Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 15

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 15

–**–**–

۔
“کم سے کم اتنا احسان کردیں التمش نایاب کے بارے میں سوچ لیں وہ خون ہے آپ کا۔۔۔”
“بس کرجائیں دلکش باجی۔۔۔اس ہفتے نکاح ہے ہمارا۔۔۔اگر خیرات میں پیسے دے رہیں ہیں تو رکھ لیں۔۔”
“خیرات۔۔؟ التمش خیرات دیں گے اب اپنی بیٹی کو۔۔؟؟ نہیں چاہیے خیرات۔۔۔میری نایاب کبھی ٹکڑوں پر نہیں پلے گی۔۔۔”
انہوں نے وہ پیسوں سے بھرا لفافہ نیچے پھینک دیا تھا
“یاسمین مجھے بات کرنے دو۔۔۔دلکش یہ خیرات نہیں ہے۔۔”
“التمش اب آپ میری زندگی میں آنے والے ہیں بہتر ہوگا پچھلے رشتے پیچھے بھول جائیں۔۔۔”
“تم تو میری بہن ہو نا یاسمین۔۔؟؟”
بھیگی پلکوں سے دیکھا تھا انہوں نے۔۔۔
“دلکش باجی میں تو ابھی بھی بہن ہوں پر التمش میری چاہت رہے ہیں ہمیشہ سے۔۔
اب اگر ہم دونوں ایک ہورہے ہیں تو کیوں میں اپنا نا سوچوں۔۔؟ اور یہ آخری بار تھا کہ یہ پیسے دینے آگئے۔۔۔شادی کے بعد ہمارے بچے ہوں جائیں گے تو تب میں انہیں ایسے پیسے ضائع کرنے دوں گی۔۔”
التمش کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر چلی گئی تھیں وہ۔۔۔التمش صاحب بنا آواز کئیے یاسمین کے ساتھ ساتھ باہر گئے تھے۔۔۔
اس کمرے میں کھڑی وہ عورت وہیں مر سی گئی تھی
“یاسمین۔۔۔زندگی کبھی وفا نہیں کرتی۔۔انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے اپنی پلیٹ بھرتا ہے۔۔
اور اس بھری ہوئی پلیٹ میں سے انسان کو اللہ اپنے پاس بلا لیتا ہے اور وہ پلیٹ وہیں رہ جاتی ہے۔۔
ساتھ جاتے ہیں تو صرف اعمال۔۔ میرے ساتھ جو ہوا مجھے اسکا غم ہے پر جو نایاب کے ساتھ ہورہا اسکی تکلیف ہورہی مجھے باقاعدہ۔۔۔ میری زندگی نے کیسی بےوفائی کی اللہ نے مجھے ہر خوشی کے ساتھ نوازہ۔۔۔ التمش جیسا خوبصورت نیک شوہر ملا نایاب جیسی ہیرا بیٹی ملی۔۔
اللہ نے مجھے سب کچھ عطا کیا۔۔۔اور اللہ کے بندوں نے چھین لیا۔۔۔
آج آپ نایاب کے سر سے باپ کا سایا چھین رہی ہیں۔۔دعا کروں گی کل کو آپ کو اولاد کا وہ دکھ نا ملے جو آپ مجھے دے رہی ہیں۔۔
اور آپ التمش۔۔؟؟ آپ تو میرے نکاح میں بھی نہیں رہے کیسے آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ کہوں جو کہنا چاہتی ہوں۔۔؟؟”
انہوں بےبسی سے پوچھا تھا۔۔۔وہ کہنا چاہتی تھیں کچھ التمش کے نکاح سے پہلے۔۔۔آج انکی اس بات پر التمش صاحب کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھیں پر وہ مرد تھے انہیں آتا تھا چھپانا سب کچھ۔۔۔
“التمش آپ۔۔۔”
۔
اذانِ فجر کی آواز سے التمش کی آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔اسی بستر کا سہارا لیکر ٹیک لگا لی تھی انہوں نے۔۔۔ پاس سوئی ہوئی بیوی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں پھر بند کی تھیں۔۔
وہ باتیں جو خواب میں ادھوری تھی وہ کانوں میں گونج رہی تھیں انکے۔۔۔
۔
“مرد حسن پرست ہوتا ہے میں سمجھ گئی ہوں۔۔پر آپ تو شوہر تھے۔۔؟ اگر میں حسن میں کمتر تھی تو میری محبت میں نے کبھی کم نہیں پڑنے دی تھی۔۔
میں اتنا کہنا چاہتی ہوں ایک طرف دنیا کی خوبصورتی تھی اور دوسری طرف میری محبت۔۔۔
آپ کی بیوی کی محبت۔۔۔کسی زندگی ہوتی اگر آپ بیوی کی محبت کو خوبصورتی پر ترجیح دیتے۔۔؟
میں آپ کی محبت کے ارمان لئیے بیٹھی رہی اور آپ مجھ سے نجات۔۔۔
دل کرتا ہے دعا دوں کے ساری زندگی خوش رہو آپ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ۔۔
پھر ایک دل کرتا ہے اللہ آپ سے آپ کی ہر خوشی چھین لے جیسے آپ نے مجھ سے چھینی۔۔
آپ کے پاس بس خوبصورتی رہ جائے دنیا کی محبت اور سکون چھین لے اللہ تو آپ بھی دیکھنا جینا کیسا ہوتا ہے۔۔۔
پر میں بد دعا نہیں دوں گی۔۔۔جائیے آپ پھر کبھی نہیں آئیے گا۔۔۔ہمیں صدقہ خیرات دینے بھی نہیں۔۔”
سانس جیسے اٹک گیا تھا انکا۔۔۔چہرہ آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا وہ تکیے پر سر پھینکے رو رہے تھے اور دعا مانگ رہے تھے اپنے رب سے اپنی خوبصورت زندگی سے نجات کی جو پتا نہیں پچھلے کتنے سالوں سے مانگ رہے تھے وہ۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نعمان۔۔۔؟؟”
زاران نے روڈ کی ایک طرف اپنی کار روک دی تھی بیساکھیوں کے سہارے کڑی دھوپ میں تنہا پیدل چلتے اس شخص کو آواز لگائی تھی
“زاران بھائی۔۔؟ اسلام وعلیکم۔۔۔کیسے ہیں آپ۔۔؟؟”
نعمان ن جو شاپنگ بیگ پکڑا تھا اسے نیچے رکھ کر زاران کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا
“وعلیکم سلام۔۔۔اتنے گرم موسم میں اتنی دھوپ میں پیدل چل رہے ہو۔۔۔چلو آؤ میں ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔”
“ارے نہیں زاران بھائی میں چلا جاؤں گا۔۔۔”
“میں کہہ رہا ہوں نا چلو۔۔۔”
“زاران بھائی یہیں پاس ہی ہے میرا گھر بس۔۔۔۔”
“بہت ضدی ہو۔۔۔ کہاں سے آرہے تھے۔۔؟”
زاران خاصی دلچسپی دکھا رہا تھا جس پر نعمان بھی کافی حیران ہوا تھا
“دراصل گھر میں کچھ مہمان آرہے میرے رشتے کے لیے۔۔۔”
نعمان کے شرمانے پر زاران ہنس پڑا تھا
“تم شرما رہے ہو۔۔؟؟ آؤ یہیں پاس تک چھوڑ دیتا ہوں گاڑی لاک کر آؤں۔۔۔”
زاران کار وہیں لاک کر کے واپس نعمان کے پاس آیا تھا اور اسکا شاپنگ بیگ خود پکڑ لیا تھا
“زاران بھائی مجھے پکڑا دیں۔۔۔آپ جائیں میں چلا جاؤں گا۔۔”
“چپ کر جاؤ۔۔۔اتنا وزنی سامان کیسے پکڑو گ۔۔؟؟ تم کسی اور سے کہہ دیتے تمہیں پتا ہے کہ۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے چپ ہوا تھا اسے غصہ بھی تھا نعمان کی بچگانہ حرکت پر اس طرح بیساکھیوں کے ساتھ اتنے سامان کا بوجھ
“کہ میں تو خود بیساکھیوں کے سہارے چلتا ہوں۔۔؟؟”
نعمان نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
“نعمان۔۔۔تم کسی اور کو کہہ دیتے۔۔؟ مجھے اچھا نہیں لگا تمہارا یوں خود کو تکلیف دینا۔۔۔”
وہ دونوں چلنا شروع ہوگئے تھے
“آپ کو اگر ہمدردی ہو رہی ہے یا ترس آرہا تو مت کیجئیے گا۔۔۔گھر کا بڑا میں ہوں۔۔۔
معذور ہوں کہہ کر زمہ داریوں سے منہ نہیں موڑ سکتا نا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بازؤں سے معذور ہونا چاہتا ہوں میں زاران بھائی۔۔۔”
“وہ ٹھیک کہتی تھی۔۔۔تمہیں معذور کہہ کر کے میں نے اپنی دماغی معذوری ثابت کی تھی۔۔”
زاران نے بہت ہلکی آواز میں کہا تھا۔۔۔پر نعمان نے بھی یہ نہیں پوچھاتھا کون کہتی تھی۔۔۔
اسے پتا تھا کون کہتی ہو۔۔نعمان کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکان آگئی تھی نایاب کی بات پر
“زاران بھائی آپ کی نظر میں معذوری کیا ہے۔۔؟ معذور ہونا کیا ہے۔۔۔؟؟”
نعمان۔۔کوئی اور بات کرتے ہیں۔؟ ماضی کی باتیں یاد دلا کر تم مجھے اور شرمندہ کر رہے ہو۔۔”
زاران عابدی جو شاید نعمان کے لیے ابھی تک کا سب سے بڑا مغرور انسان تھا جو رعب دار تھا کھڑوس تھا۔۔۔پر اب اسکے سامنے شرمندہ ہونے والا انسان اسے زاران عابدی لگ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔
۔
“زاران بھائی انسان معذور ہوجاتا ہے چلنا پھرنا بند ہوجاتا ہے اسکا۔۔۔پر معذوری وہ ہے کہ جو آپ کر سکتے ہو پر آپ کرنا نہیں چاہتے۔۔۔آپ محنت نہیں کرنا چاہتے تو یہ ہے آپ کی معذوری۔۔
میں اکلوتا بیٹا ہوں تین بہنیں ہیں۔۔۔اس عمر میں بوڑھے باپ کو یہ کہہ دوں کہ معذور ہوں آپ کر دیں یہ کام ۔۔۔ویسے چاہے میں معذور نہیں ہوں۔۔۔پر ایسے ہوجاؤں گا۔۔۔
میرے نزدیک محنت ضروری ہے ہر کام کے لئے۔۔”
نعمان اپنے گھر کے سامنے رک گیا تھا
“اچھا اب میں چلتا ہوں۔۔۔نعمان۔۔ویسے تو تمہیں سکالرشپ مل چکی ہے۔۔نوکری بھی مل گئی ہے۔۔پر یہ میرا کارڈ ہے۔۔میرے آفس کے دروازے تمہارے لیے کھلیں ہیں۔۔۔اور یہ نا سوچنا کہ ہمدردی کررہا۔۔تم جیسا ایماندار انسان اگر کمپنی میں کام کرے گا تو اچھا لگے گا۔۔۔”
زاران نے کارڈ پکڑا کر نعمان کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔
“ایسے نہیں زاران بھائی چائے پی کر جائیے گا پلیز۔۔۔”
“پر نعمان مجھے دیر ہورہی ہے پھر کبھی۔۔”
“نہیں اندر چلیے نا۔۔۔”
نعمان کے اسرار پر نا چاہتے ہوئے بھی زاران اسکے ساتھ اندر چلا گیا تھا۔۔
۔
وہ چاہتا تھا جو اس دن اس نے نعمان کے ساتھ کیا اسے سب کے سامنے دھکا دے کر وہ سدھارنا چاہتا تھا اسے آج اور بھی دکھ ہوا نعمان کو اتنی تپتی دھوپ میں دیکھ کر اور اس سے زیادہ خوشی نعمان کی خودداری پر ہوئی تھی۔۔۔
نعمان اور اسکی فیملی کے ساتھ چائے کے ساتھ ساتھ دوپہر کا کھانا کھا کر زاران واپس گھر گیا تھا راستے سے اپنی گاڑی لیکر
نعمان کے گھر سے گاڑی تک کا پیدل سفر اسے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ نایاب کی یاد دلا رہا تھا۔۔ابھی تو ایک سال گزرا تھا صرف۔۔۔
اسے ضبط کرنا تھا اسکے سکون کے لیے اور نئی نئی محبت کے لیے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
ایک سال بعد۔۔۔”
۔
۔
“یوسف بھائی صاحب اب ہمیں دونوں بچوں کی مرضی جان کر انکی شادی کی ڈیٹ فکس کردینی چاہیے۔۔۔”
“شادی۔۔؟ کس کی شادی زرین۔۔؟”
زیبا بیگم نے پہلے اپنے شوہر اور پھر زرین کی جانب دیکھ کر پوچھا تھا
“زیبا بھابھی نیشا اور افنان کی۔۔۔”
افنان نے بری طرح کھانسی کرنا شروع کردی تھی۔۔۔
اور اسی وقت اسکے سامنے سرخ رنگ کی چوریاں پہنے ایک سیاہ ہاتھ پانی کا گلاس پکڑے اسکی طرف آیا تھا۔۔۔
“پانی پی لیجئیے۔۔۔۔”
افنان نے ایک بار میں سارا پانی ختم کرلیا تھا۔۔۔
نایاب واپس دلکش بیگم کے پاس جاکر بیٹھ گئی تھی ہر روز کی طرح آج کا دن بھی دلکش آنٹی کے ساتھ بہت مزے سے گزار رہی تھی نایاب۔۔۔وہ اس فیملی کے پرائیویٹ معاملے کو سننا بھی نہیں چاہتی تھی پر دلکش آنٹی اسکا ہاتھ چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں۔۔
“وٹ۔۔۔؟ چچی نیشا اور میں۔۔؟ سیریسلی۔۔؟ آپ”
“افنان۔۔ابھی میں اور تمہاری ماں زندہ ہیں یہ فیصلے لینے کے لیے بڑوں کی باتوں میں مت بولو۔۔۔”
یوسف صاحب کی بات نے افنان کو مجبور کردیا تھا ہاں میں سر ہلانے کو
“زرین بھابھی۔۔افنان اور نیشا۔۔؟ ایسا کیسے ممکن ہے دونوں کے رشتے کا ہم نے سوچا نہیں تھا”
“تو کیا ہوا اب سوچ لو۔۔کیا نیشا میں آپ کو اپنے بھائی کو چھوی نہیں نظر آتی یوسف بھائی۔۔؟
سلمان اگر یہاں ہوتے تو آپ ایسے ہی انکار کرتے۔۔۔”
اس بات پر افنان اٹھ کھڑا ہوا تھا اسے پتا تھا زرین چچی کامیاب ہوجائیں گی سلمان چچا کا نام لیکر۔۔
“میں آفس جا رہا ہوں۔۔۔”
“افنان میری بات سنو۔۔”
نیشا نے پیچھے سے آواز دی پر وہ روکا نہیں
“تم بھی جاؤ اب یہاں نجی معاملات میں تمہارا کیا کام۔۔”
نایاب کو جیسے ہی طنز کیا تھا نایاب نے بنا جواب دئیے باہر جانے کی کی تھی
“وہ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔وہ بھی فرد ہے اس فیملی کا۔۔۔”
دلکش بیگم نے نایاب کا ہاتھ دوبارہ پکڑا تھا اور پہلی بار بولی تھیں وہ اپنی بات بنا ڈرے
“بہت پر نکل آئے ہیں تمہارے۔۔؟؟ دلکش بیگم تمہاری اوقات۔۔۔”
انکی ویل چئیر اور زرین بیگم کے درمیان نایاب آگئی تھی
“آپ نے جو بھی بات کرنی ہے پیچھے ہوکر کریں پلیز میم۔۔۔”
“تمہیں تو میں دیکھ لوں گی نایاب۔۔۔”
“موم پلیز۔۔کیا بات کرنے آئے ہیں اور کیا فضول لوگوں کے ساتھ بحث کرنا شروع کردی آپ نے۔۔۔”
نیشا کی کہی بات پر یوسف صاحب نے اپنی بیگم کو دیکھا تھا۔۔۔اور وہ فیصلہ کرچکے تھے
“ہمم زرین بھابھی۔۔افنان کے لیے ہم نے پہلے ہی ایک لڑکی دیکھی ہوئی ہے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟ یوسف پاپا آپ جانتے ہیں افنان کو میں پسند کرتی آئی ہوں۔۔۔”
نیشا نے اپنی امی کو پیچھے دھکیل دیا تھا
“دیکھو نیشا بیٹا میں نہیں جانتا تھا۔۔۔افنان کے لیے لڑکی ہم نے تین سال پہلے ہی دیکھ لی تھی۔۔
کاش آپ لوگ ناراضگی بھلا کر پہلے لوٹ آتے گھر۔۔۔”
یوسف صاحب کی بات پر نورین سر نیچے کر کے مسکرائی تھی۔۔اسے اپنے سسر کی یہی عادت پسند تھی وہ اپنی بات بھی منوا لیتے تھے اور پھر اور پھر غلط بھی سامنے والا ثابت ہوتا تھا۔۔۔
“پر یوسف پاپا۔۔۔”
“بیٹا جو میں نے افنان سے کہا وہی آپ سے بھی کہوں گا بڑوں کے فیصلے ہیں یہ آپ اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔”
نیشا پاؤں پٹک کر مڑ گئی تھی اور جاتے جاتے نایاب کے کندھے کو جھٹک گئی تھی غصے سے۔۔۔
۔
“آج آپ لوگوں نے پھر اچھا نہیں کیا بھائی صاحب۔۔۔میں اس انکار کے بعد اپنی بچیوں کے ساتھ یہاں نہیں رہوں گی اور اگر کوئی خاندان میں وجہ پوچھے گا تو بتاؤں گی بڑے بھائی کا خون سفید ہوگیا ہے بھتیجیوں کے لیے۔۔۔”
وہ بھی چلی گئیں تھیں وہاں سے۔۔۔۔”
“امی آپ بیٹھیں میں پانی لاتی ہوں”
نورین وہاں سے چلی گئی تھی
“توبہ ہے زرین کی عادت نہیں جانے والی۔۔۔ویسے کونسی لڑکی نظر میں ہے یوسف۔۔۔؟؟”
زیبا نایاب کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھیں
“تمہیں بھی اچھی لگتی ہے وہ۔۔۔۔”
“اچھا کون۔۔؟؟
زیبا کو ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی تھی
“دلکش بھابھی کو سمجھ آگئی ہے تب ہی ہنس رہی ہیں۔۔”
یوسف صاحب کی بات پر دلکش بیگم اور ہنسی تھی۔۔اور نایاب کبھی انکی جانب دیکھ رہی تھی تو کبھی زیبا بیگم کی طرف جن کی نظریں بھی نایاب پر جم گئی تھیں۔۔۔
“سچ میں۔۔۔پر یور کائنڈ انفارمیشن مجھے وہ لڑکی اچھی نہیں لگتی۔۔۔”
یوسف صاحب کی ہنسی بند ہوئی تو دلکش بیگم کی مسکراہٹ بھی اداسی میں بدل گئی تھی
“مجھے وہ اچھی نہیں بہت اچھی لگتی ہے۔۔۔ہاہاہا آپ دونوں اپنے چہریں دیکھیں ڈر گئے تھے۔۔؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔افنان سے پوچھتے ہیں آنے دو زرا۔۔۔”
“اگر آپ تینوں کو برا نا لگے تو مجھے بھی بتائیے کون ہے وہ لڑکی۔۔؟؟”
اور اسکے بعد وہ تینوں بےتحاشہ ہنسے تھے
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
بیسٹ آف لک بھائی۔۔۔۔۔”
افنان جیسے ہی آفس سے آیا تو زوبیہ نے لیپ ٹاپ بیگ پکڑ کر آہستہ سے کہا اور واپس اندر چل دی۔۔۔
“افنان بیٹا فریش ہوجاؤ میں کھانا لیکر روم میں آتی ہوں۔۔۔۔”
زیبا بیگم واپس کچن میں چلی گئیں تھیں
۔
افنان کچھ دیر بعد فریش ہوکر جب واپس روم میں آیا تو یوسف صاحب ٹاول لیکر کھڑے تھے اور زیبا بیگم کھانے کی ٹرے۔۔۔۔
“یا اللہ اتنی محبت مل رہی ہے آج مجھ معصوم کو۔۔۔ بلی کا بکرا بنانے والے ہیں نا۔۔۔؟؟”
افنان نے ڈرامائی انداز میں کہا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا کچھ ایسے ہی سمجھ لو۔۔۔۔بیٹا آج کی اولاد ایسی ہی کہ ماں باپ غصے اور سختی سے کچھ منوا نہیں سکتے۔۔۔
بس پیار محبت سے منت سماجت کی جا سکتی ہے۔۔۔۔”
یوسف صاحب افنان سے بھی زیادہ ڈرامائی انداز میں بولے تھے جس پر زیبا بیگم افنان کا کھلا منہ دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنسی تھی۔۔۔۔
“یوسف صاحب آپ بھی نا۔۔۔۔”
“میں بھی نا کیا بیگم۔۔۔؟؟؟”
“آپ دونوں بھی نا۔۔۔جوان اولاد کے سامنے نا۔۔۔۔”
“پتا نہیں بیٹا تم کیسے ری ایکٹ کرو گے۔۔۔۔”
وہ تینوں جیسے ہی بیڈ پر بیٹھے تھے زیبا بیگم نے نروس ہوتے ہوئے بات شروع کی تھی۔۔۔
“امی آپ دونوں نے جہاں میری شادی کرنی ہے آپ کر دیجئے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔”
“کیا سچ میں نایاب تمہیں پسند ہے۔۔۔۔؟؟؟”
جتنی خوشی سے یوسف صاحب نے کہا تھا اتنی حیرانگی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا افنان
“وٹ نایاب۔۔۔۔جب گیا تھا تو نیشا کی بات چل رہی تھی واپس آیا تو نایاب کی۔۔۔؟؟ اففف گریٹ پیپل۔۔۔۔۔”
افنان نے کھانا کھانا شروع کیا تھا اب اسکے چہرے پر ایک سکون عیاں تھا
“کیا تمہیں نایاب نہیں پسند آئی۔۔؟؟ اسکے رنگ کی وجہ سے تم۔۔۔۔”
“وللہ امی آپ تو ایسے نا کہیں۔۔۔۔ رنگ کی بنا پر کبھی میں کسی کو پسند یا نا پسند نہیں کرسکتا۔۔۔۔”
“تو پھر بیٹا۔۔۔؟؟؟”
“ابو مجھے تھوڑا وقت دیجیئے میں جلدی میں کوئی فیصلہ نہیں لے سکتا پلیز۔۔۔۔”
“ہممم اوکے بیٹا۔۔۔دیا تمہیں اتنا وقت پر یاد رہے نایاب کی گریجویشن سے پہلے فیصلہ لینا ہوگا۔۔۔۔نہیں تو پاکستان چلی گئی نا وہ بچی واپس پھر ہاتھ کچھ نہیں آنا۔۔۔۔”
وہ آنکھ مار کر وہاں سے چلے گئے تھے
“تمہارے ابو بھی نا۔۔۔۔بچے بن جاتے ہیں۔۔۔۔”
زیبا نے ہنستے ہوئے افنان کے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا اور وہ ایک دم سے سنجیدہ ہوگئیں تھیں۔۔۔۔
“افنان بے شک یہ تمہاری زندگی ہے بیٹا اور تمہیں ہی سارے فیصلے کرنے ہیں۔۔۔پر نایاب ایک انمول ہیرا ہے۔۔۔یہ فیصلہ جب کرنے لگو تو بہت سوچ سمجھ کر کرنا۔۔۔۔”
“ضرور۔۔۔۔۔امی۔۔۔آپ فکر نا کیجیئے۔۔۔۔”
افنان کے ذہن میں صرف دو نام تھے۔۔۔۔
نایاب التمش اور زاران عابدی۔۔۔۔
اب اسے سوچنا تھا کہ اس نے کس کا ساتھ دینا تھا اور کسے اپنانا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔”
مس نایاب یہ ایک اور بُکے آیا ہے۔۔۔۔”
ریسیپشنسٹ نے پھولوں کا گلدستہ نایاب کے ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔
اور ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ پھول نایاب کے کیبن کے باہر ڈسٹبن میں پھینک دئیے تھے۔۔۔۔
“ظالم لڑکی۔۔۔۔”
سمیرا باجی نے نایاب کو دور سے کہا تھا یہ اب روز کا کام تھا روز بنا نام کے نایاب کو ایسے ہی گلدستے ملتے تھے اور روز وہ یہی کرتی تھی۔۔۔
“بات یہ نہیں ہے باجی۔۔۔۔بات یہ ہے کہ ایک بار انہیں کیبن میں رکھ کر میں اس شخص کو بڑھاوا دوں گی تاکہ وہ اور کوشش کرے۔۔۔؟؟
میرا نرمی برتنا ہی موقع دے گا اسے کہ وہ بےدردی کے ساتھ میری ریپوٹیشن خراب کرنے کا۔۔۔۔”
سمیرا باجی تو مسکرانا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔
“پر نایاب موقع دینے میں کیا حرج ہے۔۔۔؟ “
“میں موقع ہی تو نہیں دینا چاہتی۔۔۔۔میں بس یہاں پڑھنے آئی تھی پھر انٹرنشپ مل گئی میں یہاں سے واپس گھر جانا چاہتی ہوں گریجویشن کے بعد۔۔۔
میرا مقصد تعلیم حاصل کرنا تھا موقعے دینا نہیں۔۔۔۔”
“اووو”
سمیرا باجی نے جواب میں بس اتنا ہی کہا تھا اور وہ چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
“افنان بھائی۔۔۔۔آپ کو نہیں لگتا اب آپ کو کھل کر بتا دینا چاہیے نایاب کو”
افنان نے فائل پیچھے ہٹا کر سمیرا کو کیبن میں داخل ہوتے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا
“کس بارے میں۔۔۔؟؟؟”
“ہر روز پھولوں کے گلدستے اور لیٹر بھیجنے کے بارے میں۔۔۔۔”
“مطلب۔۔۔؟؟؟کیا مس نایاب کو کوئی پھول بھیج رہا ہے۔۔؟ آپ کو کس نے کہا۔۔؟”
افنان گھبرا گیا تھا اور نظریں چرا لی تھی اس نے۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا بس ہوگیا آپ کا۔۔؟ اب بتائیں کب بات کریں گے کھل کر اس سے۔۔۔؟؟ مجھے پتا ہے آپ ہی ہیں وہ۔۔۔۔سچ بتائیں ورنہ زوبیہ کو بتا دوں گی۔۔۔کہ آپ نایاب کو روزانہ۔۔۔”
“ششش پاگل لڑکی آہستہ۔۔۔۔”
افنا کرسی سے اٹھ کر دروازے کے باہر جھانکا تھا کہ کسی نے کوئی بات تو نہیں سن لی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔زوبیہ ہوتی تو آپ کا یہ ڈرا ہوا چہرہ دیکھتی۔۔۔”
“بتاؤ تو سہی اس مہینے کی تنخواہ نہیں دوں گا۔۔۔۔اگر کسی کو بتایا تو۔۔۔”
اس پر وہ اور ہنسی تھی
“اچھا سوری نہیں بتاتی پر آپ کو بتانا چاہیے نا۔۔۔؟؟؟ دیر نہیں کرنی چاہیے۔۔۔”
“ہمم سوچ رہا ہوں آج کہوں کچھ۔۔۔پر ہمت نہیں ہورہی۔۔۔”
افنان واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“ہمت کیجیئے پلیز۔۔۔وہ ایک باکردار سلجھی ہوئی اچھی لڑکی ہے۔۔۔
ہاں غصے کی تیز ہے سنجیدہ مزاج ہے۔۔۔۔”
“ہولڈ آن بچے۔۔۔۔ وہ اور سنجیدہ مزاج۔۔۔؟ جینیفر کو میری بچی کہہ کر بلاتی ہے پھر ہنستی ہے اکیلے میں باتیں کرتی ہے۔۔۔اور روز آفس سے واپسی پر مارکو سے ملتی ہے ایسے جیسی جنگ پر بھیج رہی ہو۔۔۔
اور وہ سنجیدہ۔۔۔؟؟”
افنان نے ایک سانس میں اتنی لمبی بات کی تھی
“واااووو آپ اسے اتنا نوٹ کرتے ہیں۔۔۔۔ او مائی گاڈ اسے فالو بھی کرتے ہیں۔۔؟؟ یا اللہ اتنی چینجنگ۔۔۔۔؟؟؟ اب تو ضرور بتاؤں گی۔۔۔
اور ہاں تنخواہ کاٹ لیجیئے۔۔۔یہ بات بتانے کے پیسے زوبیا نورین بھابھی اور ازیان بھائی سے وصول کر لوں گی۔۔۔۔”
وہ قہقہے لگاتی ہوئے چلی گئی تھی کیبن سے۔۔۔۔۔
یہ سارے جھلے مجھے کیوں ٹکرتے ہیں۔۔۔؟؟؟
ابھی ایک اور پاگل کو ہینڈل کرنا ہوگا پتا نہیں کیسے ری ایکٹ کرے گی یہ بات سن کر۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مس نایاب۔۔۔۔۔”
لفٹ کا ڈور بند ہونے لگا تھا کہ افنان نے شوز رکھ کر روک دیا تھا۔۔۔
“آپ چلے جائیں سر میں دوسری سے آجاؤں گی۔۔۔۔”
نایاب جیسے ہی لفٹ سے باہر جانے لگی تھی افنان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس اندر کھینچ لیا تھا اور لفٹ سٹارٹ کر دی تھی۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔”
نایاب اپنا ہاتھ چھڑا کر لفٹ کے دوسرے کونے پر چلی گئی تھی۔۔۔۔
“میں صرف تم سے بات کرنا چاہتا ہوں اور بہانے ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔۔”
اس نے غصے کا اظہار کیا تھا
“آپ نے جو بات کرنی تھی آپ مجھے آفس کے وقت بھی کر سکتے تھے۔۔”
“نایاب۔۔۔۔انف۔۔۔ میں تم سے بہت ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
اسکا لہجہ جیسے ہی ہلکا ہوا تھا نایاب کی گھبراہٹ اور بڑھ گئی تھی اسے کہیں نا کہیں اندازہ تھا افنان کی ضروری بات کا
“جی کیجیئے۔۔۔۔”
“وہ۔۔امم دراصل۔۔۔۔”
اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے وہ ایک دم سے اتنا نروس ہوگیا تھا
“کیا تم۔۔۔۔میری گرل فرینڈ بنو گی۔۔۔۔؟”
“گرل فرینڈ۔۔۔۔۔؟؟ اس لفظ سے ساری زندگی نفرت کرتی آئی ہوں۔۔آپ کو شرم نہیں آتی۔۔۔؟؟؟ اس طرح کی امید نہیں تھی۔۔۔۔”
لفٹ رکنے پر وہ پاؤں پٹک کر آندھی کی طرح چلی گئی تھی وہاں سے۔۔۔
“شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔یار شادی کا کہنا تھا گرل فرینڈ کہاں سے نکل آیا۔۔۔۔
کیا سوچ رہی ہوگی۔۔۔۔”
افنان لفٹ کے وال پر غصہ نکالنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
“امی سے کہتا ہوں وہی مینیج کریں اب انکی ہونے والی بہو تو بھڑک گئی مجھ سے۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔توبہ غصہ ناک پر رہتا ہے اسکے۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ مہینوں کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
اب ٹیسٹ کر کے بتائیں نا امی۔۔۔۔۔”
زاران نے وہ کھیر کی پلیٹ انیسہ بیگم کے آگے رکھی تھی۔۔۔۔
“بہت اچھی بنی ہے بیٹا۔۔۔اب کچن سے نکل جاؤ کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا زاران۔۔۔۔؟؟”
زاران کا چہرہ اپنے دوپٹے کے پلو سے کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“کوئی نہیں دیکھے گا سب سو رہے ہیں۔۔۔۔امی نایاب اسی ہفتے آرہی ہے میں اسکے لیے یہ کھیر بنا دوں تو آپ کھلائیں گی اسے۔۔؟ میرا بتاۓ بغیر۔۔؟؟”
“زاران اتنا سب نایاب کے لیے۔۔۔؟”
“کچھ اور نہیں ہے کچھ خاص تحفہ دینا چاہتا تھا۔۔۔وہ سب خواہشیں شادی کے بعد سہی۔۔۔۔”
“بے شرم جاؤ اب۔۔۔۔”
انیسہ بیگم کے ماتھے پر بوسہ دے کر زاران چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
اور کچن کے باہر ایک کارنر پر سویرا بھیگی آنکھیں لئیے خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔
“ٹھیک کہا ہے جو جس کے نصیب میں ہوتا ہے اسی کو ملتا ہے ہم لوگ محنت کرتے رہ جاتے سازشیں کرتے رہ جاتے ہیں۔۔۔
وہ سیاہ رنگ کی لڑکی اتنی خوش قسمت نکلے گی میں نے سوچا نہیں تھا۔۔میں اس شخص کے پاس رہ کر اسے مائل نا کرسکی۔۔۔اور وہ بے خبر دور رہ کر راج کر رہی زاران عابدی کے دل و دماغ میں۔۔۔۔۔۔
یا اللہ نرالے کھیل ہیں۔۔۔۔ انسان اپنے ہاتھوں سے اپنی خوشیاں تباہ کرلیتا ہے اور جو صبر شکر کر کے ظلم برداشت کرلیتے انہیں وہی سب مل جاتا ہے بنا محنت کے۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مس نایاب آپ کو کوآپریٹ کرنا ہوگا ورنہ معاملہ پولیس اِنویسٹی گیشن کے انڈر چلا جائے گا”
اور اسی وقت نایاب اس کرسی سے اٹھ گئی تھی
“میں کوآپریٹ کروں۔۔کس لیے۔۔؟ ان بےبنیاد جھوٹے الزامات کو سنتی رہوں چپ کر کے۔۔؟ مسٹر افنان کہاں ہے۔۔؟ سمیرا باجی۔۔؟؟”
سمیرا نے سر جھکا لیا تھا۔۔
“سمیرا باجی۔۔؟ آپ کا گھر نہیں ہے یہ مس نایاب میم کہیں مس سمیرا سینئیر ہیں آپ سے “
“ایم سوری۔۔میم سمیرا اب آپ بتائیں گی کہاں ہے سر افنان۔۔؟؟”
“وہ۔۔نایاب کانفرنس روم میں کچھ ایشوز۔۔”
پر نایاب وہاں سے چلی گئی تھی
“مس نایاب۔۔؟ سٹوپ ناؤ۔۔ہماری بات چیت ختم نہیں ہوئی مجھے سر افنان نے ہی آرڈر دئیے تھے آپ سے پوچھ گچھ کے۔۔۔”
نایاب کے قدم رک گئے تھے کانفرنس روم کے باہر پر جب اس کی سماعتوں میں یہ بات پڑی کی یہ سب جو وہ کچھ گھنٹوں سے برداشت کر رہی یہ افنان کے آرڈر پر ہورہا
نایاب کے ضبط نے جواب دے دیا تھا اور اس نے دروازہ اتنی زور سے کھولا تھا کہ وہ دیوار کے ساتھ جا لگا تھا اور بہت لوگ رک گئے تھے۔۔۔
کوئی شک نہیں کہ اندر میٹنگ چل رہی تھی۔۔
“مس نایاب۔۔ایم سو سوری سر۔۔”
پیچھے افنان کی پرسنل اسسٹنٹ نے نایاب کا بازو پکڑ کر معذرت کی تھی پر نایاب نے اپنا بازو جھٹک دیا تھا
“کس سے پوچھ کر آپ نے میرے کیبن کی تلاشی لی۔۔؟؟ کس قسم کی پوچھ گچھ چاہتے ہیں آپ۔۔؟؟ کن بنیادوں پر آپ نے اتنے بڑے الزامات لگائے مجھ پر۔۔؟؟”
افنان اپنی کرسی سے اٹھ کر نایاب کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔۔
“یہ آپ کہہ رہی ہیں مس نایاب۔۔؟ کمپنی کو اگر آج اتنا بڑا نقصان ہوا ہے تو صرف آپ کی وجہ سے آپ کے دھوکے کی وجہ سے ناصرف میری کمپنی بلکہ ان لوگوں کا نام انکے پروجیکٹس بھی خسارے میں چلے گئے آپ کے فراڈ کی وجہ سے ہم۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔شٹ اپ۔۔۔”
نایاب کی چلانے سے اندر کے بیٹھے ہوئے بزنس مین تو اٹھ گئے تھے پر باہر کھڑے ہوئے آفس کے لوگ بھی رک گئے تھے
“مس نایاب،،،”
“اپنی بکواس بند کیجئیے۔۔آپ کی جرات کیسے ہوئی اتنے بڑے الزام لگانے کی۔۔
دھوکہ دری فراڈ۔۔؟ کس طرح کا دھوکہ۔۔۔کیسا فراڈ۔۔؟ میں نے پچھلے چار سال اس کمپنی کو دئیے ہیں اس لیے کہ اینڈ پر میرے ساتھ یہ سلوک ہو۔۔؟؟
کیا ثبوت ہے میں نے دھوکہ دیا فراڈ کیا۔۔؟؟”
نایاب نے اونچی آواز میں پوچھا تھا۔۔
“ثبوت۔۔؟؟ مس کرسٹل۔۔؟؟ مس ثانیہ۔۔۔مس سمیرا ریکارڈ ایڈمنسٹریٹر مسٹر اسحاق
اور ریکارڈ روم کے سیکیورٹی گارڈ مسٹر جورج۔۔۔۔
پچھلے ایک مہینے سے آپ کی تمام نقل و حرکت مشقوق رہی آپ کا بار بار ریکارڈ روم میں جانا
کمپنی کی کنفیڈینشل فائلز رائیولز کے پاس جانا اور بہت سی باتیں سب اس بات کا ثبوت ہیں آپ مجرم ہے۔۔۔
ابھی صرف مس ثانیہ تفتیش کر رہی ہے اگر آپ نے تعاون نا کیا تو۔۔۔”
افنان کے دونوں ہاتھ اسکی پینٹ پاکٹ میں تھے۔۔۔آج وہ وہ افنان تھا ہی نہیں جسے نایاب پچھلے چار سال سے جاننا شروع ہوئی تھی۔۔۔
“تو کیا ہاں۔۔؟؟ آپ یہ سب اس لیے کر رہے ہیں کہ زیبا آنٹی کو انکار کردیا تھا۔؟
آپ کو ٹھکرا دیا تھا میں نے اس لیے بدلہ لے رہے ہیں۔۔؟ میں نے کہا تھا اتنا نیچے نا گرنا کہ اٹھ نا سکو افنان یوسف آج آپ اتنا نیچے گر گئے ہیں۔۔۔
اتنی گھٹیا اور گندی سوچ آپ کی کہ آپ نے یہ سب صرف۔۔۔”
“نایاب۔۔۔۔”
افنان نے ہاتھ اٹھا دیا تھا۔۔۔پر مارا نہیں تھا۔۔۔نایاب نے افنان کے اٹھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر اپنا چہرہ پیچھے کرلیا تھا۔۔۔
“رک کیوں گئے۔۔؟ ہاتھ اٹھائیں۔۔ مجھ پر ہاتھ اٹھا کر مجھے یا میری آواز کو دبا نہیں پائیں گے آپ افنان یوسف۔۔۔
اتنے گھٹیا پن کی امید آپ جیسے لوگوں سے ہی لگائی جا سکتی ہے۔۔
“افنان نے منہ پھیر لیا تھا پر نایاب چپ نہیں ہوئی تھی۔۔۔”
“انٹرنشپ کے اتنے سال یہاں محنت کرنے کا یہ پھل ملا ہے مجھے۔۔؟ اتنے الزامات کہ گنتے گنتے تھک جاؤں میں۔۔؟؟ اور کیا لگا تھا آپ کو میں چپ چاپ برداشت کرلوں گی۔۔؟ دھوکے باز کا لقب۔۔؟؟
آپ کی بھول ہے مسٹر افنان یوسف۔۔۔بھاڑ میں جائیں آپ اور بھاڑ میں جائے آپ کی یہ کمپنی۔۔۔نہیں چاہیے مجھے یہاں پر کوئی انٹرنشپ۔۔۔گریجویشن کے بعد اسی ہفتے میں پاکستان واپس جا رہی ہوں۔۔۔ایسی جگہ نہیں رہنا مجھے جہاں کچلا چاتا ہو لوگوں کے احساسات انکی محنت کو چند بوگس ثبوتوں کی بنیاد پر۔۔۔”
نایاب نے سمیرا کو نفرت اور غصے کی نظروں سے دیکھا تھا اور اپنے کیبن سے اپنا پرس لینے چلی گئی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔۔نایاب میری بات سنو چندا پلیز۔۔۔”
سمیرا باجی پیچھے پیچھے گئی تھیں نایاب کے۔۔
“کب میں نے کوئی فائل چوری کی۔۔؟ کب میں نے فراڈ کیا جو آپ گواہ بن گئیں۔۔”
نایاب نے اپنا پرس اور بکس اٹھا لی تھی جب اس نے منہ سمیرا کی طرف کر کے یہ سب پوچھا تھا
“نایاب۔۔۔تم جانتی تھی ریکارڈ روم میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں سوائے کچھ ورکز کے سی-سی-ٹی-وی فوٹیج میں تم صاف نظر آئی ہو۔۔کتنی بار ہمارا سامنا ہوا تم نے یہی جواب دیا۔۔۔اِنویسٹی گیشن میں جب مجھ سے پوچھا گیا مجھے بتانا پڑا یہ سب۔۔”
سمیرا نے نایاب کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی جو نایاب نے جھٹک دی تھی
“مس روزی بیمار تھیں پریگننٹ تھیں۔۔۔انہوں نے مجھ سے جب جب ہیلپ مانگی میں نے کی۔۔۔”
“اوو۔۔۔تم جانتی ہو مس روزی نے تم پر شک سب سے پہلے ظاہر کیا نایاب۔۔۔کہاں پھنسا لیا تم نے خود کو۔۔۔صرف کمپنی کا ریکارڈ نہیں دوسری کمپنیز کا ریکارڈ بھی باہر جا چکا ہے۔۔۔”
نایاب نے گہرا سانس بھرا تھا اور کیبن سے باہر چلی گئی تھی بنا جواب دئیے۔۔۔”
۔
“مس نایاب آپ کو صرف چوبیس گھنٹے دے رہا ہوں کمپنی کی انفارمیشن آپ نے کب اور کس کو دی۔۔اگر آپ نے سب سچ نہیں بتایا تو۔۔۔”
افنان کی آواز پر وہ پیچھے مڑی تھی اسکی آنکھوں میں چھپے ہوئے آنسو تھے جس سے اسکی آنکھیں لال ہوگئی تھیں۔۔
“تو کیا۔۔؟؟ہم مسٹر افنان۔۔میں جا رہی ہوں اور اسی ہفتے پاکستان بھی چلی جاؤں گی۔۔
آپ کو جو کرنا ہے کرلیجئیے کیونکہ میری کہی کوئی بھی بات آپ کو جھوٹ ہی لگے گی
کیونکہ میں نیو کمر ہوں یہاں۔۔۔اور یہاں چھپے ہوئے غدار پرانے کام کرنے والے کہاں آپ کے رڈار میں ہوں گے۔۔۔؟ گڈ لک مسٹر افنان۔۔۔میں ریزائن کر رہی ہوں۔۔
خدا حافظ۔۔۔”
وہ پلٹ گئی تھی۔۔۔پر افنان یوسف بھی ہار ماننے والا نہیں تھا۔۔۔اس دھوکے کے بعد اسکا یقین اٹھ گیا تھا نایاب سے۔۔وہ قصوروار سمجھ بیٹھا تھا نایاب التمش کو۔۔
“ٹھیک ہے۔۔پورے چوبیس گھنٹے بعد آپ کے ہوسٹل روم کے باہر پولیس ہوگی۔۔جو آپ کو ہتکھڑی پہنا کر جیل لے جائے گی۔۔اور وہ تصاویر پاکستان بھی جائیں گی۔۔۔
آپ کے معذور والد پر کیا گزری گی آپ سوچ سکتی ہیں۔۔؟؟
اگر ہاں تو سچ۔۔۔۔”
۔
افنان کو ایک زور دار تھپڑ مارا تھا نایاب نے۔۔۔۔
“خدا کی قسم میں نے آپ جیسا گھٹیا انسان نہیں دیکھا جو اتنے سال میری ایمانداری نا سمجھ سکا اور مجھ پر الزام لگا کر آپ مرد بن رہے ہیں ایک اچھے بزنس مین۔۔؟
اب میری بھی ضد اپنی بےگناہی ثابت کرکے جاؤں گی۔۔۔اور جب ثابت ہوگیا کہ گندگی آپ کی کمنپی کے لوگوں میں ہے تو اسی میڈیا کے سامنے معافی منگواؤں گی آپ سے اور آپ کے سٹاف سے۔۔۔اور ہرجانے کا دعوہ اتنا بڑا کروں گی تم افنان یوسف اپنا آپ بیچ کر بھی پورا نہیں کرسکو گے۔۔۔نایاب التمش کا وعدہ ہے یہ افنان یوسف۔۔۔”
۔
۔
افنان کا منہ ابھی دوسری طرف تھ اس تھپڑ پڑنے کے بعد۔۔اس سرگوشیاں سنائی دے رہی تھی یہ پہلی بار کسی نے ایسا کیا تھا۔۔۔وہ ڈون تھا اس بزنس کا اور اس لڑکی نے آج سہی معنوں میں اسکے آفس میں اسے منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا
“نایاب التمش اب میں بھی دیکھتا ہوں۔۔۔خدا کی قسم اگر تم غلط ہو جو کہ میں جانتا ہوں کہ تم ہو مجرم۔۔۔اگر ہو تو یاد رکھنا چارلی سے زیادہ بری حالت کروں گا۔۔۔
۔
۔
“نایاب بیٹا۔۔۔”
یوسف صاحب آفس اینٹرنس پر ازیان کے ساتھ کھڑے تھے نایاب کے قدم رکے تھے تو دوسری طرف افنان نے نظریں اٹھا کر اپنے والد اور بڑے بھائی کی طرف دیکھا تھا
“ہمیں تم پر پورا یقین ہے اگر میں یہ پوری کمپنی تمہارے نام کردوں تو یقین آجائے گا بیٹا۔۔؟”
نایاب کی آنکھوں سے گرتے ہوئے ایک آنسو کو انہوں نے صاف کر کے پوچھا تھا۔۔
“انکل اپنوں پر یقین کرنے کے لیے ایک لفظ کافی ہوتا ہے اتنے بڑی جگہیں یقین نہیں دیتی پر ذلت ضرور دے جاتی ہیں۔۔میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی یہاں کی انٹرنشپ ایکسیپٹ کر کے۔۔مجھے سمجھ جانا چاہیے تھا یہ ایک پری پلینڈ ہیں مسٹر افنان یوسف کا
پر اب میں تب تک پیچھے نہیں ہٹوں گی جب تک بے گناہی ثابت نہیں کردیتی۔۔۔”
نایاب بھاگ گئی تھی وہاں سے اور یوسف صاحب نے جن نظروں سے دیکھا تھا آج پہلی بار اپنی اولاد کو وہ شدید غصے سے دیکھ رہے تھے
“بیک ٹو ورک۔۔۔تماشہ ختم ہوگیا ہے جو آپ کے باس نے لگایا تھا ناؤ بیک تٹو ورک۔۔۔”
“ابو ۔۔۔”
“ازیان مجھے اکیلے میں بات کرنی ہے افنان سے۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر افنان کے کیبن میں چلے گئے تھے
“ازیان بھائی۔۔۔سب ثبوت اسکے خلاف تھے۔۔کمپنی کو نقصان ہوا میں نے برداشت کیا۔۔۔ یہاں بات میرے یقین ٹوٹنے کی تھی۔۔۔ ان کمنیز کے نقصان تو میں کل ہی بھر دوں گا میرے اندر جو خلش پیدا کردی ہے نایاب نے وہ کبھی نہیں بھر پائے گی۔۔۔”
افنان نے آنکھیں بند کر لی تھیں وہ پہلی بار اتنا کمزور پڑا تھا خاص کر بڑے بھائی کے سامنے۔۔
“افنان۔۔۔وہ بچی معصوم ہے۔۔تم پاگل ہو جس نے ثبوتوں پر یقین کیا اور اس پر نہیں۔۔
اسکی آنکھوں سے چھلک رہی تھی اسکی بے گناہی۔۔۔
خیر ڈیمج کمپنی کو ہوا تھا پورا ہوجانا تھا پر جو تم نے کیا وہ ڈیمج تمہیں پچھتانے پر مجبور کردے گا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب کو فون کیجیئے زیبا باجی پلیز۔۔۔دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔”
“دلکش بھابھی وہ ابھی آفس میں ہوگی آپ فکر نا کریں ازیان اور یوسف بھی آفس ہی گئے ہیں۔۔”
“نہیں وہ ٹھیک نہیں ہے پلیز۔۔۔”
انہوں نے ویل چئیر سے اٹھ کر الماری کی طرف جانے کی کوشش کی تھی جو وہ پچھلے ایک سال سے کر رہی تھیں نایاب کے لیے وہ خود کو ٹھیک کرناچاہتی تھیں۔۔۔
“دلکش بھابھی الماری میں کیا ہے آپ کیوں پریشان ہورہی ہیں۔۔۔ آپ جانتی ہیں نایاب کے ساتھ اتنا لگاؤ ہوگیا ہے آپ کو جب وہ پاکستان جائے گی تو کیا کریں گی آپ۔۔؟
یہ سوچ کر پریشانی ہوتی ہے مجھے۔۔۔”
۔
انکی زبان ایچانک بند ہقگئی تھی جب دلکش بیگم نے کچھ تصاویر نکالی تھی ایک خفیہ جگہ سے الماری کے اور زیبا کو دیکھائیں تھی۔۔۔
“بھابھی یہ۔۔۔؟؟”
“التمش کے ساتھ میری شادی کی تصویریں۔۔۔اور یہ بچی۔۔۔”
“یہ بچی۔۔۔؟؟ “
“نایاب۔۔ ہماری نایاب زیبا باجی۔۔۔میری نایاب قدرت کے کھیل دیکھیں جن لوگوں نے مجھ سے میری بچی چھین کر مجھے زبردستی پاگل خانے بھجوا دیا تھا۔۔۔اللہ نے میری وہی بچی کو یہاں بھیج دیا میرے پاس۔۔۔۔”
زیبا ایک جھٹکے سے بیڈ پر بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔
“نایاب۔۔۔نایاب تمہاری بیٹی ہے دلکش۔۔۔؟؟ یا اللہ اتنا بڑا اتفاق۔۔۔”
“اللہ کی رحمت بولیں معجزہ جو میرے ساتھ ہوا ہے آپ جانتی ہیں التمش میرے لیے اللہ کی رحمت تھے اور پھر نایاب۔۔۔ زیبا بھابھی دنیا جتنی ظالم تھی میرا رب اتنا ہی رحم کرنے والا۔۔
دنیا مجھے مارتی رہی وہ مجھے بچاتا رہا۔۔۔ اللہ سے بڑا کارساز کوئی نہیں ہے آپ کو پتا بھی نہیں چلتا کیسے کیسے اللہ آپ کی مدد کرتا ہے۔۔”
زیبا نے آگے بڑھ کر دلکش کو گلے سے لگایا تھا جب وہ رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“میری بیٹی نے بھی بہت برداشت کیا ہے۔۔۔ آپ جانتی ہیں اسکی منگنی بھی ٹوٹ گئی تھی اور اسکی خوبصورت کزن سے ہوگئی جیسے میرے ساتھ ہوا۔۔۔
پر میری بیٹی کتنی مظبوط نکلی زیبا باجی۔۔۔”
۔
وہ اور رونا شروع ہوگئیں تھی اور زیبا بیگم کی حآلت بھی انکے جیسی ہو رہی تھی۔۔۔
۔
اتنے میں نورین موبائل لیکر کمرے میں آگئیں تھیں پریشانی صاف واضح تھی انکے چہرے سے۔۔
“امی ازیان کا فون آیا ہے آپ بات کیجئیے۔۔جلدی۔۔۔۔”
۔
“ہیلو ازیان بیٹا۔۔۔”
“امی آپ آفس آکر ابو کو لیکر جائیں۔۔انہوں نے افنان پر ہاتھ اٹھا دیا ہے۔۔اور اب انکی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے۔۔وہ بی پی ٹیبلٹ بھی نہیں کھا رہے۔۔۔پلیز آپ ہی ہیں جو انہیں سنبھال لیں گی۔۔
ڈرائیور بھیج دیا ہے جلدی آئیں۔۔۔”
“افنان۔۔۔افنا۔۔”
انکے ہاتھ سے موبائل گرگیا تھا۔۔۔
“امی۔۔۔امی۔۔۔”
زیبا بھابھی۔۔۔”
“مجھے ابھی آفس جانا ہے نورین بیٹا دلکش بھابھی کے پاس رہنا۔۔۔بھابھی میں بس ابھی آئی یوسف کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔”
اور وہ چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تمہیں کیا ہوا ہے نایاب۔۔۔”
“شانزے مجھے ایک اچھا لائیر چاہیے۔۔۔”
“نایاب ایک بات تو رونا بند کرو تم تو اتنی بہادر ہو۔۔۔”
“نہیں رو رہی میں۔۔۔”
نایاب نے اپنا چہرہ صاف کیا تھا غصے سے۔۔۔
“یہ میرے آنسو کمزوری نہیں غصے کے ہیں۔۔۔وہ انسان کامیاب ہوگیا مجھے ذلیل کرنے میں۔۔
جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں مجھ پر اور میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہوں۔۔
اور انتظار کروں خود پر کیس ہونے کا۔۔؟ یونیورسٹی تک بات پہنچنے کا۔۔؟؟”
“ریلکس نایاب ایسے معاملات پر آرام سے سوچ کر پھر قدم اٹھاتے ہیں افنان یوسف کو اگر اسکی گیم میں مات دینی ہے تو دماغ سے سوچنا ہوگا۔۔۔۔”
“نایاب تمہارا کوئی ویزیٹر آیا ہے۔۔۔”
“افنان یوسف کے علاوہ کون ہوگا۔۔۔اسکی ہمت کیسے ہوئی اب آنے کی۔۔۔”
نایاب بڑبڑا رہی تھی کی شانزے اس سے پہلے باہر بھاگ گئی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔۔”
“از۔۔۔”
نایاب کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ شانزے کے زور دار مکے نے ازیان یوسف کے منہ ضرب دی تھی کے منہ اور ناک سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔
“آؤچ۔۔۔میرا ہاتھ۔۔۔۔”
شانزے ہاتھ پکڑ کر اپنا پیچھے ہوگئی تھی درد کے مارے۔۔۔
“ازیان بھائی۔۔۔شانزے پاگل لڑکی کیا کیا یہ۔۔۔”
“میرا چبارہ ہلا دیا کون ہے یہ پاگل۔۔۔”
اوے۔۔۔پاگل تمہارا وہ بھائی ہے۔۔۔اسکی جرات کیسے ہوئی میری دوست پر الزام لگانے کی۔۔؟”
شانزے پھر ازیان کی طرف بھاگی تھی کہ نااب اور دو تین لڑکیوں نے اسے پکڑا تھا۔۔۔
“اوو۔۔۔۔مس شانزے۔۔۔”
ازیان نے اپنا رومال نکال کر اپنے منہ پر رکھ کر کہا تھا۔۔۔
“ابھی کمرے میں لیکچر دے رہی تھی تحمل مزاج سے حل کرو اب کیا ہوا۔۔؟ شانزے یہ ازیان بھائی ہیں ابھی معافی مانگو۔۔۔”نایاب نے ڈانٹا تھا
“معافی مانگے میری جوتی۔۔۔اگر اتنا ہی احساس ہے تمہارا تو یہی مکا آگے جا کر اپنے بھائی کو مارے ۔۔۔چلو نایاب۔۔۔”
“ازیان بھائی ایم سوری آپ جائیں میں ابھی نہیں بات کرسکتی۔۔۔”
نایاب کو کھینچ کر لے گئی تھی شانزے۔۔۔
“وائلڈ کیٹ۔۔۔”
ازیان جیسے ہی ہنسا تھا اسکے منہ میں شدید درد شروع ہوگیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زوبیہ باجی یہ تو پاگل ہے آپ کیوں ایسے کر رہی ایک کیس تو ہو رہا مجھ پر ایک اور ہوجائے گا
میں اچھا وکیل کروں گی پھر سے تفتیش کرواں گی بے قصور ثابت کروں گی خود کو۔۔۔”
پر وہ دونوں لڑکیاں آگے چلی گئی تھی نایاب کو اگنور کر کے۔۔۔
“یہ کھڑکی کھلی ہوئی ہے۔۔۔”
“واااہ لڑکی تم تو بہت جینئیس ہو ازیان بھائی ایسے ہی پاگل کہہ رہے تھے”
شانزے نے مڑ کر زوبیہ کو دیکھا تھا۔۔۔
“اپنے بھائی سے کہنا اگر پھر پاگل کہا تھا ایسے دو تین اور ماروں گی نا کی کچھ کہنے کے لائق نہیں رہیے گے۔۔۔”
شانزے نے آہستہ سے شیشے کی کھڑکی کھولی تھی اور اندر گھس گئی تھی
کرسٹل کے گھر یہ لوگ پلان بنا کر آئے تھے کوئی نا کوئی ثبوت ڈھونڈنے
“ہاہاہاہا۔۔۔نایاب کون ہے یہ۔۔؟؟ ہاہاہا ازیان بھائی بیچارے تو ابھی بولنے کے قابل نہیں ہے۔۔۔”
نایاب بھی ہنسی تھی اور دونوں اسی راستے سے اندر چلی گئی تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سر آپ گھر نہیں جائیں گے۔۔؟؟”
گارڈ نے کیبن کا دروازہ کھول کر پوچھا تھا
“نہیں تم جاؤ اور ڈرائیور کو بھی بولو صبح آجائے میں آج آفس میں ہی رہوں گا۔۔۔”
گارڈ جیسے ہی گیا تھا افنان نے کیبن کی لائٹ آف کردی تھی اور نایاب کے کیبن میں چلا گیا تھا۔۔
پچھلے دو دن سے وہی گھر نہیں گیا تھا پچھلے دو دن سے وہ روز رات کو یہیں اسی کیبن کے صوفہ پر آکر سوتا تھا۔۔۔
“آجاؤ کوئی نہیں ہے آفس میں۔۔۔”
افنان جو کیبن کا دروزہ بند کر کے اندر آیا تھا باہر سے آنے والی آواز سن کر الرٹ ہوا تھا اور دروازہ کھلنے سے پہلے ڈوکیمنٹس والی کپبرڈ کے پیچھے چھپ گیا تھا
۔
“وہ ریکارڈنگ کیمرہ یہیں چھپایا ہے۔۔مجھے پتا تھا وہ لوگ ہمیں پوری قیمت نہیں دیں گے اس لیے میں نے بھی ثبوت سنبھال کر رکھیں تھی کرسٹل پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔۔۔”
دو لڑکیا کیبن میں داخل ہوئی تھی۔۔۔افنان اس وقت شوکڈ ہوا جب انکے پیچھے مس روزی تھی
“ساری محنت ہماری تھی اور کرسٹل ہمیں ہمارا حصہ اتنا کم دے رہی ہے۔۔۔اب اسے بلیک میل کریں گے ہم۔۔۔اور جس کے لیے اس نے نایاب کو پھنسایا ہے اسکی وہ باس کو بھی۔۔۔”
“باتیں کرتے ہوئے وہ لڑکی نے لائٹس جلا دی تھی اور افنان نے اپنا موبائل نکال کر آفس کی سیکیورٹی کو اندر بلا لیا تھا اور ساتھ پولیس کو بھی۔۔۔
“مل گیا کیمرہ۔۔۔اس میں سب ریکارڈ ہے۔۔۔”
“اگر مل گیا ہے تو مجھے دینے کی ذہمت کردیں مس روزی۔۔۔؟”
موبائل جیب میں ڈال کر وہ شیر کی طرح دھاڑا تھا ان پر جن کے چہرے کے رنگ پہلے ہی اڑ گئے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“چچی زرین۔۔۔؟؟؟”
شانزے کے ہاتھ سے وہ فائل اور وہ فوٹوز دیکھ کر زوبیہ میں ہمت نہیں تھی نایاب سے نظریں ملانے کی۔۔۔
“مجھے نہیں پتا تھا وہ اس حد تک جائیں نایاب۔۔۔”
“اس حد تک گرجائیں گی آُ کے کہنے کا مطلب ہے۔۔۔؟؟”
نایاب نے وہ فائل اور تصاویر دیکھی تھی تو اسے اتنی حیرانگی نہیں ہوئی تھی
“میں اتنا تو جانتی تھی کہ دنیا بڑی ظالم ہے۔۔۔پر اتنی مکار بھی ہوگی مجھے نہیں پتا تھا کبھی میں نے کسی کے ساتھ کوئ دشمنی نہیں کی تھی حق کے لیے بولنا کسی کے حق کے لیے بولنا کیا اتنا بڑا گناہ ہے۔۔؟”
نایاب نے زوبیہ کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔
“کیسے لوگ ہیں ہم۔۔؟ کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے اس درجے گر جاتے ہیں نیچے کہ انسانیت بھی شرما جائے۔۔؟؟
جھے اپنوں پر افسوس تھا پر یہاں باہر کی دنیا میں آئی ہوں تو پتا چلا کہ وہ تو کچھ بھی نہیں جتنی مکاری اور فریب باہر کی دنیا میں ہے۔۔
ہم لڑکیا اپنے آپ کو بہت ہوشیار سمجھتی ہیں اگر آج یہاں نا آتے تو مجھے تو پتا ہی نا چلتا کہ ماضی کی ایک لڑائی نے کیسے دشمن بنا دئیے میرے۔۔۔”
نایاب ابھی بات مکمل کر رہی تھی کہ جس ہاتھ پر اسکے فائل تھی وہیں پیچھے سے وار کیا گیا تھا۔۔۔
اسکے ہاتھ پر کٹ آگیا تھا اور روم کی لائٹ آن ہوگئی تھی کرسٹل چھری لیکر کھڑی ہوئی تھی
“نایاب۔۔۔” شانزے اسکی جانب بڑھی تھی۔۔۔
“کلیور گرلز۔۔۔ناؤ گیو اِٹ بیک۔۔۔۔”
کرسٹل نے فائل کی طرف اشارہ کیا تھا
“یہ چاہیے ۔۔؟؟ لے جاؤ،،،” نایاب نے اپنے ہاتھ سے بہتے خون کو چھڑک دیا تھا نیچے “
یو بچ۔۔۔”
جب نایاب نے فائل زوبیہ کی طرف پھینک دی تو کرسٹل نایاب پر وار کرنے کے لیے آگے بڑھی تھی اور اسی وقت پیچھے اسے اسکے بال شانزے نے پکڑ لیے تھے۔۔۔
“بچ تو خود ہے چڑیل۔۔۔میری دوست کو زخمی کیا۔۔۔۔”
شانزے نے اسکے بال اور کھینچے تھے اور زمین پر پٹک دیا تھا کرسٹل کے۔۔
“بس شانزے۔۔۔۔ابھی یہ ثبوت اس شخص کے منہ پر مارنے ہیں اور معافی منگوانی ہے۔۔۔”
نایاب کے منہ پر پہلی بار ایک خوبصورت مسکان آئی تھی اسکی خوبصورت مسکان۔۔۔
“نایاب ایم سوری۔۔۔”
زابیہ باجی نے وہ ثبوت پکڑا دئیے تھے
“سوری نہیں کھانا کھائیں کسی حلال ریسٹورنٹ میں مجھے بھوک لگ رہی نہیں کھایا کچھ بھی دو دن سے۔۔۔”
نایاب نے زوبیہ کو گلے لگایا تھا اور پھر شانزے کو
اور اسکے گال پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
“آپ دونوں نے جو میرے لیے کیا ہے آج میں کبھی نہیں بھولوں گی۔۔۔”
“گروپ ہگ ہوجائے ایک سیلفی کے ساتھ۔۔۔۔اس چڑیل کو بھی فوٹو میں لینا ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
زوبیہ اور نایاب دونوں ہنسی تھی جب شانزے نے کرسٹل کے چہرے کو کیمرے کے سامنے کیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پلیز سر ایم سوری۔۔۔”
“سوری۔۔؟؟ وہ لڑکی آپ پر نیکیاں کرتی رہی آور آپ اسکے خلاف سازشیں۔۔آفیسر لے جائیں
اتنے چارجز لگنے چاہیے کہ ساری زندگی باہر نا آسکے۔۔۔۔”
“سر ایم پریگننٹ۔۔۔۔”
مس روزی نے دونوں ہاتھ جوڑے تھے
“مس روزی یو نو وٹ۔۔۔؟؟ میں نایاب نہیں ہوں جو ان آنسوؤں میں آجاؤں۔۔۔۔”
۔
سب آفس کے باہر کھڑے تھے کہ دوسری طرف زوبیہ نے گاڑی روک دی تھی۔۔۔
“زوبیہ گاڑی بھگا دو۔۔۔پولیس نے ثبوت دیکھے بغیر نایاب کو گرفتار کرلینا ہے۔۔۔”
“مجھے یقین نہیں ہورہا بھائی نے پولیس کو روکا کیوں نہیں۔۔۔”
زوبیہ نے گاڑی سٹارٹ کی تھی پر نایاب گاڑی سے اتر گئی تھی
“افنان یوسف چاہتے ہیں کہ میں ذلیل و رسوا ہوں سب کے سامنے۔۔۔میں آج نہیں رکوں گی۔۔۔آپ دونوں جائیں یہاں سے۔۔۔۔”
“نایاب۔۔۔۔”
نایاب جیسے ہی روڈ پر آئی تھی افنان سب کو پیچھے چھوڑ کر نایاب کی طرف بڑھا تھا
“نایاب۔۔۔۔ایم۔۔۔سو۔۔۔۔”
ایک تیز رفتار گاڑی انکے درمیان سے چلی گئی تھی۔۔۔اور کچھ لمحوں کے بعد وہ فائل وہ کاغذ اور وہ تصاویر ہوا میں اڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: