Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 1

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 1

–**–**–

۔
“ارے نایاب بیٹا تم تو مجھے نظر ہی نہیں آئی بیٹا زرا روشنی میں بیٹھا کرو نا۔۔۔”
چھوٹی پھپھو نے نایاب پر نظر پڑتے ہی بہت چاہت سے وہ بات کی تھی جو وہ ہمیشہ کرتی آئیں تھی
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔میں بھی سوچوں پھپھو نے ابھی تک نایاب کی عزت میں کچھ اشعار نہیں بولے۔۔۔”
سویرا نے خوب ہنستے ہوئے نایاب کی طرف نظریں گھماکر کہا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
باقی کزنز نے بھی بہت ہنسی ٹھٹھہ لگا دیا تھا ہمیشہ کی طرح۔۔۔
“پھپھو مجھے نہیں پتا تھا آپ مجھ سے ملنے کے لیے اتنی بےتاب ہیں سچی میں میں یہیں بیٹھ جاتی۔۔یہاں روشنی زیادہ ہے۔۔
اگر پھر بھی آپ مجھے جی بھر کے دیکھنا چاہتی ہیں تو آپ کا سیل فون دیجئیے ہم سیلفی لے لیتے ہیں۔۔
کم آن سویرا ایک فیملی فوٹو ہوجائے۔۔۔”
نایاب مسکراتے ہوئے پھپھو کے گلے لگی تھیں جن کا منہ نایاب کے جوب نے بند کر دیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔اب سکون ہے فاخرہ۔۔؟؟”
بڑی پھپھو نے اپنی چھوٹی بہن کو چڑاتے ہوئے کہا تھا۔۔
نایاب سر اٹھا کر فیملی فوٹو کے بعد اس گیدرنگ سے باہر آگئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کیا ہوا نازو اتنی اداس کیوں ہوگئی ہو۔۔؟”
“اماں کیسے لوگ ہیں یہ نایاب باجی جیسے ہیرے کو انکے رنگ کی وجہ سے ایسے ذلیل کرتے ہیں۔۔”
“فاخرہ بیگم ایسی ہی ہیں بیٹا۔۔ ابھی کچھ دن برداشت کر لے نایاب بیٹی۔۔
جو قسمت میں لکھ دیا جائے وہی ملتا ہے۔۔۔”
“اماں میں حیران ہوں خاندان میں اتنی خوبصورت لڑکیوں کے باوجود انیسہ میڈم نے نایاب باجی کو ہی کیوں چنا۔۔؟؟”
“انیسہ باجی بھی چار سال پہلے فاخرہ باجی کی طرح تھی بیٹا۔۔۔ پر التمش بھائی کے فالج کے اٹیک کے بعد وہ بہت زیادہ ڈھل گئیں تھیں۔۔
اور وہ اب نایاب کو ہر وقت اپنی آنکھوں کا تارہ بنا کر رکھتی ہیں۔۔۔
نایاب بیٹی ہے ہی اتنی اچھی۔۔۔
دیکھنی کی نظر ہونی چاہیے یہ رنگ روپ دیکھ کر سرہانے والے بہت ہوتے ہیں پر آپ کی خوب سیرت آپ کا نیک دل اور دیکھنے والی نظریں بہت کم ہوتی ہیں۔۔۔اور وہی نظریں قابل ہوتی ہیں ہیرا پرکھنے کے۔۔”
۔
دونوں ماں بیٹی کی گفتگو رک گئی تھی جب باہر سے کچھ ہلکی ہلکی آوازیں آئیں تھیں انہیں۔۔۔
۔
۔
“نایاب تم زرا سی دیر بھی اپنی آواز بند نہیں رکھ سکتی۔۔؟”
نایاب کی امی نے اپنی بیٹی کا بازو پکڑ کر ایک کونے پر لے جا کر پوچھا تھا۔۔۔
“امی میں نے ایسی کیا بات کہہ دی ہے۔۔؟ میں نے تو بہت ہنستے ہوئے کہا جو بھی کہا۔۔۔”
“نایاب ہر کسی کو ایسے جواب دینا بند کر دو۔۔ جو تم ہو۔۔۔”
“امی پلیز۔۔۔”
نایاب نے بہت ادب سے اپنا ہاتھ واپس چھڑا لیا تھا اپنی امی کی انگلیوں کی مظبوط گرفت سے۔۔۔
“امی میں جو ہوں میں نے وہی ایکسیپٹ کیا ہے۔۔
پر امی میں جو ہوں اس پر میں وہ چیزیں یا باتیں کیوں برداشت کروں جن کو برداشت کرنا کوئی لازم نہیں ہے۔۔
آپ کا ماننا ہے کہ میں اپنے رنگ کی وجہ سے وہ طنز یا بےعزتی برداشت کروں جس کا سرے سے ہی جواز نہیں بنتا۔۔۔
جب جواز ہے ہی نہیں تو پھر کیوں۔۔؟؟”
نایاب کی والدہ غصے میں آگئی تھیں۔۔۔
“نایاب تم جو ہو وہ ہو۔۔۔ بار بار خبردار تم نے کسی کو بھی پلٹ کر جواب دیا تم۔۔۔۔”
۔
“زاران بھیا آگئے۔۔۔۔۔”
زاران آگیا ہے بھابھی۔۔۔۔”
زاران بیٹا۔۔۔۔۔”
لان سے بہت سی اونچی آوازیں آنے پر ایک آخری بار نایاب کو دیکھ کر وہ اپنے چہرے پر وہی مسکراہٹ سجائے باہر چلی گئی تھیں۔۔۔۔
۔
“زاران۔۔۔۔”
نایاب کے چہرے پر وہی مسکان تھی۔۔۔ جو شاید ان خوبصورت چہرے والوں کے پاس بھی نا ہو۔۔
“ابو زاران آگئے ہیں۔۔۔”
نایاب اپنے والد کی ویل چئیر باہر ے گئی تھی آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔
۔
اسکی دھڑکن کم ہو کر بڑھ رہی تھیں۔۔۔
اسکی نظریں ٹک نہیں پا رہی تھی اس خوبصورت شخص پر جو نین نقش میں اور خوبصورت نظر آرہا تھا۔۔۔۔
نایاب کی نظروں کے سامنے جب کوئی آکر زاران کو گلے ملتا اسے تب تب زاران کا ہنستا چہرہ اور خوبصورت لگتا۔۔۔۔
۔
“زاران میرے بچے۔۔۔۔کتنے کمزور ہوگئے ہو تم۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔امی جانے دیجئیے۔۔۔ بہت موۓٹا ہوگیا ہوں۔۔ ابھی جم جوائن کروں گا۔۔”
“کوئی جم نہیں بس کہہ دیا میں نے۔۔۔”
“ہاہاہاہا ارے بس بیگم چار سال کے سارے بدلے ایک دن میں لینے ہیں۔۔۔اندر تو آنے دو پہلے۔۔۔”
۔
ایک خوشی کا سما بندھ گیا تھا۔۔۔زاران کو سب آگے ہو ہر کر ملے تھے۔۔۔
بچے بھی بڑے بزرگ بھی۔۔۔
کزنز شرما شرما کر سلام کر رہی تھیں جس پر زاران سب کو بہت عزت اور احترام سے جواب دے کر مل رہا تھا۔۔۔
۔
۔
“اسلام وعلیکم مامو۔۔۔ممانی کیسے ہیں آپ سب۔۔؟”
زاران ویل چئیر کے پاس جھک گیا تھا اور سلام کیا تھا باقی سب سے ملنے کے بعد۔۔۔نایاب کچھ قدموں کے فاصلے ہر تھی۔۔۔جی بھر کے دیکھ رہی تھی اس ایک شخص کو جو نا ہو کر بھی اس زات کا حصہ بنا رہا۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔”
نایاب سے سر جھکائے کہا تھا جس پر زاران پاس سے گزر گیا تھا۔۔۔
“زاران بیٹا نایاب کے سلام کا جواب نہیں دیا”
“وہ امی نایاب نظر نہیں آئی۔۔۔وعلیکم سلام۔۔۔”
زاران اپنا بیگ اٹھائے بنا نایاب کو دیکھے اندر چلا گیا تھا۔۔
پیچھے کچھ کزنز پھر سے ہنس رہی تھی۔۔۔
“افففو نایاب میں نے کہا تھا نا ایسے ڈریس نا پہنو کسی کو تم نظر بھی نہیں آتی ہو۔۔۔”
سویرا اسے کہہ کر اندر چلی گئی تھی اور پھر باقی سب بھی۔۔
یہ سب تو تھا روٹین کا کام اب گھر کے بڑے بزرگوں نے کرنا شروع کردیا تھا نظر انداز اس پر بحث مباحثے کو۔۔
ان کو لگتا تھا بچوں کا آپس کا کھیل ہے ہنسی مذاق ہے
۔
“اِٹس اوکے بیٹا۔۔وہ تھکا ہوا ہے۔۔۔بس تم شام کے لیے تیاری کرو۔۔۔اور ایک بات نایاب جو تمہیں پسند آئے وہی پہننا۔۔۔جو تمہیں اچھا لگے بچے سب کچھ تمہارے کمرے میں بھجوا دیا تھا نازو کے ہاتھوں۔۔”
زاران کی امی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نایاب کے چہرہ کو اپنی طرف کر کے بوسہ دیا تھا وہ پیار اور چاہت کے ساتھ۔۔۔
زاران اپنے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے باہر جھانکا تھا تو اسکی نظروں کے سامنے کا یہ منظر حیران کن تھا۔۔۔
اسے یاد تھے وہ دن جب اسکی امی نایاب کا نام لینے سے بھی حقارت محسوس کرتی تھیں یہ جان کر بھی کہ وہ انکے بھائی کی اکلوتی اولاد ہے۔۔۔
پر اب اسکی امی کا اپنی آنکھوں میں اتنی محبت لئیے نایاب کے ماتھے کو چومنا حیران کن بات تھی زاران کے لئے۔۔۔
“ہمم کافی کچھ بدل گیا ہر چار سالوں میں۔۔۔پر تم نہیں بدلی نایاب التمش۔۔۔
ویسی کی ویسی۔۔۔ ویسے ہی ڈڑیسنگ جب تمہیں پتا ہے تم پر ایسے رنگ سوٹ نہیں کرتے تو نا پہنو۔۔۔”
زاران نے دروازہ بند کر لیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بھائی صاحب آج میں ہمارا وعدہ وفا کر دوں گی۔۔۔
دوپہر کے کھانے پر زاران سے بات کروں گی نایاب اور اسکی شادی کی۔۔۔اور آج ہی منگنی کا فنگشن کریں گے ہم دھوم دھام سے۔۔۔”
انیسہ نے اپنے بڑے بھائی التمش عبید کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا جن کی نظروں میں بہت زیادہ عزت اور پیار بڑھ گیا تھا اپنی چھوٹی بہن کے لیے۔۔۔
وہ اپنی پلکیں جھلک رہے تھے ان کے آنسو چھلک رہے تھے۔۔
انیسہ بھی اپنے بھائی کو دیکھ کر رو دی تھیں۔۔
“بس بھائی۔۔۔ اب آپ نے نہیں رونا۔۔ نایاب میری بہو نہیں میری بیٹی بن کر رہے گے۔۔
میرا زاران بہت خوش رکھے گا آپ کی نایاب کو۔۔
یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔”
۔
کسے پتا تھا یہ وعدہ چند گھنٹوں میں ٹوٹنے والا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مجھے دیکھا نہیں تھا زاران پر میرے سلام کی آواز تو آپ کے کانوں تک پہنچی تھی نا۔۔۔؟؟
پھر جواب کیوں نہیں دیا۔۔؟
سانس بند ہونے پر ہی انسان مرتے نہیں۔۔۔
جن کی انسانیت مر جاتی ہے وہ بھی زندوں میں نہیں ہوتے۔۔
مجھے یقین ہے آپ چار سالوں میں بدلے نہیں ہوں گے۔۔لیکن موٹے تو آپ ہو گئے ہیں لازمی جم جوائن کرنی چاہیے آپ کو۔۔۔”
۔
نایاب نے اپنی وہ پینٹنگ مکمل کر کے اسی جگہ ایک کونے میں چھپا دی تھی جہاں اس نے اپنے ابھی تک کے خزانے کو چھپایا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران خاص تمہارے لیے بریانی بنائی ہے سویرا نے۔۔”
“آہاں پھر تو ضرور کھانا چاہوں گا میں۔۔۔”
زاران کی نظریں اس ڈائننگ ٹیبل پر سویرا پڑی تھی سویرا نے بھی زاران کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
اور یہ بات وہاں پر موجود تین لوگوں کو اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔
التمش عبید۔۔۔
انیسہ بیگم
نایاب التمش
۔
“ہمم ایسا کیوں لگ رہا ہے سویرا کامیاب ہوگئی ہے وہ چیز چرانے میں جو میری جمع پونجی تھی جو میرا سرمایا تھی۔۔؟؟”
نایاب نے ایک بار پھر سے زاران کی طرف دیکھا تھا جو ابھی بھی مصروف تھا سویرا کو دیکھنے میں۔۔۔
۔
“بیٹا یہ کھیر نایاب نے بنائی ہے۔۔۔تمہیں پسند ہے نا کھیر۔۔۔”
انیسہ نے پلیٹ زاران کے سامنے رکھی تھی۔۔۔
“امی ایم سوو سوری میں نے کھیر کھانا چھوڑ دی ہے۔۔
میں میٹھا بہت کم کھاتا ہوں اب۔۔۔”
۔
زاران نے پلیٹ پیچھے کر دی تھی۔۔۔
نایاب نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔ اور وہ پلیٹ اٹھا لی تھی۔۔۔
“ابو آپ کھیر کھائیں گے۔۔؟؟”
انہوں نے بے ساختہ اپنا سر ہلا کر جواب دیا تھا اپنی بیٹی کو۔۔۔وہ بے تاب ہوگئے تھے اپنی بچی کے چہرے پر چھائی اداسی دیکھ کر۔۔۔
اور جب انہوں نے سر ہلایا تو نایاب کے چہرے پر وہی مسکان تھی۔۔۔
نایاب نے اپنی کرسی پاس کر لی تھی۔۔۔جیسے اسے ڈائریکٹ ہوئی ریجیکشن سے کوئی فرق نہیں پڑا ہو۔۔
۔
“امی۔۔۔ میں نے ایک فیصلہ لیا ہے میرا مطلب ہے کہ میں نے ایک بات کا جوب سوچا ہے جو آپ سب پچھلے چار سال سے مجھ سے پوچھ رہے تھے۔۔۔
۔
“کیا بیٹا۔۔۔؟”
آفاق صاحب نے پوچھا تو زاران نے سویرا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“ابو میں سویرا سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
نایاب کے ہاتھوں سے وہ چمچ گرتے گرتے رہ گیا تھا۔۔۔
“یا اللہ زاران بیٹا سچ میں”
کنول بیگم نے زاران کے ماتھے پر اٹھ کر بوسہ دیا تھا
“جی ممانی۔۔۔اگر آپ سب کی رضا مندی ہوگی تو۔۔۔”
“سویرا جی۔۔۔۔”
“ارے سویرا بھابھی بولو۔۔۔”
سویرا ہنستے ہوئے انکے ساتھ بھاگ گئی تھی شرما کر وہاں سے۔۔۔
کنول بیگم کے علاوہ سب ہی کے چہرے بجھ سے گئے تھے یہاں تک کے سویرا کے والد کے بھی بڑے بھائی کو شرمندگی کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
“آپ سب کو کیا ہوا۔۔؟؟ آپ سب چاہتے تھے میں شادی کے لیے ہاں کروں۔۔امی آپ خوش نہیں لگ رہی۔۔۔؟؟”
زاران پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
“نہیں بیٹا۔۔۔ تم خوش ہو۔۔۔ سویرا بہت اچھی خوبصورت بچی ہے۔۔۔تم دونوں کی جوڑی بہت جچے گی ماشااللہ۔۔۔”
نایاب کی امی نے جیسے ہی یہ بات کی تھی۔۔
نایاب کے ابو کا کانپتا ہوا ہاتھ نایاب کے ہاتھ پر تھا۔۔۔جو اپنے ابو کو کھیر کھلاتے ہوئے رک گئی تھی۔۔
“ابو میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
نایاب نے پھر سے کھیر کھلانا شروع کر دی تھی
۔
وہ ٹھیک ہوں ایک جملہ وہاں بیٹھے کتنے لوگوں کی ہمدردی اور ترس کی نگاہیں نایاب پر کر چکا تھا۔۔۔
نایاب نے رمال سے اپنے ابو کا چہرہ صاف کیا اور وہ کھیر کچن میں لے گئی تھی۔۔۔سب س ایکسکیوز کر کے۔۔۔
۔
۔
“بہت سے سوال جواب کے بعد گھر کے بڑے بزرگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ آج شام کو ہی منگنی ہوگی۔۔۔
زاران عابدی کی۔۔۔
پر نایاب التمش سے نہیں۔۔۔
بلکہ سویرا راحیل سے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران بیٹا کیا باہر کچھ ہوا تھا۔۔؟؟ تمہارے اور سویرا کے درمیان جو اب تم نے اچانک سے شادی کی بات کی ہے۔۔۔؟؟”
اپنے بیٹے کو بستر پر بٹھا لیا تھا انیسہ نے۔۔۔
وہ ابھی بھی اس شوکڈ سے باہر نہیں آئی تھیں کہ اب زران کی منگنی نایاب سے نہیں سویرا سے ہوجائے گی آج شام کو۔۔۔
“استغفراللہ امی آپ کیسے ایسا سوچ سکتی ہیں۔۔؟؟
آپ لوگ چاہتے تھے نا شادی ہو جائے خاندان میں میری۔۔۔”
زاران نے اپنی امی کے ہاتھ کو بوسہ دے کر بہت ادب سے جواب دیا تھا۔۔۔
“پر سویرا ہی کیوں۔۔؟؟ نایاب کیوں نہیں زاران۔۔۔؟”
اپنے بیٹے کے گال پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا انہوں نے۔۔
“امی وہ لڑکی۔۔؟؟ سیریسلی۔۔۔؟؟ وہ لڑکی۔۔؟
آپ نے سوچ بھی کیسے لیا امی۔۔؟؟
کہاں میں ہوں کہاں وہ لڑکی وہ سٹینڈرڈ نہیں ہے اسکا کے میری بیوی بن سکے وہ امی۔۔۔”
زاران نے والدہ کے ہاتھ چھوڑ دئیے تھے اور چلتے ہوئے کھڑکی کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔
“وہ لڑکی۔۔؟؟ وہ لڑکی نایاب ہے زاران۔۔۔ میری بھتیجی تمہاری کزن۔۔۔نایاب التمش نام ہے اسکا۔۔۔”
انکا لہجہ تلخ ہوگیا تھا
“خرابی کیا ہے نایاب میں۔۔۔؟”
“امی اچھائی کیا ہے اس میں۔۔؟ آپ مجھے دیکھیں میں آکسفورڈ گریجویٹ ہوں انٹڑنیشنل ڈگری ہولڈر ہوں بزنس سٹارٹ کیا ہے میں نے۔۔۔
میرے دوست ہیں میری الگ دنیا ہے امی۔۔
آپ کی بھتیجی میرے لائف سٹائل میں فٹ نہیں ہوسکتی۔۔۔ امی میں مذاق نہیں بننا چاہتا
میری لائف سٹائل میں سویرا جیسی خوبصورت ماڈرن لڑکی سوٹ کرے گی وہ میری زندگی کو اور پرفیکٹ بنائے گی امی۔۔۔”
۔
اسکی باتیں اسکے نا کہنے کی وجوہات نے اسکی امی کا چہرہ بھگو دیا تھا۔۔۔
اپنے پڑھے لکھے بیٹے کی وہ باتیں جو صرف جاہلانہ تھی انکی نظروں میں انیسہ نےاپنا چہرہ صاف کیا اور اپنے بیٹے کی پشت پر دیکھا تھا جو ابھی بھی باہر دیکھ رہا تھا
“وہ فٹ نہیں ہوگی یا اسکی سیاہ رنگت زاران۔۔؟؟
“دونوں امی۔۔۔نایاب التمش بھی اور اسکی سیاہ
رنگت بھی۔۔۔امی آج اسکے سلام کا جواب میں نے اپنی زبان سے دے دیا تھا پر آہستہ۔۔۔
میں اسکی موجودگی کو بھی محسوس نہیں کرنا چاہتا۔۔
پتا نہیں کیوں امی آپ نے اتنی بڑی بات کر دی ہے۔۔
لائک سیریسلی امی۔۔؟؟ آپ نے اسکی شادی کرنی ہے تو کوئی میٹرک پاس ڈھونڈ لیں میرے نام کے ساتھ نام جوڑنے کو بھی میں توہین سمجھتا ہوں اپنی امی۔۔۔”
انہیں سمجھ نہیں آئی تھی اتنی گہری تفصیل وہ انکو دے رہا تھا یا خود کو۔۔
۔
وہ خاموش ہو کر سن رہی تھیں اور جب زاران نے اپنی بات مکمل کر دی اس وقت انیسہ اٹھ کر زاران کی جانب بڑھی تھیں
“زاران یہ جو الفاظ ہم بولتے ہیں نا۔۔۔انکی کوئی قیمت نہیں ہوتی بے مول ہوتے ہیں۔۔۔پر جب یہ الفاظ کسی کے لیے استعمال ہوتے ہیں نا تو یہ ایک تیز دھاڑ آلے کا کام کر جاتے ہیں۔۔۔ یہ الفاظ زخمی کر جاتے ہیں،،،تم جانتے ہو آج شام کو تمہاری منگنی ہم نے نا۔۔۔”
پھپھو۔۔۔”
نایاب دروازے پر کچھ کپڑے لئیے کھڑی تھی۔۔۔
“وہ کپڑے جو اس نے آج پہننے تھے۔۔۔اپنی منگنی پر۔۔۔”
۔
“نایاب بیٹا یہ تو۔۔۔”
نایاب نے آگے بڑھ کر پھپھو کے گال پر بوسہ دیا تھا اور ہنس دی تھی پھپھو کے شوکڈ چہرے کے تاثرات پر۔۔۔”
“پھپھو۔۔۔آپ کو پتا ہے آپ روتے ہوئے کتنی عجیب سی لگتی ہیں۔۔”
“ہاہاہاہا اتنی عجیب بھی نہیں لگتی تمہارے پھپھا ہمیشہ کہتے ہیں میں روتے ہوئے بھی خوبصورت لگتی ہوں۔۔۔”
انیسہ نے آنکھیں صاف کر کے آنکھ ماری تھی نایاب کو۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ارے پھپھو وہ تو صوفے پر سونے کے ڈر سے جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔”
‘ہاہاہا ابھی بتاتی ہوں۔۔۔”
“پھپھوآپ کو یہ کچھ چیزیں واپس کرنی تھی۔۔
ہاں ایک جوڑا میں نے لے لیا ہے آج میں وہی پہنوں گی ۔۔۔آپ نے جو کرنا ہو باقی کپڑوں اور جیولری کے ساتھ آپ کر دینا۔۔۔”
“نایاب۔۔۔”
“پھپھو پلیز زاران کو کبھی پتا نہیں چلنا چاہیے کہ آج انکی منگنی میرے ساتھ ہونے جارہی تھی۔۔”
نایاب نے آہستہ سے کہا تھا زاران ابھی اس بات پر فکرمند سا ہوگیا تھا کہ کہیں اسکی گفتگو سن تو نہیں لی تھی نایاب نے۔۔۔پر نایاب کے چہرے پر ہنسی آنکھوں میں شرارت سے اسکی فکر ختم ہوئی تھی پر کچھ پل کے لیے۔۔۔۔
“پھپھو آپ اپنے بیٹے سے کہہ دیں کے میں انکے پلے نہیں بندھی جو یہ میرا کسی میٹرک پاس سے رشتہ کروانے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔
میرے والد محترم زندہ ہیں ابھی۔۔۔ انہیں ضرورت نہیں ہے کوئی بھی سجیشن یا سلیوشن دینے کی۔۔۔”
نایاب اس کمرے سے واپس اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: