Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 71

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 71

–**–**–

کیا آپ جانتے ہیں تایا ابا کہ وہ کیا کام کرتا ہے، اگر نہیں جانتے تو میں آپکو بتاؤں؟ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ وہ بڑے تھے اور ان سے ادب سے بات کرنی تھیمگر وہ اپنے لہجے میں پنہاں غصے کو ضبط کیے جب بولی تو اس کی آواز کافی بلند تھی تایا ابا نے قدرے حیرانی قدرے برہمی سے اسے دیکھا اور پھر سلیمان صاحب اور فاطمہ کو، کہ جیسے کہ رہے ہوں کہ انکی بیٹی کو کیا ہو گیا ہے.
شائد آپ نہیں جانتے. ٹھہریں میں آپکو بتاتی ہوں. وہ اسی انداز میں اونچی آواز میں بولی. جہان ابھی ای لیے نہیں آ سکا کیونکہ وہ اپنی اوفیشل اسئنمنٹ میں پھنسا ہوا ہے. آپ تو یہ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ ہماری ایجنسی کا ایک ایجنٹ ہے ایک بہت قابل آرمی آفیسر!.
یہ بات کہ کر جب وہ فارغ ہوئی تواس نے باری باری سب کےچہروں کو دیکھا. تایا ابا صائمہ تائی، زاہد چچا عابدہ چچی. سب حییران سی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے. جیسے انہیں سمجھ نہ آیا ہو کہ اس نے کیا کہا ہے. آہستہ آہستہ اس کے الفاظ انکے ذہنوں میں ٹھہرنے لگے. اور انکے معانی ان کے سامنے عیاں ہونے لگے.
آرمی افیسر . ایجنٹ. تایا فرقان نے پہلے حیران نظروں سے اسے دیکھا جو اپنی بات کہ چکنے کے بعد ذرا پر سکون سی چوکھٹ پے کھڑی تھی. پھر سبین پھپھو کو دیکھا جو حاموشی سے صوفے پہ بیٹھی تھیں. مگر انکی آنکھوں کا سکون اس بات کا غماز تھا. کہ انہیں حیا کی اس بات سے خوشی ہوئی ہے. ضروری تو نہیں تھا نا کہ سب کچھ جہان آکے بتاتا. انہیں شائد جہان نے منع کر رکھا تھا. سو انہوں نے بیٹے کا مان بھی رکھا لیکن حیا کے اس عمل سے جیسے انہیں ڈھیروں سکون مل گیا تھا.
وہ ہماری ایجنسی کے لیے کام کرتا ہے؟ صائمہ تائی شاکڈ سی بولیں. کیا وہ آرمی آفیسر ہے واقعی؟ جی تائی یہ سچ ہے، وہ سینے پے ہاتھ لپیٹے بہت اعتماد سے کہ رہی تھی. ہر دفعہ انسان کو اپنے لیے جنگ نہیں لڑنی ہوتی کئی دفعہ دوسروں کے لہے بھی لڑنی پڑتی ہے اور وہ اس وقت وہی کر رہی تھی.
اس نے بہت عرصہ یہ بات اپنے تک رکھی آپ لوگوں کو نہیں بتائی اس لیے نہیں کہ وہ آپکو اپنا نہیں سمجھتا تھا. ہاں ٹھیک ہے کہ اسکی جاب کی نوعیت ایسیتھی کہ اسے اپنی شناخت چھپا کے رکھنی تھی. لیکن وہ چاہتا تو بتا سکتا تھا جیسے پھپھو کو ہمیشہ سے پتہ تھا جیسے بہت سے دوسرے لوگوں کو معلوم تھا. لیکن اس نے آپ لوگوں کو نہیں بتایا …… اس نے لوگوں کہتے ہوئے تایا فرقان کو دیکھا …… بہت فخر سے کہا تھا کہ کسی غدار کے بیٹے کو فوج میں کمیشن نہیں مل سکتا. حالانکہ ایسا نہیں ہوتا تایا ابا، کتنے ہی غداروں کے بیٹے بھتیجے آج بھی فوج میں کام کر رہے ہیں اور بہت دیانداری اور محب الوطنی سے کر رہے ہیں. اسی لیے جب اسکو جاب مل گئی تو اس نے آپ کو نہیں بتایا کہ آپکا مان نہ ٹوٹے، تاکہ آپکے فخر کو ٹھیس نہ پہنچے.
وہ جانتی تھی کہ وہ کافی زیادہ بول رہی ہے بڑوں کے سامنے اتنا نہیں بولنا چاہیے مگر بات کرتے ہوئے بھی وہ تمیز اور تہذیب کی حد سے آگے نہیں بڑھی تھی البتہ اس کی آواز ذرا اونچی تھی. “*بعض دفعہ انسانوں کے خود غرض مجمعے کو اپنی بات منوانے کے لیے تھوڑا سا بد تمیز اور لاؤڈ ہونا پڑتا ہے”*.
ڈرائینگ روم میں اتنا سناٹا تھا کہ اگر سوئی بھی گرتی تو تو گونج پیدا ہوتی. فرقان تایا کے چہرے پے ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا جیسے وہ سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ یہ سب کیا ہوا ہے
نتاشا,روحیل سےدھیمی آواز میں کچھ کہہ رہی تھی اور وہ جواب میں کچھ بتا رہا تھا.نتاشااس کی بات سن کر ذرا سا مسکرائی اور فاتحانہ نگاہوں سے اسے دیکھااور کہا
ڈرائنگ روم میں موجود وہ واحد تھی جسے اس خبر نے محظوظ کیا تھا
کیا کرتا ہے وہ آرمی میں,کیا رینک ہے اس کا,??زاہد چچاوہ پہلےتھے جنہوں نے سوال کیا. شاید ان کے ذہہن نے اس بات کو قبول کر لیا تھا.
میجرھے.اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی,جواب کسی اور نے دیا.نہ اس نے,نہ پھوپھو نے.حیا بے اختیار چونکی.
سلمان صاحب!
اب حیران ہونے کی باری ان کی تھی.اس کے لب ذرا سے کھل گےاور آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں.ابا کو پتا تھا?? ابا کو کب پتا تھا??اس نے پھوپھو کی طرف دیکھاوہ حیران ہوئی تھی.
”کیا تمھیں معلوم تھا??”تایا فرقان کو جھٹکا لگا.
”جی کافی عرصے سے پتا تھا”انہوں نے کہتے ہوئے حیا کو دیکھاجیسے کہہ رہے ہوں کہ تم وہ واحد نہیں ہو جسے یہ بات معلوم تھی.”میں اس شہر میں رہتا ھوں میرے اپنے بھی سورسز ہیں.مجھے کافی عرصے سے پتا تھااور مجھے اس پہ اسی بات کا غصہ تھا کہ کیا تھا جو ہمییں بتا دیتا.ہم اس کے اپنے تھے,دشمن تو نہیں تھے.”
حیا نے بے اختیار روحیل کی طرف دیکھا.روحیل نے اثبات میں سر ہلایا.تو یہی بات تھی جس لیے ابا اس سے برگشتہ رہتے تھے.وہ لڑکی والا معاملہ نہیں تھا.وہ یہ بات تھی روحیل کو بھی پتا تھا,ابا کو بھی پتا تھا,نتاشا کو شک تھا,بس ایک وہی بے وقوف تھی جو تین مہینے سے اس کی پہلیاں ڈھونڈتیرہ گئی.کاش وہ ان سب سے پہلے پوچھ لیتی.
“حیرت ہے.”تایا فرقان بمشکل کہ پائے.وہ ابھی تک بے یقین تھے”اسے کبھی تو چاھئے تھا کہ وہ ہمیں بتا دے.مجھے…….پتا نہیں……”
“وہ بتانا چاہتا تھا مگر اس کی جاب کی کچھ مجبوریاں تھیکہ وہ نہیں بتا سکا.اپ تو جانتے ہیں کہ ایسی جاب میں مشکل ھو جاتی ہے.بہرحال اس کی طرف سے میں آپ سے معافی مانگ لیتی ہوں .سبین پھوپھو نے بہت سکون سے کہا تھا.ان کے چہرے سے ظاہر نہیں ہوتا تھامگر وہ مطمئن تھی بہت مطمئن.
“تمہں کس نے بتایا.” فاطمہ ابھی تک حیران تھی.کبھی اسے دیکھتی ,کھبی سلیمان صاحب کو,وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ک انہیں اس بات پر خوش ہونا چا ہئے یا نہیں.
جہان نے !.اسے مجھے ہی بتانا چاہئے تھا نا.اس نے شانے اچکاتے ہوئے جواب دیا.بس وہ ایک جواب ہر جواب پر بھاری ہو گیا.صائمہ تائی,آمنہ چچی ک معنی خیز نگاہوں,طنزوطعنے کے نشتروں,ہر بات کا جواب مل گیا.
وہ واپس پلٹی تو دیکھا ڈرئنگ روم موجود لڑکیاں اسے ششدرو حیران نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں.
ہاں خبر بڑی تھی مگر جلد ہی سب اسے قبول کر لیں گے.اگر وہ آیا تو پتا نہیں سب اس کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے.مگر وہ ائے تو سہی کب آئے گا……….وه جانتی تھی وه جحاں بھی هو گا جس جنگ میں بھی هو گا اکیلا نهیں هو گا وه اس کے ساتھ صفحہ نمبر ٥٥
ساتھ ہو گی۔
وہ اپنے کمرےمیں لیپ ٹاپ کے آگےبیٹھی ترکی کی تصویریں دیکھ رہی تھی جب اس کا موبائل بجا۔سکرین کو دیکھتےہوۓ اس نےفون اٹھایا اور نمبر دیکھتے ہوۓ جیسے اس کے اندر تک کڑواہٹ گھل گئی۔ولید۔ جانے یہ کب اس کی جان چھوڑے گا۔
چند لمحے وہ جلتی بجھتی سکرین دیکھتی رہی،اٹھاۓ یا نہیں۔مگر اس آدمی سے کچھ بعید نہیں تھا۔اٹھانا ہی پڑے گا۔اس نے سبز بٹن دبا کے فون کان سے لگایا۔
”ہیلو“۔
”میں تمہارے گھر کے باہرہوں۔کیاتم پانچ منٹ میں باہر آسکتی ہو؟“
اس کا دل جیسے کسی نےمٹھی میں لے کےدبا دیا۔
”کیا؟تم ادھر کیا کرنے آۓ ہو؟“وہ حیران پریشان سی کھڑی ہوئی۔پھر کمرےسے باہر نکلی۔وہ بیرونی دروازے کے طرف نہیں بلکہ سیڑھیوں کی طرف جا رہی تھی۔
”میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔وہ آرکیٹکٹ والا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا اور میں جانتا ہوں تم اسے حل کرواٶگی۔میں اس دن پیزاہٹ میں ویٹ کرتارہا مگر تم نہیں آئیں!اور اب میرا خیال ہے کہوہ وقت آگیا ہے جب تمہیں میری باتبک سنجیدگی سے سننا چاہئیے۔“
”اورمیں نے تمہیں کہا تھا کہ میں نہیں آٶں گی۔تم مجھے کیا سمجھتے ہو۔تمہاراخیال ہے کہ میں تمہاری گیڈر بھبھکیوں سے ڈر جاٶں گی؟grow upولید۔“لہجے میں سختی رکھتےہوۓ وہ تیزیسے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔اس نے ٹیرس کا دروازہ کھولا اور تیزی سے باہر آ ئی۔
”میں نے فون تمہاری یہ سب باتیں سننے کے لیے نہیں کیا۔تم باہر آٶ،مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔بس پانچ دس منٹ لگیں گے۔اوکے!“ کال کاٹ دی گئی۔
اس نے شاک ره انداز میں بند فون کو دیکھااور پھر تیزی سے آگے آگئ. چھت پر کونے میں پڑھے ایک جھولے کے پیچھے سے اس نے منڈیر پر سے جھانکا. باهر رات سیاه تھی. کحیں کهیں سٹریٹ پول جل رهی تھی. گھر کے گیٹ سے زره دور ولید کی سیاه اکارڈ کھڑی تھی. وه ذرائیونگ سیٹ په بیٹھا. سٹیرنگ ویل په هاتھ رکھے منتظر سا انکے گیٹ کی طرف دیکھ رها تھا. حیا کے اندر طوفان سا اٹھنے لگا. بے بسی بھی تھی. اور غصه بھی تھا.
یه آدمی کسی طرح اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نه تھا.پته نهیں کچھ لوگوں کو الله کا حوف بھی نهیں هوتا.کسی کی کمزوری ھاتھ لگنے په خود کو خدا کیوں سمجھ بیٹھتے هیں.مگر نهیں ایسے خداؤں سے بلیک میلروں سے نبٹنا اسے اچھی طرح آتاتھا.
وه مڑی اور ٹیرس پر رکھے ان مصنوئ پودوں کی طرف آئ..جو بڑے بڑے گملوں میں رکھے تھے. گملے بڑے تھے اس لیے ٹهنیوں کو کھڑا رکھنے کے لیے انھیں مٹی کے بجاۓ چھوٹے بڑے پتھروں سے بھراگیا تھا , اس نے ایک وزنی پتھر اٹھایا.اور واپس منڈیر تک آئ.ولید ابھی تک منتظر نگاھوں سے ان ک گیٹ کی طرف دیکھ رها تھا.جیسے اس کا خیال تھا که اس کی بلیک میلنگ میں آکر وه ابھی گیٹ سے دیکھائ دے گی اور ایک دفعه پھر اس کی گاڑی میں بیٹھ جاۓ گی..
مومن ایک سوراخ سے دو بار کبھی نهیں ڈسا جاتا.وه اتنی کمزور تو نهیں تھی که اس کی بلیک میلینگ کی وجه سے اس کے ساتھ بیٹھ جاتی..وه اور هوتی هوں گی کمزور لڑکیاں جو بلیک ملینگ سے ڈر جاتی هوں گی.نهیں. اگر اس نے جنت کے پتے تھامے تھے تو الله اسے رسوا نهیں کرے گا . یه وعده اس سے جحان نے کیا تھا مگر جحان تو اس وقت نهیں تھا جو اپنا وعده نبها سکتا اسے خود هی کچھ کرنا تھا
اس نے ایک نظر ساتھ میں پڑے پتھر کو دیکھا اور ایک نظر نیچے کھڑی گاڑی کو. لمحے بھر کے لیے ساری باتیں امڈ کر اس کے ذهن پر چھا گئیں . ولید کی بکیک میلنگ , اس کی بد تمیزیاں اس کی هر حرکت جس نے اسے ذهنی اذیت میں مبتلا کر رکھا تها اور پھر اس نے وه پتھر کھینچ کر اس کی گاڑی پر مارا..
اندازه اس نے ونڈ سکرین کا کیا تھا مگر وه بونٹ پر لگ کر نیچے گرا ولید نے چونک کر ادھر أدھر دیکھا اور اس سے پحلے که وه گردن اوپر کرتا حیا پیچھے هو گئ یه نهیں تھا کے وه اس کے سامنے آنے سے ڈرتی تھی بس اس نے سکارف نهیں لے رکھا تھا..
گاڑی سٹارٹ هونے کی آواز آئ اور ٹائروں کی رگڑ..حیا نے حیرت سے منڈیر کے سوراخ سے نیچے دیکھا ولید کی گاڑی دور جاتی دیکھائ دے رهی تھی اتنا بزدل نکلا وه¿ بس ایک پتھر سے ڈر گیا¿ اس کو واقعی هی حیرت هوئ تھی یا شاید هر بلیک میلر اتنا هی کمزور بزدل اور گھٹیا هوتا…. ھونه
تنفس اور حواس کو قابو کرتی وه واپس آئ کمرے میں آ کر اس نے لیپ ٹاپ پر لگیں تصویریں بند کر دیں. دل اتنا اچاٹ هو گیا تھا که سمجھ نهیں ا رهی تھی که کیا کرے . وه بد نیت آدمی پته نهیں کب تک اس کا پیچھے چھوڑے گا ¿ کیا ساری زندگی وه ایسے هی کرتا رهے گا وه کب تک پتھر مارمار کر ,بک جھک کر اپنے سے دور رکھے گی.کسی دن اگر واقعی اگر اس کے گھر پهنچ گیا اور وه سی ڈی ابا یا کس اور کو دیکھا دی تو پھر نتائج کیا نکلیں گے ¿ وه اپنی عزت مقام کھو دے گی . ولید کے ھاتھ سے ملنے والی سی ڈی سب خراب کر دے گی…
ارم اور ولید..ان دونوں کو الله کا کوئ خوف نهیں تھا وه بے دلی سے بیڈ پر آکر بیٹھ گئ. سمجھ میں نهیں آ رھی تھی کیا کرے. باهر لاونج میں اماں اور پھوپھو کے ساتھ بیٹھنے کو بھی دل نهیں کر رھا تھا. پھوپھو تو ویسے بھی ان دنوں سب کے سوالوں کے جواب دے رهی تھیں . جحان نے کیا , کب اور کیسے جو کچھ کیا , اسے ان چیزوں سے دلچسپی نهیں تھی..
وه تو اپنی طرف سے بم پھوڑ کر فارغ هو چکی تھی . آگے پھوپھو جا نے اور ان کا بیٹا…….
جب دل زیاده اداس هوا تو وه وضو کر کے آگئ اور قرآن کھول کر بیڈ پر بیٹھ گی. هاں اس نے جحان سے وعده کیا تھا کے وه روز قرآن پڑھے گی. مگر ابھی تک نهیں پڑھ سکی تھی. . اب وه پڑھے گی مگر کحاں سے شروع کرے…
بحرحال اس نے سوره نور نکالی. یه وه سوره تھی جس نے هر چیز شروع کی تھی. جس نے اسے ایک اور دنیا میں پحنچایا تھا اب اسے ایک بار پھر اسے پڑھنا تھا. هاں عائشے کهتی تھی
قرآن میں هر چیز کا جواب هوتا ھے. ھر دکھ کا مداوا , هر پریشانی کی تسلی, هر فکر کا حل. وه سوره نور پڑھنے لگی.
آھسته آھسته دل په چھائ تنگی قرآن په لکھے حروف سے کم ھونے لگی. سیاه حروف..اس کا سیاه موتی جو رومال میں رکھا تھا اور ساتھ کنکر بھی…اس کے دل میں دوسرے خیال آنے لگے
اس نے سر جھٹکا اور آیات پر توجه دی…
“وه لوگ جو تم میں سے ایمان لانے والے هیں”
اور انہوں نے اچھے کام کیے ہیں،
اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے
کہ انکو ضرور زمین پر جانشین مقرر کرے گا،
جیسا کہ ان سے پہلوں کو مقرر کیا،
اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے،
اسے ضرور مستحکم کرے گا،
اور انکے خوف ضرور امن میں بدلے گا،
بس شرط یہ ہے کہ وہ میری عبادت کرتے رہیں،
اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں. (النور 55)
لمحے بھر کو کمرے میں روشنی بھر گئی سونے کے پتنگے سے ہر سو گرنے لگے نور تھا اوپر نور کے.وہ الفاظ بہت ہی خوبصورت اور پر امید تھے کیا واقع ایسا ہو سکے گا. کیا واقع ہی اسے اپنے دین کی ثباتی نصیب ہو سکے گی.
کبھی کبھی قرآن کی باتیں اتنی پر امید دکھائی دیتی تھیں کہ اپنی نا امید زندگی سے ریلیٹ کرنا اسے مشکل لگتا تھا. مگر مریم خانم نے کہا تھا کہ یقین سے مانگیں تو ضرور ملتا ہے ایک دفعہ ان آیات پے یقین کر کے تو دیکھے. کون جانے .
اس نے قرآن بند کر کے آرام سے بک شیلف پے رکھا اور آ کے آنکھوں پے بازو رکھے لیٹ گئی. ابھی وہ صرف سونا چاہتی تھی. تھکن بہت زیادہ ہو گئی تھی بہت زیادہ.
صبح وہ اٹھی تو پہلا خیال ان آیات کا آیا تھا. ہاں کمرے میں اب صرف سورج کی روشنی تھی اور صبح کی ٹھنڈی ہوا. رات والی روشنی اب ادھر نہیں تھی.
انسان اسی خیال کے ساتھ اٹھتا ہے جس کے ساتھ وہ سویا تھا. “شائد اسی لیے انسان جس ایمان کے ساتھ مرے گا، اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا” درمیان کا دورانیہ بے معنی تھا. وہ بال لپیٹتی باہر آئیسارا گھر ابھی بھی سو رہا تھا لاؤنج اور کچن کے بیچ ادھ کھلی دیوار سے نور بانو کام کرتے ہوئے نظر آ رہی تھی پس منظر میں کوئی مانوس غیر مانوس سی آواز آ رہی تھی.
نور بانو ناشتہ!.
میں نے نتاشہ بی بی کے لیے مینگو سلش بنایا تھا. آپ پئیں گی؟
وہ سر ہلاتے ہوے اگے آئی کاؤنٹر سے گلاس اٹھایا اور سلش والے جگ کو اس میں انڈیلا. کوٹی ہوئی برف اور جوس کی دھار اس میں گرنے لگی پھر وہ پاس رکھی کرسی پے بیٹھی اور گلاس لبوں تک لیجاتے ہوئے یونہی سر اٹھایا. گول دائرے میں گھومتی ہوئی کانچ اور لکڑی کے ٹکرانے کی مدہم آواز، کانچ کی گلاب کی پنکھڑیاں اور سلور راڈ.
لبوں تک جاتا ہوا گلاس فورا نیچے آیا تھا. آنکھوں کی پتلیاں بے یقینی سے پھیلیں.
لاؤنج اور کچن کی درمیانی دیوار کے عین اوپر اس کا ونڈ چائم ہوا سے جھول رہا تھا۔
“یہ۔۔۔۔۔ یہ یہاں کیسے آیا؟ یہ کس نے لگایا؟” اس نے حیرت اور شاک سے نور بانو کی طرف دیکھا ۔ کام کرتی نور بانو نے پیچھے مڑ کر ونڈ چائم کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں اچنبھا ابھرا ۔پھر اس نے نا سمجھی سے نفی میں سر ہلایا۔
“مجھے نہیں پتہ باجی۔ میں نے تو ابھی دیکھا۔”
“یہ تو میرا ہے ۔ ترکی میں مجھ سے گم ہو گیا تھا۔ یہ یہاں کیسے آیا۔ یہ یہاں کس نے لگایا۔” وہ نور بانو سے کم اور خود سے زیادہ بات کر رہی تھی۔
نور بانو ہراساں سی ہو گئی ۔ ” میں تو پہلے ہی کہتی تھی باجی کہ ہمارے گھر میں جن ہیں۔”
مگر وہ سنے بغیر تیزی سے کچن باہر آئی ۔ سیڑھیوں کے اوپر والے کمرے کا دروازہ بند تھا ۔ وہ سلیش کا ہاتھ پکڑے ننگے پیر تیز تیز سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔ پاوں پر لگے بینڈج اب کھل چکے تھے مگر ذخموں کے نشان وہیں تھے۔
ایک،، دو،، تین، چار۔۔۔۔۔ قدم جیسے ذینوں پر نہیں اس کے دل پر پڑھ رہے تھے۔
سانس تیز تیز چل رہا تھا۔
اسے نہیں پتہ وہ چند سیڑھیاں ، چند صدیاں کیوں بن گئی تھی۔
جیسے یہ فاصلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔
وہ پھولے تنفس کے ساتھ اوپر آئی اور دھڑکتے دل کے ساتھ آخری کمرے کا دروازہ دھکیلا ۔
گیسٹ روم کے بیڈ پر ایک کھلا ہوا بیگ پڑا تھا جس میں سے شرٹ نکالتے ہوئے وہ بیڈ کے ساتھ ذرا جھکا ہوا کھڑا تھا۔ آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
حیا چوکھٹ پر سلیش کا گلاس ہاتھ میں لیے اسے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ جہاں اسے دیکھ کر چند لمحے کچھ کہہ نہیں پایا پھر دھیرے سے مسکرایا۔شرٹ بیگ پر رکھی اور قدم قدم چلتا اس تک آیا ۔ نیلی جینز اور سبز شرٹ میں وہ بہت فریش لگ رہا تھا ۔
“مرحبا۔۔”حیا سے چند قدم دور رک کر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر کو خم دیتے ہوئے اس کو سلام کیا۔ حیا چند لمحے ویسے ہی ساکت نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی ۔ اور پھر۔۔۔۔
پھر اس کے ادھ کھلے لب بھینچ گئے، پیشانی کی رگ تن گئی اور حیرت ذدہ آنکھوں میں یکا یک غصہ آ گیا ۔ ایک دم سے اس نے سلیش سے بھرا گلاس جہاں پر الٹ دیا۔
” تم وہاں مرنے کے لیے مجھے چھوڑ گئے تھے۔ میں وہاں کتنی دفعہ مری ہوں ۔ تمہیں پتہ ہی نہیں اور اب تم آ کر کہتے ہو مرحبا ،،،” وہ ایک دم پھٹ پڑی تھی۔
سلیش جہاں کی شرٹ پر گرا تھا۔ وہ ایک دم پیچھے ہوا ۔ پہلے اس نے اپنی شرٹ کو دیکھا اور پھر حیا کو ،، جیسے اسے یقین نہ آیا ہو کہ حیا نے یہ کیا کیا ہے ۔ جیسے اسے یقین نہ آیا ہو کہ حیا نے ایک دفعہ پھر یہ کیا ہے۔
“حیا،،” وہ لمحے بھر کو کچھ بول ہی نہ پایا ۔
“کچھ مت کہو تم ۔ تمہیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تم کیا سمجھتے ہو مجھے۔بے وقوف ہوں جو میں نہیں سمجھتی
شاید پتہ نہیں تم وہاں گئے بھی تھے یا نہیں ۔میں نہیں جانتی وہاں کون تھا۔مگر میں نے وہاں بارودی سرنگیں پھکتے دیکھیں۔ میں نے وہاں پر گولیاں چلتے سنیں۔میں نے وہاں پر دھواں دیکھا۔میں نہیں جانتی وہاں پر کیا ہوا۔مگر جو بھی ہوا اس کے پیچھے تمہارا ذہین تھا۔میں جانتی ہوں جہان تم ہمیشہ چیزیں پلان کرتے ہو مگر تم نے کہا تھا کہ اس دفعہ تم کچھ پلان نہیں کروگے لیکن تم نے کیا تھا اگر تم مجھے بتا دیتے۔میں کتنا پریشان رہی میں کتنی تڑپی میں کتنی بے سکون رہی ہوں ان چند دنوں میں اندازہ نہیں ہے تمہیں
وہ وہیں بیڈ کے کنارے پہ بیٹھی اور پھر ایک دم ہاتھوں میں منہ چھپا کر رونے لگی۔جہان نے ایک دفعہ پھر گردن جھکا کر اپنی گیلی شرٹ کو دیکھا اور پھر فرش پہ گرے پلاسٹک کے گلاس کو۔شکر ہے پلاسٹک کا تھا سو ٹوٹا نہیں ۔
تم نے کیا کیا اس وقت میں نہیں جانتی مگر جو بھی کیا وہ بہت برا تھا۔اگر وہاں میرے دل کو کچھ ہو جاتا میں شاک سے ہی مر جاتی تو تم کیا کرتے مگر تمہیں تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا وہ روتے روتے کہہ رہی تھی۔
اگر تمہاری یاداشت ٹھیک سے کام کر رہی ہے تو تمہیں یاد ہو گا میں نے کہا تھا فورانا وہاں سے چلی جانا۔اگر تم نے سب کچھ دیکھا ہے تو اس کا مطلب ہے تم وہیں پر تھیں ۔تم نے میری بات نہیں مانی۔
حیا نے ایک دم سے گیلا چہرہ اٹھایا۔
میں چلی بھی جاتی تو کتنا دور جاتی۔چند میٹر دور ہی تو کھڑی تھی ہماری جیپ۔کیا مجھے وہاں تک سرنگیں پھٹکے دھماکے اور گولیاں کی آواز نہ آتی اور ایک تاریک خاموش رات تھی اور تم جانتے تھے کہ مجھے آواز آئے گی اسی لیے تم نے مجھے کہا تھا کہ میں سرحد تک نہ جاو ں۔کیا تم واقعی سرحد کے پار گئے تھے۔کیا پتہ تم گئے ہی نہ ہو۔مجھے تمھاری کسی بات کا یقین نهیں جحان
کتنے دن وه مضطرب , بے چین اور دلگیر ری تھی اور اب کتنے مزے سے وه اکر که رها تها ….
مرحبا…!
یعنی که تم نے میری بات نهیں مانی . یعنی که تم همیشه اپنی مرضی کرتی هو اور اگر میں اپنی مرضی کروں تو تم غصه کرتی هواور . . . جحان نے سر جھکا کر اپنی گیلی شرٹ کو دیکھا…کیا کچھ ره گیا جو تم نے میرے اوپر نهیں توڑا..ایک هی دفعه توڑ لو تا که یه سلسله هی ختم هو جاۓ..وه خفگی سے بولا حیا نے اس کی گیلی شرٹ کو دیکھا..اسے زره بھی افسوس یا پچھتاوا نهیں تھا فی لحال وه اسی قابل تها
میں نے تمھیں کها تھا که ترکی اور شام کا بارڈر سب سے آسان بارڈر هے. میں نے تمیں یه بھی کها تھا که وه ھمیں نهیں پکڑ سکتے جب تک هم نه چاهیں. آسان بارڈر هونے کا یه مطلب نهیں هوتا کے منه اٹھا کر سرحدی باڑ سے چلے جائیں گے
آسان بارڈر کا مطلب یه تھا که اسے بارڈر په سرحدی فوج کو ڈاج دینا آسان هوتا. وه کحتا هوا باتھ روم کی طرف گیا چند هی لمحوں بعد وه شرٹ کا گریبان تولیے سے صاف کر تے هوۓ واپس ایا تها
هم ترے اور شام کا بارڈر ایسی طرح کراس کرتے هیں
کمانڈر شعیه تها اس لیے مجھے چاهیے تھا که میں اسے ایران سے کال کروتااور ایران میں میرے پاس بحترین اپشن عائشے تھی . اس نے انھیں فون کر کے ایک ایسے کرمنل که بارے میں بتایا جیسے وه پکڑنا چاھتے تھے
حالنکه وه آدمی ایک هفته پهلے ترکی سے شام جا چکا تھا
لیکن ان سکیورٹی فورسز واکے گدھوں کو نهیں معلوم نهیں تھا
شرٹ صاف کر کے اس نے گردن کے اوپر جوس کے قطرے بھی اس نے تولیے سے صاف کیے اور گیلا آمیز نظروں سے حیا کو دیکھا….
اور اگر تم کسی پر کچھ گرانے سے پہلے اس کی بات سن لیا کرو تو زیادہ بہتر ہو گا۔ میں نے جس کرمنل کے بارے میں بتایا تھا وہ وہاں پر جا ہی نہیں رہا تھا ۔ جو بندہ میری جگہ بارڈر سے اس پوسٹ تک گیا تھا اس کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ جب وہ اسے پکڑ لے گئے تو چھ ماہ اسے جیل میں رکھیں گے اور پھر چھوڑ دے گےاور ان چھ ماہ میں اس کے گھر والوں کا بہت اچھا گزارا ہو جائے گا۔ یہ صرف ایک ڈویژن تھا۔ جو اپنی طرف سے ہم سکیورٹی فورسز کو دیتے ہیں تاکہ وہ مخبری کی گئ چوکی کی طرف اپنا فوکس رکھیں اور ایسے میں ان کی توجہ کسی قربی چوکی سے ہٹ جایا کرتی ہے اور ہم ان کی اسی بے دھیانی کا فائدہ اٹھ کر بارڈر پار کر جایا کرتے ہیں ۔ ترکی اور کا بارڈر سب اسی طرح کر ایسا کرتے ہیں ایک بندہ پکرواتے ہیں اور پوری کی پوری فیملی قریب ہی کہیں دوسری جگہ سے بارڈر پار کر لیا کرتے ہیں اور جو بارودی کی سرنگ پھٹی وہ ان لوگوں سے بہت دور تھی ۔ صرف افرتفری پھیلانے کے لیے کیا تھا میں نے یہ۔
تو اسی لیے اس کے جوتوں کا رخ بائیں طرف تھا وہ بارڈر کی طرف جا ہی نہیں رہا تھا اس نے جانا ہی بائیں طرف تھا ۔ کچھ نی کچھ تو تھا جو جہان نے اسے سیکھایا تھا۔ مگر اس سے سیکھی ہوئی بات کو وہ پہلے اپلائی کر لیتی تو اتنی پریشانی نہ ہوتی۔
اگر میں تمہیں بتا دیتا کے وہاں پر سکیورٹی فورسز والے تیار ہیں بارودی سرنگ پھٹے گی گولیاں چلیں گی تو کیا تم مجھے وہاں جانے دیتی تم پریشان ہو جاتی۔ تم اتنے دن پریشانی میں گزارتیکہ کہیں میرا ڈویژن ناکام تو نہیں ہو گا۔ کہیں یہ نہ ہو کہ سکیورٹی فورسز والوں کو اندازہ ہو گیا ہو اور انہوں نے آ س پاس کی فورس بڑھا دی ہو۔ تم اسی طرح کی باتیں سوچتی رہتی اور پریشان ہوتی۔ اسی لیے میں نے تمہیں نہیں بتایا مگر نہیں وہ حیا سلیمان ہی کیا جو میری بات مان لے جو اپنی عقل سے بے عقل والے کام نہ کیا کرے۔ گیلے تولیے کو صوفے کی پشت ڈالتے ہوئےاور برہمی سے کہہ رہا تھا۔
حیا نے بھیگے رخسار ہتھیلی کی پشت سے صاف کیے۔
اور وہ لڑکی کون تھی جس کے ساتھ ایک دفعہ ابا نے دیکھا تھا اب مت ظاہر کرنا کے تمہیں یاد نہیں ہے ۔
وہ ہاں وہ عائشے تھی
عائشہ تم نےکھبی اتنی بے تکلف ہو ہی نہیں سکتی سچ بتاو۔
نہیں ان فیکٹ مجھے یاد آیا وہ میری سیکرٹری تھی ویمت۔اور وہ جانتی تھی وہ جھوٹ بول رہا ہے۔وہ اصل بات کبھی نہیں بتائے گا۔اب بھی کچھ باتیں تھیں جو اسے نہیں بتاتا تھا۔ مگر فی الوقت وہ اس کو کچھ بتانا چاہتی تھی۔
میں وہاں تمہارے لیے گئی تھی جہان میں ترکی تمہارے لیے گی تھی۔
جہان کے خفا چہرے کے تنے ہوئے نقوس ذرا داھیلے پڑے اور پھر ایک مسکراہٹ اس کے لبوں پہ آ گئی۔
ویری گد۔میں یہی سنا چاہتا تھا۔وہ بہت محفوظ ہوا تھا۔میں ہمشیہ سے جانتا تھا۔کہ تم وہاں کپادوکیہ دیکھنے کے لیے نہیں آئی۔
کپادوکیہ کی بات کون کر رہا ہے جہان۔اس نے اکتا کر ٹوکا۔تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ تم نے مجھے کپادوکیہ خود بلایا تھا ورنہ تم کبھی مجھ سے ماہ سن والی بات نہ کہتے۔تم چاہتے تھے کہ میں وہاں آو ں۔لیکن میں کپادوکیہ کی بات کر نہیں رہی۔وہ اس کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی اور جب بولی تو اس کی آواز پہلے سے ہلکی تھی….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: