Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Last Episode 73

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – آخری قسط نمبر 73

–**–**–

اپنے گلاب کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے وہ الماری کا پٹ بند کرنے لگی، پھر یکایک ٹھہر گئی۔ جس خانے سے لیپ ٹاپ بیگ نکالا تھا، اس کے پیچھے لکڑی کی دیوار کا رنگ باقی الماری کے سے ذرا ہلکا لگ رہا تھا۔ اس نے اچنبھے سے اسے دیکھتے بیگ نیچے رکھا، اور ہاتھ بڑھا کر پیچھے لکڑی کو چھوا۔ کارڈ بورڈ تھا وہ۔ اف۔ اس نے دبے دبے غصے سے کارڈ بورڈ کے ٹکڑے کو دائیں بائیں کرنے کی کوشش کی اور ذرا سی محنت سے وہ ایک طرف سلائیڈ کر گیا۔
پیچھے ایک لاکر تھا۔ چند لمحے وہ خفگی سے اس بند تجوری کو دیکتی رہی جس میں پتا نہیں کیا تھا اور پھر کارڈ بورڈ کی سلائیڈ واپس جگہ پہ کر کے الماری بند کر دی۔
اس گھر میں پچھلے چار سالوں میں کوئی چار سو خفیہ خانے تو وہ ڈھونڈ ہی چکی تھی، پتہ نہیں اب کتنے تلاشنا باقی تھے۔ جہان سے پوچھنا بے کار تھا۔ وہ بہت حیران ہو کر آگے سے کہتا، ”اچھا؟ ویری اسٹرینج۔ پتہ نہیں مالک مکان نے اتنے لاکرز کیوں رکھے ہیں۔ کبھی بات کروں گا ان سے۔“
ہاں جیسے وہ تو اپنے شوہر کو جانتی ہی نہیں تھی نا۔
خدیجہ اسی محویت کے ساتھ بلاکس اوپر رکھ کر نیچے جوڑ رہی تھی۔ وہچاہتی۔
اپ کھولے بیڈ پہ آ بیٹھی اور ای میلز چیک کرنے لگی۔ ساتھ ساتھ خدیجہ پہ گاہے بگاہے نظر بھی ڈال لیتی تھی۔
ابھی یہی فراک، پنک شرٹ کے ساتھ پہنا کر پچھلے ہی ہفتے وہ اماں کی طرف گئی تو اماں حسب عادت خفا ہونے لگی تھی۔ اتنی سی بچی پہ تو پردہ نہیں لگتا نا۔ تم سلیو لیس پہنا دو گی تو کیا ہو جائے گا حیا؟
آف کورس اماں! اس پہ پردہ لاگو نہیں ہوتا، مگر میں اسے کوئی زبردستی کا اسکارف تو نہیں اوڑھا رہی نا، صرف آستین پورے پہناتی ہوں۔ اماں میں نہیں چاہتی کہ اس کی حیا مر جائے۔ اور یہ ان چیزوں کی عادی ہو جائے جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس سے آگے اماں نہیں سنا کر تی تھیں۔ وہ آج بھی حیا کے پردے کی سب سے بڑی مخالف تھیں۔ لیکن وہ کہاں پرواہ کرتی تھی۔ ہاں کسی کا دل چیر کر تو ہم نے نہیں دیکھا ہوتا مگر وقت اور تجربہ یہ اندازہ کرنا سکھا دیتا ہے کہ کون دل سے کچھ کہہ رہا ہے اور کون زبان سے۔
لیپ ٹاپ کی چمکتی اسکرین اس کے چہرے کو بھی چمکا رہی تھی۔ وہ بہت توجہ سے اپنی ای میلز دیکھ رہی تھی۔ لمبے بال آدھے کیچر میں بندھے آدھے پیچھے کھلے کمر پہ پڑے تھے، چہرہ ویسا ہی تھا ملائی جیسا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ ان چار سالوں میں پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوبصورت کے بجائے تین چار اور لفظ ہیں میری لغت میں مگر میں کہوں گا تو تمہیں برا لگے گا۔ ڈائننگ ٹیبل پر ہی ایک رات اس کے پوچھنے پر کھانا کھاتے ہوئے جہان نے بےنیازی سے کہا تھا۔ وہ سلگ کر رہ گئی۔
اگر تمہاری لغت کتابی شکل میں دستیاب ہوتی تو میں اسے واقعی تمہیں دے مارتی جہان۔ وہ بہت خفگی سے بولی تھی، مگر اس بات پہ اس کے ساتھ کرسی پر بیٹھی خدیجہ نے ابرو تان کر ناراضی سے بولی۔
نو حیا! وہ اس کے آئیڈیل باپ کو کچھ دے مارنے کی بات کر رہی تھی وہ کیسے برداشت کرتی اور بس اس کی یہ عادت خودبخود دم توڑ گئی تھی۔
ایک کلک کے بعد اگلا صفحہ کھلا تو وہ ٹھہر سی گئی۔ آنکھوں میں پہلے حیرت ابھری اور پھر اچنبھا۔
وہ مصر کی ایک یونیورسٹی کا پراسپیکٹس تھا جو اس کی درخواست پر اسے بھیجا گیا تھا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ درخواست تو اس نے دی ہی نہیں تھی۔ کیا جہان نے اس کی طرف سے اپلائی کیا تھا؟
وہ الجھن بھری نگاہوں سے اس پراسپیکٹس کو پڑھنے لگی۔ وہ اکثر کہتی تھی کہ اب وہ ایل ایل ایم کرے گی، جہان ایسی باتوں پہ دھیان نہیں دیتا تھا کہ اپنی مرضی ہے، جو کرو۔ تو کیا اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پتا نہیں۔
میلز چیک کر کے اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی۔ جہان کے آنے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ رسٹ واچ کے ساتھ اس کی کلائی میں وہ بریسلٹ نبھی بندھا تھا، اور اس میں پرویا سیاہ موتی جو آج بھی چمکدار تھا۔
سچا موتی۔
بس کرو خدیجہ! اب کچھ کھا لو۔ وہ لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھی اور بیٹی کے سامنے سے بلاکس سمیٹنے لگی۔ خدیجہ کھانے کے معاملے میں ذرا چور تھی، بعض دفعہ زبردستی کرنی پڑتی تھی۔ ایسے ہی ایک دفعہ خدیجہ بہت بیمار تھی، اور حیا اسے کچھ کھلانا چاہتی تھی، مگر خدیجہ نے ہاتھ مار کر پیالہ گرا دیا تو اس نے بہت غصے سے کہا تھا۔
اللہ اللہ، بات کیوں نہیں مانتی ہو؟ میں کدھر جاؤں؟
اور خدیجہ نے سرخ چہرے اور ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ غصے سے کہا تھا۔ جہنم میں جاؤ!
اور وہ بالکل شل رہ گئی۔ بس وہ آخری دن تھا، پھر اس نے اپنا تکیہ کلام ترک کر دیا تھا۔ بس اب اور نہیں۔ بری عادتیں ہمیں خود ہی بدلنی پڑتی ہیں۔
خدیجہ کو کچن کاؤنٹر پر بٹھا کر اس نے فریج کا دروازہ کھولا تا کہ اندر سے کھیر نکالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازے کے اندرونی طرف انڈوں کے خانے میں ایک پوسٹ اٹ نوٹ چپکا ہوا تھا۔ اس نے نوٹ اتارا اور سیدھا ہوتے ہوئے پڑھا۔
لنچ ٹائم پر کبوتروں کو یاد کرنے میں کوئی حرج تو نہیں؟
لنچ ٹائم؟ اس نے بے ساختہ گھڑی دیکھی۔ لنچ ٹائم تو ہونے والا تھا۔ اللہ اللہ یہ آدمی بھی نا۔
چلو خدیجہ بابا کے پاس جانا ہے۔ اس نے جلدی سے بچی کو کاؤنٹر ٹاپ سے اتارا۔ بابا سن کر اس کے چہرے پہ سارے جہان کی خوشی امڈ آئی۔ وہ فورا اندر کی طرف دوڑی۔ جب تک حیا دروازے کھڑکیاں بند کر کے آئی وہ حیا کا بڑا سا پرس کندھے پہ لٹکائے اس کا عبایا گھسیٹتی (فرش پہ جھاڑو دیتی) لا رہی تھی۔
تھینکس۔ اپنے جوتے پہنو اب۔ اس نے جلدی سے عبایا اور پرس اس سے لے لیا۔
ماہ سن کے کبوتروں کا ذکر پہلی دفعہ جہان نے ایک اطالوی ریسٹورنٹ میں کیا تھا۔ اس کے بعد سے اس ریسٹورنٹ کو وہ کبوتروں کے کوڈ نیم سے یاد کرتے تھے۔ لیکن کیا تھا اگر وہ صبح ناشتے پہ کہہ جاتا کہ لنچ باہر کریں گے مگر نہیں وہ انسانوں کی زبان میں بات ہی کب کرتا تھا؟ صبح سے اتنی دفعہ فریج کھولا’ پتا نہیں کیوں نظر نہیں پڑی- اف!
آدھے گھنٹے بعد وہ اپنے حریر کے سیاہ عبایا میں ملبوس، خدیجہ کی انگلی تھامے’ ریسٹورنٹ کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔ اوپر آ کر دیکھا کونے والی میز خالی تھی۔ وہ وہیں کہیں ہو گا، مگر جب تک وہ بیٹھ نہیں جائے گی وہ نہیں آئے گا۔ ویسے وہ اس طرح باہر کم ہی بلاتا تھا یقیننا اب کوئی ایسی بات تھی جو وہ گھر میں نہیں کرنا چاہتا تھا۔
خدیجہ کو مخصوص کرسی پہ بٹھا کر’ وہ جیسے ہی بیٹھی’ اسے وہ سامنے سے آتا دکھائی دیا- گرے کوٹ بازو پہ ڈالے، کف موڑے، ٹائی ڈھیلی، سنجیدہ چہرہ اور ہمیشہ کی طرح ہینڈسم- اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہی وہ بولا تھا۔
مرحبا۔ کیا حال ہے؟ پھر موبائل، والٹ میز پہ رکھتے ہوئے اس نے جھک کر خدیجہ کے دونوں گال باری باری چومے۔ اپنی بہت سی ترک عادات کو وہ ترک نہیں کر سکے تھے۔
بابا یو نو واٹ؟ خدیجہ چہک کر اسے جلدی جلدی کچھ بتانے لگی اور وہ توجہ سے مسکراتے ہوئے سن رہا تھا۔ آدھی تو یقیننا “حیا” کی شکایات تھیں۔ نہیں! وہ مما کہنے کا تکلف نہیں کیا کرتی تھی۔ وہ وہی کہتی تھی جو اس کا باپ کہتا تھا۔
جب آرڈر سرو ہو چکا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے؟
تمہید کو کٹ کرو جہان اور اب بتا بھی چکو کہ کیا بات ہے؟
نہیں’ اتنا کچھ خاص نہیں ہے’ بس ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چھری کانٹے کی مدد سے اسٹیک کا ٹکڑا توڑتے ہوئے لاپرواہی سے بولا تھا۔
(بہت خاص بات ہے جو گھر پہ نہیں ہو سکتی تھی۔) یہ فقرہ اس نے کہا نہیں تھا مگر حیا توجہ سے سر ہلاتی
اس کو سنتے ہوئے خود ہی ذہن میں اس کے الفاظ ڈی کوڈ کر رہی تھی۔
اصل میں’ میں کچھ آگے کا سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مجھے آگے کا اسائنمنٹ مل گیا ہے اور اوپر سے حکم آیا ہے)
کہ کچھ دن کے لیے تھوڑا سا گھومنے پھرنے باہر چلا جاوں۔
(یعنی کہ ایک دو سال تو کہیں نہیں گئے۔)
‘ہوں!’ حیا نے سمجھ کر سر ہلا کر اسے مزید بولنے دیا۔
زیادہ دور نہیں، قریب ہی-میل چیک کی تم نے آج؟ حیا نے بس ہاں میں گردن ہلائی۔ بولی کچھ نہیں۔
(قریب یعنی کہ مصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی سے میل آئی ہے نا تمہیں؟)
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاراکیا خیال ہے؟ وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
(تم رہ لو گی اتنا عرصہ؟)
حیا نے شانے زرا سے اچکائے۔ جیسے تمہاری مرضی۔ دل البتہ بہت اداس ہو گیا تھا۔ تو بلآخر وہ وقت آن پہنچا تھا جب اسے ایک فوجی کی بیوی کا کردار ادا کرنا ہو گا-گھر پہ رہ کر برسوں انتظار کرنے والی بیوی کا- خدیجہ بڑی ہو جائے گی اور پھر پتا نہیں وہ کب اپنے باپ کو دیکھ پائے گی- زندگی بھی بہت غیر یقینی چیز تھی۔
خدیجہ تو میرے بغیر رہ لے گی ممی کیساتھ اس کی بہت بنتی ہے۔ وہ بھی حیا کی طرح شاید اس کی سوچ کو ڈی کوڈ کر کے بولا تھا-مگر تمہارے لیے مشکل ہو گا’ جانتا ہوں تم مجھے مس کرو گی۔ وہ ذرا سا مسکرایا۔
(میں تمہیں مس کروں گا مگر قیامت تک اس بات کا اقرار نہیں کروں گا۔)
اچھا، تو پھر؟
پھر یہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پلیٹ پرے کرتے ہوئے حیا کو دیکھا۔
میں ایک ایسا کور بنانا چاہ رہا ہوں جس میں مجھے شاید کسی یونیورسٹی میں کچھ عرصے کے لیے پڑھانا پڑھے۔ تمہیں بھی آگے پڑھنے کا شوق ہے’ تو کیوں نہ ہم یوں کریں کہ خدیجہ کو ممی کے پاس چھوڑ دیں اور تم میری اسٹوڈنٹ بن کر میری کلاس میں ان رول ہو جاؤ۔
یہاں پہ آ کر اس نے مسکراہٹ دبائی۔ ہاں لیکن میں اس بات کی یقین دہانی کروں گا کہ تم میری سب سے زیادہ ڈانٹ کھانے والی اسٹوڈنٹ ہو گی۔
اچھا! اور تمہیں لگتا ہے کہ میں مان جاؤں گی؟ وہ زرا توقف کے بعد بولی تھی۔ ترکی کے ان پانچ ماہ کی طرح ایک دفعہ پھر تم ڈرائیونگ سیٹ پہ ہو اور ہر چیز کنٹرول کرو گے؟
ہاں تو؟
تو میرا خیال ہے کہ یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے’ مگر تھوڑی سی تبدیلی کی گنجائش ہے۔ اس سارے میں وہ پہلی دفعہ مسکرائی تھی۔ ہتھیلی تھوڑی تلے رکھے، وہ بہت مطمئن سی اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ہم اپنی جگہیں swap کر لیتے ہیں۔
مطلب؟ وہ الجھا۔
مطلب کہ میں ٹیچر ہوں گی اور تم میرے اسٹوڈنٹ ہو گے۔ اور ہاں میں اس بات کی یقین دہانی کروں گی کہ تم میرے سب سے زیادہ ڈانٹ کھانے والے اسٹوڈنٹ ہو گے۔
اور تمہیں لگتا ہے کہ میں مان جاؤں گا؟
ہاں’ کیونکہ اس دفعہ میں ڈرائیونگ سیٹ پہ ہونا چاہتی ہوں۔ اور تمہارے پاس فیصلہ کرنے کے دس سیکنڈ ہیں۔ اس نے ساتھ ہی گھڑی دیکھی۔
حیا! وہ جھنجھلایا تھا۔ خدیجہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر حیا کو اور پھر سے جہان کی پلیٹ سے اسٹیک کے ٹکڑے اٹھانے لگی (وہ ہمیشہ اس کی پلیٹ سے کھاتی تھی۔)
ڈیل؟ حیا نے آبرو اٹھا کر پوچھا۔ اور دوبارہ گھڑی دیکھی۔ وہ ناخوش سا لگ رہا تھا چند لمحے کیلئے کچھ سوچا اور پھر شائید اسے آپنا فائدہ نظر آیا تھا تبھی بولا۔
اوکے ڈیل! مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے نیپکن سے ہونٹ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ مگر یاد رکھنا کہ تم ہمیشہ مجھ سے دو قدم پیچھے رہو گی۔
حیا جانتی تھی کہ وہ صحیح کہہ رہا ہے مگر وہ بولی۔
دیکھتے ہیں- مگر تم یہ یاد رکھنا کہ کچھ دن بعد تم مجھے میڈم کہو گے۔
جواب میں وہ دھیمی آواز میں خفگی سے کچھ بڑبڑا کر والٹ کھولنے لگا۔ حیا نے آسودہ مسکراہٹ کیساتھ اسے دیکھا- خدیجہ ابھی تک اس کی پلیٹ سے کھا رہی تھی۔
مصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قاہرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی۔
کون جانے کہ اس نئے سفر پہ اسے اس کی بچھڑی ہوئی دوستیں واپس مل جائیں؟کون جانے کہ عائشے اور بہارے بھی مصر میں رہتی ہوں؟
کون جانے کہ عائشے اب بھی ویسی ہی سادہ اور مذہبی سی ہو جبکہ بہارے ایک خوبصورت ٹین ایج لڑکی بن گئی ہو؟
جہان خکو جاب کی وجہ سے ان سے رابطہ کرنے کی اجازت نہ تھی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا نے اپنے سامنے موجود دونوں نفوس کو دیکھتے ہو زیر لب مسکراتے ہوئے سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر کون جانے کہ حیا نے ان سے رابطہ کبھی ترک ہی نہ کیا ہو؟
کیونکہ چیزیں جتنی ناممکن ہوتی ہیں،
وہ اتنی ہی ممکن بھی تو ہوتی ہیں نا!
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون جانے!
حرف آخر
کچھ باتیں ایسی ہیں جو میں آپ سے اس کہانی کے اختتام پہ کرنا چاہتی ہوں۔
”جنت کے پتے“ ایک فرضی کہانی ہے اور اسے فرضی سمجھ کر ہی پڑھا جائے۔ البتہ اس میں دکھائی گئی تمام جگہیں اور مقامات کے نام حقیقی ہیں، سوائے (Buyuk) بیوک ادالار کے ہوٹل گرینڈ کے۔ یہ میرا دیا گیا نام تھا اور میں نہیں جانتی کہ اس نام کا ہوٹل ادالار میں ہے بھی یا نہیں۔
جنت کے پتے چونکہ درختوں کے پتوں کی طرف اشارہ نہیں کرتے اس لیے میں ٹائیٹل میں پتے نہیں دکھانا چاہتی۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: