Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 12

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 12

–**–**–

۔
“افنان سر”
افنان کے اسسٹنٹ کی آواز پر ایک نظر اس نے نایاب کو دیکھا تھا
“مس نایاب اپنے یہ گیلے کپڑے چینج کر کے آفس میں قدم رکھئیے گا میں نہیں چاہتا پچھلے ہفتے کی طرح تماشہ بنے۔۔۔”
افنان کو جب کوئی جواب نہیں ملا تو وہ اور غصے کے عالم میں اندر چلا گیا تھا
اور نایاب التمش اس گاڑی کے پاس کھڑے شخص سے نظریں نہیں ہٹا پا رہی تھی جس کے ہاتھ اسکے خون سے لت پت تھے اور اس سفید گاڑی کے رنگ پر خون کے سرخ قطرے یاناب کے قدموں کو اسی جانب چلنے پر مجبور کرچکے تھے
وہ پہچان گئی تھی اسکی پشت سے چاہے چہرے ابھی بھی نظروں کے سامنے نہیں تھا
۔
وہ جیسے جیسے قدم بڑھا رہی تھی اسکے پاؤں میں بندھی پائل اس شخص کو اسکی موجودگی کا احساس کروا چکی تھیں
“نایاب۔۔۔”
“زاران۔۔۔”
زاران کی نظریں اسکے قدموں پر گئیں تھیں جن پر وہ پائلیں شاید اس نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔۔
اور نایاب جس کی نظریں زاران کے زخمی ہاتھ پر تھی بنا کچھ کہے اس نے زاران کی فرنٹ پاکٹ سے اسکا ڈئزائنر رومال نکال لیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے زاران کے زخمی ہاتھ پر لپیٹ دیا تھا۔۔۔
“زاران اس طرح کی حرکت کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی آپ کو۔۔؟؟
اتنا خون نکل گیا آپ کبھی کبھی مجھے نا بچے لگتے ہیں۔۔۔”
اس رومال کو اچھی طرح باندھتے ہوئے ڈانٹ بھی رہی تھی اسے
“تم مجھے یہاں دیکھ کر حیران نہیں ہوئی۔۔؟ میرے یہاں آنےکی وجہ بھی نہیں پوچھی
پر میری تکلیف پر تمہاری توجہ مرکوز رہی جیسے اس رات کو تھی۔۔؟؟”
نایاب کی انگلیاں رک گئیں تھیں اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرلئے تھے جلدی میں
“آہ۔۔۔آرام سے۔۔۔”
ہاتھ چھوڑنے میں زاران کو درد محسوس ہوا تھا
“زاران چلیں ڈاکٹر کے۔۔۔”
“تم نے علاج تو کردیا ابھی ابھی۔۔۔ویسے بھی میرے درد کی دوا ڈاکٹر نہیں تم ہو۔۔”
اب کے نایاب دو قدم پیچھے ہوگئی تھی نظریں جھکا کر۔۔۔
“زاران آپ یہاں کیسے۔۔؟ کس نے بتایا۔۔؟ اور کیوں آئے ہیں آپ یہاں۔۔؟؟
مجھے تو لگا تھا ابھی تک نکاح ہوگیا ہوگا سویرا سے۔۔”
نایاب پھر سے وہی نایاب بن گئی تھی بنا کسی جذبات کو ظاہر کئیے
“امی سے پوچھا تھا۔۔۔انکو بھی ایگزٹ نہیں پتا تھا۔۔یہاں میرا دوست بھی ہے اگر تم نا ملتی تو اس سے مدد لیتا پر تمہیں ڈھونڈ کر ساتھ لیکر ہی جانا تھا”
زاران کے چہرے پر مسکان تھی نایاب التمش کو دیکھنے کی مسکان پر نایاب کے چہرے پر الگ غصہ تھا زاران کی بات سن کر
“مجھے لے جانے۔۔؟؟ آپ مجھے یہاں چھوڑنے آئے تھے۔۔؟ میری انٹرنشپ ختم نہیں ہوئی تو کیسے چل دوں آپ کے ساتھ۔۔؟ اور چلوں ہی کیوں زاران۔۔؟”
“نایاب مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔ امی زبردستی کر رہی ہیں میرےساتھ
یہ تو سوچو دادی کی روح نہیں تڑپے گئی۔۔؟؟”
زاران اب دادی کی باتیں کرکے جذباتی کرنا چاہتا تھا نایاب کو۔۔اسے پتا تھا نایاب کو دادی سے بےپناہ محبت تھی
“دادی کی روح تو اس وقت تڑپی ہوگی جب آپ نے سویرا سے منگنی کی تھی اور میری شادی کے لیے رشتے ڈھونڈے تھے
جب آپ نے کہا تھا میرے لیے آپ نہیں کوئی میٹرک پاس لڑکا ڈھونڈے
دادی کی روح اس وقت دکھی ہوئی ہوگی جب آپ نے خاور جیسے شخص کے پلے باندھنے کی کوشش کی تھی مجھے
اب تو دادی کی روح خوش ہوگی کیونکہ میں خوش ہوں اب آپ بھی خوش رہیے اور بھول جائیں مجھے کیونکہ میں یہاں خوش ہوں میں واپس انٹرنشپ کے بعد واپس آؤں گی”
وہ بے رخی سے پلٹ گئی تھی۔۔۔وہ اب کمزور کیوں پڑتی جب کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔جو تھا وہ اس شخص نے پہلے ہی چھین لیا تھا پاکستان میں اب اسکے پاس بس وہ نایاب التمش ہی تو رہ گئی تھی۔۔۔جو کمزور ثابت ہی نہیں ہونا چاہتی تھی
“تمہاری اس خوشی کی وجہ وہ شخص ہے۔۔؟ جس کے ساتھ تم بھیگ رہی تھی بارش میں۔۔
تم تو ہمیشہ سے محرم نا محرم رشتوں میں فرق رکھتی تھی نا۔۔؟؟ وہ وجہ ہے تمہاری اس خوشی کی۔۔؟”
زاران نے بہت آہستہ آواز میں پوچھا تھا۔۔ اور کسی شیرنی کے جیسے واپس مڑی تھی نایاب
“آپ نے سوچ بھی کیسے لیا مسٹر زاران عابدی۔۔؟؟
باہر کے ملک پڑھائی کے لیے آنا یہاں کا ماڈرن لائف سٹائل اپنا نا آپ کے شوق ہوں گے پر میرے نہیں ہیں۔۔
مجھے محرم نامحرم کی سمجھ بوجھ ابھی بھی ہے۔۔۔وہ بوس ہیں انہیں تو دیکھ لیا انکے ساتھ میری کالیگ بھی دیکھ لیتے جو میرے ساتھ ہی کھڑی تھیں۔۔۔
یا آپ وہی دیکھنا چاہتے تھے جس کے لیے آپ یہاں آئے تھے۔؟؟ آپ نے اپنے جیسا یا پھر سویرا باجی جیسا سمجھ لیا ہے مجھے۔۔؟
جو یہاں آکر نامحرم رشتے بناتے رہے۔۔وہاں ایک لڑکی انتظار کرتی رہی آپ کا۔۔
اور آپ یہاں کسی دوسری لڑکی کو دل دے بیٹھے تھے۔۔اور وہ پاگل وہاں راتیں گنتی رہی
چار سال زاران۔۔۔۔”
نایاب کی آنکھیں آنسو نہیں آگ برسا رہی تھی اسکی آواز جتنی نیچی تھی اسکا لہجہ اتنا ہی سخت تھا
“میرا سویرا کے ساتھ کوئی ایسا رشتہ نہیں تھا۔۔۔اللہ کا شکر ہے نایاب کوئی ایسا تعلق نہیں تھا ورنہ تم تو مجھے اپنی آنکھوں سے ہی قتل کردیتی یار۔۔۔” زاران کے ہنسنے پر نایاب غصے سے اسکی طرف بڑھی تھی
“زاران عابدی مجھے اب کسی بھی بات پر یقین نہیں ہے وہ چار سال کی اذیت اب نفرت میں بدل چکی ہے۔۔۔مجھے آپ سے کبھی کوئی بھی رشتہ بنانا نہیں ہے۔۔۔
اور ایک بات اس بات سے بےفکر رہیے کہ میں یہاں دل لگی کروں گی کسی نا محرم کے ساتھ زاران آپ میری پسند سب کی پسند کے بعد بنے تھے
ورنہ نایاب التمش اتنی دل پھینک لڑکی نہیں ہے آپ جتنے خوبصورت اور بھی کزن تھے خاندان میں۔۔۔ تب بھی میری فیملی میری زندگی کے فیصلے کرتی رہی اور اب بھی۔۔اور میرے واپس جانے کے بعد بھی۔۔۔آپ کا مجھ پر میرے دل و دماغ پر کوئی بھی ہولڈ نہیں رہا زاران جائیے اور سویرا کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کیجئیے۔۔۔”
وہ ایک بار پھر لاجواب کرگئی تھی زاران عابدی کو ایک بار پھر زاران کے دل میں محبت اور عزت اور بڑھ گئی تھی نایاب التمش کے لیے
“تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ کر میں پلٹ چلا تھا نایاب میرا دل مرسا گیا تھا
میری روح ٹھنڈی پڑ گئی تھی میرا ہاتھ اٹھ گیا تھا جب میرے جسم نے کوئی حرکت نہیں کی تھی۔۔۔مجھے یہ کانچ چبھنے سے درد نہیں ہوا جتنا کچھ دیر پہلے تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ کر ہواتھا۔۔۔
میں جا رہا تھا نایاب پر تم نے پھر سے کھینچ لیا اپنی طرف جیسے اس رات کو کھینچا تھا اور میں واپس پلٹ کر بھی نہیں جا سکا تھا سویرا کی طرف۔۔۔
اور ابھی پھر تم نے وہی کیا۔۔میرے زخم پر مرہم رکھ کر۔۔۔”
نایاب کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا زاران نے۔۔۔
اور جس طرح سے اسکا ہاتھ پشت پر مڑور دیا تھا اس سے پہلے نایاب کی پشت یا کندھا زاران کے کندھے کو ٹچ کرتا زاران پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
“سانسیں پھر سے بھال کرلو نایاب التمش ہمارے وجود میں بہت فاصلہ ہے ایسا کوئی گناہ نہیں ہونے دوں گا جو ہمارے آنے والے رشتے میں رکاوٹ بنے۔۔
کیونکہ مجھے میری بیوی پارسا ہی چاہیے۔۔”
نایاب نے گہری سانس بھری تھی اسکا بازو ابھی بھی زاران کی گرفت میں تھا پیچھے مڑا ہوا۔۔
زرا سی گردن گھما کر نایاب نے زاران کی طرف دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں جن میں وعدہ تھا اسے پانے کا وعدہ
“مرد ہمیشہ پارسا بیوی چاہتے ہیں تو خود کیوں وہ ایسے گناہ کردیتے ہیں اپنی جوانی کے نشے میں کہ وہ خود پارسا نہیں رہتے۔۔؟ کیوں پاکیزہ بیوی چاہتے ہیں وہ جب خود اپنی ہوس سے جانے کتنی پارساؤں کو اپنے گناہ میں اپنے ساتھی بنا کر انہیں بھی گناہگار بنا جاتے ہیں۔۔
زاران آپ پارسا ہیں۔۔؟؟”
نایاب نے اپنا ہاتھ چھڑا کر زاران کی آنکھوں میں دیکھا تھا اور پوچھا تھا۔۔
“میری آنکھوں میں کیا کوئی چھپی ہوئی بات نظر آرہی ہے تمہیں نایاب۔۔۔؟؟”
“جائیں یہاں سے زاران آنکھیں اب وہ پردہ نہیں رہی کہ جنہیں ہٹا کر آپ کی روح تک جھانک سکوں میں۔۔۔”
“پر تمہاری آنکھوں میں سے سب نظر آرہا ہے۔۔۔وہ محبت بھی جو تم نے چھپا دی ہے پر میں جانتا ہوں میرے لیے تمہارے دل میں محبت اب بھی ہے۔۔ نفرت کے بادل چھا گئے ہیں تو کیا ہو۔۔؟ میری محبت سورج کی وہ کرنوں کی طرح سے پھر سے تمہارے دل میں راج کرے گی۔۔۔وہ نفرت کے سارے بادل جھڑ جائیں گے
میں واپس جا رہا ہوں انتظار کروں گا تمہارا۔۔۔تمہارے لیے۔۔۔زاران عابدی کا وعدہ ہے یہ۔۔۔”
نایاب بنا کچھ کہے اندر جانے کے لیے مڑ گئی تھی
“نایاب۔۔۔”
زاران کی آواز پر وہ پیچھے پڑی نہیں تھی اسکی آنکھیں ضرور چھلک اٹھی تھی
جب زاران نے گاڑی سے اپنا کوٹ نکال کر نایاب کو اوڑھا دیا تھا۔۔اور چلا گیا تھا کچھ سیکنڈز میں گاڑی کی سپیڈ بڑھا کر۔۔۔۔
۔
زاران عابدی آج نایاب التمش کو لاجواب چھوڑ گیا تھا۔۔۔
۔
“مس نایاب۔۔۔سر افنان آپ کو بلارہے ہیں یہ ڈریس پہن کر میٹنگ روم میں جلدی سے چلے جائیے۔۔”
افنان کی سیکٹری واپس اندر چلی گئی تھی۔۔نایاب نے واپس مڑ کر اسی گاڑی کو دیکھا تھا جو آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تھی۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پاکستان۔۔۔”
۔
“ابو امی آپ نے زاران کو جانے کیسے دیا۔۔؟ پھوپھو آپ نے روکا کیوں نہیں۔۔؟”
آنکھوں میں آنسو لئیے سویرا سب سے پوچھ رہی تھی اسے آج ہی پتا چلا تھا زاران کے باہر جانے کا اور تب سے گھر سر پر اٹھا لیا تھا اس نے۔۔۔
“یاسمین بھوبھی بھائی کو روم میں لے جائیں۔۔”
“کیوں تایا جان کو کیوں آپ اندر بھیج رہی ہیں پھوپھو انکو بھی تو پتا چلے میرے حصے کی خوشیاں کھا گئیں انکی بیٹی نایاب۔۔ تایا جان دیکھ لیں آپ کی اس سیاہ رنگ کی بدصورت بیٹی نے کیا کیا ہے میرے ساتھ۔۔۔”
سویرا نے بدتمیزی کے ساتھ التمش صاحب کا ہاتھ پکڑ کر جھنجوڑا تھا
اور التمش صاحب کی آنکھوں میں غصے کا ایک الگ طوفان تھا اپنی چاند جیسی بیٹی کے لیے بدصورت لفظ سن کر
“بس کر جاؤ سویرا۔۔۔بس”
راحیل صاحب نے سویرا کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کردیا تھا۔۔۔انیسہ وہیں صوفہ پر بیٹھ گئیں تھیں سب کچھ انکے ہاتھوں سے باہر جا رہا تھا۔۔۔
پہلے نایاب پھر زاران۔۔۔اور اب سویرا۔۔۔
“یااللہ کیا ہوگا اب کیسے قابو میں آئے گا سب کہاں جاؤں میں۔۔۔”
۔
“ابو پلیز آپ پھوپھو سے کہیں زاران کو واپس بلالیں آپ نہیں جانتے نایاب ہاں کردے گی زاران کو میرا کیا ہوگا ابو۔۔؟؟”
وہ اور رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“کنول اسے لیکر جاؤ کمرے میں اور تم سویرا یہ سب تب سوچنا چاہیے تھا جب تم نے زاران کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ جانے کی کوشش کی تھی اب جاؤ اپنے کمرے میں مجھے چہرہ بھی مت دیکھانا اپنا۔۔۔”
راحیل صاحب نے طیش سے کنول کی طرف دھکیل دیا تھا سویرا کو۔۔۔
۔
“ابو آپ کو میرے لیے سٹینڈ لینا ہی ہوگا ورنہ میں اپنی جان دے دوں گی۔۔۔”
سویرا کے بازو کو اور مظبوطی سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے کنول بیگم اسے اسکے کمرے میں لے گئیں تھیں پر اسکی آوازیں نیچے والے پورشن اور اوپر والے پورشن دونوں میں سنائی دے رہی تھی۔۔۔
۔
۔
“راحیل بھائی۔۔۔”
بس انیسہ زاران جب واپس آئے گا تو میں خود اس سے بات کروں گا۔۔۔ بات اب ایک موڑ پر آکر ختم ہوجانی چاہیے تاکہ میں سویرا کے لیے کوئی اور رشتہ ڈھونڈوں۔۔۔”
وہ وہاں سے چلے گئے تھے باہر۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران عابدی کس کشمکش میں ڈال رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟”
نایاب نے زاران کا کوٹ فین چلا کر اپنی چئیر پر رکھ دیا تھا ڈرائی ہونے کے لیے اور اپنے گیلے کپڑے بھی چینج کرلئے تھے۔۔۔ افنان کا دیا ہوا ڈریس وہ پہننا نہیں چاہتی تھی پر اسکے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا
“ہمم دوائی کھا کر پھر چلی جاؤں گی میٹنگ روم میں۔۔”
ابھی یہ کہہ کر نایاب نے اپنے پرس سے میڈیسن نکالی ہی تھی کہ اسکے چھوٹے سے کیبن کا دروازہ زور سے کھل گیا تھا
“مس نایاب آپ کو میسج نہیں ملا تھا میٹنگ روم میں آنے کا۔۔؟”
افنان نے غصے سے پوچھا تھا
“وہ افنان سر میں بس یہ”
ابھی میٹنگ روم میں تشریف لے جائیے۔۔”
“پر سر۔۔۔”
“ناؤ،،،”
نایاب نے بھی غصے سے دوائی واپس رکھ دی اور افنان کو فالو کیا تھا میٹنگ روم تک۔۔۔
“ہمارےاس نیو پروجیکٹ کی پریزنٹیشن آپ کو مس کرسٹل دیں گی
مس کرسٹل یو مئے ۔۔”
“ہولڈ آن مس سمیرا۔۔۔ کرسٹل نیو انٹرن ہے میں چاہتا ہوں مس نایاب آج پریزنٹیشن دیں”
نایاب ابھی بیٹھنے ہی لگی تھی کہ افنان کی بات سے اٹھ گئی تھی افنان اپنی کرسی کر کسی مغرور انسان کی طرح بیٹھا بہت غرور سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
نایاب سمجھ گئی تھی اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے لیے یہ کہا افنان یوسف نے۔۔
نایاب کے پاس کوئی چارہ جوئی نہیں تھی اس پروجیکٹ کو اس نے ایک ہفتے پہلے ڈسکس کیا تھا اور جب وہ بیمار ہوگئی تھی تو اس نے زیادہ دھیان نہیں دیا تھا کیوں وہ انٹرن تھی یہاں ابھی یہ اسکی انٹرنشپ کا حصہ نہیں تھا۔۔۔
اس نے گہرا سانس لیا تھا جب باقی انٹرن خامیوں کو لیکر سرگوشیاں کرنا شروع ہوگئے تھے۔۔
“اوکے جنٹل مینز۔۔۔ٹوڈے وی آر ٹاک آباؤٹ اورر نیو پروجیکٹ۔۔۔۔”
نایاب نےپریزنٹیشن ٹیبل پر پڑی فائل کو ایک نظر دیکھ کر اپنے ہاتھ میں ایک بلیک مارکر سے وائٹ بورڈ پر اس پروجیکٹ کے بارے میں بتانا شروع کردیا تھا اس نے باقی سب کی طرح سلائیڈ چلانا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔۔جس نے وہاں بیٹھے بورڈ آف ڈائیریکٹرز کو بہت متاثر کیا تھا۔۔افنان یوسف کی ٹانگ پر رکھی ٹانگ شوکڈ سے خود با خود نیچے اتر آئی تھی جیسے باقی انٹرنز اور کرسٹل کے چہرے کے رنگ اترے تھے۔۔۔
نایاب کے ہاتھ اس وقت رکے تھے جب اسکی تعریف پر بہت سے تعریفی سرگوشیاں ہونا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔
“واااووو مس نایاب آپ کی فرسٹ پریزنٹیشن آئی ایم سپیچ لیس “
سمیرا نے بہت اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔بہت سے لوگ اسے بہت سے کمپلیمینٹ دے کر وہاں سے چلے گئے تھے روم میں اگر رہ گئے تھے تو وہ دو لوگ افنان یوسف اور نایاب التمش۔۔
افنان اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اپنے کوٹ کے بٹن کو بند کر کے وہ دروازے کی طرف بڑھا تھا نایاب کو اگنور کر کے۔۔۔
۔
“مجھے نیچے گرانا چاہتے ہیں شوق سے کوشش کیجیئے پر خیال رکھئیے گا کہ کہیں مجھے نیچے گراتے خود اتنے نیچے نا گرجائیں کہ اٹھ نا سکیں۔۔۔
میں عادی ہوں دنیا کا یہ چہرہ بدلتے چہروں میں اتنی بار دیکھ چکی ہوں کہ اب دنیا کے بدلتے مکرو چہروں سے واقف ہوں۔۔
آپ کو پتا تھا یہ میرا کام نہیں تھا پھر بھی مجھے شرمندہ کرنے کے لیے آپ نے یہ کیا۔۔
اور میں پھر بھی کامیاب ہوئی کیوں کہ میں کوئی ان پڑھ جاہل نہیں ہوں بزنس مینیجمنٹ کی اتنی سمجھ بوجھ ہے مجھے۔۔۔
دوبارہ وہ ٹاسک دیجئیے گا جس میں مجھے شکست دیں سکے وہ نہیں جس میں آپ کا سر شرمندگی سے جھک جائے مسٹر افنان یوسف۔۔۔”
۔
نایاب کی آخری بات پر افنان نے مٹھی بند کر لی تھی اپنی۔۔۔
“گیٹ آوٹ مس نایاب رائٹ ناؤ۔۔۔”
افنان نے منہ پھیر کر غصے سے کہا تھا اور نایاب چلی گئی تھی وہاں سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران عابدی کی کزن کا نام کیا بتایا تھا تم نے شہروز۔۔؟؟”
افنان نے کال ملنے پر ڈائیریکٹ پوچھا تھا
“نایاب التمش۔۔۔”
“ہمم تصویر بھیج دو گے مجھے۔۔۔؟؟”
“ہاہاہا بوس ماجرہ کیا ہے۔۔؟؟”
ماجرہ کچھ نہیں ہے زاران پاکستان واپس چلا گیا تھا اپنی کزن سے ملے بغیر میں نے سوچا میں ڈھونڈ کر نظر رکھتا رہوں گا اور خبر کرتا رہوں گا۔۔۔”
افنان نے بہت آسانی سے جھوٹ بول دیا تھا۔۔وہ دیکھ چکا تھا اپنے دوست کو اس لڑکی کے ساتھ اور یہی وجہ تھی اس نے کسی مرد کا کوٹ نایاب کے پاس دیکھ کر غصہ کیا تھا۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی اسے غصہ کس بات کا تھا نایاب پر۔۔۔
۔
دو دن سے وہ نایاب کو اگنور کر رہا تھا آفس میں بھی اور گھر میں بھی اب وہ کنفرم کرنا چاہتا تھا۔۔اور اسکے بعد اس نے سوچ لیا تھا وہ نایاب التمش کو انٹرنشپ سے نکال دے گا کوئی نا کوئی بہانہ لگا کر۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
یوسف مینشن۔۔۔۔۔
۔
۔
“زیبا آنٹی کیا دلکش آنٹی کو یہ کھیر پسند آئے گی۔۔؟”
نایاب نے باؤل میں ڈالی کھیر کی سجاوٹ کرنا شروع کردی تھی میوجات سے۔۔
“ہاہاہا بچے بھابھی کو بہت پسند آئے گی یہ کھیر اور اس طرح انکی ناراضگی بھی ختم ہوجائے گی”
“تو اور کیا نایاب جی آپ کے ایک دن نا آنے سے دلکش چچی کے تیور دیکھنے والے تھے۔۔”
زیبا اور انکے بہو ہنسنا شروع ہوگئی تھیں اور نایاب کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی تھی
“کیا سچ میں وہ مجھے مس کر رہی تھیں۔۔۔؟؟”
“بہت زیادہ بیٹا۔۔۔”
“امی زرین چچی آگئیں ہیں۔۔۔”
زوبیہ کی آواز کانوں پر جیسے پڑی تھی زیبابیگم نے اپنی بہو کی طرف دیکھا تھا وہ دونوں ایک دم سے پریشان ہوگئیں تھیں آج زرین کے بن بتائے آجانے پر انہیں پتا تھا ایک تماشہ ہوگا جب وہ دلکش کو لیونگ روم میں دیکھیں گی۔۔۔
۔
“زرین چچی۔۔؟؟ “”
نایاب نے زیبا بیگم کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
“ہمم سلمان چاچو کی دوسری بیوی۔۔ انکی دوسری شادی کو انہوں نے اپنایا نہیں تھا نا ہی دلکش چچی کو۔۔”
زیبا جلدی سے باہر چلی گئیں تھی
“اوووہ۔۔۔۔ایم سو سوری۔۔۔”
نایاب پھر سے کھیر کی سجاوٹ میں لگ گئی تھی پر اسکا دھیان باہر کی طرف تھا اسے بےچینی ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔ اسے فکر لگ گئی تھی دلکش بیگم کی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پاکستان۔۔۔”
۔
“تم جانتی بھی ہو کتنی غلط حرکت کی ہے تم نے سویرا۔۔؟؟”
زاران ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوگیا تھا۔۔
“تو کیا کرتی زاران میں پاگل ہورہی ہوں تم سے جدائی برداشت نہیں ہوتی مجھے۔۔۔”
“کیا بکواس ہے یہ۔۔؟ خودکشی حرام ہے ہمارے مذہب میں یہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اسے کرنے کے بعد بھی تمہیں میں ملا ہوں کیا۔۔؟؟”
زاران نے اپنی ٹائی اتار دی تھی باہر سے واپس آنے کے بعد وہ گھر نہیں گیا تھا اور آج یوسف صاحب کے فون سے اسے پتا چلا تھا یہ سب
۔
“زاران میں جدائی برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔”
“تم جدائی سے نہیں اپنے گناہوں سے بھاگ رہی ہو جو تم نے کئیے ہیں
پہلے تم ہمارے نکاح کے دن بھاگی اور اب اپنی مشکلوں سے بھاگ رہی ہو سویرا ایک بار مئیچور بند کر سوچو تماشا بنتی جا رہی ہو۔۔۔”
زاران بہت غصے سے چلایا تھا اس پر جسے سن کر وہ اور زیادہ رو دی تھی۔۔۔
“ایم۔۔۔ایم سوری۔۔۔زاران مجھے لگا تھا تم اس سب کے بعد اپنا لو گے مجھے۔۔۔”
“یا سیریسلی۔۔؟؟ اگر زرا سی دیر ہوجاتی تو پڑی ہوتی تم کسی مردہ خانے میں۔۔تعجب ہوتا ہے مجھے ایسے لوگوں پر اور ایسی سوچ ہم لوگ کیا سمجھتے ہیں اپنی جان لینے سے سب مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔۔؟؟ نہیں ہوتا کچھ بھی حل۔۔۔
تم آکسفورڈ ڈگری ہولڈر ہو۔۔؟ پر تم نے کیا ثابت کیا ہے۔۔؟؟ سویرا یہ زندگی نہیں ہے خدا کے لیے چھوڑ دو یہ سب۔۔۔”
زاران اب اسکے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا پر کچھ فاصلے پر۔۔۔
“زاران سب چھوڑ دوں گی بس ایک بار پھر سے ہاتھ تھام لو اسی طرح جیسے تم نے واپس آنے کے بعد تھاما تھا سب کے سامنے سب کو ٹھکرا کر۔۔۔نایاب کو ٹھکرا کر دادی ماں کی اس خواہش کو ٹھکرا کر۔۔۔آج بھی اسی طرح سے میرا ہاتھ تھام لو۔۔پلیز زاران۔۔۔”
۔
سویرا کا چہرہ اسکے آنسوؤں سے بھر گیا تھا۔۔۔ وہ پاگل ہورہی تھی اور سب کو نظر آرہا تھا یہ سب۔۔
زاران نے سویرا کے آگے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا تھا اور اپنی آنکھیں بند کرلی تھی۔۔
۔
زندگی اتنی آسان نہیں ہوتی جتنی ہم سمجھتے ہیں۔۔۔
زندگی اتنی مشکل بھی نہیں ہوتی جتنا ہم اسے بنا دیتے ہیں۔۔۔
اچھی زندگی وہ ہے جسے ہم متوازن رکھتے ہیں۔۔۔
یہاں دو باتیں زاران عابدی کو سمجھ آگئی تھی۔۔۔
وہ پوری طرح سے ناکام ہوگیا تھا اپنی زندگی کو بیلنس کرنے میں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسلام وعلیکم زرین چچی۔۔۔۔”
زوبیا نے بہت پرجوشی سے زرین کو سلام کیا اور جھک کر پیار لیا تھا۔۔
“یہ نحوست یہاں کیا کر رہی ہے زیبا بھابھی۔۔؟ ابھی تک آپ لوگوں نے اسے یہیں رکھا ہوا ہے۔۔۔باہر نکالیں اسے اس کمرے سے۔۔۔”
انہوں نے دلکش کی ویل چئیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حقارت سے کہا تھا۔۔۔
“زوبیا انہیں انکے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”
افنان نے ویل چئیر کا رخ دوسری طرف کر کے کہا تھا زوبیا سے۔۔۔
“چچی آپ بیٹھیں پلیز۔۔۔”
افنان نے انکا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا۔۔۔
“یہ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گی زوبیا باجی ۔۔”
نایاب نے ویل چئیر کو پکڑ لیا تھا اور افنان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔آج اسے سمجھ آگئی تھی کہ دلکش کو یہاں کون سب سے زیادہ نفرت کرتا ہے
“اور تم کون ہو یہ فیصلہ کرنے والی۔۔؟ یہ میرا گھر ہے۔۔ مس نایاب “
افنان نے پھر سے زوبیا کو دیکھا تھا
“آپ کسی ملازم کی طرح ٹریٹ نہیں کرسکتے انہیں۔۔۔اور یہ یہاں کی کوئی ملازمہ نہیں ہیں بیوہ ہیں آپ کے چچاجان کی اس گھر پر اِن کا بھی حق ہے۔۔”
“اتنی لمبی زبان ہے اس لڑکی کی ایسے کون ہے یہ افنان بیٹا۔۔؟”
انکا لہجہ افنان کے لیے بہت نرم تھا۔۔۔
“کوئی خاص نہیں یہ میرے آفس میں کام کرتی ہے۔۔جاؤ یہاں سے مس نایاب ہمارے فیملی میٹرز میں دخل اندازی نا کرو۔۔۔”
ایکسکئیوزمئی۔۔؟؟ میں انکے آفس میں کام نہیں کرتی میں انٹرنشپ پر ہوں سیکھنے کے لیے جوائن کیا ہے انکی نوکری یا غلامی کے لیے نہیں۔۔۔”
نایاب نے ویل چئیر کو واپس کمرے میں لا کر رکھ دیا تھا۔۔۔
“ایک منحوسیت کم تھی کہ دوسری بھی لا رکھی ہے زیبا۔۔؟؟”
“ہاہاہا موم۔۔۔”
ایک لڑکی پیچھے سے ہنستے ہوئے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔اور یوسف فیملی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیا بولیں اور کس کا ساتھ دیں۔۔۔
“نایاب بیٹا آپ ہی لے جائیں بھابھی کو اندر۔۔۔”
یوسف صاحب نے التجائی لہجے میں کہا تھا۔۔۔
“انکل بات انہیں اس کمرے سے لے جانے کی نہیں ہے بات ہے جس طرح سے افنان یوسف نے دہتکار کر انہیں کمرے میں لے جانے کا۔۔۔ انہیں زرا شرم نہیں آئی اپنی ایک چچی کی خوشامد کرتے ہوئے دوسی کو ہرٹ کر رہے ہیں۔۔۔”
نایاب کی نظروں میں آج افنان کے لیے کوئی عزت نہیں تھی
“تمہاری اوقات کیا ہے لڑکی۔۔؟ افنان نے ٹھیک ہی کیا ہے۔۔مجھے ایسے کالے رنگ کے بدصورت لوگ پسند نہیں دفعہ ہوجاؤ اسے لیکر جاؤ یہاں سے۔۔۔”
زرین آگئے آگئی تھیں۔۔۔
“رنگ کا کالا ہونا زندگی گزارنے میں تکلیف دے نہیں ہوتا۔۔۔
پر دل کے کالے ہوجانے سے تکلیفیں ضرور ہوتی ہیں جیسے آپ لوگ۔۔۔”
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اتنی بدتمیزی کرنے کی۔۔۔”
ان کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔پر افنان یوسف نے انکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
“چچی منہ سے بات کیجئیے۔۔۔نایاب مہمان ہے ہماری ہاتھ اٹھانے کا آپ نے سوچ بھی کیسے لیا۔۔؟؟”
افنان کے غصے سے بھرے لہجے سے ششدر رہ گئے تھے سارے۔۔۔
“کیونکہ انکے پاس کچھ ویلڈ نہیں ہے کہنے کو۔۔۔آپ رنگ روپ میں اپنے لیے تو اچھے ہو سکتے ہیں کسی اور کے لیے آپ تب اچھے ہوں گے جب آپ کسے کے حق میں اچھے ہوں گے۔۔۔انکا میرا سیاہ رنگ کسی کو کوئی تکلیف نہیں دے رہا پر آپ خوبصورت لوگوں کے رویے جانے کتنے انسانوں کو روز تکلیف دیتے ہوں گے کبھی سوچا ہے آپ نے۔۔؟؟”
نایاب نے زرین بیگم کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا
“نایاب بیٹا۔۔۔”
زیبا بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“نہیں آنٹی مجھے بولنے دیجئیے۔۔۔پتا نہیں کب سے دلکش آنٹی مینٹلی ٹارچر ہورہی ان جیسے لوگوں کے ہاتھوں۔۔۔”
“اننف نایاب۔۔۔”
افنان نے مس کے بغیر اسکا نام لیا تھا۔۔۔
“ایگزیکٹلی اننف افنان۔۔ مجھے لگا تھا کہ آپ لوگوں کو رنگ روپ سے جج نہیں کرتے ہوں گے۔۔پر جس طرح سے انکی ویل چئیر کو روم سے باہر کرنے کی کوشش کی آپ نے۔۔
آپ بھی صفحہ اول پر ہیں۔۔اس لیے آپ نے آج تک دلکش آنٹی کے بار بار گر جانے کو اگنور کیا۔۔
زیبا آنٹی کم سے کم آپ سے مجھے یہ امید نہیں تھی۔۔۔آپ بڑے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں سے کس قدر گھایل کرجاتے ہیں ہم جیسے لوگوں کو شاید آپ کو اسکا اندازہ نہیں ہے۔۔”
نایاب انکی چئیر کے سامنے بیٹھ گئی تھی جیسے اپنے ابو کی چئیر کے پاس بیٹھتی تھی وہ
“آپ جانتی ہے دنیا نے مجھے ہمیشہ گرانے کی کوشش کی ۔۔پر میرے مظبوط ارادے مجھے گرنے نہیں دیتے تھے۔۔۔یہ دنیا ہے اور یہ دنیا کے لوگ ہے۔۔۔
آج کمزور پڑجائیں گے تو یہ دنیا کچل دے گی ہمیں۔۔آج کمزور پڑجائیں گے تو ہمیں دیکھ کر دس لوگ بھی ہمت نہیں کر پائیں گے۔۔۔
پر اگر آج ہمت کریں گے کمر باندھ کر مقابلہ کریں گے تو ہمیں دیکھ کر ہزار لوگوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔۔۔
ضروری نہیں ہے سب کچھ پلیٹ میں سجا ہوا ملے ہمیں۔۔۔ہمیں خود اچھی زندگی گزارنی کے لیے اپنے مستقبل کی سجاوٹ کرنی ہوگی۔۔۔ہمیں ہمت کر کے چلنا ہوگا۔۔۔
آپ آج اس حالت میں شاید اس لیے بھی ہیں کہ آپ نایاب التمش نہیں ہیں
میرے جیسی بن جائیں گی تو آپ مقابلہ کرنا سیکھ جائیں گی دنیا کا ایسے ظالم لوگوں کا
خوبصورتی کا ماسک پہنے بدصورت لوگوں کا۔۔۔۔”
نایاب انکا ماتھا چوم کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“نا۔۔۔۔یا۔۔۔۔ب۔۔۔۔”
دلکش نے پیچھے سے آواز دینے کی کوشش کی تھی۔۔۔اتنے سالوں کے بعد انکی آواز سنی تھی سب گھر والوں نے۔۔۔
“بھابھی۔۔۔”
زیبا کی آنکھیں بھر آئیں تھی دلکش کی آواز سن کر۔۔۔
“ز۔۔۔یبا۔۔۔۔نا۔۔۔یاب۔۔۔”
“بھابھی وہ جھلی ناراض ہوکر گئی ہے افنان لے آئے گا آپ فکر نا کریں۔۔۔”
پر کسی کو دلکش کی کیفیت سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔وہ اس نام کو پہچان گئیں تھی۔۔۔انکو انکے شوکڈ سے باہر نکال لایا تھا وہ ایک نام انکی بیٹی کا
“نایاب التمش۔۔۔”
،
“وہ لڑکی اب اس گھر میں نہیں آئے گی۔۔۔وہ۔۔۔”
“موم پلیز۔۔۔۔”
زرین کی بیٹی نے انکو آگے بولنے سے منع کردیا تھا
“نیشا میں بات کر رہی ہوں”
“موم پلیز آپ یہاں افنان سے میرے اور اسکے رشتے کی بات کرنے آئی تھیں پلیز بات کو اور نا پھیلائیں۔۔۔”
اور زرین بیگن چپ ہوگئیں تھیں۔۔۔
“یوسف بھائی۔۔۔”
“زرین بھابھی ہم سب آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اس لیے کچھ نہیں کہا پر ہم دلکش بھابھی کے بارے میں بھی ایسا کچھ برداشت نہیں کریں گے۔۔
اور آپ افنان یوسف جو آج آپ نے کیا ہے نا وہ غلط تھا۔۔۔نایاب سے معافی آپ جاکر مانگیں گے۔۔۔”
“آج پھر اس لڑکی نے وہی حرکت کی۔۔۔بنا ہاتھ اٹھائے ایک طمانچہ مار گئی وہ افنان یوسف کو۔۔۔”
افنان دروازے کے اس پار دیکھ ہی رہا تھا جب اسکے والد محترم کی بات اسکے کانوں میں پڑی
یوسف صاحب اپنا فیصلہ سنا کر چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: