Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 10

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 10

–**–**–

۔
“اور مجھے احساس ہوگیا ہے اپنی محبت کا سویرا کیسے شادی کر لوں تم سے جب کہ میرا دل محبت بیٹھا ہے نایاب التمش سے۔۔۔
میں نکاح کیسے پڑھ لوں تمہارے ساتھ جب کہ میرے دل نے اس لڑکی سے نکاح محبت کرلیا ہے۔۔۔
تمہاری ایک غلطی نے مجھے سدھار دیا ہے۔۔
تمہیں اپنانے کے لیے اسکی محبت ٹھکرا چکا ہوں۔۔۔اب پھر سے تمہیں اپنانے کے لیے اپنی محبت نہیں ٹھکرا سکتا۔۔
وہ جو اس دن اثاثے والی بات کہی تھی میں نے اس دن وہ اثاثہ جو میں نے کھویا تھا وہ نایاب التمش کی محبت تھی۔۔۔جو تمہیں پانے کے لیے رؤند دی تھی اپنی جوتی کی نیچے وہ شادی والی جوتی جسے پہنے واپس آیا تھا نکاح کرنے کے لیے تم سے۔۔۔”
زاران کے قدم باہر چلنا شروع ہوگئے تھے جب سویرا اپنے گھٹنوں پر بیٹھی رونے لگی تھی۔۔۔
۔
۔
“زاران میں پھر سے تمہارے دل میں اپنے لیے وہ محبت جگا دوں گی
جیسے باہر کے ملک تمہیں مجبور کر دیا تھا میں جانتی ہوں خوبصورتی کے معاملے پر تم پھر سے مجھے چنوں گے دیکھ لینا۔۔۔۔”
وہ اور رونا شروع ہوگئی تھی اسے پتا تھا اب زاران عابدی اس خوبصورتی کے ہاتھوں ٹھوکر کھا چکا تھا اب وہ اس چنگل میں نہیں پھنسے گا۔۔
وہ ایک آخری کوشش کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
۔
“بس کر جاؤ سویرا۔۔۔”
انیسہ پھوپھو کمرے میں داخل ہوئی تھیں سویرا کی یہ حالت دیکھ کر وہ بھی موم ہوئی تھیں۔۔
“پھوپھو مجھے معاف کردیں پلیز زاران کو منا لیں میں مر جاؤں گی پلیز مجھے آپ مار دیں یا زاران کو میری جھولی میں ڈال دیں۔۔۔”
سویرا نے پھوپھو کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے تھے اور اسی وقت کنول بیگم بھی کمرے میں داخل ہوئی تھیں وہ اپنی بیٹی کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھیں۔۔۔۔
“بس میری بچی بس۔۔۔۔ شاید تمہاری پھوپھو نایاب جتنا پیار نہیں کرتی تم سے۔۔۔وہ تمہارے جڑے ہاتھ دیکھ کر بھی نہیں بدلیں گی”
اپنی بیٹی کو وہ اس کمرے سے اپنے کمرے میں لے گئیں تھیں
“انیسہ۔۔۔۔”
کنول کی بات نے انیسہ کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا پر دروازے پر کھڑے بھائی کی کمزور آواز سن کر جب انہوں نے نظریں اٹھائیں تو راحیل صاحب کو دروازے پر کھڑا پایا تھا۔۔۔
“راحیل بھائی۔۔۔”
“انیسہ میں نے آج تک کچھ نہیں مانگا۔۔۔کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے پر آج اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہوں تمہارے آگے۔۔۔
سویرا کو معاف کرکے اپنا لو انیسہ۔۔۔۔زاران خود مان جاۓ گا۔۔۔”
انہوں نے ہاتھ جوڑ دئیے تھے اپنی بہن کے آگے۔۔۔۔
اور انیسہ بیگم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا انکے سامنے کبھی ایسا موڑ بھی آجاۓ گا کہ انہوں اپنے ایک بھائی کی خوشیوں کو چننا پڑے گا۔۔۔
وہ ایک کشمکش میں مبتلا ہوگئیں تھیں۔۔۔
ایک طرف انکا وعدہ اپنے بڑے بھائی سے اور اب دوسرا بھائی ایک وعدہ مانگ رہا تھا۔۔۔۔
ایک گہرا سانس بھرا ہوا تھا انہوں نے۔۔۔۔
“راحیل بھائی۔۔۔یہ آخری موقع ہوگا سویرا کے لیے۔۔۔اس نے میرے بیٹے کو پہلے ہی بہت اذیت دے دی ہے۔۔۔اب میں آپ کے لیے اسے ایک آخری موقع دوں گی۔۔۔۔”
“انیسہ تم نہیں جانتی میں کتنی آس امید سے آیا تھا تمہارے پاس۔۔۔۔
بہت بہت شکریہ پیاری بہن۔۔۔۔سب بہت خوش ہوں گے۔۔۔ میں صبح ہی۔۔”
“راحیل بھائی ابھی کسی کو مت بتائیے گا زاران کو منانے دیجیئے ابھی مجھے۔۔۔۔”
راحیل صاحب کی خوشی مدہم ہوگئی تھی پر وہ سمجھ سکتے تھے کہ سویرا کی غلطی کوئی چھوٹی غلطی نہیں تھی۔۔۔
“میں سمجھ سکتا ہوں انیسہ۔۔۔مجھے انتظار رہے گا جب تم پھر سے اعلان کرو گے سویرا اور زاران کی شادی کا۔۔۔۔”
اور وہ بہت اطمینان کے ساتھ واپس چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
“یا اللہ کس موڑ پر کھڑا کردیا ہے مجھے رشتوں نے۔۔۔
التمش بھائی ایک طرف ہیں تو دوسری طرف راحیل بھائی۔۔۔
اب گھر کے بچوں کی نہیں میرے بھائیوں کی بات آگئی ہے۔۔۔
میں کیسے اس آزمائش سے باہر نکلوں گی بنا کسی کی حق تلفی کئیے بغیر۔۔؟؟؟”
وہ بھی آبدیدہ ہوگئیں تھیں۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“افنان سر یہ گرلز ہوسٹل ہے اب چلیں یہاں سے جلدی۔۔۔۔”
افنان نے ایک نظر نایاب کے کمرے پر ڈالی تھی اور دوسری نظر اپنے سیکیورٹی اہلکار پر غصے سے اسے ڈسٹربنس بلکل برداشت نہیں تھی۔۔
پت اب وہ اس اندھیرے میں یہاں رک بھی نہیں سکتا تھا ریسیپشن کو تو ریکویسٹ کردی تھی پر اب یہاں کھڑے رہنا کسی خطرے سے خالی نہیں تھا۔۔۔۔
وہ وہاں سے چلا گیا تھا اور ڈرائیور کو گاڑی گھر لے جانے کا کہہ دیا تھا
وہ لیٹر کی کاپی دیکھ رہا جو یونیورسٹی انتظامیہ نے نایاب کو بہت عزت دیتے ہوئے دیا تھا۔۔۔
وہ یہ لیٹر اپنی امی کو دیکھا کر انکی ناراضگی ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔
پر انٹرنشپ ایک بہانہ تھا نایاب کا سر اپنے سامنے جھکانے کے لیے۔۔۔
وہ دوسرا تھپڑ اسے یاد تھا۔۔۔
“اور وہ تھپڑ جو میری زندگی کا پہلا تھپڑ تھا اور آخری بھی۔۔۔
پر نایاب میڈم میرے انڈر کام کر کے میرے حکم مان کر تمہیں وہی ذلت ملے گی جو مجھے تمہارے اس تھپڑ نے دی تھی۔۔۔۔افنان یوسف کا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔”
۔
پر افنان یوسف کو اندازہ نہیں تھا نایاب التمش نے الٹا جینا حرام کردینا تھا آنے والے دنوں میں افنان یوسف کا۔۔۔۔۔
وہ جھکنے والی نہیں تھی۔۔۔
وہ ٹوٹنے والی نہیں تھی۔۔۔۔
وہ کمزور ہوکر پیچھے قدم ہٹانے والوں میں سے نہیں تھی۔۔۔۔
اور اب افنان یوسف کو سہی معنوں میں پتا چلنا تھا گھمنڈ ایک مظبوط لڑکی کا جو ہر حالات کا سامنا کر کے یہاں تک پہنچی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
اگلے دن آکسفورڈ یونیورسٹی۔۔۔۔”
۔
۔
“نایاب جیسے ہی آرٹ کلاس میں اینٹر ہوئی تھی کچھ سٹوڈنٹس کے ایک گروپ نے قہقہے لگانا شروع کر دئیے تھے
“یہ ضرور کیٹ کا کام ہوگا۔۔۔۔تم اگنور ہی کرنا۔۔۔”
شانزے نے نایاب کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے والی رو میں جانے کی کوشش کی تو نایاب کے قدم رک گئے تھے
“ہم پیچھے کیوں بیٹھیں شانزے۔۔؟؟ ہم کیوں جھک کر اسکے حوصلے بلند کریں۔۔۔؟ اسے اور شے مل جانی ہے۔۔۔۔”
اور اب نایاب نے ہاتھ پکڑ کر فرسٹ رو میں بٹھایا تھا شانزے کو اور خود بھی بیٹھ گئی تھی
“یار ہماری اسائنمنٹ مکمل نہیں ہے نایاب پروفیسر کی پہلی نظر ہم پر پڑنی ہے”
پر نایاب نے اپنا بک ایک سائیڈ پر رکھ دی تھی اور پھر وہ مکمل اسائنمنٹ بھی جس پر شانزے کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں
“کیسے مکمل کی۔۔۔؟؟ واااو کیٹ کا چہرہ دیکھنے والا ہوگا”
شانزے نے پیچھے مڑ کر کیٹ کی جانب دیکھا تھا جس نے لوزر کا سائن بنا کر دیکھایا تھا۔۔۔
“اب اسے پتا چلے گا لوزر ہے کون۔۔۔۔”
“ابھی نہیں تمہیں کسی طرح اس اسائنمنٹ کو اس کے بیگ تک پہنچانا ہے شانزے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟ سیریسلی۔۔۔؟ تم کرنا کیا چاہتی ہو۔۔۔؟ “
“میں اسکی گیم میں اسے شکست دینا چاہتی ہوں دیٹس اِٹ۔۔۔”
نایاب کی نظریں اس اسائنمنٹ کاپی پر تھیں۔۔
“ہاؤ۔۔۔؟؟ اس کی واہ واہی ہوجاۓ گی اور تم کب سے ایسے سوچنے لگی جہاں تک مجھے یاد پڑتا تم تو بہت سمپل شریف نیک لڑکی ٹائپ لڑکی ہو نا۔۔۔؟؟”
اس پر نایاب نے قہقہہ لگایا تھا۔۔۔۔
“ٹائپ۔۔۔؟؟ اس نے اس کلب میں پہنچا کر مجھے کسی کے سامنے جس ٹائپ کی بنا دیا تھا میں بھولی نہیں ہوں آج کے دن اسکا اور اس امیر زادے کا چیپٹر کلوز کر دوں گی۔۔۔۔”
اب کی بار شانزے نے اپنا سر پکڑ لیا تھا
“بہن معاف کرو میں یہ اسائنمنٹ کسی طرح اس کیٹ کے پاس رکھ آؤں گی پر افنان یوسف کے وِیلا میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی مجھے معاف کرو۔۔۔”
اور شانزے کچھ منٹ میں وہ اسائنمنٹ رکھ کر واپس آگئی تھی۔۔۔
۔
جب کچھ دیر میں کلاس سٹارت ہوئی اور انکے گروپ سے وہ اسائنمنٹ پروفیسر نے مانگی تو کیٹ نے مکمل نا ہونے کا الزام نایاب پر ڈال دیا تھا
جس پر وہ اپنی سیٹ سے کھڑی ہوگئی تھی
“سر ہم نے وہ اسائنمنٹ وقت سے پہلے مکمل کرلی تھی۔۔۔ کیٹ جھوٹ کیوں بول رہی ہو سر کو تنگ کر رہی ہو۔۔۔؟؟ تمہارے پاس ہی تو ہے وہ مکمل اسائنمنٹ تم نے حصہ نہیں لیا مدد نہیں کی تو اِٹس اوکے ہم ایک ٹیم ہیں اب جو ہم نے مکمل کردی ہے سر کو دیکھا دو۔۔۔
سر وہ۔۔۔وہ بلیک بک کے نیچے ہے۔۔۔”
نایاب نے انگلش میں بات مکمل کی تھی اور پروفیسر نے غصے سے کیٹ کی طرف دیکھا تھا اور اسائنمنٹ اٹھا لی تھی وہاں سے۔۔۔
“ویری گڈ مس نایاب ایکسیلینٹ گریٹ جاب۔۔۔”
انہوں نے اسائنمنٹ دیکھ کر کہا تھا جو وہ بہت ایمپریس ہوۓ تھے۔۔۔
اور پھر انہوں نے جھوٹ بولنے اور اسائنمنٹ چھپانے پر کیٹ کو سزا کے طور پر ڈیٹینشن دی تھی اور تمام پوائنٹس نایاب اور شانزے کو ملے تھے
“میں دیکھ لوں گی تمہیں”
کیٹ اپنی ایکسنٹ میں بڑبڑائے باہر چلی گئی تھی
اور پوری کلاس کے منہ کھلے رہ گئے تھے۔۔۔
“نایاب التمش واااااوووو مان گئی کیا بدلہ لیا ہے۔۔۔۔”
“شانزے یہ بدلہ نہیں تھا میں بدلہ نہیں لیتی۔۔۔یہ صرف میری پروٹیکشن تھی جو اگلے چار سال یہاں گزارنے کے لیے کی میں نے
کم سے کم اب وہ کسی اور سٹوڈنٹ کے ساتھ ایسی گھٹیا حرکت کرنے سے پہلے سوچے گی۔۔۔”
۔
“اور افنان یوسف اسے آج ایک اور تھپڑ ملے گا۔۔۔؟؟”
شانزے نے تو قہقہہ لگا دیا تھا پر نایاب کے چہرے کے تاثرات بدل گئے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
پاکستان۔۔۔۔”
۔
۔
“زاران بیٹا ایک بار سن لو۔۔۔”
“امی میں لیٹ ہو رہا ہوں آفس جانے سے پہلے جم بھی جانا ہے۔۔۔”
“زاران انف از انف۔۔۔”
اور زاران رک گیا تھا گاڑی کا دروازہ واپس بند کر کے اپنی والدہ کی طرف دیکھا تھا اس نے بہت مایوسی سے جیسے اسے پتا تھا کیا بات کرنے آئیں تھیں اسکی امی
“زاران سویرا بھٹک گئی تھی اسے موقع دو”
“یہ آپ کہہ رہی ہیں امی۔۔۔؟ وٹ اباؤٹ نایاب۔۔؟ آپ کی لاڈلی بھانجی ہاں امی۔۔۔؟”
زاران نے اپنی آواز کم کر دی تھی جب باغیچے کے مالی کی نظریں ان پر پڑی تھیں
“ہاں میں کہہ رہی ہوں زاران۔۔۔راحیل بھائی کی جھولی میں ڈال رہی ہوں تمہیں اب تمہیں اپنانا ہوگا سویرا کو۔۔۔۔”
زاران کی آنکھ بھر آئی تھی اور اس نے نظریں پھیر لی تھی
“کاش آپ نے یہی سٹیپ نایاب کے لیے لیا ہوتا امی آپ زبردستی میری شادی نایاب سے کروا دیتی تو شاید آج میں دنیا میں رسوا نہیں ہوتا امی اور شاید۔۔۔شاید خوش بھی رہتا نایاب کے ساتھ۔۔۔”
زاران کی باتوں نے اسکی امی کی آنکھوں کو اشک بار کردیا تھا
“زاران بیٹا۔۔۔۔”
“امی نایاب کے لیے آپ نے اتنی کوشش نہیں کی جتنی سویرا کے لیے کر رہی ہیں۔۔؟ نایاب آج باہر ہم سب سے دور اس لیے ہے کیونکہ ہم سب نے اسے کبھی پاس رکھنے کے قابل نہیں سمجھا۔۔۔
اب مجھے دیکھ لیں میں نے خوبصورتی کو ترجیح دی عزت کو نہیں سیرت کو نہیں حیا کو نہیں خود داری کو نہیں۔۔۔۔
اب اللہ کا انصاف دیکھیں زرا مجھے بس خوبصورت بیوی مل رہی ہے پر وہ سب نہیں مل رہا جو زندگی اور شادی شدہ رشتے کو اور خوبصورت اور پاکیزہ بنا دیتا۔۔۔”
۔
زاران وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کیا میں اندر مسٹر افنان سے مل سکتی ہوں۔۔؟؟”
نایاب نے دروازے پر پہرا دیتے ہوئے گارڈ سے پوچھا تھا۔۔
اور جواب میں اس سے اسکا نام اور آئی ڈی مانگا گیا تھا جس پر نایاب نے جیسے ہی اپنا نام بتایا تھا گارڈ نے کارڈ دیکھے بغیر دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔
“وٹ۔۔؟؟ میں ویزیٹر لسٹ میں ایڈ ہوں۔۔؟”
“یس میم ۔۔”
“نایاب نے کارڈ واپس اپنے اوور کوٹ کی جیب میں ڈال لیا تھا اور اندر چل دی تھی۔۔
“ظاہر سی بات ہے ایسے محلوں میں رہنے والے لوگ کہاں اپنے سے نیچے کسی کو انسان سمجھتے ہوں گے۔۔۔”
بہت سے سرونٹ ڈسٹنگ اور کلیننگ میں مصروف نظر آئے تھے۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔”
نایاب چلتے چلتے رک گئی تھی جب پیچھے سے کسی نے اسے سلام کیا تھا
“وعلیکم سلام۔۔دراصل مجھے افنان یوسف سے ملنا ہے۔۔”
“آپ بیٹھے سر اوپر اپنی فیملی کے ساتھ بیزی ہیں ابھی۔۔۔”
اور ڈرائینگ روم کا رستہ دیکھایا تھا نایاب کو جہاں جاتے ہوئے نایاب کی نظر سیڑھیوں پر پڑی تھیں۔۔
اور ایک ویل چئیر پر جسے ایک ینگ لڑکی نے چھوڑ دیا تھا۔۔۔ نایاب کی نظریں اس لڑکی کے پاؤں پر تھی جو باقی تمام سرونٹ کے ڈریس کوڈ کپڑوں کو پہنے ہوئے تھی اور جب ویل چئیر نیچے نہیں گری تو اس لڑکی نے پاؤں سے اس ویل چئیر کو دھکیل دیا تھا نیچے۔۔۔
“ہیئے یو۔۔۔واچ آؤٹ۔۔۔وہ گر جائیں گی۔۔۔”
وہ اس ویل چئیر پر بیٹھی ادھیڑ عمر کی عورت ایک ایک کر کے سیڑھیوں سے نیچے گرنا شروع ہوگئیں تھیں جیسے انکی وہ ویل چئیر جیسے ہی نایاب کے قدموں میں گری تھی نایاب جلدی سے اوپر بھاگی تھی اور باقی سیڑھیاں گرنے سے بچا لیا تھا اس عورت کا سر جیسے ہی نایاب نے اٹھا کر اس نسوانی چہرے کو دیکھا تھا نایاب نے اپنے کندھے پر رکھ لیا تھا
ایک شور برپا ہوگیا تھا وہاں
“دلکش بھابھی۔۔۔”
“دلکش چچی۔۔۔”
افنان اپنی امی کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہوئے نیچے آیا تھا
“وہ۔۔وہ سر ایم سوری۔۔وہ میں باتھروم میں گئی تھی کہ پتا نہیں میڈم یہاں کیسے آگئی”
وہ ملازمہ روتے ہوئے کہنا شروع ہوگئی تھی۔۔”
“انہیں ابھی ٹریٹمنٹ چاہیئے بہت خون بہہ گیا ہے پلیز۔۔۔”
نایاب کی آواز کیوں کانپ رہی تھی اسے نہیں پتا تھا اسے بس اتنا پتا تھا اسکی گود میں جسکا بےہوش سر پڑا ہوا تھا وہ بس کسی طرح سے ٹھیک ہوجائیں۔۔۔
“تم کیا کر رہی ہو یہاں۔۔؟؟ کیا ہورہا ہے میرے گھر میں۔۔؟”
“افنان بس کر جاؤ بھابھی کو کمرے میں لے کر چلو ابھی نورین آپ ڈاکٹر طلعت کو فون کیجئیے ابھی۔۔نایاب بیٹا وہ ٹھیک ہوجائیں گی افنان جلدی اٹھائیں۔۔۔”
افنان نے اپنی امی کی بات سن کر ایک نظر نایاب کو دیکھا تھا اور اپنی چچی کو اٹھا کر اوپر لے گیا تھا۔۔
۔
“ایم سو سوری آنٹی مجھے ایسے نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔”
نایاب کہتے کہتے ان لوگوں کے پیچھے اسی کمرے میں چلی گئی تھی
“نایاب بیٹا آپ معافی نا مانگیں بلکہ ہمیں شکریہ ادا کرنا چاہیے آپ سہی وقت پر آپہنچی ورنہ بھابھی کس حالت میں چلی جاتی”
افنان نے جیسے ہی انہیں بیڈ پر لٹایا تھا باقی افراد بھی گھر کے پریشانی کے عالم میں آگئے تھے کمرے میں
“زیبا ڈاکٹر بس آتے ہی ہوں گے بھابھی کی زمہ داری کس سرونٹ کی تھی۔۔”
افنان کے والد کا لہجہ بہت سخت اور غصے سے بھرا ہوا تھا
“سر ایم سوو سوری۔۔۔مجھے نہیں پتا وہ کیسے سیڑھیوں تک پہنچی۔۔۔آپ”
“جھوٹ بول رہی ہو تم۔۔تم نے جان بوجھ کر کیا یہ سب۔۔”
“میں جھوٹ نہیں بول رہی سر میڈم یہ لڑکی جھوٹ بول رہی آپ باقی سب سے پوچھ لیں”
اور دو سرونٹس نے اس لڑکی کے حق میں بات کی تھی
“دیکھا سر میں سچ کہہ رہی ہو یہ لڑکی پتا نہیں کیوں جھوٹ بول رہی۔۔”
اور نایاب نے ایک زوردار طمانچہ مارا تھا اس ملازمہ کو
“تمہیں شرم نہیں آرہی ۔۔۔؟؟ میرے سامنے تم نے ان کو گرایا “
“انف از انف مس نایاب ہاؤ ڈیرھ یو۔۔۔ہمت کیسے ہوئی میری ملازمہ پر ہاتھ اٹھانے کی ۔۔؟؟”
افنان نے نایاب کا بازو پکڑ کر اسکا منہ اپنی طرف کیا تھا۔۔
“ایکسکئیوزمئی۔۔۔؟؟ یہ ملازمہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔اور بات جھوٹ کی نہیں انکی زندگی کی ہے اور آیندہ کے بعد مجھے ہاتھ لگانے کی ہمت آپ نا کرنا۔۔۔”
نایاب نے افنان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔۔اور بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی تھی
سب فیملی کے لوگ کھلے منہ سے افنان اور نایاب کے جھگڑے کو دیکھ رہے تھے پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہا تھا انہیں
“مس نایاب ابھی دفعہ ہوجائیے یہاں سے۔۔”
افنان نے طیش میں آکر کہا تھا
“افنان بس کرو۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔”
“آنٹی میں جھوٹ نہیں بول رہی اس لڑکی نے انکی ویل چئیر کو دھکیلا تھا نیچے۔۔۔میں یہاں سے چلی جاؤں گی ڈاکٹر انہیں ایک بار دیکھ لیں۔۔۔”
نایاب نے اپنے دوپٹے سے اس بےہوش عورت کے ماتھے سے خون صاف کرنا شروع کردیا تھا۔۔
“تم ایسے۔۔۔”
“انف افنان باہر چلو۔۔۔”
یوسف صاحب اپنے بیٹے کو باہر لے گئے تھے اور کچھ دیر میں ڈاکٹر بھی آگئیں تھیں وہاں پر نایاب ایک پل کو بھی کمرے سے باہر نہیں آئی تھی۔۔۔
۔
“زیبا میں نے پہلے بھی کہا تھا انکواب گھر میں نا رکھو کسی مینٹل ہسپتال میں ایڈمٹ کروا دو پر تم ہو کے۔۔۔ ہر مہینے ایسے ہی ہوتا ہے کسی دن انکی دیتھ ایسے گرنے سے ہوجانی اور۔۔”
“آپ نے انکا ٹریٹمنٹ کردیا ہے تو آپ جا سکتی ہیں۔۔۔”
نایاب کے دوٹوک جواب پر ازیان یوسف اور انکی بیوی شوکڈ تھے
ڈاکٹر نے جب نایاب سے اسکا یوسف فیملی سے رشتہ پوچھا تو زیبا بیگم نے ڈاکٹر طلعت کو جانے کا کہہ دیا تھا۔۔اور اسی وقت وہاں یوسف صاحب اور افنان آگئے تھے۔۔
“یہ کب سے ایسے ہی خود سیڑھیوں سے گر رہی ہیں۔۔؟”
نایاب نے انکی پٹی بندھے ماتھے پر اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا تھا
“بیٹا پچھلے پانچ سال سے۔۔۔پر۔۔ہم انہیں کسی پاگل خانے میں نہیں بھیجنا چاہتے میرے بھائی کی بیوہ ہیں یہ ہماری زندگی کا اہم حصہ ہیں یہ۔۔۔”
زیبا بیگم آبدیدہ ہوگئیں تھیں اور نایاب کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئیں تھیں۔۔
“آنٹی میں نے پہلی بار کسی لڑکی پر ہاتھ اٹھایا ہے۔۔مجھے کچھ پل کے لیے شاید برا بھی لگتا پر اب یہ جان جانے کے بعد کے یہ پہلے بھی ایسے گر گئیں ہیں مجھے دکھ نہیں ہاتھ اٹھانے پر۔۔
آنٹی میں ایسے وائیلنٹ نہیں ہوئی کبھی بھی میں نے خود دیکھا ہے آپ کی ملازمہ کو انہیں سیڑھیوں سے نیچے دھکیلتے ہوئے پلیز انہیں اور ان دو سرونٹ کے ہاتھوں سے بچائیں انہیں اگر واقع ہی یہ آپ کی زندگی میں کچھ اہمیت رکھتی ہیں تو۔۔۔”
نایاب یہ کہہ کر جیسے ہی اٹھنے لگی تھیں ان خاتون نے نایاب کا ہاتھ اپنی بے ہوشی میں پکڑ لیا تھا یہ دیکھنے کے بعد افنان باہر چلا گیا تھا سرونٹ ہیڈ کوارٹر میں اسے بھی شک ہوگیا تھا اب نایاب کی پوری بات سننے کے بعد
۔
“زیبا آنٹی اگر آپ کو برا نا لگے تو ایک بات پوچھوں۔۔؟؟”
“ہاں بیٹا پوچھو۔۔؟؟ زیبہ بیٹا نایاب کے لیے جوس لے آؤ۔۔۔”
“یہ کب سے ایسی ہیں۔۔؟؟”
نایاب کی نظریں ہٹ نہیں پا رہی تھیں ان سے جنکی آنکھیں بند تھیں
“جب سے میرے دیور کا انتقال ہوا ۔۔”
اور سب ہی بیٹھ گئے تھے
“میں نے سیاہ رنگ میں اتنی دلکشی کبھی نہیں دیکھی زیبا آنٹی۔۔اس لیے انکا نام دلکش ہے۔۔؟؟
اور اس لیے میرے رنگ کو دیکھ کر آپ نے مجھے ایک بار بھی کہا نہیں کچھ وہ جو مجھے لوگ کہتے آئے ابھی تک۔۔”
نایاب اپنا ہاتھ چھڑا کر اٹھ گئی تھی وہاں سے۔۔
“نایاب بیٹا بیٹھ جاؤ۔۔رنگ روپ سب اللہ کے ہیں بیٹا دلکش بھابھی آج ٹھیک ہوتی تو وہ تمہیں بتاتی کے ہم نے انکو اپنے سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھا تھا ہمیشہ جیسے میرے دیور نے بھابھی کے لیے سب کچھ وار دیا تھا یہاں تک کے اپنی زندگی بھی۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوگئی تھی جب نایاب نے حیرت بھری نظروں سے دیکھا تھا انہیں
۔
“امی میں نے ان تینوں ملازموں کو نکال دیا ہے نوکری سے”
“اچھا کیا افنان بھائی مجھے بھی شک ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔”
زیبہ اٹھ کر نایاب کے پاس آئی تھی
“نایاب آپ کا بہت بہت شکریہ “
“آپ سب بار بار شکریہ مت کہئے پلیز۔۔بس انکا خیال رکھیں۔۔خدا حافظ۔۔۔”
نایاب کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“پر نایاب نے بتایا نہیں وہ یہاں آئی کیوں تھی۔۔؟؟”
زیبا بیگم نے جیسے ہی یہ بات کہی سب نے افنان کی طرف دیکھا تھا
“امی میں نے کہا تھا جب وہ آپولوجی لیٹر ملے گا یہ شیرنی کی طرح مجھ پر اٹیک کرنے آئے گی اور پاگل کو دیکھیں جو کرنے آئی تھی وہ کئیے بغیر چلی گئی۔۔”
۔
۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
اور سب کے قہقوں سے کمرہ گونج اٹھا تھا افنان موقعے کا فائدہ اٹھا کر کمرے سے باہر آگیا تھا اور نایاب کو فالو کرتے ہوئے مین گیٹ تک پہنچا تھا۔۔۔
۔
“مس نایاب۔۔۔کیا سوچا ہے پھر آپ نے انٹرنشپ کے بارے میں۔۔؟؟”
افنان نے تیز چلتی نایاب کا پیچھا کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔
“اگر آپ مجھے روز دلکش آنٹی سے ملنے دیں گے تو میں انٹرنشپ ایکسیپٹ کرلوں گی۔۔”
نایاب کی شرط نے افنان کو ایک گہری سوچ میں مبتلا کردیا تھا
“اس شرط اور ڈیمانڈ کا کوئی جواز نہیں بنتا مس نایاب۔۔میری لائف اور فیملی میرے بزنس کا حصہ نہیں ہیں یہ انٹرنشپ آپ کے لیے فائدہ مند ہے ۔۔اب میں آفر کررہا ہوں ایک سال بعد آپ مانگتی پھیریں گی یہ پوسٹ۔۔۔”
افنان نے متکبر انداز میں کہہ کر اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال لئیے تھے
“مسٹر افنان یوسف یہ سکالرشپ میں نے میرٹ پر حاصل کی تھی ہاتھ پھیلا کر نہیں
اور انٹرنشپ بھی مجھے میری یونیورسٹی کی کارگردگی میری محنت سے مل جائے گی یہاں نہیں تو کہیں اور سہی۔۔نا آپ آخری انسان ہو مجھے آفر کرنے والے اور نا آپ کی کمپنی آخری کمپنی ہے انٹرنشپ دینے والی۔۔۔میں بس تب تک ان سے ملنا چاہتی ہوں جب تک مجھے انکی سیفٹی کا یوین نہیں ہوجاتا بے فکر رہے میں خود بھی عادی نہیں ہوں کے کسی کی زندگی اور ذاتی معاملات میں تانک جھانک کرنے کی”
۔
“نایاب نے کچھ دور چل کر ٹیکسی کو اشارے سے روکا تھا اور ایک بار پھر وہ افنان یوسف کو لاجواب کر گئی تھی۔۔
۔
“اوور کوٹ بھی پنک رنگ کا مس نایاب مزہ آئے گا آپ پر حکم چلانے کا ۔۔۔”
افنان واپس گھر میں چلا گیا تھا پر سرونٹ کوارٹر سے گزرتے ہوئے اسکے چہرے پر پھر سے غصہ آگیا تھا۔۔
اس نے اس میل ملازم کو گریبان سے پکڑ کر باہر نکال دیا تھا جو پہلے ہی زخمی ہوا تھا افنان کی مار سے۔۔
پر یہ بات کسی پر واضح نہیں ہونے دی تھی افنان نے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب کیا ہوا بہت کھوئی کھوئی سے ہو۔۔؟؟”
روہی نایاب کے بیڈ پر آکر لیٹ گئی تھی
“کچھ نہیں۔۔۔آج کسی اجنبی سے مل کر آئی ہوں ایسا لگ رہا ہے خود سے ملاقات کر کے آئی ہوں”
“ارے وااووو تم تو شاعرہ بنتی جا رہی ہو۔۔۔”
“اس لیے میں کسی سے دل کی باتیں نہیں کرتی روہی۔۔لوگ درد سن کر شاعروں سے ملا دیتے ہیں اور تکلیفیں سن کر مسخروں سے۔۔۔
میں سب باتیں خود سے کرتی ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے میں خود کا درد سن کر خود کو کسی اور مناسبت نہیں دوں گی بلکہ خود کو سمجھوں گی اپنے درد کو سمجھوں گی۔۔۔”
۔
“اففوو اچھا نا سوری اچھا اب میں سیریس ہوں بتاؤ کس سے مل کر آئی ہو۔۔؟؟”
۔
نایاب کا فون بجنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“پھوپھو کی اس وقت ویڈیو کال۔۔؟؟ میں ابھی ٹیریس پر جا کر بات کر کے آتی ہوں۔۔۔”
نایاب کہہ کر اپنی شال اوڑھے روم سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“امی میں سویرا کو اپنا لوں گا پر اس بار میں نایاب کے ہاتھوں ٹھکرائے جانے کے بعد سویرا کو اپناؤں گا۔۔۔”
“کیا مطلب زاران۔۔؟؟ کیوں تم نایاب کو تکلیف دینا چاہتے ہو۔۔؟”
“امی یہ آپ کہہ رہی ہیں جو مجھے زبردستی سویرا کے ساتھ شادی کے لیے مجبور کر رہی ہیں ؟؟”
انیسہ بیگم نے منہ پھیر لیا تھا
“اور نایاب کو کیا بتاؤ گے۔۔؟؟”
“یہی کہ اسے دوسری بیوی بننے کا کہہ کر جس لڑکی کو پہلی بیوی کا درجہ دینا چاہتا تھا اس نے کیسے جگ ہنسائی کروا دی میری سب کے سامنے۔۔۔
امی میں سب کچھ اسکے سامنے رکھ کر اسکا فیصلہ پوچھوں گا اگر نایاب التمش نے آج مجھے اپنا لیا تو میں انتظار کروں گا اسکا چار سال دس سال ساری زندگی۔۔۔”
زاران انیسہ کے چہرے پر اداسی دیکھ کر بھی اپنی بات مکمل کی تھی
“اور اگر نایاب نے انکار کردیا تو۔۔؟؟”
“تو میں سویرا سے شادی کر لوں گا نایاب التمش کے ساتھ یہ میری آخری گفتگو ہوگی امی۔۔
میں پھر سانس تو لوں گا جیوں گا نہیں۔۔آپ اپنے بھائی کو دیا وعدہ پورا کردینا
سویرا اپنی ضد پوری کر لے گی میرے نکاح میں آکر۔۔۔
اور نایاب التمش اپنا بدلہ۔۔۔مجھے ٹھکرا کر۔۔۔”
اور انیسہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائی کو فائننلی زاران کے سامنے کردیا تھا جو اس نے پکڑ لیا تھا اور چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسلام وعلیکم پھوپھو۔۔۔گھر سب خیریت”
“نایاب کی بولتی بند ہوگئی تھی جب زاران عابدی کا چہرہ موبائل سکرین پر شو ہونا شروع ہوگیا تھا
“خبردار نایاب التمش اگر ویڈیو کال بند کرنے کا سوچا بھی تو۔۔”
اور نایاب کی انگلی رک گئی تھی اسنے سکرین سے نظریں ہٹا لی تھیں۔۔
یہ انکی پہلی بات تھی اکیلے میں اس ائیر پورٹ کے بعد
“ہمم نہیں کرتی۔۔زاران اس وقت کال کی۔۔؟؟ سویرا نے اجازت دے دی مجھے کال کرنے کی۔۔؟”
نایاب نے لیجے میں مسکراہٹ لانے کی بہت اچھی کوشش کی تھی
“سویرا کی چھوڑو ۔۔تم اپنی بتاؤ تم اجازت دو گی۔۔۔؟؟”
نایاب چپ ہوگئی تھی ایک دم سے۔۔۔
“زاران بات کیا ہے۔۔۔۔؟؟ اچانک سے اتنی بےتکلفی۔۔۔؟ آپ اب شادی شدہ ہیں کسی نا محرم کو اس وقت فون پر بات کرنا زیب نہیں دیتا نا ہی آپ کو ناہی مجھے۔۔۔”
“بہت بولتی ہو تم یار۔۔۔کہاں سے لاتی ہو اتنی باتیں۔۔۔؟؟؟”
زاران نے قہقہہ لگا دیا تھا پر اسکی آنکھوں میں وہ چمک اور وہ خوشی نہیں تھی جو نایاب کو نظر آتی تھی ہمیشہ
“اچھا اب اگر آپ نے کچھ بات نہیں کرنی تو میں بند کر دوں فون آپ۔۔۔”
“کہا نا خبردار جو سوچا کال کاٹنے کا۔۔۔۔”
زاران نے سخت لہجے میں کہا تھا خاموشی چھا گئی تھی
“میں ایک آخری بار تمہیں پرپوز کرنا چاہتا ہوں نایاب التمش۔۔۔ اور اس بار میری دوسری نہیں پہلی بیوی کے روپ میں اپنانا چاہتا ہوں تمہیں پورے فخر کے ساتھ ہاں کرو گی۔۔۔؟؟؟”
۔
زاران کے سنجیدہ لہجے نے شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی نایاب کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے زاران کی آواز میں شدت محسوس کر کے
“پر۔۔۔زاران آپ کی شادی تو سویرا کے ساتھ۔۔۔۔”
“نہیں ہوئی تھی۔۔۔چھوڑ گئی تھی وہ مجھے جیسے تمہیں چھوڑ آیا تھا ائر پورٹ ویسے ہی وہ چھوڑ گئی تھی مجھے دنیا کے سامنے زلیل و رسوا ہونے کے لیے۔۔۔۔”
نایاب کی نظریں جیسے ہی اٹھی اور زاران کی نظروں پر پڑی تھی اسکی سانسیں مانو تھم سی گئیں تھیں اس لمحے میں
“ترس کی نظروں سے نا دیکھنا مجھے نایاب۔۔۔۔مجھے تمہارا جواب چاہیے ہمدردی نہیں۔۔۔۔”
زاران کے لہجے میں دھیما پن بلکل نہیں تھا اس کا لہجہ ویسا ہی تھا جیسے ہوا کرتا تھا نایاب کے ساتھ سخت۔۔۔وہ آج بھی وہی زاران بن کر پرپوز کرنا چاہتا تھا اسے۔۔۔۔
“زاران۔۔۔میرا جواب اب بھی وہی ہے۔۔۔میں اب ان سلسلوں سے بہت آگے نکل آئی ہوں جہاں میں نے چار سال بیتا دئیے آپ کے انتظار میں۔۔۔”
وہ بولتے ہوئے خاموش ہوئی تھی
“میں بھی انتظار کرنا چاہتا ہوں۔۔۔میں انتظار کروں گا تمہارا ساری زندگی بس ایک بار ہاں کر دو واپس آنے کے بعد میرے نکاح میں آنے کی۔۔۔”
نایاب کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا زاران کی باتوں سے
“کیسا انتظار زاران۔۔۔؟ انتظار وہ جو میں نے کیا وہ کبھی نہیں کر سکتے آپ۔۔۔
آپ نے مجھے کہا فون بند مت کرنا میں نے نہیں کیا پر آپ کو ایسی کتنی ریکوسٹ میں ای میلز پر کرتی تھی آپ تو پڑھ کر بھی جواب نہیں دیتے تھے مجھ تک فون آتے آتے آپ فون بند کر جاتے تھے
مجھے پھر بھی ایک تسلی تھی ایک بھرم تھا زاران پر سب کچھ تو ختم کردیا تھا آپ نے۔۔۔اور جب پہلی بار خاور کا رشتہ گھر لیکر آۓ تھے آپ۔۔؟
یا اللہ آپ کے انتظار نے وہ اذیتیں نہیں دی تھی جو آپ نے آکر دے دی تھیں مجھے۔۔۔۔
میں کیسے ہاں کر دوں جب کے میرا دل و دماغ آپ کو انکار کر چکے ہیں۔۔”
زاران کی آنکھیں بند ہوگئیں تھیں نایاب کے جواب پر وہ نایاب کے سامنے اپنی بھری ہوئی آنکھیں کھولنا نہیں چاہتا تھا آہستہ سے اس نے سکرین چہرے سے پیچھے ہٹا کر چہرہ صاف کیا تھا اور اسی وقت نایاب نے بھی سکرین چہرے سے پیچھے ہٹا دی وہ بھی کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔
“امی نے مجھے اپنی ممتا کے جذبات میں ایسا گھیرا ہے نایاب وہ کہتیں ہیں میں سویرا کو اپنا لوں پھر سے۔۔۔اور میں اسے اپنانا نہیں چاہتا
میں زاران عابدی ایسے ہی تھا مذاق بن جانے کے ڈر سے تمہیں اپنانا نہیں چاہتا تھا اور اب رسوائی کے ڈر سے سویرا کو۔۔۔۔
میں نے امی سے آج ایک آخری موقع مانگا تھا۔۔انہوں نے کہا کہ تم انکار کردو گی۔۔۔اور میں جانتا ہوں
نایاب التمش انکار کردے گی آج زاران عابدی کو دوسری بار
پر انکار سننا چاہتا ہوں سویرا کے ساتھ شادی کرنے کے لیے ہمت نہیں ہو رہی شاید تمہارے انکار سے کچھ حوصلہ مل جائے۔۔۔”
زاران نے سکرین کا رخ اپنی طرف کیا تھا پھر سے
“زاران۔۔۔۔”
اس نے گہرا سانس بھرا تھا زاران کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر۔۔۔۔
“زاران جب آپ نے واپس آجانے کے بعد سویرا کے ساتھ شادی کے لیے اپنی پسند کا اظہار کیا تھا میں کتنی بار گلہ کرنا چاہتی تھی اللہ سے آپ سے دادو سے پھوپھو سے۔۔۔
زاران مجھے دادی نے پھوپھو نے وہ خواب دکھا دئیے تھے جو ادھورے رہ جانے تھے کیونکہ ہمارا جوڑ نہیں تھا۔۔
پر گھر کے بڑوں کی مرضی تھی۔۔۔کب انکی مرضی میری چاہت بن گئی مجھے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔
مجھے لگتا تھا آپ مجھے رنگ کی وجہ سے الگ نہیں جانے گے پر آپ نے اس جگہ سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا واپس آنے کے بعد۔۔۔
پھر احساس ہوا کہ ایسا ضروری نہیں ہے جنہیں ہم چاہیں وہ بھی چاہت کریں ہماری۔۔۔
میں نے قدرت کا ہر فیصلہ خوشی خوشی تسلیم کیا کیونکہ میں جان گئی تھی جو نصیب میں نہیں لکھا ہوتا وہ نہیں ملتا۔۔۔
آپ بھی میرے نصیب میں نہیں لکھے ہوئے زاران۔۔۔
سویرا کا چلے جانا اسکی خطا ہے پر واپس آجانا اور پھوپھو کا ایک بار پھر سے اسے اپنانے کا فیصلہ سب قسمت کی طرف اشارہ ہے۔۔۔آپ اسے اپنا لیجیئے۔۔۔۔
اور ہم میں کبھی کچھ ایسا نہیں تھا جسے میں آپ کو بھول جانے کا کہہ سکوں۔۔۔
زاران زندگی میں ایک بات سیکھی ہے میں نے صبر کرنا اللہ کی حکمت سمجھ کر آگے بڑھ جائیں اپنا لیں اسے۔۔۔
ہمارا ساتھ نہیں لکھا ہوا تھا۔۔۔میں اس بات کو تسلیم کر چکی ہوں بہت پہلے۔۔۔اب آپ بھی کر لیجیئے۔۔۔۔
میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔۔۔۔”
نایاب نے سکرین پیچھے ہٹا دی تھی چہرے سے پر زاران نے اب کی بار موبائل پیچھے نہیں کیا تھا۔۔۔۔
“نایاب التمش ایک پچھتاوا لئیے کیسے نئی زندگی شروع کروں گا۔۔؟ تمہارے جتنا حوصلہ کہاں سے لاؤں گا۔۔۔؟؟
ہمارے درمیان اس وقت تمہاری آنا آگئی ہے نا۔۔۔؟؟ ورنہ تمہاری چاہت کبھی میرے لیے مر نہیں سکتی نایاب اتنا تو جانتا ہوں میں تمہیں۔۔۔
میں نے تمہیں اپنے غرور میں گنوا دیا اور اب تم اپنی آنا میں کھو رہی ہو مجھے۔۔۔۔
یہ آکسفورڈ گریجویٹ ہینڈسم لڑکے کو۔۔۔۔”
زاران نے اینڈ پر قہقہہ لگا دیا تھا۔۔۔۔
“لڑکا۔۔؟؟؟؟ آدمی بولیں اچھی خاصی عمر ہوگئی ہے۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔”
وہ ہنستے ہنستے رو دی تھی پر اپنی آواز اس پار جانے نہیں دی تھی اس نے۔۔۔۔
“نایاب التمش آج کے بعد زاران عابدی تمہیں کبھی تنگ نہیں کرے گا۔۔۔
وہ جو محبت کی چنگاری جلا دی تھی تم نے آج اپنے انکار سے بجھا بھی دی ہے۔۔۔۔اور مجھے اب بہت غصہ آرہا ہے آج پھر سے ٹھکرائے جانے پر”
زاران نے ایک آخری بات کہی تھی نایاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے
“غصہ کیجیئے اور نفرت بھی کیجیئے آپ کو آگے بڑھنے میں آسانی ہوگی جیسے مجھے ہوئی تھی زاران۔۔۔۔”
“تو تم مجھ سے نفرت کرنے لگی تھی۔۔۔؟؟؟”
“میں آپ سے اب بھی نفرت کرتی ہوں زاران۔۔۔شاید کرتی رہوں۔۔۔
آپ نے وہ میری زندگی کے چار سال میری ان چار ہزار پینٹنگز میں لگا دئیے جو میں نے اس امید پر بنائی تھی کہ شادی کے ہر دن آپ کو ایک پینٹنگ گفٹ کیا کروں گی۔۔۔پر وہ خواب بھی ادھورا رہ گیا آپ کی خوبصورت دنیا کے آگے۔۔۔۔
اپنا خیال رکھئیے گا زاران عابدی۔۔۔۔۔”
وہ فون بند کرگئی تھی زاران عابدی کو آبدیدہ۔۔۔اور رنجیدہ کر کے۔۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: