Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 11

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 11

–**–**–

“میں نے کبھی کبھی کسی سے اپنے اندر کی باتیں شئیر نہیں کی وہ باتیں جو طوفان برپا کر دیتی ہیں کبھی کبھی
دل گلے کو آجاتا ہے کبھی کبھی۔۔۔
دل میں ایک ہل چل سی مچ جاتی ہے کہ میں ہی کیوں۔۔۔؟؟
اللہ پاک کے خزانوں میں کوئی کمی تو نہیں
جب جب خوبصورت لوگوں کو دیکھتی ہوں سوچتی ہوں میرا رنگ ہی کیوں ایسا رہ گیا۔۔۔۔
پر وہ مایوسی بھی ختم ہو جاتی ہے جب اذان کی آواز میرے کانوں پر پڑتی ہے۔۔۔
پھر میں اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھتی ہوں۔۔۔
جن کے پاس رنگ تو ہوتا ہے پر وہ قسمت نہیں ہوتی کچھ نا کچھ تو ادھورا رہ جاتا ہے اور اللہ ہمیں اتنی خوبیوں سے نوازتا بھی تو ہے نا۔۔۔
پھر میرے گلے شکوے دم توڑ جاتے ہیں۔۔۔
آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوگا۔۔۔۔؟؟؟”
نایاب نے انکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا جو حرکت نہیں کر پا رہے تھے
“مجھے نہیں پتا کیوں آپ سے میں یہ سب شئیر کر رہی ہوں۔۔۔
پر آپ کی آنکھوں میں وہ درد نظر آرہا ہے مجھے پہلے دن سے۔۔۔۔
مجھے وہ لمس نہیں بھول پا رہے جو اس دن آپ کا میرا ہاتھ پکڑنے پر محسوس کئیے تھے میں نے۔۔۔
آپ جانتی میں نے انٹرنشپ ایکسیپٹ کر لی ہے۔۔۔ اس دن کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے مجھے آپ کی حفاظت کرنی چاہیے۔۔۔”
دلکش کی آنکھیں چھلک اٹھی تھی اور نایاب نے اپنے دوپٹے کے پلو سے انکی آنکھیں صاف کرنا شروع کر دی تھیں۔۔۔
“آپ کو پتا ہے ہم سیاہ رنگ کے لوگوں کی قسمتیں بہت تیز ہوتی ہیں
ہمیں دنیا سے جتنی نفرت ملتی ہے اللہ کی رحمتیں اتنی ہی زیادہ ہمیں ملتی ہیں مجھے لوگوں کی خوشی سے اب کوئی غرض نہیں رہا۔۔۔
مجھے میرے رب کی رضا چاہیے بس۔۔۔۔میں جتنا خوش ہوں نا اپنی زندگی سے۔۔۔میں اللہ کی شکرگزار ہوں آنٹی اور آپ بھی بہت جلدی ٹھیک ہوجائیں گی آپ دیکھ لیجیئے گا۔۔۔۔۔”
نایاب نے انکا چہرہ پوری طرح صاف کر دیا تھا۔۔۔۔
۔
“اسلام وعلیکم مس نایاب۔۔۔؟؟ ہم میٹنگ کے لیے لیٹ ہو رہے ہیں”
دروازہ کھول کر مس سمیرا نے نایاب کو یاد دلایا تھا
“اووو سوو سوری میم۔۔۔۔اوکے دلکش آنٹی اپنا خیال رکھئے گا۔۔۔۔”
نایاب نے آگے جھک کر انکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
آج ایک مہینہ ہوگیا تھا نایاب کو ان سے ملاقات کرتے ہوئے اور افنان یوسف کی کمپنی میں انٹرن کی پوسٹ پر کام کرتے ہوئے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زوبیہ باجی آپ نہیں جانتی ہم لوگ میٹنگ سے لیٹ ہوگئے ہیں شاپنگ کی وجہ سے۔۔۔”
“امی نے سختی سے کہا تھا تمہیں شاپنگ کروانے کا اب کم سے کم تم نے کپڑے لے لئیے ہیں امی کی کچھ پریشانی تو ختم ہوگی نا۔۔۔۔”
ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا تھا وہ تینوں بیٹھ گئی تھی گاڑی میں
“زوبیہ شکر ہے تم نے اسے کچھ لیکر دیا ورنہ نایاب میڈم کے پاس اپنے لیے نئے ڈریس لینے جتنا وقت نہیں تھا”
نایاب خاموش ہوگئی تھی۔۔۔وہ مشکور تھی ان لوگوں کی محبت کے پر اس نے سب شاپنگ اپنے جمع پیسوں سے کی تھی وہ کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی نا کسی کا کوئی احسان لینا چاہتی تھی وہ خود داری کے ساتھ یہاں۔رہنا چاہتی تھی جیسے پاکستان میں رہتی تھی۔۔۔
۔
“ڈرائیور چاچا گاڑی روکیں پلیز پلیز۔۔۔۔”
ڈرائیور نے ایک دم سے بریک لگا دی تھی اور نایاب جلدی سے نکل کر باہر آئی تھی تیز بارش میں جہاں ایک چھوٹے پپپی کو ایک شخص ایک سٹک سے مار رہا تھا
“نایاب وہ اسکا مالک ہے۔۔۔”
“زوبیہ باجی دیکھیں تو سہی وہ کیسے مار رہا ہے اسے پلیز کچھ کیجیئے”
۔
“بہت بحث کرنے کے بعد نایاب نے اس پپپی کو خریدنے کی بات کی تھی جس پر زوبیہ اور سمیرا ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں تھیں
“اس لڑکی کو شاید پتا نہیں افنان بھائی کتنے مخالف ہیں اس جانور کے”
سمیرا نے زوبیہ کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر زوبیہ کی آنکھوں میں ایک شرارتی مسکراہٹ آگئی تھی
“افنان بھائی کا تو خیال ہی نہیں آیا تھا۔۔۔انہوں نے ہماری نیویارک کی ٹریپ کینسل کروائی تھی نا اب دیکھنا زرا وہ خود نایاب کو بھیجیں گے ہمارے ساتھ۔۔۔۔”
زوبیہ نے اپنا پلان سمیرا کے کان میں بتایا تھا جس پر وہ دونوں قہقہے لگا کر ہنسی تھی۔۔۔۔
“آپ دونوں ہنس رہی ہیں پلیز کچھ کیجیئے۔۔۔۔”
“نایاب تم اسے خرید تو لو پر یہاں قانون ہے اسے آڈوپٹ کرنا ہوگا۔۔۔”
“تو ٹھیک ہے نا باجی میں کر لوں گی پاکستان میں بھی میری دو بیٹیاں ہیں ایک میری بطخ اور ایک بلی کا بچہ۔۔۔۔”
۔
نایاب کی اس بات پر وہاں کھڑی دونوں لڑکیوں کے منہ کھل گئے تھے۔۔۔
۔
وہ نایاب کو پچھلے ایک مہینے سے جہاں اتنا سنجیدہ اور کم گو سمجھ چکی تھیں آج نایاب کی یہ معصومیت بھی انہیں متاثر کر گئی تھی نایاب کی۔۔۔
بس پھر کیا تھا وہ پپپی کے مالک نے جتنے پیسے کہے نایاب نے فٹافٹ سے نکال دئیے زوبیہ اور سمیرا کے منع کرنے کے باوجود بھی
اور اب وہ اس پپپی کو اپنی گود میں بٹھا کر واپس آفس کی طرف بڑھ گئی تھی
“آپ دونوں اندر نہیں آئیں گی۔۔۔؟؟”
“نایاب میڈم میں تو میٹنگ میں جا رہی ہو افنان سر کا غصہ میں جانتی ہوں”
سمیرا گاڑی سے نہیں اتری تھی
“زوبیہ باجی آپ تو آۓ نا۔۔؟؟ مارکو کی آڈوپشن میں آسانی ہوگی افنان سر کو منانے میں”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔بھائی مان جائیں گے اس معصوم کو اپنا نام ضرور دیں گے۔۔۔
اور تم بھی تب تک ان کے کیبن سے باہر نا آنا جب تک وہ ہاں نا کر دیں۔۔۔۔
۔
نایاب وہاں سے پپپی کو اندر لے گئی تھی۔۔۔سکیورٹی گارڈ کے منع کرنے کے باوجود۔۔۔
اس نے اس پپپی کو افنان کے کیبن کے باہر کھڑی ہوکر اپنی سے نیچے اتارا تھا اسے پتا نہیں چلا کہ اسکے پیچھے ایک مجمع اکٹھا ہوگیا تھا سٹاف ممبرز کا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
باہر لان میں کرسیوں پر بیٹھ کر موسم سے لطف اندوز ہوتی وہ فیملی بہت عرصے کے بعد ایسے ساتھ بیٹھی تھی ایک دوسرے کے۔۔۔
کرسیوں کے درمیان التمش صاحب کی ویل چئیر تھی جو اپنے چھوٹے بھائی کی بچپن کی یادیں اور باتیں سن کر خوب اینجوائے کر رہے تھے انکے چہرے سے پتا چل رہا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا راحیل بھائی التمش بھائی کو تو انکی کیمسٹری کی ٹیچر بھی بہت پسند تھی انہوں نے لیٹر بھی لکھ ڈالا تھا۔۔۔”
التمش آنکھوں سے۔نا بتانے کا کہہ بھی رہے تھے پر انیسہ بیگم آج بہت خوشگوار موڈ میں تھیں اور آج بچے بھی پاس نہیں تھے صرف وہ بڑے بزرگ تھے گھر کے۔۔۔
“ہاہاہاہا اور مجھے لگا تھا التمش کے دل پر بس میں نے راج کیا تھا۔۔۔”
یاسمین بیگم نے شرارتی لہجے میں کہا تھا جس پر سب نے اور قہقہے لگاۓ تھے۔۔۔۔
ہنستے ہنستے ان لوگوں کی نظریں زاران پر چلی گئیں تھیں جو جوتے اتار کر اس تالاب کے پاس بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا ویسے انیسہ جس طرح نایاب کے آڈوپٹڈ بچوں کی دیکھ بھال کر رہا زاران کہیں آڈوپٹ تو نہیں کرنے والا۔۔۔۔؟؟ سویرا مانے گی نہیں۔۔۔۔”
راحیل صاحب کی بات پر اور زور سے ہنس دئیے تھے سب اور اب بلکل سب کی نظریں زاران پر تھیں۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم جانتی ہو تم میں ساری عادتیں تمہاری ماں جیسی ہیں۔۔۔
بدتمیز بد دماغ بد لحاظ۔۔۔”
زاران پانی کے تالاب میں ٹانگیں رکھے بیٹھ گیا تھا اور پانی میں تیرتی ہوئی بطخ کو دوسری سفید بطخ سے الگ تھلگ دیکھ کر زاران نے طعنہ دیا تھا جو اس بطخ نے پوری طرح سے اگنور کردیا تھا کیونکہ وہ زاران کے پاس بلکل نہیں آئی تھی جیسے وہ نایاب کے پاس بھاگتی ہوئی جاتی تھی۔۔۔۔
“ہممم تمہیں پتا ہے تمہاری امی نے پھر سے انکار کردیا مجھے۔۔۔اور اب خوبصورت ڈیڈی نہیں ہے تمہارے نصیب میں۔۔۔”
زاران بچوں کے جیسے باتیں کر رہا تھا اسکے پاس کوئی ایسا نہیں تھا جو اسکی سن لیتا بنا اسے جج کئیے۔۔۔۔
افنان سے بات نہیں ہو پا رہی تھی اسکی۔۔۔
اپنی امی سے ناراض تھا وہ ہر طرح سے وہ مجبور ہورہا تھا اسے مجبور کیا جا رہا تھا۔۔۔۔
۔
“کتنی آسان تھی زندگی میری اور کتنی الجھ گئی ہے اب۔۔۔ ایک طرف وہ خوبصورت لڑکی جس سے کبھی شادی کی خواہش کی تھی اب دسترس میں ہے تو مجھے وہ خوشی نہیں مل رہی میری چاہت وہ چاہت نہیں رہی
اور ایک وہ لڑکی جو چار سال تک میری راہ تکتی رہی مجھ سے محبت بھی تھی میری چاہت بھی تھی اسے۔۔۔
پر میرے انکار نے اسے بد ظن کردیا۔۔۔ کیا اتنا آسان تھا نایاب التمش آگے بڑھ جانا۔۔۔؟؟؟”
زاران کی آنکھیں بند ہوگئیں تھیں جب بھاری ہوگئیں تھیں پانی سے
اسکی آنکھوں کا وہ پانی جنہیں وہ آنسو بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔۔۔
وہ ڈرتا تھا اپنی کمزوری دیکھانے سے وہ ڈرتا تھا نایاب التمش کے لیے آنسو بہانے سے۔۔۔
اسکو اسکے یہی ڈر لے ڈوبے اور اسے خبر تب ہوئی جب کچھ نہیں رہا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی ابو۔۔۔۔وہ نعمان بھائی اور انکی فیملی آئی ہیں میں نے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا ہے۔۔۔۔”
سنی یہ کہہ کر چلا گیا تھا اور جو سب ہنس رہے تھے ایک دم سے پریشان سے ہوگئے تھے سب۔۔۔۔
“نعمان تو باہر چلا گیا تھا نا سکالرشپ پر۔۔۔؟؟”
انیسہ نے اپنے شوہر کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
“یہ تو چل کر پتا چلے گا انیسہ باجی۔۔۔۔”
راحیل صاحب کی بیگم اور یاسمین بیگم بھی اٹھ گئی تھی۔۔۔
“میں التمش کو کمرے میں لے جاتی ہوں۔۔۔”
“بھابھی مجھے لگتا ہے وہ لوگ بھائی سے ملنے آۓ ہیں۔۔۔میں انہیں ڈرائنگ روم میں لے چلتی ہوں آپ لوگ کچھ کھانے پینے کا انتظام کر لیجیئے۔۔۔”
انیسہ آفاق اور راحیل صاحب کے ساتھ اندر چلی گئیں تھیں۔۔۔۔
۔
“اسلام وعلیکم شمس بھائی “
راحیل صاحب نے آگے بڑھ کر بہت خلوص کے ساتھ گلے ملے تھے اور بچوں کے سر پر پیار دیا تھا
“اسلام وعلیکم آپ سب کو۔۔۔ہم نے بن بتاۓ آکر آپ لوگوں کو تکلیف تو نہیں دی نا۔۔۔؟؟”
نعمان کی امی نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔
“بلکل بھی نہیں آپ کا اپنا گھر پلیز تشریف رکھیں۔۔۔۔”
نعمان اٹھ کر ملا تھا اور اپنی بیساکھیوں کو ساتھ رکھ بیٹھ گیا تھا التمش صاحب کے پاس وہ۔۔۔۔
“ہمم۔۔۔سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں میں التمش۔۔۔ ایک بار پھر آۓ ہیں ہم نایاب بیٹی کا ہاتھ مانگنے۔۔۔”
سب سے زیادہ شوکڈ انیسہ اور التمش ہوۓ تھے۔۔۔۔
“پر بھائی صاحب نعمان کی سکالرشپ تو ابھی مکمل نہیں ہوئی اور نایاب ابھی۔۔۔”
“آنٹی میں جانتا ہوں پر میں وہاں اپنی فیملی کے ساتھ شفٹ ہونا چاہتا ہوں جہاں مجھے نوکری ملی ہے انہوں نے مجھے افر کی ہے۔۔۔”
نعمان نے امید بھری نظروں سے دیکھا تھا سب کو
“اور تمہارے علاج کا کیا ہوا بیٹا۔۔۔؟؟”
اس بار یہ سوال یاسمین بیگم نے پوچھا تھا
“آنٹی میرا علاج ناممکن سی بات ہے ان کے لیے۔۔۔ کچھ لیٹیسٹ ٹیکنولوجی سے شاید مجھے ان بیساکھیوں کی ضرورت نا پڑے پر میں جیسا ہوں اب خوش ہو اپنی اس زندگی کے ساتھ۔۔۔۔ذیادہ پانے کی کوشش میں میں یہ سب نہیں کھونا چاہتا۔۔۔۔”
انیسہ نے گہرا سانس بھرا تھا اور وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔
“نعمان بیٹا تمہارے جانے کے بعد نایاب نے بھی سکالرشپ ایکسیپٹ کرلی تھی۔۔۔اور وہ چار سال سے پہلے۔۔۔۔”
“انیسہ باجی نایاب چھٹی کے لیے تو آ سکتی ہے نا۔۔؟ مجھے اس رشتے سے کوئی انکار نہیں اور التمش کو بھی نہیں ہوگا۔۔۔”
یاسمین بیگم نے انیسہ کی بات کو کاٹ دیا تھا
“پر مجھے اس رشتے سے انکار ہے۔۔۔”
زاران نے للکار کر کہا تھا سب اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تھے
“زاران بیٹا تمہیں بھلا کب سے دلچسپی ہونے لگی۔۔۔؟ یہ معاملہ گھر کے بڑوں پر چھوڑ دو بیٹا۔۔۔”
کنول چچی نے سختی سے کہا تھا
“چچی مجھے دلچسپی اس لیے ہے کیونکہ نایاب میری ہونے والی بیوی ہے۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟؟”
نعمان آگے بڑھا تھا اسکے جسم سے جیسے جان نکل رہی تھی وہ بہت امید سے آیا تھا یہاں اور اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی امید ٹوٹتے ہوئے دیکھنا برداشت نہیں ہو پا رہا تھا اس سے۔۔۔
“انف زاران اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔۔”
انیسہ نے آگے بڑھ کر اسے طیش سے کہا تھا پر ان سنا کر دیا تھا زاران نے اور ٹھیک نعمان کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا
“زاران بھائی آپ تو سویرا باجی کے ساتھ شادی کرنے والے تھے آپ کی منگنی ہوگئی تھی پھر اب۔۔۔؟؟”
نعمان نے بہت اط سے پوچھا تھا
“میری شادی سویرا سے نہیں ہوئی اور کبھی ہوگی بھی نہیں کیونکہ ہمارے گھر کے بڑے پہلے ہی میری اور نایاب کی شادی تہہ کرچکے تھے ہمارے بچپن میں۔۔۔
میری مرحوم دادی کی آخری خواہش تھی یہ۔۔۔اور مجھے یقین ہے میری امی اور دونوں مامو اپنی امی کی یہ خواہش ضرور پوری کریں گے۔۔۔”
“زاران ایسا ممکن نہیں ہے۔۔۔۔”
راحیل صاحب نے غصے سے کہا تھا
“کیوں مامو۔۔۔؟ بات آپ کی بیٹی کی ہے اس لے بلی کا بکرا میں بنو آپ۔۔”
زاران کو ایک زور دار تھپڑ مارا تھا انیسہ نے
“بدتمیزی کی بھی ایک حد ہوتی ہے زاران معافی مانگو ابھی۔۔۔”
“امی میں نے بہت سوچا۔۔آپ کی قسم آپ کا وہ مجھے قسمیں دینا وعدے لینا مجھ سے۔۔۔پر نایاب التمش کو میری ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔”
وہ واپس مڑا تھا جانے کے لیے پر نعمان کی اگلی بات نے قدم روک دئیے تھے اسکے
“نایاب آپ سے کبھی شادی کے لیے ہاں نہیں کرے گی زاران بھائی آپ آزما لیں۔۔۔”
“تم ہو کون۔۔۔؟؟ اوقات کیا ہے تمہاری۔۔۔؟؟”
زاران نے کندھے سے نعمان کو پیچھے دھکیلا تھا جس کی وجہ سے نعمان پیچھے صوفے پر گر گیا تھا اور اسکی بیساکھیاں نیچے زمین پر۔۔۔۔
۔
“معذور وہ نہیں معذور آپ ہیں زاران۔۔۔۔”
۔
زاران سب کو ان سنا کر کے اس کمرے سے نکل آیا تھا پر نایاب کی کہی ہوئی بات نے اسے واپس اندر جانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔
زاران نے کمرے میں داخل ہوکر نعمان کی وہ بیساکھیاں اٹھا کر دی تھی اسے۔۔۔
سب لوگ اسکے پاس اکھٹے تھے
“نعمان۔۔۔ایم سوری۔۔۔مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔”
زاران کی معافی پر سب ششدر رہ گئے تھے
“پر نعمان۔۔۔ اب تمہارا اور نایاب کا رشتہ نہیں ہوسکتا۔۔۔ یہی نصیب میں لکھا تھا اسے ایکسیپٹ کرو۔۔۔
ایم سوری راحیل مامو۔۔۔۔پر اب میں اپنی غلطیوں کو سدھارنا چاہتا ہوں۔۔۔
میں اسی ہفتے نایاب کو لینے جا رہا ہوں۔۔۔۔بس بہت من مانی کر لی اس نے۔۔۔”
زاران وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔ سب کے چہروں پر اداسی چھا گئی تھی گہری اداسی۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مسٹر افنان یوسف آپ کو میرے بیٹے کو اپنا نام دینا ہی ہوگا”
نایاب نے بنا ناک کئیے افنان کے کیبن کا دروازہ کھولا تھا اور اندر چلی گئی تھی
“وٹ دا۔۔۔۔”
افنان نے ابھی چائے کا سپ لیا ہی تھا کہ ایک دم سے نایاب کی بات سن کر اسکا وہ سپ منہ سے باہر نکل آیا تھا کھانسی کرتے افنا اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
“آپ کو میرے بیٹے۔۔۔میرا مطلب میرے آڈاپٹڈ بچے کو۔۔افف
میرا مطلب ہے مارکو کو اپنا نام دینا ہوگا۔۔”
“مس نایاب سیریسلی۔۔؟راتوں رات کونسا بچا آگیا۔۔؟ اور تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔۔؟
یا اللہ کیا ہوگیا مس ڈونٹ ٹچ مئ کے ٹیگ کو۔۔؟؟”
افنان غصے سے چلایا تھا
“دیکھیں افنان سر مجھے مارکو کو آڈوپٹ کرنا ہے اور۔۔۔ فادر کے بغیر نہیں کر سکتی میرا مطلب۔۔”
نایاب کو الفاظ نہیں مل رہے تھے
“ہولڈ آن لڑکی۔۔۔مارکو کون ہے کہاں ہے۔۔؟؟”
افنان اپنا سر پکڑ کر ڈیسک پر بیٹھ گیا تھا اور بہت آرام سے نایاب سے پوچھا تھا
“مارکو۔۔۔مارکو بیٹا اندر آؤ۔۔۔”
افنان نایاب کا شفقت سے بھرے لہجے کو دیکھ کر حیران ہوگیا تھا
“اور کیچڑ سے بھرا ہوا ایک پپپی آرام آرام سے کیٹ واک کرتے ہوئے اندر کیبن میں آگیا تھا۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
افنان جس طرح ڈیسک سے اٹھا تھا وہ چائے کا مگ بھی گر گیا تھا نیچے اور افنان نے کیبن کے کھلے دروازے سے باہر دیکھا تو آفس کا پورا سٹاف کیبن کی طرف دیکھ رہا تھا
افنان نے جب وائٹ ماربل والے فرنشڈ فلور کو دیکھا آفس کے تو وہاں دو نہیں چار کیچڑ سے بھرے قدموں کے نشان تھے۔۔۔
افنان نے واپس نایاب کے قدموں کی طرف دیکھا تو اس کے جوتے بھے کیچڑ سے لت پت تھے
افنان کے کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہوگیا تھا پر نایاب کو جیسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا
“مس نایاب آپ مس سمیرہ کے ساتھ ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے گئیں تھی ایکسپلین کریں یہ جانور کیا کر رہا ہے میرے آفس میں۔۔؟؟”
“جانور۔۔؟؟ جانور بھی انسان کی طرح ہوتے ہیں۔۔
یہ راستے میں ملا۔۔اس بیچارے کا مالک بھی آپ کی طرح نکلا ظالم جابر اسی اتنی طوفانی بارش میں مار پیٹ رہا تھا۔۔
مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں اسے کے مالک سے خرید لائی اسے۔۔۔مارکو بےبی۔۔”
نایاب نیچے جھک گئی تھی
“خرید لائی۔۔؟؟”
“جی اپنے پورے منتھ کی سیلری سے۔۔اسکا مالک فری میں نہیں دے رہا تھا اور اسکی پٹائی کر رہا تھا۔۔۔”
“پورے مہینے کی سیلری۔۔؟ یا اللہ تم دماغ سے پیدل ہو کیا۔۔؟؟”
افنا ن کا سر چکرانا شروع ہوگیا تھا
“ایکسکئیوزمئ۔۔مجھے انسلٹ کرنے سے پہلے اس بیچارے کی حالت دیکھے زرا۔۔”
دیکھتے ہی دیکھتے نایاب نے اپنی گود میں اٹھا کر افنان کے سامنے کیا تھا جو جھٹکے سے پیچھے ہوگیا تھا
“اوے پاگل لڑکی میرے کپڑۓ خراب کرواو گی کیا پیچھے رکھو۔۔۔”
افنان دس قدم پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
“مجھے بار بار پاگل نا کہیں آپ کی مدد چاہیے اسکا مطلب نے آپ کی باتیں سنوں گی میں۔۔
مجھے اسے لیگلی آڈوپٹ کرنا ہے۔۔اور میں یہاں کی نہیں ہوں آپ ہو سوو آپ کو اسکے فادر والے خانے میں اپنا نام لکھنا پڑے گا پیپرز پر آڈوپشن کے۔۔۔”
افنان اب غصے سے اپنے بال نوچنے کو تھا
“افنان یوسف آپ کو اپنا نام دینا ہی ہوگا مارکو کو”
“میں نہیں دوں گا اس کتے کے بچے کو اپنا نام”
“آپ کو شرم نہیں آتی گالی نکالتے ہوئے بدتمیز کہیں کے”
“وٹ دا ہیل مس نایاب وہ کتے کا بچہ ہے تو اسے”
خبردار۔۔ایک اور لفظ نہیں وہ اب میرا بیٹا ہے””
“اففف خدایا کہاں پھنس گیا ہوں میں”
“مسٹر افنان یوسف آپ کو آڈوپشن پیپرز فادر کی جگہ سائن کرنے ہیں بس۔۔۔”
“لائک سیریسلی۔۔؟ اب میری پہلی اولاد یہ ہوگی یہ پپپی۔۔؟”
“ارے مارکو کہیں اسے ما-ر-کو۔۔۔۔”
“لڑکی میرا میٹر ڈاؤن نا کرو خدا کی قسم انٹرنشپ کینسل کردوں گا
اور تم کہاں رکھوں گی اپنے بیٹے کو۔۔؟ تمہیں پتا ہے نا اسکی اجازت نہیں ہے گھر میں نہیں رکھ سکتے”
افنان ایک دم سے سیریس ہوگیا تھا
“میں جانتی ہوں میں اسے اپنے پاس نہیں رکھوں گی میں اسے کئیر سینٹر میں رکھوا دوں گی اور ہر مہینے پیسے جمع کرواتی رہا کروں گی”
نایاب نے بہت معصومیت سے جواب دیا تھا جس پر افنان یوسف کی بولتی بھی بند ہوگئی تھی۔۔
“امی۔۔۔۔۔۔یا اللہ یہ بلا امی کی درخواست پر میرے گلے پڑی ہے۔۔۔”
افنان نے ٹائی اتار دی تھی اور ایک دم سے چلا دیا تھا
“آپ کیوں مارکو کو ڈرا رہے ہیں۔۔؟؟ ششش بیٹا۔۔۔”
نایاب اس پپپی کو چپ کروا رہی تھی جو رو بھی نہیں رہا تھا
“امی۔۔۔۔۔۔۔”
اب کی افنان اپنے سر کے بال نوچتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اب کچھ بتاؤ گی بھی کیوں ہنسی جا رہی ہو۔۔؟؟”
زیبا بیگم نے ملازمہ سے رائس کی ٹرے پکڑ کر ڈائیننگ ٹیبل پر رکھ دی تھی ڈنر کرنے کے لیے سب اپنی اپنی چئیر پر بیٹح گئے تھے بس انتظار تھا تو افنان کا
اور زوبیہ کی ہنسی بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
“زوبیہ بیٹا کیا مسئلہ ہے۔۔؟”
یوسف صاحب کی بات پر وہ اور کھکھلا کر ہنسی تھی
“مبارک ہو ابو آپ راتوں رات پھر سے دادا بن گئے ہیں۔۔۔ہاہاہا”
اس نے زور کا قہقہ لگایا تھا اسی وقت افنان کوٹ ایک ہاتھ میں پکڑے اور دوسرے ہاتھ میں وہ آڈوپشن پیپرز کی کاپی پکڑے گھر میں داخل ہوا تھا فل غصے میں
“افنان بھائی مبارک ہو۔۔۔مارکو کو ساتھ نہیں لائے۔۔؟”
اس سے پہلے افنان زوبیہ کے کان کھینچتا وہ اٹھ کر اپنے ابو کے پیچھے چھپ گئی تھی
سب اینجوائے بھی کر رہے تھے اور زوبیہ کی باتوں پر حیران بھی بہت تھے۔۔
“کیا بات ہے افنان زوبیہ۔۔؟؟ مارکو کون ہے۔۔؟؟”
اس بار زیبا بیگم نے سختی سے پوچھا تھا
“وہ امی کچھ نہیں۔۔۔”
“ارے بھوئی شرمانا کیسا اب تو اپ لیگلی بن گئے ہو۔۔”
“زوبیہ کی بچی اگر کچھ بولا تو سب کچھ بند کر دوں گا میری طرف سے کوئی پاکٹ منی نہیں۔۔۔”
زوبیہ سوچ میں پڑ گئی تھی کچھ پل کو۔۔۔
“اگر زوبیہ تم نے نہیں بتایا تو میں پاکٹ منی بند کر دو اور میں جیب خرچ زیادہ دیتا ہوں۔۔۔”
ازیان نے افنان کو چھیڑا تھا اور
“اور میں بھی۔۔۔”
یوسف صاحب نے بھی اب وہ بات سننی تھی
“سیریسلی گائیز۔۔۔؟؟”
افنان نے وہ پیپرز ٹیبل پر پٹک دئیے تھے۔۔۔اور بیٹھ گیا تھا اپنی سیٹ پر۔۔
بس پر سب سے پہلے وہ پیپرز زیبا نے پکڑۓے تھے۔۔۔اور ان کے بعد یوسف صاحب پھر ازیان صاحب اور انکی وائف سب پیپرز پڑھنے کے بعد افنان کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
اور کچھ سیکنڈز کے بعد سب کیے ہنسنے کی آوازیں ہر طرف گونجنے لگی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔مارکو۔۔۔۔؟؟؟”
زیبا بیگم نے ہنستے ہوئے افنان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا تھا اور اسکے سر کے باقی کے بال بھی خراب ہوگئے تھے
“نایاب اتنی جھلی کیسے ہوسکتی ہے۔۔؟ وہ تو بہت سنجیدہ مزاج لڑکی ہے۔۔۔”
“ہاہاہا کریڈٹ مجھے دیجئیے۔۔۔آئیڈیا میرا تھا۔۔۔اور وہ سچ سمجھ بیٹھی اور اٹھا لیا مارکو کو۔۔۔”
زوبیا کی ہنسی تب ختم ہوئی تھی جب زیبا نے کان کھینچے تھے
“زوبیا ایسا کیوں کیا بیٹا۔۔؟”
“افنان بھائی نے ہماری ٹریپ کینسل کروا دی بدلہ تو لینا تھا نا۔۔؟
پر نایاب واقع بہت بھولی ہے۔۔”
سب پھر سے بیٹھ گئے تھے
“بھولی۔۔؟؟ احمقانہ ہے۔۔۔بھلا اتنی بیوقوفانہ حرکت۔۔؟؟ امی آپ کے لیے اسے انٹرنشپ پر رکھا پچھلے ایک مہینے سے وہ ہر وہ کام کر رہی جس سے اسے منع کیا جاتا ہے۔۔۔” افنان اب بہت اِریٹیٹ ہوکر سب بتانا شروع ہوگیا تھا
“افنان وہ ٹیلنٹڈ بچی ہے وہ ہر وہ کام کرے گی جو اسے سہی لگتا ہو۔۔۔سو برداشت کرنا سیکھو۔۔۔”
زیبا بیگم اپنی ہنسی دباتے ہوئے افنان کے پاس بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا ویری فنی امی۔۔۔آپ سوچ نہیں سکتی کتنا شرمندہ ہوا ہوں اس نے مارکو کو میری گود میں بٹھا دیا تھا اور پھر بعد میں اسے ڈاکٹر کے پاس بھی لیکر گئی۔۔۔”
“ہاہاہا بھائی میں تو سوچ رہی ہوں جب نایاب کو سب سمجھ آئی گی کیا حالت ہورہی ہوگی اسکی۔۔؟؟ ہاہاہا وہ تو آپ سے زیادہ شرمندہ ہوگی۔۔۔”
“اسکی حالت تو تب پتا چلے گی جب وہ اگلے ہفتے تک آفس آئے گی دیکھ لینا اس نے منہ چھپاتے پھرنا ہے جب اسے اپنی احمقانہ بچگانہ حرکت کی سمجھ لگے گی۔۔۔”
افنان کے چہرے پر ایک پوشیدہ مسکراہٹ تھی
“نایاب کے آنے سے دلکش بھابھی کی صحت پر بہت اچھا اثر پڑ رہا ہے یوسف آپ نے غور کیا ۔۔؟؟”
زیبا کی آنکھوں میں ایک دکھ تھا جو صرف یوسف صاحب دیکھ پارہے تھے
۔
“ہمم پر۔۔زرین بھابھی کا کیا کرنا ہے وہ آرہی ہیں اگلے ماہ واپس۔۔؟”
سب لوگ خاموش ہوگئے تھے
“کیا مطلب کیا کرنا ہے ابو۔۔؟ سلمان چاچو پر انکا بھی اتنا ہی حق تھا جتنا دلکش چچی کا
اگر آپ لوگ اتنی عزت دلکش چچی کو دے رہے ہیں تو زرین چچی کو بھی دیجئیے
وہ بھی بیوہ ہیں سلمان چاچو کی جیسے کے دلکش چچی۔۔
اور ایک طرح سے دیکھا جائے تو زرین چچی کے ساتھ بہت ناانصافی ہوئی ہے انکے شوہر نے دوسری شادی کرلی پاکستان جاکر یہاں واپس آئے بھی اپنے بیوی کے ساتھ اور جب انکا وقت تھا اپنے پہلے رشتوں کو منانے کو وہ دنیا چھوڑ گئے۔۔۔”
افنان کی باتیں بہت کڑوی اور لہجہ بہت اکھڑا اکھڑا لگا تھا زیبا کو
“افنان تم ابھی تک اپنا نہیں پائے دلکش بھابھی کو۔۔۔ان سب میں وہ بےقصور ہیں میں نہیں جانتی کس نے تمہیں اتنا سب کچھ بتایا پر جس نے بھی بتایا اسکی کوشش کامیاب ہوگئی تمہیں دلکش بھابھی کے خلاف کرنے کی۔۔۔
پر بیٹا یاد رکھنا جو ہم دیکھتے ہیں کبھی کبھی وہ بھی آنکھوں کا دھوکہ ہوتا ہے۔۔”
بنا کچھ کھائے زیبا بیگم وہاں سے چلی گئیں تھیں
۔
“ابو میں کسی کے بھی خلاف نہیں ہوں۔۔پر امی کی ایک بات سچ ہے میں دلکش چچی کو اپنا نہیں پایا ہوں میری نظر میں زرین چچی ہی سلمان چاچو کی بیوی ہیں۔۔۔”
افنان کا لہجہ اب نفرت سے بھرپور تھا۔۔
“ابو حقیقت میں کیا ہوا تھا۔۔؟ جہاں تک میں جانتا ہوں چاچو تو بڑی امی کے ساتھ پاکستان کسی رشتےدار کی فوتگی پر گئے تھے پھر جب واپس آئے تو دوسری بیوی کے ساتھ۔۔۔؟ اور میرے سننے میں آیا تھا وہ دادا ابو کے انتقال پر بھی نہیں شامل ہوئے تھے اور۔۔۔”
“اننف۔۔۔بس ازیان۔۔۔میرا بھائی ابو کے انتقال کے وقت میرے ساتھ تھا ہم بیٹوں نے کندھا دیا تھا اپنے باپ کو۔۔۔سلمان کے ارادے ہمیشہ سے نیک تھے۔۔
مجھے فخر ہے اپنے بھائی پر۔۔دوسری شادی کرنا کوئی گناہ نہیں۔۔۔ سلمان نے جو بھی کیا وہ اس وقت کی ضرورت تھی بیٹا۔۔بس اتنا جان لو دلکش بھابھی سے اسکی شادی ایک خوش آئین فیصلہ تھا سلمان کا۔۔زرین نے اگر یہ گھر چھوڑا بچوں کو یہاں سے لے گئی تو یہ اسکا فیصلہ تھا۔۔
حقیقت کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہوا تھا پاکستان سوائے چار لوگوں کے۔۔۔”
اور وہ وہاں سے اٹھ گئے تھے۔۔۔
“ابو کون ہیں وہ تین لوگ۔۔؟؟” زوبیہ نے والد کا ہاتھ پکڑ لیا تھا یہ ٹاپک بہت سینسٹیو ٹاپک تھا سب کے لیے سب اس راز سے پردہ اٹھانا چاہتے تھے پر پہل کرنے کی ہمت کسی میں نہیں ہوتی تھی
“بڑی امی۔۔سلمان بھائی۔۔۔دلکش بھابھی۔۔اور تمہاری ماں۔۔۔”
اور وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
پیچھے ان تینوں کی سوچ کو اور پیچیدہ کر کے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“میں نے اتنی بڑی بیوقوفی کیسے کردی یااللہ کیا سوچ رہے ہوں گے آفس والے میرے بارے میں۔۔؟ ایک پپپی کو میں اٹھا کر لے گئی اور اتنی بڑی بات کہہ دی۔۔”
نایاب ایک بار پھر بستر سے اٹھ گئی تھی اور دوسرے بیڈ پر لیٹی شانزے سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی
“نایاب ناخن کھانا بند کرو پلیز۔۔۔”
“نہیں کھا رہی میں نے کھانا پیٹ بھر کر کھایا تھا۔۔۔”
نایاب نے ویسے ہی فنی سا الٹا جواب دیا تھا جس پر شانزے نے قہقہ لگایا تھا
“اچھا چبانا بند کرو۔۔۔اور ایسے چکر نہیں لگاؤ یار میرے سر میں دردر شروع ہوگیا ہے تم پچھلے دو گھنٹے سے ایسے ہی کر رہی ہو یہاں آکر بیٹھو۔۔۔”
شانزے نے زبردستی اسکا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا تھا
“تم سمجھ نہیں رہی شانزے ۔۔۔وہ لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔افنان سر کا وہ چہرہ اور وہ تاثر بھول نہیں پا رہی خوب ہنس رہے ہوں مجھ پر کہ میں کتنی احمقانہ بات کر آئی اوپر سے اس آڈوپشن سینٹر میں انکو زبردستی لے گئی تھی اور سائن کروا لئیے تھے۔۔۔
یا اللہ میری امیج ڈیمیجڈ ہوگئی وہ لوگ سمجھ رہے ہوں پتا نہیں کیسے تربیت ہے میری جو منہ اٹھا کر ایسی بات کر دی۔۔۔”
نایاب زرا چپ نہیں ہوئی تھی مارکو وہ کئیر سینٹر میں چھوڑ آئی تھی اور افنان یوسف نے غصے سے ڈرائیور کو کہا تھا نایاب میڈم کو گھر چھوڑ آنے کا تب سے اب تک یہی حال تھا نایاب کا جیسے جیسے اسے سمجھ آرہی تھی اپنی کہی ہوئی باتیں۔۔
“نایاب۔۔۔نایاب بس۔۔۔میری بات سنو۔۔۔ تمہاری امیج خراب نہیں ہوئی اور کبھی ہوگی بھی نہیں کیونکہ جس طرح کی لڑکی تم ہو نا تم غلطیاں کر کے پچھتانے والی لڑکیوں میں سے نہیں تم پچھتائے جانے سے پہلے سوچ لیتی ہو تم نے کوئی ایسی غلطی کرنی نہیں۔۔
یہ جو تم نے آج کیا ہے یہ تمہاری اصل امیج ہے۔۔تمہاری اچھائی۔۔تم نے اس جانور کو ظلم سہتے دیکھا تم سے رہا نہیں گیا۔۔ تم نے اپنی سیلری بھی دے دی جس کے لیے تم نے دن رات محنت کی اس کمپنی میں۔۔۔تم نے اپنی بیوقوفی نہیں دیکھائی تم نے دیکھایا ہے کہ تم نے ایک اچھا کام کرنا تھا لوگوں سے بنا ڈرے تم نے وہ کیا “
نایاب کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بہت اطمنان سے سمجھایا تھا شانزے نے اسے
سب کچھ۔۔۔
“پر شانزے۔۔۔میں آفس نہیں جا رہی پورا ہفتہ۔۔بس”
اور نایاب اپنے بستر پر لیٹ گئی تھی ساری رات وہ وہی باتیں سوچ رہی تھی اور جاگ کر گزاری تھی پوری رات اسے پریشانی اس قدر ہوئی تھی کہ اگلی صبح اسے ٹمپریچر ہوگیا تھا
۔
۔
“لوو میڈم اب تو بہانہ بھی مل گیا تھا ایک سو دو بخار لڑکی چلو ڈاکٹر کے۔۔”
نایاب نے منہ کمفرٹ میں چھپا لیا تھا
نہیں شانزے مجھ سے نہیں جایا جائے گاپلیز۔۔۔”
اسکی آواز میں بہت تھکاوٹ تھی کہ شانزے نے ریسیپشن پر جاکر سٹاف لیڈی سے ڈاکٹر کو ہوسٹل بلانے کی ریکویسٹ کی تھی۔۔۔
۔
“یہ لڑکی کبھی پہاڑ کے جیسے مظبوط نظر آتی ہے تو کبھی موم کی طرح نرم
نایاب التمش بےشک کمزور نہیں پر حساس ضرور ہے۔۔۔۔”
شانزے کچھ دیر بعد لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ واپس روم میں آگئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ایک ہفتے بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“اک خواب نے آنکھیں کھولی ہیں۔۔۔
کیا موڑ آیا ہے کہانی میں۔۔۔”
۔
زاران نے گاڑی بہت پیچھے کھڑی کر دی تھی۔۔سامنے بارش میں بھیگتی ہوئی لڑکی نایاب التمش لگ ہی نہیں رہی تھی اس کے چہرے پر وہ مسکان تھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی زاران عابدی نے
“وہ بھیگ رہی ہے بارش میں۔۔۔
اور آگ لگی ہے پانی میں۔۔۔”
زاران گاڑی سے نیچے اتر گیا تھا اور نایاب تک قدم بڑھاتے ہوئے چند قدموں کے فاصلے نے اسے بھیگا دیا تھا پوری طرح
اور جب وہ نایاب کے پاس پہنچا تو نایاب نے پیچھے پڑ کر دیکھا تھا
“زاران۔۔؟؟”
“ہاں میں۔۔تمہیں کیا لگا تھا میں اپنی آخری کوشش نہیں کروں گا نایاب التمش۔۔”
نایاب کی آنکھوں میں بے یقینی دیکھ کر وہ ایک قدم اور آگے بڑھا تھا
“تمہیں گھر لے جانے آیا ہوں”
“زاران۔۔۔”
“شش ضدی ہونا اچھی بات ہے پر اتنا ضدی بھی نا ہو کہ کہ کسی دوسرے کی خوشیاں برباد ہوجائیں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوئے محبت میں ٹھکرائے ہوئے عاشق کچھ نہیں مانگتے سوائے اس ہاتھ کے کہ جس کو پکڑ کر انہوں نے جینا ہوتا ہے انکے جینے کی آخری امید توڑا نہیں کرتے نایاب التمش۔۔۔
چلو گی نا میرے ساتھ۔۔؟؟”
اور نایاب نے ہاں میں سر ہلا کر اپنا ہاتھ زاران عابدی کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا۔۔۔
“نایاب۔۔۔”
اور دم سے پیچھے سے ہارن کی آواز سے زاران اپنے خوابوں کی دنیا سے باہر آگیا تھا جو نایاب کو بھیگتے دیکھ کر کھو سا گیا تھا۔۔۔۔
۔
“مس سمیرا یہ چھتری لے جائیں ورنہ اس لڑکی کو اور بہانہ مل جائے گا اگلے ہفتے کی چھٹی کا۔۔۔”
۔
“آپ کو کیا لگتا ہے میں اسکے پاس یہ لیکر نہیں گئی ہوں گی افنان سر۔۔؟؟”
سمیرا نے کچھ فائلز افنان کے ٹیبلز پر رکھ دی تھی
“جو کمی اس دن پوری نہیں ہوئی وہ میڈم آج پوری کر دیں گی اپنے پیچھے بھگا بھگا کر آپ چھتری لیکر جائیں میں آتا ہوں۔۔”
سمیرا ہنسی چھپاتے ہوئے کیبن سے چلی گئی تھی اور پھر لفٹ سے فرسٹ فلور اور پھر آفس سے باہر جہاں پارکنگ میں نایاب مارکو کے ساتھ بارش میں بنا کسی کی فکر کئیے اینجوائے کر رہی تھی
۔
“نایاب التمش ایک نیا بےبی آڈوپٹ کرلیا ۔۔؟؟”
زاران قہقہ لگاتے ہوئے اپنا کوٹ اتار کر گاڑی سے باہر آیا تھا اور کچھ قدموں کے فاصلے پر تھا وہ جب کسی اور شخص کو نایاب کے اوپر چھتری کرتے دیکھ کر زاران کے قدم رک گئے تھے وہیں کچھ بحث کے بعد نایاب وہاں سے چلی گئی تھی اندر۔۔۔
زاران عابدی دونوں ہاتھ کی مٹھی بند کر کے پیچھے ہوگیا تھا اور وہی ہاتھ اس نے اپنی گاڑی کے شیشے پر مار دیا تھا۔۔کانچ ٹوٹنے کی آواز سے وہاں کچھ لوگ تو رک گئے تھے اور رک گئی تھی نایاب اور افنان بھی شور سن کر ۔۔۔۔
۔
“ٹھکرائے جانے کے بعد جن محبتوں کا احساس ہوجائے وہ وہ بےچینی اور عمر بھر کا غم دے جاتی ہیں نا ملنے پر۔۔۔
اور روگ دے جاتیں ہیں آپ کی نظروں کے سامنے کسی اور کی ہوجانے پر۔۔۔”
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: