Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 8

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 8

–**–**–

وہ دھیرے دھیرے سڑک کنارے چلنےلگی۔ رسید ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھی۔
وہ گھنٹہ بھرپہلے تک خود اس بات سے ناواقف تھی کہ جہانگیر جا رہی ہے۔ پھر اس اے آر کو کیسے علم ہوا؟ کیا وہ اس کا پیچھا کر رہا تھا؟ کیا اس کا تعاقب کیاجارہا تھا؟ لیکن ایک پاکستانی آفیسر کے ایک غیر ملک میں اتنے ذرائع کیسے ہو سکتے تھے۔ صرف اسے تنگ کرنےکے لیے اتنی لمبی چوڑی منصوبہ بندی کون کرے گا؟
وہ کالونی کے سرے پر نصب بینچ پر بیٹھ گئی۔ اس کی نگاہیں برف سے ڈھکی گھاس پہ جمی تھیں۔ اسے ہالے کے آنے تک یہیں بیٹھنا تھا••••••••••••••
اس نے اگلےدن ہی ڈروم آفیسر حقان سے بات کر کےاپنا کمرہ بدلوا لیاتھا۔ اب وہ ڈی جے کے کمرے میں منتقل ہو چکی تھی۔ کمرےمیں تیسری لڑکی ایک چینی نژاد لنگ لنگ تھی۔ اس کا پورا نام اتنا لمبا اور پچیدہ تھا کہ یورپ کےلیے اپنا نام چیری رکھ لیا تھا۔ وہ ایکسچینج اسٹوڈنٹ تھی اور پی ایچ ڈی کر رہی تھی۔
چوتھی لڑکی ایک اسرائیلی یہودی ٹالی تھی۔ واقعتا ٹاہلی کے درخت کی طرح لمبی چوڑی اور گھنگھریالے بالوں والی۔ وہ بھی ایکسچینج اسٹوڈنٹ تھی۔ اور اس کی ساتھ والے کمرے کے فلسطینی ایکسچینج اسٹوڈنٹس (وہ ہینڈسم لڑکے جس کا ذکر ڈی جے نے پہلے روز کیا تھا) سے گاڑھی چھنتی تھی۔ وہ فلسطینی لڑکے اور وہ اسرائیلی لڑکی ہر جگہ ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔ کیمپس کی سیڑھیاں ہوں یا ہاسٹل کا کامن روم۔ وہ چاروں ساتھ ہی ہوتے۔
ان کے پاسپورٹ چیک کرؤاؤ، یا تو یہ اسرائیلی نہیں ہے، یا وہ فلسطینی نہیں ہیں۔ اتنا اتحاد اور دوستی؟ توبہ ہے بھئی! ڈی جے جب بھی ان کو ساتھ دیکھ کر آتی، یونہی کڑھتی رہتی۔ حیانے ابھی ان لڑکوں کو نہیں دیکھا تھا، نہ ہی اسے شوق تھا۔
تمام ممالک کے ایکسچینج اسٹوڈنٹس پیر تک پہنچ گئے تھے۔ وہاں کسی کو کسی ایکسچینج اسٹوڈنٹ کا نام معلوم نہیں ہوتا تھا۔ بس یہ فلسطینی ہیں، یہ چائینیز ہے، یہ نارویجن ہے، یہ ڈچ ہے اور یہ دونوں پاکستانی ہیں۔
ان کو ایک سے چارمضامین لینےکا اختیار تھا۔ ڈی جے نے دو لیےجبکہ حیا نے چار لیے۔ چوتھے ماہ کے اختتام پہ امتحان دینے کی پابندی تھی، اور یہ پانچ ماہ لازما ترکی میں گزارنے کی پابندی تھی، چاہے ہاسٹل میں رہو، چاہےنہ رہو، چاہے ساری رات باہر گزارو، کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ خوب مزے تھے۔
سبانجی میں کلاس کے اندر لڑکیوںکے اسکارف پہ پابندی تھی۔
تو یہ ہالے نور کیا کرتی ہو گی؟ حیا نے ڈی جے سے تب پوچھا، جب وہ دونوں نماز کےبہانے کلاس میں دکھائی جانےوالی ترکی کی تعارفی پریزنٹیشن سے کھسک کر آگئی تھیں اور اب پریئرہال میں بیٹھی چپس کھا رہی تھیں۔
وہ کلاس میں اسکارف اتار کرہی جاتی ہے۔ ڈی جے چپس کترتے ہوئے بتا رہی تھی۔ وہ دونوں چوکڑی مار کر کارپٹ پر بیٹھی تھیں۔ ایک طرف الماری میں قرآن و اسلامی کتب کے نسخے سجےتھے۔ دوسری طرف بہت سے اسکارف اور اسکرٹس ٹنگے ہوئے تھے۔ جینز والی ترک لڑکیاں اسکرٹ پہن کر نماز پڑھ لیتیں اور پھر بعد میں وہ اسکرٹ وہاں لٹکا کر چلی جاتیں۔ استنبول کے ہر زنانہ پریئر ہال میں ایسے اسکارف اور اسکرٹس لٹکےہوتے تھے۔
مزے کی ہے یہ ہالے نور بھی۔ وہ انگلی سے بال پیچھےکرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اس نے بھی بلیو جینز کے اوپر گلابی سویٹر پہن رکھا تھا۔ پاکستان میں تایا فرقان کی ڈانٹ کے ڈر سے وہ جینز نہیں پہن سکتی تھی، لیکن شکر کہ یہاں وہ لوگ نہیں تھے اور وہ زندگی کو اپنی مرضی سے لطف اندوز ہو کر گزار رہی تھی۔
پرسوں تم اپنی پھپھو کے گھر گئی تھیں۔ کیسا رہا ٹرپ؟
اچھا رہا، پھپھو نے پلاؤ بنایا تھا، وہ واقعی اپنا بدمزہ پکوان نہیں ہے، جتنا ہم سمجھے تھے۔
میں تو پہلے ہی کہہ رہی تھی۔
جب پریئر ہال میں ھی خوب بور ہو گئیں تو باہر نکل آئیں۔
سرد نم ہوا دھیمی لے میں بہہ رہی تھی۔ ہری گھاس پہ سبانجی کی گول سی عمارت پورے وقار کے ساتھ کھڑی تھی، جیسے ایک گولائی کی شکل میں بنے گھر کو ہیٹ پہنا دی جائے۔ شیشےکے اونچے داخلی دروازوں کے سامنےسیڑھیاں بنی تھیں۔ سیڑھیوں کے دونوں اطراف سبزہ پھیلا تھا۔ وہ دونوں فائلیں تھامے زینے اتر رہی تھیں، جب ڈی جے نے اس کا شانہ ہلایا۔
یہ جو آخری زینے پہ تین لڑکےکھڑے ہیں، یہ وہی فلسطینی لڑکے ہیں۔ دیکھو! ٹاہلی بھی ان کے ساتھ ہے۔
اس نےہوا سے چہرے پہ آتے بال پیچھے ہٹائے اور دیکھا۔ وہ ہینڈسم اور خوش شکل سے لڑکے سیڑھیوں کے کنارے کھڑے باتوں میں مصروف تھے۔
آؤ ان سے ملتے ہیں۔
مجھے دلچسپی نہیں ہے۔ تم جاؤ، مجھے ذرا کام ہے۔
وہ کھٹ کھٹ زینہ اترتی آگے بڑھ گئی۔ ڈی جے نے اسے نہیں پکارا، وہ ان فلسطینیوں کی جانب چلی گئی۔ اور وہ یہی چاہتی تھی، ڈی جے سے دوستی اپنی جگہ، فی الحال وہ خوب آزادی سے استنبول کو کھوجنا چاہتی تھی۔ اکیلی اور تنہا۔۔۔۔۔۔۔۔
قریبا گھنٹے بھر بعد وہ اپنے کمرے سے خوب تیار ہو کر نکلی اور پتھریلی سڑک پر چلنے لگی۔
اس نے بلیو جینز کے اوپر ایک تنگ، اسٹائلش سا گھٹنوں تک آتا کوٹ پہن رکھا تھا۔ شدید سردی کے باوجود ننگے پاؤں میں پانچ انچ اونچی ہیل پہنی تھی۔ ریشمی بال ہوا سے شانوں پہ اڑ رہےتھے اور گہرے کاجل کے ساتھ رس بھری کی طرح سرخ لپ اسٹک۔ اسے سرخ لپ اسٹک ہمیشہ سے پرکشش لگتی تھی اور آج اسے معلوم تھا کہ وہ بہت حسین لگ رہی ہے۔
بس اسٹاپ آ چکا تھا، جب بادل زور سے گرجے۔ یہ بس اسٹاپ یونیورسٹی کے اندر ہی تھا۔ سبانجی کی ہیروئن گورسل تھی۔ گورسل بس سروس۔ وہ سبانجی کے طلباء کے لیے ہی چلتی تھی اور انہیں استنبول شہر تک لے جاتی تھی۔ ہالے نے اسے گورسل کا شیڈول رٹوا دیا تھا۔
جس دن تمہاری گورسل چھٹی، تمہیں ہالے نور بہت یاد آئے گی۔ اس نے سختی سے تاکید کرتے ہوئے کہا تھا۔ گورسل اپنے مقررہ وقت سے ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کرتی تھی، اور اگر آپ چند سیکنڈ بھی تاخیر سے آئے تو گورسل گئی۔ اب دو گھنٹے بیٹھ کر اگلی گورسل کا انتظار کریں۔
جب وہ گورسل میں بیٹھی تو آسمان پہ سیاہ بادل اکٹھے ہو رہے تھے۔ جب گورسل نے باسفورس کا عظیم الشان پل پار کیا تو موٹی موٹی بوندیں پانی میں گر رہی تھیں اور جب وہ ٹاقسم اسکوائر پر اتری تو استنبول بھیگ رہا تھا۔
ٹاقسم اسکوائر استنبول کا ایک مرکزی چوک تھا۔ وہاں عین وسط میں اتاترک سمیت تاریخی شخصیات کے مجسمے
نسب تھے۔ ”مجسمہ آزادی“ کے ایک طرف ہرا بھرا پارک تھا، اور دوسری طرف میٹرو ٹرین کا زیر زمین اسٹیشن۔
وہ بس سے اتری تو بارش تڑاتڑ برس رہی تھی۔ موٹے موٹے قطرے اس پہ گر رہے تھے۔ وہ سینے پہ بازو لپیٹے تیز تیز سڑک پار کرنے لگی۔ گیلی سڑک پہ اونچی ہیل سے چلنا دشوار تھا۔ چند ہی لمحوں میں وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی۔
زیر زمین میٹرو اسٹیشن تک جاتی وہ چوڑی سیڑھیاں سامنے ہی تھیں۔ وہ تقریبا دوڑ کر سیڑھیوں کے دہانے تک پہنچی ہی تھی کہ چٹخ کی آوز آئی۔ وہ لڑکھڑائی اور گرتے گرتے بچی۔ اس کی دائیں سینڈل کی ہیل درمیان سے ٹوٹ گئی تھی۔ ٹوٹا ہوا دو انچ کا ٹکڑا بس اٹکا ہوا ساتھ لٹک رہا تھا۔
اس نے خفت سے ادھر ادھر دیکھا۔ لوگ مصروف انداز میں چھتریاں تانے گزر رہے تھے۔ شکر کہ کسی نے دیکھا نہیں تھا۔
بارش اسی طرح برس رہی تھی۔ اس کے بال موٹی گیلی لٹوں کی صورت چہرے کے اطرف میں چپک گئے تھے۔ اس نے کوفت سے ٹوٹے جوتے کے ساتھ زینہ اترنا چاہا، مگر یہ نا ممکن تھا۔ جھنجھلا کر وہ جھکی، دونوں جوتوں کے اسٹریپس کھولے، پاؤں ان میں سے نکالے اور جوتے اسٹریپس سے پکڑ کر سیدھی ہوئی۔
نیچے ٹرین کے پہنچنے کا شور مچ گیاتھا۔ وہ بھاگتے ہوئے ننگے پاؤں زینہ اترنے لگی۔
میٹرو کا ٹکٹ ڈیڑھ لیرا کا تھا، چاہے جس بھی اسٹیشن پر اترو۔ وہ ٹکٹ لے کر جلدی سے ٹرین میں داخل ہوئی تاکہ کسی کے محسوس سے قبل ہی معتبر بن کر جوتے پہن کر بیٹھ جائے۔
میٹرو میں نشستیں دونوں دیواروں کے ساتھ سیدھی قطار میں تھیں۔ کھڑے ہونے والوں کےلیے اوپر راڈ سے ہینڈل لٹک رہے تھے۔ وہ ایک ہینڈل کو پکڑے بھیڑ میں سے راستہ بنانے لگی۔ اس کی نظر کونےکی ایک خالی نشست پر تھی مگر آگے چلتے شخص نے گویا راستہ روک رکھا تھا۔ جب تک وہ کونے والی نشست پر بیٹھا نہیں، وہ آگے نہیں بڑھ سکی، پھر اس کے بیٹھتے ہی دھم سے اس کے برابر کی جگہ پر آ بیٹھی۔ وہ سیاہ سوٹ میں ملبوس شخص شناسا سالگا۔ لمحے بھر کو اس کا سانس رک سا گیا۔
وہ جہان سکندر احمد
بہت قیمتی اور نفیس سیاہ سوٹ میں ملبوس، جیل سے بال پیچھے کیے وہ چہرے پہ ڈھیروں سنجیدگی لئے اخبار کھول رہا تھا۔ بریف کیس اس نے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ وہ متحیر سی بیٹھی، سامنے دیکھے گئی۔ کن اکھیوں سے اسے وہ چہرے کے آگے اخبار پھیلائے نظر آ رہا تھا۔ سامنے والی قطار اور ان کی قطار کے درمیان جگہ اوپر لگے ہینڈل پکڑ کر کھڑے لوگوں سے بھرنے لگی تھی۔
وہ اس عجیب اتفاق پر اتنی ششدر بیٹھی تھی کہ ہاتھ سے لٹکتے جوتےبھول ہی گئے۔ یاد رہا تو بس یہی کہ وہ کتنا قریب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کتنا دور تھا۔ وہ اسے کیسے مخاطب کرے؟ اور اگر وہ اسے دیکھے بنا ٹرین سے اتر گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس کا دل ڈوبنے لگا۔
مگر وہ تو شاید اسے پہچانے بھی نہ۔ اس سرد مہر، کم گو شخص سے اسے یہی توقع تھی۔
چند پل سرکے تھےکہ جہان نے صفحہ پلٹنے کی غرض سے اخبار نیچے کیا اور انگوٹھے سےاگلے صفحے کا کنارہ موڑتے ہوئے ایک سرسری نگاہ پہلو میں بیٹھی لڑکی پہ ڈالی، پھر صفحہ پلٹ کر اخبار کی طرف متوجہ ہو گیا۔ لیکن اگلے ہی پل وہ جیسے رکا اور گردن موڑ کردوبارہ اسے دیکھا۔ اس کی بھیگی موٹی لٹیں رخساروں سے چپک گئی تھیں۔ پانی کے قطرے ٹھوڑی سے نیچے گردن پہ گر رہے تھے۔ وہ اس کے متوجہ ہونے پہ بھی سانس روکے سامنے دیکھے گئی۔
“اوہ۔۔۔حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ حیرت بھری آواز کہیں دور سے آئی تھی۔ حیا نے دھیرے سے پلکیں اس کی جانب اٹھائیں۔ کاجل کی لکیر مٹ کر نیچے بہہ گئی تھی، تب بھی ان اداس آنکھوں میں عجب سحر دکھتا تھا۔
“جہان سکندر!” وہ بدقت رسماًمسکرائی۔
“حیا! کیسی ہو؟ اکیلی ہو؟” کہنے کے ساتھ جہان نے ارد گرد نگاہ دوڑائی۔ وہاں کوئی مسافر حیا کا ہم سفر نہیں لگ رہا تھا۔
“جی اکیلی ہوں۔”
“میں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیسی ہو؟” مسکراتے ہوئے اپنائیت سے کہتے ہوئے وہ اخبار تہہ کرنے لگا۔ وہ جو اس کے لئے ہتھوڑی اور میخیں نہیں رکھ سکتاتھا، اب اخبار رکھ رہا تھا؟ یا خدا! یہ وہی جہان سکندر تھا؟
“ممی تمہیں یاد کر رہی تھیں۔ تم پھر کب آؤ گی گھر؟” اخبار ایک طرف رکھ کراب وہ پوری طرح حیا کی جانب متوجہ تھا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔
“بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید کچھ دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کچھ کہنے کی سعی میں اسے محسوس ہوا، جہان کی نظریں اس کے ہاتھ پہ پھسلی تھیں، اور پیشتر اس کے کہ وہ چھپا پاتی، وہ دیکھ چکا تھا۔
“جوتے کو کیا ہوا ہے؟ اتنی سردی میں ننگے پاؤں بیٹھی ہو۔ لاؤ دکھاؤ جوتا”۔ وہ خفا ہوا تھا یا فکر مند، اسے سوچنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ جہان جوتا لینے کے لئے جھکا تو اس نے بے بسی سے ٹوٹی ہیل والی سینڈل سامنے کی۔
“یہ تو الگ ہونے والا ہے”۔ اس کے ہاتھ سے جوتا لے کر اب وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ حیا نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
“جہان! رہنے دو۔”
“ٹھہرو شاید یہ جڑ جا ئے”۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جھک کر دوسرے ہاتھ سے بریف کیس میں سے کچھ نکالنے لگا۔
“جہان! لوگ دیکھ رہے ہیں!“
“یہ پکڑو زرا”۔ وہ سیدھا ہوا اور جوتا حیا کو تھمایا، پھر ہاتھ میں پکڑا ٹیپ کھولا۔ کافی لمبا سا اسٹریپ کھول کر دانت سے کاٹا۔ حیا نے جوتا سامنے کیا۔ اس نے احتیاط سے ہیل کے نچلے لٹکتے حصے کو اوپر کے ساتھ جوڑا اور اس کے گرد چکروں میں ٹیپ لگاتا گیا۔
“اب پہنو”۔ مرہم شدہ سینڈل کو اس نے جھک کر حیا کے قدموں میں رکھا۔ حیا نے اس میں پاؤں ڈالا اور اسٹریپ بند کرنے جھکی ہی تھی کہ زور پڑنے سے چٹخ ہوا اور ہیل کا ٹوٹا حصہ سرے سے ہی الگ ہو گیا۔
“اوہ!” وہ متاسف ہوا۔
“کوئی بات نہیں”۔ حیا کو شرمندگی نے آن گھیراتھا۔یہ وہ سرد مہر اور تلخ جہان نہیں، بلکہ کوئی اپنا اپنا سا شخص تھا۔
وہ جواب دینے کی بجائے جھک گیا تھا۔ حیا نے گردن ترچھی کر کے دیکھا۔ وہ اپنے بوٹ کا تسمہ کھول رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ حیا اسے روک پاتی، جہان اپنے بوٹ اتار چکا تھا۔
“پہن لو۔ باہر ٹھنڈ ہے، سردی لگ جائے گی”۔ اب وہ جرابیں اتارکر اپنے بریف کیس میں رکھ رہا تھا۔ اس کا انداز عام سا تھا، جیسے وہ روز ہی میٹرو میں کسی نہ کسی کو اپنے جوتے دے دیتا ہو۔
“نہیں، رہنے دو۔ میں ابھی مارکیٹ سے نیا لے لوں گی”۔
“پہن لو حیا!”
“مگر تم کیا کرو گے؟ تم تو آفس جا رہے ہو نا؟”
جہان نے زرا سا مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ “آفس کے کام سے سسلی جا رہا ہوں”۔
“پھر میں تمہیں جوتے کیسے واپس کروں گی؟ پتا نہیں کب تمہارے گھر آؤں اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم ابھی اکیلی کہیں نہیں جا رہیں۔ اگلا اسٹیشن سسلی ہے۔ ادھر ہم ساتھ مال سے جوتا خریدیں گے، پھر میں اپنے بوٹ واپس لے لوں گا”۔
“مگر تمہارے آفس کا کام۔۔۔۔۔۔۔”
“میں ننگے پاؤں جا کر کیا کروں گا؟” وہ دھیرے سے مسکرایا۔ وہ پہلی بار حیا کے لئے مسکرایا تھا۔ وہ یک ٹک کاجل کی مٹتی سیاہی والی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔ اس کے چہرے سے چپکی موٹی گیلی لٹیں اب سوکھنے لگی تھیں اور ٹھوڑی سے گرتے پانی کے قطرے اب خشک ہو چکے تھے۔
“جوتے پہن لو۔ لوگ اب بھی دیکھ رہے ہیں”۔
وہ چونکی پھر خفیف سا سر جھٹکا اور دوہری ہو کر بوٹ پہننے لگی۔ وہ جب بھی سمجھتی کہ جہان لا تعلقی سے بیٹھا، اس کی بات نہیں سن رہا، وہ اس کو وہی فقرہ لوٹا دیا کرتا تھا۔ وہ سیدھی ہوئی تو جہان اخبار کھول چکا تھا۔ عجیب دھوپ چھاؤں جیسا شخص تھا۔
سسلی کے سٹاپ پہ میٹرو سے اترتے وقت حیا نے دیکھا، جہان بہت آرام سے اس کے آگے ننگے پاؤں چل رہا تھا۔ اس کے انداز میں کوئی خفت، کوئی جھجک نہ تھی۔
وہ دونوں خاموشی سے سیڑھیاں چڑھنےلگے۔ چند زینے بعد ہی سیڑھیوں کے اختتام پہ سڑک اور کھلا آسمان دکھائی دینے لگا۔ وہ جہان کے دائیں طرف تھی۔ آخری سیڑھی چڑھتے ہوئےاس نے دیکھا زمین پہ ایک کیل نکلی پڑی تھی۔ اس سے پیشتر کہ وہ مطلع کر پاتی، جہان کا پاؤں اس کیل کے نوکدار حصے پہ آیا۔ جب اس نے دوبارہ پاؤں اٹھایا تواس کی ایڑھی سے خون کی ننھی سی بوند نکل گئی تھی۔ اس نے بے اختیار جہان کے چہرے کو دیکھا۔ وہ سکون سے سیدھ میں دیکھتا تیز تیز چل رہا تھا۔
“جہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا پاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں زخم آیا ہے۔” وہ اس کے ساتھ چلنے کی کوشش میں تیزی سے چلنے لگی تھی۔
“خیر ہے”۔ وہ رکا نہیں۔
“مگر تمہارا خون نکلا ہے”۔ وہ واقعتا ًپریشان تھی۔
“بچوں والی بات کرتی ہو تم بھی۔ اتنے زرا سے خون سے میں زخمی تو نہیں ہو گیا۔ بہت ٹف زندگی گزاری ہے میں نے۔۔۔۔۔۔ وہ دیکھو، جواہر مال۔”
اس سے کچھ کہنا بے کار تھا۔ وہ چپ ہو کر اس کے ساتھ مال کے قریب آ رکی۔
وہ ایک بلند و بالا خوبصورت، نیلے سرمئی شیشوں سے ڈھکی عمارت تھی۔ اس کے اوپر بڑا سا ستارہ اور اطرف میں چھوٹے ستارے بنے تھے۔ بڑے ستارے کے اوپر ”Cavahir mall“ لکھا تھا اور جہان ترکوں کی طرح “سی”کو “جے”پڑھ رہا تھا۔
“یہ جواہر مال ہے۔ یورپ کا سب سے بڑا اور دنیا کا چھٹا بڑا شاپنگ مال”۔ وہ فخر سے بولا تھا۔
جواہر اندر سے بھی اتنا ہی عالیشان تھا۔سفید ٹائلوں سے چمکتے فرش، اوپر تک نظر آتی پانچوں منزلوں کے برآمدے، اور ہر مال کی طرح وہ درمیان سے کھوکھلا تھا۔ عین وسط میں ایک اونچے کھجور کے درخت ٹاورز کی طرح لگے تھے، اور یہ روشنیوں و قمقموں سے مزین ٹاورز پانچویں منزل کی چھت تک جاتے تھے۔
وہ مسحور سی گردن اٹھائے اوپر پانچویں منزل کی بالکونیاں دیکھ رہی تھی، جہاں انسانوں کا ایک بےفکر، ہنستا مسکراتا ہجوم ہر سو بکھراتھا۔ رنگ، خوشبو، امارت، چمک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ یورپ تھا۔
جوتے خرید کر وہ دونوں اوپر چلے آئے۔ حیا نے جوتوں کا بل بنواتے ہی جلدی سے ادائیگی کر دی تھی تاکہ جہان کو موقع نہ مل سکے۔ وہ اس پہ خاصا خفا ہوا، مگر حیا پرسکون تھی۔ وہ ہالے نور سمیت کسی بھی ترک سے کچھ بھی لینے میں عار نہیں سمجھتی تھی مگر جہان سکندر کا احسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی نہیں!
چوتھی منزل کی دکانوں کے آگے بنی بالکونی میں وہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ لوگوں کے رش میں رستہ بناتی حیا کو جہان کی رفتار سے ملنے کے لیے تقریبا بھاگنا پڑ رہا تھا، پھر بھی وہ پیچھے رہ جاتی، اور وہ آگے نکل جاتا۔ وہ اس کا ساتھ دینے کی کوشش میں اب تھکنے لگی تھی۔
شاید یہی ان کی زندگی کی کہانی تھی۔
جہان نے ایک شیشے کا دروازہ کھولا اور ایک طرف ہٹ کر راستہ دیا۔
تھینک ہو۔ وہ سرخ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی، وہ بھی اس کے پیچھے آیا۔
وہ ریسٹورنٹ تھا۔ نرم گرم ماحول، ہیٹر اور باہر کے سرما کی ملی جلی خنکی، مدھم روشنیاں، پیچھے بجتا دھیما میوزک۔
آرڈر کرو۔ وہ ایک کونے والی میز کے گرد آمنے سامنے بیٹھ گئے تو جہان نےکہا۔ اپنا کوٹ اتار کر اس نے کرسی کی پشت پر رکھ دیا تھا اور اب وہ کف کھول کر آستین موڑ رہا تھا۔
مگر یہ دعوت کس خوشی میں ہے؟ حیا دونوں کہنیاں میز پر ٹکائے دائیں ہتھیلی ٹھوڑی تلے ٹکائےدلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ چہرے کے دونوں اطراف میں گرتے بال اب خاصے سوکھ گئے تھے۔
تمہارے اس خوبصورت کوٹ کی خوشی میں اور یہ دعوت میری طرف سے ہے، اب آرڈر کرو۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: