Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 68

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 68

–**–**–

ابھی دس سیکنڈ پہلے جب میں نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔
وہ جانتی تھی کہ اگر اس کے سر میں درد ہوا تو بھی وہ نہیں بتائے گا۔
چند لمحے خاموشی سے گزرے۔ باہر چلتی گرم ہوا کے تھیپڑوں کے سوا کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
ہم کیلیس کب پہنچیں گے؟اس نے اب ذرا اکتا کر کوئی تیسری دفعہ پوچھا۔
دو گھنٹے لگیں گے۔ میں نے نہیں کہا تھا کہ تم آو تم خود مصر تھیں۔
شکایت تو نہیں کر رہی۔ ٹائم ہی پوچھ رہی ہوں۔
کوئی سترہویں دفعہ پوچھ رہی ہو۔ وہ باقاعدہ برا مان گیا تھا۔ اور تم تو کپادوکیہ دیکھنے آئی تھیں۔ پھر کیلیس آنے کی کیا ضرورت تھی؟
میری مرضی! اس نے بے نیازی سے شانے اچکائے۔ یہ کہہ نہیں سکتی تھی کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ اسے کھو نہ دے۔
گاڑی اسی طرح سنسان سڑک پہ دوڑ رہی تھی۔ شاز و نادر ہی آس پاس اکا دکا گاڑی گزر جاتی ورنہ ہر طرف سنہری سی خاموشی تھی۔
ہم کیلیس میں کہاں رہیں گے؟ کبھی کبھی بہارے گل بننے میں کوئی حرج نہیں ہوتا سو اس نے ایک اور سوال کیا۔
ایک سیف ہاوس ہے۔ رات وہی رہیں گے، آج اتوار ہے ۔کل پیر کا دن بھی وہی گزاریں گے۔ پھر کل رات میں بارڈر پہ چلا جاوں گا اور تم پرسوں صبح تم استنبول چلی جاو گی۔ پھر پرسوں رات تم پاکستان کی فلائیٹ لے لو گی۔ اب اگر کہتی ہو تو اکہترویں دفعہ سارا پلان دہرا دیتا ہوں۔
اتنی بری لگ رہی ہوں تو نہ لاتے مجھے۔ تم نے ایک دفع بھی منع نہیں کیا اور فورا راضی ہو گئے۔ تم اندر سے خود یہی چاہتے تھے کہ میں تمہارے ساتھ آوں!
واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ جہان نے مسکراہٹ دبائے سر جھٹکا۔ وہ یقینا اس کے سونے سے بور ہو رہا تھا اور چاہتا تھا کہ وہ جاگ جائے اور جلی کٹی ہی سنائے مگر بولتی رہے مگر مجال ہے جو یہ آدمی اعتراف کر لے۔
وہ خفگی سے منہ موڑے بائیں طرف دیکھتی رہی۔ پاکستان میں ڈرائیونگ سیٹ بائیں طرف ہوتی تھی اور ترقی میں دائیں جانب، سو وہ جہان کے بائیں جانب بیٹھی تھی۔
سورج اب پوری طرح سے نکل آیا تھا۔ کل رات جب انقرہ میں ہوٹل سے جہان نے اسے پک کیا تھا تب سے اب تک وہ حالت سفر میں تھے۔
ویسے اب بتاو دنیا کا سب سے خوبصورت شہر کون سا ہے؟ وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔
اسلام آباد! وہ بے نیازی سے بولی۔
اچھا! اسٹیرنگ وہیل گھماتے ہوئے جہان نے اثبات میں سر ہلایا۔ اور ہیلن آف ٹرائے کے ٹرائے کا ذکر تو سنا ہو گا نا تم نے؟
ہاں! اس کا یہاں کیا ذکر؟ وہ دور نظر آتے پہاڑوں کو دیکھ کر بولی۔
ٹرائے کا تاریخی شہر ترکی میں ہی واقع ہے۔ ہاں وہ ہیلن آف ٹرائے کی کہانی ترکی کی ہی ہے۔
اچھا! جہان نے اپنے تئیں اسے متاثر کرنے کی کوشش کی مگر حیا نے ذرا اثر نہیں لیا۔ وہ ابھی ڈی جے کی دوست ہونے کا حق ادا کرنا چاہتی تھی۔
جہان کچھ دیر دانت سے لب دبائے کچھ سوچتا رہا پھر ایک دم اس نے گردن موڑ کر حیا کے اس طرف دور سے نظر آتے پہاڑوں کو دیکھا اور ایک مسکراہٹ اس کے لبوں پہ آ گئی۔
اس پہاڑ کا نام معلوم ہے تمہیں؟
حیا اسی طرف دیکھ رہی تھی بس ذرا سے شانے اچکائے۔
نہیں۔
یہ ماونٹ نمروت ہے۔ کہہ کر حیا کے چہرے کے تاثرات دیکھے۔
اچھا! وہی بےنیازی۔
نہیں، تم نہیں سمجھیں۔ یہ ماونٹ نمروت ہے۔ نمروت کو تو تم جانتی ہو گی؟
کون؟ اس کے لبوں سے پھسلا۔ پھر اسے یاد آیا ترکوں کے جو نام ت’ پہ ختم ہوتے تھے وہ ہمارے یہاں”د” پہ ختم ہوتے تھے۔ احمت سے بنا احمد۔ مولود سے بنا مولوت۔ اور نمروت سے بنا۔۔۔۔۔۔۔
نمرود؟ بادشاہ نمرود؟ وہ چونکی۔
ہاں! وہی نمرود۔ اور یہ وہی پہاڑ ہے جہاں ابراہیم علیہ سلام کو آگ میں اتارا تھا۔
اللہ اللہ یہ وہ پہاڑ ہے؟ یہ پہاڑ ترکی میں ہے؟ اس کو حیرت کا جھٹکا سا لگا۔ وہ سیدھی ہو بیٹھی۔ وہ بھورا سا پہاڑ جو ان سے بہت دور تھا کافی دیر سے ان کے ساتھ چلا آ رہا تھا۔
یہ تھا وہ پہاڑ؟ وہ پانچ ماہ سے ترکی میں تھی اور اسے کبھی پتا نہیں چلا کہ وہ سارا قصہ آج کے ترکی میں ہوا تھا۔
جہان اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر آسودہ سا مسکراتے ہوئے ڈرائیو کر رہا تھا اور وہ اپنا اسلام آباد بھلائے بنا پلک جھپکے اس پہاڑ کو دیکھ رہی تھی۔
وہ چار ہزار سال پرانا قصہ۔ وہ جس کا ذکر پرانی کتابوں میں ملتا ہے۔ وہ اس پہاڑ پہ پیش آیا تھا بالکل اسی پہاڑ پہ جب حضرت ابراہیم علیہ سلام کو، ان ابراہیم علیہ سلام کو جنہیں یہودی، عیسائی اور مسلمان سب اپنا پیغمبر مانتے ہیں۔ ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا۔ وہ اگ جو جلا دیتی تھی۔ جو راکھ کر دیتی تھی۔ مگر وہ آگ ان کیلئے گلزار بن گئی تھی۔ نرم گلابوں کی طرح۔
پھر ہر کسی کے پاس قلب سلیم نہیں ہوتا نا۔ اور جانے اس سلیم دل کو حاصل کرنے کے لیے پہلے انسان کو کتنا جلنا پڑے یہاں تک کہ آگ اس پہ اثر کرنا چھوڑ دے۔ ہاں تپش اثر کرنا چھوڑ دیتی ہے جب جل جل کر انسان کندن بن جاتا ہے اور پھر لوگ پوچھتے ہیں آپ کو عبایا میں گرمی نہیں لگتی؟ اور حجابی لڑکی حیران ہوتی ہے گرمی؟ کون سی گرمی؟
اس نے بے اختیار بازو کے اوپری حصے کو چھوا جہاں داغے گئے تین حروف آج بھی ویسے ہی تھے۔ ?WHO وہ کون تھی؟
ہاں، بہت گنہگار، بہت غلطیاں کرنے والی ہی سہی۔ بہت نافرمان قسم کی مسلمان ہی سہی مگر سامنے اس پہاڑ پہ نقش تحریر سے ایک امت ہونے کا رشتہ تو تھا ہی اور زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جب کسی مسلمان کو خون سے ابلتے جوش، بازو پہ کھڑے ہوتے رونگٹوں اور فرط جذبات میں بھیگتی آنکھوں کیساتھ اپنے مسلمان ہونے پہ فخر محسوس ہوتا ہے۔ اس کے لیے بھی وہ ایک ایسا ہی لمحہ تھا۔
* * * *
کیلیس قریب آیا تو نمروت داغ (کوہ نمرود) دور ہوتا گیا۔ مگر اس کا سحر ابھی تک قائم تھا۔ جہان بتا رہا تھا کہ نمروت داغ پہ نمروت کے بڑے بڑے مجسمے پڑے ہیں جن کے سر کاٹ دیے گئے ہیں۔ اب وہ کٹے ہوئے سر پہاڑوں کے قدموں میں جابجا پڑے ہیں اور سیاح ان پہ اسٹول کی طرح بیٹھ کہ تصاویر بنواتے ہیں جو سر جھکتے نہیں اسی بری کاٹ دیے جاتے ہیں۔ چلو وقت انسان سے جو بھی چھینے، کم از کم اس بات کا فیصلہ تو کر ہی دیتا ہے کہ کون تاریخ کے درست طرف تھا اور کون غلط طرف۔
کیلیس سے ذرا دور وہ ایک گیس اسٹیشن پہ روکے تو جہان نے کہا کہ وہ ادھر قریبی سٹور سے گفٹ لینا چاہتا ہے۔ کس کے لیے؟ اس نے نہیں بتایا۔ یقینا اپنے میزبانوں کیلئے۔ وہ بھی گاڑی سے نیچے اتر آئی۔
اسٹور میں آ کر وہ پرفیوم والے ریک کی طرف چلا گیا۔ خالص زنانہ پرفیومز۔ اسے شبہ ہوا کہ وہ کسی لڑکی کیلئے شاپنگ کر رہا ہے۔ عجیب سا لگا۔ خیر۔ وہ میک اپ سیکشن میں کاسمیٹکس الٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگی۔ پھر یاد آیا کہ کاجل خریدنا تھا۔ اس کا کب کا ختم ہو چکا تھا۔ اب استعمال بھی ذرا کم کرتی تھی۔ پتہ نہیں یہاں سے کیسا ملے۔
کاجل اسٹکس کی ٹوکری سے جیسے ہی اس نے ایک کاجل اٹھایا ایک یاد چھم سے آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
ترکی آنے سے قبل وہ چند روز جب اس نے اور ڈی جے نے اکٹھی شاپنگ کی تھی۔ انہی میں سے ایک دن وہ ایک شاپ کے کاسمیٹکس سیکشن میں کھڑی تھیں۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سے اچھا اور اعلی میک اپ برانڈ کون سا ہے؟ اس نے لپ گلوس ہونٹوں پہ لگا کر چیک کرتی حیا کو ماہر تصور کر کے پوچھا تھا۔
۔Mac میک! اس نے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔
آہاں ڈی جے سیلز گرل کی طرف مڑی۔ ایک میک کا کاجل دکھا دیں۔
سیلز گرل نے فورا میک کا کاجل نکال کر سامنے کیا۔
خوبصورت ڈبی جدید انداز۔ ڈی جے آنکھوں میں ستائش ابھری۔
کتنے کا ہے؟ اس نے الٹ پلٹ کر ڈبی دیکھتے ہوئے پوچھا۔
آٹھ سو روپے کا۔
ڈی جے کا منہ کھل گیا۔
یہ ایک آٹھ سو روپے کا؟
سیلز گرل نے شائستگی سے اثبات میں سر ہلایا۔
ڈی جے نے ہاتھ میں پکڑے کاجل کو دیکھا اور پھر سیلز گرل کو۔ پھر حیاکی طرف ہو کر سرگوشی کی۔
۔ Be Pakistani and Buy Pakistani ساتھ ہی ٹھک سے کاجل کاؤنٹر پہ رکھ کر قطعیت سے سیلز گرل سے بولی۔
دکھائیں بھئی وہی اپنا پینتیس روپے والا ہاشمی کاجل۔
منظر نگاہوں کے سامنے سے تحلیل ہو گیا اور نگاہیں دھندلا گئیں۔ پھر بھی وہ دھیرے سے ہنس دی اور آنکھیں رگڑیں۔ یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کبھی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔
وہ کاجل لیے بغیر (کہ اب پاکستان سے ہی لے گی) جہان کی طرف چلی آئی۔ وہ ایک پرفیوم خرید چکا تھا اور اب پے منٹ کر رہا تھا۔
اتنا چھوٹا سا اسٹور ہے تمہیں کیسے پتا کہ اتنا مہنگا پرفیوم جو لے رہے ہو وہ اوریجنل ہے یا نقل؟ جہان کو ٹوکنا تو قومی فریضہ تھا اس کے لیے۔
جہان نے بقایا پیسے پکڑتے ہوئے مڑ کر سنجیدگی سے اسے دیکھا اور پھر لفافے سے فیوم نکال کر ڈبی سے شیی باہر نکالی۔ پھر شیشی کی اسپرے نوزل اپنی انگلی کے قریب لے جا کر اسپرے کیا۔
دیکھو یہ کتنا فائن اور برابر اسپرے ہوا ہے۔ اگر نقلی ہوتا تو ذرا پچکڑی کی صورت اسپرے ہوتا۔ اور میں نے کئی بار پیس کر کے دیکھا ہے کیونکہ پہلی دفعہ میں تو اوریجنل پرفیوم پریس کرنے پہ بھی اسپرے اتنا فائن نہیں ہوتا۔ اس نے ہاتھ پہ لگی پرفیوم کو انگلیوں سے مسلا پھر شیشی کا نوزل حیا کے سامنے کیا۔ دیکھو یہ نوزل کتنا پتلا ہے اور اوریجنل پرفیوم کا ہمیشہ پتلا ہوتا ہے۔ جبکہ اسی برانڈ کے نقلی پرفیوم کا نوزل ذرا کھلا ہو گا۔ پھر وہ شپر میں پریوم ڈالتا پلٹ گیا۔
اس نے بس اثبات میں سر ہلایا۔ اس آدمی کے پاس ہر مسئلےکا حل ہوتا تھا۔
جب وہ کیلیس کی گلیوں سے گزر رہے تھے تو وہ سوچنے لگی کہ کیسے، آخر کیسے اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا تھا؟ یہ ساری باتیں کوئی سکھا تو نہیں سکتا تھا۔ یہ خود سیکھی جاتی ہیں۔ تجربے سے۔ مشاہدے سے۔ ہاں وہ یقینا کسی مسئلے کی وجہ سے اکتا جاتا ہو گا مگر پھر عام لوگوں کی طرح اس چیز کو ٹھپ کر بیٹھ نہیں جاتا ہو گا بلکہ اس کا حل ڈھونڈتا ہو گا۔ اور ڈھونڈنے سے تو سب مل جایا کرتا ہے۔ ہاں وہ اسٹرگل کرنے والوں میں سے تھا۔ وہ اس سے متاثر ہوئی تھی۔ مگر خیر یہ بات اسے کہے گی تو وہ بھی نہیں
کیلیس چھوٹا سا قصبہ تھا۔ تنگ مگر صاف گلیاں خوانچہ فرش، پھلوں اور سبزیوں کی ریڑھیاں پاکستان کے کسی چھوٹے شہر جیسا مگر زیادہ صاف ستھرا۔ قریبا آدھے گھنٹے بعد وہ ایسی ہی گلی میں ایک گھر کے دروازے پہ کھڑے تھے۔ دستک دینے کے چند لمحوں بعد ہی دروازہ کھل گیا۔
مرحبا! معمر خاتون نے مسکراتے ہوئے سلام کیا۔ مسکراہٹ کا پتہ آ نکھوں سے چلا ورنہ انہوں نے کھلے اسکرٹ اور لمبے بلاؤز کے اوپر اسکارف سے نقاب لے رکھا تھا۔
مرحیا! ساتھ ہی جہان نے حیا کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ خاتون راستہ چھوڑ کر کھڑی تھیں۔ حیا نے جھجھک کر جہان کو دیکھا پھر ان خاتون کو سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیتی اندر داخل ہوئی۔
چھوٹا سا صحن۔ آگے کمرے کا دروازہ تھا برآمدہ وغیرہ نہیں تھا۔ وہ تینوں دروازے تک ساتھ آئے۔ چوکھٹ پہ جہان جھک کر بوٹ کے تسمے کھولنے لگا پھر جھکے جھکے گردن اٹھا کر حیا کو ذرا خفگی سے آنکھوں سے اشارہ کیا۔
اوہ! وہ آگے بڑھی اور نقاب اتارتے ہوئے تعظیما ان خاتون کا ہاتھ لے کر چوما اور آنکھوں سے لگایا۔
یہ میری بیوی ہے حیا! وہ اب پاوں جوتوں سے نکال رہا تھا۔ انہوں نے مسکرا کہ دعا دی۔ عمر میں برکت اور نعمتوں کے بقا کی دعا۔
وہ مسکراتے ہوئے دوبارہ نقاب کرنے لگی تو وہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا۔ یہاں اور کوئی نہیں ہے اتار دو- پھر ان خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ یہ مریم خانم ہیں۔ میرے دوست علی کرامت کی والدہ۔
حیا کو حیرت کا جھٹا لگا۔
اللہ اللہ! یہ تھیں وہ؟ حد ہے جہان نے بتایا بھی نہیں۔
بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔ وہ واقعی خوشی سے بولی تھی۔ وہ خاتون مسکراتے ہوئے سر ہلا کر انہیں اندر لے گئیں۔
جب وہ ایک فرشی نشست والے کمرے میں آ بیٹھے تو وہ بہت اشتیاق سے کہنے لگی۔
مجھے جہان نے بہت دفعہ آپ کے بارے میں بتایا تھا۔ کرامت بے آپ کے ہیزبینڈ کی ورکشاپ تھی نا استنبول میں۔ اب کہاں ہوتے ہیں وہ؟
اس سوال پہ مریم خانم کی مسکراتی آنکھیں ذرا سمٹیں انہوں نے جہان کو دیکھا اور جہان نے حیا کو۔
(کیا کچھ غلط پوچھ لیا؟)
ان کی ڈیتھ ہو چکی ہے بیٹا۔ وہ بولی تو آوز سوگوار تھی۔
اوہ اللہ مغفرت کرے۔ اسے پچھتاوا ہوا۔ پھر موضوع بدلنے کی غرض سے بولی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی ایک جیٹھانی بھی تھیں فریحہ۔ جہان کو بہت پسند تھیں وہ۔ بتایا تھا اس نے مجھے کہ وہ بہت خوبصورت تھیں۔ وہ لوگ استنبول میں ہوتے ہیں کیا؟
خانم ہم کھانا کھائیں گے مگر کوئی تکلف نہ کیجئے گا۔ جو بنا ہے لے آئیں۔ وہ ذرا اونچی آواز سے بولا۔ حیا خاموش ہو گئی۔ پھر کچھ غلط پوچھ لیا تھا شاید۔
ہاں! تم بیٹھو میں کھانا لاتی ہوں۔ اس کی اپنائیت پہ ان کی پھیکی پڑی مسکراہٹ دوبارہ زندہ ہوئی اور وہ باہر چلی گئیں۔
کتنا بولتی ہو تم۔ وہ جھنجھلا کر اس کی طرف پلٹا جو گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو مگر ان سے نہیں۔
تم تو جیسے فورا بتا دو گے نا۔ اتنے گھنٹے ہو گئے سفر کرتے ایک دفعہ ذکر نہیں کیا تم نے کہ ہم علی کرامت کے گھر جا رہے ہیں۔
فریحہ نے کئی سال پہلے خودکشی کر لی تھی اور اس سے پہلے اس نے ان کے شوہر قتل کر دیا تھا۔
اللہ اللہ ششدر سی ہو کر اس نے جہان کو دیکھا۔ مگر کیوں؟
جہان نے شانے اچکائے۔
زمین جائداد کا مسئلہ تھا شاید۔ یہ لوگ اب یہیں رہتے ہیں۔ ان کے حالات بھی اچھے نہیں ہیں۔ علی کرامت آج کل ادھر نہیں ہوتا۔ لیکن اب یہ ٹاپک ان کے آگے نا چھیڑنا۔
اوکے میں چپ ہوں۔ اس نے کندھے جھٹکے۔ یونہی لگا کہ جہان اصل وجہ جانتا ہے اور چھپا گیا ہے لیکن پوچھنے کا فائدہ نہیں تھا۔
تم مریم خانم کیلئے لائے ہو پرفیوم؟ اس نے پھر سوال کیا۔ حلانکہ اس کے سامنے ہی جہان نے انہیں وہ گفٹ بیگ تھمایا تھا۔
ہاں انہیں خوشبو بہت پسند ہے جب میں چلا جاؤں گا تو وہ اسے ضرور استعمال کریں گی اور انہیں اچھی بھی لگے گی۔ وہ ان کا ذکر بہت محبت اور ادب سے کر رہا تھا۔ اس کی اپنی مرہ جمیلہ!
پھر کھانے کے وقت مریم خانم نے ڈش اس کے آگے کرتے ہوئے کہا۔
جہان کو بورک بہت پسند ہے اور ایران بھی۔ تمہاری پسند کا نہیں پتا کیا تم یہ کھا لوگی؟
جی بالکل! پہلی بار اسے احساس ہوا تھا کہ اسے جہان کی پسند نا پسند کا علم نہیں تھا۔ کھانے کے بارے میں ہی سہی۔
(ایران ترک لسی تھی اور بورک سموسے یا کچوری ہی کی ایک جدید شکل تھی)۔ جہان بہت شوق سے کھا رہا تھا گو بہت زیادہ نہیں مگر خلوص اور محبت کا بھی اپنا ذائقہ ہوتا ہے۔
تمہارا کمرا اوپر تیار ہے تم آرام کر لو۔ کھانے کے بعد وہ ہاتھ دھو کر آیا تو مریم خانم نے کہا۔
جی۔ وہ اثبات میں سر ہلاتا رومال سے ہاتھ صاف کرتا حیا کو ایک نظر (جیسے کہہ رہا ہو میں زرا آرام کر لوں) دیکھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ حیا نے گردن موڑ کر دیکھا۔ آدھ کھلے دروازے سے سیڑھیاں نظر آ رہی تھیں۔ وہ اب اوپر جا رہا تھا۔ اس گھر سے جیسے وہ بہت مانوس تھا۔
لائیں میں آپ کی مدد کر دیتی ہوں۔ وہ ان کے ساتھ برتن اٹھانے لگی۔ کچن میں آ کر اس نے دیکھا کہ مریم خانم نے اپنا نقاب اتار دیا تھا۔ وہ واقعی سیاہ فام تھیں مگر پھر بھی بہت خوب صورت تھیں اور محبت پسندیدگی کو تو نہیں کہتے۔ عربی لغت میں محبت کہتے ہی کسی شخص کا کسی دوسرے کی نظر میں خوبصورت لگنے کو ہیں اتنا خوبصورت کہ وہ دل میں کھب جائے اور واقعی اتنی خوبصورت تو پھر وہ تھیں ہی!
ان کا گھر چھوٹا تھا مگر سلیقے سے سجا ہوا۔ بڑے گھر تو سب سجا لیتے ہیں اصل آرٹ تو چھوٹے گھر کو سجانا ہوتا ہے۔ بیٹھک سے نکلو تو ایک جانب سیڑھیاں اور دوسری جانب کچن تھا۔
تم بھی آرام کر لو کافی تھک گئی ہو گی۔ جب وہ کچن میں پھیلاوا سمیٹنے لگی تو مریم خانم نے بہت اپنائیت سے کہا۔ حیا نے ایک نظر کھلے دروازے سے نظر آتی سیڑھیوں کو دیکھا۔ اوپر ایک ہی کمرہ ہو گا اور کتنا برا لگے گا کہ موہ ابھی ادھر چلی گئی۔
نہیں، اصل میں میں تو سوتی آئی تھی ویسے بھی تھک گئی ہوں بیٹھ بیٹھ کہ اب لیٹنے کا دل نہیں کر رہا وہ آرام کرے گا ابھی، میں آپ کیساتھ بیٹھوں گی۔
چلو جیسے تمہاری مرضی۔ وہ مسکرا کہ بولیں۔
جب کچن سمیٹ لیا تو وہ دونوں اسی فرش نشست والے کمرے میں آ بیٹھیں۔ کچھ لمحے خاموشی میں گزر گئے۔ حیا کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہے، نئی جگہ تھی وہ بے تکلف ہونا نہیں چاہ رہی تھی مگر اس گھر میں کچھ انوکھی سی اپنائیت تھی۔
کیا وہ اکثر یہاں آتا رہتا ہے؟
کبھی کبھی آتا ہے۔ وہ بھی پچھلے تین سال سے جب سے اس کا کاروبار اس جگہ پہ ہو گیا ہے۔
اس بات پہ حیا نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا مگر یوں لگا جیسے وہ نہیں جانتیں کہ وہ کون سا کروبار کر رہا ہے۔
تمہاری شادی کب ہوئی تھی؟انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ زرا گڑبڑا گئی پتا نہیں جہان نے کیا کہہ رکھا تھا پھر زبردستی زرا سا مسکرائی۔
زیادہ عرصہ نہیں (بائیس سال ہونے والے ہیں)۔
اچھا اللہ تمہیں خوش رکھے۔ مسکرا کر سر ہلاتی دعا دے رہیں تھی عربوں کی مخصوص عادت۔
جہان کیا اتنے سال آپ سے کنٹیکٹ میں رہا تھا؟
ہاں فون کرتا رہتا تھا۔ دو تین برسوں سے تو آنے جانے بھی لگا ہے۔ بہت سعادت مند لڑکا ہے ہمیں کبھی بھی نہیں بھلایا۔
جی وہ بتاتا تھا آپ کے بارے میں اکثر۔ آپ تو ڈاکٹر تھیں نا۔ میرا مطلب ہیں نا؟
ہاں مگر اب میرے گھٹنوں میں درد رہتا ہے۔ یہاں ہسپتال جاتی ہوں ہر ہفتے اور اتوار لیکن آج تم لوگ آ رہے تھے اس لیے نہیں گئی۔
یعنی کہ جہان ان کو آنے سے پہلے مطلع کر چکا تھا لیکن کیا تھا اگر اسے بھی بتا دیتا۔
ان کے ساتھ وہ پہلے تکلف میں بیٹھی تھی لیکن آہستہ آہستہ وہ باتیں کرتی گئیں تو حیا کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ وہ کہنی بھی پیچھے گاؤ تکیے پہ ٹکائے آرام سے بیٹھ گئی۔ کیلیس کی باتیں یہاں کے لوگوں کی باتیں پاکستان کی زیتون کے درختوں کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے مریم خانم کا گھر بہت اچھا لگنے لگا تھا۔
* * * *
رات میں اس نے مریم خانم سے مل کر کھانا تیار کروایا تھا۔ انہوں نے آج مانتی بنائے تھے۔ عجیب و غریب سی ڈش تھی مگر بہت مزیدار تھی۔ مریم خانم کے بقول جہان کو بہت پسند تھی۔ جب وہ دسترخوان پہ برتن لگا رہے تھے تب وہ سیڑھیوں سے اترتا ہوا دکھائی دیا۔
جہان مجھے مریم آنٹی نے وہ کارڈ بھی دکھایا ہے جو تم نے ان کیلئے لکھا تھا۔ آنٹی آپ تو جہان کو اس سے بھی پہلے سے جانتی ہیں نا؟ جب وہ اندر قالین پہ آکر بیٹھا تو اس کے سامنے پلیٹ رکھتے ہوئے حیا نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔ مریم آنٹی اس کے پیچھے ٹرے لیکر کمرے میں داخل ہو رہیں تھی۔ اس کی بات پہ مسکرا کہ سر اثبات میں ہلایا۔
ہاں بیٹا! عرصہ ہو گیا ان کے ساتھ تو۔ انہوں نے مانتی کی ڈش دستر خوان کی وسط میں رکھتے کہا۔
پھر وہ خود بھی وہی بیٹھ گئی۔
تمام برتن رکھے جا چکے تھے اور وہ تینوں تکون کی شکل میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
تو پھر بتائیں نہ آنٹی جہان بچپن میں کیسا تھا؟
وہ اسی طرح مسکراہٹ دباۓ بیٹھی گاو تکیے سے ٹیک لگاۓ مزے سے پوچھ رہی تھی۔
کھلے بال سمیٹ کر ایک سائیڈ پہ کندھے پہ ڈالے لمبی جامنی قمیض کے اوپر شانوں پہ ٹھیک سے زیتونی دوپٹہ پھیلاۓ وہ اس گھر سے بہت مانوس لگ رہی تھی۔
جہان کیسا تھا؟ ایسا ہی تھا جیسا اب ہے۔ آنٹی نے ڈش اس کے سامنے کرتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔ وہ اس دوران سر جھکائے خاموشی سے اپنی پلیٹ میں کھانا ڈال رہا تھا۔
تو بتائیں نا اب اور تب وہ کیسا تھا؟
اس نے ابرو اٹھا کر سنجیدگی سے حیا کو دیکھا پھر سر جھٹک کر کھانے میں مگن ہو گیا۔
بھئ ایسا ہی تھا بہت سمجھدار ذہین بہت تمیزدار۔ ہماری جدیسی کے لڑکے جب کھیلتے تھے تو اکثر ان کی گیند ہماری چھت پہ آجاتی تھی۔ لڑکے بغیر پوچھے گھروں میں پھلانگ لیتے تھے مگر یہ تو بہت اچھا بچہ تھا۔ کبھی بغیر پوچھے نہ گھر میں داخل ہوا نہ کوئی چیز اٹھائی کبھی کسی کی باتیں نہیں سنیں کسی کی بات ادھر سے ادھر نہیں کی بہت ہی سعادت مند لڑکا تھا۔ آنٹی بہت محبت اور اپنائیت سے بتا رہی تھی۔ اور وہ آدھا منہ کھولے ہکا بکا سی سن رہی تھی اور سعادت مند بچے نے اسی سعادت مندی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
بس اللہ کا کرم ہے خانم میری ممی کی تربیت بہت اچھی تھی۔ ساتھ ہی اس نے مسکراہٹ دباۓ حیا کو دیکھا جس کے چہرے کی خفگی بتا رہی تھی کہ اسے یہ باتیں باکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھیں۔ وہ خاموشی سے اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگی۔ اگر وہ یہ سمجھتی تھی کہ جہان نے بس اسے ہی بے وقوف بنایا ہے تو وہ غلط تھی۔ اس فہرست میں تو بہت سارے لوگ تھے۔ اللہ سمجھے تم کو۔
رات میں آنٹی کے اپنے کمرے میں جانے کہ بعد وہ اوپر آئی۔ گیسٹ روم اچھا تھا۔ ڈبل بیڈ اور نفیس سی بیڈ شیٹ۔ چھوٹے سے گھر کا چھوٹا سا کمرہ بالکونی میں کھکتا دروازہ (ترکوں کے بالائی منزل میں بالکنی میں دروازے ضرور ہوا کرتے تھے۔)
جہان کمرے میں نہیں تھا۔ وہ بیڈ کی پائینتی پہ آ کر بیٹھ گئی۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کرے۔
بالکنی کے دروازے پہ آہٹ ہوئی تو وہ فورا اٹھنے لگی۔
بیٹھو، بیٹھو! وہ عجلت میں کہتا آگے آیا، کرسی کی سائیڈ سے اپنا بیگ اٹھایا اور اسے کھولنے لگا۔ حیا اٹھتے اٹھتے واپس بیٹھ گئی۔
تم سو جاؤ میں ذرا کام کر لوں۔ اس نے لیپ ٹاپ کھولتے ہوۓ حیا کو کہا۔ لیپ ٹاپ کو اپنے سامنے کھول کر اب وہ کچھ سی ڈیز کو الٹ پلٹ کرنے لگا۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھے گئی۔ ایک سی ڈی نکال کر جہان نے لیپ ٹاپ میں ڈالی۔ چند لمحے کیلئے کچھ دیکھا پھر سی ڈی واپس نکالی، کور میں ڈالی، پھر لیپ ٹاپ کو اٹھا کر رکھا اور پھر چونک کر اسے دیکھا۔ وہ ابھی تک جہان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے دیکھنے پہ وہ گڑبڑا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
تم سو جاؤ میں جا رہا ہوں لیکن ان کو مت بتانا۔ بیگ اٹھا کے زپ بند کرتے ہوئے کھڑا ہوا۔ اسے کندھے پہ ڈالا اور پھر بالکونی کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ متفکر سی کھڑی ہوئی کب آؤ گے؟
صبح! اندر سے دروازہ بند کر لو، میرے پاس دوسری چابی ہے۔ اس نے مڑے بغیر کہا اور باہر نکل گیا۔ کاش اس وقت مریم خانم سن لیتیں کہ ان کے گھر کی کتنی چابیاں ان کے سعادت مند بیٹے کے پاس ہیں۔
حیا نے دروازہ بند کرتے ہوۓ ذرا سی جھری سے باہر دیکھا۔ باہر ایک خستہ حال زینہ تھا جو گھر کی پچھلی سائیڈ پہ اترتا تھا اور پھر بیک ڈورز کی عادت تو اسے ہمیشہ سے تھی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور اس سے پشت لگا کر چند گہری سانسیں لی۔
چوبیس گھنٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پورے چوبیس گھنٹے بعد ہم کیلیس کے بارڈر پہ ہوں گے۔ کل کی رات بلاشبہ ایک یادگار رات ہو گی۔ اس نے سوچا تھا۔
وہ اس کی سوچ سے بھی زیادہ یادگار ہو گی یہ وہ نہیں جانتی تھی۔
* * * *
صبح کا سنہری دودھیا پن کیلیس کے کھیتوں اور زیتون کے درختوں کے جھنڈ پہ قطرہ قطرہ اتر رہا تھا۔ وہ کمرے میں رکھی واحد کرسی پہ ٹیک لگا کر بیٹھی بالکونی کے دروازے کو منتظر سی دیکھ رہی تھی۔ سامنے میز پہ ناشتے کے خالی برتن پڑے تھے۔ وہ کافی دیر سے اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔ اجرک کے لمبے سے کرتے پہ بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بناۓ۔ متفکر، مضطرب، مگر پرسکون۔
دفعتا دروازے کے کی ہول سے کلک کی آواز آئی۔ آہستہ سے دروازہ کھلا۔ پٹ دونوں ہاتھوں سے پکڑے جہان نے دبے پاؤں اسے یوں دھکیلا کہ اس کی چرچراہٹ کم سے کم ہو۔ ابھی آدھا کھلا تھا کہ اس کی نگاہ سامنے بیٹھی حیا پر پڑی۔ وہ شاید اس کے آرام کی وجہ سے ایسے کھول رہا تھا۔ اسے جاگتا دیکھ کر سیدھا ہوا اور اندر آ کر دروازہ بند کیا۔
صبح بخیر۔ اٹھ گئیں؟
ہاں کب کی۔
جہان نے اپنا بیگ بیڈ پہ رکھا۔ وہ تھکا ہوا نہیں لگ رہا تھا۔ ٹھیک ہی تھا۔ شاید رات کہیں اور سویا تھا یا شاید نہیں۔ پتہ نہیں کیا کرتا رہا تھا۔
کیا خانم آئی تھیں؟ وہ اب الماری کی طرف بڑھا جہاں اس کے کپڑے رکھے تھے۔
ہاں ناشتہ دے گئی تھیں۔ میں نے تمہارا نہیں بتایا۔
اچھا، کیا بنایا ناشتے میں؟ شاید ان کے ہاتھ کا ذائقہ اسے بہت پسند تھا اس لیے ذرا دلچسپی سے پوچھا۔ ساتھ ہی الماری سے کپڑے الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ بورک لائی تھی ایک میرا اور ایک تمہارا۔
تم نے اپنا کھا لیا؟
ہاں!
اور میرا؟ اس نے کپڑے اور تولیہ کندھے پہ ڈالے باتھ کی طرف جاتے ہوۓ مڑ کر پوچھا۔
تم تھے نہیں۔ اب واپس کیا کرتی۔ اس لیے میں نے وہ بھی کھا لیا۔
وہ جو کسی اور ہی جواب کی توقع میں باتھ روم کی طرف جانے لگا تھا مڑ کر تحیر سے اسے دیکھا۔
تم نے میرا ناشتہ بھی کھا لیا؟
ہوں! اس نے آرام سے سر ہلایا۔ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ وہ ٹیک لگا کر مزے سے بیٹھی تھی۔ جہان نے تاسف سے اسے دیکھا۔
دادا کہتے تھے کہ ان کے زمانے میں بیویاں شوہر کے آنے سے پہلے کھانا نہیں کھاتی تھیں۔
یہ تمہارے دادا کیا فرعون کے زمانے کے تھے؟ وہ منہ بنا کر بولی۔ ابھی تو گزرا ہے ان کا زمانہ۔ ابھی بھی وہی رواج ہیں۔ پتہ نہیں بڑوں کو کیا نوسٹیلجیا ہوتا ہے کہ شاید ان کا زمانہ زیادہ اچھا تھا۔
اس کی بات پہ جہان نے افسوس سے ذرا سا سر جھٹکا۔
اچھا سنو! مریم خانم کے کچن کے اوپر والے کیبنٹس میں سے دائیں ہاتھ کی تیسری کیبنٹ کھولو گی تو وہاں کھانے پینے کی بہت سی چیزیں پڑیی ہوں گی۔ کچھ نکال لاؤ میرے لیے۔
اللہ اللہ جہان! کل وہ کسی کے بارے میں کہ رہی تھیں کے وہ سعادت مند لڑکا تھا۔ کبھی بغیر پوچھے چیز نہیں لیتا تھا۔
میں نے کب کہا کہ بغیر پوچھے لو۔
تم نے یہ بھی نہیں کہا کہ پوچھ کے لو۔
بورک سے جی نہیں بھرا جو صبح صبح میرا دماغ کھا رہی ہو؟ وہ خفگی سے کہتا باتھ روم چلا گیا اور دروازہ زور سے بند کیا۔ اس کے جانے کے بعد حیا کے لبوں پہ مسکراہٹ امڈ آئی۔ سائید ٹیبل کے پردے کے پیچھے سے ایک ڈھکی ہوئی پلیٹ نکالی اور پھر اوپر والی پلیٹ اٹھا کر جہان کا بورک دیکھا۔ اسے دوبارہ ڈھکا اور سامنے میز پہ رکھا۔ پھر اپنا پرس اٹھایا۔ اندر سے پین اور پوسٹ اٹ کا چھوٹا پیڈ نکالا۔ اوپری صفحے پہ لکھا۔
تمہارے دماغ سے بورک کا ذائقہ بہت اچھا ہے۔ اور اس نوٹ کو پیڈ سے پھاڑا اور پھر اوپری پلیٹ پہ چپکا دیا۔ چند لمحوں بعد وہ کمرے سے باہر تھی۔
کچھ دیر بعد جہان نیچے آیا تو وہ دونوں فرشی نشست والے کمرے میں بیٹھی تھیں۔ اسے دیکھ کر وہ ذرا سا مسکرایا۔ وہی اپنائیت بھری مسکراہٹ۔ غالبا بورک اسے مل گیا تھا۔ وہ بھی جوابا مسکرائی۔ دونوں نے کہا کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ تھوڑی دیر بیٹھ کر کسی کام کا کہہ کر باہر نکل گیا۔
دوپہر میں مریم خانم جب کپرے دھونے کے لیے صحن میں آئی تو وہ بھی اپنا عبایا اور اسکارف لے کر ادھر ہی آ ٓگئی۔ عبایا تو وہ عادتا روز ہی دھوتی تھی ترکی ہو یا پاکستان۔ حجاب کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ صفائی نہ رکھی جائے بلکہ اس کی صفائی کی زیادہ ضرورت ہوتی تھی۔ وہ کبھی بھی گیلے بالوں پہ اسکارف نہیں اوڑھتی تھی اور بھلے عبایا سے کپڑے نہ نظر آئیں مگر پھر بھی وہ استری شدہ کپڑے پہنتی اور بال ٹھیک سے بنا کر ہی اسکارف لیتی تھی۔
آنٹی کیا آپ کے پاس عبایا لوشن ہے؟ میرا لوشن ختم ہو گیا ہے۔
اتفاق سے میرے پاس بھی نہیں پڑا ہوا۔ تم شیمپو ڈال لو وہ بھی ٹھیک رہے گا۔
ان کی ہدایت کے مطابق اس نے بالٹی میں تھوڑا سا شیمپو ڈالا اور ہاتھ سے مکس کر دیا۔ مریم خانم مشین میں کپڑے ڈال رہی تھیں۔ وہ ان کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
آنٹی ایک بات تو بتائیں۔
پوچھو! انہوں نے دوران مصروفیت پوچھا۔
جہان کہتا ہے کہ قرآن میں پہیلیاں ہوتی ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟
دیکھو بیٹا! قرآن بذات خود پہیلی نہیں ہے۔ لیکن اس کے اندر بہت ساری نشانیاں ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ اور یہ تو خود قرآن بھی بار بار کہتا ہے۔ ہاں! تم کہہ سکتی ہو کہ قرآن میں بہت ساری پہلیاں ہیں۔
مگر آنٹی! قرآن پاک تو آسان بنا کر اتارا گیا ہے نا تو پھر کیا ضروری ہے کہ ہم اس کی ہر پہیلی ڈھونڈیں؟
نہیں! قرآن آسان بنا کر نہیں اتارا گیا۔ اس میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ وہ اب مشین کا ٹائمر لگا رہی تھیں۔
لیکن آنٹی ! اللہ تعالی نے یہ کہا ہے کہ اس نے قرآن کو آسان بنا کر اتارا ہے؟
اللہ تعالی نے یہ کہا ہے کہ قرآن کو یسیر بنا کر اتارا ہے لیکن آسان نہیں۔ یسیر کا مطلب آسان نہیں ہوتا۔ یہ تو انگریزی اور دوسری زبانوں میں اس کا ترجمہ آسان کر دیا جاتا ہے۔ ورنہ اس کا مطلب آسان نہیں ہوتا۔ یسر کہتے ہیں کسی چیز کو تمام ضروری لوازمات سے آراستہ کر کے اسے ready to use بنا دینے کو۔
مگر آنٹی! آسان بھی تو اسی چیز کو کہتے ہیں۔ وہ الجھی۔
نہیں بیٹا! آسان کہتے ہیں پیس آف کیک کو۔ یعنی کسی کو کھانے کے لیے کیک کا ایک ٹکڑا دے دینا۔ اور یسیر کا مطلب ہے کہ کسی کو انڈہ میدہ گھی چینی وغیرہ اور کیک کی ریسپی دے کر کچن میں بھیچ دینا ۔ سب اس کے ہاتھ میں ہو گا مگر کیک اسے خود بنانا ہو گا۔ اب یہ اس پہ منحصر ہے کہ وہ کیک بناتا ہے یا ان اشیا سے آملیٹ اور میدے کی روٹی بنا کر اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے۔ انسان کے لیے وہی ہوتا ہے بیٹا جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
میشن زور دار آواز کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس کے عبایا کو بھگوئے بھی کافی دیر ہونے کو آئی تھی سو اس نے بالٹی سے اپنا گیلا عبایا اور اسکارف نکالا اور صحن کے کونے لگے سنک پہ لے آئی۔
آنٹی! کیا سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟ نل کھول کر دونوں مٹھیوں سے سیاہ حریر کو بھینچتی وہ اس سے جھاگ نکال رہی تھی۔ پانی غٹاغٹ کے آواز کے ساتھ سنک کے پائپ سے نیچے جا رہا تھا۔
ہاں! کیوں نہیں۔
تو پھر وہ پیچھے کیوں آتے ہیں؟ سنک پہ جھکے کھڑی کپڑا بھینچ بھینچ کر اس کے ہاتھ دکھنے لگے تھے۔ جھاگ اب زرا کم ہوئی تھی۔
یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس کی آنٹی کی طرف پشت تھی۔ وہ صرف ان کی آواز سن سکتی تھی۔
یعنی کہ وہ بار بار ہمیں دکھائی کیوں دیتے ہیں؟
اس نے گیلے عبایا کو گٹھڑی کی صورت بنا کر دونوں ہاتھوں سے نچوڑا۔ پانی کی دھاریں بہتی گئیں۔
تو اچھا ہے نا! ایسے انسان بار بار معافی مانگتا رہتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ جب اس کے وہ گناہ بدل کر نیکی لکھ دیے جاتے ہیں۔
لیکن وہ ہمارا تعاقب ختم کیوں نہیں کر دیتے؟ اس کے ہاتھ میں اب ٹھنڈا سا عبایا رہ گیا تھا۔ حریر بھی خوب کپڑا تھا۔ اس کو گھڑے میں بھی ڈال دہ تو ایک شکن نہیں پڑتی۔ گول مول کر کے رکھ دو۔ مجال ہے جو چمک مانند پڑے۔
سچے دل سے توبہ کرو تو گناہ نہیں آتے پیچھے۔
اس نے تار پہ عبایا پھیلایا اور پھر ان کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی۔ وہ اب مشین سے گیلے کپڑے نکال رہی تھیں۔ کنکھیوں سے اسے اپنا عبایا ہوا سے پھڑپھڑاتا دیکھائی دے رہا تھا۔
مگر وہ کوفت تو دیتے ہیں نا! جیسے یہ عبایا مجھے کوفت دے رہا ہے۔ لگتا ہے ابھی ہوا کا تیز جھونکا آئے گا اور یہ اڑ کر میرے سارے منظر پہ چھا کر اس کو تاریک کر دے گا۔
اس بات پہ مریم خانم مسکرائیں اور ٹوکری میں سے ایک کلپ اٹھا کر اس کے عبایا پہ لگا دیا۔ حیا پل بھر کو بالکل ٹھہر گئی۔
اب نہیں اڑے گا۔ بھلے کتنا ہی پھڑپھڑالے۔ دعا بھی ایک کلپ کی طرح ہوتی ہے اور یہ گناہ اس لیے یوں پھڑ پھڑاتے ہیں۔ تا کہ تم یہ یاد رکھو اگر تم دوبارہ اس راستے کی طرف گئیں تو یہ کلپ ٹوٹ جائے گا اور کپڑا اڑ کر سب پہ چھا جائے گا۔ زمانہ اسلام میں آنے کے بعد جاہلیت کے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن ایک دفعہ پھر غلط راستے کی طرف جانے کی صورت میں وہ پچھلے گناہ زندہ ہو جاتے ہیں اور انسان کو اس پرانے زمانہ جاہلیت کا بھی حساب دینا پڑتا ہے!
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو گناہ اس لیے ہمیں دکھائے جاتے ہیں تاکہ ہم ڈرتے رہیں اور دوبارہ اس کی طرف نہ جائیں؟
ہاں! اور تا کہ ہم خوٖف اور امید کے درمیان اللہ تعالی کو پکارتے رہیں۔ اسی کو کہتے ہیں ایمان۔
مشین کا ڈرائر بزر بجانے لگا تھا۔ آنٹی اس کی طرف پلٹ گئی۔ وہ بس ان کی پشت کو دیکھے گئی۔
ترکی کے خوب صورت لوگوں کی خوبصورت باتیں۔
* * * *
کیلیس کا آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھکا تھا۔ آج رات اس پہ چاند نہیں اترا تھا۔ مکئی کے کھیت سنسان پڑے تھے۔ ہر سو زیتون کی رسیلی مہک اور بارش سے پہلے کی مٹی کی خوشبو پھیلی تھی۔
خاموش، تاریک رات۔
جہان نے بریک پہ زور سے پاؤں رکھا۔ گاڑی جھٹکے سے رکی۔
حیا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ سبز شرٹ، نیلی جینز اور ماتھے پہ بکھرے بال۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے ونڈو اسکرین کے پار دیکھ رہا تھا۔
کیا ہمیں اس سے آگے پیدل چلنا ہے؟ اس کے سول پہ جہان کا ارتکاز ٹوٹا اس نے چونک کر حیا کی طرف دیکھا اور پھر سر ہلایا۔
ہاں! زیادہ دور نہیں جانا۔ گاڑی یہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ تم واپس اسی پہ آنا اور اسے خانم کے گھر چھوڑ دینا۔ اس کا مالک وہی سے آ کر لے جائے گا۔ اپنی طرف کا لاک کھولتے ہوئے وہ کہتے کہتے روکا۔ آر یو ایشور تم میرے ساتھ وہاں تک آنا چاہتی ہو؟
تمہیں کیا لگتا ہے میری مزاح کی حس اتنی بری ہے کہ میں ایسی بات مذاق میں کہوں گی؟ وہ خفگی سے کہتی باہر نکل آئی۔ اس نے جہان کی ہدایت کےمطابق عبایا نہیں لیا تھا تا کہ شامی عورتوں جیسی نہ لگے اور کیلیس کی مقامی عورتوں کی طرح گھٹنوں سے نیچے گرتا ترک فراک، ٹراوزر اور سر پہ خانم کا سفید پھول دار اسکارف یوں لے رکھا تھا کہ اسکارف ماتھے پہ لپیٹ کر اس کی دونوں تکونوں کی گرہ گردن کے پیچھے لگائی اور پھر ان کو کندھوں پہ سامنے ڈال دیا بالکل کشمیری عورتوں کی طرح۔ رات کے اندھیرے میں بھی اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔
میں پہلے چلوں گا جب اس جھاڑی تک پہنچ جاوں، اس نے جھاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،ت ب تم چلنا تا کہ ہمارے درمیان فاصلہ رہے۔
حیا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ خاموشی سے آگے چلا گیا۔
حیا نے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔ وہاں دور دور کچھ بتیاں دکھائی دیتی تھیں۔ اس نے واپس آگے دیکھا جہاں وہ جا رہا تھا۔ وہاں ہر طرف اندھیرا تھا۔ پیچھے روشنی آگے اندھیرا۔ علامتی امتزاج۔
جب وہ نشان زدہ مقام تک پہنچ گیا، تو وہ چلنے لگی۔
اس نے پھر وہی، ہاں وہی سرخ ہیل پہن لی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ جہان اس سے چڑتا ہے اسی لیے پہنی تھی۔
پاوں کا درد ویسا ہی تھا مگر اپنا سیاہ پرس پکڑے وہ کچی پکی زمین پہ ہیل سے بہرحال ٹھیک چل رہی تھی۔
آسمان پہ بادل وقفے وقفے سے گرجتے تھے۔ آج وہاں چاند نہیں تھا۔ آج وہاں ان کا چاند نہیں تھا۔
چند منٹ وہ یونہی چلتے رہے۔ پیر کا درد اسے پھر سے ہوا۔ اسے پچھتاوا ہوا۔ لیکن جہان کو چڑانا بھی تو تھا۔
وہ کھیت سے نکل کر اب کھلے میدان میں چل رہے تھے۔ گرمی زوروں کی تھی۔ دور دور زیتون کے چند درخت نظر آ رہے تھے۔ جہان ایک بڑے سے درخت کے پاس رکا، اور مڑ کر اسے دیکھا۔ اندھیرے میں اس کا چہرہ صاف نظر نہیں آتا تھا۔ وہ سبک رفتاری سے چلتی اس تک آئی۔ سانس ذرا سا پھول گیا تھا۔
وہ دیکھو! جہان نے درخت کے اس پار اشارہ کیا۔ وہ تنے کی اوٹ سے بدقت دیکھنے لگی۔
بہت دور، کئی سو میٹر دور سرحدی باڑ تھی۔ خاردار، اونچی تاریں۔اس کے اندر اضطراب بڑھتا گیا۔ دل کی دھڑکن سوا ہو گئی۔
دو بجے تک ادھر ہی بیٹھتے ہیں۔ وہ سرگوشی کرتا تنے سے ٹیک لگا کر زمیں پہ بیٹھتے ہوئے بولا (لگتا تھا کہ میجر احمد بول رہا ہے) حیا بھی اسی کے انداز میں تنے سے پشت ٹکائے اکڑو بیٹھ گئی۔ دونوں نے اپنے بیگ ایک دوسرے کے مخالف سمت میں رکھ دیے۔
اوپر سے بجلی زور سے چمکی۔ چاندی لمحے بھر کو پھیلی اور پھر سارے میں سیاہی اتر آئی۔ حیا نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: