میں پڑا تھا چارج پہ لگا تھا۔ تم فکر نہ کرو واپس جا کر میں فون ہی لے لوں گی۔
جہان کچھ کہے بنا سیڑھیاں اترنے لگا۔
حیا نے پیچھے مڑ کر بہارے کو دیکھا پھر آنے کا اشارہ کیا۔
وہ خاموشی سے سر جھکاۓ اپنا گلابی پرس مضبوطی سے پکڑے ان کے پیچھے چلنے لگی۔
اس کا فون اس کے گلابی پرس کے اندرونی خانے میں رکھا تھا۔
#آخری_باب
آنے اپنی مخصوص کرسی پہ بیٹھیں سلائیوں کو مہارت سے چلاتی سوئیٹر بن رہی تھیں۔ اون کا گولا لڑھک کر ان کے قدموں کے قریب گرا پڑا تھا۔
عائشے گل ان سے فاصلے پہ بڑے صوفے کے ایک کونے پہ ٹکی اون کے گولے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہیں دھاگے پہ جمی تھیں مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا زندگی اب اون کے گولے کی سی لگتی تھی۔ کوئی اسے کب بن دے کب اڈھیر دے سلائیاں اس کے ہاتھ میں تو تھی ہی نہیں۔
عائشے تمہارا فون بج رہا ہے۔ آنے کے پکارنے پہ وہ چونکی گود میں رکھا موبائل کب سے بج رہا تھا۔
اس نے نمبر دیکھا اور پھر ایک معصوم سی مسکان نے اس کے لبوں کو چھو لیا۔
بہارے! نمبر پہ لکھا نام دیکھ کر اس نے پیار سے آنے کو بتایا اور سبز بٹن کو دبا کر فون کان سے لگایا۔
سلام علیکم! اس نے مسکرا کر سلام کیا تھا۔
میں ٹھیک ہوں، تم سناؤ، ترکی والے کیسے ہیں؟ اس کی مسکراہٹ اور بھی خوبصورت ہو گئی تھی۔ آنکھوں میں طمانیت کے سارے رنگ اتر آۓ تھے۔
ہاں، بتاؤ، کیا ہوا؟ اس کے الفاظ سن کر آنے نے بے اختیار سلائیاں چلاتے ہاتھ روک کر اسے دیکھا۔
اسی پل عائشے سیدھی ہو کر بیٹھی۔ اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔
کون سا بارڈر؟ ترکی اور شام کا؟ اس نے آہستہ سے دہرایا تھا۔ آنے فاصلے پہ بیٹھی تھیں۔ انہیں سنائی نہیں دیا تھا۔ مگر انہوں نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ضرور تھا۔ وہ ان کو یوں دیکھتے پا کر زبردستی مسکرائی تھی پھر معذرت خواہانہ نظروں سے گویا اجازت طلب کرتی اٹھ کر کچن میں آ گئی۔
آنے نے ذرا حیرت سے اسے گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ کچن کے کھلے دروازے سے کاؤنٹر کے پیچھے کھڑی فون پہ بات کرتی نظر آ رہی تھی۔ آنے واپس سلائیوں کی طرف متوجہ ہو گئی تھیں۔
ہاں کہو پھر میں سن رہی ہوں۔ کاونٹر پہ کہنی رکھ کر جھکے کھڑی عائشے نے ایک محتاط نظر باہر لاؤنج میں کھڑکی کے نزدیک بیٹھی آنے پہ ڈالی۔ وہ اب اس کی طرف متوجہ نہیں تھیں۔
ذرا اونچا بولو اتنا آہستہ میری سمجھ نہیں آ رہا۔ کیا کوئی آس پاس ہے؟ اس نے رک کر سنا اور پھر اثبات میں سر ہلایا۔ ٹھیک ہے مجھے ساری بات سمجھاؤ اب۔
اس نے پھر ادھ کھلے دروازے سے جھانکا۔ آنے اپنی بنائی میں مصروف تھیں۔
کیا؟ ایک منٹ۔ کیلیس کے کس طرف ہے وہ بارڈر؟ وہ تیزی سے فریج کی جانب بڑھی اور اس کے دروازے سے نصب ہولڈر سے پین نکالا اور ساتھ ہی آویزاں نوٹ پیڈ کے اوپری صفحے پہ تیزی سے لکھنے لگی۔ منگل کی رات، یعنی پیر اور منگل کی درمیانی رات، دو سے تین بجے، وہ الیگل بارڈر کراس کرے گا، اچھا، اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ روانی سے چند الفاظ گھسیٹنے لگی ہاں، ٹھیک ہے، میں سمجھ گئی۔ اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پین واپس ہولڈر میں رکھا اور نوٹ پیڈ کا صحفہ پھاڑ کر تہہ کر کے مھٹی میں دبا لیا۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھتی ہوں۔ کیا ہوا؟ کوئی آ گیا ہے؟ اچھا تم فون رکھو، ہم بعد میں بات کرتے ہیں، مرحبا! اس کا مرحبا ادا ہونے سے پہلے ہی فون بند ہو گیا تھا۔ اس نے ایک نظر موبائل کو دیکھا اور پھر چند گہرے گہرے سانس لے کر اپنے حواس بحال کیے۔ دل ابھی تک یونہی دھڑک رہا تھا۔
راز بھی ایک بوجھ ہوتے ہیں جنہیں سہارنے کیلئے بہت مضبوط اعصاب ہونے چاہیے۔ اس نے ہاتھ میں تہہ شدہ کاغذ پہ نگاہ دوڑائی۔ اس معلومات کے ساتھ اسے کیا کرنا چاہیے؟
ترکی کا تم پہ فرض ہے عائشے۔ اپنے دل سے پوچھو کہ اگر تمہیں یہ معلوم ہو جاۓ کہ ایک مجرم، ترکی کا ایک قومی مجرم، غیر قانونی طریقے سے بارڈر پار کر رہا ہو، تو تمہیں کیا کرنا چاہیے؟
اس نے اپنے دل سے پوچھنا چاہا۔ عجیب سا ہیجان اور تذبذب ہر جگہ غالب تھا۔
تمہیں بارڈر سکیورٹی فورس کے کمانڈر کو فعن کرنا چاہیے۔ تمہیں ان کو بتانا چاہیے سب کچھ تا کہ وہ اسے گرفتار کر سکیں۔ مگر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عائشے گل یہ سب کیسے کرے گی؟ عائشے گل تو کبھی بھی کچھ نہیں کر سکتی!
اس نہج پہ وہ ایک دم چونکی۔
عائشے گل کبھی کچھ نہیں کر سکتی! عبدالرحمن اسے ہمیشہ کہا کرتا تھا یہ۔ اس کا پسندیدہ جملہ۔
مگر اس وقت یہ فقرہ کسی تیر کی طرح اسے آ لگا تھا۔ وہ شکستہ قدموں سے چلتی واپس لاؤنج کے بڑے صوفے پہ آ ٹکی۔ آنے نے سلائیوں سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا۔
کیا کہہ رہی تھی بہارے؟ عائشے نے ٹھیک سے بات سنی نہیں، اور گردن نفی میں ہلا دی۔ وہ کہیں اور ہی گم تھی۔
کیا اسے عبدالرحمن کو دکھا دینا چاہیے کہ عائشے گل بہت کچھ کر سکتی ہے؟
کیا واقعی؟
* * * *
وہ چلتے چلتے اس جنگل نما علاقے تک آ پہنچے تھے۔
اونچے سرسبز درخت اور ان کے درمیان سے دریا کسی تنگ جھرنے کی طرح بہہ رہا تھا۔ پانی کے اوپر پل کی صورت میں لکڑی کے پھٹے لگے ہوۓ تھے اور درمیان میں لکڑی کا ایک بڑا سا تخت تھا۔ تخت پہ سرخ قالین بچھا تھا اور اس کے تین سائیڈز پہ منڈیر بنا کر گاؤ تکیے لگے تھے۔ چوتھی طرف منڈیر نہ تھی تاکہ وہاں ٹانگیں لٹکا کر بیٹھو تو پانی پیروں کو چھوئیں۔
سبز پانی سبز درخت اور اوپر نیلا آسمان۔ پل کے اس پار جھونپڑے سے بنے تھے جن میں سے ایک سے وہ ابھی ابھی نماز پڑھ کے نکلی تھی۔ ظہر سے عصر تک وہ چلتے ہی رہے تھے اس مقام پہ جہان انہیں چھوڑ کر اپنے کسی کام سے چلا گیا تھا۔ اس کو ایک گھنٹے تک آنا تھا۔ وہ اس اثناء میں کھانا کھا کر اب نماز سے فارغ ہوئی تھی۔ باہر نکل کر دیکھا تو بہارے پل کے تخت پہ بیٹھی، پیر کے انگوٹھے سے پانی میں دائرے بنا رہی تھی۔
حیا نے اپنی سرخ ہیلز اتار کر اندر جھونپڑے میں رکھ دیں۔ (جہان کون سا دیکھ رہا تھا) اور پاؤں سے ذرا سا عبایا اٹھائے ننگے پیر چلتی پل تک آئی۔ بہارے کے ساتھ بیٹھ کر اس نے پاؤں پانی میں ڈالے تو وہ ٹخنوں تک سبز مائع میں ڈوب گئے۔
جہان کا ترکی واقعی خوبصورت تھا۔
عبدالرحمن کب آئے گا؟ بہارے گود میں رکھے اپنے گلابی رس پہ لگے موتی پہ انگلی پھیرتی پانی کو دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
آ جائے گا ابھی۔ تم نے اتنی دیر کیا کیا؟ اس نے گردن موڑ کر مسکراتے ہوئے بہارے کو دیکھا۔ وہ کھانے کے بعد جب نماز پڑھنے لگی تھی تو بہارے باہر آ گئی تھی۔
کچھ بھی نہیں کیا۔ اس نے بجھے بجھے چہرے کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔ جہان کی ڈانٹ کا اثر ابھی تک باقی تھا۔
کیا تم اس لیے اداس ہو کہ اس نے تمہیں ڈانٹا ہے؟
وہ ہر وقت ڈانٹتا ہے مگر میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔
سامنے سے ایک پرندہ اڑتا ہوا آیا پانی کی سطح سے اپنے پنجے ٹکراتے ہوۓ اپنی چونچ میں ذرا سا پانی بھرے بغیر رکے پھر پھڑپھڑاتا اڑتا گیا۔
کیا تم نے واقعی ہماری باتیں سنی تھیں؟ استفسار کرتے ہوۓ بھی وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے کچھ سنا ہو گا تو بھی وہ سمجھ نہیں پائی ہو گی۔
نہیں سنا میں نے کچھ۔ سب مجھے ہی کیوں الزام دیتے ہیں؟ وہ خفگی سے کہتی سر اٹھا کر دور جاتے پرندے کو دیکھنے لگی جو اوپر آسمان پہ اڑتا جا رہا تھا۔
شاید اس کیلئے چونچ بھر پانی ہی کافی تھا۔ اس کی وسعت بس اتنی ہی تھی۔
اچھا پھر اداس کیوں ہو؟
حیا کیا میں جب پندرہ سال کی ہو جاؤں گی تو شادی کر سکوں گی؟
اور حیا کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
تمہیں ایسی بات کیوں سوجھی بہارے؟
غنچہ کی شادی بھی پندرہ سال کی عمر میں ہوئی تھی نا۔
غنچہ کون؟
ہماری جدیسی میں رہتی تھی، ہم سب لوگ گئے تھے ان کی شادی پہ عبدالرحمن بھی گیا تھا۔ تصویر بھی ہے میرے پاس۔ دکھاؤں؟
حیا نے میکانکی انداز میں سر ہلایا۔ بہارے نے اپنا پرس کھولا اندرونی خانے کی زپ کھولی اور ایک لفافہ نکالا۔ اسے اس کے موبائل کی جھلک نظر آئی تھی۔
تمہارا فون تمہارے پاس تھا؟ اس کو اچھنبا ہوا۔ میں سمجھی تم نہیں لائی۔
میں لے آئی تھی چارجنگ ہو گئی تھی۔
کیا میں اسے دیکھ سکتی ہوں؟ حیا نے فون لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تو بہارے نے جلدی سے زپ بند کر کے پرس پرے کر لیا۔
میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ تم میرا یقین کیوں نہیں کرتیں؟ میں اچھی لڑکی ہوں۔ حیا نے گہری سانس بھری۔
چھا ٹھیک ہے میں تمہارا یقین کرتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ بہارے گل اچھی لڑکی ہے اور اچھی لڑکیاں کبوتر نہیں بنتیں۔ وہ باتیں ادھر سے ادھر نہیں کرتیں۔ اس نے ہاتھ واپس کھینچ لیا تھا۔ جہان تمہیں جو بات آگے بتانے سے منع کر رہا تھا وہ تم عائشے کو نہیں بتاؤ گی پرامس؟
بہارے نے لیکن کہنے کے لیے لب کھولے پھر بند کر دیے۔ پھر سر جھٹک کر لفافے سے ایک فوٹو گراف نکال کر حیا کے سامنے کیا۔ بس میرے اس اس کا یہی فوٹو ہے۔ حیا کو دکھاتے ہوئے بھی بہارے نے تصویر کا کنارہ سختی سے پکڑ رکھا تھا اتنی سختی سے کہ اس کا ناخن پیلا سفید پڑ گیا۔ وہ اب پانی کے قریب کوئی بھی چیز بے احتیاطی سے پکڑنے کا خطرہ نہیںلے سکتی تھی۔ پانی کھوئی ہوئی چیزیں کبھی بھی لوٹایا نہیں کرتا تھا۔
وہ شادی کے فنکشن کی تصویر تھی۔ کورٹ میں نکاح تھا۔ فرنٹ رو کی نشستوں پہ وہ تینوں بیٹھے تھے۔ بلیک سوٹ اور گرے شرٹ میں ملبوس وہ بس ذرا سا مسکرا رہا تھا۔ ساتھ بیٹھی بہارے اور عائشے بھی مسکرا رہی تھیں۔ مصنوعی فیملی جو اب ٹوٹ گئی تھی۔
پتہ ہے ہماری شادیوں میں نکاح کے بعد دلہا دلہن کی کرسی اٹھاتا ہے۔
ہاں میں جانتی ہوں تا کہ وہ علامتی طور پہ یہ ثابت کر سکے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔
مگر غنچہ اتنی موٹی تھی کہ اس کے دلہا سے کرسی اٹھائی ہی نہیں گئی۔ پھر وہ ذرا رکی۔ مگر تم عائشے کو مت بتانا کہ میں نے یوں کہا۔
اگر تم وہ بات جو جہان نے منع کیا ہے کہ عائشے کو نہیں بتاؤ گی تو میں بھی اسے نہیں بتاؤں گی۔
اس نے جیسے زبان دانت مگر عائشے تو پہلے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے جیسے زبان دانتوں تلے دبائی۔
کیا اسے پہلے ہی پتہ ہے؟ حیا نے بغور اسے دیکھا۔ بہارے نے جھٹ گردن نفی میں ہلائی۔ میں کسی کو نہیں بتاؤں گی۔ پرامس!
اس نے تصویر احتیاطاً خط کے لفافے میں ڈالی اور اسے بیگ میں رکھ دیا۔
کچھ تھا جو حیا کو ڈسٹرب کر رہا تھا۔ کچھ غلط تھا کہیں۔ مگر خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور تم یہ شادی کی باتیں مت سوچا کرو۔ اچھا؟ اسے تنبیہہ کرنا یاد آیا۔
بہارے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر نفی میں گردن ہلائی۔
میں تمہیں نہیں بتاؤں گی کہ میں کس سے شادی کروں گی۔
وہ کیوں؟
سامنے دریا کنارے درخت کا ایک پتا ہوا سے پھڑپھڑا رہا تھا۔ جب ہوا کا بوجھ بڑھا تو وہ ایک دم شاخ سے ٹوٹ کر نیچے گرا۔
تم برا مانو گی۔ سمجھو میں نے ایسا کہا ہی نہیں۔
ہوا نے پتے کو اپنے پروں پر سہارا دیے آہستہ آہستہ نیچے اتارا یہاں تک کہ پانی نے اسے نرمی سے ہوا کے ہاتھوں سے لیا اور اپنے اوپر لٹا دیا۔
تمہیں پتا ہے عبدالرحمن نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ مر جائے تو میں اسے جنازہ ضرور دوں گی۔
کیا؟ وہ ششدر رہ گئی۔ سانس رکا اور دل بھی دھڑکنا بھول گیا۔
اہلارا کے دریا کی سطح پہ درختوں اور آسمان کا عکس جھلملا رہا تھا۔ اس عکس پہ تیرتا پتا ان کی سمت آ ٓرہا تھا۔
ہاں اس نے بہت دفعہ ایسا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو ان باتوں کو۔ اس نے خفیف سا سر جھٹکا۔ پتا نہیں کیوں وہ ہمیشہ آگے کی پلانگ تیار رکھتا تھا چاہے وہ مرنے کی ہی کیوں نہ ہو۔
اس نے گرن اٹھا کر سامنے دریا کو دیکھا۔ وہاں سے چٹانیں اور غار دکھائی نہیں دیتے تھے مگر جب وہ بیلون میں اوپر اڑ رہے تھے تب وہ نظر آئے تھے۔ بالکل ویسے جیسے ڈاکٹر ابراہیم کی دی گئی کینڈی کے ریپر پہ بنے تھے۔
بہارے! اسے ایک دم یاد آیا۔ یاد ہے عائشے کہا کرتی تھی کہ قرآن پاک میں نشانیاں ہوتی ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں؟ اور تم نے کہا تھا کہ تم جانتی ہو وہ اس روز ہمیں کیا بتانا بھول گئی تھی۔
ہاں! بہارے نے اثبات میں سر ہلایایا۔
پتا بہتا ہوا ان کے قدموں کے قریب آرہا تھا۔ جیسے ہی وہ مزید آگے آیا بہارے نے اپنے پاؤں سے اس کا راستہ روکنا چاہا۔
حیا کو احساس ہوا کہ وہ دونوں پتے کو دیکھ رہ تھیں بہارے نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی اس نے نہیں کی۔
عائشے نے بتایا ہی نہیں تھا کہ آخر میں جنگ کون جیتا۔
بہارے نے اپنے پیر سے پتے کو واپس دھکیلا۔ وہ ذرا پیچھے ہوا پھر اسی رفتار سے واپس آیا۔ اب کے بہارے نے اسے نہیں روکا۔ وہ ان دونوں کے پیروں کے درمیان سے گزرتا تخت کے نیچے بہتا چلا گیا۔
مسلمان جیتے تھے۔ یہ تو مجھے پتا ہے۔ حیا کو حیرت ہوئی۔ یہ تھی وہ بات جس کو جاننے کے لیے اسے بہت تججس تھا؟
مگر مجھے نہیں پتا تھا سو میں نے اسٹوری بک سے پڑھ لیا تھا بعد میں۔ ساتھ ہی بہارے نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔ بچھڑا ہوا پتا اپنے درخت سے بہت دور پیچھے کو بہتا چلا جا رہا تھا۔
بس؟ یہی بات تھی؟
ہاں! بہارے نے سر اثبات میں ہلایا۔
حیا کو مایوسی ہوئی تھی۔ یہ تو سامنے کی بات تھی کہ مسلمان ہی جیتے تھے, تو پھر؟ بہارے نے سمجھا عائشے بتانا بھول گئی ہے۔ جبکہ عائشے نے اس لیے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ سب جانتے ہیں کہ احزاب کی جنگ مسلمانوں نے جیتی تھی۔ یہ کوئی اہم بات تو نہیں تھی۔
شاید ڈاکٹر ابراہیم اسے یہی بتانا چاہ رہے تھے کہ آخر میں یہ جنگ وہ جیت جائے گی۔ پھر بھی کہیں کچھ مسنگ تھا۔ کچھ تھا جو وہ پھر مِس کر گئی تھی۔ اس نے خفیف سا سر جھٹکا۔ پتا نہیں۔
بہارے ابھی تک گردن موڑے دور جاتے پتے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ پتا جسے اب کبھی اپنے درخت کے پاس واپس نہیں آنا تھا۔
* * * *
جہان آیا تو وہ لوگ اہلارا گاؤں آ گئے۔ اب شام ہو رہی تھی سو وہ وہیں سے واپس ہو لیا جبکہ انہوں نے کیب لے لی اور وآپس آشیانہ آ گیئں۔
جہان نے کہا تھا کل یہاں سے روانہ ہونا ہے۔ اسی حساب سے وہ آج پیکنگ کر رہی تھی.۔نار رات میں چائے دینے آئی تو ان کو سامان سمیٹتا دیکھ کر افسردہ ہو گئی۔
میری منگنی ہو گی سرما میں کیا تم لوگ آؤ گے؟ میں تمہیں ضرور انوائیٹ کروں گی۔
میں ضرور آؤں گی! بہارے نے چہک کر کہا پھر حیا کو دیکھ کر مسکراہٹ ذرا سمٹی۔ میرا مطلب ہے شائد آؤں!
ہوں! پنار مسکرا کر اس کا گال تھپتھپاتی باہر نکل گئی۔
عائشے کہتی ہے جب میں اس کے پاس آجاؤں گی تو ہم دونوں دور کسی دوسرے ملک چلے جائیں گے جہاں پاشا بے نہ ہو اور جہاں ہم عائشے اور بہارے بن کر رہیں, منی اور حمنہ نہیں اور پھر وہاں ہم بہت سا پڑھیں گے بھی سہی۔
میں کیا کہہ سکتی ہوں؟ اس نے شانے اچکاتے ہوئے اپنے سفری بیگ کی اندرونی زپ کھولی۔ ایک خانہ ذرا پھولا ہوا تھا۔ اوہ اسے یاد آیا۔ اس نے اس خانے سے وہ سیاہ مخملیں ڈبی نکالی۔
اپنا فراک تہہ کرتی بہارے وہ ڈبی دیکھ کر ٹھٹکی پھر اس کے پاس چلی آئی۔ حیا نے ڈبی کھولی۔ اندر سیاہ مخمل پہ وہ نازک سا نیکلیس جگمگا رہا تھا۔ حیا نےنگاہیں اُٹھا کر بہارے کو دیکھا۔
پہلے اس کی آنکھوں میں حیرت اتری پھر الجھن اور پھر سمجھ کر اس نے نفی میں سر جھٹکا۔
یہ وہ نہیں ہے۔ یہ وہ نہیں ہو سکتا۔ کیا تم نے اسے خریدا ہے؟
میں نے اور عبدالرحمن نے مل کر اسے خریدا ہے ادالار کی شہزادی کے لیے۔
بہارے نے اپنے فراک کو آخری تہہ دی اور پلٹ کر اسے بیگ میں ڈالا۔ جیسے وہ افسردہ ہو گئی تھی۔
یہ میرے پاس نہیں رہے گا حیا میں نے اپنا موتی عبدالرحمٰن کو دیا اس نے مجھے دے دیا مگر وہ باسفورس میں گر گیا۔ عائشے نے بھی اپنے موتی عبدالرحمٰن کو دیے۔ اس نے وہ تمہیں دے دیے۔ اب یہ بھی مجھ سے گم ہو جائے گا۔ میں یہ نہیں لوں گی۔
مگر یہ میں نے تمہارے لیے لیا ہے بہارے!
بہارے بیگ چھوڑ کر اس تک آئی۔ مخمل پر سے اُٹھایا, اس کے ہک کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا پھر اسے حیا کی کلائی کے گرد لپیٹ کر اس کا ہک آخری کنڈے کے بجائے, کلائی کے گھیر کے برابر ایک کنڈے میں ڈال دیا یوں کہ نیکلیس کلائی کے گرد پورا آ گیا اور ایک لڑی سی ساتھ لٹکنے لگی, جیسے بریسلٹ کی لٹکتی ہے۔
یہ اب تمہارا ہو گیا! وہ پہلی دفعہ مسکرائی تھی۔
حیا نے کلائی کو گھما کر دیکھا۔ زنجیر سے لٹکتے ہیرے بہت بھلے لگ رہے تھے۔ عین سائیڈ پہ ایک لمبا سا کنڈا خالی تھا۔
حیا تم نے پھر سیپ ڈھونڈے؟
حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
بس ایک دفعہ۔
اس میں سے کیا نکلا؟ حیا چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر نفی میں گردن ہلائی۔
پتہ نہیں بس وہ کوئی اچھی چیز نہ تھی۔
مگر تھا کیا؟
جانے دو۔ اس نے پھر سے اپنی کلائی ک دیکھا۔ اوپر تیسری انگلی میں پلاٹینئم بینڈ تھا۔ وہ دونوں بلا واسطہ یا بلواسطہ جہان کے ہی تحفے تھے۔
شکریہ بہارے! وہ ذرا سا مسکرائی۔ تحفہ تو تحفہ ہوتا ہے نا۔
کیا میں پھر کبھی عبدالرحمن سے نہیں مل سکوں گی؟ بہارے اب صوفے کے کنارے جا ٹکی تھی۔
نہیں کبھی نہیں۔ تمہیں اب اس بارے میں سوچنا چھوڑنا ہو گا۔ وہ اپنی باقی چیزیں سمیٹنے لگی۔ مسلسل حرکت سے کلائی سے لٹکتی زنجیر ادھر ادھر جھول رہی تھی۔
میں کل انقراہ سے ایران چلی جاؤں گی اپنی بہن کے پاس۔ تم لوگ پھر کدھر جاؤ گے۔
دیکھو۔ پتا نہیں۔
کیا تم لوگ کیلیس جاؤ گے۔
اس کے متحرک ہاتھ ٹھہر گئے۔ اس نے سر اٹھا کر بہارے کو دیکھا۔ تم نے اس وقت کچھ سنا تھا نا بہارے۔ کیا سنا تھا؟
بس اتنا سا! مگر جان بوجھ کر نہیں خودبخود۔۔۔۔۔۔۔
اور تم نے کیا سنا؟
عبدالرحمن کیلیس کا نام لے رہا تھا۔ کیا کوئی کیلیس جا رہا ہے؟ واللہ مجھے نہیں پتہ وہ کس کی بات کر رہا تھا۔اس نے ساتھ میں قسمیہ انداز میں ہاتھ سے کان کی کو کو چھوتے ہوئے چچ کی آواز نکالی۔
اور تم نے عائشے کو بتائی یہ بات؟
نا۔۔۔۔۔۔ نہیں! بہارے ذرا سے اٹکی تھی۔ جہان نے کہا تھا کہ اس نے اگر سنا ہو تب بھی وہ کچھ نہیں سمجھے گی۔ اس نے اپنی عقل کی بجائے جہان کی عقل پہ بھروسہ کرنا زیادہ منسب سمجھا اور واپس پیکنگ کرنے لگی۔ بہارے سے انہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔
بیگ کی ایک زپ میں ڈی جے کی ٹوٹی عینک رکھی تھی۔ اس نے احتیاطا اسے وہاں سے نکال کر اپنے ہینڈ بیگ کے اندرونی خانے میں رکھ دیا جہاں سفید رومال میں کچھ لپٹا ہوا رکھا تھا۔ اور پھر بیگ کی زپ زوں کی آواز کے ساتھ زور سے بند کی۔
کل انہیں انقراہ جانا تھا۔
* * * *
آشیانہ کی فیملی اور فاتح ان کو سی آف کرنے آشیانہ کے صحن میں کھڑے تھے۔ اتنے دن یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہوٹل میں نہیں بلکہ کسی ک گھر میں ٹھہرے ہوئے ہوں۔ اب ایک ایک کو خدا حافظ کہنا مسز سونا اور پنار کے گلے لگ کر دوبارہ آنے کا بے یقین کھوکھلا وعدہ کرنا سب بہت اداس کرنے والا تھا۔ اس کی آنکھیں بار بار بھر رہی تھیں۔ ترکی میں اگر اس نے بہت کچھ کھویا تھا تو بہت کچھ پایا بھی تو تھا۔ کبھی جو وہ سود و زیاں کا حساب کرنے بیٹھے گی تو پانے والا پلڑا شاید بھاری نکلے۔
* * * *
جہان نے بہارے کے سارے کاغذات اسے پہنچا دیے تھے البتہ انقراہ میں وہ خود انہیں نہیں ملا تھا۔ حیا نے اسے ایئر پورٹ پہ سی آف کرنا تھا اور تہران میں اس کی بہن نے ریسیو کر لینا تھا۔
بہارے ایئرپورٹ پہ آخری وقت تک داخلی احاطے کو دیکھتی رہی تھی۔ شاید وہ آ جائے۔
وہ نہیں آئے گا بہارے اس نے کہا تھا کہ وہ نہیں آ سکے گا۔
بہارے کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ پس منظر میں اعلان ہونے لگا تھا۔ اب ان دونوں کو الگ ہونا تھا۔
کیا ہم پھر کبھی نہیں ملیں گے حیا؟
اس کی بات پہ حیا نے گہری سانس بھری اور بہارے کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھی پھر اس کے دونوں ہاتھ تھام کر کہنے لگی۔
بہارے گل! زندگی میں انسان کو ہر چیش ویسے نہیں ملتی جیسے اس نے سوچی ہوئی ہے۔ سب ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتا اور جو ہم کہتے اور سوچتے ہیں وہ تو کبھی نہیں ہوتا۔پہلے ہم نے سوچا تھا کہ ہم ایک دوسرے سے رابتیں میں رہیں گے مگر یہ نہیں ہوسکا۔ اور اب ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم کبھی دوبارہ مل نہیں پائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ یہ بھی نہ ہو۔
اس کے ہاتھوں میں اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ دیے کھڑی بہارے اس بات پہ چونکی پھر ایک انوکھی سی چمک اس کے چہرے پہ امڈ آئی۔
ہاں بہارے! ہو سکتا ہے زندگی کہ کسی موڑ پہ کسی شاپنگ مال میں کسی ریسٹورنٹ میں کسی فلائٹ کے دوران ہم کئی سال بعد اچانک سے ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں۔ زندگی میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔
ہاں! واقعی! مگر پھر اس کا چہرہ ذرا سا بجھا۔ لیکن میں تمہیں کیسے پہچانوں گی؟ تم تو نقاب کرتی ہو۔
اگر قدرت نے کبھی ہمیں کسی ناممکن کنڈیشن میں آمنے سامنے کر دیا تو وہ پہچان بھی کروا دے گی۔
اب کے بہارے کھل کر مسکرائی۔ بہت دیر بعد اس نے بہارے کے معصوم اداس چہرے پہ وہ مسکراہٹ دیکھی تھی۔
حیا سلیمان بہارے گل تم سے بہت پیار کرتی ہے! اس نے باری باری حیا کے دونوں رخسار نقاب کے اوپر سے چومے۔
اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہارے گل چلی گئی۔
زندگی کا ایک باب ٹھک سے بند ہوا۔
جہان کی جاب کا اصول تھا کہ ایک اسائنمنٹ کے لیے ان تعلقات کی ضرورت پڑے تو ان کو پھر سے بحال کیا جا سکتا تھا۔
بس ایک موہوم سی امید تھی وہ بھی کہ شاید پھر کبھی وہ چاروں اکٹھے ہو سکیں مگر بہت موہوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے تیز آندھی میں ٹمٹماتی موم بتی کا شعلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* * * *
کھڑکی سے چھن کر آتی روشنی کتاب کے صفحوں پہ بڑھ رہی تھی جو اس نے اپنے سامنے پھیلا رکی تھی۔ وہ الفاظ پہ نگاہیں مرکوز کیے ہوئے بھی ان کو نہیں پڑھ پارہ تھی۔ ذہین کہیں اور تھا۔ دل پر عجیب اداسی سی چھائی ہوئی تھی۔ جب تک بہارے واپس نہ آجاتی وہ یوں ہی افسردہ رہتی۔ یہ وہ وجہ تھی جس سے وہ خود کو بہلا لیتی کہ ہاں یہ اداسی صرف بہارے کی وجہ سے ہے۔
مگو وہ جانتی تھی کہ جب وہ آجائے گی تو بھی یہ افسردہ رہے گی۔ بس تب ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہانہ ختم ہوجائے گا۔
کھڑکی کی جالی سے ہوا کا تیز جھونکا آیا تو کتاب کے صفحے اس کے ہاتھ میں پھڑ پھڑا کر رہ گئے۔ اس کی زندگی کا ایک باب بھی کتاب کی اس صفحے کی مانند تھا جسے کسی نے بے دردی سے پھاڑ دیا ہو یوں کہ کوئی نشان جلد سے لگا کاغذ کا کوئی ٹکڑا باقی نا رہا ہو۔
عائشے گل نے کتاب بند کر کے پتائی پہ ڈال دی۔ اس کا دل کسی شے کے لیے نہیں چاہ رہا تھا۔
زندگی کا وہ باب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدالرحمن پاشا ایک اجنبی جو ان کی زندگیوں میں آیا اور پھر ان کی پوری زندگی بن گیا۔ وہ کتنا اچھا اور سلجھا ہوا ویل مینرڈ اور نفاست پسند آدمی تھا۔ اس کی ہر چیز پرفیکٹ تھی ۔ وہ اس کے ساتھ بھی بہت اچھا تھا۔ جب عثمان نے اپنے بیٹے کا رشتہ پاکستان میں طے کر دیا اور سفیر ان سے ناراض ہو گیا تھا تب بھی عبدالرحمن کے کہنے پہ ہی اس نے بار بار سفیر سے اس موضوع پہ بات کی۔ عبدالرحمن کو جب بھی کوئی خاص کام ہوتا وہ اس کے پاس آیا کرتا تھا۔ جیسے اس رات وہ حیا کو لے کر آیا تھا۔
اس رات تو وہ اسے عبدالرحمن لگا ہی نہیں تھا۔ اتنا رف حلیہ بے چین مضطرب بکھرا بکھرا سا۔ مگر جب اس رات کی صبح ہوئی تو وہ ہی پرانا والا عبدالرحمن بن گیا بلکہ وہ بن گیا جو وہ اس تھپڑ کے بعد بنا تھا۔
اچھی لڑکیاں جلدبازی نہیں کرتیں مگر اس سے ہوگئی تھی۔ وہ تھپڑ اس کے اور عبدالرحمن کے درمیان ایک ایسی سرد دیوار بن گیا جسے وہ کبھی پاٹ نا سکی۔ اس نے عائشے کو اس تھپڑ کیلئے معاف کبھی نہیں کیا تھا اور اب تو وہ ان سے بہت دور جاچکا تھا
بہارے آنےاور وہ خود وہ سب اسے بھلا دیں کیا؟ پاشابے تو آپنے کاموں میں مصروف سطحی سا آدمی تھا مگر آنے؟ اس نے نگاہ اٹھا کہ دیکھا۔
کمرے کے دوسرے کونے میں آنے بیٹھیں سویئٹر بن رہیں تھیں پچھلے اور اس سے پچھلے دونوں سرما میں انہوں نے عبدالرحمن کیلئے سوئیٹر بنے تھے اس دفعہ بھی وہ اپنی روٹین دوہرا رہیں تھیں وہ دیکھتی تھی کہ کس طرح آنے فون کی بیل،دروزے کی دستک اور ہر آہٹ پہ چونکتیں پھر عبدالرحمن کی خیر خبر نہ پا کر آپنے مایوسی سے اپنے کام کرنے لگتیں کیا وہ سب نارمل زندگی گزار پائیں گے؟
شائد ہاں شائد نہیں۔
مگر ابھی اسے کیا کرنا ہے؟
بلاوز کی جیب سے طے کیا کاغذ نکالا اسے کھولا یہ ترقی کی امانت ہے کیا اسے لوٹا دہنی چاہیئے؟
اس نے گردن پھیر کر کیلینڈر کو دیکھا آج ہفتہ تھا اور یہ معلومات اسے پرسوں، یعنی پیر یا منگل کی درمیانی شب کے بارے میں تھی اب صحیح وقت آن پہنچا تھا۔
وہ ایک فیصلے پہ پہنچ کر اٹھی اور آپنا پرس اٹھا لیا۔
تقریبا آدھے گھنٹے کے فاصلے پہ وہ آپنے گھر سے بہت دور ایک پےفون پہ کھڑی،کارڈ دال کر ایک نمبر ملا رہی تھی
دیکھ لو عبدالرحمن عائشے گل کیا کر سکتی ہے۔
ریسیور کان سے لگائے اسنے طے کیا ہو کاغذ سامنے کھول کر رکھ لیا ساتھ ہی کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی۔ ان کو اس کی کال ٹریس کرنے میں نوے سیکنڈ لگنے تھے وہ اسی سیکنڈ بعد کال کاٹ دے گی۔
کال ملنے کے دسویں سیکنڈ میں اس کا رابطہ موجودہ کمانڈر سے ہو گیا۔
میرے پاس آپ کیلئے بڑی ٹپ (مخبری) ہے۔
آپ کون ہیں اور کہاں سے بول رہیں ہیں؟
بھاری آواز والے مرد نے کال لمبی کرنے کی کوشش کی تھی۔
جھوٹ بولنا نہیں چاہتی اور ظاہر ہے سچ بتاوں گی نہیں۔ میرا وقت ضائع نہ کریں۔ وہ ٹپ (مخبری) سنیں جو میرے پاس ہے۔ وہ تیزی سے بولی۔
پچیس سیکنڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
دل تھا کہ تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
جی’ جی کہے دوسری جانب کال ریکارڈ کی جانے لگی تھی۔ ریڈ الرٹ۔
منگل اور پیر کی درمیانی شب کے دن دو بجے کے قریب کیلیس سے تین کلو میٹر دور، ترقی اور شام کی سرحد کو کوئی کراس کرے گا اس کے بہت سے نام ہیں مگر میں اپ کو وہ بتاؤں گی جو آپ جانتے ہیں۔
چالیس سیکنڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون سی چوکی کے قریب سے؟ وہ نوٹ کر رہے تھے۔
عائشے جلدی جلدی وہ تمام چیزیں دوہرانے لگی جو اس نے کاغذ پہ لکھ رکھی تھیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں جو اہم تھیں۔
اطلاع دینے کا شکریہ کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ اپنا پرگرام نہیں بدلے گا؟
اسی سیکنڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں! مرحبا! اس نے کھٹ سے ریسیور رکھا اور پھر دل پہ ہاتھ رکھ کر چند گہری سانسیں اندر اتاریں۔
اللہ اللہ اس نے کر ہی لیا۔ یہ تو ذرا بھی مشکل نہیں تھا۔
اب وہ آہستہ آہستہ سانس لیتی آپنے پھولے تنفس کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ دل تھا کہ بری طرح دھڑک رہا تھا۔
(عبد الرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو، عائشے گل کیا کچھ کر سکتی ہے!)
وہ پلٹی اور سر جھکائے تیز تیز چلتی کیب اسٹینڈ کی جانب بڑھی اسے جلد سے جلد گھر پہنچنا تھا تاکہ آنے کو شک نہ ہو۔
* * * *
چھت سے کھلی، گرے سپورٹ کار کشادہ ہائی وے پہ دوڑتی جا رہی تھی۔ وہ کہنی دائیں طرف کھڑکی پہ ٹکائے بند مٹھی سے گال کو سہارا دیے آنکھیں موندیں کچی پکی نیند میں تھی۔ گرم ہوا سے سیاہ اسکارف پھڑپھڑا رہا تھا۔ دفعتا کار کو زرا سا جھٹکا لگا تو اس کا چہرا آگے کو لڑھکا مگر اگلے ہی پل وہ آنکھیں کھول کر سنبھل کر پیچھے ہوئی
سامنے لمبی ہائی وے کے افق پہ سورج طلوع ہو رہا تھا ہوا میں گرمی کی شدت بڑھ گئی تھی سڑک کی دونوں اطراف خشک اور ویرانہ تھا دور پہاڑ تھے
میں سو گئی تھی؟وہ آنکھیں ملتے جیسے خود سے پوچھا
نہیں مادام! آپ کل رات سے ڈرائیو کر رہیں ہیں سو تو میں رہا تھا۔
حیا نے بائیں جانب دیکھا جہان دونوں ہاتھ سٹیرنگ وہیل پہ رکھے ڈرائیو کر رہا تھا نیلی جینز پہ نیلی شرٹ کی آستین کہنیوں تک موڑے آنکھوں پہ سیاہ گلاسز لگائے جس سے آنکھ کے قریب زخم کا نشان صاف نظر آرہاتھا
کیا ہم کیلس پہنچ گئے؟ اس نے گردن ادھر ادھر گھمائی موٹروے کی اطراف کا مخصوص ویران علاقہ
نہیں!سو جاو جب پہنچ گئے تو تمہیں اٹھا دوں گا
ہوں!حیا نے اثبات میں سر ہلایا اور گردن سیٹ کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں جہان نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا پھر افسوس سے سر جھٹکا
حیا خانم!فرنٹ سیٹ پہ بیٹھنے کے جو ایتھکس(اخلاقیات) ہوتے ہیں ان میں دوسرا نمبر کس چیز کا ہوتا ہے؟
میں نے سیٹ بیلٹ پہن رکھی ہے بند آنکھوں سے کہتے اس نے ہاتھ سے آپنی سیٹ بیلٹ کو چھو کر یقین دہانی کی
وہ پہلا اصول ہے دوسرا فرنٹ سیٹ پہ سونے کی ممانعت کے حوالے سے ہے
نیند ویسے ہی ٹوٹ گئی تھ اوپر سے اسکے طنزوہ آنکھیں کھول کر پوری طرح جاگ کر سیدھی ہوئی۔
تمہارے منہ سے ایتھکس کا لفظ کتنا خوبصورت لگتا ہے نا جہان!
کیوں؟ چند ایک باتوں کے علاوہ میں ایک ڈیسنٹ انسان ہوں۔ وہ برا مان گیا۔ حیا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
تھینک یو ویری مچ جہان سکندر! ورنہ میں انقرہ سے یہاں تک یہی سوچتی آرہی ہوں کہ یہ کار تمہاری اپنی ہے یا چوری کی؟
جہان نے ایک خفا نگاہ اس پہ ڈالی- رینٹ کی ہے کہہ کر سامنے دیکھنے لگا۔
ہم کیلیس کب پہنچے گے؟
ڈرائیو تو میں کر رہا ہوں تم تو سوتی آئی ہو پھر؟
ایک تو پتا نہیں ہر ڈرائیو کرنے والا یہ کیوں سمجھتا ہےکہ اسکے علاوہ باقی تمام مسافر تھک نہیں سکتے؟
اوہ تمہارا پاوں تو نہیں دکھ رہا؟
نہیں ٹھیک ہے اور تمہارا سر درد؟ اس نے پھر جارحیت کے پردے میں دفاع کیا.
میں ٹھیک ہوں! حیا نے چہرہ موڑ کر بغور اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔
آخری دفعہ سچ کب بولا تھا؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: