Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 14

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 14

–**–**–

۔
“دنیا کسی حال میں جینے نہیں دیتی نایاب بیٹا۔۔۔”
دلکش نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا
“اور میں کہتی ہوں
“جینے بھی دے دنیا ہمیں”
۔
“نایاب نے سپون کھیر سے بھر کر دلکش کے سامنے کیا تھا،،،سب نے پھر سے کھانا کھانا شروع کردیا تھا سوائے زرین اور انکی دو بیٹیوں کے
ان سب میں افنان یوسف تھا جس کی نظریں ہٹ نہیں پارہی تھی۔۔۔اور ایک دم سے اس نے سانس لیا تھا جو کب سے روکا ہوا تھا نایاب التمش کی باتیں سن کر۔۔۔۔
۔
“چلیں میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں۔۔رات بہت ہوگئی ہے”
افنان اٹھ گیا تھا کچھ دیر بعد
“پر سر۔۔”
“ڈونٹ ورری نیشا ہمارے ساتھ ہوگی۔۔۔چلو گی ڈرائیو پر نیشا۔۔؟؟”
نیشا کافی گھبرا گئی تھی اسے علم ہوگیا تھا کہ افنان نے کیوں اسے ساتھ جانے کا کہا ہے۔۔
وہ اس چوٹ کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے جو دلکش کے ہاتھ میں لگی تھی
نا چاہتے ہوئے بھی اس نے ہاں کردی اسے اپنے آپ پر اتنا بھروسہ تو تھا کہ وہ اکیلے میں قائل کرلے گی افنان کو
“ہمم میرا جانے کا دل تو نہیں کر رہا پر میری اسائنمنٹس ہیں میں کل لازمی آؤں گی۔۔”
“نا جاؤ بیٹا۔۔”
دلکش کی آنکھیں پھر سے بھر گئیں تھی انکا یہ بی ہیوئیر بہت نیا تھا سب فیملی کے لیے۔۔
“مجبوری نا ہوتی تو نا جاتی۔۔۔آئیے آپ کو روم میں چھوڑ دیتی ہوں۔۔۔زیبا آنٹی مجھے آپ سے بھی بات کرنی ہے۔۔۔”
نایاب یہ کہہ کر دلکش کی ویل چئیر انکے کمرے تک لے گئی تھی۔۔اور کمرے میں لے جا کر بہت آہستہ سے سہارا دے کر انہیں بستر پر لٹا دیا تھا۔۔
“نایاب۔۔۔”
دلکش نے نایاب کے چہرے پر بہت پیار سے اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا تھا
کچھ پل کو نایاب کی سانسیں بھی ساکن ہوگئیں تھی۔۔۔اتنی طلب اور شدت سے پکارا تھا نایاب کا نام دلکش نے۔۔۔
“آنٹی۔۔۔آپ اداس نا ہوں پلیز۔۔۔”
آگے جھک کر دلکش کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور ان پر کمفرٹ دے کر روم سے چلی گئی تھی۔۔
۔
“نایاب بیٹا سب خیریت ہے کیا بات کرنی ہے۔۔؟ اور بیٹا کل جو ہوا افنان کی طرف سے میں معافی مانگتی ہوں۔۔”
“آنٹی مجھے شرمندہ نا کیجئیے پلیز۔۔زیبا آنٹی پلیز دلکش آنٹی کا خیال رکھئیے انکو چوٹ آئی نہیں دی گئی ہے۔۔۔”
زیا شوکڈ ہوگئی تھیں۔۔۔
“نایاب بیٹا۔۔”
“آنٹی مجھے غلط مت سمجھیں پر جب تک زرین آنٹی اور انکی فیملی ہے یہاں آپ لوگ دلکش آنٹی کو اکیلا مت چھوڑیں پلیز ۔۔۔”
“ہمم اوکے بیٹا میں نورین اور زوبیہ کو کہتی ہوں اور یوسف سے کہہ کر نئی کئیر ٹیکر کا انتظام بھی کرواتی ہوں جو نظر رکھ سکے ہر وقت۔۔۔بہت شکریہ بیٹا۔۔۔۔”
زیبا نے نایاب کو گلے سے لگا لیا تھا۔۔
“جیتی رہو۔۔۔اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو ضرور بتانا۔۔”
“جی ضرور آنٹی۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔”
۔
نایاب وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سویرا کھانا نہیں کھا رہی ہو ممانی بتا رہیں تھیں۔۔۔”
زاران کھانے کی ٹرے لے آیا تھا روم میں اور پیچھے سنی اور میمونہ چھوٹے چاچو کی بیٹی بھی تھی
“دو اور لوگ لے آتے ساتھ زاران۔۔”
سویرا نے اکتاہٹ سے کہا تھا وہ زاران سے تنہائی میں باتیں کرنا چاہتی تھی پر زاران ایسے ہی کر رہا تھا ہر وقت کوئی نا کوئی ہوتا تھا ساتھ اسکے۔۔۔
یا یوں کہہ لیں کہ ہر وقت سویرا کے کمرے میں زاران اکیلے نہیں آتا تھا اس رات کے بعد سے جب سے نایاب نے اس پر غصہ کہا تھا اور اکیلے کمرے میں آنے پر طعنہ دیا تھا
۔
“ہاہاہا گریٹ آئیڈیا۔۔پھر لڈو کھیلیں گے۔۔؟؟”
میمونہ نے قہہقہ لگایا تھا اور سب کو آوزیں دہ دی تھی جس پر زاران ہنسنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔اور ٹرے سویرا کے پاس بیڈ پر رکھ کر خود سامنے صوفہ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
باقی کزنز بھی آگئے تھے ہلہ غلہ کرتے ہوئے کمرے میں۔۔۔
“زاران۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا بھگتو اب۔۔۔بستر سے جلدی اٹھ جاؤ گی تو ہم سب سے جان چھوٹ جائے گی۔۔۔”
سنی نے ہائی فائی دیا تھا اور کچھ دیر میں لڈو بھی آگئی تھی روم میں۔۔۔
“زاران تو ہنستے ہوئے وہاں بیٹھ گیا تھا سب کو دیکھنے لگا تھا۔۔
اور سویرا کی نظریں صرف زاران کے مسکراتے چہرے پر تھیں۔۔۔
“میں اس انسان کو ٹھکرا کر چل دی تھی خاور کے پاس۔۔؟؟”
سویرا نے خود سے کہا تھا۔۔۔
“انسان کتنا نا شکرا ہوتا ہے نا۔۔جب پاس ہو تو بروقدرا بن جاتا ہے اور جب کوئی دور چلا جائے تو بے صبرا۔۔۔۔”
سویرا کی آواز کب اونچی ہوئی اور کب وہاں شور تھم گیا تھا زاران کی نظریں اٹھ کر اسکی نظروں پر پڑی تھیں۔۔۔پر زاران نے ایک مسکان دی تھی اور نظریں جھکا لی تھیں۔۔
اس مسکان میں ایک انکار تھا جو سویرا سمجھ گئی تھی۔۔۔پر اسکا دل نہیں۔۔۔
کیونکہ وہ نایاب التمش نہیں تھی۔۔وہ جذبات میں بہنا چاہتی تھی وہ مر مٹنا چاہتی تھی اب زاران عابدی کی محبت میں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“افنان لاسٹ ئیر کا نیو یئر یاد ہے تمہیں کتنا مزہ کیا تھا اس رات کو۔۔؟؟”
نیشا نے افنان کے گھٹنے پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا نایاب سے اپنی نظریں سامنے سے ہٹا کر ونڈو کی طرف کر لی تھی۔۔اوہ بہت آکورڈ محسوس کر رہی تھی نیشا کی لووی ڈووی گفتگو سے۔۔
“سب سے بیکار تھی وہ رات میرے لیے۔۔۔”
افنان نے نیشا کا ہاتھ ہٹا دیا تھا سپیڈ اور تیز کردی تھی۔۔اسکی نظریں بار بار نایاب پر پڑ رہی تھی جس کی دھیان ہی باہر کی دنیا پر تھا۔۔۔
“سیریسلی۔۔؟ اس رات یاد ہے ہم دونوں نے پہلی بار۔۔۔”
“اننف نیشا۔۔۔”
اور سپیڈ تیز ہوگئی تھی گاڑی کی افنان کو جلدی تھی نایاب کو ڈراپ کرنے کی اس سے زیادہ جلدی اسے نیشا کی بکواس بند کرنے کی تھی۔۔
پتا نہیں کیوں وہ نہیں چاہتا تھا نیشا کی کوئی بھی بات نایاب کے کانوں تک جائے۔۔۔
“مس نایاب۔۔۔آپ کا ہوسٹل۔۔۔”
نایاب جلدی سے اتر گئی تھی اپنا پرس لیے۔۔۔
“شکر۔۔۔”
پر افنان نے پہلے ی گاڑی ڈورا دی تھی۔۔۔
“مجھے پتا تھا تم بھی اس بلیک بیوٹی سے جان چھڑانا چاہتے ہو اتنی سپیڈ۔۔اب کم کر سکتے ہو افنان۔۔۔”
نیشا نے پھر وہیں ہاتھ رکھا تھا اور اس بار افنان نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا اور زور سے پکڑ لیا تھا اسکا ہاتھ۔۔۔
“افنان یو آر ہرٹنگ مئ۔۔۔ہاتھ چھوڑو۔۔۔”
پر افنان کی گرفت اور مظبوط ہوگئی تھی
“سیریسلی۔۔؟؟ تو دلکش چچی کو کا ہرٹ نہیں ہوا ہوگا نیشا۔۔؟ تم اتنے سالوں میں بھی نہیں بدلی نا۔۔؟”
افنان نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھوڑ دیا تھا جو پوری طرح لال ہوگیا تھا
“اوو بہت احساس ہورہا ہے افنان۔۔؟ ہماری تکلیف کا کیا۔۔؟ میری موم کے درد کا احساس نہیں۔۔اس بچ۔۔۔”
“بڑی ہیں وہ تم سے شرم کرو کچھ۔۔۔”
“نہیں کروں گی اور کروں بھی کیوں۔۔؟ ہمارے باپ کو تو کھا گئیں وہ اب ہمارے بچے کچے رشتے بھی چھین رہی ہیں ہم سے۔۔۔ہمیں بھی ضرورت ہے آپ لوگوں کی یوسف پاپا کی۔۔۔زیبا تائی جان کی تمہاری۔۔۔”
نیشا نے افنا کے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا تو اس نے گاڑی روک کر گہرا سانس لیا تھا۔۔۔
“ہم لوگوں نے کبھی ساتھ نہیں چھوڑا زرین چچی کا نیشا۔۔تم لوگ اپنی مرضی سے گئے تھے گھر چھوڑ کر۔۔”
“اس لیے واپس بھی آگئے ہیں۔۔۔نہیں جائیں گے اب ہم کہیں۔۔۔”
افنان کے چہرے پر خوشی آگئی تھی۔۔وہ یہی چاہتا تھا اسکی چچی اور انکی فیملی عزت کے ساتھ ایک ساتھ رہیں اس گھر میں۔۔۔
“بہت اچھا کیا۔۔۔وہ گھر تم لوگوں کا بھی ہے پر دلکش چچی کے پاس بھی نہیں جاؤ گی اب تم۔۔۔”
“پر افنان۔۔۔”
“پلیز نیشا رشتوں میں انتشار نہیں آنا چاہیے۔۔۔دلکش چچی کے ساتھ بھی کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔خاص کر ہاتھوں سے میں نے آج درگزر گر دیا ہے پر آگے نہیں کروں گا۔۔۔”
افنان نے پھر سے ڈرائیو سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
“ہمم اگر تم یہی چاہتے ہو تو ایسا ہی سہی۔۔۔”
نیشا نے افنا ن کے کندھے پر سر رکھ دیا تھا۔۔۔ افنان اور بچپن کے دوست اور ساتھی تھے جس ماحول میں وہ پلے بڑے تھے وہاں یہ باتیں کوئی ایشو نہیں رکھتی تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
ایک سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“اتنا ٹائم ہوگیا مجھے یہاں آتے ہوئے میں نے آج تک کیوں نہیں یہ ایکویریم نہیں دیکھا زوبیہ باجی۔۔”
“افف نایاب پھر سے باجی۔۔۔یار نام لیکر پکارو نا پلیز۔۔۔”
“نہیں زوبیہ باجی آپ بڑی ہیں۔۔۔”
اور زوبیہ افنان کے لارج بیڈروم سے اٹیچ روم میں لے گئی تھی
“اتنی بڑی بھی نہیں ہوں اب میں۔۔۔سوو یہ جم ہے افنان بھائی کی۔۔۔یہ انکا سنوکر کب۔۔۔اور اب میں دیکھانے جا رہی ہوں وہ جگہ جہاں افنان بھائی کی جان بستی ہے۔۔۔”
اور ایک اور اٹیچ روم تھا جس میں بلکل درمیان میں شیشے کا ایک بڑا سا ایکویریم بنا ہوا تھا جس میں جلتی روشنیوں سے پورا کمرا جگمگا رہا تھا۔۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔۔اتنی زیادہ مچھلیاں۔۔۔۔اتنی خوبصورت مچھلیاں۔۔۔”
نایاب سے رہا نہیں گیا وہ ایکویریم کے پاس بھاگ گئی تھی۔۔۔
“یہ بھائی کی کلیکشن ہے۔۔ اس میں ہر فش الگ الگ نسل اور الگ الگ جگہ سے منگوائی گئی ہے۔۔۔”
نایاب جھک کر دیکھنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔اور زوبیہ ان مچھلیوں کے نام بتانا شروع ہوگئی تھی
پچھلے ایک گھنٹے سے وہ دونوں مگن تھیں کہ انکو دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز نہیں آئی تھی۔۔۔
“زوبیہ باجی آپ نے بتایا نہیں کہ ان مچھلیوں میں ایک مگر مچھ بھی ہے وہ بھی خونخار وہ دیکھیں۔۔۔”
شیشے کے اندر جب اسے غصے سے بھری دو آنکھیں نظر آئی تو اس نے زوبیہ کو دیکھایا تھا جس کی ہنسی گونجنا شروع ہوگئی تھی پورے کمرے میں
“ہاہاہا افنان بھائی مگر مچھ۔۔؟؟”
افنان جو جھکا ہوا تھا سیدھا کھڑا ہوکر گھورا تھا نایاب کو جو ایک دم سے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
“زوبیہ باجی مگر مچھ غصے میں لگ رہا بھاگیں یہاں سے۔۔۔”
نایاب نے جو ایک باؤل شیشے کا پکڑا ہوا تھا جس میں اس نے اور زوبیہ نے ایک فش چرا کے ڈال لی تھی نایاب نے اپنے پیچھے چھپا لیا تھا اور دونوں ہنستے ہوئے روم سے باہر بھاگ گئیں تھیں۔۔۔
۔
“نایاب اب اس باؤل کو چھپا دینا افنان بھائی کی فیورٹ ہے یہ فش جس کو لینے کے لیے تم نے ضد کی اب چھپا دو اسکو۔۔۔”
“ارے لڑکیوں۔۔۔کیا ہوا۔۔۔؟؟”
دلکش کی ویل چئیر کے پاس دونوں رک گئیں تھیں۔۔۔ایک گہرے سانس بھر کر ہنسنا شروع ہوگئیں تھی۔۔۔
“پاگل ہوگئی ہو دونوں۔۔؟؟”
زیبا بیگم بھی آگئی تھی۔۔۔پر جب زوبیہ نے وہ فش والا باؤل زیبا اور نورین کو دیکھایا تو دلکش بیگم کو کچھ سمجھ نہیں آئی تھی پر زوبیہ کی طرح ہنس دی تھی زیبا بیگم اور نورین
“زوبیہ نایاب کو تو پتا نہیں پر بیٹا تمہیں پتا ہے کہ افنان۔۔۔۔”
“امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
افنان یوسف کے چلانے کی آواز آئی تھی اور کچھ سیکنڈ میں افنان صاحب ان لوگوں کے سامنے تھے۔۔
“امی جینیفر نہیں مل رہی۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
نایاب نے پوچھا تھا تو زوبیہ نے وہ باؤل پیچھے چھپا کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔
“امی جینیفر۔۔۔صبح تو کمرے میں چھوڑ کر گیا تھا،،،کہاں چلی گئی وہ۔۔۔زوبیہ۔۔۔ نورین بھابھی۔۔۔”
زوبیہ گھبرا گئی تھی۔۔۔
“پتا۔۔۔پتا نہیں بھائی۔۔۔”
“پتا نہیں۔۔۔؟؟ تم دونوں تھی کمرے میں۔۔کیا کیا جینیفر کے ساتھ۔۔؟؟”
افنان غرایا تھا۔۔۔
“وہ۔۔۔افنان سر۔۔۔”
“مس نایاب۔۔۔پیچھے کیا چھپا رہی ہو۔۔؟ دیکھاؤ زرا۔۔۔”
“کبوتر۔۔۔”
نایاب نے جیسے ہی اوپر دیکھ کر اشارہ کیا تھا افنان سمیت سب اوپر دیکھنا شروع ہوگئے تھے
“دلکش آنٹی کل اسی وقت آؤں گی لوو یوو زیبا آنٹی۔۔۔زوبیہ باجی تھینک یو چندا۔۔۔۔۔”
نایاب اس باؤل کو چھپا کر لے گئی تھی اپنے ساتھ۔۔۔
“امی میری جینیفر کیا اس لڑکی نے۔۔۔”
“اففو افنان وہیں ہوگی ایکویریم میں۔۔۔تنگ نہیں کرو مجھے کچن میں بہت کام ہے۔۔۔”
زیبا الٹا افنان کو جھڑک کر چلی گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔
“پر امی۔۔۔نورین بھابھی کیا آپ کو پتا”
“افنان بھائی مجھے ازیان بلا رہیے ہیں آپ ایکویریم میں دیکھیں اتنی مچھلیوں میں چھپ گئی ہوگی۔۔”
نورین بھابھی زوبیہ کو آنکھ مار کر چلی گئیں تھی اپنے کمرے میں
“زوبیہ۔۔۔تم جانتی ہو نا کہاں ہے جینیفر۔۔؟ جب بھی ایکویریم کے پاس جاتا ہوں وہ اچھل کر سامنے آجاتی تھی اب تو نطر ہی نہیں آئی۔۔۔”
“افنان بھائی آپ بھی نا پریشان نا ہوں وہیں ہوگی۔۔۔۔دلکش چچی چلیں آپ کو باہر لے جاتی ہوں گارڈن میں”
۔
وہ بھی نظریں چرا کر چلی گئی تھی اور افنان وہیں صوفے پر بیٹھ گیا تھا سر کھجاتے ہوئے۔۔۔
“کیا پتا جینیفر بیمار ہو۔۔؟؟ اچھل کر سامنے آنے جتنی ہمت نا ہو اس میں۔۔ ورنہ کہاں جا سکتی ہیں۔۔۔”
افنان واپس اپنے روم میں چلا گیا تھا یہی باتیں سوچ کر۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران۔۔۔ایک سال ہوگیا ہے۔۔۔شادی کے لیے ہاں کردوں اب۔۔۔”
سویرا چائے کے دو مگ لائی تھی زاران کے روم میں جو بالکونی میں کھڑے صرف نیچے دیکھ رہا تھا اس تالاب کو جہاں اسے ابھی بھی وہ نظر آتی تھی۔۔۔لگتا تھا جیسے وہ اسے دیکھ رہی ہے۔۔۔
اس ایک سال میں اسکی بات نہیں ہوئی تھی نا نایاب اسکا فون اٹھاتی تھی پر اسے یقین تھا نایاب ڈھل جائے گی۔۔۔
“ہمم سویرا۔۔۔ خاور نے رشتہ بھیجا ہے راحیل مامو ان لوگوں کو ہاں کرنے کا سوچ رہے ہیں۔۔”
زاران نے سویرا کے ہاتھ سے چائے کا مگ پکڑ کر پینا شروع کردیا تھا
“زاران میں مرجاؤں گی پر کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔۔”
“ہاہاہا شادی نہیں کرو گی تو یار کیا کرو گی۔۔؟ کیونکہ میں نے نایاب کے آنے کے بعد اس سے نکاح پڑھوا لینا ہے۔۔۔تمہارا انتظار راہیگا جائے گا۔۔۔سنبھل جاؤ۔۔”
“زاران جس امید اور محبت پر تم نایاب کا انتظار کر رہی اسی امید اور محبت پر یقین کئیے میں بھی انتظار کر ونگی۔۔۔”
اسکی آواز بھاری ہوگئی تھی جس نے اسے مجبور کردیا تھا سویرا کی طرف دیکھنے پر۔۔۔
زاران نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا سویرا کے چہرے سے آنسو صاف کرنے کے لیے پر اسکا ہاتھ رک گیا تھا۔۔۔اسکی آنکھوں کے سامنے صرف نایاب کا چہرہ آیا تھا اس وقت۔۔۔
“میں تمہیں دعا بھی نہیں دے سکتا سویرا۔۔۔”
زاران نے دوسری طرف چہرہ کرلیا تھا۔۔۔
“پر میں تمہیں بددعا دینا چاہی ہوں۔۔۔اللہ کرے تمہیں نایاب ٹھکرا دے اور تم مجھے اپنا لو۔۔۔
کیونکہ جب وہ تمہیں سہی معنوں میں ٹھکرا دے گی تب تمہیں سمجھ آئے گا درد ٹھکرائے جانے کا۔۔۔”
وہ روتے ہوئے وہاں سے گئی تھی
“جیسے مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آیا۔۔؟؟ آج پھر سے یاد کروا دیا مجھے جو میں نے خود سے وعدہ کیا تھا چار سال سے پہلے نہیں یاد کروں گا۔۔۔
نایاب التمش کو۔۔۔اسکی یادوں کو۔۔۔”
زاران نے اپنا فون نکالا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہاؤ ڈیڑھ یو۔۔۔بچ۔۔۔”
کرسٹل نے ریسیپشن ڈیسک پر کھڑی نایاب کو انسلٹ کیا تھا سب کے سامنے
“ایم سو سوری۔۔مس کرسٹل غلطی آپ کی بھی تھی۔۔۔”
“شٹ ام ڈونٹ ٹاک ٹو مئ لائک ۔۔۔”
“مس کرسٹل۔۔۔سئے سوری رائٹ ناؤ۔۔۔”
افنان نے اپنے پی اے کو بھیج دیا تھا اور باقی تماشہ دیکھ رہے سٹاف کو بھی واپس کام کرنے کی طرف کا اشارہ کیا تھا
“بڑ سر ۔۔۔”
“رائٹ ناؤ سئے سوری۔۔۔اینڈ ڈونٹ یو ڈیڑھ ٹو کالڈ ہ بچ اور اینی ادر ایمپلائے۔۔۔”
“ایم۔۔۔سوری مس نایاب۔۔۔۔”
“بیک ٹو ورک ناؤ۔۔۔۔”
کرسٹل چلی گئی تھی پر نایاب اور افنان وہیں کھڑے تھے۔۔۔
“تھینک یو سوو مچ۔۔۔مس کرسٹل لاسٹ منتھ سے ایسی لینگوئیج استعمال کر رہی۔۔۔
آپ نے جو آج کیا۔۔۔”
“زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے مس نایاب۔۔۔آپ کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو میں یہی کرتا۔۔۔مجھے حیرت اس بات پر ہورہی ہے کہ باقی باتوں پر آپ کی فلاسفی ختم نہیں ہوتی اور یہاں آپ کی زبان کھلتی نہیں ہے۔۔۔کم سے کم مجھے بتا دیتی۔۔۔میرے آفس میں گالی گلوچ کرنے والے سٹاف کی کلاس میں خود لے لیتا۔۔۔”
نایاب کا منہ کھل گیا تھا افنان سے اتنی باتیں سننے کے بعد۔۔۔
“مسٹر افنان۔۔۔”
“اب میرے سامنے شیرنی بننے کا فائدہ ہے۔۔۔؟؟”
افنان اپنی ہنسی چھپا کر چلا گیا تھا اپنے کیبن میں اب اس نے سوچ لیا تھا نایاب کو اسی کے سٹائل میں تنگ کرنے کا طریقہ جیسے اس نے کیا ہوا تھا پچھلے ایک سال سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
اگلے دن۔۔۔۔
۔
۔
“تو تم کیا چاہتے ہو زاران۔۔؟؟”
“یار میں چاہتا ہوں تم مجھے یہ پتا کرکے بتاؤ نایاب کہاں کام کرتی ہے۔۔؟؟ کیسے ڈیل کر رہے ہیں وہ لوگ۔۔؟؟ اس کمپنی کے بوس کا نمبر۔۔۔کمپنی کا نام۔۔
میں دو تین گارڈ ہائیر کردوں گا۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔تجھے کیا ہوا ہے یار۔۔۔تو نے اسکی ریگنگ کے لیے کتنے لوگوں کو کہا تھا اگر تجھے کمپنی کا پتا چلا گیا تو یہاں بھی جینا حرام کروا دے گا اپنی کزن کا۔۔؟؟”
افنان نے طعنہ دیا تھا اسکی نظریں کیبن کے دروازے پر تھیں
“افنان تب بات اور تھی۔۔۔اب اور ہے۔۔میں نے سال پہلے منع کردیا تھا۔۔ میں فکر مند ہوں اسکی سیکیورٹی کو لیکر۔۔۔”
“ہاہاہا زاران اس بات کو ایکسیپٹ کر کے تو اسکی سیکیورٹی کے لیے نہیں تو اس بات کے لیے فکر مند ہے کہ اسکی زندگی میں کوئی آور تو نہیں آگیا۔۔؟؟ یا کوئی اور نا آجائے۔۔۔؟؟”
افنان کھڑا ہوگیا تھا گلاس ونڈو سے باہر روڈ پر چلتی گاڑیوں میں کھو گیا تھا وہ ایک دم سے۔۔
“افنان۔۔۔پہلی بار مجھے لگ رہا ہے کہ تو اکھڑا اکھڑا برتاؤ کر رہا ہے کیا بات ہے یار۔۔؟؟”
افنان نے محسوس کرلیا تھا زاران کی آواز میں ایک اداسی۔۔۔پر وہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ کیوں وہ آسانیاں پیدا نہیں کرنا چاہتا زاران کے لیے۔۔۔
اس سے پہلے وہ جواب دیتا شیشے پر نایاب کے عکس نے افنان یوسف کی سانسیں روک دیں تھیں جو پنک سلوار قمیز میں ملبوس تھی۔۔۔
وہ ایک لمحہ تھا جو افنان یوسف کو ایک چیز تو بتا گیا تھا کہ وہ آسانیاں نہیں پیدا کرنا چاہتا۔۔۔
“کیونکہ میں چاہتا ہوں اب تو انتظار کرے۔۔اگر وہ تیرے نصیب میں ہے تو اسکے دل اور اسکی زندگی میں کوئی نہیں آسکتا۔۔۔اور اگر اس ٹائم پیریڈ میں وہ کسی اور کی ہوگئی تو سوچ لینا کہ وہ تیری تھی ہی نہیں۔۔۔
کیونکہ میں نے کہا تھا تجھے کہ کسی چیز کو گنوا دینا کے بعد واپس حاصل کرنا دیوانے کے خواب جیسا ہوتا ہے۔۔۔”
“وہ کوئی چیز نہیں ہے افنان۔۔۔محبت ہے میری۔۔میں اسے حاصل نہیں کرنا چاہتا اسکی رضامندی سے پانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں جدوجہد اس لیے بھی کررہا ہوں کہ شادی کے بعد وہ گلہ نا کردے مجھ سے۔۔۔
اگر اس نے نکاح کے بعد کہہ دیا کہ زاران مجھے پانے کے لیے کیا کیا تو کیا کہوں گا۔۔؟
ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہا میں بس۔۔؟؟ پر تیری بات بھی ٹھیک ہے۔۔میں اسے یہ وقت دیتا ہوں۔۔۔”
زاران کی باتیں اسے سٹک کرگئیں تھیں اپنے حصار میں لے لیا تھا افنان کو زاران کی باتوں نے۔۔۔
۔
“وہ۔۔۔افنان سر۔۔۔”
اور افنان نے جلدی سے فون کاٹ دیا تھا۔۔۔
“وہ۔۔ایم سوری۔۔۔جینیفر کو میں نے چرایا تھا۔۔۔پریہ۔۔۔کچھ نہیں کھا رہی۔۔اور میں اب اسکے چہرے پر اور اداسی نہیں دیکھ سکتی۔۔۔اس لیے واپس دینے آئی ہوںَ۔۔”
نایاب نے وہ باؤل ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔جسے جلدی سے افنان نے اٹھا لیا تھا۔۔۔
“اوو جینیفر۔۔۔”
افنان کی آواز اتنی میٹھی ہوگئی تھی کہ نایاب کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی تھی سامنے کھڑے کھڑوس شخص کی یہ سائیڈ دیکھ کر۔۔۔
وہ پلٹ گئی تھی واپس جانے کے لیے۔۔۔
“مس نایاب۔۔۔جینیفر اس لیے بھی اداس ہے کہ اسکی ساری فیملی وہاں ایکویریم میں ہے۔۔۔
آپ اسے اپنے پاس رکھ سکتیں ہیں میں زوبیہ کے ہاتھ اسکی باقی کی فیملی اور یہ کیا کھائے گی سب تفصیل بھجوا دوں گا۔۔۔”
نایاب نے حیرانگی سے دیکھا تھا افنان کو۔۔۔
“کیا سچ میں۔۔۔؟؟ وااااووووو۔۔۔۔تھینک یو۔۔۔تھینک یو سووووو مچھ۔۔۔۔
جینیفر موسٹ ویلکم بیٹا۔۔۔۔”
نایاب نے جیسے ہی کہا تھا۔۔۔افنان نے اپنا سر پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
“اس کا کچھ نہیں بن سکتا۔۔۔پر شکر ہے اس بار مجھے نہیں آڈوپشن پر سائن کرنے پڑے گے۔۔۔۔”
افنان نے جب نظریں اٹھائیں نایاب کے آنکھوں میں اس مچھلی کے لیے اتنی نرمی دیکھ
کر حیران رہ گیا تھا۔۔۔۔
“زاران یار کیا نایاب ہیرا گنوا دیا تم نے۔۔۔پر میں تمہارے جیسے غلظی نہیں کروں گا۔۔۔
آج کے بعد اس ہیرے کی قدر میں کروں گا۔۔۔
اگر میں کامیاب ہوگیا نایاب کے دل میں جگہ بنانے میں تو امی سے کہہ دوں گا رشتے کی بات کرلیں گی نایاب سے۔۔۔”
۔
“تمہیں اتنا لگاؤ کیوں ہیں ان جانورں سے۔۔؟ کبھی وہ مارکو اور کبھی یہ۔۔؟؟”
افنان نے آہستہ سے پوچھا تھا۔۔۔”
۔
“کیونکہ یہ بے زبان ہوتے ہیں۔۔۔سب کی سننے والے خاموش رہنے والے۔۔۔ انہیں مذاق میں لوگ مار بھی دیتے ہیں تو کبھی تفریح میں نقصان پہنچا دیتے ہیں۔۔پر یہ کچھ نہیں کہتے۔۔۔
مجھے کوئی کچھ کہہ جائے تو میں اپنے آپ ڈیفینڈ کرتی ہوں پر یہ نہیں کرتے۔۔۔ میرا دل کرتا ہے انہیں محبت دوں۔۔۔کوشش کروں کے ان پر انسان وہ ظلم نا کریں جو انسان دوسرے انسانوں پر کرتے ہیں۔۔۔اور آپ کا بہت شکریہ سر۔۔۔
جزاک اللہ زوبیہ باجی سے کہیے گا زیادہ سارا کھانا لائیں اسکی یہ کل سے بھوکی ہے۔۔۔پانی پر گزارا کر رہی تھی۔۔۔میری بچی۔۔۔”
اس باؤل کو اپنے بازو میں چھپائے نایاب کیبن سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: