Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 70

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 70

–**–**–

آپ کی تصویر بھی تھی۔ ثنا نے یاد کر کے بتایا۔ اس پر وہ ذرا سی چونکی۔
مگر آپ کی تو خیر ہے، آپ نے تو لپیٹ کر دوپٹا لیا ہوا تھا ناں۔ پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ کون ہے۔ مگر میری تو اچھی خاصی کلاس لے لی بھائی نے۔ وہ سخت رنجیدہ ہو رہی تھی، غالباً ان کے گھر آتے ہوئے ہی رضا سے اس کا ٹاکرا ہوا تھا۔
ہاں حیا کا دوپٹا نا ہوا سلیمانی چغہ ہو گیا۔ ارم ذرا سا ہنسی۔ حیا نے نگاہ پھیر کر اسے دیکھا۔ وہ ہاتھ میں پکڑی شیشے کی پلیٹ پہ رکھی اسٹرابیری کو کانٹے میں پھنسا رہی تھی۔ پھر کانٹا منہ میں لے جاتے ہوئے اس نے حیا کو دیکھا۔ حیا کی نگاہوں میں کچھ ایسا تھا۔ ارم بے اختیار دوسری طرف دیکھنے لگی۔
ایک تو پتا نہیں ہمارے بھائیوں کو دوستوں کا اتنا خوف کیوں ہوتا ہے۔ ایسے ہم سارے زمانے میں بغیر ڈوپٹے کے گھومتے رہیں تب کچھ نہیں ہوتا لیکن اگر بھائی کی یونیورسٹی کے سامنے سے کار میں بھی گزرو تو بس۔ ہاتھ اندر کرو سر پہ ڈوپٹہ لو میرا کوئی دوست گزر رہا ہو تو دیکھنا مت۔ اف۔ ثنا رضا کی نقل کرتے ہوئے بولی تو سحرش ہنس دی۔ ارم فقط مسکرائی پھر اس نے حیا کو دیکھا۔ وہ ابھی تک خاموش مگر گہری نظروں سے ارم کو دیکھ رہی تھی۔ ارم ذرا جزبز ہو کر دوبارہ ثنا کو دیکھنے لگی۔
جہان نہیں آیا تمہارے ساتھ حیا؟ سحرش نے بات کا رخ پھیرا تو حیا نے نگاہیں اس کی طرف پھیریں۔ پھر ہلکا سا نفی میں سر ہلایا۔ نہیں۔ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔
اچھا تم تو کہہ رہی تھیں کہ وہ تمہارے ساتھ آئے گا۔ معصوم سا سوال تھا مگر اسے بہت زور سے چبھا۔ سونیا نے بےچینی سے پہلو بدلا۔ اسے یقیناً سحرش کا لہجہ اچھا نہیں لگا تھا۔
کہا تھا مگر ایسا ہو نہیں سکا۔ اس نے فقط یہی کہا۔ کوئی صفائی نہیں، کوئی دلیل نہیں، کوئی منہ توڑ جواب نہیں۔ اب تو کسی بات کا نہیں چاہتا تھا۔
اچھا! سحرش نے ذرا سے شانے اچکاتے ہوئے آگے ہو کر ایک اور اسٹرابری اٹھائی۔ حیا نے سرخ پھلوں سے بھرے ہوئے پیالے کو دیکھا۔ سرخ رسیلا پھل۔ سرخ جوتے۔ بیسن کے کنارے پہ لگا خون کا سرخ قطرہ۔
اس کا دل بھر آیا تھا۔ وہ ایک دم اٹھی اور تیزی سے کمرے کی طرف گئی۔
سب نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
نتاشا اسی طرح بےنیاز سی میگزین کے صفحے پلٹ رہی تھی۔
* * * *
حیا باجی آپ کا فون ہے ۔ وہ اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ کھولے عائشے کو میل لکھ رہی تھی۔ جب نور بانو نے دروازے سے جھانک کر صدا لگائی۔ وہ اچھا کہہ کر سینڈ کا بٹن دبا کر اٹھی اور باہر آئی۔ زندگی میں ناامیدی اتنی بڑھ گئی تھی کہ فون کی گھنٹی پہ بھی چونکنا چھوڑ دیا تھا۔ میجر احمد اسے کبھی بھی لینڈ لائن پہ کال نہیں کیا کرتا تھا۔ سو اسے دلچسپی نہ تھی کہ کس کا فون ہے۔
ہیلو؟ اس نے کریڈل کے پاس رکھا الٹا ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا۔
بہت شکریہ میری بات سننے اور سمجھنے کا۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے عقلمندی کا ثبوت دیا۔ ولید کی مسکراتی آواز۔ اسے لگتا تھا کہ سارے احساس مر گئے ہیں مگر ایک ابال سا اندر سے اٹھا تھا۔ ہاں ابھی کچھ دل میں زندہ تھا۔
جو بھی کہنا ہے، صاف کہو۔ وہ دبے لہجے میں غرائی۔
میرے خلاف وہ کیس واپس لے کر تم نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ ایک عقلمند خاتون ہیں۔ لمحے بھر کو اس کے عصاب مفلوج سے ہو گئے۔ کیس واپس؟ اس نے تو نہیں۔۔۔۔۔۔ پھر کس نے؟
میں نے تمہارے خلاف کوئی کیس واپس نہیں لیا۔
میں جانتا ہوں کہ آپ کے دباؤ پہ ہی یہ ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ نے یہ کیوں کیا ہے۔ یہ کال آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کی تھی اور یہ پوچھنے کے لیے بھی کہ پھر ہم کب مل رہے ہیں؟ وہ جیسے بہت مسرور اور مطمئن تھا۔
اس کے اندر جوار بھاٹا پکنے لگا۔ بمشکل اس نے ضبط کیا۔ میں فون رکھ رہی ہوں۔
کل دوپہر ایک بجے میں جناح سپر والے پزاہٹ پہ آپ کا انتظار کروں گا۔ ضرور آئیےگا۔ مجھےکچھ اہم باتیں کرنی ہیں۔ کیونکہ ابھی وہ آرکیٹیکٹ والا مسئلہ حل نہیں ہوا۔
اچھا۔ اور تمہیں لگتا ہے میں آجاؤں گی۔ وہ اور ہوتی ہیں کمزور لڑکیاں جو تم جیسوں سے ڈر جاتی ہیں۔ مائی فٹ۔ اتنا غصہ آیا تھا کہ دل چاہا یہ فون دیوار پہ دے مارے۔
آپ کو آنا ہو گا۔ یاد رکھیں وہ ویڈیو میرے پاس ہے۔ اگر آپ نہیں آئیں تو میں آپ کے گھر آ کر وہ ویڈیو آپ کے ہاں ٹی وی پہ چلا کر دکھاؤں گا اور یہ میرا وعدہ ہے۔ اس کے لہجے کی سفاکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا کا دل لرز کر رہ گیا مگر جب بولی تو آواز مضبوط تھی۔
تو پھر تم کر گزرو جو تم کرنا چاہتے ہو۔ ایسا سوچنا بھی مت کہ میں تم سے یوں ملنے چلی آؤں گی۔ جہنم میں جاؤ تم۔
اس نے فون زور سے کریڈل پر پٹخا۔ پھر تیزی سے مڑ کر ابا کے کمرے کی طرف گئی۔وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ٹائی کی ناٹ صیحح کر رہے تھے۔ آفس جانے کے لئے بالکل تیار۔
ابا کیا آپ نے ولید کے خلاف کیس واپس لے لیا؟ وہ پریشانی سے کہتی بنا اجازت اندر آئی تھی۔ سلیمان صاحب نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر واپس شیشے کے سامنے ہو کر ٹائی کی ناٹ ٹھیک کرنے لگے۔
ہاں واپس لے لیا۔
مگر کیوں؟ وہ صدمے سے بولی۔
پہلی بات یہ کہ وہ بہت ہی کمزور کیس تھا۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے پاس کوئی خاص گواہ نہیں ہے اور تیسری بات اس کی گاڑی سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ فرقان بھائی کو چوٹ گرنے سے آئی۔ اس لیے اس کیس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ اب پرفیوم اٹھا کر خود پر اسپرے کر رہے تھے۔
مگر! ابا آپ جانتے ہیں اس نے مجھے ٹکر مارنے کی کوشش کی تھی۔
حیا میں اسے اس طرح نہیں چھوڑوں گا۔ آرکیٹیکٹ کے ساتھ مل کر اس نے جو بےایمانی کی ہے اس پر میں اسے آڑے ہاتھوں لوں گا۔تھوڑا انتظار تو کرو۔ لیکن ابا کی بات کے برعکس ان کا لہجہ غیر سنجیدہ تھا۔ وہ مزید سنے بغیر بھاگتی ہوئی باہر آئی ۔چند لمحوں بعد وہ تایا فرقان کے گھر تھی۔
تایا ابا اور صائمہ تائی ڈائننگ روم میں اکیلے ناشتا کر رہے تھے۔ لڑکے کام پر تھے۔ سونیا اور ارم بھی ساتھ نہیں تھیں۔
تایا ابا۔ وہ پریشانی سے ان کے پاس آئی۔
آؤ حیا! طبیعت کیسی ہے؟ وہ ہموار لہجے میں بولے، ساتھ ہی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ پہلے جیسی محبتیں نہ سہی مگر پچھلے کچھ عرصے والی رکھائی بھی نہیں تھی۔درمیانہ سا انداز۔
تایاابا! آپ لوگوں نے ولید کے خلاف کیس کیوں واپس لے لیا؟ وہ بےچینی سے وہیں کھڑے کھڑے بولی۔ صائمہ تائی اس کے لہجے پر بےاختیار پلٹ کر اسے دیکھنے لگیں۔
میں نے نہیں لیا تمہارے ابا نے لیا ہے۔ اور وہ اتنے غلط بھی نہیں ہیں۔ کیس کمزور ہے۔ وقت اور پیسے ضائع کرنے کا فائدہ ؟
مگر اس طرح تو وہ اور شیر ہو جائے گا۔ وہ سمجھے گا کہ ہم۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا! ہم سب ٹھیک ہیں۔ چوٹ مجھے لگی تھی۔ جب میں سمجھوتا کرنے پر تیار ہوں تو پھر؟ تایا ابا بھی شاید ولید کے خلاف کسی سخت کاروائی کے حق میں نہیں تھے۔ کاروباری سیاستیں۔ اف۔
اور آرکیٹیکٹ والا کیس؟
دیکھو ہم اس کو کھلم کھلا تو ڈیل نہیں کر سکتے۔ کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مگر تمہارے ابا اس سے ضرور نبٹیں گے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم فکر نہ کرو۔
وہ جانتی تھی کہ اس سے اب کوئی نہیں نبٹے گا۔ وہ صرف اس کو آرکیٹیکٹ والے کیس کا ڈراوا دے رہے تھے تا کہ اس کو سیدھا کر کے رکھ سکیں۔ شطرنج۔ بساط۔ سیاست۔
آپ نہیں سمجھیں گے۔ اس نے تاسف سے نفی میں سر جھٹکا۔
حیا! جہان نہیں آیا؟ صائمہ تائی نے ان کی گفتگو کو اختتام پزیر ہوتے دیکھا تو رہ نا سکیں۔
اللہ اللہ۔ پھر وہی سوال؟ اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔
وہ نہیں آ سکا تائی! آواز بھی دھیمی پڑ گئی۔
تو کب آئے گا۔ تمھارے ابا اور اماں تو چاہ رہے تھے کہ تمھارا نکاح بھی روحیل کے ولیمے کے ساتھ اناؤنس کریں۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تائی نے ہنکارہ بھر کر بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ نامکمل معنی اخذ کیے بغیر پلٹ آئی۔ تایا ابا اس وقت اخبار کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔
ہر کوئی پوچھتا تھا کہ وہ نہیں آیا کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا تھا کہ وہ کیوں نہیں آیا۔ سب اپنے مفاد کی بات پوچھتے تھے۔ جہان کی تو کسی کو فکر نہ تھی۔
* * * *
اس کی میل پر عائشے کا جواب آ گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ شام میں آن لائن ہو گی، تب وہ دونوں بات کریں گی۔ وہ عائشے سے کیا بات کرنا چاہتی تھی وہ نہیں جانتی تھی بس وہ اپنا دکھ اور اضطراب کسی سے بانٹنا چاہتی تھی۔ کسی سپاہی کی بیوی ہو کر دنوں، ہفتوں، مہینوں اس کا صبر سے انتظار کرنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے وہ اب جان پائی تھی۔
کیسی ہو؟ اسکرین پر عائشے کا شفاف، خوبصورت چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ اسکرین کے سامنے ریوالونگ چئیر پر بیٹھی تھی اور بات کرتے ہوئے وہ شیشے کی ننھی پیالی سے ترک چائے کے گھونٹ بھر رہی تھی۔
مجھے نہیں پتا میں کیسی ہوں؟ وہ اداسی سے بولی تھی۔ ملگجے لباس بندھے بالوں میں حیا بہت کمزور اور افسردہ دکھائی دے رہی تھی۔
کیا ہمارا اناطولیہ اچھا نہیں لگا؟ عائشے نے حیرت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ پیالی سائیڈ پہ رکھی۔
کپادوکیہ، وسطی اناطولیہ میں واقع تھا۔
نہیں بہت اچھا لگا۔ وہ پھیکا سا مسکرائی۔
بہارے بتا رہی تم لوگ انقرہ بھی گئے تھے۔ کیا اس کے جانے کے بعد تم نے انقرہ دیکھا یا واپس آ گئیں؟
میں کیلیس چلی گئی تھی۔ اس کے لبوں سے پھسلا۔
چائے کی پیالی اٹھاتی عائشے گل چونکی تھی۔
اچھا؟ کس دن گئیں تھی تم کیلیس؟
اتور کو گئی تھی۔ منگل کی دوپہر واپس آ گئی۔ اب چھپانے کا کیا فائدہ تھا۔ عائشے چند لمحوں کے لئے سوچتی رہی تھی۔ پیالی اس کے ہاتھ میں تھی لیکن وہ اسے لبوں تک لے جانا بھول گئی تھی۔
کیا بارڈر وہاں سے قریب پڑتا ہے؟
ہاں! بہت قریب! اس کے نگاہوں کے سامنے پھر وہی رات گھوم گئی۔ وہ خوفناک برستی بارش والی رات۔
تو کیا بارڈر کی ساری خبریں کیلیس میں لوگوں کو مل جایا کرتی ہیں؟
کس قسم کی خبریں عائشے؟ اس نے اچنبھے سے اسکرین کو دیکھا۔
مطلب جو لوگ ان لیگل بارڈر کراس کرتے ہیں ان کی گرفتاری کی خبریں۔ کیا منگل کی صبح تم نے ایسی خبر سنی تھی؟ وہ بہت سوچ سوچ کر بول رہی تھی۔ اور لمحے بھر کے لئے حیا کو لگا، اس کا سانس رک گیا ہے۔
وہ اپنی بہن کی جاسوس ہے، ساری باتیں اس کو بتاتی ہو گی۔
تمہارا موبائل تمہارے پاس تھا بہارے؟
کیا تم لوگ کیلیس جاؤ گے؟ عبدالرحمن کیلیس کا نام لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا عائشے نے اس کو پکارا وہ چونکی۔ کڑیاں سے کڑیاں ملائیں تو ذہن میں عجیب سا خیال ابھرا۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ عائشے پولیس کو کیوں بتائے گی؟ مگر پھر وہ بارڈر پہ گرفتاری کے بارے میں سننے میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتی تھی؟
ہاں پیر اور منگل کی درمیانی رات وہ بارڈر کراس کر رہا تھا عائشے! مگر سکیورٹی اہلکار اس کے انتظار میں تھے۔ وہ گرفتار ہوا یا مارا گیا، یہ میں نہیں جانتی۔ مگر میں اتنا جانتی ہوں کہ۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے انتظار میں تھے کیونکہ تم نے ان کو بتایا تھا۔ ہے نا؟ پتا نہیں کیسے یہ سب اسکے منہ سے نکلا تھا۔ لاشعوری میں جڑتی کڑیاں مل کر ایک ایسی زنجیر بنا گئی تھی جس نے اسکے گلے میں پھندا ڈال دیا تھا۔
عائشے لمحے بھر کو خاموش ہو گئی۔ حیا کو لگا، وہ انکار کر دے گی مگر وہ جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔
ہاں میں نے انکو کال کی تھی۔ میرا فرض تھا۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ ایک قومی مجرم قانون توڑنے جا رہا ہے تو مجھے سکیورٹی فورسز کو بتانا چاہئے۔
وہ بے یقینی سے عائشے گل کو دیکھ رہی تھی۔
وہ کتنے آرام سے یہ سب کچھ کہہ رہی تھی۔ کیا اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی؟
مرحبا حیا! بہارے کہیں پیچھے سے آئی اور بہن کے کندھے پہ جھول کر چہک کر اسکرین کو دیکھا۔ حیا نے جواب نہیں دیا۔ وہ ابھی تک عائشے کو دیکھ رہی تھی۔
عبدالرحمن مجرم نہیں تھا عائشے! وہ مجرم نہیں تھا!
چائے کا گھونٹ بھرتے بھرتے عائشے گل ٹھہری۔
اس کی آنکھوں میں اچنبھا ابھرا۔ عبدالرحمن کا کیا ذکر۔
تم۔ حیا نے لب کھولے مگر رک گئی۔ اس کے اندر ابلتا غصہ، بے یقینی سب کچھ رک گیا۔ کہیں کچھ غلط تھا۔
تم۔۔۔۔۔۔ تم نے عائشے! ہم عبدالرحمن کی بات کر رہے ہیں، جسے میں نے کیلیس میں کھو دیا۔
بے بسی سے اس نے کہنا چاہا۔ بہارے کبھی عائشے کو دیکھتی کبھی اسکرین کو۔
عبدالرحمن کیلیس میں کیا کر رہا تھا؟
تم جانتی ہو وہ کیا کر رہا تھا۔ تم نے سکیورٹی کو بتایا اسکے کراسنگ کا۔۔۔۔
حیا وہ کیلیس میں نہیں تھا۔ اسے انقرہ سے جرمنی جانا تھا۔ وہ کیلیس کیوں گیا؟
تم جانتی ہو وہ کیلیس میں تھا عائشے! تمہیں۔۔۔۔ بہارے نے بتایا تھا مجھے معلوم ہے۔ جذبات کی شدت سے اس کی آواز بلند ہو گئی تھی۔
بہارے گل! تم جانتی تھی؟ عائشے بے یقینی سے اپنی بہن کو دیکھا۔ وہ بے ساختہ سہم کر پیچھے ہوئی۔
میں نے کچھ نہیں کیا۔ سب مجھے ایسے کیوں دیکھتے ہیں؟ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
وہ منگل کی رات بارڈر کراس کرنے جا رہا تھا، کیا یہ تمہیں بہارے نے نہیں بتایا۔
وہ بارڈر کراس کرنے جا رہا تھا؟ نہیں حیا۔۔۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ عائشے ابھی تک دم بخود تھی۔ میں نے تو اس کے بارے میں تو کسی کو کچھ نہیں کہا۔ میں نے تو نصوع فخری کے بارے میں بتایا تھا سیکیورٹی کو۔ اس نے بارڈر کراس کرنا تھا منگل اور پیر کی درمیانی شب!
وہ جہان تھا عائشے! تم نے کال ہی کیوں کی سیکیورٹی کو؟ وہ دبی دبی چلائی تھی۔ اس رات کے زخم، بارڈر کی بو، روشنی کے گولے، سب پھر سے تازہ ہو گیا تھا۔
کیونکہ مجھے عبدالرحمن نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔ وہ بےبسی سے بولی تھی۔ بہارے نے تائید میں سر ہلایا۔
میری بہن سچ کہہ رہی ہے۔ میں نے ان کی باتیں سنی تھی چرچ میں۔
اور حیا کو لگا وہ اگلا سانس نہیں لے سکے گی۔
••••••••••••••••
عائشے تمہارا فون بج رہا ہے۔ آنے کے پکارنے پہ وہ چونکی۔ گود میں رکھا موبائل جانے کب سے بج رہا تھا۔
بہارے! نمبر پہ لکھا نام بہت محبت سے لے کر اس نے آنے کو بتایا تھا اور سبز بٹن دبا کر فون کان سے لگایا۔
سلام علیکم! اس نے مسکرا کر سلام کیا۔
وعلیکم السلام کیسی ہو؟ ایران سے ہزاروں کلومیٹر دور، وہ اہلآرا وادی کے چرچ میں کھڑا، بہارے کے فون کو کان سے لگائے کہہ رہا تھا۔ ساتھ ہی اس نے پلٹ کر دیکھا۔ چرچ کے کھلے دروازے سے بیرونی سیڑھیاں نظر آ رہی تھی، جو پہاڑ کے نیچے تک جا رہی تھی۔ حیا ابھی نماز پڑھ کر نہیں آئی تھی اور بہارے کے پرس سے فون نکال کر اس نے اسے تصویریں کھینچنے چرچ کی اوپری منزل پہ بھیجا تھا۔
میں ٹھیک ہوں، تم بتاؤ ترکی والے کیسے ہیں؟
اس کی مسکراہٹ اور بھی خوبصورت ہو گئی تھی۔ طمانیت کے سارے رنگ آنکھوں میں اتر آئے تھے۔ بہت دن بعد اس نے عبدالرحمن کی آواز سنی تھی۔
عائشے! یاد ہے تم نے کہا تھا تم مجھے ایک فیور دو گی۔ وہ چرچ کی چوکھٹ میں کھڑا سیڑھیوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔ حیا کے آنے سے پہلے پہلے اسے بات ختم کرنی تھی۔
ہاں، بتاؤ، کیا ہوا؟
تم ترکی کے سب سے بڑے بارڈر کے بارے میں کیا جانتی ہو؟
کون سا بارڈر؟ ترکی اور شام کا؟
ہاں، اس بارڈر کو ایک قومی مجرم اس منگل کی رات کراس کرے گا، غیر قانونی طور پہ۔ ایسے میں تمہیں کچھ کرنا ہے۔
چند لمحے خاموشی کے بعد (وہ غالبا کسی اور جگہ آ گئی تھی-) ہاں کہو، پھر میں سن رہی ہوں۔
ترکی کا تم پہ قرض ہے عائشے! اپنے دل سے پوچھو کہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ، ایک مجرم ترکی کا ایک قومی مجرم، غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر رہا ہے تو تمہیں کیا کرنا چاہیئے؟
عائشے خاموش ہو گئی وہ آواز مزید دھیمی کرتے ہوئے بولا۔
تمہیں بارڈر سیکیورٹی فورس کو فون کرنا چاہیئے، تمہیں انہیں بتانا چاہیئے، سب کچھ، تاکہ وہ اسے گرفتار کر سکیں مگر نہیں’ عائشےگل یہ کیسے کر سکتی ہے، عائشے گل تو کچھ نہیں کر سکتی۔
ذرا اونچا بولو! اتنا آہستہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا- کیا کوئی آس پاس ہے؟ وہ ناراض ہو کر زرا خفگی سے بولی جیسے آخری فقرے کو نظر انداز کرنا چاہ رہی تھی۔
میں نہیں چاہتا کہ کوئی سنے، تم یہ سب لکھ لو۔ کمانڈر کا نمبر بھی۔
پھر وہ اسے تمام ضروری باتیں بتاتا گیا اور وہ لکھتی گئی۔
انہیں تمہاری کال ٹریس کرتے ہوئے نوے سیکنڈ لگیں گے تم نے اسی ویں سیکنڈ میں کال کاٹنی ہے۔
تم یہ کرو گی نا؟ تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور تب ہی اس کو آپنے پیچھے کسی آہٹ کا احساس ہوا وہ تیزی سے پلٹا۔ اندر چرچ کی سیڑھیوں پہ حرکت سی ہوئی تھی۔
کوئی آ گیا ہے، بعد میں کال کروں گا’۔ اس کا مرحبا سننے سے قبل ہی وہ سبک رفتاری سے آگے آیا اور سیڑھیوں کی اوٹ میں چھپی بہارے گل کو کان سے پکڑ کر باہر نکالا
میں ابھی آئی تھی- واللہ میں نے کچھ نہیں سنا۔ چھوٹی بلی بوکھلا گئی تھی، مگر وہ لب بھینچے برہمی سے اسے چرچ سے باہر لایا تھا۔
تو تم میری باتیں سن رہی تھی۔ تمہیں تمہاری بہن نے سکھایا نہیں ہے کہ کسی کی باتیں چھپ کر نہیں سنتے۔
میری بہن کو کچھ مت کہو!
جو تم نے سنا ہے اگر وہ تم نے حیا کو بتایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
وہ دبے دبے غصے سے کہہ رہا تھا اور اگر تم نے اپنی بہن کو بتایا کہ میں نے یہ بات حیا کو بتانے سے منع کیا ہے تو میں واقعی بہت برا پیش آوں گا۔
سیڑھیوں پہ ٹک ٹک کی آواز گونجنے لگی۔ وہ اوپر آ رہی تھی۔ جہان نے بہارے کو موبائل واپس کیا جسے اس نے جلدی سے اپنے پرس میں ڈال دیا۔
اگر تم نے میری بات نہ مانی بہارے۔۔۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں سنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روہانسی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تب تک حیا اوپر پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* * * *
اس نے یہ سب کہا؟ وہ بے یقینی سے اسکرین پہ نظر آتی عائشے اور بہارے کو دیکھ رہی تھی۔
ہاں! میری بہن سچ کہہ رہی ہے۔ میں نے خود سنا تھا۔
تم نے یہ سب سنا تھا؟ اور وہ سمجھتی رہی کہ اس نے اس کی اور جہان کی باتیں سنی تھی۔ مگر وہ تو اردو میں بات کر رہے تھے۔ وہ سن بھی لیتی تو اسے کیا سمجھ میں آتا؟ اس نے اس کی باتیں سنی ہی نہیں تھی وہ ایک دفعہ پھر ایک طرف کی کہانی سے نتیجہ اخذ کر چکی تھی۔
اس نے اپنی مخبری خود کروائی؟ اس نے اپنے آپ کو خود گرفتار کروایا؟ مگر کیوں؟ اس سارے قصے کا کچھ سینس نہیں بنتا تھا۔ وہ حیران تھی، پریشان تھی۔
تمہیں کیسے پتا کہ وہ گرفتار ہو گیا؟ عائشے نے بے یقینی سے پوچھا۔
میں نے خود دیکھا تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔ حیا کے الفاظ لبوں پہ ٹوٹ گئے۔ اس نے کیا دیکھا تھا؟ ہیولے؟ دھواں؟ روشنی کے گولے؟ ایک طرف کی کہانی؟
مجھے نہیں پتا میں نے کیا دیکھا تھا- مجھے نہیں پتا۔ وہ بے بسی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔ پھر ایک دم جھماکے سے اسے یاد آیا۔
جہان کے جوتوں کا رخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ اٹھا تھا تو اس کے جوتوں کا رخ بائیں جانب تھا، حالانکہ وہ سرحد کی جانب منہ کیے کھڑا تھا۔ کیا وہ سرحد کی طرف نہیں جا رہا تھا؟ وہ بائیں جانب جا رہا تھا۔ مگر بائیں جانب کیا تھا؟
پلیز تمہیں جب بھی کچھ پتا چلے مجھےضرور بتانا۔ اگر اسے میری وجہ سے کچھ ہوا تو میں ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر سکوں گی۔
عائشے بہت فکرمند اور بے چین ہو گئی تھی۔ حیا نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔ عائشے کو تسلی دینے کیلئے ایک لفظ بھی اس کے پاس نہ تھا۔
سرحد کی وہ رات اور ہراقلیطس کی دائمی آگ سے اٹھتے دھویں کے مرغولے سب کچھ ایک دم سے تازہ ہو گیا تھا۔
* * * *
اس نے دیوار پہ لگے کیلنڈر کی تاریخوں کو ایک دفعہ پھر دیکھا۔ ابھی ابھی اس نے سرخ پین سے آج کی تاریخ یعنی ہفتے کا دن کاٹا تھا۔ ابھی مزید دو روز باقی تھے۔ پھر منگل تھی۔ پین رکھ کر وہ ڈریسنگ ٹیبل تک آئی اور آئینے میں خود کو دیکھا۔ ڈوبتی امید کے درمیان اس کا دل بننے سنورنے، تیار ہونے کسی بھی چیز کو نہیں چاہ رہا تھا- سادہ سفید شلوار قمیض اور شانوں پہ پھیلا سفید دوپٹا ڈھیلے جوڑ کے بندھے بال اور ویران آنکھیں۔ دل تو وہیں زیتون کے درختوں میں کھو گیا تھا۔
وہ باہر آئی تو روحیل کچن کی آدھ کھلی دیوار کے پیچھے نظر آ رہا تھا۔ اسے آتے دیکھ کر زرا سا مسکرایا۔
پیو گی؟ وہ کپ میں کانٹے سے کافی پھینٹ رہا تھا۔
اونہوں! وہ ہلکا سا نفی میں سر ہلاتے آگے آئی اور کچن کی سینٹر ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھی۔
اور کیا ہو رہا ہے؟ جہان نے کب آنا ہے؟ گھوم پھر کر وہی سوال۔
اچھا ہے نا وہ نہیں آیا۔ سب خوش ہو گئے۔ اسے میرے ساتھ دیکھ کر خوش تھا ہی کون بھلا؟ وہ تلخی سے بولی۔
ارے میں تو خوش تھا بلکہ وہ آتا تو میں اور بھی خوش ہوتا- خیر پھوپھو کہہ رہیں تھیں کہ وہ منگل کو آ جائے گا؟ روحیل پوچھ رہا تھا یا بتا رہا تھا وہ سمجھ نہ سکی۔ پھوپھو کو تو اس نے خود ہی بتایا تھا مگر جب اسے خود یقین نہیں تھا تو روحیل کو کیا دلاتی۔
نتاشا کہاں ہے؟ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے موضوع بدلا۔
اندر ہو گی۔ ولیمے کیلئے آپنے ڈریس کی ڈیزائینگ کرتی پھر رہی ہے۔
اچھا خوش ہے وہ پاکستان آ کر؟
ہوں! روحیل نے کافی پھنٹتے ہوئے زرا سے شانے اچکائے۔ یہ ہاں تھا یا ناں وہ سمجھ نہیں سکی۔
اور اب تو ابا بھی جہان سے خوش تھے۔
تو پہلے کون سا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے کہتے رکی۔ ایک دم سے کچھ یاد آیا تھا۔ بیوک ادا میں جب روحیل سے اس کی بات ہوئی تھی تب اس نے کچھ بتایا تھا۔ تم نے بتایا تھا روحیل! یاد ہے کہ ابا کسی وجہ سے جہان سے خفا تھے۔
چھوڑو حیا! رہنے دو، وہ تو بس ایسے ہی۔
نہیں مجھے بتاؤ۔ تم نے کہا تھا بعد میں بتاؤں گا۔
کوئی خاص بات نہیں تھی۔ لیکن جب ابا ڈیڑھ سال پہلے استنبول میں سبین پھپھو سے ملےتھے تو انہوں نے کسی لڑکی کو جہان کو ڈراپ کرتے دیکھا تھا۔ بس اسی بات سے ان کے دل میں گرہ لگ گئی تھی۔ مگر خیر چھوڑو۔ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔
اور حیا کو تو یہ بات اچھی طرح یاد تھی۔اس نے ابا اور تایا کی باتیں سنی تھیں۔ ہاں وہ یہی بات کر رہے تھے۔ لیکن جہان نے اسے یہ بات کبھی نہیں بتائی کیونکہ اس نے پوچھی نہیں تھی۔ تو کیا ابھی بھی کچھ ایسی باتیں تھیں جو وہ اسے نہیں بتاتا تھا۔ جیسے عائشے کو وہ سب کہنا۔ اف!
وہ دونوں ابھی وہیں بیٹھے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ حیا نے آگے ہو کر فون اٹھایا۔ ذہن میں پہلا خیال ولید کا آیا تھا۔
حیا کیا تم فارغ ہو؟ صائمہ تائی بہت ہی شیریں لہجے میں بول رہ تھیں۔ یقینا کوئی کام تھا۔
جی بتائیے۔
ارم کے ساتھ ماکیٹ تک ہو آؤ۔ کچھ قمیصیں لینی ہیں اسے اور اپنے تایا کا تمہیں پتہ ہے وہ اکیلے جانے کہاں دیتے ہیں۔
اوکے میں آ رہی ہوں۔
کوئی اور وقت ہوتا تو شاید وہ نہ آتی لیکن اس ارم سے بھی بات کرنی تھی۔ سو ایک نہج پہ پہنچ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔
*_* * *
اس نے کار پارکنگ ایریا میں روکی اور گیئر کو نیوٹرل پہ کیا۔ چابی گھماتے ہوئے ارم کو دیکھا۔ شلوار قمیض پہ سکارف لیے وہ ذرا بے چین نگاہوں سے شاپنگ پلازہ کو دیکھ رہی تھی۔
چلیں؟ اس کی بات پہ ارم چونکی۔
ہاں چلیں۔ مجھے کچھ قمیصیں لینی ہیں۔ بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم ذرا تذبذب سے رکی۔ مجھے پنک کلر میں لان چاہیے۔ تم یوں کرو تم شاپ کے اندر چلی جاؤ جو اچھے لگیں نکلو لینا۔ تمہارا ٹیسٹ بھی بہت زیادہ اچھا ہے۔ مجھے کچھ جیولری بھی اٹھانی تھی میں تب تک دوسرے پلازہ سے اٹھا لاؤں۔ تم بیٹھو میں آتی ہوں۔
وہ جیسے ساری تمہید تیار کر لے لائی تھی اور اب جلدی جلدی لاک کھولنے لگی۔
میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔
نہیں خیر ہے۔ تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک، تمہیں یوں کیوں تھکاؤں۔ بس دس منٹ تو لگیں گے۔
ارم اگر تمھیں یوں اکیلے جانا ہے تو پہلے اپنے ابا سے پوچھ لو۔ اس نے کہنے کے ساتھ ہی اپنے موبائل پہ تایا کا نمبر ملایا اور کال کے بٹن پہ ہاتھ رکھے مگر دبائے بغیر سکرین ارم کو دکھائی۔ دروازے کو کھولتا ارم کا ہاتھ ٹھہرا۔ آنکھوں میں الجھن اور پھر غصہ در آیا۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں کسی لڑکے سے ملنے جا رہی ہوں؟
نہیں مجھے لگتا ہے کہ تم ولید سے ملنے جا رہی ہو۔
اس نے بغور ارم کو دیکھتے ہوئے رسان سے کہا۔ ایک لمحے کے لیے ارم کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس نے تھوک نگلا مگر پھر وہ جی کڑا کر بولی۔
اور اگر جا بھی رہی ہوں تو کیا کر لوگی تم؟
میں اکیلی گھر چلی جاؤں گی اور کسی کو کچھ نہیں کہوں گی۔ پھر جب تم تنہا آؤ گی تو سب کو خود ہی وضاحت دیتی رہنا۔ میں قربانی کا بکرا کیوں بنوں ہمیشہ۔
میں کسی سے نہیں ڈرتی حیا۔
وہ تو مجھے معلوم ہے۔ تم نے جو میری ویڈیو دینے کی حرکت کی ہے اس سے پتہ چل گیا تھا کہ تمہیں اللہ کا خوف بھی نہیں ہے۔
کونسی ویڈیو؟ ارم نے ابرو اٹھائی۔ چہرے کا بدلتا رنگ گواہی دے رہا تھا کہ یہ حرکت اسی نے کی تھی۔ فون پہ بھلے وہ جتنی مضبوطی سے بات کر لے سامنے کی بات اور ہوتی ہے۔
تمہیں بھی پتہ ہے اور مجھے بھی کہ میں کس ویڈیو کی بات کر رہی ہوں۔ تم نے اس طرح کرتے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اس میں تمہاری بھی بدنامی ہو گی۔ وہ دکھ سے ارم کو دیکھتے ہوئے بولی۔ گاڑی کے شیشے آدھے کھلے تھے اس کے باوجود باہر کے شور سے بےنیاز دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔ حیا دکھ سے اور ارم تلخی سے۔
میری زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔ میری جتنی بدنامی تم نے کروانی تھی کروا لی۔
ارم تم ولید سے وہ ویڈیو واپس لے لو۔ حیا نے التجا نہیں کی تھی بس قطیعت سے کہا تھا۔
اچھا یہ چاہتي ہو تم۔ اور اگر میں نہ لوں تو؟ ارم کے چہرے پر کڑوی مسکراہٹ تھی۔
تو تم نتائج کی ذمہ دار خود ہو گی۔
اور اگر میں اس شرط پر لوں کہ ابا کے سامنے جا کر تم کہو گی کہ اس رات میں تم سے ہی بات کر رہی تھی۔ اور وہ تمہارا ہی کوئی جاننے والا تھا۔ جس نے ابا کے فون کرنے پر فون اٹھایا تھا۔
حیا چند لمحے بہت دکھ سے اسے دیکھتی رہی۔
یو نو واٹ تم اور ولید ایک جیسے ہو۔ جب خود پھنسے ہوتے ہو تب بھی تمہیں لگتا ہے کہ دوسروں کو اپنے اشاروں پر نچا سکتے ہو۔ میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔
تو پھر ٹھیک ہے کرنے دو ولید کو اس ویڈیو کے ساتھ جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ چند لمحے دونوں کے درمیان ایک تلخ سی خاموشی حائل رہی۔ حیا سوچتے ہوئے ونڈو سکرین کے پار دیکھتی رہی۔ کسی طرح اسے ارم کو کنوینس کرنا تھا کہ وہ ولید سے وہ ویڈیو لے لے کسی بھی طرح۔
ارم میری بات سنو۔ اس میں تمہارا پارٹ بھی ہے۔ صرف میں نہیں تم بھی بدنام ہو جاؤ گی۔
پہلی دفعہ ارم کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ ابھری۔
آر یو شیور حیا کہ اس میں میرا پارٹ بھی ہے؟
اور حیا سن رہ گئی۔ اس کا مطلب تھا کہ ارم نے اپنا پارٹ ایڈٹ کر دیا تھا اور وہ ان کاموں میں بہت ماہر تھی۔ اسے پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا۔ کہ وہ ایسا بھی کر سکتی تھی۔
تو تم نے صرف مجھے بے عزت کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا۔ ارم تم مجھ سے اتنی نفرت کرتی ہو؟ وہ جو اتنی دیر سے سپاٹ لہجے میں بات کر رہی تھی اب کہ اس کی آوز میں شدید صدمہ در آیا تھا۔
ہاں کرتی ہوں اور مجھے تمہارے اس برقعے سے بھی نفرت ہے۔ ہمیشہ تمہاری وجہ سے مجھے ابا کی باتیں سننا پڑتی تھیں۔ ارم ایک دم پھٹ پڑی۔ جب روحیل بھائی امریکہ گئے اور تم یونیورسٹی تو تم ایک دم ماڈرن بن گئی۔ ابا تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتے تھے سو انہوں نے مجھ پہ روک ٹوک زیادہ کر دی کہ کہیں میں تمہارے جیسی نہ بن جاؤں۔ تمہاری وجہ سے مجھ پہ سختیاں بڑھی ہیں اور اب میں تنگ آ گئی ہوں اس زبردستی کے اسکارف سے۔ میرا بس چلے تو میں اس شہر کی ساری اسکارف شاپس کو آگ لگا دوں۔ نہیں کرنا مجھے اسکارف، کیوں کرتے ہیں ابا اتنی سخت۔ وہ ایک دم رونے لگی تھی۔
تو پھر کیا کریں وہ۔ سختی نا کریں تو کیا اپنی بیٹیوں کو کھلا چھوڑ دیں کہ جو مرضی کرو؟ ایسا نہیں ہو سکتا ارم۔ ہاں ٹھیک ہے ان کو ذہن سازی بھی کرنی چاہیے۔ انہیں اسکارف کے لیے پہلے کنوینس کرنا چاہیے۔ مگر ارم ان کی نیت تو ہمیشہ اچھی تھی نا۔ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔ ارم کے آنسوؤں سے اس کا دل ذرا پگھلا تھا۔
تمہیں زیادہ ابا کی وکالت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تمہیں شاپنگ نہیں کرنی تو ٹھیک ہے چلو گھر۔ مجھے نہیں جانا کہیں۔ وہ آنسو پونچھتی ایک دم بہت تلخی سے کہتی سیدھی ہوئی۔ حیا نے افسوس سے اسے دیکھا۔ دل میں جو نرم گوشہ بننے لگا تھا وہ فورا مٹ گیا۔ آخر وہ بھول بھی کیسے سکتی تھی کہ ارم نے ولید کو وہ ویڈیو دے دی تھی۔ اتنا بڑا دھوکا اس نے حیا کے ساتھ کیا تھا۔
اس نے افسوس سے سر جھٹکا اور اگنیشن میں چابی گھمائی۔ کار کے انجن میں حرارت پیدا ہوئی۔
ارم بھیگی نگاہوں سے شیشے کے پار دیکھ رہی تھی۔ اسے اب بھی اپنی ہی فکر تھی۔ اپنا اسکارف اپنے ابا کی سختیاں اپنی مجبوریاں۔ اسے اب بھی حیا کی یا اس ویڈیو کی فکر نہیں تھی۔
* * * *
منگل آیا، صبح ہوئی، دوپہر چڑھی، شام اتری اور رات چھا گئی۔ وہ نہیں آیا۔ بدھ بھی گزر گیا اور جمعرات کو زاہد چچا کی بیٹی مہوش پاکستان آگئی۔ مگر وہ شدید کرائسسز میں تھی۔ زاہد چچا اور عابدہ چچی نے کسی کو نہیں بتایا مگر صائمہ تائی کو اپنے کسی ذریعے سے پتا لگ ہی گیا۔ مہوش کا شوہر اس سے اگلی فلائٹ میں آرہا تھا مگر امیگریشن کے کسی چکر میں پھنس گیا اور عین وقت پر گرفتار کر لیا گیا۔ مہوش کی فلائٹ چونکہ ایک روز قبل کی تھی سو وہ اس وقت تک پاکستان آچکی تھی اور پھر خبر ملتے ہی تایا فرقان اور ان کی فیملی سمیت سب ہی عابدہ چچی کی طرف اکٹھے ہو گئے تھے۔
ڈائننگ ہال اور ڈرائنگ روم کے درمیان جالی دار پردہ آدھا گرا تھا اس کے پار صوفوں پر سب بڑے بیٹھے تھے۔ لڑکے وغیرہ بھی اکٹھے ہو گئے تھےسو وہ باہر لان میں تھے۔ اب تو حیا کی وجہ سے لڑکیوں کی طرف آنے سے بھی جھجھکتے تھے۔ نتاشا اور روحیل البتہ صوفوں پہ ہی بیٹھے تھے۔
عفان کے ماں باپ کیا کہتے ہیں؟ تایا ابا پوچھ رہے تھے۔ ان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ جواب میں عابدہ چچی برے دل سے کچھ بتا رہی تھیں۔ ان کو یقیناً سب کا یوں افسوس کے لیے آنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
آج کل کے لڑکے بھی پتا نہیں کن چکروں میں ہوتے ہیں۔ صائمہ تائی نے ہمدردی سے کہا تھا۔
مہوش نے دبے دبے غصے سے جالی دار پردے کو دیکھا اور ایک دم اٹھ کر اندر چلی گئی۔ سونیا نے افسردگی سے اسے جاتے دیکھا۔ کیا کیا جا سکتا تھا؟
بس اللہ تعالیٰ خیر سے اسے واپس پہنچا دے۔ پھپھو نے دھیرے سے کہا۔ انہیں بھی صائمہ تائی کا یوں اصرار سے سب کو افسوس کے لیے ادھر لے آنا اچھا نہیں لگا تھا۔
جہان کی کیا خبر ہے سبین؟ منگل تو گزر گئی۔ اس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں؟ صائمہ تائی کو پھپھو کا ٹوکنا برا لگا تو توپوں کا رخ عفان سے جہان کی طرف کر دیا۔ حیا چونک کر آدھے ہٹے پردے کو دیکھنے لگی۔
آ جائے گا بھابھی۔ کسی مسئلے میں ہو گا تبھی دیر ہوئی ہے۔ پھپھو کی آواز مزید دھیمی ہو گئی۔
تم بھی اپنے بیٹے پر نظر رکھا کرو سبین۔ تایا ابا نے اسی انداز میں کہا جس میں وہ عفان کی بات کر رہے تھے۔ پتا نہیں وہ بھی کسی ٹھیک کام میں ہے یا۔۔۔۔۔۔۔ اپنے باپ کے جنازے پر بھی تو نہیں آیا تھا۔
جہان کا یہاں کیا ذکر بھائی؟ پھپھو کے لہجے میں دبا دبا سا شکوہ تھا۔
حیا نے میز کا کونہ سختی سے پکڑا۔ پیشانی کی رگیں بھینچ گئی تھیں۔ اندر ایک ابال سا اٹھا تھا۔
عفان کا بھی تو ہمیں معلوم نہیں تھا۔ یہاں شاید کسی کا بھروسا نہیں ہوتا۔ تایا ابا نے پھپھو کی بات سنے بغیر تبصرہ کیا۔ حیا کے اندر کا ابال بس کسی لاوے کی طرح پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔ بمشکل وہ ضبط کر کے لب بھنچے بیٹھی رہی۔
ایسا کچھ نہیں ہے بھائی۔ میں اپنے بیٹے کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ حیا نے مڑ کر دیکھا۔ جالی دار پردے کے پاس پھپھو ذرا خفگی سے کہتی نظر آرہی تھیں۔ اس نے صائمہ تائی اور عابدہ چچی کے چہروں کے معنی خیز تاثرات دیکھے اور پھر ابا کو دیکھا، جو خاموشی سے پھپھو کو دیکھ رہے تھے۔
سچ کہوں تو سبین! مجھے تمھارے بیٹے کے کام مشکوک سے لگتے ہیں۔ کبھی کہتا ہے ریسٹورنٹ ہے، کبھی کہتا ہے جاب سے چھٹی نہیں ملی۔ بہتر ہو گا تم اس پہ چیک رکھا کرو تا کہ کل کلاں کو کوئی بڑا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کام کیا کرتا ہے؟
اور تایا کی اس بات پر اسے لگا کہ اس کی برداشت ختم ہو گئی ہے۔ بس بہت ہو گیا، اب مزید وہ نہیں برداشت کر سکتی تھی۔ یہ ٹھیک تھا کہ اسے راز رکھنے آتے تھے مگر اسے صرف وہ راز رکھنے چاہئیں تھے جن کے رکھنے کا کوئی فائدہ ہو۔ اب مزید نہیں۔
وہ تیزی سے اٹھی اور جالی دار پردہ اٹھا کر ڈرائنگ روم کے دروازے پر آئی۔ اس کے یوں آنے پر سب نے اسے مڑ کر دیکھا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: