Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 72

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 72

–**–**–

وہ ٹرے اٹھائے باہر نکلی۔ جہان نے پچھلی سیٹ پہ پڑا اس کا شاپر اٹھا لیا۔
چلیے مادام آپ کے کپڑے ڈرائیور لے آئے گا۔ وہ مصنوعی بے چارگی سے کہتے ہوئے راستہ چھوڑ کر اسے آگے جانے کا اشارہ کر رہا تھا۔ حیا کے لبوں پہ مسکراہٹ امڈ آئی۔ ابھی وہ چند قدم ہی چل پائی تھی کہ جہان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
یہ گاڑی کس کی ہے؟ شاید کوئی مہمان آیا ہے۔ اس بات پہ حیا نے گردن موڑ کر دیکھا۔ پورچ میں کھڑی اس کی گاڑی کے آگے کھڑی گاڑی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پیروں کے نیچے سے زمین سرکنے لگی تھی۔
اس سیاہ اکارڈ کو وہ ہزاروں گاڑیوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔
پپ۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں۔ اس کی آواز لڑکھڑا گئی- ٹرے پہ جمے اس کے ہاتھ مزید سخت ہوئے۔
جہان کچھ کہے بغیر شاپنگ بیگ پکڑے اس کے آگے آگے اندر آیا- وہ جہان کے پیچھے اندر آئی۔ ایک ایک قدم بہت بھاری ہو گیا تھا۔
لاونچ کے دہانے پہ ہی اندر کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے قدم چوکھٹ سے زرا پیچھے جم گئے۔ وہ تاریک گوشے میں کھڑی تھی۔ اندر والے لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں تھے۔
وہاں ولید صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔ سامنے ابا، اماں’ صائمہ تائی’ روحیل’ نتاشا’ پھوپھو، داور بھائی سونیا سب ہی تھے۔ سونیا تو چلو شادی شدہ تھی۔ خاندان کی رواہیت کے مطابق اس کا پردہ نہیں تھا اچھنبے کی بات تو یہ تھی کہ ارم بھی وہیں کونے میں کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جیسے وہ کچھ سرو کرنے کے بہانے یہاں آئی ہو اور پھر یہی کھڑی ہو گئی ہو۔
جہان اندر آیا ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر ایک منٹ کہہ کر شاپنگ بیگ کی طرف اشارہ کیا۔ جیسے انہیں رکھنا ہے اور سیڑھیاں چڑھتے گیا۔ وہ وہیں اکیلی کھڑی رہ گئی۔ ٹرے کو پکڑے اس کے ہاتھ پسینے میں بھیگ گئے تھے۔
ولید نے جہان کو سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو گردن اس طرف موڑی۔ حیا کو دیکھتے ہوئے ایک زہریلی مسکراہٹ اس کے منہ پہ امڈ آئی۔ وہ کچھ مسرور سا واپس ان سب کی طرف مڑا جو ابھی تک الجھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
جی سلیمان انکل تو میں کہہ رہا تھا کہ ہمیں اس معاملے میں آرام سے بات کرنی چاہیئے اور مس حیا۔ سوری مسز حیا تو یہ جانتی ہیں کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں۔ اس نے بات کر کے پھر سے ایک فاتحانہ نظر حیا پہ ڈالی- ابا نے اس کے نگاہوں کے تعاقب میں حیا کو دیکھا اور پھر ولید کو۔
ولید! یہ میرا گھر ہے۔ یہاں اس طرح کے معاملے ڈسکس کرنے کا کیا مطلب ہے؟ ابا کو جیسے اس کا آنا اور یہ سب کچھ کہنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ روحیل، تایا ابا، سب کے ماتھے پہ بل تھے جیسے کسی کو یہ سب پسند نہیں آ رہا۔
بات گھر کی تھی اس لیے میں نے سوچا کہ گھر میں کر لی جائے۔ جو چیز میرے پاس ہے اسے دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ لوگ اتنی آسانی سے میرے شئیر سیل نہیں کر سکتے۔
ولید یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ داور بھائی ناگواری سے کہتے اٹھنے لگے۔ روحیل بھی برہمی سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ارم بھی اسی طرح کونے میں کھڑی تھی۔ شاید کسی نے اسے جانے کے لیے نہیں کہا تھا یا شاید کہا ہو تب بھی وہ کھڑی ہو گئی ہو۔ وہ غالبا سارا تماشا دیکھنا چاہتی تھی۔
اس سارے میں اگر کوئی بڑے مزے سے بیٹھی کوک کے کین سے گھونٹ گھونٹ بھر رہی تھی تو وہ نتاشہ تھی۔ ہر فکر سے بے نیاز’ ہر سچویشن کو انجوائے کرتی ہوئی۔
داور! تم اسے ضرور دیکھنا چاہو گے۔ آخر اس کا تعلق تمہاری ہی شادی کے فنکشن سے تو ہے۔ وہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا اور حیا کی طرف دیکھ کر اپنی جیب سے ایک پلاسٹک ریپر نکالا جس میں رکھی سی ڈی صاف نظر آ رہی تھی۔
کیا میں اسے چلا دوں؟ اس نے سی ڈی حیا کو دکھاتے ہوئے پوچھا۔
سب لوگ اس بات پہ مڑ کر حیا کو دیکھنے لگے تھے۔ وہ جو ساکت سی کھڑی بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس بات پہ بے اختیار اس کے قدم پیچھے ہٹے۔ کمر دیوار سے جا لگی۔ ہاتھ میں پکڑی ٹرے بہت وزنی ہو گئی تھی۔
اسی لمحے جہان خالی ہاتھ سیڑھیاں اترتا دکھائی دیا۔
جو باے کرنی ہے مجھ سے کرو۔ ہاں بولو، کیا مسئلہ ہے؟ وہ جیسے اب فارغ ہو کر بہت سنجیدگی سے کہتا ولید کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔
حیا نے امید سے جہان کو دیکھا۔ وہ یقیننا سمجھ جائے گا کہ یہ وہی ویڈیو ہے۔ وہ ابھی ولید کو کچھ دے مارے گا یا سی ڈی کے ٹکڑ ٹکڑے کر دے گا اسے پوری امید تھی۔
اس کی بات پہ ولید کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ یہ شو ٹائم ہے اور تم تو اس شو کو ضرور دیکھنا چاہو گے۔ بات کے اختتام پہ ولید نے پھر حیا کو دیکھا۔ اس کا بار بار حیا کو دیکھنا سب کو الجھن اور عجیب سی کیفیت میں مبتلا کر رہا تھا۔
کیا ہے اس سی ڈی میں؟ جہان نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا البتہ آنکھوں میں ذرا سی الجھن تھی۔
وہ نہیں سمجھا تھا۔
اللہ اللہ! وہ نہیں سمجھا تھا!
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
جہان نہیں سمجھا تھا۔ وہ کہنا چاہتی تھی چلانا چاہتی تھی۔ جہان اس سے مت پوچھو’ پلیز جہان اسے گھر سے نکال دو۔ اسے کچھ دے مارو مگر اسے یہاں سے بھیج دو۔
مگر سارے الفاظ حلق میں دم توڑ گئے۔
آپ کے گھر کی چیز ہے تو آپ ضرور دیکھنا چاہیں گے اور اس کے بعد آپ فیصلہ کریں کہ آپ مجھے اپنی کمپنی میں کس حیثیت سے کام کرنے دیں گے۔
لاونچ میں خاموشی تھی۔ سب سن رہے تھے۔ بس وہی دونوں بول رہے تھے۔
حیا کا سانس آہستہ آہستہ رکنے لگا۔ دم گھٹ رہا تھا۔ فضا میں آکسیجن کم ہو گئی تھی۔
مگر اس میں ہے کیا؟
وہ رہا ٹی وی اور وہ اس کے نیچے ڈی وی ڈی رکھا ہے۔ اس کو لگا کرخود دیکھ لو بہت انجوائے کرو گے۔ اس نے سی ڈی جہان کو پکڑائی۔ حیا کے نتھنوں سے آکسیجن کا کوئی جھونکا ٹکرایا تھا۔ سانس۔ خوش گمانی۔ امید۔ ایک کرن نظر آئی تھی کہ جہان سی ڈی ہاتھ میں لیتے ہی توڑ دے گا اور ولید کو دے مارے گا۔
جہان نے ذرا تزبزب سے سی ڈی کو دیکھا اور پھر اسے تھام لیا۔ مگر اس نے اسے نہیں توڑا۔ اس نے سی ڈی کو کور سے نکالا الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر سر اٹھا کر ولید کی طرف متوجہ ہوا۔
آر یو شیور کہ اس میں ایسا کچھ نہیں جو کسی کی توہین کا باعث بنے۔ کیا میں واقعی اسے سب کے سامنے چلا دوں؟
اس میں جو ہے وہ سب سچ ہے۔ کوئی فکسنگ نہیں ہے۔ چلاو ضرور چلاو۔
جہان نے سی ڈی پکڑے پکڑے تایا ابا کو دیکھا۔ وہ اسی الجھی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ اچانک ہو کیا رہا ہے۔ اس طرح اچانک ولید کا آنا پھر ان سب سےکہنا کہ وہ ان سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے اور پھر یہ سی ڈی وغیرہ۔
جہان نے مڑ کر ارم کو دیکھا۔ کیا میں اسے چلا دوں؟ اس نے ارم سے اجازت مانگی تھی۔ وہ اس سے کیوں پوچھ رہا تھا۔ کیا اسے احساس نہیں تھا کہ یہ سی ڈی ارم نے ہی تو ولید کو دی ہو گی۔ اور اسی لیے ارم نے نہایت ہی بے نیازی سے شانے اچکائے جیسے کہہ رہی ہو میری بلا سے۔ البتہ اس کی آنکھوں میں مسکراہٹ سی تھی۔ شو ٹائم کی مسکراہٹ کہ اب آئے گا مزہ۔
جہان نے پھر ولید کو دیکھا جیسے خود بھی متذبذب تھا کہ اسے سی ڈی چلانی چاہیے یا نہیں۔
جہان نے ایک سپاٹ سی نگاہ اس پر ڈالی اور پھر اوکے کہتے ہوئے مڑا۔ اس کے قدم دیوار میں لگے ٹی وی کی طرف اٹھ رہے تھے۔
کچن کی کھلے کھڑکی سے ہوا کا جھونکا آیا اور آدھی کھلی دیوار پہ لٹکتے ونڈ چائم کی لڑیاں گول گول گھومنے لگیں۔ اسٹک اور کانچ ٹکرائے۔ خاموشی میں مدھم سا نغمہ بج اٹھا۔
ماتم کا نغمہ۔
سوگ کا نغمہ۔
جہان نے ایک قدم مزید ٹی وی کی طرف بڑھایا، باہر بادل زور کے گرجے، بجلی چمکی، اور حیا کے ہاتھ سے جنجر بریڈ ہاوس کی ٹرے گر پڑی۔ ہلکے سے ٹھڈ کی آواز سے ٹرے اوندھے منہ زمین بوس ہوئی۔ کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا۔ وہ سب اس سی ڈی دیکھ رہے تھے کہ آخر اس میں ایسا کیا ہے جسے دکھانے کے لیے ولید اتنا بے چین ہورہا تھا۔
جہان آہستہ آہستہ چلتا ٹی وی کی طرف جا رہا تھا۔ حیا کا ٹوٹا ہوا جنجر بریڈ ہاؤس اس کے قدموں میں گرا پڑا تھا۔ لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔ وہ بس سانس روکے لاؤنج میں بیٹھے نفوس کو دیکھ رہی تھی۔
ابا، روحیل، جہان۔ باپ، بھائی، شوہر۔ کوئی اس کے ساتھ نہ تھا۔ کوئی اسے اس پرائے مرد، بلیک میلر سے بچا نہیں سکتا تھا، مگر کیا واقعی کوئی نہیں تھا۔
اللہ تعالی۔ اس نے زور سے پکارا تھا۔ اللہ کا نام وہ واحد نام ہوتا ہے جس کو بولنے کے لیے ہونٹ ہلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس نے بھی نقاب تلے بند ہونٹوں پیچھے زبان ہلاکر اسے پکارا تھا۔
اللہ تعالی میں بہت اکیلی ہوں میرے پاس اس وقت کوئی نہیں ہے جسے میں پکار سکوں۔
جہان اب ٹی وی کے پاس پہنچ چکا تھا۔ حیا کے دل پہ پڑتا بوجھ اب بڑھتا جا رہا تھا۔
صرف آپ ہیں جو میری مدد کر سکتے ہیں،
آپ دیں تو کوئی چھین نہیں سکتا!
جہان نے ٹی وی کا بٹن آن کیا اور پھر ریموٹ سے ڈی وی ڈی چلایا۔ اب ٹی وی اسکرین نیلی نظر آ رہی تھی۔
آپ چھین لیں تو کوئی دے نہیں سکتا!
جہان جھک کر بٹن دباتے ہوئے ڈی وی ڈی کی پلیٹ باہر نکالی۔ دفعتا ریمورٹ اس کے ہاتھ سے پھسل پڑا۔ ماربل کے فرش پہ ریمورٹ گرا تھا۔ چند لمحے مزید گزرے۔
میری مدد کریں۔ مجھے اکیلا نہ چھوڑیں!
جہان ریمورٹ اٹھا کر پھر سیدھا ہوا۔ کاش ریمورٹ ٹوٹ جاتا مگر وہ نہیں ٹوٹا تھا۔
ہر چیز اس کے خلاف جا رہی تھی۔
جہان نے خالی سانچے میں سی ڈی رکھی اور اسے واپس دھکیلا۔
مجھے ان لوگوں کے سامنے رسوا نہ کریں!
سکرین پہ مینیو لکھا آ رہا تھا۔ جہان نے ذرا پیچھے ہو کر ریمورٹ سے پلے کا بٹن دبایا۔
مجھے رسوا نہ کرنا! پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلپ می۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز!
حیا نے آنکھیں بند کر لیں۔ شاید سی ڈی نہ لگے وہ اندر پھنس جائے۔ شای۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر چند ہی لمحوں بعد اسے گانے کی ٹون سنائی دی تھی۔
شیلا کی موسیقی۔
اس کے قدموں تلے سے زمین سرکنے لگی تھی۔ سر سے آسمان ہٹنے لگا تھا۔ اسے لگا وہ ابھی گر جائے گی۔ وہ ابھی مر جائے گی۔
ویڈیو لگ چکی تھی۔ سب دیکھ رہے تھے۔
وہ خواب نہیں تھا۔ حقیقت تھی۔ وہ ایک بار پھر رسواء ہونے جا رہی تھی۔
ساری ریاضت، ساری اطاعت سب بے کار گیا تھا۔
رسوائی، گناہ۔ وہ اس کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ وہ قبر تک اس کے پیچھے آئیں گے۔
اس نے اپنی سرخ ہوتی بند آنکھیں کھولیں۔ لاونچ کا منظر دھوندلا رہا تھا۔ اس نے ابا کے چہرے ک دیکھنا چاہا جو بہت شاکڈ سے سکرین کو دیکھ رہے تھے۔ اس نے اپنے باپ کو سربازار بے عزت کر دیا تھا۔
اس نے روحیل کا چہرہ دیکھنا چاہا جیسے سمجھ نا آ رہا ہو کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
اس نے تایا ابا کے چہرے کو دیکھنا چاہا۔ غیض و غضب’ غصہ پیشانی کی تنی نسیں’ سرخ پڑتا چہرہ۔ اس نے صائمہ تائی اور اماں کا چہرہ دیکھا۔ ہکا بکا۔
گانا اسی طرح چل رہا تھا۔
اس نے نتاشہ کے چہرے کو دیکھا۔ وہ بڑے ستائشی انداز میں اسکرین کو دیکھتی ایکسائیٹڈ سی آگے ہو کر بیٹھی تھی۔ کوک کا کین اسی طرح اس کے ہاتھ میں تھا۔
اس کی نگاہیں نتاشہ سے ہوتی ہوئی جہان کے چہرے پہ پڑیں۔ جہان وہ واحد شخص تھا جو ٹی وی نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ صرف چبھتی ہوئی نظروں سے ولید کو دیکھ رہا تھا۔ اور ولید۔۔۔۔۔۔ تب اس نے دیکھا۔
ولید کا چہرہ سفید پڑا ہوا تھا۔ اتنا سفید جیسے کسی نے پینٹ کر دیا ہو۔ اسی پل اس نے ارم کو دیکھا۔ اس کا چہرہ بھی اتنا ہی سفید-
یہ کیا؟
ایک دم سے حیا نے گردن گھما کر اسکرین کو دیکھا۔
نقاب تلے اس کے ہونٹ زرا سے کھلے۔ آنکھوں کی پتلیاں بے یقینی سے پھیلیں۔
اسے لگا وہ کبھی سانس نہیں لے سکے گی۔
گانا بھی وہی تھا، میوزک بھی وہی تھا، سی ڈی بھی وہی تھی مگر منظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں یہ شریفوں کا مجرا نہیں تھا-نہیں۔ یہ اس کی ویڈیو تو نہیں تھی- یہ تو۔
ارم اور ولید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تصاویر کا ایک سلائیڈ شو تھا۔ ایک ایک کر کے بڑی بڑی تصاویر اسکرین پہ ابھرتی اور چلی جاتیں۔ ارم اور ولید کی تصاویر۔ اکھٹے کسی ریسٹورنٹ میں’ کسی شاپنگ ایریا’ کسی پارک میں۔ ساری فوٹوز سیلف فوٹوز تھیں۔ جیسے ولید کے ساتھ ہو کر ارم نے بازوں بڑھا کر خود ہی موبائل سے کھینچی ہو۔ اور اس لحاظ سے وہ دونوں بہت قریب قریب کھڑے تھے۔
ہر دو تین تصاویر کے بعد اسکین شدہ ای میلز اسکرین پہ ابھرتیں۔ ان میں سے کچھ فقرے ہائی لائٹڈ تھے۔ وہ تصاویر اتنی دیر اسکرین پہ رہتیں کہ وہ سب ان ہائی لائیٹڈ فقروں کو پڑھ لیتے۔ پھر اگلی تصاویر آ جاتی۔ ارم اور ولید کی ذاتی ای میلز۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا؟ ولید ایک دم آگے بڑھنے لگا۔
ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو ان ٹانگوں پہ گھر نہیں جاؤ گے۔ وہیں کھڑے رہو۔ جہان کا وہ الجھن بھرا چہرہ وہ تزبزب سب غائب ہو گیا تھا۔
وہ اتنے سرد اور کٹیلے انداز میں بولا کہ ولید کے بڑھتے قدم وہیں رک گئے۔ اس نے ششدر سی نگاہوں سے جہان کو دیکھا۔
یہ شو ٹائم ہے نا ولید لغاری اور تم نے کہا تھا کہ اس شو کو میں بہت انجوائے کروں گا۔ میں تو کر رہا ہوں۔ تم بھی کرو مگر شاید تم کوئی غلط سی ڈی اٹھا لائے ہو۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سچ نہیں ہے- ولید لغاری ہکلا گیا۔ کبھی وہ صوفے پہ بیٹھے نفوس کو دیکھتا کبھی جہان کو- حیا کو دیکھنا تو اسے یاد ہی نہیں رہا تھا۔
ابھی تم نے خود کہا تھا کہ یہ حقیقت ہے تمہارے کون سے بیان پہ یقین کروں میں؟وہ درشتی سے بولا مگر اسی اثنا میں داور بھائی غصے سے اٹھے تھے۔
گھٹیا انسان میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔
پلیز! جہان نے ہاتھ اٹھا کر انہیں اس کے قریب آنے سے روکا۔ ہاتھ کا استعمال مجھے بھی آتا ہے مگر یہاں خواتین بیٹھی ہیں اس لیے اس آدمی سے میں خود نبٹ لوں گا بعد میں! اور ابھی! اس نے انگشت شہادت اٹھا کر قہر آلود نگاہوں سے ولید کو دیکھتے تنبیہہ کی۔ ابھی تم یہاں سے اپنی شکل گم کر لو۔ تم سے میں بعد میں ملوں گا کیونکہ یہ سی ڈی میرے پاس ہے اور تم نہیں چاہو گے کہ تمہارا ہونے والا سسر یا اس کی بیٹی یہ سب دیکھے۔ سینیٹر عبدالولی کی بیٹی سے رشتہ ہو رہا ہے نا تمہارا؟
ولید لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا۔ تایا ابا’ ابا، روحیل سب اپنی جگہوں سے کھڑے ہو چکے تھے۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ اس شخص کو گولی مار دیں۔
آوٹ! سلمان صاحب ضبط سے بہ زور بولے تھے۔ ولید اپنی اڑی رنگت اور بدحواس قدموں سے پلٹا۔ سامنے دیوار کے ساتھ لگی حیا کھڑی تھی۔ اس کی نقاب سے جھلکتی سیاہ آنکھوں میں بھی سکتہ طاری تھا۔ ولید ان آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ تیزی سے باہر نکلا۔
باہر اسی طرح بارش کے قطرے گر رہے تھے۔
ٹی وی اسکرین پہ سلائیڈ شو ابھی تک چل رہا تھا۔ ارم سفید چہرے کے ساتھ وہ دیکھ رہی تھی۔ تصویریں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں۔
یہ سب فوٹو فکسنگ ہو گی۔ پھوپھو رنجیدگی سے بولی تھیں۔ حالانکہ تصویریں بہت کلئیر تھیں مگر تایا ابا اور داور کے سرخ چہرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ارم کو کسی طوفان سے بچانا چاہتی تھیں۔
تیز بارش تھم چکی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی جاری تھی۔ کھڑکیوں کے شیشوں پہ گرتی ٹپ ٹپ کی آواز مسلسل آرہی تھی۔
پھوپھو کی بات پہ صائمہ تائی کو تقویت ملی تھی۔
یہ سب جھوٹ ہے الزام ہے میری بچی پہ- یہ سب ارم اور حیا کی تصویریں تھیں یہ لڑکا کہاں سے آ گیا ان میں؟ وہ اپنی بات منوانے کیلئے زور سے بولی تھیں۔ اور یہ ساری تصویریں حیا کے پاس تھیں اسی نے دی ہوں گی اس لڑکے کو اور نام میری بیٹی کا لگا دیا۔
گھر چلو تم لوگ! تایا فرقان قہر برساتی نگاہ سے ان کو دیکھتے ہوئے بولے تھے۔
میری بات سنیں یہ حیا کے پاس تھیں تصویریں اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیے وہ لڑکا بار بار حیا کا نام لے رہا تھا۔
میری بیوی کا نام مت لیں ممانی! ابا صائمہ تائی کی بات پہ ناگواری سے احتجاج کرنے ہی لگے تھے کہ وہ جیسے غصے سے کہتا ان کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔
یہ تصویریں شاید آپ کو اپنی بیٹی کے لیپ ٹاپ سے بھی مل جائیں۔ مگر میری بیوی کا نام اگر کسی نے لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ وہ اتنی سختی سے انگلی اٹھا کر بولا تھا کہ صائمہ تائی آگے سے کہہ نہ سکیں۔ فاطمہ اور پھوپھو نے افسوس سے ایک دوسرے کو دیکھا جیسے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں۔
گھر آؤ تم لوگ! تایا ابا نے بہت ضبط سے سرخ پڑتی نگاہں سے بیوی کو اشارہ کیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے باہر نکل گئے۔ داوار بھائی فورا باپ کے پیچھے لپکے۔
ابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب میں نے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حیا نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم نے ان کو آواز دینا چاہی۔
ارم! جہان نے حیرت اور غصے سے اسے دیکھا۔ تم میری بیوی کا نام ان سب میں کیسے لے سکتی ہو؟
تایا جا چکے تھے ارم نے بے بسی سے جہان کو دیکھا۔
تمہیں کیا لگتا ہے؟ تم لڑکیوں کو کیا لگتا ہے، ہاں؟ تم موبائل سے میسج مٹا دو گی، کال ریکارڈ حذف کردو گی تو وہ ختم ہو جائے گا؟ ایسا نہیں ہوتا ارم بی بی! ہر ایس ایم ایس ریکارڈ ہوتا ہے، ہر کال ریکارڈ ہوتی ہے۔ ایک دفعہ پھر لو میری بیوی کا نام اور میں تمہیں اپنی ایجنسی سے ولید کے فون پہ کی گئی ہر کال کی آڈیو ریکارڈنگ نکلوا کر دکھاوں گا۔ میرے لیے یہ بہت آسان ہے۔
ارم نے خشک لبوں پہ زبان پھیری اور اپنی ماں کو دیکھا مگر وہ پہلے ہی باہر جا رہی تھیں۔ وہ تیزی سے ان کی طرف لپکی۔ چوکھٹ پہ کھڑی حیا اور اس کے قدموں پہ گرے ملبے کو اس نے دیکھا بھی نہیں۔
لاونچ میں پھر سے خاموشی چھا گئی تھی۔ سب جیسے ایک دوسرے سے شرمندہ تھے۔ سوائے نتاشا کے۔
وہ بڑے مزے سے ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھی’ کین سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور روحیل کو مخاطب کیا۔
Honestly Rohail You have a very interesting family
(حقیقت یہ ہے روحیل تمہاری فیملی بہت دلچسپ ہے۔)
روحیل نے اونہوں! کہتے اسے گھورا اور معزرت خواہانہ۔ انداز میں باقیوں کو دیکھا نتاشا جہان کے سائیڈ سے گزر کر سیڑھیوں کی طرف چلی گئی۔
شو ٹائم ختم ہو چکا تھا۔
البتہ جانے سے قبل نتاشا نے جو مسکراہٹ جہان کی طرف اچھالی تھی کونے میں کھڑی حیا کے ذہن میں وہ اٹک کر رہ گئی۔
یہ سب کیسے ہوا؟ وہ ابھی تک دم بخود تھی مگر نتاشا کی مسکراہٹ؟ اس کا اور جہان کا باتیں کرنا، پھر اس کا اتنا بڑا شاپنگ بیگ اٹھا کر صائمہ تائی کی طرف جانا اور پھر واپس اوپر جانا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صائمہ تائی کو شاپنگ دکھانے نہیں ارم کا لیپ ٹاپ اڑانے گئی تھی ورنہ اسے کب سے تائی سے اتنی محبت ہو گئی؟ ورنہ جہان کو کیسے پتا کہ یہ ساری تصاویر ارم کے لیپ ٹاپ میں تھیں؟ وہ بھی اوپر کمرے میں حیا کے کپڑے رکھنے نہیں بلکہ سی ڈی لینے گیا تھا، ریموٹ گراتے ہوئے جھک کر اس نے سی ڈیز Swap کی تھیں۔ اوہ جہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ swapping کا ماہر تھا۔
ایک ایک کر کے سب لاونچ سے چلے گئے تھے۔ پھوپھو نے البتہ جاتے ہوئے افسردہ نگاہوں سے جہان کو دیکھا تھا۔
یہ سب کیا تھا جہان؟
وہ شاید کوئی غلط سی ڈی اٹھا لایا تھا۔ اس نے شانے اچکائے۔
جیسے میں تمہیں جانتی ہی نہیں۔ تمہارا ہاتھ ہے اس میں’ پتا ہے مجھے۔ وہ جھڑک کے کہتی ہوئی خفگی سے باہر نکل گئیں۔
اس سارے میں وہ پہلی بار حیا کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ اسی طرح دیوار سے لگی کھڑی تھی۔ جہان کو آپنی طرف دیکھتے پا کر اس نے نقاب کھینچ کر اتارا۔ اس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ رہا تھا۔ اور تب ہی جہان نے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ، اللہ، یہ تم نے کیا کیا؟
یہ تم نے کیسے کیا جہان؟ ایک دم آنسو ٹوٹ کر اس کی آنکھوں سے گرنے لگے۔ وہ پریشانی سے جنجر بریڈ کے ملبے کو دیکھتا اس تک آیا۔
میرے سارے پیسے برباد کر دیے تم نے۔ یہ کیوں توڑا؟
جہان! حیا نے لبوں پہ ہاتھ رکھ کر خود کو رونے سے روکا مگر آنسو بہتے جا رہے تھے۔ میں بہت ڈر گئی تھی۔ تم جانتے تھے نا۔۔۔۔۔۔۔ کہ وہ ویڈیو ولید کے پاس ہے۔
ملبے سے نگاہ ہٹا کر گہری سانس لیتے ہوئے اس نے حیا کو دیکھا۔
دیرین کیو میں تم نے دو دفعہ کہا تھا کہ اگر کوئی تمہیں گاڑی تلے کچل دے تو؟ دو دفعہ کہی گئی بات کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ میں نے یہاں آتے ہی معلوم کر لیا تھا سب تم نے مجھ پہ بھروسہ نہیں کیا سو، میں نے بھی تمہیں نہیں بتایا۔
میں تمہیں پریشان نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔
حیا آپ کے اپنے کس لیے ہوتے ہیں؟ اگلی دفعہ مجھ پہ بھروسہ کر کے دیکھنا۔
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تو بہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہان کے جبڑے کی رگیں تن گئیں۔
اس کا ذکر مت کرو۔ جب انسان کچھ غلط کرتا ہے تو اس کا نتیجہ اس کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آج کسی ایک نے تو رسوا ہونا ہی تھا مگر میں نے ایک لڑکی سے وعدہ کیا تھا کہ جنت کے پتوں کو تھامنے والوں کو اللہ رسوا نہیں کرتا۔ مجھے اپنا وعدہ نبھانا تھا۔
پھر اس نے ٹوٹے ہوئے جنجر بریڈ ہاوس کو دیکھا۔ کب تم جذبات میں آ کر چیزیں پھینکنا چھوڑو گی لڑکی! ساتھ ہی وہ نور بانو کو آواز دینے لگا تاکہ وہ جگہ صاف کی جا سکے۔
آئی لو یو جہان! آئی رئیلی لو یو۔ وہ رندھی ہوئی آواز اور فرط مسرت سے رونے اور مسکرانے کے درمیان بولی تھی۔ حہان نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر دائیں بائیں۔
میری بچپن کی سہیلی ٹھیک کہتی ہے۔ اس گھر میں سب بہت انٹرسٹنک ہیں۔ وہ جھرجھری لے کر آگے بڑھ گیا۔ نور بانو اسی طرف آرہی تھی۔
حیا یوں ہی عبایا میں ملبوس لاؤنج کے صوفے کے ہتھ پہ بیٹھی اور موبائل نکال کر ایک نمبر ملایا۔ ہتھیلی سے آنسو پونچھتے ہوئے اس نے فون کان سے لگایا۔
ڈاکٹر ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے وہ پہیلی حل کر لی ہے۔ وہ مڑ کر چوکھٹ پہ پنجوں کے بل جھکے ہوئے جہان کو دیکھتے ہوئے بولی جو نور بانو کے ساتھ جنجر بریڈ کے ٹکڑے اٹھا رہا تھا۔
اچھا کیا ملا آپ کو پھر؟ دوسری جانب جیسے وہ مسکرائے تھے۔
آیت حجاب سورہ احزاب میں نازل ہوئی ہے۔
میں بتاتی ہوں آپ کو حجاب اور جنگ احزاب کی مماتلت۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں کہہ رہی تھی۔ جنگ احزاب میں گر وہ بھی ہے بنو قربظہ بھی خندق بھی سردی اور بھوک کی تنگی بھی۔ تین طرف خندق تو ایک طرف گھنے درختوں کا سایہ اور مضبوط چٹان بھی۔ جو خاموشی سے آپ کو سپورٹ کرتے ہیں۔
اس نے جہان کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ افسوس سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ٹکڑے پلیٹ میں ڈال رہا تھا۔ اس کی جینز کی جیب میں ایک سی ڈی جھلک رہی تھی۔
لیکن اگر جنگ احزاب میں کچھ نہیں ہے تو وہ جنگ نہیں ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں جنگ ہوتی ہی نہیں۔ اکا دکا انفرادی لڑائیوں کو چھوڑ کر اصل جنگ ہتھیاروں سے لڑی جانے والی جنگ سے قبل ہی ایک رات طوفان آتا ہے اور دشمنوں کے خیموں کی ہوا اکھڑ جاتی ہیں۔ ان کی ہانڈیاں ان پر الٹ جاتی ہیں اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ مجھے میری ایک چھوٹی دوست نے یہی بات کہی تھی کہ یہ جنگ جیتا کون تھا؟ تب نہیں سمجھی میں۔ اب سمجھی ہوں۔ جنگ نہیں وہ لڑائی کی بات کر رہی تھی لڑائی جو اس جنگ میں ہوتی بھی نہیں۔ آپ کو صبر اور انتظار کرنا ہوتا ہے۔ کسی کو ایک دن اور کسی کو ایک ماہ اور کسی کو کئی سال اور پھر ایک دن آپ بغیر کچھ کھوئے بغیر کسی محاذ پہ لڑے اچانک جیت جاتے ہیں۔ یہی بات تھی نا سر!
میرے ذہین بچے! مجھے آپ پہ فخر ہے۔ وہ بہت خوش ہوئے تھے۔
حیا نے ڈبڈباتی آنکھوں سے اس غریب آدمی کو دیکھا جو ابھی تک اپنے پیسے ضائع ہونے پر افسوس کر رہا تھا۔ چیزیں وقتی ہوتی ہیں۔ ٹوٹ جاتی ہیں بکھر جاتی ہیں ان کا کیا افسوس کرنا؟
اب ان دونوں کو جنجر بریڈ کے گھروں کو بھول کر رشتوں اور اعتماد سے بنا گھر قائم کرنا تھا۔
صبح قریب تھی۔
ان کی صبح۔
* * * *
وہ پارلر کے ڈریسنگ مرر کے سامنے کرسی پہ بیٹھی تھی اور بیوٹیشن لڑکی بڑی مہارت سے اس کو آئی شیڈو لگارہی تھی۔ اس نے گرے اور سلور فراک پہن رکھا تھا۔ بال وغیرہ ابھی بنانے تھے۔
اونچا جوڑا بنائیں گی؟ بیوٹیشن نے آئی شیڈو کو آخری ٹچ دیتے ہوئے پوچھا تھا۔ حیا نے آئینے میں چہرہ دائیں بائیں کر کے آنکھیں دیکھیں۔ اچھی لگ رہیں تھیں۔
اونہوں۔ فرنچ ناٹ بنا دو۔ اونچے جوڑے میں تو نماز نہیں ہو گی اور دو تین نمازیں تو فنکشن کے دوران آجائیں گی۔
آج نہ پڑھیں تو خیر ہے۔ لڑکی اکتائی تھی۔
آپنی خوشی میں اللہ کو ناراض کر دوں؟ اونہوں!
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
اچھا، نیل پالش لگانی ہے یا نقلی نیلز؟
کچھ بھی نہیں- بار بار وضو کے لیے اتاروں گی کیسے؟ اس نے سادگی سے الٹا سوال کیا۔
اوہ! اچھا نقلی پلکیں تو لگا دوں نا؟
اللہ تعالی کو برا لگے گا۔
آپ نے آئی بروز بھی نہیں بنوائیں تھوڑا سا نیٹ ہی کر دوں؟
اللہ تعالی کو اور بھی برا لگے گا۔
لڑکی کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ گھوم کر اس کے سامنے آئی۔
آپ کہیں ‘الہدی’ کی تو نہیں ہیں؟
حیا ہنس دی۔
نہیں میں بس ایک مسلمان لڑکی ہوں اور یہ سوچ رہی ہوں کہ جب تمہیں اپنا ڈوپٹا سیٹ کرنے کو کہوں گی تو تمہاری کیا حالت ہو گی؟ وہ جیسے سوچ کر ہی محفوظ ہوئی۔ لڑکی نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔
کیوں؟
پہلے میک اوور مکمل کرو، پھر بتاتی ہوں۔ مزے سے کہتی اس نے دوبارہ سر کرسی کی پشت پہ ٹکا دیا۔ بیوٹیشن لڑکی جزبز سی ہو کر آئی شیڈو کٹ اٹھائے پھر سے اس کے سر پہ آ کھڑی ہوئی۔
اور جب حیا نے اسے دوپٹا اپنی مرضی کے مطابق سیٹ کرنے کو کہا تو اس کا منہ کھل گیا۔
گھونگھٹ؟ کون نکالتا ہے گھونگھٹ؟ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟
میں یہ تو نہیں کہ رہی کہ بہت نیچے تک نکالو۔ بس ٹھوڑی تک آئے۔ نیچے ویسے ہی بند گلا ہے۔ اس نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے لاپروائی سے کہا تھا۔
مگر آپ کا چہرہ تو نظر ہی نہیں آئے گا۔ اور۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی پریشان ہو گئی تھی۔
تم نکال رہی ہو یا میں خود نکال لوں؟
اور بیوٹیشن کے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ اس سے کوئی بعید نہیں تھی وہ جلدی سے ڈوپٹہ سیٹ کرنے لگی۔
اس نے ابا سے بہت کہا تھا کہ مکس گیدرنگ نہ رکھیں فوٹو گرافرز نہ ہوں مگر ابا اور اماں نے ایک نہ سنی۔
حیا! میں تمہارے پردے کا پھر کوئی ایشو نہیں سننا چاہتی۔ اماں تو باقاعدہ بے زار ہو گئی تھیں۔ حیا جانتی تھی کہ اس کے سامنے وہ کبھی اعتراف نہیں کریں گی کہ وہ اس کے پردے سے دل سے راضی تھیں۔ مگر کیا فرق پڑتا تھا؟
اس نے اپنی کلاس فیلوز سے پوچھا حجابی لڑکیاں دلہن بنتے ہوئے کیا کرتی ہیں کہ کوئی ناراض بھی نہ ہو اور وہ حجاب بھی کیری کر لیں؟ جتنے آپشن نظر آئے ان میں سب سے بہترین یہی تھا۔
گھونگھٹ۔
اور پھر نیچے ڈوپٹہ اتنا پھیلا کر لیا ہو کہ ستر پوشی کا فرض ادا کرے۔ اب کوئی اس کی تصویریں کھینچے یا نہیں اسے پرواہ نہیں تھی۔
میرج ہال میں جب اسے برائیڈل روم سے لا کر اسٹیج پہ بیٹھایا گیا تو ثناء اس کے ایک طرف آ بیٹھی تھی۔ آج کیلئے ثنا اس کی اسسٹنٹ تھی۔ آپنی طرف سے وہ تصاویر کھینچنے والوں کو مسلسل منع کر رہی تھی۔
“حیا آپا پردہ کرتی ہیں پلیز فوٹو نہ کھینچیں۔ یا کوئی اس کے گھونگھٹ پہ کچھ بولتا تو وہ اسے جواب بھی دے رہی تھی۔
“آپا کلاسیکل دلہن بنی ہیں۔ اور وہ گھونگھٹ نہیں اٹھائیں گی۔ کوئی چاچی’ ممانی’ خالہ ساتھ آ کر بیٹھتی’ پھر زرا سا گھونگھٹ اٹھا کر چہرا دیکھتی’ سلامی دیتی’ تعریف کرتیں یا جو بھی’ سب ایسا ہی تھا جیسے عموما مہندی کی دلہن کا ہوتا ہے۔
اس کا گرے فراک پیروں تک آتا تھا۔ گھیرے پہ کافی کام تھا ۔گھونگھٹ تھوڑی تک گرتام نیچے دوپٹا’ یو کی شکل میں پھیلا کر سامنے ڈالا تھا۔ آستین پوری تھی اور وہ سر جھکا کر نہیں بیٹھی تھی وہ گردن اٹھا کر پورے اعتماد کے ساتھ بیٹھی تھی۔ ہر پاس آنے والی آنٹی سے بڑے آرام سے باتیں کر رہی تھی۔ لوگ برا تب مانتے ہیں جب دلہن اکڑ کر بیٹھے۔ اگر وہ خوش مزاجی سے بات کر رہی ہو پورے اعتماد کے ساتھ تو لوگ نرم پڑ جاتے ہیں۔ البتہ کہنے والے تو کہہ رہے تھے۔ یہ کیا کیا؟ میک اپ تو چھپ گیا۔ خراب ہو گیا ہو گا تبھی یہ کیا۔ ناٹک، ڈرامے۔ مگر وہ اس مقام پہ تھی جہاں یہ سب باتیں ثانوی محسوس ہوتی تھیں۔ مشکلیں بہت پڑ کر بھی آسان ہو جاتی ہیں۔
جہان اس کے پاس آ کر بیٹھا اور بہت دھیرے سے بولا تھا۔
ثابت ہوا کہ تم کچھ باتوں میں واقعی بہت اسمارٹ ہو۔ بس یہی ایک فقرہ کہا اس نے اور پھر جلد ہی اٹھ گیا۔ اسے یوں مرکز نگاہ بن کہ بیٹھنا قبول نہیں تھا- بدتمیز نہ ہو تو-
وہ پھر خود بھی زیادہ دیر اسٹیج پہ نہیں بیٹھی اور واپس برائیڈل روم واپس آگئی۔ یہ نتاشا کا دن تھا اور اب اسے پوری توجہ ملنی چاہیئے۔ خیر وہ پوری توجہ لے بھی رہی تھی- ساڑھی کی پشت پہ زبردستی اس نے پلو ڈالا ہوا تھا مگر وہ روحیل کا بازو تھامے مہمانوں کے درمیان ہنستے بولتے گھوم رہی تھی۔ (اور فاطمہ کو ہول اٹھ رہے تھے۔)
جہان بھائی کہہ رہے تھے کہ وہ ادھر آ جائیں؟ ثناء نے اس کو آواز دی۔ وہ جو برائیڈل روم میں بیٹھی، گھونگھٹ پیچھے گرائے، لپ اسٹک ٹھیک کر رہی تھی، چونک کر پلٹی۔ کیا وہ آ رہا تھا؟ اس سے ملنے اس کا دل زور سے دھڑکا۔
ہاں بلا لو۔ وہ اور ثناء اکیلے ہی تو تھے۔ اچھا ہے ثناء باہر چلی جائے گی اور وہ دونوں کم از کم بات تو کر سکیں گے۔ دو دن سے تو وہ نظر ہی نہیں آیا تھا۔
ذرا سی دستک کے بعد دروازہ کھول کر جہان اندر داخل ہوا۔ سیاہ ڈنر سوٹ بال پیچھے کیے بالکل جیسے وہ میٹرو میں لگا تھا پہلی بار۔ اب بھی ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ نہیں ہینڈسم ایڈیٹ لگ رہا تھا کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو منتظر سی کھڑی تھی لبوں پہ ذرا سی مسکراہٹ لیے اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
جہان کے ساتھ وہ سوبر اور سادہ لمبی سی ثانیہ بھی تھی۔
حیا مائی وائف اور حیا یہ میری بہت اچھی دوست ہیں اور کولیگ بھی ہیں ثانیہ۔ بہت تہزیب اور شائستگی سے وہ دونوں کا تعارف کروا رہا تھا۔
بہت خوشی ہوئی۔ ثانیہ اسی سوبر سی مسکراہٹ کے ساتھ آگے آئی اور مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ حیا نے بہ مروت مسکراتے ہوئے ہاتھ تھاما اور ملا کر چھوڑ دیا۔ پھر ایک شاکی نظر جہان پہ ڈالی۔ وہ بس اس لیے اس کے پاس آیا تھا؟ بدتمیز!
بس تمہیں ملوانا چاہ رہا تھا ثانیہ سے۔ اس کے ہیزبینڈ دوست ہیں میرے۔
جی ان سے تو بہت دفعہ مل چکی ہوں۔ وہ زبردستی مسکراتے ہوئے بولی تھی۔ جہان نے بےساختہ ماتھے مو چھوا۔
اچھا حماد نے تو ذکر نہیں کیا؟ ثانیہ نے جہان کو دیکھا وہ جو اف کے انداز میں ماتھے کو چھو رہا تھا فورا سے پیشانی مسل کر ہاتھ نیچے کر لیا۔
ہاں وہ ہم ڈنر کر رہے تھے تو وہ مل گیا تھا۔ خیر ہم چلتے ہیں سی یو۔ وہ حیا کو گھور کر ثانیہ کو راستہ دیتا ہوا سامنے سے ہٹا۔ وہ ناقدانہ نگاہوں سے انہیں جاتے دیکھ رہی تھی۔
تمہاے پاس صابر کا نمبر ہے میں اسے کال کرنا چاہ رہا تھا تو۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ٹھہرو میں تمہیں سینڈ کرتی ہوں۔ وہ دونوں اپنے اپنے سیل فونز سامنے کیے باتیں کرتے باہر نکل گئے۔
ہونہہ! وہ پیر پٹخ کر واپس کرسی پہ بیٹھی۔
اس آدمی کے ساتھ زندگی کبھی بھی فینٹسی نہیں ہو گی پہلے سے وہ جانتی تھی مگر اب اس بات پہ یقین بھی آ رہا تھا۔ سب کچھ بہت مشکل تھا اور مشکل ہو گا بھی مگر خیر وہ ساتھ تو تھے نا۔ آہستہ آہستہ وہ اس سب کی عادی ہو جائے گی۔ اس نے خود کو تسلی دی۔ اور پھر دروازے کی طرف دیکھا۔
ذرا سی جھری کھلی تھی وہاں سے میرج ہال کی رشنیاں لوگوں کا رش ہنستے بولتے مہمان رنگ خوشبو سب نظر آ رہا تھا۔
اس کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ لب آپ ہی آپ مسکرانے لگے۔ اس نے کلائی گھما کر دیکھی۔ بہارے کا نیکلس بریسلیٹ کی صورت اس میں پہنا تھا اور اس کی سائیڈ پہ خالی کنڈے میں اب ایک موتی جھول رہا تھا۔
سیاہ موتی۔
وہ سفید موتی نہ بن سکی تو کیا ہوا۔ سیاہ موتی بننے میں بھی کوئی حرج نہ تھا۔ کہ پھر۔۔۔۔۔۔۔
موتی تو وہ ہوتا ہے
جس کی کالک بھی چمکتی ہے۔
* * * *
صبح کا دودھیا رنگ اسلام آباد کی پہاڑیوں پہ چھایا ہوا تھا۔ گزشتہ رات کی بارش کے باعث سرمئی سڑکیں ابھی تک گیلی تھیں۔
اس نے کچن کی کھڑکی کا پردہ ہٹایا۔ جالی سے روشنی اور ہوا اندر جھانکنے لگی-تازگی کا احساس- تبھی دیوار میں نصب اوون کھانا پکنے کی گھنٹی بجانے لگا۔ وہ آگے آئی اور اوون کا دروازہ کھولا پھر دستانے والے ہاتھ سے ٹرے باہر نکالی۔
پگھلے ہوئے پنیر سے سجا گرم گرم پیزا تیار تھا۔ اس نے چہرہ ذرا جھکا کر سانس اندر اتاری۔ خستہ اشتہا انگیز خوشبو۔ جہان کو پسند آئے گا۔ تعریف نہیں کرے گا البتہ تھوڑا کھائے گا اور اس پہ بھی کئی دن ایکسرسائز کا دورانیہ بڑھا کر ان کیلوریز کو برن کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ اپنی فٹنس اور صحت کے بارے میں وہ آج بھی اتنا ہی کانشس تھا جتنا چار سال قبل ان کی شادی کے وقت تھا۔
اس نے ٹرے اندر دھکیلی اور اوون کا ڈھکن بند کیا۔ اب جہان آفس سے آ جائے گا تب ہی وہ اسے نکالے گی۔ ساتھ ہی اس نے پلٹ کر گھڑی دیکھی۔ ابھی اسے آنے میں کافی وقت تھا۔ آج ویسے ہی حیا کے سارے کام جلدی ختم ہو گئے تھے، اب کیا کرے؟ سبین پھوپھو کی کسی پرانی دوست کے بیٹے کی شادی تھی سو وہ کراچی گئی ہوئی تھیں۔ ویسے یہاں ان کے اپارٹمنٹ سے ابا اور تایا کے گھر زیادہ دور بھی نہیں تھے سو پہلے اس نے اماں کی طرف جانے کا سوچا پھر ارادہ ترک کر کے اپنے کمرے میں آگئی۔
جہان اور اس کا بیڈ روم بہت نفاست مگر سادگی سے سجا تھا۔ وہ تو اتنی آرگنائزڈ نہیں تھی مگر جہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خراب’ بے ترتیب چیزیں کبھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ خدیجہ کا کمرہ گو کہ ساتھ والا تھا، مگر وہ ابھی اتنی چھوٹی تھی، بس تین سال کی کہ یہ کمرہ اس کا بھی تھا۔ اس وقت بھی وہ کارپٹ پہ بیٹھی بلاکس کو توڑ کر پھر سے جوڑنے میں لگی تھی۔ ٹوٹے بلاکس ایک طرف تھے جوڑے بلاکس ایک طرف۔ بےترتیبی میں بھی ترتیب تھی۔ باپ کی طرح وہ بھی Clutter نہیں پھیلاتی تھی۔
خدیجہ گل کیا بنا رہی ہے؟ وہ الماری کی طرف بڑھتے ہوئے اسے مخاطب کر کے بولی- اس نے لیپ ٹاپ کا بیگ نکالا، اور پلٹ کر اپنی بیٹی کو دیکھا’ جو اس کے سوال پہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تھی۔
وہ سلیو لیس سرخ فراک میں ملبوس تھی مگر نیچے سے اس نے کہنی تک آتی پنک شرٹ پہن رکھی تھی۔ جرابیں بھی پنک- نرم گہرے بھورے بال پونی میں بندھے تھے۔ (جہان اس کے بال کٹوانے نہیں دیتا تھا۔ اسے لمبے بال پسند تھے۔ مگر صرف خدیجہ کے۔ خدیجہ کی ماں کے بالوں کے بارے میں وہ رائے نہیں دیا کرتا تھا۔) گوری، گلابی رنگت، اٹھی ہوئی ناک، اور جہان جیسی آنکھیں- وہ جہان ہی کی بیٹی تھی- جہان کو لوگوں کا خدیجہ کو اس سے ملانا بہت پسند تھا- اس نے حیا سے صرف اچھا قد لیا تھا، مگر۔۔۔۔۔۔
میں تم سے زیادہ لمبا ہوں’ اس کا قد بھی مجھ پہ گیا ہے۔ وہ شانے اچکا کر بے نیازی سے کہتا تھا۔
نتھنگ! خدیجہ گل نے زرا سے شانے اچکا کہ نفی میں سر ہلایا اور واپس کام میں مگن ہو گئی۔ حیا نے جب اس کا نام خدیجہ گل رکھا تھا تو جہان نے اعتراض نہیں کیا تھا۔
تم اپنی پسند کا نام رکھ لو’ میں تو جو نام بھی بتاؤں گا’ آگے سے کہو گی’ اب اس نام کی آپنی پرانی دوست کا حلیہ بھی بتاؤ جس کی یاد میں یہ رکھنا چاہتے ہو۔ (ویسے اتنا غلط بھی نہیں تھا وہ۔) سو اس نے اپنی بیٹی کا نام خدیجہ گل رکھا تھا۔
میری تین بہترین دوستوں کی یاد میں!
خدیجہ ایک پری میچور بچی تھی مگر صد شکر وہ ہمیشہ صحت مند رہی تھی۔ سو وہ ان کے لیے واقعی خدیجہ گل تھی (یعنی وقت سے پہلے پیدا ہو جا نے والا گلاب۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: