Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 13

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 13

–**–**–

“بھابھی وہ جھلی ناراض ہوکر گئی ہے افنان لے آئے گا آپ فکر نا کریں۔۔۔”
پر کسی کو دلکش کی کیفیت سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔وہ اس نام کو پہچان گئیں تھی۔۔۔انکو انکے شوکڈ سے باہر نکال لایا تھا وہ ایک نام انکی بیٹی کا
“نایاب التمش۔۔۔”
،
“وہ لڑکی اب اس گھر میں نہیں آئے گی۔۔۔وہ۔۔۔”
“موم پلیز۔۔۔۔”
زرین کی بیٹی نے انکو آگے بولنے سے منع کردیا تھا
“نیشا میں بات کر رہی ہوں”
“موم پلیز آپ یہاں افنان سے میرے اور اسکے رشتے کی بات کرنے آئی تھیں پلیز بات کو اور نا پھیلائیں۔۔۔”
اور زرین بیگن چپ ہوگئیں تھیں۔۔۔
“یوسف بھائی۔۔۔”
“زرین بھابھی ہم سب آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اس لیے کچھ نہیں کہا پر ہم دلکش بھابھی کے بارے میں بھی ایسا کچھ برداشت نہیں کریں گے۔۔
اور آپ افنان یوسف جو آج آپ نے کیا ہے نا وہ غلط تھا۔۔۔نایاب سے معافی آپ جاکر مانگیں گے۔۔۔”
یوسف صاحب اپنا فیصلہ سنا کر چلے گئے تھے وہاں سے۔۔
“افنان۔۔۔”
زیبا بیگم کی آواز میں ایک وارننگ تھی جسے باخوبی سمجھ گیا تھا افنان
“جی امی۔۔میں چلا جاؤں گا مس نایاب کو لینے۔۔۔ابھی آپ لوگ چچی کے رہنے کا اہتمام کیجئیے۔۔۔”
“نا۔۔نایاب۔۔۔”
افنان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا دلکش نے اور ایک التجا تھی انکے لہجے میں افنان نرم پڑگیا تھا انکے چہرہ پر آنسو دیکھ کر
“میں صبح لے آؤں گا اسے۔۔۔دلکش۔۔چچی میرا وعدہ ہے آپ ابھی آرام کریں۔۔”
دلکش خوش ہوگئیں تھیں۔۔۔اور زیبا کی طرف دیکھا تھا نورین زوبیا اور ازیان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے دلکش کو اس طرح بات کرتے حرکت کرتے دیکھ کر۔۔۔
“بھابھی میں بہت خوش ہوں۔۔۔”
زیبا بیگم نے نیچے جھک کر انہیں گلے سے لگا لیا تھا
اور دور کھڑی زرین بیگم اور انکے بچے جلن سے پاگل ہوئے جا رہے تھے۔۔
“زیبا اگر تمہارا پیار سلمان کی دوسری بیوی سے مکمل ہوگیا ہو تو سلمان کی پہلی بیوی کو بھی اتنی عزت و احترام دو جو میں ڈیزرو کرتی ہوں۔۔۔”
“ہمم زوبیا بیٹا دلکش بھابھی کو انکے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔اور بھابھی نایاب نے کھیر بنائی تھی وہ بھی نورین کے ہاتھ بھیجتی ہوں:
پر انکو روک دیا تھا نفی میں سر ہلا کر دلکش نے۔۔
“نایاب۔۔ کے۔۔ہاتھوں سے کھاؤں گی۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔جی پر ابھی تو رات ہورہی نایاب صبح خود اپنے ہاتھوں سے کھالائے گی پکا۔۔”
انہوں نے دلکش کا چہرہ اپنے دوپٹے سے صاف کیا تھا اور انکے پیچھے پیچھے افنان بھی وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
نایاب یوسف ہاؤس سے اپنے ہوسٹل میں چلی گئی تھی۔۔۔
اس کا دل و دماغ صرف اور صرف دلکش آنٹی کی طرف تھا۔۔۔
اسے پریشانی تھی عجیب عجیب خیال اسے ستا رہے تھے دلکش کی فکر کھائے جا رہی تھی اسے۔۔۔۔
اسکا دل اتنا بے چین تھا اور اس وقت اسے صرف ایک ہی شخص کی یاد آرہی اور وہ تھے اسکے ابو التمش صاحب۔۔۔
نایاب نے جلدی سے فون اٹھا کر پھوپھو کے نمبر پر کال کی تھی جو تیسری بار پر ریسیو کی تھی انہوں نے۔۔۔
“نایاب بیٹا ابھی میں مصروف ہوں میں کل بات کروں گی خدا۔۔۔”
“پھوپھو فون متبند کیجئیے گا۔۔۔”
نایاب نے انکی بات کو کاٹ دیا تھا جنکو بہت جلدی تھی فون کاٹنے کی۔۔۔
انیسہ کچھ پل کو خاموش ہوگئیں تھیں
“ہمم پھوپھو آپ جانتی ہیں پانچ سال ہوگئے ہیں ۔۔جب سے آپ نے مجھے اپنی آغوش میں لیا ہے۔۔۔آپ میری پھوپھو ہیں پر میرے لیے آپ میری ماں ہیں میرے دل نے کب آپ کو ماں کے روپ میں تسلیم کیا پھوپھو پتا ہی نہیں چلا مجھے۔۔۔”
نایاب کی آنکھیں آبدیدہ تھیں تو انیسہ نے بھی اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا کہ نایاب رونے کی آواز نا سن لے۔۔
“نایاب بچے آج اچانک سے یہ باتیں۔۔؟”
اپنے چہرے کو صاف کر کے انہوں نے پوچھا تھا
“آج اچانک سے احساس ہوا کے آپ پچھلے دنوں سے کیسے مجھے اگنور کر رہی۔۔
میری کالز کاٹ رہی مجھ سے بات کرتی بھی ہیں تو ساتھ ہی ابو کو فون دے دیتی ہیں۔۔
آپ کے لہجے میں اجنبیت محسوس ہوئی ہے پھوپھو آج اچانک سے۔۔۔”
انیسہ کی آنکھیں پھر سے بھر گئیں تھیں وہ سن کر جو وہ سچ میں کر رہیں تھیں نایاب کے ساتھ پچھلے دنوں سے۔۔۔
“نایاب بیٹا دیکھو۔۔۔”
“پھوپھومیں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں آپ سے مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی تو آپ بیشک مجھے صاف منع کردیں مجھے رد کردیں۔۔پر مجھے بتا کر کریں۔۔
ایسے چپ ہوجانے سے نا صرف سامنے والے کا مان ٹوٹتا ہے۔۔بلکہ اسکی امید بھی ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔رشتے اگر ختم کرنے ہیں تو سامنے والے کے سامنے بس اتنا کہہ دینا چاہیے کہ اب بس۔۔۔ہم تمہارا بوجھ نہیں اٹھا سکتے وہ بندہ اگر میرے جیسا خوددار ہوا تو سمجھ جائے گا۔۔۔
آپ بھی مجھے ایک بار کہہ دیں پھوپھو۔۔ پانچ سالوں میں میں نے آپ میں اپنی دوسری ماں کو دیکھا ہے۔۔۔بلکہ پھوپھو ان سے بڑھ کر۔۔۔ماضی کی کڑوی باتیں تو بھول گئیں آپ نے اتنی محبت دی مجھے اب ایسے نا کریں مجھے اگنور نہیں کریں۔۔۔
مجھے ٹھکرائے جانے پر تکلیف نہیں ہوگی کوئی اپنا کر ٹھکرا دے تو مجھے برحد تکلیف ہوگی۔۔۔”
نایاب نے بے رخی سے اپنا چہرہ صاف کیا تھا۔۔۔اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ رونا شروع ہوگئی تھی وہ کمزور پڑ گئی تھی۔۔۔کیونکہ سامنے دنیا نہیں وہ وہ شخصیت تھی جسے نایاب اپنی ماں تسلیم کرچکی تھی۔۔۔
“نایاب بیٹا۔۔۔”
“پھوپھو آپ ابو سے بات کروا دیں گی۔۔؟ میرا بہت دل کر رہا ہے ان سے بات کرنے کو۔۔۔”
نایاب نے جلدی سے بات بدل دی تھی اور موبائل التمش صاحب کے کمرے میں بھجوا دیا تھا۔۔۔اور خود خوب روئی تھی اپنے برتاؤ پر جو وہ کر رہی تھی نایاب کو اگنور کرکے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
ڈنر ٹائم۔۔۔
“دلکش آنٹی کو کھانا میں دے آتی ہوں۔۔اسی بہانے ان سے معافی بھی مانگ لوں گی ۔۔”
نیشا نے پلیٹ میں کھانا ڈالنا شروع کردیا تھا
“بیٹا آپ کھانا کھائیں زوبیہ دے آئے گی۔۔”
یوسف صاحب نے بہت شفقت سے کہا تھا
“نہیں انکل اِٹس اوکے۔۔ ویسے
بھی وہ بہت ہرٹ ہوئی ہوں گی۔۔موم کا لہجہ بہت سخت تھا۔۔۔”
“نیشا۔۔۔”
زرین بیگم نے غصے سے کہا تو نیشا نے آنکھ مار کر افنان کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔
نیشا سب کی گڈ لک میں آنا چاہتی تھی۔۔۔کچھ نمبرز بنانا چاہتی تھی افنان کی نظروں میں
۔
وہ کھانے کی پلیٹ لیکر دلکش کے روم میں چلی گئی تھی جو اپنی ویل چئیر کھڑکی سے دوسری طرف لائی تھی
“بیٹا۔۔۔”
“بیٹا مائی فٹ۔۔۔نیشا میڈم بولو یو بچ۔۔۔”
وہ جس ہاتھ سے دلکش نے ویل چئیر کو ٹرن کیا تھا اسی ہینڈل پر رکھے انکے ہاتھ پر نیشا نے مظبوطی سے اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا جس سے اس ہینڈل کے درمیان انکلے ہاتھ کی انگلیاں آگئی تھی۔۔۔انکی ایک ہلکی سی چیخ نکلی تھی اور ہاتھ سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔پر نیشا کی گرفت نرم نہیں ہوئی تھی۔۔۔
“میڈم بولو۔۔۔”
“میڈم۔۔۔”
“ہمم ہم لوگ یہاں نہیں تھے تو اوقات بھول گئی تھیں آپ اپنی۔۔؟ میرے ڈیڈ کی دوسری بیوی۔۔؟؟ اب ہم آگئے ہیں اور بہت جلدی نکال دوں گی دھکے دے کر دیکھ لینا۔۔۔”
نیشا بنا ہاتھ دیکھے وہاں سے جانے لگی تھی پر کھانے کی پلیٹ پر اسکی نظر گئی تھی
“اور ایک دن بھوکی سو جاؤ گی تو مر نہیں جاؤ گی۔۔۔”
نیشا نے وہ کھانا کھڑکی سے باہر پھینک دیا تھا اور پلیٹ باہر لے گئی تھی کمرے کی سب لائٹس بند کر کے تاکہ سب کو یہی لگے کہ دلکش سو گئیں ہیں
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسلام علیکم ابو۔۔۔”
نایاب نے اب ویڈیو کال ملائی تھی اور یاسمین بیگم نے بنا بات کئیے سنی کو کہہ دیا تھا کہ وہ موبائل سکرین التمش صاحب کے آگے رکھے
“ابو آپ بہت کمزور ہوگئے ہیں کیا کوئی آپ کا خیال نہیں رکھ رہا۔۔؟؟”
نایاب جو اپنی باتیں شئیر کرنا چاہتی تھی وہ ایک دم سے چپ ہوگئی تھی اپنے ابو کی صحت کو اتنا ڈاؤن دیکھ کر۔۔
“نایاب باجی موبائل کی سکرین پر آپ کو تایا جان ایسے لگ رہے سامنے سے دیکھیں گی تو بہت ہینڈسم لگے گے میری طرح۔۔۔”
التمش صاحب نے شکرگزاری سے سنی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا تھا کیونکہ سنی نے بات کو ٹال دیا تھا نایاب بھی یہ سن کر تھوڑی سی ٹینشن فری ہوئی تھی
“ابو یہاں میں کسی ایسے انسان سے ملی ہوں جو مجھے بلکل میری طرح لگی۔۔۔”
یاسمین بیگم کی نظریں اب سکرین پر تھیں
“ابو۔۔پتا نہیں کیوں ایک اپنائیت سی لگی۔۔۔انکی آنکھوں میں وہ درد چھپا ہوا ہے جو میں کبھی کبھی آپ کی آنکھوں میں دیکھتی آئی ہوں۔۔۔ان سے بات کرتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے میں خود سے بات کر رہی ۔۔ایسا لگتا ہے وہ اس کرب سے گزر چکی ہیں جس سے میں گزر رہی۔۔۔آج بھی دل۔۔۔”
“نایاب۔۔۔۔”
یاسمین بیگم نے موبائل فون چھین لیا تھا اس سے پہلے نایاب دلکش کا نام لیتی التمش صاحب نے پہلے سنی کی طرف دیکھا اور پھر اپنی بیوی کی طرف جو غصے سے نایاب کو اس سکرین پر دیکھ رہیں تھیں۔۔
“نایاب یہ کس برح کی فضول باتیں کر رہی ہو اپنے ابو سے۔۔؟ تمہیں پتا ہے نا کیسی ہے انکی طبیعت۔۔؟ اگر تم نے بات کرنی ہے تو کوئی اور کرو۔۔ایسے بکواس باتیں نا کرو ہمیں کسی سے کوئی لینا دینا نہیں اور تم بھی اپنی پڑھائی کی طرف دھیان دو ناکہ لوگوں کی طرف۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر واپس موبائل سنی کو پکڑا گئیں تھی۔۔۔
“امی ایم سوری۔۔۔آپ کیسی ہیں۔۔؟”
پر کوئی جواب نہیں ملا تھا اسے۔۔
“نایاب باجی تائی جان چلی گئیں ہیں۔۔آپ سنائیں کیسی ہیں۔۔؟ اور آپ کو پتا ہے آپ کی پانی والی نایاب کی دیکھ بھال اب کون کرتا ہے۔۔؟؟”
نایاب کے اداس چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آگئی تھی۔۔۔
“کون کرتا ہے سنی۔۔؟ کیا تم مجھے ان دونوں کو دیکھا دو گے پلیز۔۔؟ انہیں تو میں بھول ہی گئی تھی۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔صبر صبر میں ابھی دیکھاتا ہوں۔۔۔”
نایاب نے کچھ منٹ اور التمش صاحب سے بات کی تھی اور سنی موبائل نیچے لے گیا تھا اور پھر نایاب کی فیورٹ جگہ پر جہاں وہ تالاب تھا۔۔۔
جس میں زاران اپنے پاؤں ڈبوئے لطف اندوز ہورہا تھا پانی والے زاران اور نایاب کے کرتبوں سے۔۔۔
“یہ لیجئیے نایاب۔۔۔”
“آہ۔۔۔۔۔”
نایاب کی چیخ نکل گئی تھی جب سنی نے سارا منظر دیکھایا تھا۔۔۔
“لڑکی کیا بہرہ کرو گی دو معصوم بچوں کو۔۔؟؟”
زاران نے پانی والی نایاب کے کانوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
“آپ کو شرم آنی چاہیے زاران بنا شرٹ کے بیٹھے ہوئے ہیں آپ میری بیٹی کے سامنے بدتمیز۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔نایاب باجی۔۔۔بدتمیز بول دیا ذاران بھائی کو۔۔۔”
زاران نے موبائل کھینچ لیا تھا سنی کے ہاتھ سے
“دفعہ ہوجاؤ اندر اگر کسی کو کانوں کان خبر ہوئی نا سنی تو میں چھوڑو گا نہیں۔۔۔”
زاران کی طرف کیمرے کا رخ تھا تو نایاب نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا شرم کے مارے۔۔۔
“ہاہاہاہا ہیلو میڈم۔۔۔اچھا ہاتھ تو ہٹاؤ اپنے چہرے سے۔۔۔”
“نہیں ہٹاؤں گی پہلے شرٹ پہنے آپ ایسے ہی پورے گھر میں گھوم رہے اور میری نایاب کے سامنے۔۔۔خبردار جو نایاب کے پاس بھی آۓ۔۔۔”
وہ وہاں ڈانٹ رہی تھی یہاں زاران نے ہنستے ہوئے اپنی شرٹ پہننا شروع کر دی تھی۔۔۔
“جم سے ابھی آیا تھا سوچا تھا اپنی ہونے والی بیٹی سے اپنی ہونے والی بیوی کی زرا برائیاں کردوں۔۔۔”
زاران کی اس بات پر نایاب اور ذیادہ شرما گئی تھی اور سکرین پیچھے کرلی تھی
“اب شرٹ پہن لی ہے اب تو دیکھ لو کہ میں ترس گیا ہوں تمہارے غصے سے لال ہوتے چہرے کو دیکھنے کے لیے۔۔۔۔”
نایاب نے ایک آنکھ بند کرکے دیکھا تھا سکرین کی طرف اور زاران نے شرٹ پہن لی تھی
“نایاب۔۔۔”
زاران عابدی دوبارہ مجھے آپ اس تالاب کے پاس بھی نظر نا آئیں۔۔۔”
“اففف کیسے نا آؤں۔۔۔؟ ہماری بیٹی کو تو تم اکیلا چھوڑ گئی ہو اب مجھے تو دیکھ بھال کرنی ہوگی نا۔۔۔؟ میری ہونے والی بیٹی ہے تم جہیز میں کچھ نا لانا سواۓ ان دونوں کے۔۔۔۔”
نایاب کا منہ کھل گیا تھا زاران عابدی پہلی بار ایسی بچگانہ باتیں کر رہا تھا۔۔۔چاہے اسکے لہجے میں سختی موجود تھی
“آپ پاگل ہوگئے ہیں۔۔؟ کیسی باتیں کر رہے ہیں زاران آپ۔۔۔؟”
“ارے ہمارے مستقبل کے بارے میں بات کرنا کیا جرم ہے ۔۔؟ “
“اففف اللہ کہاں پھنس گئی ہوں میں۔۔۔۔”
نایاب کی اس بات پر زاران اور قہقہے لگا کر ہنسا تھا۔۔۔
“خدا حافظ آپ کو دماغ ڈاکٹر کو دیکھانا چاہیے زاران۔۔۔”
فون پٹک دیا تھا نایاب نے جب زاران اور ہنسا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ارے فون بند کر گئی نایاب ہماری بیٹی سے تو بات کر لیتی۔۔۔”
“ہاہاہاہا بس کرو بےشرم۔۔۔۔انیسہ نے زاران کے کندھے پر تھپڑ مارا تھا وہ بھی اتنا ہی ہنس رہی تھی جتنا کہ زاران۔۔۔۔
“امی۔۔۔۔”
“ہممم بہت خوش لگ رہے ہو نایاب سے بات کرنے کے بعد۔۔۔۔”
“نہیں امی نایاب کو دیکھنے کے بعد۔۔۔”
وہ بھی زاران کے ساتھ بیٹھ گئی تھیں۔۔۔
“اسکے دیکھنے میں ایسا کیا ہے اب زاران جو پہلے نہیں تھا۔۔۔؟ سیاہ رنگ تو تمہیں پسند نہیں تھا نا۔۔۔؟؟”
انہوں نے زاران کے چہرے کو دیکھا تھا جو مسکراتے ہوئے مدھم ہوگیا تھا انیسہ کی بات پر
“پہلے اسکا رنگ نہیں میرا دل سیاہ تھا۔۔۔اب وہ رنگ سب کچھ لگتا ہے پر سیاہ نہیں لگتا۔۔۔۔”
“تمہیں جو باتیں وقت نے سیکھائی ہیں اگر خود سیکھ جاتے تو آج یہ سب نہیں ہوتا۔۔۔۔”
انکی آواز میں بہت مایوسی تھی
“امی اگر تب وہ میری ہوتی تو میں نے اپنی بے قدری سے اسے ہمیشہ کے لیے کھو دینا تھا۔۔۔اب ٹھوکر کھاکر مجھے اسے پانے کی قیمت کا احساس ہورہا ہے۔۔۔وہ نایاب ثابت ہوئی۔۔۔ انمول۔۔۔۔
اب اسکا تعاقب کروں گا تو مجھے احساس ہوتا رہے گا
پہلے شاید نا ہوتا۔۔۔
پہلے وہ میرے صرف بوجھ ہوتی۔۔۔۔پر اب ضرورت بن گئی ہے۔۔۔”
انیسہ نے آگے بڑھ کر زاران کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
۔
“ہمم اب احساس ہوتا ہے کچھ باتیں اور فیصلہ خدا پر چھوڑ دینے چاہیے۔۔۔
میں تمہیں اب سویرا کے ساتھ شادی کرنے کے لیے مجبور نہیں کروں گی بیٹا۔۔۔۔۔”
“بہت بہت شکریہ امی۔۔۔۔میں نایاب کا انتظار کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اسکے لیے۔۔۔
میرے بہترین مستقبل کے لیے ہم دونوں کے بہترین مستقبل کے لیے میں اسکا انتظار کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
آج کی پریزنٹیشن بھی آپ دیں گی مس نایاب۔۔۔”
“پر یہ میرا کام نہیں ہے مسٹر افنان۔۔۔”
“افنان نے غصے سے وہ فائلز ٹیبل پر دے ماری تھی ڈر کے کرسٹل تو پیچھے ہوگئی تھی پر نایاب التمش نہیں
“آپ کا کام ہے میرے رولز فالو کرنا یہاں باس میں ہوں آپ نہیں۔۔”
“یا رائٹ۔۔انٹرن سے وہ کام بھی کروانا چاہتے ہیں جو کہ اس کنٹریکٹ میں بھی نہیں تھے مسٹر۔۔۔اس دن میں جھکی نہیں تھی۔۔عاجزی سے آپ کی بات مان کر وہ پریزنٹیشن دے دی تھی اس کا مطلب یہ نہیں ہر دن ایسا ہوگا۔۔
اتنی بڑی کمپنی میں آپ کے نیچے کام کرنے والوں میں اتنے گٹس نہیں کہ ایک پریزنٹیشن دے دیں۔۔؟؟ دوبارہ مجھے نا کہیے گا ورنہ میں نا صرف یونیورسٹی کی انتظامیہ کو نوٹس بھجواؤں گی بلکہ آپ کو بھی نوٹس بھیجنے میں دیر نہیں کروں گی۔۔۔جب محنت سے یہاں تک آئی ہوں تو ڈرنا کیسا۔۔؟”
نڈر ہوکر اس نے کہا تھا افنان نے اپنی مٹھی بند کر لی تھی۔۔۔
وہ آج آفس اس ارادے سے بھی آیا تھا کہ اس سے سوری بول کر گھر لے جائے گا جیسے اسکے امی ابو نے کہا تھا۔۔۔پر صبح ایک فون کال نے یہ کنفرم کردیا تھا کہ وہ زاران کی ہی کزن ہے۔۔
جس کے پیچھے اسکا دوست اب پاگل ہوا بیٹھا ہے۔۔
اور افنان یوسف چاہتا تھا کسی طرح شکست دے کر نایاب کو پاکستان جانے پر مجبور کردے۔۔
پر سامنے کھڑی لڑکی مظبوط ارادوں کے ساتھ ہر چیز کا مقابلہ کر رہی تھی۔۔۔
افنان اپنی سوچوں سے باہر اس وقت آیا تھا جب روم کا دروازہ زور سے بند ہوا تھا
“ڈیم اِٹ۔۔۔”
“سر۔۔۔”
“نوٹ ناؤ کرسٹل گیٹ آؤٹ۔۔۔”
اور کرسٹل ہنستے ہوئے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کرسٹل دس از یور لاسٹ وارننگ۔۔۔”
“ایم ٹرائینگ میڈم۔۔۔بیلیو مئی۔۔۔”
“ٹرائی ہارڈر بچ آئی وانٹ رزلٹ۔۔۔مجھے وہ لڑکی کمپنی سے باہر چاہیے۔۔”
“اوکےمیڈم گیو مئ سم ٹائم پلیز۔۔۔”
“اوکے۔۔۔انیڈ۔۔”
زرین بھابھی۔۔۔۔”
پیچھے سے پکارے جانے پر زرین نے فون جلدی سے بند کردیا تھا۔۔۔
“زیبا۔۔۔وہ۔۔مجھے تم سے اور یوسف بھائی سے بہت ضروری بات کرنی تھی۔۔”
“جی بھابھی آج ڈنر کے بعد کرتے ہیں۔۔آپ فریش ہوجائیں فیملی کے کچھ لوگ ملنے آنا چاہتے ہیں آپ سب سے۔۔۔”
“ضرور ضرور۔۔سب کے درمیان یہ بات ہوجائے گی تو زیادہ اچھا ہوگا۔۔۔”
اور وہ باتھروم میں چلی گئیں تھیں
“کیسی بات۔۔؟ خیریت ہی ہو۔۔زرین بھابھی کے یہاں واپس آنے کے پیچھے پہلے ہی مجھے کوئی مقصد لگ رہا تھا۔۔۔لاسٹ ٹائم کی طرح ڈیزاستڑ نا ہوجائے۔۔۔یا اللہ خیر کرنا۔۔”
زیبا بیگم وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مس نایاب۔۔۔مس نایاب۔۔۔”
افنان بھی آفس سے بھاگتے ہوئے نایاب کے پیچھے گیا تھا
“سر آئی تھنک آفس ٹائم ختم ہوگیا ہے۔۔اگر آپ نے اور کام کروانا ہے تو آپ کو کل تاک کا انتظار کرنا ہوگا۔۔۔”
“مس نایاب۔۔۔امی نے کہا تھا آپ کو ساتھ گھر لیکر آؤں۔۔۔”
“ایم سوری آپ زیبا آنٹی سے معذرت کرلیجئیے گا۔۔۔کچھ دن تک میں شاید نا آپاؤں میری اسائنمنٹس پینڈنگ ہیں۔۔۔”
نایاب نے ٹیکسی کو روکنے کے لیے اشارہ کیا تھا اور جب وہ رک گئی تھی اور نایاب نے دروازہ کھولا تھا افنان نے اتنی ہی زور سے وہ دروازہ بند کر دیا تھا
“یہ کیا بدتمیزی ہے مسٹر افنان۔۔۔”
“تمہیں میرے ساتھ چلنا ہی ہوگا۔۔سب انتظار کر رہے ہیں”
“آپ انہیں کہہ دیں انتظار مت کیجئیے میں نہیں آسکتی۔۔اگر اب میرا راستہ روکا تو میں ریزائن کردوں گی۔۔مجھے پسند نہیں ہے کسی بھی نامحرم اجنبی شخص سے بار بار الجھنا سو پلیز۔۔۔”
افنان نے دو قدم پیچھے کرلئے تھے اور اپنی پینٹ پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر پیچھے کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“ہمم۔۔۔نا چلو۔۔دلکش چچی کھانا بھی نہیں کھائیں گی جیسے انہوں نے وہ کھیر تمہاری ہاتھ سے کھانے کی ضد کی تھی اور ابھی تک نہیں کھائی۔۔۔
اور تم۔۔۔تم انکی آواز سننے سے محروم رہ جاؤ گی۔۔جو انہوں نے اتنے سالوں بعد بولی۔۔۔
اور تمہارا نام لیا تھا۔۔۔۔”افنان یہ کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف چل دیا تھا اور اندر ہی اندر ہنس رہا تھا اسے پتا تھا اب نایاب انکار نہیں کرے گی
“مسٹر افنان”
ٹھیک کچھ سیکنڈ بعد نایاب نے اسے پکارا تھا
“چلیں گھر۔۔؟؟”
افنان کی آنکھوں میں جیت کی چمک تھی۔۔۔اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا نایاب کے لیے۔۔۔
“جی آپ چلے۔۔۔میں ٹیکسی میں فالو کرتی ہوں۔۔” اور نایاب افنان کو وہیں چھوڑ گئی تھی کھولے دروازے کو پکڑے ہوئے افنان کو
“سیریسلی۔۔۔اس لڑکی کو اچھے سے آتا ہےکسی کی جیت کو اسکی ہار میں بدلنا۔۔۔ڈیم اِٹ”
افنان نے غصے سے دروازہ بند کر دیا تھا اور خود بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
“سویرا اب شادی کی خوش خبری کب سنا رہی ہو۔۔؟ زاران کو فائننلی پھر سے اپنے پیچھے لگا لیا ہے تم نے۔۔۔”
سحر باجی چائے کے کپ لیکر سویرا کے کمرے میں ڈاخل ہوئی تھی
“کیا خاک پیچھے لگایا ہے سحر باجی۔۔وہ زاران صاحب کہتے ہیں ہم اچھے دوست ہیں۔۔اور وہ چاہتا ہےہم ایسے ہی رہیے۔۔۔کین یو بی لئیو اِٹ اور اسکی وہ فکر بھی سب ہمدردی ہے۔۔۔”
سویرا نے نیل پالش لگا کر اپنے نیلز دیکھنا شروع کردئیے تھے ۔۔۔
“تو۔۔؟؟ سیڈیوس کرو۔۔۔تمہاری خوبصورتی کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا وہ۔۔۔”
سحر نے آنکھ ماری تھی جس پر سویرا نے زوردار قہقہ لگایا تھا
“وہ زاران عابدی ہے۔۔۔وہ سیڈیوس ہونے مردوں میں سے نہیں ہے باجی۔۔۔
آکسفورڈ میں مجھ سے زیادہ حسین ترین حسینائیں تھی پر مجال ہو جو زاران ے کبھی کسی کو دیکھا ہو۔۔۔”
“تو اسکا مطلب یہ ہوا نا کہ وہ تمہارے ساتھ شروع سے وفادار رہا تمہیں شروع سے پسند کرتا آیا اس لیے تمہیں پرپوز کیا تمہارا ہاتھ مانگا۔۔۔”
“اس کا مطلب یہ بھی تو ہوسکتا ہے نا زاران عابدی نے سب کے سامنے میرا ہاتھ نایاب التمش کو جلانے کے لیے مانگا ہو۔۔؟ اسے نیچا دیکھانے کے لیے مانگا ہو۔۔؟
اب پیچھے جاتی ہوں تو یہ سوچ مجھے کھائے جاتی ہے باجی۔۔۔
اب دل میں اور شدت بڑھ گئی ہے زاران کو پانے کے لیے۔۔۔
اب نایاب دل ہی دل میں خوش ہوتی ہوگی۔۔۔مجھے پتا ہے وہ واپس آنے کے بعد زاران کو ہاں کردے گی۔۔۔”جہاں بات دادی کی آخری خواہش کی آجائے گی” اور مجھے انہیں چار سالوں میں زاران کو اپنا بنانا ہے۔۔تاکہ ایک بار پھر سے زاران سب کے سامنے مجھے اپنائے اور اسے ٹھکرائے۔۔۔”
اور سحر منہ نیچے کر کے ہنسی تھی۔۔۔اس گھر میں اب سب جان گئے تھے کہ زاران اب کسی کا نہیں ہوسکتا سوائے نایاب التمش کے۔۔۔
پر سویرا کو کوئی بھی منہ پر یہ سچ بتانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔آپ بول سکتی ہیں۔۔۔”
نایاب جیسے ہی ڈائننگ ٹیبل کے پاس آئی تھی دلکش نے نایاب کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کے پورے چہرے کو چومنا شروع کردیا تھا۔۔۔بہت پیار سے۔۔۔ سب حیران تھے زیبا بیگم یوسف صاحب کی طرف دیکھ رہیں تھیں انکی سمجھ میں نہیں آرہی تھی اتنی محبت دلکش بھابھی کی نایاب کے لیے۔۔۔
“نایاب۔۔۔”
دلکش کے چہرے کی طرح نایاب کا چہرہ بھی آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا۔۔کوئی دیکھ نا لے اس نے اپنا چہرہ صاف کرلیا تھا جلدی سے۔۔۔
“دلکش آنٹی۔۔۔۔”
“نایاب بیٹا میں تمہاری ا۔۔۔”
“دلکش بھابھی آپ کے لیے اتنا رونا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”
“اگر تمہارا ڈرامہ ختم ہوگیا ہو تو کیا ہم ڈنر شروع کریں دلکش میڈم۔۔؟؟”
زرین کی آواز سن کر دلکش نے اپنی بات مکمل نہیں کی تھی وہ ڈر گئیں تھی اور نایاب کو اپنے سینے سے لگالیا تھا۔۔۔
“مجھے اب چھوڑ کے مت جانا بیٹا۔۔۔”
“آنٹی میں کہیں نہیں جا رہی آپ پلیز اب رونا بند کیجئیے۔۔۔”
اور جب دلکش کا چہرہ صاف کرنے لگی تھی اپنے دوپٹے سے نایاب۔۔۔اس وقت نایاب کی نظریں انکے زخمی ہاتھ پر پڑی تھیں جس پر خون ابھی بھی جما ہوا تھا
“یااللہ آپ کو یہ چوٹ کیسے آئی۔۔؟؟” افنان اپنی کرسی سے اٹھ کر انکی ویل چئیر کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا جب دلکش کے چہرے پر ایک خوف دیکھا تھا
افنا جیسے ہی اتنا قریب آکر بیٹھا تھا نایاب کچھ پیچھے ہوگئی تھی افنان کو ناچاہتے ہوئے بھی غصہ آیا تھا اس بات پر
“آپ کو یہ چوٹ کب اور کیسے آئی۔۔؟ آپ نے کسی کو بتایا کیوں نہیں۔۔۔؟؟
زوبیہ فرسٹ ایڈ لیکر آو۔۔۔”
افنان نے انکا ہاتھ بہت آرام سے پکڑا تھا۔۔۔
“آنٹی آپ کو کب آئی تھی یہ چوٹ۔۔؟ کل تک تو ٹھیک تھیں آپ۔۔؟”
“آپ لوگ ان کو بینڈایتھ لگائے کیوں انہیں پریشان کر رہے ہیں”
نیشا نے گھبرا کر کہا تھا وہ جانتی تھی افنان کے تیز دماغ کو وہ نہیں چاہتی تھی اسکے اور افنان کے درمیان کوئی غلط فہمی آئے
“ایک منٹ نیشا۔۔۔دلکش چچی آپ بتائیے کب چوٹ آئی۔۔؟؟”
“رات کو بیٹا۔۔۔”
ڈرتےہوئے انہوں نے اپنا سر نیچے کرلیا تھا۔۔۔جیسے ہی انکا سر جھکا تھا افنان نے سر اٹھا کر نیشا کی طرف دیکھا تھا
“آ سب کھانا کھانا شروع کریں میں دلکش آنتی کو کھانا کھلاؤں گی آج۔۔۔”
نایاب نے انکا ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔اور ٹیوب لگا کر انکی ویل چئیر اپنی کرسی کے ساتھ رکھ لی تھی۔۔۔
کچھ نظروں غصے اور نفرت سے نایاب کو دیکھ رہی تھیں جبکہ کچھ نظروں میں نایاب کے لیے بہت پیار اور عزت ابھر آئی تھی اسکے لیے۔۔۔
“نایاب کبھی پچھتاوا نہیں ہوا تمہیں اپنے کالے رنگ پر۔۔؟ آئی مین کبھی دکھ تو ہوتا ہوگا نا اتنے خوبصورت لوگوں میں سیاہ رنگ۔۔۔اب دیکھو نا اتنی روشنی میں بھی تم اور وہ تمہاری ساتھ بیٹھی عورت ہمیں نظر نہیں آرہی۔۔۔”
زرین کی بات پر انکی دونوں بیٹیوں نے قہقہے لگا دئیے تھے۔۔۔
“مجھے پچھتاوا کیوں ہوگا۔۔؟؟ میں اللہ کی رضا میں راضی ہوں خوش ہوں میں جیسی بھی ہوں”
“جسٹ لائک ڈیٹ۔۔؟؟”
اس بار نیشا نے پوچھا تھا۔۔۔افنان کا ہاتھ باقی سب کی طرح رک گیا تھا روٹی کا نوالہ توڑتے ہوئے اس وقت اسے شدید غصہ آرہا تھا اپنی چچی پر۔۔۔
“یس جسٹ لائک ڈیٹ۔۔۔اللہ کا بنایا ہوا ہر انسان خوبصورت ہے۔۔۔اور پچھتاوا انکو ہوتا ہے جو اپنے رب سے راضی نا ہوں پر الحمداللہ بہت خوش ہوں میری نظر میں پرفیکٹ ہوں میں۔۔۔”
افنان نے نظریں اٹھا کر اس سمت کی جانب دیکھا تھا جہاں نایاب بیٹھی ہوئی تھی
۔
“کیا آپ خوش نہیں ہیں اپنے رنگ سے دلکش آنتی۔۔؟ کیا آپ پچھتاتی ہیں۔۔؟”
دلکش کا چہرہ اوپر کر کے پوچھا تھا نایاب نے
“میں۔۔بہت خوش ہوں بیٹا میں اللہ کی ہر لمحہ شکرگزار ہوں”
انکی آنکھیں پھر سے بھر آئی تھی
“تو آپ کا سرجھکا ہوا کیوں ہے۔۔؟ آپ کو فخر ہے تو دنیا کو سر اٹھا کر دیکھیں اور یہ بتائیں کہ آپ میں کوئی کمی نہیں آپ راضی ہیں۔۔۔”
نایاب نے انکا چہرہ صاف کرکے انہیں کھیر کھلانا شروع کی تھی جب سب چپ ہوگئے تھے اس نے گہرا سانس بھر کر دلکش بیگم کی طرف دیکھا تھا
۔
“میری ایک دوست تھی جو میری بچپن کی ساتھی تھی ساتھ میں کھیلے اور سکول گئے پھر سکالر شپ پر کالج جانا تھا۔۔۔ پندرہ سال کی عمر میں اکے دونوں ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا پوری طرح سے۔۔۔ڈاکٹرز کو دیکھایا حکیموں سے علاج کروایا نیز دیسی ولایتی ہر طرح کا علاج کروایا پر کوئی فرق نہیں کوئی کہتا تھا کہ پولیو کی وجہ سے ہوا ہے تو کوئی کچھ میڈیکل کی لمبی سی داستان بتادیتا تھا۔۔ایک سال بعد ان لوگوں نے امید چھوڑ دی تھی کہ اب انکی بیٹی چل پائے گی۔۔اور بیساکھیوں پر وہ کیسے اپنی ٹانگوں سے چلتے ہوئے آئی اسے خود کو بھی سمجھ نہیں آئی۔۔۔پر اسکی ہمت کا اس دن پتا چلا جب اس نے سکول میں ٹاپ کیا۔۔ اور سکولرشپ پر کالج میرے ساتھ گئی۔۔۔
وہ مجھے ہمیشہ سے کہتی آئی کہ وہ خوش ہے وہ راضی ہے اپنے رب سے اپنی زندگی سے۔۔۔
اسکی آواز میں کوئی پچھتاوا نہیں پایا میں نے آج تک۔۔۔کوئی گلہ کوئی شکوہ نہیں۔۔۔اب تو وہ اور شیرنی بنی ہوئی ہے۔۔ توبہ ہے جو کبھی ہار مانی ہو اس نے۔۔۔
اللہ پاک اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کیسے کیسے کھول دیتا ہے ہم ناشکرے دیکھ نہیں پاتے۔۔اگر ہم سے کچھ چھین جاتا ہے تو ہمیں اللہ اور نواز دیتا ہے۔۔۔”
نایاب کی باتیں سب کو آبدیدہ کرگئیں تھیں افنان کی گرفت مظبوط ہوگئی تھی اس ٹیبل پر۔۔۔
“ہمارے ہمسائے تھے زبیر انکل۔۔۔جن کی سات بیٹیاں تھیں۔۔اور انکے رشتے نہیں ہو پارہے تھے۔۔۔ پر وہ کبھی گلہ شکوہ کرتے نہیں نظر آئے اللہ سے۔۔۔وہ کہتے تھے جب اللہ کو منظور۔۔ بیٹیوں کی عمریں ت نکلی جا رہی تھی۔۔پر انکا ایمان یقین اللہ پر کامل تھا۔۔۔ کب بیٹیوں کے رشتے ہوئے اور کب شادیاں ہوئی پتا ہی نہیں چلا آج سب اپنے اپنے گھر خوش ہیں۔۔۔
ہم لوگ کیوں پچھتاتے ہیں۔۔ ہمارا مالک بڑا ہے وہ خالق ہے دونوں جہانوں کو پالنے والا بنانے والا۔۔۔ ہم خوش نصیب ہیں اللہ پاک نے ہمیں پورے جسم کے ساتھ پیدا کیا۔۔
یقین جانے اگر آپ باہر کی دنیا دیکھیں آپ ایک کونے کے ساتھ لگ جائیں گے۔۔۔
ہمیں تو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔۔۔
میرا رنگ روپ میری کمزوری نہیں میری طاقت ہے۔۔۔اور دلکش آنٹی آپ بھی۔۔۔
آپ بھی سٹینڈ لیجئیے۔۔۔۔”
نایاب کی آنکھوں میں بےشمار آنسو تھے پر اس نے ان آنسوؤں کو چھلکنے نہیں دیا تھا۔۔۔
“نایاب باتیں اچھی بنا لیتی ہو ویسے۔۔۔”
زرین بیگم نے غصے سے طنز کیا تھا
“زرین بھابھی۔۔۔”
زیبا کی آواز میں وارننگ تھی
“اِٹس اوکے زیبا آنٹی۔۔۔ ہماری فیملی میں بھی زرین آنٹی جیسی ہماری پھوپھو ہیں۔۔۔”
نایاب ہنسی تو سب کے چہرے کھلکھلا اٹھے تھے۔۔۔
“پر میرے ابو کو پسند نہیں آتا تھا جب کوئی بھی رنگ روپ کی بات کرتا تھا۔۔اور انہوں نے علیحدگی کرلی تھی اپنی فیملی سے۔۔وہ کہتے تھے خاندان وہ ہوں جو آپ کو دل سے اپنائے ناہ رنگ روم کے طعنے دے دے کر آپ کی خودداری کو کچل دیں”
نایاب کی اس بات پر دلکش نے نایاب کا ہاتھ پکڑ لیا تھا جب اسے ماضی کی کچھ تلخ باتیں یادیں آئیں تھیں
۔
۔
“امی میں اس عورت کے لیے اپنی فیملی کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔”
“پر التمش بیٹا۔۔۔”
“امی آپ کے لیے اس سے شادی کی کافی نہیں ہے۔۔؟ اب اپنے بہن بھائی چھوڑ دوں یہ گھر چھوڑ دوں۔۔؟؟ یہ گھر کبھی نہیں چھوڑوں گا میں۔۔اسے یہاں ایڈجسٹ ہونا ہوگا۔۔
اگر ہے اس میں کمی تو برداشت بھی کرے۔۔دو چار اہنے رنگ کے بارے میں باتیں سن کر مر نہیں جائے گی یہ۔۔۔حقیقت اپنائے کیونکہ میں اپنوں کو نہیں چھوڑوں گا اسکے لیے۔۔۔”
۔
۔
“ہاہاہا۔۔۔سب کہتے تھے کہ دادی کا فیصلہ تھا۔۔۔پر میں جانتی ہوں میرے ابو نے میرے لیے اپنوں کو چھوڑ دیا تھا۔۔۔مجھ سے زیادہ وہ تکلیف میں تھے جب کوئی مجھے رنگ کے بارے میں طعنہ دیتا تھا۔۔۔اور میں انہیں کہتی تھی کہ جو کہتے ہیں کہنے دیں
دنیا کہاں کسی حال میں جینے دیتی ہے۔۔۔
آپ بتائیں کیا جینے دیتی ہے دنیا زرین آنٹی۔۔۔؟؟”
نایاب نے ڈائیریکٹ سوال پوچھ کر شرمندہ کردیا تھا اور دلکش کو ماضی سے نکال لائی تھی۔۔۔
دلکش کی آنکھوں میں آج ایک الگ چمک ابھر آئی تھی اپنی بیٹی کا یہ روپ دیکھ کر۔۔۔
وہ تو اتنے سال یہ سوچ کر پریشان ہوتی رہی کہ انکی طرح انکی بیٹی بھی کسی کونے میں پڑی ہوگی انکے ظالم سابقہ شوہر کی لوپرواہی سے واقف جو تھیں وہ۔۔پر آج نایاب کی باتوں نے انہیں اپنی بیٹی پر فخر کرنے پہ مجبور کردیا تھا۔۔۔
“دنیا کسی حال میں جینے نہیں دیتی نایاب بیٹا۔۔۔”
دلکش نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا
“اور میں کہتی ہوں
“جینے بھی دے دنیا ہمیں”
۔
“نایاب نے سپون کھیر سے بھر کر دلکش کے سامنے کیا تھا،،،سب نے پھر سے کھانا کھانا شروع کردیا تھا سوائے زرین اور انکی دو بیٹیوں کے
ان سب میں افنان یوسف تھا جس کی نظریں ہٹ نہیں پارہی تھی۔۔۔اور ایک دم سے اس نے سانس لیا تھا جو کب سے روکا ہوا تھا نایاب التمش کی باتیں سن کر۔۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: