Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 7

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 7

–**–**–

دروازے پر مدھم سی دستک ہوئی تو وہ سرعت سے کرسی سے اٹھی۔ ایک نظر سوتی ڈی جے پہ ڈالی ، دوسری اپنے زیراستعمال بینک پہ جو دوباہ سے بنا سلوٹ اور شکن کے بنایا جا چکا تھا اور جس پہ ترک لڑکیوں کے اعتماد کے خون کیے جانے کی کوئی نشانی باقی نہ تھی۔۔۔۔۔۔ اور دروازہ کھول دیا۔
سلامً علیکم ایکسچینج اسٹوڈنٹس! ہالے نور ہشاش بشاش سی مسکراتی ہوئی کھڑی تھی۔ وہ یوں تھی گویا دھلی ہوئی چاندنی۔ سیاہ اسکارف چہرے کے گرد لپیٹے، ہلکی سبز لمبی جیکٹ تلے سفید جینز پہنے، شانے پہ بیگ اور ہاتھ میں چابیوں کا گچھا پکڑے وہ پوری تیاری کے ساتھ آئی تھی۔
وعلیکم السلام، آؤ ہالے!
میں تمہارے ڈروم میں گئی تھی لیکن تم وہاں نہیں تھیں۔ میں نے اندازہ کیا کہ تم یہیں ہو گی۔ ہالے نے اپنا بیگ میز پہ رکھا اور کرسی کھینچ کر نفاست سے بیٹھی۔
ہاں میں علی الصبح ہی ادھر آ گئی تھی۔ ڈی جے کی یاد آ رہی تھی۔
خدیجہ سو رہی ہے؟ ہالے نے گردن اونچی کر کے اوپر دیکھا، جہاں ڈی جے دو موٹے کمبل خود پہ ڈالے سو رہی تھی۔
ہاں اور شاید دیر تک سوتی رہے۔
اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے سوچا تھا کہ تمہارے فون رجسٹر کروانے چلیں آج۔ ترکی میں غیر ملکی فون پہ ترک سم کارڈ ایک ہفتے کے بعد بلاک ہو جاتا ہے۔
ہاں بالکل، تم لوگ جاؤ اور میرا فون بھی لے جاؤ، میں دو گھنٹے مزید سوؤں گی۔
کمبلوں کے اندر سے آواز آئی تو ہالے مسکرا دی، مسکراتے ہوئے اس کی چمکتی سرمئی آنکھیں چھوٹی ہو جاتی تھیں۔
چلو حیا! ہم دونوں چلتے ہیں۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ کھڑی ہو گئی تھیں۔ حیا صبح اپنے کمرے میں جا کر فریش ہو کر آئی تھی۔ ابھی وہ سیاہ چوڑی دار پاجامے اور ٹخنوں تک آتی سیاہ لمبی قمیص میں ملبوس تھی۔ شیفون کا ڈوپٹہ گردن کے گرد مفلر کی طرح لپیٹے، اور اوپر لمبا سیاہ سویٹر پہنے ہوئے تھی جس کے بٹن سامنے سے کھلے تھے۔
کچھ دن میرے خوش قسمت دن ہوتے ہیں، جب میرے پاس کار ہوتی ہے اور کچھ دن بدقسمت دن جب میرے پاس کار نہیں ہوتی۔ اور آج میرا خش قسمت دن ہے۔ ہالے نے اٹھتے ہوئے بتایا۔
ابھی ہم قریبی دکانوں میں جائیں گے، اگر وہاں سے فون رجسٹر نہ ہوئے تو جواہر چلیں گے، اس کے بعد وہاں سے جہانگیر۔
جواہر؟؟ حیا نے ابرو اٹھائی، جہانگیر کو اس نے کسی ترک کا نام سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔
جواہر شاپنگ مال ہے۔ یورپ کا سب سے بڑا اور دنیاکا چھٹا بڑا شاپنگ مال!
اوہ اچھا جیسے پاک ٹاورز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوپر کمبلوں سے آواز آئی۔
پاک ٹاورز؟ ہالے نے گردن اٹھا کر خدیجہ کے کمبلوں کو دیکھا۔
ہمارا پاک ٹاورز، ایشیا کے سب سے بڑے شاپنگ مال میں شمار ہوتا ہے۔ وہ غنودہ آواز میں بولی۔
نائس! ہالے ستائش سے مسکرا کر باہر نکل گئی۔
حیا نے اس کے جانے کی تسلی کر لی، پھر لپک کر پیچھے آئی اور سیڑھی پہ چڑھ کر ڈی جے کا کمبل کھینچا۔
یہ پاک ٹاورز ایشیا کا سب سے بڑا مال کب سے ہو گیا؟
اس نے کون سا جا کر چیک کر لینا ہے۔ تھوڑا شو مارنے میں کیا حرج ہے؟
ڈی جے غڑاپ سے کمبل میں گھس گئی۔
••••••••••••Iffa Noor••••••••••
ہالے ڈرائیو کرتے ہوئے متاسف سی بار بار معذرت کر رہی تھی۔ فون رجسٹرد نہیں ہو سکے تھے۔ Avea کی دکان پہلے تو ملی نہیں، دوسری موبائل کمپنیوں کی دوکانیں ہی ہر جگہ تھیں۔ یوں جیسے آپ کو زونگ کی دوکان کی تلاش ہو اور ہر طرف یوفون کی دوکانیں ہوں۔ بمشکل ایک دوکان ملی تو اس کا منیجر شاپ بند کر کے جا رہا تھا۔ لاکھ منتوں پر بھی اس نے دوکان نہیں کھولی اور چلا گیا۔ اب ہالے مسلسل شرمندگی کا اظہار کر رہی تھی۔
بس کرو ہالے! بعد میں ہو جائے گا، اب مجھے شرمندہ مت کرو۔
خیر، تمہارا دوسرا کام توکروں، جہانگیر چلتے ہیں۔
ہالے نے گہری سانس اندر کھینچی۔ گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی اور کھڑکی کے باہر ہر سو برف دکھائی دے رہی تھی۔
تم ڈریس دکھاؤ، ہم پہنچنے والے ہیں۔
کدھر؟ حیا نے ناسمجھی سے ڈرائیو کرتی ہالے کو دیکھا۔
جہانگیر اور کدھر؟
وہاں کیا ہے؟
تمہاری آنٹی کا گھر، کل کہا جو تھا کہ تمہیں لے جاؤں گی، صبح بتایا بھی تھا، بھول گئیں؟
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ادھر لے کر جا رہی ہو؟ وہ ہکابکا رہ گئی۔
ہاں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آیڈریس بتاؤ، اسٹریٹ نمبر تو مجھے یاد رہ گیا تھا، آگے بتاؤ۔
اوہ ہالے! اس نے ہڑبڑا کر پرس سے تڑامڑا سا کاغذ نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کاغذ پر دیکھا، وہاں علاقے کا نام Cihangir لکھا تھا، وہ اسے سہانگیر پڑھتی تھی، اب اسے یاد آیا کہ ترکوں کا سی، جیم کی آواز سے پڑھا جاتا تھا۔ اگر اسے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ ادھر جانا ہے تو وہ تحائف ہی اٹھا لیتی جو اماں نے بھیجے تھے۔ ذرا اچھے کپڑے ہی پہن لیتی، تھوڑا سا میک اپ ہی کر لیتی۔
لو، یہ تو سامنے ہی تھا۔ اب تم جاؤ، مجھے ادھر تھوڑا کام ہے، میرا نمبر تم نے فون میں فیڈ کرلیاہے نا؟ جب فارغ ہونا تو مجھے کال کرلینا۔ میں آ جاؤں گی، گھنٹہ تو مجھے لگ ہی جائے گا، پھر کھانا ساتھ کھائیں گے۔
گاڑی رک چکی تھی۔ حیا نے بےتوجہی سے قس کی ہدایت سنیں اور دروازہ کھول کرنیچے اتری۔
اس کے دروازہ بند کرتے ہی ہالے گاڑی زن سے بھگالے گئی۔
وہ ایک خوبصورت چھوٹا سا بنگلہ تھا۔ بیرونی چاردیواری کی بجائے سفید رنگ کی لکڑی کی باڑھ لگی تھی۔ گیٹ بھی لکڑی کی باڑھ کا بنا تھا۔ گیٹ کے پیچھے چھوٹا سا باغیچہ تھا اور اس کے آگے وہ بنگلہ۔
بنگلے کی گلابی چھت مخروطی تھی۔ داخلی سفید دروازہ ذرا اونچا تھا اس تک چڑھنے کے لیے دو اسٹیپس بنے تھے۔
اسٹیپس کے دونوں اطراف خوش رنگ پھولوں والے گملے رکھے تھے۔ تو یہ تھی وہ چھوٹی سی جنت، جس میں وہ رہتا تھا، اور جس سے باہر نکلنے کا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا
وہ گیٹ کو دھکیل کر، پتھروں کی روش پہ چلتی ان اسٹیپس تک آئی، اونچے سفید دروازے پہ سنہری رنگ کی تختی لگی تھی۔
سکندر شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ترک ہجوں میں لکھا نام اس کے پھوپھا کا ہی تھا۔ گھنٹی کی تلاش میں اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی۔ اس گھر میں بہت سی لکڑی کی کھڑکیاں بنی تھیں اور شاید کوئی کھڑکی کھلی بھی تھی، جس سے مسلسل ایک ٹھک ٹھک کی آواز آ رہی تھی جیسے کوئی ہتھوڑے یا کلہاڑے کو لکڑی پہ زور سے مار رہا ہو۔
اس نے کپکپاتی انگلی گھنٹی پررکھی اور سنہری ڈور ناب کے چمکتے دھات میں اپنا عکس دیکھا۔
کاجل سے لبریز بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، دونوں شانوں پر پھسل کر نیچے گرتے لمبے بال اور سردی سے سرخ پڑتی ناک۔ وہ سیاہ لباس میں چینی کی مورت لگ رہی تھی، گبھرائی ہوئی پریشان سی مورت۔
اس نے گھنٹی سے انگلی ہٹائی تو ٹھک ٹھک کی آواز بند ہو گئی۔
چند لمحے بعد لکڑی کے فرش پہ قدموں کی چاپ سنائی دی۔ کوئی انجانی زبان میں بڑبڑاتا دروازہ کھولنے آرہا تھا۔
وہ لب کاٹتے ہوئے کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی،جب دروازہ کھلا۔ چوکھٹ پر بچھے ڈورمیٹ پہ اسے دروازہ کھولنے والے کے پاؤں دکھائی دیے۔ اس کی نگاہیں دھیرے سے اوپراٹھتی گئیں۔
بلیو جینز اور اوپر گرے سویٹر میں ملبوس، وہ ایک ہاتھ میں ہتھوری پکڑے کھڑا تھا۔ سوئیٹر کی آستینیں اس نے کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں اور اس کے کسرتی بازو جھلک رہے تھے۔
حیا نے دھیرے سے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کا سانس لمحے بھر کو ساکت ہوا تھا۔ وہ ویسا ہی تھا جیسے اپنے بچپن کی تصاویر میں لگا کرتا تھا۔ وہی بھورے مائل بال جو بہت اسٹائلش انداز میں ماتھےپر گرتے تھے۔ پرکشش آنکھیں، اٹھی مغرور ناک، سنہری رنگت کے تیکھے نقوش، وہ ماتھے پہ تیوری لیے آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہا تھا۔
سن کمسن؟ اس نے ترک میں کچھ پوچھا تو وہ چونکی۔
سس۔۔۔۔۔۔ سبین سکندر۔۔۔۔۔۔ سبین سکندر کا گھر یہی ہے؟
جی یہی ہے۔ وہ انگریزی میں بتاکر سوالیہ جانچتی نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھنےلگا۔
اسے لگا وہ بوسفورس کے ہل پہ ہتھیلیاں پھیلائے کھڑی ہے، اور نیلے پانیوں کو چھو کر آتی ہوا اس کے بال پیچھے کو اڑا رہی ہے۔ وہ کسی گہرے خواب کے زیر اثر تھی۔ حسین خواب کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ان کی مہمان ہوں۔ پاکستان سے آئی ہوں۔ وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔ اس کے سامنے اس کی ساری خود اعتمادی ہوا ہو گئی تھی۔ ایک دم خود کو بہت کمزور محسوس کرنے لگی تھی۔ کیسی مہمان؟ اس کا انداز اکھڑا اکھڑا سا تھا، جیسے وہ کسی ضروری کام میں مصروف تھا جس میں حیا مخل ہوئی تھی۔
میں حیا ھوں ۔۔۔ حیا سلیمان ۔۔۔ اس نے پرامید نگاہوں سے جہان سکندر کا چہرہ دیکھا ۔ کہ ابھی اس کا نام سن کر اس کی پرکشش آنکھوں میں شناسائی کی کوئی رمق ۔۔۔
کون حیا سلیمان ؟؟؟
اس کے قدموں تلے بوسفورس کا پل شق ھوا تھا ۔ وہ بے دم سی نیچے گہرے پانیوں میں جا گری تھی ۔
“کون حیا سلیمان ؟؟؟ بے آواز دہراتے ھوئے وہ سن سی ھوتی اسے تک رہی تھی ۔ اس کی پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں ۔ اس شخص کے چہرے پر زمانے بھر کی بیزاری اور اجنبیت تھی ۔ پہچاننے یا نا پہچاننے کا تو سوال ہی نہ تھا ۔ جہان سکندر تو اس سے واقف ہی نہ تھا ۔
کون ، مادام ؟؟ اس نے قدرے اکتا کر دہرایا ۔
حیا نے خفیف سا سر جھٹکا پھر لب بھینچ لیے ۔
میں سبین پھپھو سے ملنے آئی ھوں ۔ان کے بھائی سلیمان کی بیٹی ھوں ۔ وہ جانتی ہیں مجھے “
اوکے , اندر آ جاؤ ” وہ شانے اچکا کر واپس پلٹ گیا ۔
وہ جھجھک کر اوپر زینے پہ چڑھی پائیدان کو دیکھ کر کچھ یاد آیا تو فورًا پیر جوتوں سے نکالے اور لکڑی کہ فرش پہ قدم رکھا ۔
فرش بیحد سرد تھا ۔ دور راہداری کے اس پار جہاں اس نے جہان کو جاتے دیکھا تھا وہاں سے ہتھوڑے کی ٹھک ٹھک پھر سے شروع ھو چکی تھی ۔ وہ راہداری عبور کر کے کچن جے دروازے میں آ کھڑی ھوئی ۔ امریکی طرز کا کچن نفاست سے آراستہ تھا ۔ عین وسط گول میز کے گرد چار کرسیوں کا پھول بنا تھا ۔ ایک جانب کاؤنٹر کے ساتھ وہ حیا کی جانب پشت کیے کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں ہتھوڑی تھی ۔ جس سے وہ اوپر کیبنٹ کے کھلے دروازے کے جوڑ پر زور زور سے ضربیں لگا رہا تھا ۔ وہ چند لمحوں کے شش و پنج کے بعد ڈھیٹ بن کر آگے آئی ۔ اور قدرے آواز کے ساتھ کرسی کھینچی ۔ وہ بے اختیار چونک کر پلٹا ۔
ڈرائنگ روم ۔۔۔ خیر !،، وہ ناگواری سے لب بھینچ کر واپس کیبنٹ کی طرف مڑ گیا ۔ اس نے ایک ہاتھ سے کیبنٹ کے دروازے کے جوڑ پہ کسی شے کو پکڑ رکھا تھا ۔ اور دوسرے ہاتھ سے ہتھوڑی مار رہا تھا ۔ حیا سلیمان نے زندگی میں کبھی اتنی تذلیل محسوس نہیں کی تھی ۔
مام ۔۔۔۔۔۔ مام ۔۔۔۔۔ چند لمحے گزرے تو وہ اسی طرح اپنے کام کی طرف متوجہ ، چہرے پہ ڈھیروں سنجیدگی لیے پکارنے لگا ۔
وہ انگلیاں مروڑتی ٹانگ پہ ٹانگ رکھے سر جھکائے بیٹھی تھی ۔
دفعتًا چوکھٹ پہ آہٹ ھوئی تو سر اٹھایا ۔
راہداری سے برتن ہاتھ میں لیے سبین پھپھو اسی پل کچن میں داخل ھوئی تھیں ۔
کندھوں تک آتے باب کٹ بال اور کھلے لمبے اسکرٹ کے اوپر سرمئی سوئٹر پہنے وہ کچھ بولتی آ رہی تھیں ۔ اسے بیٹھا دیکھ کر ٹٹھک کر رکیں ۔
حیا ۔۔۔۔ میرا بچہ ۔۔۔۔ تم کب آئیں ؟
برتن کاؤنٹر پر تقریباً گرا کہ وہ والہانہ انداز میں اس کی طرف لپکیں ۔ وہ جو جہان کے سرد مہر رویے پہ بددل سی بیٹھی تھی گڑبڑا کر اٹھی بہت گرم جوشی سے اسے گلے لگا کر اس کی پیشانی چومی ۔ پھر بے حدمحبت و اپنائیت بھری نم آنکھوں سے مسکرا کر اس کا چہرہ دیکھا ۔ ۔ فاطمہ نے بتایا تھا کہ تم کچھ روز تک آؤ گی ملنے ۔ میں سوچ رہی تھی کہ تم تھکن اتار لو گی تو میں خود ہی تم سے ملنے آؤں گی ۔ کیسی ھو تم ؟؟ کتنی پیاری ھو گئی ھو ۔
وہ اب اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھی محبت سے اس کا ہاتھ تھامے کہہ رہی تھیں ۔
میں ٹھیک ھوں پھپھو ” آپ کیسی ہیں ؟؟
وہ بدقت مسکراتی انہی کی طرح انگریزی میں گفتگو کر رہی تھی ۔ تم کتنی بڑی ھو گئی ھو ۔
آنکھیں تو بالکل سلیمان بھائی جیسی ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں میری آنکھیں میری اماں سے ملتی ہیں پھپھو ،! وہ ہلکا سا جتا گئی بھئی مجھے تو تم میرے بھائی کا ہی عکس لگتی ھو اور سب کیسے ہیں ؟؟
وہ ایک ایک کا حال پوچھے گئیں ۔ وہ سب کی خیریت بتا کر کہنے لگی ۔
آپ داور بھائی کی شادی میں نہیں آئیں ۔ داور بھی کتنا بڑا ھو گیا ھے کہ ماشاء اللہ شادی بھی ھو گئی ۔ کیسی رہی شادی ؟؟ میں نے ویڈیو دیکھی تھی تمہاری ۔
اس نے چونک کر انھیں دیکھا ۔
کون سی ویڈیو ؟؟ اس کا سانس رکنے لگا ۔ ایک دم ہی کمرے میں بہت گھٹن ھو گئی ۔
وہ جو داور کے ولیمہ پہ اسٹیج پہ بنائی گئی تھی ۔
تم نے ریڈ فراق پہن رکھی تھی ۔ میں نے روحیل کے فیسبک پہ دیکھی تھی ۔
روحیل سے کانٹیکٹ ھے آپ کا ؟؟
اس کی رکی سانس ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ بحال ھوئی ۔ ” اور آپ فیسبک یوز کرتی ہیں ؟؟
وہ ان دونوں کی جانب پشت کیے کیبنٹ کے دروازے پہ اسی طرح ضربیں لگا رہا تھا ۔
ہاں بس روحیل کی البمز دیکھنے کے لیے کرتی ھوں ۔ تم استعمال کرتی ھو فیسبک ؟؟؟
نہیں ۔ پہلے کرتی تھی پھر چھوڑ دیا ۔ مجھے یہ سوشل نیٹ ورکس پسند نہیں ہیں ۔ ہر شخص آپ کی زندگی میں جھانک رہا ھوتا ھے ۔ انسان کی کوئی پرائیویسی ہی نہیں رہتی ۔
ہوں ۔۔ اوہ حیا تم جہان سے ملیں ؟؟
ایک دم خیال آنے پر انھوں نے گردن پھیر کر اپنے بیٹے کو دیکھا ۔ جو چہرے پر ڈھیروں سختی لیے اپنے کام کی طرف متوجہ تھا ۔
جہان تم حیا سے ملے ھو ؟؟ یہ سلیمان بھائی کی بیٹی ھے ۔ روحیل کی بہن اور تمہاری فرسٹ کزن ۔
ہوں ، مل چکا ھوں ۔ ۔ وہ اب جھک کر دراز سے کیل نکال رہا تھا ۔
یہ رشتہ داریاں یاد رکھنے کے معاملے میں بہت پور ھے ۔ ویسے کوشش تو کرتا ھے اور اسے رشتے یاد بھی رہتے ہیں ۔
دراصل پھپھو انسان کو رشتے تب یاد رہتے ہیں جب اس کے ماں باپ اسے رشتے یاد دلائیں ۔ بچوں کا کیا قصور ؟ سارا قصور والدین کا ھوتا ھے ۔ اگر والدین ہی کبھی اولاد کو رشتے داروں سے نہ ملائیں تو الزام کس کے سر رکھا جائے ؟؟
سبین پھپھو کا جوشوخروش سے چمکتا چہرہ پھیکا پڑ گیا ۔ مگر وہ اسی طرح تلخی سے کہتی جا رہی تھی ۔ جہان اب بھی کام میں مصروف تھا ۔
مثلًا اب آپ لوگ ہیں ۔ آپ کئی دہائیوں سے ادھر مقیم ہیں ۔ اور شاید آپ کا واپس آنے اور اپنے خونی رشتوں سے ملنے کا دل ہی نہیں چاہتا ۔ تو ھے نہ یہ ان فئیر ۔ نہیں ؟؟
پھپھو کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا ۔ لٹھے کی مانند سفید اور پھیکا ۔۔
پھر وہ بدقت زرا سا مسکرائیں اور سر جھٹکا ۔
ٹھیک ۔ ٹھیک کہہ رہی ھو بس کبھی آ ہی نہیں سکے ۔ وہ اب مطمئن تھی اپنے لہجے پر اسے قطعی افسوس نہیں ھوا تھا ۔ یہ ان لوگوں کی بے رخی تھی جس کے باعث اس کا ان سے تعلق ایک سوالیہ نشان بن کے رہ گیا تھا ۔ وہ زمین اور آسمان کے درمیان معلق تھی ۔ کسی کی منکوحہ ھو کر بھی خاندان کے لڑکے اس سے امید لگانے لگے تھے ۔ اس کی کڑوی دوائی کا زرا سا ذائقہ یہ ذمہ داران بھی تو چھکیں ۔ جنہیں اپنے بیٹے کو یہ بتانا یاد رہا تھا کہ وہ اس کی کزن ھے اور بس ۔۔
دفعتًا اس کی نگاہ فریج کے اوپر رکھے فوٹو فریم پر پڑی ۔ اس میں ایک خوش شکل درمیانی عمر کے صاحب مسکرا رہے تھے ۔ سر پہ آرمی کی کیپ اور کندھوں پہ سجے تمغے و پھول ستارے ، یہ پھوپھا ہیں ؟ وہ گردن اٹھا کر حیرت سے تصویر دیکھنے لگی ۔ سبین پھپھو نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا اور دھیرے سر ہلا دیا ۔
انسان کو رشتے تب یاد رہتے ہیں جب اس کے ماں باپ اس کو رشتے یاد دلائیں ۔ ،، وہ پلٹے بنا خاصا جتا کر بولا تو حیا چونکی ۔ وہ تو اسے اتنا لاتعلق سمجھ رہی تھی ۔ اس کا خیال تھا جہان نے اس کی تلخ باتوں پہ دھیان نہیں دیا ۔ مگر نہیں
وہ۔بظاہر نظر انداز کیے سب سن رہا تھا ۔ وہ زرا محتاط سی ھو کر سیدھی ھوئی ۔ میرا مطلب تھا ۔ پھوپھا آرمی میں تھے ؟ پاکستان آرمی میں ؟؟
نہیں ۔، جہان ہتھوڑی سلیب پہ رکھ کر آگے بڑھا اور فریج پہ رکھا فریم گرا دیا ۔ تصویر والی طرف فریج کی چھت پہ سجدہ ریز ھو گئی ۔
حیا تم نے کھانا تو نہیں کھایا نہ ؟؟
میں بس لگا رہی ھوں ۔ پھپھو اب سنبھل کر دوبارہ سے ہشاش بشاش ھو گئی تھیں ۔ حیا جواب دیے بنا تحیر سے فریج کہ اوپر اوندھے منہ گرے فریم کو دیکھے گئی ۔ اس کے ایک سوال کے جواب میں جس بدمزاجی سے جہان جہان نے فریم گرایا تھا ۔ وہ ابھی تک اس پہ گنگ تھی ۔
ممی آپ کا کیبنٹ ریڈی ھے ۔ وہ اب کیبنٹ کا دروازہ کھول بند کر کے چیک کر رہا تھا ۔
تھینک یو جہام !. اور باتھ روم کا نل بھی ؟ پھپھو نے گول میز پہ پلاؤ کا بڑا سا پیالہ رکھتے ھوئے اسے یاد دلایا ۔ ،، اے ہئے ۔۔ پھر وہی بدمزہ پلاؤ ؟ ۔وہ خفیف سا سر جھٹک کر رہ گئی ۔
رہنے دیں پھپھو ۔۔ میں !
کوئی اگر مگر نہیں ۔ میں تمہارے لیے کچھ خاص نہیں بنا سکی ۔ سو مجھے انکار کر کے اب شرمندہ نہ کرنا ۔ جہان اب دراز سے ڈبہ نکال کر اندر رکھی چیزیں الٹ پلٹ کر رہا تھا ۔ دفعتًا ڈور بیل بجی ۔ جہان نے رک کر راہداری کی سمت دیکھا ۔ پھر ڈبہ وہیں چھوڑا اور باہر نکل گیا ۔
شروع کرو حیا ! پھپھو نے مسکراتی آنکھوں سے دیکھتے ھوئے اسے پلیٹ تھمائی ۔ اس نے شکریہ کہہ کر چاول اور تھوڑا سا لوبیہ کا مسالہ نکالا ۔
راہداری کے اس پار جہان کسی مرد سے ترک میں کچھ بول رہا تھا ۔
دونوں کی مدھم سی آوازیں سنائی دے رہی تھیں ۔ دوسرے ہی چمچے میں وہ پلاؤ اسے مزےدار لگنے لگا ۔ ڈی جے صحیح کہتی تھی ان کو کھانا صرف سفر کی متلی کے باعث بدمزہ لگا تھا ۔ پھپھو آپ کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ۔۔!۔
حیا ۔۔۔۔۔۔
اس کا چمچہ پکڑے منہ تک جاتا ہاتھ اور بات دونوں رک گئے ۔ بے یقینی سے اس نے گردن موڑی ، جہان راہداری سے اسے پکارتا آ رہا تھا ۔ کیا اس۔مغرور اور بددماغ آدمی کو اس کا نام یاد رہ گیا تھا ؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: