Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 69

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 69

–**–**–

کیا آج اسلام آباد میں بھی بادل ہوں گے۔ اس نے وقت کا حساب کرنا چاہا۔ یہاں ساڑھے بارہ ہو رہے ہیں تو ادھر ساڑھے دس ہوں گے۔ کبھی کبھی ڈنر اسی ٹائم کیا جاتا ہے۔ شائد اب بھی سب کھانا کھا رہے ہوں۔ ڈائیننگ ٹیبل پہ سب ہوں۔ تایا ابا کی فیملی، پھھو بھی۔ وہ پلاسٹک کی بنی نتاشا بھی۔ اور اگر کوئی بھی انہیں بتائے کہ جہان اور حیا عین اسی وقت، ترقی اور شام کے باڈر سے ذرا دور درخت تلے بیٹھے ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اللہ، اللہ حیا! یہ وہ آخری موقع ہے جب تمہیں ایسی بات سوچنی چاہیئے۔ اس نے خود کو سرزنش کی۔
جہان تنے سے سر ٹکائے کلائی چہرے کے سامنے کیے گھڑی دیکھ رہا تھا۔ اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی تھا۔
کچھ دیر ادھر بیٹھنا ہو گا پھر میں چلا جاو گا اور تم واپس!
جہان! کیا یہ آخری طریقہ ہے شام جانے کا؟ وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے بولی۔
میرے لیے؟ہاں!
مگر پہلے تو تم میرے ساتھ بھی کتنے آرام سے سفر کر لیتے تھے تو اب؟
میں نے بتایا تھا نا کہ میرے ان سے تعلقات خراب ہے۔ اس دفعہ میں یہی بارڈر کراس کر کے آیا تھا تو اب اسی طرح جا سکتا ہوں۔ وہ بہت دھیمے انداز میں سمجھا رہا تھا آج دونوں کا لڑنے کا موڈ نہیں تھا۔
مگر کیا تم جعلی پیپر ورک کر کے نہیں جا سکتے؟
میں اپنی شکل نہیں بدل سکتا حیا! میں ایرپورٹ پہ گرفتار ہو جاو گا۔
بدل تو سکتے ہو۔
وہ حیا سلیمان نہیں ہیں کہ جن سے رات کے اندھیرے میں کوئی ڈراونی شکل بنا کر ملو تو دن کی روشنی میں نہیں پہچانے گے۔ وہ پورے ہجوم میں بھی اپنا بندہ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ میں اس شکل پہ نارمل انسان والی کوئی دوسری شکل تو نہیں چڑھا سکتا نا۔
ہاں بس جب کسی کو بےوقوف کہنا ہو تو میری مثال کافی ہے۔ وہ بغیر خفگی کے ہنس کہ بولی۔ پہلی دفعہ ایسی بات نے اسے خفا نہیں کیا تھا۔ وہ زرا مسکرا کر سامنے دیکھنے لگا۔
چند لمحے بیتے۔ خاموشی کے بوجھ نے زیتون کی شاخوں کو کچھ مزید بوجھل کر دیا تو وہ بولی۔
جہان! تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خوائش کیا ہے؟
یہ کہ میں زندہ رہوں اور اس لمبی سی زندگی میں آپنا کام کرتا رہوں۔
اندھیرے میں بھی وہ اس کے چہرے کی وہ چمک دیکھ سکتی تھی جو اب اس کیلئے بہت مانوس تھی ۔
تمہیں بہت محبت ہے نا آپنی جاب سے؟
بہت زیادہ۔ اس نے بس دو لفظ کہے۔ جزبات سے بوجھل لفظ۔ مزید کہنا بےکار تھا۔
اور تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش۔ اس نے حیا سے پوچھا۔
یہ کہ میں ایک کتاب لکھوں جس میں قرآن کی آیات کے رموز پہ غور کروں۔ لفظوں میں چھپی پہیلیاں سلجھاؤں اس کے نئے نئے مطلب آشکار کروں۔ کہتا ہےنا قرآن کہ اس میں نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ میں بھی ان میں سے بننا چاہتی ہوں۔
وہ محویت سے ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ اسے سن رہا تھا۔
پھر کب لکھو گی یہ کتاب؟
کبھی نہ کبھی ضرور لکھوں گی۔ مگر پتا ہے میں ایک بات جانتی ہوں کہ اگر دنیا کے سارے درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر روشنائی بن جائے اور میں لکھنے بیٹھوں اور مجھے اس سے دوگنا قلم اور روشنائی بھی دے دیں تب بھی سارے قلم گھس جائے ساری روشنائی ختم ہو جائیں مگر اللہ تعالی کی باتیں ختم نہیں ہوں گی۔ پھر اس نے سر اٹھا کر درخت کی شاخوں کو دیکھا۔
یہ زیتون کا درخت ہے نا؟ مبارک درخت۔
ایک مسکراہٹ اس کے لبوں پہ بکھر گئی تھی اوپر گردن اٹھانے سے اسکارف سے نکل کر ماتھے پہ جھولتی لٹ کان تک جا آگری تھی۔
یعنی کہ تم واقعی قرآن پڑھتی ہو، وہ اس کے شجر مبارکہ کا حوالہ دینے پہ سمجھ کر بولا۔
ابھی تو نہیں۔ آواز میں زرا شرمندگی در آئی۔
بہت پہلے پورا پڑھا تھا
تم پہلے پڑھتی تھی قرآن؟
میں شریعہ اینڈ لاء کی اسٹوڈنٹ ہوں۔ قرآن، حدیث، فقہ، شرعی احکام پانچ برسوں سے یہی تو پڑھ رہے ہیں مگر پہلے کورس کی طرح پڑھا عمل میں اب لائی ہوں وہ وقت گئے جب شریعہ ابینڈ لاء میں صرف مزہبی رجحان والی لڑکیاں داخلہ لیتی تھیں اب تو شریعہ کی آدھی سے زیادہ لڑکیاں ویسی ہی ہوتی ہیں جیسے پہلے میں تھی۔
اور اب؟ اس نے اسی روانی سے پوچھا تھا۔
اب تو میں… میں بس کل پاکستان جا کر ہی اپنا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتی ہوں، قرآن پڑھنے کا۔ وہ جیسے خود سے وعدہ کر رہی تھی۔
جہان نے اسے دیکھتے ہوئے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔
حیا! قرآن کبھی بھی کل نہیں پڑھا جاتا۔ قرآن آج پڑھا جاتا ہے اسی دن اسی وقت کیونکہ کل کبھی نہیں آیا کرتا۔
اوکے! پھر میں آج سے پڑھوں گی! اس نے فورا بات مان لی اور اگر کوئی اور ہوم ورک ہے تو وہ بھی دے دو۔
جیسے تم میری بہت مانتی ہو۔
کیا نہیں مانا؟
میں نے کہا تھا، واپس چلی جاو، مگر تم نہیں گئیں
ہاں تو میں اب بھی کیلیس دیکھنے ہی آئی ہوں تمہارے لیے تھوڑی آئی ہوں اس نے ناک چڑھائی۔
زیتون کی خوشبو، کچی پکی، رسیلی سی خوشبو ہر سو چھا رہی تھی۔ جیسے اس نے کپادوکیہ میں غبارہ نے خوبانی نہیں کھائی تھی ایسے ہی اس کا دل اب زیتون کھانے کو بھی نہیں چاہ رہا تھا جہان ساتھ ہوتا تو اسے سننے کے علاوہ کہاں کسی دوسرے کام کیلئے جی چاہتا تھا۔
کافی دیر وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھک گئی تو زرا سا پہلو بدلا ایسا کرتے ہوئے پاوں کی سائیڈ بدلی تو جوتے کی آواز آئی جہان نے چونک کر دیکھا۔
تم پھر یہی جوتے پہن آئی ہو؟ اس نے اب نوٹ کیا یا پہلے سے جانتا تھا وہ فیصلہ نہ کر سکی۔
ہاں! کیونکہ مجھے پتا ہے کہ یہ تمہیں کتنے پسند ہیں
بالکل زرا ایک منٹ اتارنا۔
کیوں؟
بس ایک منٹ نا۔
حیا نے زرا تزبزب سے جھک کر جوتوں کی سٹرپس کھولے اور پاوں نکالی جہان نے ایک جوتا اٹھا کر الٹ پلٹ کیا۔
اچھا ہے مگر اتنا نہیں کہ ساتھ نبھا سکے۔ ساتھ ہی اس نے جوتوں کے دونوں کناروں کو پکڑ کر جھٹکا دیا چٹاخ کی آواز کیساتھ جوتا درمیان سے ٹوٹا۔
جہان نہیں! وہ بمشکل اپنی حواس باختہ چیخ روک پائی۔ جہان نے پروا کیے بغیر دوسرے کو فورا ہی اٹھا کر اسی طرح توڑا۔ جوتے کی لکڑی ٹوٹ چکی تھی مگر چمڑے کے باعث دونوں ٹوٹے حصے ایک دوسرے سے نتھی تھے جہان نے ایک ایک کر کے دونوں ہوا میں اچھال دیے۔
وہ اندھیرے میں گم ہوگئے حیا شاکڈ سی اسے دیکھ رہی تھی
کیوں کیا تم نے ایسا؟
اس نے جوابا بے نیازی سے شانےاچکائے
دل چاہ رہا تھا
اب میں گھر کیسے جاوں گی کیا تم مجھے آپنے جوتے دو گے؟
میں بالکل بھی اپنے جوتے نہیں دوں گا۔
اور جو یہ یہاں اتنے پتھر اتنے کانٹے اور اتنی جھاڑیاں ہیں میں ان پہ کیسے ننگے پاوں چل کر جاوں گی؟ وہ خفگی سے بولی۔
یہ جو تم نے اپنے پرس میں نیلے پلاسٹک بیگ میں گلابی رنگ کے کینوس شوز رکھے ہیں نا تم یہ پہن کہ واپس چلی جانا۔
اور حیا ایک دم جھینپ کر ہنس دی۔
وہ ایک دفعہ پھر پکڑی گئی تھی،سوچاتھا اس کو خوب چڑا کر واپسی پہ کینوس شوز پہن لے گی مگر وہ جہان ہی کیا جو بنا اجازت کسی کا بیگ نہ چیک کرے۔
میں دیکھنا چاہتی تھی کہ اگر میرا جوتا ٹوٹے تو تم مجھے جوتا دیتے ہو یا نہیں۔
اور تمہیں یقین ھا کہ میں نہیں دوں گا اس لیے تم دوسرا جوڑا اٹھا لائی تھی۔
ہاں! تمہارا کیا بھروسہ؟ اس لیے پلان بی میں نے تیار کر رکھا تھا مگر یہ طے ہے کہ میں تمہیں نہیں آزما سکتی اور تم مجھے بھلے ہی کتنا ہی کیوں نہ آزماو۔ وہ محفوظ انداز مین بولی اور تم نے میرا بیگ چیک کیا مطلب تمہیں مجھ پہ بھروسہ نہیں ہے۔
اونہوں،بات بھروسے کی نہیں پروفیشنلزم کی ہے اصول، اصول ہوتے ہیں اپنے Escort کو بغیر چیک کیے میں یہاں تک نہیں لا سکتا۔
اور کیا نکلا میرے پرس سے؟ وہ لطف اندوز ہوتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
ایک ٹوٹی ہوئی عینک اور اس رومال میں کیا تھا؟
وہ زرا چونکی،مسکراہٹ سمٹی، تم نے اسے کھولا؟
آنکھوں میں بے چینی امڈی۔
نہیں
آخری دفعہ سچ کب بولا تھا؟
ابھی پانچ سیکنڈ پہلے جب میں نے کہا کہ میں نے اس نہیں کھولا
حیا خاموشی سے سامنے اندھیرے کو دیکھنے لگی
مبارک درخت کا سایہ اسی پل مزید سیاہ ہو گیا تھا
میں نے بس آخری دفعہ سیپ چنا سوچا تھا کہ عائشے کیطرح کا سفید موتی نکلے گا یا پھر مرے ہوئے جانور کے سوا کچھ نہیں ہوگا مگر ان دونوں میں سے کچھ نہ ہوا
پھر کیا نکلا؟
حیا نے مضطرب انداز میں نفی میں سر ہلایا
وہ کچھ اچھا نہیں ہے قابل فخر نہیں
دکھاو!
حیا نے بنا احتجاج کیے پرس کھولا اور وہ طہہ شدہ رومال اور ٹوٹی ہوئی عینک ایک ساتھ نکالی ایک ہاتھ میں عینک اور دوسرےکی ہتھیلی میں وہ رومال تھمایا پھر ہتھیلی جہان کے سامنے کر کے کھولی تو رومال کی پوٹلی کھل کر آبشار کیطرح ہاتھ کے اردگرد گر گئی اب ہتھیلی پہ کاغذ کیطرح رکھے سفید رومال کے وسط میں کچھ نظر آرہا تھا
جہان نے گردن زرا آگے کر کے دیکھا اور مسکرایا
اور تم کہہ رہیں تھی کہ یہ اچھا نہیں ہے؟
حیا نے رومال کی سمت دیکھا جس کے عین وسط میں ایک موتی چمک رہا تھا
سیاہ رنگ کا موتی-
عائشے کے موتی سفید نکلتے ہیں، سفید رنگ ہوتا ہے پاکیزگی، معصومیت، نیکی کی علامت۔ مگر میرا موتی سیاہ رنگ کا نکلا۔ بہت سے سفید موتیوں میں کسی۔Ugly duckling کیطرح وہ اداسی سے موتی کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی جہان نے سمجھ کر اثبات میں سر ہلایا
واقعی سیاہ تو برائی کا رنگ ہوتا ہے جادو کی سب سے بری قسم سیاہ جادو کہلاتا ہے گناہوں سے بھرا دل سیاہ دل ہوتا ہے گنہگاروں کے چہرے سیاہ ہوں گے روز قیامت
اسکی بات پہ حیا کا چہرہ مزید بجھ گیا مگر میجر احمد کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی
اور تم نے اس سے یہ اخز کیا کہ سیاہ ایک برا رنگ ہے؟اونہوں،سیاہ وہ رنگ ہے جو دھنک کے سارے رنگ اپنے اندر جزب کرلیتا ہےیہ ایک ڈارک رنگ ہے ڈارک برے کونہیں بلکہ ڈیپ کو کہتے ہیں سارے رنگ اس میں مدفن ہیں اور ان کو کسی راز کیطرحچھپائے رکھتا ہےوہ جو گہراہوتا ہے ہاں وہ سیاہ ہوتا ہے ٹھیک ہے سیاہ رات میں گناہ کیے جاتے ہیں مگر بے ریا عبادت بھی رات کی سیاہی میں کی جاتی ہے کالا جادو کو کالا اسی کیے کہتے ہیں کہ یہ سفید رنگ سے گہرا ہوتا ہے یہ گہرائی کا رنگ ہے دیرپا ہونے کا رنگ شائد اسی لیے کعبہ کا غلاف سیاہ ہوتا ہے آسمان کا رنگ بھی تو سیاہ ہے بارش اپنے اندر سموئے بادل بھی تو کالے ہوتے ہیں قرآن کے لفظ بھی تو عموما سیاہ روشنائی سے لکھے جاتے ہیں اور۔۔
وہ سانس لینے کو روکا۔تمہارا برقع بھی تو سیاہ ہے نا
اسکے تنے ہوئے عصاب ڈھیلے پڑھ گئے چہرے پہ سکون سا آ ٹھہرا وہ جیسے میجر احمد پھر سے مل گیا تھا اس نے مٹھی بند کر دی رومال ہاتھ کے کناروں سے جھلکنے لگا تھا
اور کیا سیاہ رات میں کی گئی نیکیاں گناہوں کو دھو ڈالتی ہیں؟
تمہیں کیوں ایسا لگتا ہے کہایسا نہیں ہوتا؟
ہوتا ہو گا،مگر وہ ویڈیو اگر وہ کسی کے پاس ہوئی تو؟ اسکی آواز میں قرب در آیا جہان نے بہت غور سے اسکا چہرا دیکھا
کیا وہ کسی کے پاس ہے حیا؟نہیں،میں تو یونہی کہہ رہی تھی وہ کہہ کر پچھتائی
اگروہ کسی کے پاس ہے تو تم مجھے بتا سکتی ہومیں۔۔
تمہیں مجھ سے محبت کب ہوئی تھی جہان؟جب میں نے رسٹورینٹ میں گلدان توڑ کر پھینکا تھا یاجب میں نے تمہارے اوپر جنجربریڈ کا ٹکرا پھینکا تھا؟اس نے جلدی سے بات بدلی
تیزی سے بات پلٹنے کی کوشش میں وہ بغیر سوچے سمجھے بولی وہ جو رونی سے کچھ کہہ رہاتھا اسکے لب ٹھہرے آنکھوں میں ذرا سی بے یقینی اتری مگر پھر اسی روانی سے بولا
جب تم نے میرے اوپر ٹھنڈا سلش پھینکا تھا
وہ سانس روکے ان ہی ٹھہری ہوئی پتلیوں سے اسے دیکھے گئی چند لمحے سرحدی لکیر کے گرد سب کچھ رک گیا اور پھر وہ دونوں ہنس دیے
دیکھ لو مجھے بھی آتا ہے لوگوں سے جواب نکلوانا
اللہ ان لوگوں پہ رحم کرے
وہ گردن پیچھے پھینکتے ہنستی جا رہی تھی سخت گرمی میں کیلیس میں جیسے بہار اتر آئی تھی جب ہنسی روکی تو اس نے مسکراہٹ بمشکل روکے جہان کو دیکھا
کیا تمہیں یاد ہے کہ پہلی دفعہ زندگی میں تم نے کیک کب کھایا تھا؟ ی پہلی دفعہ تم کب روئے تھے؟نہیں نا! کسی کو بھی ایسی باتیں یاد نہیں ہوتیں مجھے بھی نہیں یاد کہ کب پہلی دفعہ میں نے اپنے نام کیساتھ تمہارا نام سنا تھا
وہ دوور پھیلے مکئی کے کھیتوں کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی یاد ہے تو بس اتنا کہ تمہارا ذکر میرے ساتھ ہمیشہ سے تھا۔ جیسے میرا سایہ میرے ساتھ ہے یا جیسے میری روح۔
اور تمہیں مجھ سے محبت کب ہوئی تھی؟
حیا نے محفوظ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
میں نے تو نہیں کہا کہ مجھے تم سے محبت ہے!
اوکے۔ میں نے یقین کر لیا! وہ بھی جہان تھا مگر اتنی آسانی سے تو وہ اعتراف نہیں کرنے والی تھی۔
وہ جو ونڈ چائم میں نے تمہیں گفٹ کیا تھا ابھی گھر رکھا ہے تم پاکستان آؤ گے تو تمہیں دوں گی مگر تم نے اس پہ لکھا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول پڑھا؟ وہ شخص جو صرف اس لیے اپنی بیوی کو چھوڑنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا مگر گھر بنانے کے لیے محبت ضروری نہیں ہوتی جہان! محبت تو بعد میں بھی ہو جاتی ہے۔ وفا اور قدردانی زیادہ اہم ہوتی ہیں۔
پھر وہ رکی اور بے ساختہ امڈ کر آتی مسکراہٹ روک کر بظاہر سنجیدگی سے بولی۔
تم نے قدر دانی نبھائی وہ ایسے کہ تم میری قدر کرتے ہو اور جانتے ہو کہ سرچ لائیٹ لے کر بھی ڈھونڈو گے تو میری جیسی بیوی نہیں ملے گی۔ اور میں نے وفا نبھائی اور تمہیں نہیں چھوڑا۔ کیا ہوا جو تم میرے جتنے گڈ لکنگ نہیں ہو کیا ہوا جو تم ایک بے مروت بدلحاظ بدتمیز انسان ہو مگر ہو تو میرے شوہر نا! ساتھ ہی اس نے اشکانے اچکائے۔
جہان نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
بہت شکریہ حیا!
چند ساعتیں کیلیس کی سر زمین خاموش رہی۔ درخت اور ان کے پتے ہولے ہولے سانس لیتے رہے۔ پھر وہ بولا۔
میرا مسئلہ یہ تھا حیا! کہ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ اس رشتے کو اپناؤ یا نہیں مگر بہت دیر بعد میں نے یہ جانا ہے کہ یہ رشتہ تو ہم بہت پہلے اپنا چکے۔ بات کرنے یا نا کرنے کی حد سے آگے نکل چکی ہے۔ اب نبھانے کا فیز ہے۔ بس سمجھنے میں دیر ہوئی مگر میں سمجھ گیا ہوں۔
حیا کے ننگے پیروں پہ کچھ رینگا تھا۔ اس نے جلدی سے پاؤں جھاڑا۔ کوئی کیڑا تھا شاید۔ مگر ماحول کا طلسم ٹوٹ گیا۔ جہان نے گھڑی دیکھی۔ پونے دو ہونے کو تھے۔
اب مجھے جانا ہے۔
اور حیا کو لگا اس کا دل زور سے سمندر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ یہبدرد اتنا شدید تھا کہ اسے جسمانی لحاظ سے بھی محسوس ہوا تھا۔ وہ درخت کی ٹیک چھوڑ کر اس کی طرف مڑی۔
جہان پلیز۔۔۔۔۔ مت جاؤ! آنکھوں میں اضطراب لیے وہ التجا کرنے لگی تھی۔
نہیں حیا! ایسا مت کرو!
پلیز میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے تم مت جاؤ۔
حیا! یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ اوپر ستارہ جو ہے نا۔ اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا مگر حیا نے نہیں دیکھا۔ وہ اسی مضطرب انداز میں جہان کو دیکھ رہی تھی۔ یہ ستارہ میں اپنی دائیں جانب رکھ کر چلتا رہوں گا اور ایلیپو پہنچ جاؤ گا۔ یہ بہت سمپل ہے حیا۔
جہان! پلیز نا جاؤ۔ دیکھو سیکیورٹی فورسز۔ کیا پتا وہ جانتے ہوں وہ پہلے سے تیار بیٹھے ہوں پھر؟
وہ کیسے جان سکتے ہیں جب میں نے یا تم نے ان کو نہیں بتایا تو؟
مگر یہاں بارودی سرنگیں ہیں۔
وہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ صرف کمانڈر ہوتا ہے اور کمانڈر شیعہ ہے یعنی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
شیعہ؟ اس نےحیرت سے جہان کو دیکھا۔ یہ فرقہ واریت کہاں سے آ گئی۔
دیکھو شام کے صدر بشارالاسد شیعہ ہیں اور پاپا سنی ہیں۔
کس کے پاپا؟ اچھا طیب اردگان!
اللّٰہ ایسی عقلمند بیوی سب کو دے۔ دیکھو طیب اردگان سنّی ہیں۔ سو جب بارڈر کا کمانڈر سنّی ہوتا ہے تو آپ شام سے ترکی میں داخل ہو سکتے ہیں، سکیورٹی نرم ہوتی ہے مگر ترکی سے شام جانے میں مسئلہ ہو گا لیکن جب کمانڈر شیعہ ہوتا ہے تو وہ آپ کو شام جانے دے گا۔
میری سمجھ میں نہیں آئی یہ بات۔
مطلب یہ کہ اگر شام سے ترکی جانا ہے تو تب جاؤ جب کمانڈر سنی ہو اور جب ترکی سے شام جانا ہو تو شیعہ کمانڈر کے وقت جاؤ۔ میں اسی لیے اتنی دیر ٹھہرا رہا کیونکہ کمانڈر بدلنا تھا۔ چار روز پہلے کمانڈر آیا ہے۔ دنیا کے ہر بارڈر پہ کمانڈر کی تبدیلی کے گھنٹے بھر میں ہی اس کا نام اسمگلرز اور جاسوسوں میں پھیل جاتا ہے، یہ واحد بارڈر ہے جہاں پہلی بات یہی پھیلتی ہے کہ وہ سنّی ہے یا شیعہ۔ یہ فرقہ واریت نہیں ہے یہ تو بس سیاست ہے!
وہ اسی طرح فکر مند اور پریشان سی اسے دیکھتی رہی۔
میں اگلے ہفتے، منگل کے دن پاکستان آ جاؤں گا میرا یقین کرو!
حیا نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ اس کو روکنا چاہتی تھی، مگر اب یہ اس کے بس سے باہر تھا۔
اب یاد کرو،آشیانہ میں میرا وعدہ کہ ہر پلان ڈی سائڈ کروں گا۔ یاد ہے؟
ہوں! اس نے گردن پلائی۔ آنسو گلے میں پھندا ڈال رہے تھے۔
اب مجھ سے کچھ وعدے کرنے ہوں گے تمہیں ۔ وہ بہت غور سےاسے دیکھتا قطعیت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ میرے جانے کے بعد تم پیچھے مڑ کر نہیں دیکھو گی۔ جو پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں وہ پتھر ہو جاتے ہیں۔
حیا نے پھر اثبات میں سر کو جنبش دی۔ اسکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔
اور میرے جانے کے پورے پانچ منٹ بعد تم یہاں سے اٹھو گی اور مڑے بغیر تم واپس گاڑی تک جاؤں گی۔ کلیئر؟
ہاں ٹھیک اسکی آواز رندھی ہوئی سی نکلی۔
اور تیسری بات، اس درخت کے اس پار، یعنی سرحد کی طرف تم نہیں جاؤ گی بلکہ واپس گاڑی کی طرف جاؤ گی۔ حیا کچھ بھی ہو جائے۔ بھلے کچھ بھی ہو جائے۔ تم اس جگہ سے آگے نہیں جاؤ گی۔
جہان۔۔۔۔۔اس نے کہنا چاہا مگر جہان نے ہاتھ اٹھا کر خاموش کرا دیا۔
میں کچھ نہیں سنو گا۔ کپادوکیہ سے تمہاری ہر بات مانی۔ اب میری یہ تین باتیں تم مانو گی۔ تم یہاں سے آگے نہیں جاؤ گی۔ بھلے تم کچھ بھی دیکھو یا سنو۔ مجھے کچھ بھی ہو جائے میں مر بھی جاؤ، گرفتار بھی ہو جاؤں، جو بھی ہو تم واپس گاڑی تک ہی جاؤ گی بس۔
اس کی آنکھیں جھلملانے لگی تھیں۔ بمشکل وہ کہہ پائی۔
ٹھیک مگر ایک بات مانو میری۔
کیا؟
وہ جو تمہارے نقلی دانت۔۔۔۔۔سائینڈ۔۔۔۔ وہ مجھے دے دو۔ میں اسے یہیں پھینک دوں گی، مگر میں اس خیال کے ساتھ نہیں رہ سکتی کہ تم اپنے منہ میں زہر۔۔۔۔۔ پلیز جہان!
ساتھ ہی اس نے بند مٹھی کھولی۔ رومال بھی کھلتا چلا گیا۔
میں تمہارا دل نہیں توڑنا چاہتا۔ جہان نے چہرہ ذرا دوسری سمت کیا اور انگلی سے دانت سے کچھ نکالا۔ حیا نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس نے کوئی نوک دار چیز رومال پہ رکھی اور رومال بند کیا۔ حیا نے آنکھیں کھولیں اور پھر مٹھی بھینج لی۔ گول موتی۔۔۔۔۔ نوک دار چیز محسوس کر سکتی تھی۔
چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا۔ رات گزتی رہی۔
تمہیں پتا ہے حیا! تم ان جنت کے پتوں میں بہت اچھی لگتی ہو۔
وہ بھیگی آنکھوں سے مسکرائی۔
تم بھی میجر احمد!
میں؟ اس کے چہرے پہ الجھن ابھری۔
تم نے کہاں تھا کہ جنت کے پتے ہر وہ چیز ہوتے ہیں جو انسان رسوا ہونے کے بعد خود کو ڈھکنے اور دوبارہ عزت حاصل کرنے کی لیے اوڑھتا ہے۔ تو پھر اپنی فیملی پہ لگا داغ دھونے کے لیے جو یونیفارم تم نے پہنا اور جو کیپ تم نے لی وہ سب بھی تو جنت کے پتوں میں ہی آتا ہے نا۔
وہ ہلکے سے مسکرایا، پھر گھڑی دیکھی اور کھڑا ہو گیا۔ حیا نے اس کے جوتوں کو دیکھا۔ اس کے جوتوں کا رخ۔۔۔۔ ان کا رخ۔۔۔
منگل کو آؤں گا میں۔ ضرور۔ انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی، جب تک وہ خود ہار نہ مان لیں۔ میں نے کہا تھا قسمت ہرا سکتی ہے، مگر میں غلط تھا، قسمت انسان کو مار تو سکتی ہے، مگر ہرا نہیں سکتی۔
اور پھر وہ درخت کے پیچھے چلا گیا۔ وہ مڑ کر بھی نہ دیکھ سکی۔ اس نے وعدہ کیا تھا۔ سو وہیں چپکی بیٹھی رہی۔ اپنے دل کی ڈھرکن، اپنے ہاتھوں کی لرزش، سب محسوس ہو رہا تھا اسے۔ ایک ہاتھ میں پوٹلی کے اندر موتی کی گولائی اور نقلی دانت کی چبھن اور دوسرے میں۔۔۔۔
وہ چونکی۔ اس کا دوسرا ہاتھ خالی تھا۔
اللّٰہ۔۔۔۔ اللّٰہ! اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی۔ ڈی جے کی ٹوٹی عینک ابھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ پھر وہ پیر سے کیڑا جھاڑنے لگی۔ تب۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہاں گئی؟ اس نے بد حواسی سے ہاتھ اندھیرے میں زمین پہ ادھر ادھر مارا۔ نوکیلے چھوٹے پتھر، گھاس کے سوکھے تنکے، مٹی۔۔۔۔ عینک کہیں نہ تھی۔
نہیں پلیز نہیں۔ وہ ڈی جے کی عینک نہیں کھونا چاہتی تھی۔ اس نے اندھوں کی طرح رومال والی بند مٹھی اور دوسرے کھلے ہاتھ سے مٹی کو ٹٹولا۔ کچھ بھی نہیں تھا۔
رومال پرس میں رکھنے کی غرض سے اس نے پرس کھولا اور پھر بس ایک نظر دیکھنے کے لیے پوٹلی کھولی۔ اندر سیاہ موتی کے ساتھ ایک ننھی سی چیز پڑی تھی۔
ایک سرمئی رنگ کا چھوٹا سا کنکر۔
جہان! بے یقینی سے اس کے لب کھل گئے۔
پروفیشنلزم۔۔۔۔۔ اصول۔۔۔۔ ان سب پہ کوئی سمجھوتا نہ تھا۔ اس کا دل رکھنے کے لیے اس نے حیا کو تاثر دیا کہ وہ دانت نکال رہا ہے۔ لیکن اپنے فرار کا واحد راستہ اس نے اپنے پاس ہی رکھا تھا۔ اس نے نیچے پڑے اس جیسے ہزاروں کنکروں میں سے ایک اٹھا کر رومال پہ رکھ دیا تھا۔
جہان! بہت تکلیف سے اس نے درخت کی اوٹ سے اس پار دیکھا۔
پہلا وعدہ چھن سے ٹوٹا۔
دور، سرحدی باڑ تاریکی میں ڈوبی تھی۔ اتنی تاریکی کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اسی پل بجلی زور کی چمکی، پل بھر کو سب روشن ہوا اور تب اسے دکھائی دیا۔ ایک ہیولا جو ٹیڑھی چال چلتا سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا۔
پانچ منٹ کب کے گزر گئے تھے۔ دوسرا وعدہ بادلوں کی گرج میں تحلیل ہو رہا تھا۔ وہ دم سادھے بجلی چمکنے کا انتظار کرتی اندھیرے میں ادھر دیکھ رہی تھی۔ مگر اب اس نے وہ ہیولا کھو دیا تھا۔
گزرتے وقت کا احساس کر کے وہ اٹھی اور واپس جانے کے لیے قدم بڑھائے۔ ساتھ ہی وہ جھکے ہوئے زمین پہ ہاتھ مار کر عینک ڈھونڈ رہی تھی۔ دفعتا قریب ہی اس کا ہاتھ کسی سخت شے سے ٹکرایا۔ اسٹریپ لکڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے وہ چیز اٹھائی۔ ٹوٹی ہوئی جوتی۔
اب عینک اور دوسرا جوتا ڈھونڈنا بے کار تھا۔ وہ سیدھی کھڑی ہوئی تا کہ وہ واپس جا سکے۔ اب اسے پیچھے نہیں دیکھنا تھا۔ اپنے پرس کو پکڑا ہی تھا کہ دوسرے جوتے نکالے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم کہیں سے سورج نکل آیا۔
اس نے وہ چیز اٹھائی۔ ٹوٹی سرخ جوتی۔
اب عینک اور دوسرا جوتا ڈھونڈنا بے کار تھا۔ وہ سیدھی کھڑی ہوئی تاکہ واپس جا سکے۔ اب اسے پیچھےنہیں دیکھنا تھا۔ اپنےپرس کو پکڑا ہی تھا-دوسرے جوتے نکالنے کو ایک دم کہیں سے سورج نکل آیا۔
آنکھیں چندھیاتی روشنی۔
وہ تیزی سے واپس بیٹھی۔ کالی رات روشن ہو گئی تھی۔ جلتی بجھتی روشنی۔ اس نے ہراساں نگاہوں سے پلٹ کر دیکھا۔
سرحد پہ روشنی کے راونڈز فائیر کیے جا رہے تھے۔
اندھیرے میں ہر طرف روشنی بکھرتی، مدھم ہوتی پھر بکھرتی، سرحدی باڑ پہ ہیولے سے بھاگتے دکھائی دے رہے تھے۔
اس نے زمین پہ پڑے ایک بڑے پتھر کو خالی ہاتھ سے سختی سے تھام لیا۔ دل دھک دھک کر رہا تھا۔
روشنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائرنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسپیکر پہ آوازیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا آواز کے چلائی۔
جہان واپس آ جاو، آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے۔ جسم کپکپا رہا تھا۔
روشنی فواروں کی صورت بار بار پھوٹ رہی تھی۔ اس کا دل چاہا کہ وہ بھاگتی ہوئی سرحد پہ چلی جائے۔
مگر وہ تیسرا وعدہ، وہ پاوں کی زنجیر بن گیا۔ وہ ہر دفعہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی تھی۔ پہلی دفعہ وہ اسے چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی تھی۔ مگر جہان کے وہ الفاظ اسے واپس بھیج رہے تھے۔
“حیا! کچھ بھی ہو جائے، کچھ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر ایک دم زور سے دھماکا ہوا۔
پتھر کو پکڑے، گٹھڑی کی صورت بیٹھی حیا کے آنسو رک گئے۔ اس نے ساکت نگاہوں سے سرحد کی جانب سے آتے دھویں کو دیکھا…روشنی..چیخ و پکار..سائرن..بارود کی بدبو..اور پھر دھویں کے بادل ہر طرف چھاتے گئے۔ سرحد چھپ گئی اور دھندلی دیوار ایک دفعہ پھر ان دونوں کے درمیان چھا گئی۔
کیا ہوا تھا..کیا پھٹا تھا..اسے نہیں معلوم تھا وہ مردہ قدموں سے کھڑی ہوئی۔ ایک ہاتھ سے پرس اور ٹوٹا جوتا لٹک رہا تھا دوسرا ہاتھ پہلو میں خالی گرا تھا۔
خالی ہاتھ… خالی دامن… اسے دو وعدے توڑ کر تیسرا نبھانا تھا اسے واپس جانا تھا۔
بادل گرج دار اواز سے ایک دم برسنے لگے۔
موٹی موٹی بوندیں ٹپ ٹپ گرنے لگیں۔ ترکی کی پہلی بارش میں بھی وہ ننگے پاوں ٹوٹے جوتے کیساتھ چل رہی تھی آخری بارش بھی وہ ننگے پاوں تھی۔
ممی جواہر تک گئیں ہیں۔ میں ان کا بیٹا بول رہا ہوں جہان! وہ ننگے پاوں کھردری زمین پہ چل رہی تھی۔ کانٹے چبھ کر تلووں کو زخمی کر رہے تھے وہ سامنے دیکھ رہی تھی مگر شاید کچھ بھی نہیں دیکھ رہی تھی۔
جوتے کو کیا ہوا؟ اتنی سردی میں ننگے پاوں بیٹھی ہو، لاو دکھاو جوتا!
تڑ تڑ گرتے قطرے اسے بھگو رہے تھے۔ بادلوں نے سارا بوجھ اتار کر زمین اور زمین والوں کو بوجھل کر دیا تھا۔
میں بکواس کر کے گیا تھا نا مگر میری کوئی سنتا ہے، اس گھر میں دو دن نہ آوں تو سارا نظام الٹ جاتا ہے۔
اسکے پاوں سے خون نکل رہا تھا جسم میں جان نہیں رہی تھی۔
لگتا تھا ابھی لڑکھڑا کر گر پڑے گی اور گری تو اٹھ نہ سکے گی۔
انسان وہی چیز مانگتا ہے جس کی اسے کمی لگتی ہے سو، میں ہمیشہ زندگی مانگتا ہوں۔
اس کے ہاتھ میں اس کا صرف ایک جوتا تھا دوسرا وہی زیتون کے درخت کے آس پاس رہ گیا تھا۔
جب آدھی رات کے بعد حقیقت اپنا نقاب اتار کر پھینکتی ہے تو ہر سنڈریلا کو اپنا جوتا اسی مقام پہ چھوڑ کر واپس ہونا ہوتا ہے۔ اسے بھی جانا تھا۔
“ہینڈسم گائیڈ ابھی مصروف ہے کسی غیر ہینڈسم گائیڈ سے رابطہ کرو۔”
وہ بارش کے قطرے تھے یا آنسو، جو اس کے چہرے کو بھگو چکے تھے۔ دفعتا اس کا پیر رپٹا وہ اوندھے منہ زمین پہ گری۔ ہتھیلیاں چھل گئی، چہرے پہ مٹی لگ گئی۔ برستی بارش، سیاہ رات۔
بعض دفعہ قسمت ہرا دیا کرتی ہے حیا! ڈی جے کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔
وہ اٹھنا چاہتی تھی اٹھ نہ سکی۔ وہیں جھکی بیٹھی سسکیوں کے ساتھ روئے گئی۔ کیچڑ، بارش، آنسو سب کچھ گڈمڈ ہو رہا تھا۔
فرقان ماموں کی فیملی سے ڈر لگتا ہے کیونکہ وہ سرخ مرچ کا استعمال کچھ زیادہ ہی کرتے ہیں۔
بمشکل ہتھیلی کے بل زور لگا کر وہ اٹھ پائی۔ پاوں لہولہان ہو چکے تھے۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے موسلا دھار بارش میں پھر سے چلنے لگی۔
میں نے کہا تھا نا کہ زندگی میں اگر کوئی آپ کو جنت کے پتے لا کر دے تو اسے تھام لیجئیے گا وہ آپ کو رسوا نہیں ہونے دیں گے۔ گرتے پڑتے وہ کار کے قریب آئی دروازہ کھولا اور پھر اس کا سہارا لیکر خود کو سنبھالنا چاہا۔
جب اپنا چہرا چھپانے کیلئے میگزین سامنے کرتے ہیں تو اسے الٹا نہیں پکڑتے۔
اسٹیرنگ وہیل تھامے اس نے شیشے کے اس پار دیکھا۔ ہر سو دھند تھی جو ان کی زندگیوں سے چھٹتی ہی نہیں تھی۔
اگر جادوگر اپنے ٹرک کے فورا بعد ہی راز بتا دے تو کیا فائدہ؟
ہر شے سلو موشن میں ہو رہی تھی۔ ساری آوازیں بند تھیں۔ بس حرکت دکھائی دے رہی تھی۔
اس نے خود کو مریم خانم کے درواذے پہ دیکھا۔ بارش اسی طرح برس رہی تھی مگر اس کی سماعت بند ہو چکی تھی۔
“اچھا تم نے پاشا بے کے اوپر کافی الٹ دی تھی؟ گڈ! ویری گڈ!”
مریم خانم اسے سہارا دے کر بستر پہ لٹا رہیں تھیں۔ اس کے گرد ساری دنیا گول گول گھوم رہی تھی۔
“آپنی جگہ کبھی نہیں چھوڑتے حیا۔ ہوٹل گرینڈ کی مثال یاد رکھو۔”
وہ بستر پہ لیٹی تھی، آنکھوں سے بے آواز آنسو بہہ رہے تھے۔ پائینتی کی طرف بیٹھی مریم خانم اس کے پیروں پہ دوا لگا رہیں تھیں۔ اسے درد نہیں ہو رہا تھا ساری حسیات ختم ہو گئی تھیں۔
بلکل بھی مدد نہیں کروں گا۔ جو کرنا ہے اکیلے کرو، خود کرو، کیونکہ تم کر سکتی ہو۔
وہ اپنا ٹرالی بیگ گھسیٹتی ریلوے اسٹیشن پہ چل رہی تھی۔ دونوں پیر پٹیوں میں بندھے ہوئے تھے۔ قدم اٹھاتی کہیں اور تھی اور پڑتا کہیں اور تھا۔
لگتا ہے سب مجھ سے تنگ آ گئے ہیں، جو بار بار جانے کا پوچھتے ہیں۔ دل کرتا ہے ماہ سن کی طرح کبوتر بن کر کسی غار میں چھپ جاوں۔
ٹرین تیز رفتاری سے دوڑ رہی تھی۔ وہ کھڑکی کی طرف بیٹھی بھیگی سرخ آنکھوں سے باہر بھاگتے مناظر دیکھ رہی تھی۔ زیتون کے درخت پیچھے رہ گئے تھے۔ شیشے دھندلا گئے تھے یا اس کی آنکھوں میں دھند تھی اب تو سارے فرق ختم ہو گئے تھے۔
“میرا نام جہان سکندر ہے, میجر جہان سکندر احمد!”
سبانجی کا سبزہ زار بھی اسی کہر میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہر سو دھند تھی، کوئی آواز، کوئی شور نہیں۔ اس نے خود کو فیکلٹی ہاؤس کا دروازہ بجاتے دیکھا تھا۔
شش چیخنا نہیں ورنہ آواز باہر جائے گی اور یہ ساری فیملی بھاگتے ہوئے آ جائے گی۔
اندر سے نکلتی فربہہ مائل لڑکی اس کی طرف دیکھ کر پریشانی سے اس کی جانب بڑھی تھی۔ وہ کیا کہہ رہی تھی حیا سن نہیں پا رہی تھی۔ بس اسے اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی سنائی دی۔ “میرا سامان پیک کروا دیں انجم باجی!”
اچھا! تمہیں نہیں پتا تھا میں کپادوکیہ میں ہوں؟
ہالے اس کے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے کچھ کہہ رہی تھی۔ انجم باجی اس کے جوتے رکھ رہیں تھیں۔ وہ بس ساکت سی صوفے پہ بیٹھی سر جھکائے بے آواز رو رہی تھی۔
تھوڑی سی کاٹن لا دو فارمیسی سے، کان میں ڈالنی ہے۔
اپنے ٹرالی بیگ کو ہینڈل سے گھسٹتی وہ اتاترک ہوالانی (ایرپورٹ) کے دروازے سے اندر داخل ہو رہی تھی۔ بے جان قدم بے سوچ نگاہیں۔
پتا ہے حیا! تم کب اچھی لگتی ہو؟ جب تم خاموش رہتی ہو۔
وہ سناشا سا لڑکا تیزی سے اس کی طرف آیا تھا۔ وہ اس کو پہچانتی تھی مگر سمجھ نا پا رہی تھی۔ وہ بول رہا تھا کچھ۔
عبدالرحمن بھائی نے کیا تھا کہ آپ سے مل لوں کہیں آپ کو کچھ مدد کی ضرورت نا ہو۔ آپ بہارے گل کو لے کر چلی گئیں میں بہت پریشان تھا۔ یہ ممی نے بھجوائے ہیں آپ کے لیے۔ وہ کوئی پیکٹ اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔
میری لغت میں دو بجے کا مطلب ہوتا ہے ایک بج کر پچپن منٹ۔
آفیسر اس کو لیپ ٹاپ ہینڈ کیری میں اٹھانے کا کہہ رہی تھی۔ اس نے خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھتے لیپ ٹاپ بیگ اٹھا لیا۔ اب کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
مجھے کچھ بھی ہو جائے مر جاؤں گرفتار ہو جاؤں جو بھی ہو تم واپس گاڑی تک جاؤ گی بس!
جہاز کی کھڑکی سے نیچے بہت دور باسفورس کا سمندر نظر آ رہا تھا۔ نیلی چادر سفید جھاگ اور ان سب پہ چھائی دھند۔ پھر پھی اس نے آنسو نہیں پونچھے۔ وہ ترکی سے ہمیشہ روتے ہوئے جاتی تھی۔ اسے اس دفعہ بھی روتے ہوئے جانا تھا۔
مگر کون جانے،
کہ اس دفعہ کا غم،
سب سے بڑا تھا۔
* * * *
وہ آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹی تھی۔ دفعتا دروازے پہ دستک ہوئی۔ اس نے آنکھوں سے بازو ہٹایا۔ اسی طرح لیٹی رہی۔ دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پھر چلتے قدم۔ آنے والے نے آگے بڑھ کر کھڑکی کے پردے ہٹائے۔ اسے بند آنکھوں سے بھی سورج کی روشنی چھن کر خود پہ پڑتی محسوس ہوئی تھی۔
حیا اٹھ جاؤ بیٹا! طبیعت کیسی ہے؟ اس نے سبین پھپھو کی آواز سنی اور پھر بیڈ کی پائینتی کے پاس دباؤ محسوس ہوا جیسے وہ ادھر بیٹھ گئی تھیں۔
بخار اترا تمھارا؟ انھوں نے جھک کر اس کے ماتھے کو چھوا۔ حیا نے بازو آنکھوں سے ہٹایا اور خالی خالی نگاہوں سے ان کو دیکھا۔
شانوں پہ ڈوپٹا لیے بال کیچر میں باندھے وہ ویسی تھیں۔ پرسکون صابر ٹھنڈی۔
میں ٹھیک ہوں۔ وہ کہنی کے بل ذرا سی اٹھی۔ نقاہت پژمردگی۔ جیسے جسم میں جان ہی نہ رہی تھی۔
اور یہ تمھارے پاؤں کو کیا ہوا ہے۔ نتاشا کہہ رہی تھی کہ نئی بینڈیج لا رہی ہے۔ یہ بینڈیج تو بالکل خراب ہو گئی ہے۔ انھوں نے ہولے سے اس کے پیر کے انگوٹھے کو چھو کر کہا جس پہ لگی پٹی اب پرانی اور خستہ ہوچکی تھی۔ حیا تکیے کے سہارے بیٹھی انہیں دیکھتی رہی۔
جہان تمھارے ساتھ تھاَ؟ انہوں نے نرمی سے پوچھا۔ جب سے وہ آئی تھی، اتنی بیمار ہو گئی تھی کہ پھپھو سے باقاعدہ بات اب ہو پا رہی تھی۔
اس نے گردن اثبات میں ہلائی۔ گلے میں آنسوؤں کا پھندا پڑنے لگا تھا۔
پھر؟
اور اس پھر کے آگے سارے خواب ختم ہو جاتے تھے۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
میں نہیں جانتی پھپھو! ہم ساتھ تھے۔ وہ کہنے لگی تو آواز بہت بوجھل تھی۔ اس رات آسمان پہ بادل تھے اور چاند نہیں تھا تارے بھی نہیں تھے۔ وہ آگے جا رہا تھا۔ میں نے اسے روکنا چاہا۔ منع بھی کیا مگر اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے میری نہیں مانی۔ وہ چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رکی اور پلک جھپکی تو آنسو رخسار پہ لڑھکنے لگے۔
پھر پتا نہیں کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ واپس نہیں آیا۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے بوجھل سی خاموشی رہی۔ پھپھو کے چہرے پہ وہی سکون ‘وہی ٹھہراؤ تھا۔ کیا اسے اسی وقت واپس آنا تھا؟
نہیں اس نے کہا تھا کہ آنے والے منگل کو وہ آ جائے گا۔
تو ابھی منگل آنے میں کچھ دن ہیں نا’ وہ آجائے گا’ تم فکر کیوں کر رہی ہوں؟
حیا نے نفی میں سر ہلایا۔
وہ نہیں آئے گا۔ وہ مشکل میں ہے۔ میں نہیں جانتی وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔ مگر وہ مشکل میں ہے۔ شاید زخمی ہو، شاید گرفتار ہو اور شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے فقرہ ٹوٹ گیا۔ دل بھی ساتھ ہی ٹوٹ گیا۔
اگر اس نے کہا تھا کہ وہ آئے گا تو وہ ضرور آئے گا۔ مجھے پورا یقین ہے۔ انہوں نے جیسے دلاسا دیتے ہوئے اس کے ہاتھ کی پشت کو تھپکا۔ وہ بھیگی نگاہوں سے ان کا پرسکون چہرہ دیکھتی رہی۔
میں سمجھی تھی کہ آپ میں اور مجھ میں بہت فرق ہے پھپھو! آپ صبر سے انتظار کرنے والی عورت ہیں۔ مگر میں چیزیں اپنے ہاتھ میں لے کر جہان کے ساتھ چلنے والی عورت ہوں۔ لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ تکلیف ہم دونوں کے حصے میں برابر آئے گی۔ آپ ظاہر نہیں کرتی اور میں چھپا نہیں سکتی۔ بس یہی فرق ہے۔
بے یقین نہ ہو بیٹا! اللّٰہ سے اچھا گمان رکھو، اچھا ہی ہوگا۔ انہوں نے نرمی سے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا۔ وہ سر بھی نہ ہلا سکی۔ عجیب بے یقینی سی بے یقینی تھی۔
دروزہ ذرا سی دستک کے ساتھ کھلا۔ پھوپھو اور حیا نے ایک ساتھ اس سمت دیکھا۔ نتاشا دروازے میں کھڑی تھی۔ حیا بدقت پھیکا سا مسکرائی اور آنسو ہتھیلی کی پشت سے صاف کیے۔
حیا کیا تم اٹھ گئی ہو؟ میں تمہارے لیے بینڈیج لائی تھی۔ وہ خراب ہو چکا ہے اسے اتار دیتے ہیں۔ نتاشا رسان سے انگریزی میں کہتی ہوئی اندر آئی اور چھوٹا سا بکس بیڈ پہ حیا کے پیرں کے پاس رکھا۔ پھپھو اس کو جگہ دینے کے لیے اٹھ گئی تو وہ وہیں پھوپھو کی جگہ پہ بیٹھ گئی۔
ہوا کیا تھا حیا پیر پہ؟ وہ اب حیا کی ایڑھی سے بینڈیج اتارتے ہوئے بولی تھی۔ لہجہ نہ زیادہ متفکر تھا نا سرد۔ پتہ نہیں وہ اسے اچھی لگتی تھی یا بری۔ ویسے تو بے ضرر سی ہی تھی البتہ اس کا لباس۔ اللہ اللہ۔ اس ساری پریشانی میں بھی حیا کے ذہن میں آیا تھا کہ یہ اس طرح سلیولیس ٹاپ اور کیپری میں گھر میں گھومتی ہو گی اور روحیل اور ابا کو کوئی فرق نہیں پڑتا؟
کیا ہوا تھا حیا پیر پہ؟ نتاشا نے دوا لگاتے ہوئے دوبارہ پوچھا تو وہ چونکی۔
کانچ پتھر زمین پہ بہت کچھ گرا تھا اور میں انہی کے اوپر چلتی رہی۔
بہت بد احتیاطی ہے ویسے یہ۔ اوکے میں اسے بینڈیج کر رہی ہوں۔ بہت جلدی ٹھیک ہو جائے گا زیادہ گہرے نہیں ہیں۔
وہ اب مصروف انداز میں کہتی پٹی باندھ رہی تھی۔ دفعتا آسمانوں پہ اذان کی آواز گونجنے لگی۔ پھوپھو جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اس نے انہیں نہیں روکا۔ اس کے پاس روکنے کے لیے کوئی جواز نہ تھا۔
* * * *
لاؤنچ سے باتوں کا شور کمرے تک سنائی دے رہا تھا۔ ثنا اور سحرش اپنی امی کے ساتھ آئی تھیں اور حسب معمول ان کی آمد پہ ارم اور سونیا بھی چلی آئی تھیں۔ وہ ابھی تک کمرے میں ہی تھی۔ ان سے نہیں ملی تھی۔ اماں دروازے پہ دو دفعہ آ کر باہر آنے کا کہہ چکی تھیں۔
اب تو بخار بھی اتر گیا ہے باہر آجاؤ۔ وہ کب سے آئی ہوئی ہیں اچھا نہیں لگتا۔ اور پھر بھی وہ بنا کچھ کہے بیٹھی رہی۔ دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کسی سے ملنے کو۔ پھر کافی دیر بعد اٹھی اور اپنا بیگ کھولا تا کہ کوئی جوڑا نکالے۔ ابھی پہنا لباس ملگجا سا ہو رہا تھا۔ گرے شلوار قمیض اور ساتھ پتا نہیں کس جوڑے کا گلابی ڈوپٹہ پہنے بہت بکھرے بکھرے حلیے میں وہ بیمار سی لگ رہی تھی۔ بیگ کھول کر ڈھکن اٹھایا تو سامنے کپڑوں پہ گفٹ پیک میں ملفوف ایک پیکٹ رکھا تھا۔
اس نے وہ پیکٹ اٹھایا۔ کچھ مدھم مدھم سا یاد تھا کہ سفیر نے جاتے ہوئے یہ اس کے حوالے کیا تھا شاید حلیمہ آنٹی نے دیا تھا۔ اس نے ریپر پھاڑا اندر بہت خوبصورت سفید ان سلی سلک کا کپڑا تھا۔ ساتھ میں ایک چھوٹا سا کارڈ بھی لگا تھا۔ اس نے کارڈ اٹھایا۔
حیا کے لیے بہت دعاؤں کے ساتھ۔ تم ہمیشہ پوچھنا چاہتی تھی کہ تمہارے ساتھ فلائیٹ میں عثمان نے سامنے بیٹھی ترک عورت سے کیا کہا تھا تا کہ وہ تم سے فرینک نہ ہو سکے۔ تو میں تمہیں بتائے دیتی ہوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ایک نے ایک ایسی ڈش کا آرڈر دیا جس میں انڈین سٹائل کی تلی ہوئی پیاز بھی شامل ہے۔ اور بات یہ ہے کہ حیا تک عورتوں کو تلی ہوئی پیاز سے سخت الرجی ہے لیکن آف کورس وہ صرف اس لیے ایسا کرنا چاہ رہے تھے کہ کہیں اجنبی سے بے تکلفی سے تمہیں نقصان نہ ہو۔ ہم اپنے دوستوں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔!
فقط حلیمہ اور عثمان۔
اس کے چہرے پہ افسرہ سی مسکراہٹ امڈ آئی۔ کچھ باتیں ادھوری بھی رہ جائیں تب بھی ان کی تشنگی نہیں ہوتی۔ جیسے ڈی جے کو گڈ مارننگ ڈی جے کہنے والا لڑکا اسے نہیں ملا تھا۔ وہ کون تھا وہ کبھی بھی نہیں جان پائے گی۔ اور کون جانے کہ اس کو خود بھی پتا تھا یا نہیں کہ ڈی جے اس دنیا سے چلی گئی ہے۔
کون جانے!!!
اس نے بیگ سے کپڑے ادھر ادھر کیے۔ آگے پیچھے ہر جگہ دیکھا۔ پھر دوسرا بیگ کھولا۔ اس کا ونڈ چائم کہیں نہیں تھا۔ پتہ نہیں وہ اسے کہاں بھول آئی تھی۔ دل اتنا خراب ہوا اس بات سے کہ وہ لباس بدلے بغیر بال کیچر میں باندھے باہر آ گئی۔
مطلب حد ہو گئی۔ ایک دم سے ہمیں اتنی سنا دیں رضا بھائی نے۔ ہمارا کیا قصور؟ اور وہ فائزہ وغیرہ ان کو بھی تو دھیان رکھنا چاہیے تھا نا۔
ثنا لاؤنج میں بیٹھی زور و شور اور خفگی سے کہہ رہی تھی۔ حیا کو آتے دیکھ کر بات روک کر جلدی سے اٹھی۔ حیا آپا کدھر ہیں آپ۔ سب کہ ہرہے تھے کہ آپ آتے ساتھ ہی بیمار پڑ گئی ہیں۔ وہ بڑے تپاک سے اس کے گلے لگی۔ حیا زبردستی ذرا س مسکرائی۔ سونیا بھی اچھے سے ملی۔ باقی سحرش اور ارم تو اپنے اپنے موڈ میں تھیں مگر اسے کہاں پراہ تھی۔ نتاشا اپنے مصروف انداز میں بے نیاز سی صوفے پہ بیٹھی میگزین کے ورق پلٹ رہی تھی۔
تو پھر کیا تم نے فائزہ سے شکایت کی؟ وہ سب بیٹھ گئیں تو سونیا بھابھی نے ثنا کو تفکر سے دیکھتے ہوئے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔
ہاں آج جا کر فون کروں گی۔ حد ہے۔ پھر حیا کو دیکھ کر ثنا وضاحت کرنے لگی۔ فائزہ باجی نے پتا ہے کیا کیا؟
کیا۔ حیا نے اسی کے انداز میں دوہرایا۔ اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ فائزہ ارسل کی بہن تھی اور ارسل وہ تھا جس کے ولیمے کی رات تایا ابا نے اس کی بے عزتی کی تھی۔
فائزہ باجی نے ارسل بھائی کے ولیمے کی تصویریں فیس بک پہ لگا دیں۔ چلو اپنی لگاتی تھی خیر تھی۔ مگر ہماری ٹیبل کی بھی تین تصویریں البم میں لگا دیں اور پرائیویسی پبلک رکھ دی۔ رضا بھائی نے دیکھا اور پھر ہمیں سنانے لگے۔ اب فائزہ باجی سے پوچھو کہاں کے ایتھیکس ہیں یہ کسی اور کی تصویریں لگا دو؟
وہ بس خاموشی سے ثنا کو دیکھے گئی۔ اس کا ذہن کیلیس کی سرحد سے آگے نہیں بڑھا تھا۔
آپ کی تصویر بھی تھی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: