Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Jargaa Novel by Riaz Aqib kohlar

Jarga Novel By Rayaz Aqib Kholer
Written by Riaz Aqib Kohlar

جرگہ از ریاض عاقب کوہلر (مکمل ناول)

جرگہ از ریاض عاقب کوہلر (مکمل ناول)

–**–**–

”باباسائیں!….میری بیوی وڈیرے کی قدم بو سی کے لیے نہیں جا ئے گی ،اگر اس بات پر وہ خفا ہو تا ہے تو ہو تا رہے ۔مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیںہے ۔“اس نے اپنے گو ٹھ کی دیر ینہ رسم کی مخالفت کی۔
”پتر!…. پتا ہے کہ وڈیرسائیںاس بات کا کتنا برا منا تا ہے ۔“ وا لد نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔”اور تم کوئی پہلے فرد نہیں ہو جو اپنی دلہن کے ساتھ وہاں جا ر ہے ہو، سارے گو ٹھ کے نئی شا دی شدہ جوڑے وڈیرے سائیں کی قدم بو سی کے لیے جاتے ہیں ۔“
”بابا سائیں !….کہہ جو دیا زلیخا کو میں کبھی بھی اس پر ہوس متکبر بڈھے کے پاس لے کر نہیں جا ﺅں گا۔وہ میری عزت ہے اور میں یہ کبھی بھی یہ گوار ا نہیں کر سکتاکہ کوئی غیر مرد اسے دیکھے ۔جبکہ وہ پیر فر تو ت اپنی بیٹی کی عمر کی لڑ کیو ںکو تنہا اپنے حجرے میں بلا تا ہے ۔یہ کس قا نو ن اور کس شر یعت میںہے کہ نئی نو یلی دلہن کو گا ﺅں کے وڈ یرے کی قدم بو سی کے لیے بھیجا جا ئے اور وہ بھی اکیلے کمرے میں۔“
”پتر تم نے وہ کہا وت نہیں سنی کہ در یا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہیں رکھا جا تا ۔“بو ڑھا الٰہی بخش اپنے باغی بیٹے کی ناں کو ہا ں میں بد لنے کے لیے اپنی سی کو شش کر رہا تھا، مگر فر سو دہ رسموں سے بغاوت کر نے وا لااس کا پڑ ھا لکھا بیٹاکسی صو رت اس کی با ت ما ننے کے لیے تیا ر نہیں تھا۔
”بابا سائیں !….بس چند دنو ں کی بات ہے میں نے اپنے دوست ثنا اللہ کو بتا دیا ہے۔ جونھی شہر میں کو ئی منا سب ٹھکا نہ ملا ہم وہاں منتقل ہوجا ئیں گے ۔“
”بہ ہر حال میرا کام تھا تمھیں سمجھا نا۔“اس کا باپ گویاہار ما نتے ہوئے بو لا۔”آ گے تمہا ری مر ضی ہے ۔“
”آپ فکر نہ کریں بابا سا ئیں!…. کچھ نہیں ہو تا ،اتنی بھی اند ھیر نگری نہیں ہے ۔“ عبدالقادر باپ کو تسلی دیتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔اس کی حسین و جمیل بیوی زلیخا چارپائی پر بیٹھی اپنے شو ہر اور سسر کی گفتگو کو بڑے غور سے سن رہی تھی ۔وہ خود شہر کی با سی اور دیہات کے رسم و روا ج سے بالکل نا وا قف تھی ۔اپنے سسر جو رشتے میں اس کا پھو پھا لگتا تھا کی باتیں اسے بہت بری لگ رہی تھی ۔اب اسے احسا س ہو رہا تھا کہ اس کا باپ کس وجہ سے اس رشتے سے نا خو ش تھا ۔یہ تو عبد القا در کی خو ش قسمتی تھی کہ وہ اس کی محبت میں اس رشتے کے لیے ڈٹ گئی اور اس کے باپ کو عبد القا در کا رشتاقبو ل کرنا پڑا ۔البتہ وہ عبد القا در سے یہ عہد لینا نہیں بھو لا تھا کہ وہ جلد ہی گو ٹھ چھو ڑکر شہر منتقل ہو جائیں گے ۔عبد القا در خود بھی گو ٹھ کی زندگی سے تنگ آ یا ہوا تھا۔اپنے ما مو ں کے نقش قدم پر چلتے ہو اس نے بھی گو ٹھ چھو ڑ نے کا فیصلہ کر لیاتھا ۔ پہلے تو اس نے یہی ارا دہ کیا ہوا تھا کہ شہر میں کوئی منا سب ٹھکا نہ ڈھو نڈنے کے بعد ہی شادی کرے گا ، مگر جب زلیخا کی ز با نی اسے پتا چلا کہ ،والد زلیخا کی شا دی کسی اور جگہ کر نے کے لیے پر تو ل رہا ہے توشہر آ با د ہو نے سے پہلے اس نے اپنا گھر آ با د کر ضرو ری سمجھا ۔
گوزلیخا اور اس کے لیے ماموں کے دو کمرے کے چھو ٹے سے مکا ن میں چند دنو ں کے لیے جگہ نکل آ تی، مگر اس طرح اسے اپنے بو ڑ ھے ماں باپ کو اکیلا چھو ڑنا پڑ تااور ایسا کرنا اسے مناسب نہیں لگا تھا ۔ یو ں بھی کچھ دنو ں کی بات تھی گو ٹھ والے گھر کا سودا کر کے اس نے بیعانہ بھی لے لیا تھا صرف شہر میں کوئی منا سب ٹھکا نہ ملنے کی دیر تھی۔اس کے بعد وہ وہا ں منتقل ہو جا تے ۔
عبدالقادر کے کمرے میں دا خل ہو تے ہی وہ کھڑی ہوگئی۔”میں نے وڈ یرے سے ملنے کے لیے نہیں جا نا۔“ شو ہر کے پہلو سے چمٹتے ہوئے وہ لا ڈ سے بو لی ۔
”تو میں تمھیں کب بھیج رہا ہو ں ۔“عبد القا در اسے سا تھ لیے چا ر پا ئی پر بیٹھ گیا۔
”پھو پھا جان جو ضد کر رہے ہیں ۔“اس نے پریشانی ظاہر کی ۔
”تو کیا ہوا ۔“وہ ٹھو س لہجے میں بو لا ۔”مرضی تو میری چلے گی نا اور میں تمھیں کبھی کسی غیر مرد کے سا منے بے پر دہ ہو نے کی اجازت نہیں دوں گا ۔چا ہے وہ وڈیرا ہو یا کو ئی دوسرا تیسرا ۔“
اس کی بات پر زلیخا نے مطمئن انداز میں سر ہلادیا۔یوں بھی وہ جانتی تھی کہ عبدالقادر اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔
٭٭٭
وڈیرا اللہ داد بڑے کرّو فر سے تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ دو خدمت گاراس کے پا ﺅں دبا نے میں مصروف تھے۔ سامنے چند آدمی فرش پر بچھی دری پر بڑے مودّ با نہ اندازمیں بیٹھے تھے ۔
”سنا بھئی رمجو !….کیا نئی تا زی ہے ۔“وڈیرے نے دری پر بیٹھے ہوئے افراد میں سے ایک کا نام لے کر مخاطب ہوا۔
”سائیں !….کوئی خاص تو نہیں ہے ۔“رمضان عرف رمجو نے مودّبانہ لہجے میں جواب دیا۔
”سنا ہے الٰہی بخش کے پتر نے شا دی کر لی ہے ؟“وڈیرے نے اپنی مونچھوں کو تاﺅ دیتے ہوئے پوچھا ۔
”ہا ں سا ئیں !….“رمضان نے اثبات میں سر ہلایا۔
”دولھا ،دلھن قدم بوسی کے لیے نہیں آ ئے ؟“ وڈیرے کے لہجے میں حیرا نی تھی ۔
”سا ئیں !….الٰہی بخش کا بیٹا، میرے بیٹے اسلم کا دوست ہے ۔اسلم کے یہی با ت پوچھنے پر اس نے بتا یا کے وہ اپنی بیوی کوکسی غیر مرد کے سا منے بے پر دہ نہیں ہونے دے گا ۔ چاہے وہ وڈیرا سائیں ہی کیو ں نا ہو۔“رمضان کے بجا ئے اس کے سا تھ بیٹھے دلدار علی نے جواب دیا ۔
”کیا ؟“وڈیرااچھل کرسیدھا ہوا ۔”کیا بک رہے ہو ۔“
”سس ….سا ئیں !….میرا بیٹا یہی بتا رہا تھا۔‘‘دلدار علی ہکلا گیا تھا ۔
”رمجو !….الٰہی بخش کو بلا ﺅ۔ “
”جج …. جی…. سا ئیں!“رمضان جلدی سے اٹھ کر باہر نکل گیا ۔
اس کے آ نے تک وڈیرا اضطرا ری انداز میں مو نچھوں کو تا ﺅ دیتا رہا ۔جلد ہی وہ الٰہی بخش کے ہمراہ لو ٹ آ یا ۔الٰہی بخش نے اندر دا خل ہو تے ہی وڈیرے کے پا ﺅ ں چھو ئے اور سر جھکا کر کھڑا ہو گیا ۔
”ہا ں بھئی بخشو !….سنا ہے بیٹے کی شادی کر دی ہے ۔“وڈیرے نے اسے گھو رتے ہوئے رعو نت سے پوچھا۔
”جج…. جی سر کار!۔“ الٰہی بخش نے تھوک نگلتے ہوئے اثبا ت میں سر ہلایا۔
”کب؟“ وڈیرے نے اگلا سوال کیا ۔
”دو تین دن ہو گئے ہیں سا ئیں! “ الٰہی بخش دھیمے لہجے میں بو لا۔
”دو تین دن ….؟“وڈیرے کے لہجے میں پرجلال حیرانی تھی ۔”مگر اس گا ﺅ ں میں تو پر کھو ں سے روا ج چلا آ رہا ہے کہ شا دی کی صبح دلھا، دولھن گو ٹھ کے وڈیرے کو سلام کر نے آتے ہیں ۔“
”جج ….جی سا ئیں !….“الٰہی بخش ہکلا تے ہوئے سر جھکا لیا ۔
”جب معلوم ہے تو پھراب تک عمل کیوں نہیں ہوا ۔“وڈیرے نے غض ناک ہوتے ہوئے کہا ۔
” س ….سس ….سائیں ،سرکا ر!…. بب ….بچہ ہے خیا ل نہیں رہا ہوگا۔“الٰہی بخش تھر تھر کانپنے لگ گیا تھا ۔
”تو گھر میں بڑا کوئی نہیں تھا اسے سمجھانے کے لیے ؟“
”سس ….سا ئیں بتا یا تھا ۔اصل میں بہو کی طبیعت تھو ڑی نا سا زتھی اس لیے….“
”بکوا س بند کروبخشو !“ وڈیرادھا ڑا۔ ”تمھارا کیا خیا ل ہے، مجھے کچھ پتا نہیں ہے کہ گو ٹھ میں کیا ہو رہا ہے اورتمھارا بیٹا لو گو ں سے کیا کہتا پھر رہا ہے ۔“
”مم….معا فی چا ہتا ہوں سر کار ۔بچہ ہے نہ سمجھ ہے ۔مم ….میں سمجھا دو ں گا ۔“الٰہی بخش کا رنگ خو ف سے زرد ہو گیا تھا ۔
”سمجھا نے کی ضرو رت پہلے تھی بخشو !….اب وقت گزر گیا ہے ۔میں اس کی منحوس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ۔اب اس کی دلہن اکیلے مجھے سلا م کر نے کے لیے آئے گی ۔“
”جی سر کار !….“الٰہی بخش نے جلدی سے اثبا ت میں سر ہلایا۔
وڈیراہا تھ سے اسے جانے کا اشارہ کر کے اپنی مو نچھو ں کو تا ﺅ دینے لگا ۔
٭٭٭
”بابا سا ئیں!….وڈیرا جو کر سکتا ہے کر لے ۔زلیخا اسے سلام کرنے نہیں جا ئے گی۔“ عبد القا در اپنے وا لد کی با ت سنتے ہی انکا ر میں سر ہلاد یا۔
الٰہی بخش نے ملتجی ہو کر کہا۔”پُتر!…. میرے بڑھاپے پر ر حم کھا ﺅ ۔یہ نہ ہو اس ضد سے تمھیںکو ئی ایسا نقصان پہنچ جائے جو میری بر دا شت سے باہر ہو ۔
”بابا سا ئیں!…. آپ سمجھنے کی کو شش کیوں نہیں کر رہے۔ “عبد القا در زچ ہوکر بولا۔ ”یہ بے غیرتی ہے ۔میری بیوی ،میری عزت ہے ۔میں اسے کس طرح وڈیرے کے پا س بھیج سکتا ہو ں ۔اور جہا ں تک تعلق ہے فائدے نقصان کا تو وہ اللہ تعا لیٰ جل شا نہ کے ہا تھ میں ہے وڈیرے کے ہاتھ میں نہیں ۔“
”اری!…. تو ہی اسے کچھ کہہ دے۔ شا ید تیری با ت اس کی عقل میں آ جا ئے ۔“الٰہی بخش اپنی بیوی کو مخاطب ہوا ۔
”میں کیا کہوں۔“اس کی بیوی دھیمے لہجے میں بولی ۔”میں تو بس اس کی خیر یت کی دعا ہی ما نگ سکتی ہو ں ۔“
”خا لی دعا ﺅ ں سے کا م نہیں چلتا ۔“الٰہی بخش چلایا۔”د وابھی کر نا پڑ تی ہے ۔“
”وقت آنے پر وہ بھی ہو جا ئے گی ۔“عبد القا دراطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا ۔
”سن لیا ۔“بیٹے کے کمرے سے نکلتے ہی اس نے سر پکڑ لیا تھا ۔”یہ خو د بھی مر ے گا اور اس بڑھا پے میں ہمیں بھی خوا ر کرا ئے گا ۔“
”اللہ خیر کرے گا عبدالقادر کے ابّا!….اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔“
الٰہی بخش نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔”تم بہو را نی کی منت سماجت کرو شا ید وہ ما ن جائے ۔بھتیجی ہے تمھاری اسے کہو کہ تھوڑی دیر کی تو با ت ہے ۔بس وڈیرے کے پا ﺅ ں کو ہا تھ لگا کر ہی تو وا پس آ جا ناہے۔ وہ اسے کھا تھوڑی جا ئے گا ۔“
”قا در کے ابا۔ مجھے یہ بات نہ بتا ﺅ کہ قدم بوسی میں کتنی دیر لگتی ہے ۔میں خود اس وڈیرے کے باپ کی قدم بو سی کے لیے جا چکی ہوں ۔میں کسی صو رت بہو کو اس کام کے لیے راضی نہیں کرو ں گی۔یو ں بھی ہماری بہو لا کھوں میں ایک ہے اور ایسی دلہنوں کو وڈیرا جلدی فارغ نہیں کیا کرتا ۔“
”بھا ڑ میں جا ﺅ “الٰہی بخش غصے سے بو لا ۔” تم ما ں بن کر بھی اپنے بیٹے کی بہتری کے با رے میں نہیں سو چ سکتی ہو۔حالانکہ تمھیں اچھی طر ح پتاہے کہ وڈیرا سا ئیں پر کھو ں کے رسم و روا ج کا کتنا خیا ل رکھتا ہے ۔“
عبد القا در کی ما ں اطمینا ن سے بو لی۔”کل پر سو ں تک شا ید ہم شہر چلے جا ئیں ،پھر نہ وڈیرا رہے گا نہ اس کے رسم و روا ج “
اور الٰہی بخش ہو نٹ بھینچ کر رہ گیا تھا۔
٭٭٭
”سائیں !….آپ نے یا د کیا ہے ۔“تھا نیدا ر وڈیرے کو سلا م کر تا ہوا بیٹھک میں داخل ہوا۔وہ گو ٹھ کے لو گو ں کے لیے بہت بڑ ی بلا تھا مگر وڈیرے کے سا منے آ کر وہ بھی بھیگی بلی بن جا تا تھا۔
”ہا ں تھا نیدارا !….ایک چھو ٹا سا کا م آن پڑا تھا۔“ وڈیرا حا ضرین محفل کو ہاتھ کے اشا رے سے جا نے کا کہتے ہو ئے بو لا ۔
اس کا اشا رہ دیکھتے ہی تما م لو گ وہا ں سے کھسک لیے صرف اس کی مٹھی چا پی کرنے والے اپنے کا م میں مصروف رہے ۔
” حکم کرو سا ئیں!….“تھا نیدا رنے خو شا مدا نہ لہجے میں پوچھا۔
”تھا نیدا ر!…. ہم ذرا پرا نی سو چ کے بندے ہیں، پر کھو ں کے رسم و روا ج ہمیں اپنی جا ن سے بھی بڑھ کر عز یز ہیں ۔اگر کو ئی ان رسوم کو تو ڑنے کی کو شش کر تا ہے تو ہم سے برداشت نہیں ہو پاتا اور ہم ایسے شخص کو سبق سکھا ئے بنا نہیں رہ سکتے ۔“
”بجا ار شا د فرما یاسائیں ! “وڈیرا سا نس لینے کے رکا تو اس وقفے کو غنیمت جانتے ہوئے تھا نیدا ر نے جلدی سے لقمہ دیا ۔
”الٰہی بخش دکان دا ر سے تو تم وا قف ہو گے؟“
”جی سر کا ر!“تھا نیدا ر نے اثبا ت میں سر ہلا یا ۔
”اس کے بر خو ر دا ر کی شا دی ہو ئی ہے اور دلھا دلھن گو ٹھ کے روا ج کے خلا ف میری ملا قا ت کو نہیں آئے ۔بخشو کے بیٹے کو اپنی دلہن سے کچھ زیا دہ ہی لگا ﺅ ہے ۔برخو دار کو ذرا حوا لا ت کی سیر کر وا دو اور ….“وڈیرا کمینگی سے مسکر ا یا ۔”چھو ڑ دینا مگر اس وقت جب سفا رش کے لیے دلہن را نی آئے۔ کیا سمجھے؟“
”سمجھ گیا سر کار!…. بالکل سمجھ گیا۔“تھا نیدار کی آنکھوں میں ہو س اور خباثت بھری چمک لہرا نے لگی تھی ۔
”ٹھیک ہے جا ﺅ ۔“ وڈیرے نے مو نچھو ں کو تا ﺅ دینے والا دل پسند مشغلہ شر و ع کرتے ہو ئے تھانیدار کو جانے کی اجازت دیتے ہوکہا۔”اور ہاں جا تے وقت منشی سے چا ئے پانی کا خر چا لیتے جا نا ۔“
تھا نیدا ر نے جھک کر اسے سلا م کیا اور الٹے قد مو ں بیٹھک سے نکل گیا ۔
٭٭٭
’با با سا ئیں !….یہ لو ۔“عبد القا در نے کا لے رنگ کا لفافہ وا لد کی طرف بڑھا تے ہوئے کہا۔”د کا ن اور گھر کی بقا یا رقم ادامرتضٰی نے دے دی ہے اورالحمداللہ ادا ثنا اللہ نے ہمارے لیے بھی گھر ڈ ھو نڈ لیا ہے کل ان شا ءاللہ نکل چلیں گے ۔“
”اللہ کرے پتر!…. خیر یت سے نکل چلیں ۔“الٰہی بخش نے د عا ئیہ لہجے کہا ۔
”آ مین ۔“کہہ کر عبد القا در یہ خو ش خبر ی زلیخا کو سنا نے کے لیے اپنے کمرے کی جانب بڑ ھ گیا ۔اسی وقت بیر و نی در وا زے پر دستک ہو ئی ۔الٰہی بخش نے آگے بڑھ کردر وازہ کھولا اور تھا نیدار مع دو سپا ہیوں کے دندنا تا ہو ا اندر گھس آ یا۔
”کک….کیا ہو گیاتھانیدار صاحب۔ “الٰہی بخش گھگیا یا ۔
”کد ھر ہے تمہا را پتر؟“تھا نیدا ر نے کڑ ک کر پوچھا۔
عبدالقادر کے کانوں میں بھی تھانیدار کی آواز پہنچ گئی تھی۔ وہ زلیخا کو کمرے ہی میں بیٹھنے کا اشارہ کر کے باہر نکلا ۔
”کیا بات ہے تھا نیدار صاحب۔“اس نے حیرانی بھرلہجے میں پوچھا ۔
” تو تم ہو عبدالقادر۔“ تھانیدار نے معنی خیز انداز میں سر ہلایا۔”ذرا اس کی تلاشی لو۔“ اس نے خرانٹ صورت سپاہیوں کواشارہ کیا ۔
تھا نیدا ر کی با ت پوری ہوتے ہی دو نو ں سپا ہی تیر کی طرح اس پر جھپٹے ۔ایک سپا ہی نے بید ر دی سے اس کے ہا تھ مروڑ کر پشت کی جا نب ہتھکڑ ی لگا دی جبکہ دو سرا اس کی تلا شی لینے لگا ۔
”تھا نیدا ر صا حب یہ….یہ کیا ہے؟“وہ ہکلا یا ۔
”ابھی پتاچل جا تا ہے پتر!“تھا نیدا ر طنزیہ لہجے میں جواب دیا ۔اسی وقت ایک سپاہی نے چھو ٹا سا پیکٹ تھا نیدا ر کی جا نب بڑھاتے ہوئے کہا ۔
”یہ ملا ہے سر !“
”ہونہہ!….اس کا مطلب ہے مخبر کی اطلاع درست تھی ۔یہ پاﺅڈر بیچتا ہے ۔“ تھانیدار نے اسے کڑی نظروںسے گھورا ۔”لے چلو اسے تھانے ۔“
”خخ….خدا کا خوف کرو تھانیدار صاحب !….اس پیکٹ کو تو میں نے پہلے کبھی دیکھا بھی نہیں ۔“عبدالقادر ہکلایا ۔
”اب تو دیکھ لیا نا ؟“اس کے عقب میں کھڑے سپاہی نے اسے دروازے کی جانب دھکا دیا ۔اوروہ لڑکھڑاتا ہوا دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔
”تھ….تھانیدار پتّر !….رحم کرو ،مہربانی کرو ۔“بوڑھے الٰہی بخش نے تھانیدار کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے ۔
”رحم بھی ہو جائے گا بزرگو!….بعد میں تھانے آ جانا ۔فی الحال تو ملزم کو تھانے لے جانا پڑے گا ۔کچھ قانونی تقاضے بھی تو ہمیں پورا کرنے پڑتے ہیں نا ۔“یہ کہہ کر تھانیدار نے سپاہیوں کو اشارہ کیا اور وہ عبدالقادر کو دھکے دیتے ہوئے باہر لے گئے ۔
الٰہی بخش اکیلا کھڑا روتا رہ گیا ۔اس کی بیوی گھر سے کہیں باہر گئی ہو ئی تھی ۔پولیس والوں کے گھر سے نکلتے ہی زلیخا کمرے سے باہر نکل آئی ۔
”پھوپھاجان !….گھبرانا نہیں اللہ پاک بہتر کرے گا ۔“وہ الٰہی بخش کو تسلی دینے لگی ، مگر خود اس کے دل میں ہزاروں اندیشے کلبلا رہے تھے ۔
الٰہی بخش رو دینے والے لہجے میں بولا ۔”بیٹی !….اسی لیے کہہ رہا تھا کہ وڈیرے سے متھا نہ لگاﺅ ،وہ گوٹھ کا بادشاہ ہے ۔مگر نہ تمھاری سمجھ میں کچھ آ رہا تھا اور نہ عبدالقادر کچھ ماننے کا تیار تھا ۔اب اگر اسے کچھ ہو گیا تو بتاﺅ کیا کر لو گے گے ہم ۔“
اسی وقت عبدالقادر کی ماں نے گھر میں داخل ہو کر واویلا کیا ۔”ہائے او میرے ربّا !…. یہ کیا ہو گیا ۔ایسا کون سا جرم کر لیا میرے لال نے جو اسے پولیس پکڑ کر لے گئی ۔“ اسے یقینا کسی نے عبدالقادر کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی اور وہ دوڑتی چلی آئی تھی ۔
”ہونہہ!….جرم ۔“الٰہی بخش استہزائی انداز میں ہنسا ،لیکن اس کی ہنسی میں بے چارگی کا عنصر نمایاں تھا ۔”یہ جرم کیا کم ہے کہ وہ اپنی نئی نیولی دلھن کے ساتھ وڈیرے کی قدم بوسی کو نہیں گیا ۔“
”تو جاﺅ نہ وڈیرے کے پاس ،اسے بتاﺅ کہ ….اسے بتاﺅ کہ ….“ مگر اس سے آگے اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا کہے ۔
”کیا بتاﺅں ؟“وہ بے بسی سے بولا ۔”اس وقت تم تینوں نے میری ایک نہیں سنی تھی اب بھگتو ۔“
”پھوپھا جان !….آپ تھانیدار کے پاس جا کر مک مکا کرنے کی کوشش کریں جتنے پیسے وہ مانگتا ہے اس کے منہ پر ماریں ۔عبدالقادر کے لیے میں اپنا تمام زیور بیچ دوں گی ۔“زلیخا نے جذباتی لہجے میں کہا ۔
”چلا جاتا ہوں تھانے بھی ۔“بے بس انداز میں سر ہلاتے ہوئے وہ کھڑا ہوگیا ۔”مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ موذی تھانیدار مک مکا کرے گا ۔لازماََاسے وڈیرے کی طرف سے حکم ملا ہوگا۔اور وڈیرے سے پوچھ کر ہی وہ کوئی قدم اٹھائے گا ۔“
زلیخا پر امید لہجے میں بولی ۔”وڈیرے نے بھی تو ہمارا مالی نقصان کرانا ہوگا ،قدم بوسی وغیرہ کا وقت تو یوں بھی گزر چکا ہے ۔“
”اللہ پاک ہی جانے ۔“پریشانی چہرے اور پراگندہ سوچوں کے ساتھ وہ گھر سے نکل آیا۔
٭٭٭
”بر خوردار !….اپنے تمام ساتھیوں کے نام آرام سے تا دے اسی میں تمھاری بہتری ہے ۔“تھانیدار نے ہاتھ میں پکڑی چھڑی اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اس کا جھکا ہوا سر اوپر کیا ۔
جواباََ وہ خاموش رہا تھا ۔اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ تمام وڈیرے کی کارستانی تھی ۔ اسی کے حکم پر پولیس اسے پکڑ کر وہاں لائی تھی ۔یوں بھی آدمی اس کے سامنے اپنی بے گناہی کے بارے کچھ بولتا ہے جو حقیقت میں لا علم ہو ۔یہاں تو تھانیدار اس کی بے گناہی سے اچھی طرح واقف تھا ۔پھر اس کے سامنے اپنی بے گناہی کا واویلا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔ اسے وڈیرے کی جانب سے جو ہدف ملاتھاوہ اس نے ہر حال میں پوار کرنا تھا ۔
”تمھاری سمجھ میں میری بات نہیں آ رہی کیا ؟“اس مرتبہ تھانیدار نے چھڑی اس کے پیٹ میں چبھوہی ۔
”تھانیدار صاحب !….میں نہ تو نشہ کرتا ہوں اور نہ کبھی اس گھناﺅنے کاروبار سے میرا تعلق رہا ہے ۔اور یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں ۔“
”ہا….ہا….ہا“تھانیدار نے بلند بانگ قہقہہ لگایا ۔ساتھ کھڑے سپاہیوں نے اس کا ساتھ دیا تھا ۔”ویسے تمھاری بات تو دل کو لگتی ہے بے ۔“
جواباََ عبدالقادر نے کچھ نہیں کہا تھا ۔اسی وقت ایک سپاہی نے اندر داخل ہو کر سیلوٹ کیا ۔
”سر جی ملزم کا باپ آیا ہے ۔آپ سے ملاقات کا خواہاں ہے ۔“
”ہونہہ!….“ہنکارا بھرتے ہوئے تھانیدار میں اثبات میں سر ہلایا۔”ٹھیک ہے بھیجو اسے ۔“الٰہی بخش کی آمد کی اطلاع دینے والے سپاہی کو کہہ کر وہ وہاں موجود دوسرے سپاہیوں کو بولا۔”تم لوگ ذرا اس سے تفتیش کرو کہ اس نے گوٹھ کی دیرینہ رسوم کے خلاف کرنے کا سبق کہاں سے سیکھا ۔یہی بات میں اس کے باپ سے دریافت کر لوں ۔”
سپاہی عبدالقادر کو دھکیلتے ہوئے اس کے دفتر سے باہر لے گئے ۔
الٰہی بخش لرزتا کانپتا دونوں ہاتھ جوڑے دفتر میں داخل ہوا ۔اور
”اسلام علیکم تھانیدار صاحب !“کہہ کر مودّب انداز میں کھڑا ہو گیا ۔
تھانیدار نے اس کے سلام کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔چند لمحے وہ اپنے میز پر پڑی فائل کھول کر دیکھتا رہا ۔اور پھر فائل بند کر کے ایک جانب رکھتے ہوئے وہ الٰہی بخش کی جانب متوجہ ہوا ۔
”ہاں بزرگو !….کیا مسئلہ ہے ۔“
”سرکار !….میراایک ہی بیٹا ہے ۔نہ سمجھ ہے جوان خون ہے نادانستگی میں وڈیرے سائیں کی شان میں گستاخی کر بیٹھا ….سائیں معاف کر دو ۔آپ بڑے لوگ ہو ۔“
”ہم اسے سمجھانے ہی کے لیے تھانے لائے ہیں ۔پولیس کا کام ہی نہ سمجھ لوگوں کو سمجھانا ہوتا ہے ۔دوتین ماہ میں اس کی سمجھ میں یہ بات ایسے آ جائے گی کہ اپنی آل اولاد کو بھی ساری زندگی سمجھاتا رہے گا ۔اور یقینا اگر تمھیں کسی نے یہ سمجھایا ہوتا تو تم اپنے بیٹے کو کبھی بھی ایسا نہ کرنے دیتے ۔“
الٰہی بخش گڑگڑایا۔”سائیں !….رحم کرو ۔اللہ سوہنا آپ پر کرم کرے گا ۔اور آئندہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔میں اسے اچھی طرح سمجھا دوں گا ۔“
تھانیدار استہزائی لہجے میں بولا ۔”بابا!….یہ مہربانی وغیرہ اپنے پاس رکھو ۔میرے ساتھ تو نقد سودا کرو۔“
”آپ حکم کریں سرکار !….“الٰہی بخش ہاتھ جوڑتا ہوا بولا۔”بس یہ خیال رکھنا کہ میں بہت غریب بندہ ہوں ۔“
تھانیدار نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔”رقم وغیرہ چھوڑو بابا!….“
”تو پھر ؟“الٰہی بخش کی آنکھوں میں حیرانی ابھری ۔
تھانیدار مکروہ لہجے میں بولا۔”شام کو اس کی بیوی کو بھیج دینا ،میں ذرا اس سے بھی معلوم کر لوں کہ وہ وڈیرے کی قدم بوسی کے لیے کیوں نہیں جا رہی تھی ۔صبح دونوں میاں بیوی کو چھوڑ دوں گا ۔بس اتنی سی بات ہے ۔ا ب خوش ۔“
بچپن ہی سے غلام معاشرے میں پلنے والے الٰہی بخش کے لیے یہ شرط صرف اس لیے کڑی تھی کہ اس کے بیٹے اور بہو نے اسے قبول نہیں کرنا تھا ۔
وہ ہکلایا۔”سس ….سائیں مجھے چند دن کی مہلت دے دیں ۔“کیونکہ بیٹے اور بہو سے مشورہ کیے بغیر وہ اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتا تھا ۔
اسے نیم رضامند دیکھ کر تھانیدار نے مطمئن انداز میں سر ہلایا۔”پرسوں شام تک عبدالقادر کو کچھ نہیں کہا جائے گا ۔اس کے بعد تفتیش شروع ہو جائے گی ۔شاید وہ کسی کو قتل وغیرہ کرنے کا اعتراف کر کے پھانسی چڑھ جائے۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ حوالات سے فرار کی کوشش میں کسی پولیس والے کی گولی کا شکار ہو جائے ….میرا مطلب تم سمجھ رہے ہو نا ؟“تھانیدار نے اسے ڈرانے کی کامیا ب کوشش کی ۔
وہ خوف سے کانپتے ہوئے بولا۔”نن….نہیں تھانیدار صاحب!….مم….میں پرسوں تک اپنی بہو کو لے آﺅں گا۔“
تھانیدار نے تکبر سے گردن اکڑاتے ہوئے کہا ۔”اسی میں تمھاری بہتری ہے ۔“ یوں بھی غریب اور بے بس لوگوں کے لیے پولیس تھانیدار فرعون ہی تو بن جاتے ہیں ۔نہ قانون کی پاس داری نہ شرم و حیا اور نہ اللہ پاک کا خوف ۔
”سائیں !….اگر اجازت ہو تو میں بیٹے سے مل لوں ۔“
”ہاں چلو ،میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں ۔“اپنی کرسی چھوڑتے ہوئے وہ الٰہی بخش کے ہمراہ ہو گیا ۔اسے اپنی فتح کا یقین آ گیا تھا ۔نئی نویلی دلھن کے ساتھ رات گزارنے کے خیال ہی نے اس کی چال میں مستی بھر دی تھی ۔اور پھر اس کام کے لیے اسے وڈیرے سے بھی تو ٹھیک ٹھاک انعام ملنے کی توقع تھی ۔یعنی اس کی تو پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں تھا ۔
حوالات کے ایک مخصوص کمرے میں پولیس کے تینوں سپاہی عبدالقادر کی خبر لے رہے تھے ۔تیرہ نمبر چھتر کے مسلسل استعمال نے عبدالقادر کی چیخیں نکال دی تھیں ۔مگر ان وحشیوں کو اس کی کوئی پروا نہیں تھی ۔ان کے لیے تو یہ ایک دل پسند مشغلہ تھا ۔مظلوموں اور بے گناہوں کی پٹائی کرتے کرتے ان کے دل زنگ آلود ہو گئے تھے اوران کے ضمیر گہری نیند سوتے سوتے مردہ ہوچکے تھے ۔اب ایسے کام سے وہ لطف اندوز ہوا کرتے ،قہقہے لگاتے اور خوشی سے جھوم جھوم جاتے ۔
تھانیدار کی آمد پر بھی ان کے ہاتھ نہیں رکے تھے ۔
”ایک منٹ ۔“تھانیدار نے ہاتھ اٹھا کر انھیں روکا ۔اور وہ تینوں بددلی سے پیچھے ہو گئے ۔
عبدالقادر کی حالت خاصی دگرگوں تھی ۔سپاہیوں کے ہاتھ رکتے ہی اس کی چیخیں تھم گئی تھیں ۔لیکن باآواز بلند کراہنا شروع ہو گیا تھا ۔
”تم لوگ جاﺅ ۔“تھانیدار نے سپاہیوں کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا ۔”پرسوں شام تک اسے کچھ نہ کہنا ۔اس کے بعد البتہ تمھیں کھلی چھوٹ ہو گی ،اگر انھوں نے چاہا تو ۔“
تینوں سپاہی تھانیدار کو سیلوٹ کرتے ہوئے باہر نکل گئے ۔ان کے باہر نکلتے ہی تھانیدار الٰہی بخش کی طرف متوجہ ہوا ۔
”بزرگو !….تم اپنے بیٹے سے گپ شپ کرو ،مشورہ وغیرہ بھی کر لواورپرسوں شام کا وقت نہ بھولنا ۔“یہ کہہ کر وہ خود بھی باہر نکل گیا ۔باہر جاتے ہوئے اس نے حوالات کا سلاخوں والا دروازہ تالا کر دیا تھا ۔الٰہی بخش حولات کی سلاخوں کو تھام کر دکھی نظروں سے اپنے جوان بیٹے کو تکنے لگا ۔ااپنے باپ کو دیکھ کر عبدالقادر نے بہ مشکل اپنی کراہیں روکی تھیں ۔
”اللہ پاک بہتر کرے گا باباسائیں !“اس نے باپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔” آپ صبح ماموں جان کے پاس شہر چلے جائیں اور اسے تمام کہانی سنا دیں وہ کوئی بہتر حل تلاش کر لیں گے ۔“
الٰہی بخش کوشش کے باوجود بیٹے کو تھانیدار کی شرط کے متعلق نہیں بتا سکا تھا ۔تھوڑی دیر بیٹے کے ساتھ گزار کر وہ گھر واپس آ گیا ۔بیوی کو البتہ اس نے ساری بات من و عن بتلا دی تھی ۔
”اللہ سائیں اسے برباد کرے ،اللہ سائیں اسے تباہ کرے ،وہ کبھی خوشی اور آرام کا منہ نہ دیکھے ….“اس کی بیوی تھانیدار کو کوسنے لگی ۔
”اس طرح بد دعائیں دینے سے تو کام نہیں چلے گا نیک بخت !….کوئی عملی تجویز سوچو ۔ورنہ وہ قسائی مارمار کر ہمارے بیٹے کو معذور کر دیں گے ،یا شاید جان ہی سے مار دیں ، بہت ظالم اور سخت دل ہیں وہ ۔“
”قادر کے ابّا !….تم شہر چلے جاﺅ۔بھائی جان پڑھے لکھے ہیں ۔وہ ضرور اس کا کوئی حل نکال لیں گے ۔“اس کی بیوی نے بھی وہی مشورہ دیا جو عبدالقادر نے دیا تھا ۔اور الٰہی بخش نے اگلی صبح شہر جانے کا ارادہ کر لیا ۔
٭٭٭
”کیا ….؟“الٰہی بخش کی ساری بات سنتے ہی اس کا سالا عمر حسین ہتھے سے اکھڑ گیا تھا ۔”تھانیدار کی یہ جرّات ۔سرکار کا ملازم ہوتے ہوئے اتنا غیر قانونی کام۔“
”بھائی جان !….گوٹھ کی سرکار وڈیرا اللہ داد ہے اور اس کی یہی منشا ہے ۔ہم ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔وہ ظالم تھانیدار تو پولیس مقابلے کی آڑ میں عبدالقادر کو جانی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ۔ہمارے پاس اسے جھٹلانے کا کیا ثبوت ہو گا ۔“
”تم فکر نہ کرو بخش بھائی !….میں آج ہی وکیل کا بندوبست کرتا ہوں ۔جلد ہی عبدالقادر حوالات سے باہر ہو گا ۔“
”نہیں بھائی جان !….“الٰہی بخش نے نفی میں سر ہلایا۔”یہ ممکن نہیں ہے ۔اگر ہم نے وکیل کیا تو جانے اور کون کون سے جرائم تھانیدار میرے بیٹے کے سر منڈھ دے ۔وڈیرے کی وجہ سے سارے گاﺅں نے تھانیدار کی حمایت اور حق ہی میں بولنا ہے ۔یہ نہ ہو میری قانونی کارروائی کو وہ ہٹ دھرمی جان کر میرے بیٹے کوناقابل تلافی نقصان پہنچا دیں ۔“
عمر حسین تلخی سے بولا۔”تو کیا اپنی دھی اس کے پاس بھیج دوں ؟“
”نہیں ۔“الٰہی بخش نے نفی میں سر ہلایا۔”لیکن کوئی ایسی تجویز تو سوچ سکتے ہو نا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔“
عمر حسین گہری سوچ میں ڈوب گیا ۔چند لمحوں بعد اس کی آواز ابھری ۔”کیا تھانیدار نے زلیخا بیٹی کو دیکھا ہوا ہے ۔“
”نہیں ۔“الٰہی بخش نے نفی میں سر ہلایا۔
”ہونہہ!….“گہرا سانس لیتے ہوئے عمر حسین مسکرایا ۔”اب دیکھنا میں تھانیدار کو کیسا سبق سکھاتا ہوں ۔“
”مگر کیسے ؟“الٰہی بخش اسے ہنستا دیکھ کر خوش ہو گیا تھا ۔
”یہ مجھ پر چھوڑ دو ۔تم بس آرام کرو ۔“ کہتے ہوئے عمر حسین کھڑا ہوگیا ۔
٭٭٭
”ایک تھی تو سہی ۔“خرانٹ بڑھیا نے سوچنے کی اداکاری کی ۔”بڑی خوب صورت بچی تھی ۔مگر آپ کو اس سے کیا لینا ؟“
”آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ اس کا پتا مجھے بتا دیں ۔“عمر حسین ملتجی ہوا ۔
”بتا تو دوں ….مگر فائدہ،مطلب مجھے کیا فائدہ ؟….یوں بھی اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ اس کا راز طشت ازبام نہ کروں ۔“
”اس کے بھلے کی بات ہے بائی جی !….اور آپ کے لیے اتنا فائدہ کافی رہے گا ۔“ عمر حسین نے ہزار ہزار کے پانچ نوٹ اس کی جانب بڑھائے ۔
نوٹ جھپٹتے ہوئے بوڑھی دلالہ نے ایک فلیٹ کا پتا دہرا دیا ۔
عمر حسین شکریہ کہتے ہوئے وہاں سے باہر نکل آیا ۔
٭٭٭
”بیس ہزار میرے لیے کافی ہیں بھائی صاحب !“سوگوار چہرے والی لڑکی عمر حسین کو کافی بھلی لگی تھی ۔اسے یقین ہی نہیںآ رہا تھا کہ وہ ایسے موذی مرض میں مبتلا ہو گی ۔”میں تو اس سے بھی کم معاوضے پر راضی ہو جاتی ۔دوائیوں کی خریداری کی مد میں مجھے کافی خرچا کرنا پڑتا ہے اور میری آمدن نہ ہونے کے برابر ہے ۔پرائیویٹ نوکریوں کی تنخواہیں تو آپ کو معلوم ہوں گی ہی۔باقی آپ کی کہانی جان کر تو میں مفت بھی راضی ہو جاتی کہ میری نظر میں یہ نیکی کا کام ہے ۔“
اور عمر حسین اس کے یوں آسانی سے مان جانے پر گہرا سانس بھر کر رہ گیا تھا ۔گو اس کام کے بارے اس لڑکی کو بتاتے ہوئے اسے کافی شرمندگی محسوس ہوئی تھی ۔مگر اپنی بیٹی کی عزت کی خاطر وہ یہ بھی کر گزرا تھا ۔
٭٭٭
دروازے پر ہونے والی دستک سن کر تھانیدار چونک پڑا تھا ۔ناگواری کے انداز میں اٹھتے ہوئے اس نے دروازہ کھولااور الٰہی بخش کو سرخ کپڑوں میں لپٹی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا ۔
اس نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”بہت اچھا کیا بزرگو !….ورنہ آج رات ہی عبدالقادر کی تفتیش شروع ہو جانا تھی ۔ا ب وہ صبح واپس آجائے گا ۔اور اپنی بہو کی بھی فکر نہ کرنا،میں اسی کوئی نقصان نہیں پہنچاﺅں گا ۔بس اسے تھوڑا جاگنا پڑے گا ۔ “یہ کہتے ہی اس نے الٰہی بخش کو بولنے کا موقع دیے بغیر اس کے پہلو میں کھڑی سرخ کپڑوںکی گٹھری کو اندر گھسیٹا اور کواٹر کا دروازہ کنڈی کر دیا ۔
وہ کنوارا تھا کیونکہ شادی کر کے وہ خود کو کسی ایک کا پابند نہیں کر سکتا تھا ۔یوں بھی جسے حرام کاری کی لت پڑ جائے اس کے لیے حلال میں لذت باقی نہیں رہتی ۔
دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے عبدالقادر کی دلھن کا گھونگھٹ الٹا ۔اپنے دل کی دھڑکنیں اسے بے ربط ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں ۔حسنِ سوگوار پر دلہناپے کا روپ خوب چڑھا تھا ۔ اور پھر الٰہی بخش کو جانے کیا سوجھی تھی کہ اس نے بہو کو خوب سجا سنوار کر اس کے پاس بھیجا تھا حالانکہ اس نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی تھی ۔خیر کچھ بھی تھا اس نے تھانیدار کو خوش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔اتنا تعاون کرنے والا جانے وڈیرے کی حکم عدولی پر کیسے راضی ہوا تھا ۔ خیر اس نے زیادہ دیر اس مسئلے میں سر کھپانا مناسب نہ سمجھا کہ اس کی دلچسپی اور توجہ کے لیے ایک بہت خوب صورت اور سہما سہما کھلونا اس کے سامنے موجود تھا ۔اسے تو یہ بھی بھول گیا کہ وہ ابھی تک رات کا کھانا نہیں کھا سکا تھا ۔
٭٭٭
”ہاں بھئی رمجو !….“وڈیرا حاضرینِ محفل پر طائرانہ نگاہ دوڑاتا ہوا اپنی ٹانگیں دبانے والے رمضان کو مخاطب ہوا ۔”سنا ہے بخشو اپنے ٹبّر(خاندان) کے ساتھ شہر چلا گیا ہے ۔“
”ہاں سائیں !….“رمضان نے اثبات میں سر ہلایا۔”آپ نے ٹھیک ہی سنا ہے۔“
وڈیرے نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”پر اس کا بیٹا تو حوالات میں تھا ؟“
رمضان نے جواب دیا ۔”سائیں !….اسے ،اپنی بیوی رہا کر ا کر لے آئی تھی ۔“
”میری سمجھ میں نہیں آیا ،تم کیا کہہ رہے ہو ؟“وڈیرا جان بوجھ کر ان جان بن گیا تھا ۔
”سائیں !….سنا تو یہی ہے کہ بخشو ،سر شام اپنی بہو کو تھانیدار کے کوارٹر پر چھوڑ آیا اور اگلی صبح اس کی بہو اپنے خاوند کے ساتھ گھر واپس لوٹ آئی ۔“
”ہا….ہا….ہا۔“وڈیرے نے معنی خیز انداز میں قہقہہ لگایا ۔”خوب بہت خوب ۔ یہ بخشو تو بہت عقل مند نکلا ۔ویسے پرکھوں کے رسم و رواج توڑنے والوں کو ایسی ہی عقل مندیاں دیکھانا پڑتی ہیں ۔“
”بالکل سائیں !….حاضریں محفل یک زبان ہو کر بولے تھے ۔یوں بھی وڈیرے کے حکم سے اس دن بیٹھک کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ۔وڈیرے نے اپنی نافرمانی کرنے والے خاندان کا انجام جو تمام گوٹھ تک پہچانا تھا ۔
تمام لوگ دل ہی دل میں الٰہی بخش کے خاندان کی بدقسمتی پر افسوس کر رہے تھے ،کہ وہ انھی میں سے ایک تھا ۔اس کا درد انھیں اپنا درد ہی تو لگنا تھا ۔کل کلاں کو انھیں بھی یہ صورت حال پیش آ سکتی تھی ۔بوڑھے والدین کی مجبوریوں کو آج کل کی جوان اولاد کیا جانے ۔
”وڈیرا سائیں !….میں اندر آ سکتی ہوں ۔“بیٹھک کے دروازے سے دلکش نسوانی آواز سن کر تمام دروازے کی جانب متوجہ ہو گئے تھے ۔وڈیرے نے بھی مونچھوں کا تاﺅ دینے والے ہاتھ کو روکتے ہوئے غور سے دروازے کی سمت دیکھا ۔کالی چادر لپیٹے ایک جوان لڑکی کھڑی تھی ۔
”آجاﺅ ۔“وڈیرے نے کمال مہربانی سے اسے اندر آنے کی اجازت ۔
”مہربانی سائیں !….“کہتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئی اور وڈیرے کی بڑی مسہری کے قریب آ کر اس نے بے باکی سے چہرے پر لپٹی چادر اتار دی ۔
”بتاﺅ کیا پریشانی ہے چھوری !….“وڈیرے نے اس کے سوگوار حسن کو سراہتی ہوئی نظروں سے دیکھا ۔”کیا ان کو باہر بھیج دوں ۔“اس کا اشارہ حاضرین محفل کی طرف تھا ۔
”نہیں سائیں !….انھی کی بھلائی کی بات کرنے آئی ہوں ۔اگر آپ کی اجازت ہو تو کچھ عرض کروں ۔“
”اجازت ہے ۔“وڈیرے کا دایاں ہاتھ پھر اپنی اٹھی ہوئی مونچھوں کو مروڑنے میں مصروف ہو گیا ۔
”سائیں !….میں ایڈز کی مریضہ ہوں ۔“گلا کھنکار کر صاف کرتے ہوئے اس نے تمہید باندھی ۔”اور پرسوں میں نے الٰہی بخش کی بہو کا کردار ادا کرتے ہوئے تھانیدار کے ساتھ رات گزاری ۔اس کے بعد میرا ارادہ آُ کی قدم بوسی کے لیے آنے کا تھا مگر الٰہی بخش نے مجھے منع کر دیا کہ اس کے دل میں اب بھی آپ کا احترام موجود ہے ۔آپ تمام لوگوں سے بس اتنی گزارش ہے کہ علاقے کے لوگوں تک میری یہ بات پہنچا دینا کہ الٰہی بخش کی بہو آج بھی پاک دامن ہے ۔تھانیدار کو بھی کو بھی خبر کر دینا کہ جس پاک دامن لڑکی کو اس نے داغ دار کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا تھا وہ ناکام ہو گیا ۔وہ لڑکی آج بھی اتنی ہی پاکیزہ ہے جتنی پہلے تھی ۔اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا تو خمیر ہی کچرے سے اٹھا ہے ۔اسی ملعون کام کی وجہ سے میں ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوئی اور اسی بیماری کی وجہ سے میں نے اس کام سے توبہ بھی کر لی ۔مگر ایک مظلوم کو بچانے اور ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دینے کی خاطر مجھے مجبوراََ یہ کام کرنا پڑا۔مجھے بس اتنا ہی کہنا تھا ۔“یہ کہتے ہی اس نے اپنا چہرہ چادر میں چھپایااور جس طرح اچانک آئی تھی اسی طرح تمام کو ہکا بکا چھوڑ کر باہر نکل گئی ۔
وڈیرے کی اکڑی ہوئی مونچھیں چوہے کی دم کی طرح لٹک گئی تھیں ۔وہ بہ مشکل اپنی مسہری سے اٹھ کر لڑکھڑاتے ہوئے بیٹھک سے باہر نکل گیا ۔اس کے دماغ میں صرف ایک سوچ گونج رہی تھی کہ اگر الٰہی بخش نے اس لڑکی کو منع نہ کیا ہوتا اور وہ سچ مچ اس کے پاس پہنچ جاتی پھر ……..؟

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Riaz Aqib Kohlar

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: