Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 16

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 16

–**–**–

“زوبیہ گاڑی بھگا دو۔۔۔پولیس نے ثبوت دیکھے بغیر نایاب کو گرفتار کرلینا ہے۔۔۔”
“مجھے یقین نہیں ہورہا بھائی نے پولیس کو روکا کیوں نہیں۔۔۔”
زوبیہ نے گاڑی سٹارٹ کی تھی پر نایاب گاڑی سے اتر گئی تھی
“افنان یوسف چاہتے ہیں کہ میں ذلیل و رسوا ہوں سب کے سامنے۔۔۔میں آج نہیں رکوں گی۔۔۔آپ دونوں جائیں یہاں سے۔۔۔۔”
“نایاب۔۔۔۔”
نایاب جیسے ہی روڈ پر آئی تھی افنان سب کو پیچھے چھوڑ کر نایاب کی طرف بڑھا تھا
“نایاب۔۔۔۔ایم۔۔۔سو۔۔۔۔”
ایک تیز رفتار گاڑی انکے درمیان سے چلی گئی تھی۔۔۔اور کچھ لمحوں کے بعد وہ فائل وہ کاغذ اور وہ تصاویر ہوا میں اڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“نایاب۔۔۔”
اس سے پہلے گاڑی نایاب کو ٹکر مارتی زوبیہ نے اسے پیچھے کھینچ لیا تھا وہ دونوں روڈ کی اسی طرف گر گئیں تھیں
“نایاب۔۔۔”
افنان چلایا تھا۔۔۔
“پاگل لڑکی۔۔۔نظر نہیں آرہا تھا کیا۔۔؟؟ زوبیہ تم ٹھیک ہو۔۔؟؟” زوبیہ تو اٹھ گئی تھی پر نایاب کا سر ابھی بھی وہیں تھا وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی تھی۔۔
اور ان تینوں نے جھک کر نایاب کو دیکھا تھا
“بھائی نایاب کا سر زمین پر لگنے سے اسے چوٹ آگئی ہے آپ اسے اٹھا کر گاڑی میں لے جائیں جلدی۔۔”
افنان نایاب کو اٹھانے کے لیے آگے ہوا تھا کہ ایک زور دار مکا اسکے منہ پر پڑا تھا اور دو قدم ہی وہ پیچھے ہوا تھا
“سیریسلی۔۔؟؟ ہم لے جائیں گے اپنے بھائی سے کہو ہاتھ بھی نا لگائے میری دوست کو۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔۔”
افنان کے ناک سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا
“یہ سچویشن بہت فنی ہے پر نایاب کی حالت دیکھ کر ہنس بھی نہیں سکتی۔۔افنان بھائی آپ ڈیزرو کرتے ہیں
چلو شانزے اب اور لڑائی نہیں نایاب کو ہسپتال لے جانا ہوگا”
اور شانزے نے انگلی کے اشارے سے وارننگ دی تھی
“اوکے۔۔میں ہاتھ نہیں لگاتا اوکے مس۔۔۔ زوبیہ نایاب کے ہاتھ سے بھی خون نکل رہا ہے۔۔جلدی لے چلو۔۔۔”
زوبیہ اور شانزے نے نایاب کو سہارا دیا تھا ۔۔۔پر افنان کی بات سے زوبیہ رک گئی تھی اور پیچھے مڑ کر افنان کو دیکھا تھا
“نایاب کو یہ زخم چھری سے لگایا ہے اس نے جس کے پاس ثبوت تھے نایاب کی بے گناہی کے۔۔
آج کچھ بھی ہوسکتا تھا۔۔۔پر یو نو وٹ بھائی۔۔؟ آپ بھی مجرم ہیں آپ نے نایاب پر یقین نہیں کیا تھا۔۔۔کم سے کم وہ بکھرے ہوئے ثبوتوں کو تو اٹھا لیں ورنہ آپ اس بچاری کو مجرم ٹھہرا کر جیل میں ڈال دیں گے۔۔۔”
زوبیہ کی آنکھ سے آنسو نکل آیا تھا اور افنان یوسف کے سامنے وہ لوگ نایاب ہسپتال لے گئے تھے
“زرین چچی۔۔۔۔”
افنان نے نیچے بیٹھ کر سب پیپرز اٹھانا شروع کر دئیے تھے۔۔۔
نایاب التمش۔۔۔ بد دعا لگ گئی ہے مجھے تمہارے کزن کی۔۔۔”
۔
اس نے سامنے پولیس کی گاڑیوں کی طرف دیکھا تھا غصے سے اور ان مجروموں کو سخت سے سخت سزا دینے کا کہ دیا تھا۔۔۔اور اسکی گاڑی بھی اسی جانب بڑھی تھی جہاں کچھ دیر پہلے زوبیہ کی گاڑی گئی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب۔۔۔۔۔۔”
۔
زاران گہری نیند سے اٹھ گیا تھا۔۔۔۔
“نایاب۔۔۔”
اس نے پھر پُکارا تھا۔۔سائیڈ لمپ جلا کر جب خود کو شیشے میں دیکھا تو اسکی آنکھیں بھیگی ہوئی تھی نم تھیں
اس خواب کی وحشت اتنی تھی کہ اسکے رونگتے ابھی بھی کھڑے تھے۔۔۔
“نایاب۔۔۔۔یا اللہ اسکی حفاظت کرنا۔۔۔۔”
اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر وہ پھر سے بستر پر لیٹ گیا تھا
“زاران بیٹا۔۔۔”
دروازہ جیسے ہی کھلا تھا زاران نے اپنا چہرہ صاف کر کے آنکھیں بند کر لی تھی
“زاران بیٹا کیا بات ہے دو دن سے روم میں بند ہو بخار کی دوائی بھی نہیں لے رہے ہو۔۔۔”
زاران کے تکیے کے پاس آکر جیسے ہیں بیٹھی تھیں وہ زاران نے انکی گود میں سر رکھ لیا تھا
“امی بخار ٹھیک ہے اب۔۔۔”
ماتھا ابھی بھی اتنا گرم ہے زاران۔۔۔اور۔۔۔”
زاران کا ماتھا چیک کرتے ہوئے زاران کی بھیگی آنکھوں پر جیسے ہی انکی انگلیاں لگی تھیں وہ خاموش ہوگئیں تھیں
شاید انکی ممتا سمجھ گئی تھی اپنے بیٹے کی کیفیت کو
“امی۔۔۔بہت خوفزدہ کرنے والا خواب دیکھا۔۔۔ دادی بہت ناراض تھیں۔۔۔
مجھے کہہ رہی تھیں میں نے نایاب کا خیال نہیں رکھا اب نایاب کو وہ اپنے ساتھ لے جائیں گی۔۔
وہ۔۔۔امی۔۔۔ دادی بہت غصے میں تھیں۔۔۔اور نایاب۔۔۔نایاب میری طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔۔۔”
وہ بولتے ہوئے چہرہ نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔وہ ایک آنسو بھی کسی کو دیکھانا چاہتا نہیں تھا۔۔۔پر وہ اسکی ماں تھیں پہچان گئیں تھیں زاران کے لہجے سے۔۔۔
“امی ڈر لگا جس طرح دادی نے نایاب کا ہاتھ پکڑا۔۔۔اسے ساتھ لے جانے کی بات کی۔۔
میں دور تک انکے پیچھے بھاگتا رہا۔۔۔بھاگتا رہا اتنا بھاگا ہوں امی پر فاصلہ کم نہیں ہو رہا تھا وہ دونوں چل رہیں تھیں میں بھاگ رہا تھا انکے پیچھے پر فاصلہ کم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
ایسا کیوں ہوا۔۔؟؟ اس کی کیا تعبیر ہوگی امی۔۔؟؟”
زاران نے اپنے بازور سے آنکھ سے صاف کر کے آنیسہ کی دیکھا تھا۔۔
“بیٹا۔۔ امی ناراض تو ہوں گی نا۔۔؟ مجھے ٹھیک تو نہیں پتا مطلب پر اسکا مطلب یہ بھی ہوسکتا کہ نایاب کے آنے کے بعد بھی تمہیں بہت محنت کرنی ہوگی وہ تمہیں بھگائے گی تو ضرور۔۔۔”
وہ ہنسی تھی زاران کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بات بدل دی تھی۔۔۔پر یہ خواب سن کر انکا دل بھی دہل سا گیا تھا۔۔۔
“زاران۔۔۔”
“جی امی۔۔۔”
انیسہ نے زاران کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا
“زاران حالات جو بھی ہوں بیٹا تم امید نہیں چھوڑو گے۔۔؟ حوصلہ نہیں ہارو گے۔۔؟؟”
“بلکل نہیں امی۔۔۔پر آپ ایسا کیوں کہہ رہیں ہیں۔۔؟؟”
“زاران جب اللہ بہتریں سے نوازتا ہے تو اس سے پہلے ہمیں بدترین سے گزارتا بھی ہے۔۔
وہ انمول ہے۔۔۔تم نہیں جانتے وہ تمہاری دادی امی ہی تھیں جنہوں نے انمول ہیرے چُنے تھے اب ہم نے گنوا دیا ہے تو واپس ایسے بنا محنت کے کچھ نہیں ملے گا زاران بیٹا۔۔۔
تم ایسے نایاب کو نہیں پا سکو گے۔۔۔میں جانتی ہوں وہ ضدی ہے اڑیل ہے۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”
وہ جیسے ہنسی تھی زاران بھی ہنس دیا تھا
“ہاہاہا سو تو ہے امی آپ کی ہونے والی بہو کھڑوس اور سڑیل بھی ہے۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
۔
کے پتا تھا یہ آخری بار نایاب کا نام لیکر ہنسے رہے تھے وہ۔۔۔اسکے بعد انکی گفتگو نے انہیں ہنسی نہیں غم دینے تھے آنے والے دنوں میں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“انکو اب ہوش آگیا ہے بھائی ڈاکٹر نے سٹیچز لگا کر پٹی کر دی ہے۔۔۔نایاب اب ٹھیک ہیں۔۔۔” زوبیہ باہر آکر بیٹھ گئی اور افنان اٹھ کر شیشے سے اندر جھانکنا شروع ہوگیا تھا جہاں شانزے پہلے سے نایاب کے ساتھ تھی
۔
“وہ ٹھیک ہے۔۔۔”
“وہ ٹھیک ہے پر سب پہلے جیسے ٹھیک نہیں ہو پائے گا نا۔۔؟؟”
افنان نے اپنی چھوٹی بہن کی طرف مایوسی سے دیکھا تھا
۔
۔
“نایاب۔۔۔تم جتنی سنجیدہ لگتی تھی اتنی ہی جھلی بھی ہو۔۔”
“پا۔۔پانی۔۔۔”
نایاب کے سر میں شدید درد تھا جب اس نے آنکھیں کھولی تھی
شانزے نے پانی ڈال کر گلاس جلدی سے اسکے سامنے کیا تھا
“نایاب۔۔۔ایسا دوبارہ نا کرنا کچھ ہوجاتا تو۔۔؟؟”
“کچھ نہیں ہونا تھا۔۔۔شانزے وہ سب ثبوت پولیس تک پہنچ گئے۔۔؟”
“ہاں سب مجرم جیل میں ہیں سوائے۔۔”
“سوائے زرین سلمان کے۔۔؟؟ کیسی بات ہے نا اگر کوئی غریب کوئی چھوٹا کوئی چوری کرے تو اسے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے۔۔اور کسی بااثر کے مجرم ثابت ہونے پر بھی اسے سزا نہیں دی جاتی۔۔۔”
افنان نے جب کمرے میں آنے کی کوشش کی تھی نایاب کی بات سن کر اسکے قدم وہیں رک گئے تھے اور وہ پھر سے کمرے سے باہر اسی جگہ پر کھڑا ہوکر نایاب کو دیکھے جارہا تھا۔۔
۔
“اسے معاف نہیں کرو گی۔۔؟؟”
شانزے نے افنان کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“کسے۔۔؟؟”
“وہی جو باہر کھڑا ہے پچھلے کتنے گھنٹے سے۔۔۔بےچین بےتاب پاگلوں کی طرح چکر کاٹ رہا باہر اسے معاف نہیں کرو گی۔۔؟؟”
“معافی وہاں ہوتی ہے جہاںکوئی مفاہت رکھنی ہو۔۔مجھے افنان یوسف اور افنان یوسف کی کمپنی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے شانزے۔۔۔
بس مجھے ڈسچارج ہونا ہے اسی ہفتے گریجویشن کے بعد پاکستان واپسی۔۔۔”
نایاب نے اس جانب دیکھا تک نہیں جہا ں وہ موجود تھا۔۔۔
“اچھا تو سب کچھ ادھورا چھوڑ جاؤ گی۔۔؟؟؟”
نایاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بہت آہستہ سے پوچھا تھا
“سب کچھ پورا ہے شانزے۔۔۔میری انٹرنشپ میری سکالرشپ۔۔۔”
“پر اسکی محبت تو ادھوری ہے نا۔۔؟؟ انجان نا بننا اب۔۔کیا تمہیں ان چار سالوں میں زرا محسوس نہیں ہوئی اسکی محبت۔۔؟؟ یار مجھے کچھ گھنٹوں میں پتا چل گیا”
شانزے نے آنکھ ماری تھی اور اسی وقت حیرانگی سے نایاب نے افنان کی طرف دیکھا تھا جو جلدی سے شیشے سے پیچھے ہوگیا تھا۔۔
“ہاہاہاہا لگتا ہے شرما گئے افنان جیجو۔۔۔”
نایاب نے شانزے کے کندھے پر تھپڑ مارا تھا
“جیجو۔۔؟؟ اور شانزے کونسی محبت کیسی محبت۔۔؟؟ مجھے ان چار سالوں میں ایسا کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔۔۔”
“واقع میں یار۔۔؟؟ اسکی آنکھوں میں نہیں دیکھا اتنا ہینڈسم ڈیشنگ بندہ تمہاری محبت میں گرفتار ہوا بیٹھا تھا تمہیں پتا نہیں چلا۔۔۔”
شانزےنے اونچی آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
“مجھے کیا ضرورت ہے کسی کی آنکھوں میں دیکھنے کی شانزے۔۔۔؟؟ میرے پاس ان جذبات کے لیے وقت نہیں ہے۔۔۔میری پلیٹ میں آگے بہت کچھ پڑا ہوا ہے جسے میں نے حل کرنا تھا جو خوب بُنے تھے انہیں پورا کرنا تھا۔۔۔”
“جسٹ واااووو نایاب۔۔۔ تم جیسی لڑکی۔۔۔۔یار حیران ہوجاتی ہوں کہ اگر کبھی تم جیسے بندی کو محبت ہوئی تو کیسی ہوگی۔۔؟؟ بےپناہ۔۔۔؟؟؟ بےلوث۔۔۔؟؟ یا جنونی۔۔؟؟
جن لوگوں کے پاس کسی کے محبت کو محسوس کرنے کا وقت نہیں ہوتا جب انہیں محبت ہوگی تو کیسی ہوگی۔۔؟؟ تم کیسی محبت کرو گی یار۔۔۔؟؟”
۔
شانزے نے پھر سے نایاب کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئیے پوچھا تھا
وہ کچھ سال پیچھے ایک ماضی کی یاد میں کھو گئی تھی
۔
“نایاب چار ہزار پینٹنگز وہ بھی زاران کی پر بیٹا کسی بھی سکیچ پر زارن کی آنکھیں نہیں بنائی تم نے۔۔۔؟؟”
انیسہ پھوپھو نایاب کے روم میں ہی بیٹھی ہوئی تھی ہاتھ میں چائے کا کپ لئیے۔۔
“میں نے کبھی زارن کی آنکھوں میں کھو کر نہیں دیکھا پھوپھو۔۔۔یہ سب پینٹگ بناتے وقت انگلیاں تو چلتی تھیں پر دھیان صرف زاران پر ہوتا تھا۔۔۔پر اسکی آنکھیں میں نے کبھی اتنی گہرائی سے نہیں دیکھی تھی۔۔۔اور اب مجھے شرم آرہی ایسی باتیں آپ سے کرتے ہوئے۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔سمجھو میں تمہاری دوست ہوں۔۔۔ہاہاہا۔۔۔ “
انیسہ نے نایاب کا ماتھا چومتے ہوئے کہا تھا
“پر پھر بھی بیٹا۔۔۔یہ آنکھیں کب بناؤ گی۔۔۔؟؟”
“جب زاران میرے محرم ہوں گے پھوپھو۔۔۔اور ہمارے نکاح کے دن زاران کی آنکھوں میں جی بھر کے دیکھوں گی اور یہ ۔۔یہ والی پینٹگ مکمل بنا کر انہیں تحفے میں دوں گی۔۔۔”
نایاب نے ایک پینٹنگ نیچے سے نکال کر دی تھی جس میں زاران نے شیروانی پہنی ہوئی تھی۔۔۔
سر پر سہرا باندھا ہوا تھا جو
“یا اللہ لڑکی اتنی خوبصورت ہے یہ نایاب۔۔۔ میرا بیٹا بہت نصیبوں والا ہے میری بچی جو تم اسکی جیون ساتھی بن رہی ہو۔۔۔”انہوں نے چائے کا کپ سائیڈ پر رکھ کر بےساختہ نایاب کو گلے لگا لیا تھا
“اتنی محبت بیٹا۔۔۔؟؟”
“پھوپھو مجھے زاران سے محبت نہیں مجھے دادی کی محبت سے محبت ہے۔۔۔مجھے آپ کی محبت سے محبت ہے۔۔
ابو کی محبت سے محبت ہے۔۔اور آپ سب کی محبت اور پسند زاران ہیں۔۔۔”
۔
۔
“نایاب کہاں کھو گئی۔۔۔؟؟”
شانزے ہوسٹل جانا ہے مجھے پھر دلکش آنٹی سے ملنا ہے اور بس واپسی کی تیاریاں ۔۔۔”
نایاب کی بات مکمل ہونے تک افنان وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب۔۔کتنی چوٹ آئی ہے بیٹا۔۔۔زیبا باجی میں نا کہتی تھی کچھ مسئلہ ضرور ہوا ہے میری بچی کے ساتھ۔۔۔”
زیبا نے افنان کو غصے بھری نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔
“دلکش آنٹی میں اب ٹھیک ہوں۔۔۔وہ۔۔آنٹی میں واپس جا رہی ہوں پاکستان۔۔۔
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔”
کچھ پلوں میں دلکش کا پورا چہرا بھیگ چکا تھا۔۔۔
“تم کہیں نہیں جا رہی مجھے چھوڑ کر۔۔پلیز بیٹا۔۔۔پلیز۔۔۔”
“آنٹی مجھے جانا ہوگا۔۔میری انٹرنشپ مکمل ہوگئی ہے گریجویشن کے بعد میں میں چلی جاؤں گی۔۔ایم سوری۔۔۔”
نایاب نے سر جھکا لیا تھا دلکش کا روتا ہوا بھیگا ہوا چہرہ اس سے برداشت نہیں ہورہا تھا
“زیبا تم کہو نا اسے مت جائے۔۔۔یوسف بھائی آپ سمجھائیں اسے۔۔۔میں نایاب تمہیں کیسے سمجھاؤں۔۔۔؟؟”
انہوں نے چلاتے ہوئے پوچھا تھا وہ سچ بھی نہیں بتانا چاہتی تھی وہ نایاب کو واپس خود سے دور بھی نہیں بھیجنا چاہتی تھی
“دلکش بھابھی آپ نایاب کے ساتھ پاکستان چلی جائیں۔۔۔ہمارا گھر ہے وہاں۔۔زوبیہ آپ کے ساتھ چلی جائے گی۔۔۔ہوسکتا ہے کچھ عرصے میں ہم بھی جوائن کرلیں آپ کو۔۔۔؟؟”
زیبا نے دلکش کے پاس بیٹھ کر کہا تھا۔۔۔انہیں ایک امید تو نظر آئی تھی افنان اور نایاب کی شادی
۔
“کیا سچ میں میں انہیں لے جا سکتی ہوں۔۔۔؟؟ آپ نہیں جانتی آپ نے مجھے کتنی خوشی دی ہے زیبا آنٹی۔۔۔”
نایاب نے انہیں گلے لگایا تھا بچوں کی طرح وہ خوش ہوئی تھی۔۔
اور اس نے دلکش کو گلے سے لگایا تھا جو نایاب کے گلے لگ کر اور رونا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی دلکش چچی کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ۔۔۔”
افنان کو اس مہینے پڑنےوالا یہ پانچواں تھپڑ تھا
“خبردار جو مجھ سے بات کرنے کی کوشش بھی کی تم۔۔۔ آج وہ بچی کتنی تکلیف سے گزری ہے اگر تم نے اس پر الزامات نا لگائے ہوئے تو اسکے ہاتھ اور سر پر زخم نا ہوتے یہ۔۔۔
یہ تربیت تھی میری۔۔۔؟؟”
یوسف صاحب نے نیوز پیپر سے منہ چھپا لیا تھا جب افنان نے مدد کے لیے انکی طرف دیکھا تھا
“وہ۔۔امی۔۔۔میں بہت دسٹرب تھا۔۔بہت زیادہ۔۔۔ پہلی بار کسی پر اس طرح سے یقین کرنا شروع کیا تھا۔۔کسی کا انتظار کرنا شروع کیا تھا۔۔۔
امی دن اتنے کم رہ گئے تھے اور میں وہ نہیں کہہ پا رہا تھا اس سے جو کہنا چاہتا تھا۔۔۔”
افنان بات کرتے کرتے ونڈو کے پاس چلا گیا تھا
“وہ۔۔۔ان چار سالوں میں ایک بار بھی میری طرف مائل نہیں ہوئی تھی امی۔۔۔اور یہ بات مجھے اندر ہی اندر جنونی کئیے جا رہی تھی۔۔۔
مجھے غصہ دلا رہی تھی۔۔۔
مجھے اتنا تو پتا چل گیا تھا اسے مجھ سے محبت نہیں ہوگی۔۔۔پر۔۔۔جب جب یہ سوچتا تھا کہ پاکستان جانے کے بعد اسکی شادی زاران سے ہو جائے گی مایوسیوں نے اور گھر کرلیا تھا اندرسے۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رنجیدہ ہوا تھا
“زاران۔۔؟ تمہارا دوست زاران تم دونوں ساتھ پڑھے تھے ایک یونیورسٹی سے۔۔۔وہی زاران۔۔؟”
“جی ابو وہی زاران جس سے نایاب کی رشتہ بچپن میں تہہ ہوا تھا پر زاران نے اپنی بیوقوفی سے نایاب کو گنوا دیا تھا۔۔۔اور میں اس خیال سے ڈر گیا تھا۔۔۔پر سوچا تھا وہی ہوگا وہ مجھے نہیں ملے گی۔۔
اور جب یہ الزامات سامنے آئے تو میں نے دماغ کی سنی۔۔۔یہ سوچ کر کہ لاحاصل محبت سے نفرت کرنے کا موقع مل گیا ہے مجھے۔۔۔محبت نا ملنے کا غم نفرت میں بدل جائے گا۔۔۔
اور سب خراب ہوگیا نا۔۔؟؟”
کچھ دیر بعد اسکی دونوں اطراف پر اسکے امی ابو کھڑے تھے۔۔۔
“غلطیاں انسانوں سے ہوتی ہیں بیٹا۔۔۔اس خاندان میں تو کسی صورت شادی نہیں ہونے دوں گی میں نایاب کی۔۔
زیبا بھابھی آپ مجھ سے وعدہ کیجئیے ہمارے جانے کے ایک ہفتے بعد آپ پاکستان آئیں گی نایاب کا ہاتھ مانگنے۔۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ پر دلکش چچی۔۔۔یہ سب وہ لوگ ایکسیپٹ نہیں کریں گے۔۔۔”
وہ تم مجھ پر چھوڑ دو بیٹا۔۔۔بس یہ آخری موقع دے رہی ہوں تمہیں میری بیٹی کو پھر تکلیف دو گے تو میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔”
دلکش افنان کے سر پر پیار ے کر وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
“امی دلکش چچی اتنی پر اعتماد کیوں تھیں۔۔؟ آخر وہاں کیوں نایاب کے رشتے دار زاران کو ٹھکرا کر مجھے اپنائے گے۔۔؟؟”
“افنان۔۔۔بیٹا۔۔۔دلکش نایاب کی سگی ماں ہیں۔۔۔”
“یااللہ ایک دن میں کتنے اور جھٹکے ملنے ہیں مجھے۔۔؟؟ امی سچ میں۔۔؟؟ واااووو۔۔۔ وہ مجھے ابھی امید دلا کر گئیں ہیں۔۔۔۔واااووو۔۔۔۔۔”
افنان نے پہلے زیبا بیگم کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور ان دونوں کو گلے سے لگایا تھا۔۔۔وہ بہت خوش ہوگیا تھا۔۔۔ہاری ہوئی جنگ وہ پھر سے جیت گیا تھا۔۔۔
۔
“بس ایک اور کام زاران۔۔۔اسکے بعد پاکستان جانے کے بعد نایاب تمہیں دیکھے گی بھی نہیں۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“دو دن بعد۔۔۔۔۔”
۔
“نایاب التمش فائنلی آپ فائنل تھری کینڈییٹ لسٹ میں آگئی ہیں۔۔۔آکسفورڈ سے گریجویشن پر بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔۔۔”
نایاب نے پروفیسر سے ڈگری لیتے ہوئے کچھ الفاظ کہے تھے اپنے ابو اور فیملی کے لیے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد
۔
تھرڈ رو پر یوسف فیملی بیٹھی تھی۔۔۔نایاب کو اپنے ابو کی اتنی یاد آرہی تھی پر آج دلکش کی بھری ہوئی آنکھوں میں چمک دیکھ کر نایاب سب کچھ بھول سی گئی تھی۔۔اسے اس لمحے لگا تھا جیسے اسکی دنیا مکمل ہے۔۔۔
افنان دور کھڑا سب دیکھ رہا تھا وہاں سے جانے سے پہلے اس نے ایک لڑکی کو اشارہ کر کے اپنی طرف بلایا تھا۔۔کچھ کیش دے کر وہ پھر سے چھپ گیا تھا
۔
“سووو مس نایاب مبارک ہو بہت بہت۔۔۔”
شانزے نے زور سے نایاب کے گلے لگی تھی
“آپ کو بھی مس شانزے۔۔۔پاکستان آؤ تو ضرور بتانا اور اپنی شادی پر بلاؤ گی نا۔۔۔؟؟”
“شادی۔۔۔؟؟ کا ابھی کہہ نہیں سکتی نیا نیا دل ٹوٹا ہے۔۔۔”
شانزے نے اندر ہال کی طرف دیکھ کر گہرا سانس لیا تھا۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔؟؟”
“اسلام وعلیکم۔۔۔نایاب کیا میں آپ کی دوست سے کچھ بات کر سکتا ہوں۔۔۔”
“نہیں۔۔۔مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی مسٹر ازیان۔۔۔چلو نایاب تمہیں کیٹ ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔”
شانزے نفرت بھری نظروں سے ازیان کو دیکھتے ہوئے نایاب کو کھینچ کر دوسری طرف لے گئی تھی جہاں کیٹ کھڑی تھی انتظار میں
“جی مس کیتھرائن۔۔۔مس کیٹ۔۔۔؟؟”
شانزے نے طنزیے کہا تھا
“ہمم لک ایم سوری نایاب۔۔۔زاران عابدی میری سسٹر کے کلاس فیلو تھے۔۔اور ہم سب نے تمہیں اتنا تنگ زاران کے کہنے پر کیا تھا۔۔۔”
“وٹ زاران عابدی۔۔؟؟ یونیورسٹی روک سٹار۔۔؟ پر نایاب۔۔۔”
شانزے نے جب نایاب کی طرف دیکھا تو اسے وہ نایاب نظر آئی تھی جو اس دن دیکھی تھی ٹوٹی ہوئی بکھری ہوئی
“کیا۔۔۔کیا وہ پارٹی وہ کلب بھی زاران عابدی کا پلان تھا۔۔۔؟؟”
“وہ۔۔ایم۔۔۔نایاب۔۔۔”
پر جب پیچھے سے افنان نے ہاں میں سر ہلاکر ہاں کہنے کا اشارہ کیا تو کیٹ نے آنکھیں بند کر کے ہاں میں جواب دیا تھا نایاب کے سوال کا۔۔۔
“زاران۔۔۔۔”
نایاب نے ایک سرگوشی کی تھی جیسے ایک آہ نکلی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“نایاب بیٹا۔۔۔ویلکم بیک بچے۔۔۔۔۔۔”
۔
انیسہ نے آگے بڑھ کر نایاب کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔وہ اور التمش صاحب دونوں آبدیدہ ہوگئے تھے۔۔۔
“نایاب ڈگری تو تم لے آئی پر رنگ تمہارا ابھی بھی ویسا ہی ہے سیاہ۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔پھوپھو۔۔۔۔اسے سانس تو لینے دیتی آپ۔۔۔”
سویرا نے آگے بڑھ کر نایاب کو گلے لگایا تھا جس پر نایاب بہت حیران ہوئی تھی۔۔۔
فاخرہ پھوپھو کی بات پر ابھی بھی ویسے ہی قہقے لگائے تھے باقی کزنز نے
۔
“پھوپھو یہ رنگ اللہ کی دین ہے میرے مرتے دم ایسے ہی رہے گا۔۔۔اللہ نے مجھے سرخ روح کیا میں جو حاصل کرنے گئی تھی لے کر آئی ہوں۔۔۔میری رنگت معنی نہیں رکھتی جب کامیابی حاصل کرلی جائے محنت سے تو کچھ معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔”
۔
کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا نایاب کے جواب نے انکو چپ کروا دیا تھا ۔۔۔نایاب جیسے ہی جھکی تھی اپنے ابو کی طرف انکے گلے لگنے ان سے پیار لینے کے لیے۔۔۔۔نایاب کے پیچھے جو شخصیت کھڑی تھی ان پر نظر پڑتے ہیں گھر کے بڑے ششدر کھڑے رہ گئے تھے اور التمش صاحب نایاب کے سر پر پیار دینے کے لیے جو ہاتھ اٹھا رہے تھے وہ وہیں گر گیا تھا۔۔۔
“پھوپھو دلکش آنٹی اور زوبیہ باجی کچھ دن ہمارے ساتھ رہیں گی کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا۔۔۔”
“دلکش۔۔۔۔”
یاسمین کی نظریں دلکش پر تھیں اور دلکش کی نظریں اس شخص پر جن کو وہ ویل چئیر پر دیکھ کر افسردہ ہوگئیں تھیں۔۔۔
“نایاب وہ۔۔۔”
“یاسمین بھابھی کوئی بات نہیں یہ یہاں رہ سکتے ہیں بیٹا جب انکا دل چاہے پلیز اندر آئیے۔۔۔۔”
سب خاموش ہوگئے تھے۔۔۔
جب نایاب نے دلکش کا ہاتھ پکڑا تھا اور انہیں اپنے ساتھ گھر کی دہلیز سے اندر تک لیکر آئی تھی
باہر ویل چئیر پر التمش صاحب کا ہاتھ انکے دل پر تھا جہاں انہیں درد ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔
“انیسہ یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔وہ عورت میرے گھر میں نہیں رہ سکتی
“آپ کی بہن زندہ ہے آپ کو انہیں دیکھ کر زراسی خوشی نہیں ہوئی یاسمین بھابھی آپ تو ہم سب کی طرح شوکڈ بھی نہیں ہوئی کیا آپ جانتی تھی وہ زندہ ہیں۔۔۔؟؟”
انیسہ نے سخت لہجے میں پوچھا تھا جس پر یاسمین بیگم گھبرا گئی تھی۔۔۔
“میں ابھی کچھ نہیں جانتی اسے گیسٹ ہاؤس روانہ کرو۔۔۔التمش کو میں روم میں۔۔۔”
“نہیں التمش بھائی ابھی آپ کے ساتھ کہیں نہیں جا رہے۔۔۔جائیں آپ اپنے کمرے میں۔۔۔”
ویل چئیر کا ہینڈل کھینچ لیا تھا انیسہ نے۔۔اور بچے دور کھڑے ان بڑوں کو ایسے دیک کر حیران ہوئے جا رہے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران آگئے میں جوس کے آتی ہوں۔۔۔”
سویرا بھاگتے ہوئے کچن میں گئی تھی جیسے ہی نایاب ڈائننگ ٹیبل پر آکر بیٹھی تھی دلکش اور زوبیہ کے ساتھ۔۔۔
“آپ شادی شدہ ہیں۔۔؟؟”
زوبیہ نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے سویرا سے پوچھا تھا۔۔۔
“جی میں۔۔۔”
اسکے پاس جواب نہیں تھا سب نے اگنور کردیا تھا یہ سوال۔۔۔
“زاران آج لیٹ نہیں ہوگئے۔۔؟؟ اتنا پسینہ آفس سے کیا پیدل آرہے ہو۔۔؟؟
اسے کیا پتا تھا وہ آفس سے بھاگتے ہوئے آیا تھا جب اسے پتا چلا تھا نایاب کل کے بجائے آج آچکی ہے۔۔۔
“وہ میں۔۔۔دراصل۔۔۔”
سویرا نے دوپٹے کے پلو سے جیسے ہی زاران کا ماتھا صاف کرنا شروع کیا تھا نایاب نے گردن اچانک سے پیچھے موڑ کر زاران کو دیکھا تھا کچھ سیکنڈ کے لیے زاران عابدی کی نظروں سے اسکی نگاہ ٹکرائی تھی۔۔۔اور سویرا کے ساتھ اسکی نزدیکی دیکھ کر اس نے منہ پھر سے ٹیبل کی طرف کرلیا تھا۔۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔نایاب۔۔۔”
وہ سویرا کا ہاتھ پیچھے کر کے آگے بڑھا تھا۔۔۔
“وعلیکم سلام بیٹا۔۔۔”
“وعلیکم سلام زاران۔۔۔۔”
“اسلام وعلیکم۔۔۔آپ کون ہیں۔۔؟؟”
اس نے دو نئے چہرے دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔
“اوو یہ نایاب کے مہمان ہیں بیٹا۔۔تم فریش ہوجاؤ ساتھ ڈنر کرو سب کے۔۔۔۔”
“جی امی۔۔۔نایاب”
زاران نے نایاب کو مخاطب کیا تھا
جب اس نے چہرہ اٹھا یا تھا تو زاران کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکان آگئی تھی۔۔۔
جو زوبیہ دلکش بیگم کے ساتھ ساتھ اور بہت لوگوں کو بُری لگی تھی۔۔۔
زوبیہ بھی ایک مقصد لئیے یہاں آئی تھی اپنے بھائی کے لیے نایاب کا رشتہ اسے ھی پسند تھا اور وہ چاہتی تھی نایاب اسکی بھابھی بنے
“جی زاران۔۔۔؟؟”
“امی آپ کو نہیں لگتا یہ زرا موٹی ہوکر آئی ہے۔۔؟؟ آپ نے اتنا کھانا رکھ دیا سامنے۔۔۔ پھول جائے گئی اور۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
وہ کہہ کر بھاگ گیا تھا اوپر۔۔۔اور نیچے قہقے لگائے تھے
“پھوپھو۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
یاسمین التمش کی ویل چئیر جب ڈائننگ پر لائیں تھیں تو نایاب اپنی کرسی کے ساتھ انکی ویل چئیر لگا چکی تھی اپنے اور دلکش بیگم کی کرسی کے درمیان میں۔۔۔
“ابو میں کھانا کھلاتی ہوں آپ کو۔۔۔ دلکش آنٹی آپ بھی شروع کیجئیے۔۔۔۔”
وہ ایک لفظ آنٹی۔۔۔التمش کی سوجھی ہوئی آنکھیں بھگوچکا تھا۔۔۔
انکی نظریں اپنی سابقہ بیوی پر تھی جو اپنی مٹھی اس قدر مظبوطی سے بند کئیے بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی نایاب سے ایک بار بات کرنی ہے مجھے۔۔۔آپ اب بات کیجئیے التمش مامو سے میرے رشتے کی۔۔
امی نایاب جب سے آئی ہے اگنور کیوں کر رہی ہے مجھے۔۔؟ ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ ہوا ہے۔۔؟؟ اسکی آنکھوں میں نفرت جھلک رہی ہے اب تو میرے لیے۔۔۔”
زاران یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔
کہ اسکا فون بجا تھا۔۔۔۔۔
“ہیلو۔۔۔ہارون میں نے کہا تھا جو وہ کام ہوا۔۔۔۔؟؟ نایاب التمش کی کمپنی اور۔۔۔۔”
فون پر جو رپورٹ زاران کو ملی تھی اس نے زاران کو اپنا ہاتھ طیش میں آکر بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔
اس کمپنی کا نام بتاؤ مجھے بس۔۔۔۔۔ابھی میسج کرو اسکی جرات کیسے ہوئی اتنا بڑا الزام لگا کر تذلیل کرنے کی۔۔۔۔”
زاران نے فون بند کر دیا تھا۔۔وہ پھر سے چکر کاٹنے لگا تھا۔۔۔اور جب اپنی امی کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو وہ ان کے پاس بیٹھ گیا تھا جن کا دھیان زاران پر تھا ہی نہیں۔۔۔
انیسہ بیگم کا دھیان بس ایک انسان پر تھا اور وہ تھیں دلکش جو انیسہ سے بات کرنا ہی نہیں چاہتی تھی کتنی بار انہوں نے کوشش کی۔۔۔پر کوئی موقع نہیں ملا انہیں یا تو گھر کا کوئی فرد آس پاس ہوتا تھا یا نایاب خود۔۔۔
سب فیملی والے اتنا تو جان گئے تھے کہ نایاب کو ابھی تک سچ نہیں پتا چلا تھا۔۔۔
“امی اب تو آپ بات کر ہی لیجیئے شادی کی نایاب کی ہر پریشانی میں اسے اکیلے ہینڈل نہیں کرنے دوں گا۔۔۔”
۔
“زاران ابھی کچھ دن تو ہوئے ہیں اسے آئے ہوئے۔۔۔میں خود بات کروں گی التمش بھائی سے نایاب ہاں کر دے گی تم فکر نا کرو۔۔۔”
“نایاب ہاں نہیں کرے گی انیسہ باجی۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔”
دروازے پر دلکش بیگم کھڑی تھیں۔۔۔
“دلکش۔۔۔آؤ اندر۔۔پلیزدلکش یہ۔۔۔”
“آپ یہ فیصلہ کرنے والی کون ہیں۔۔؟؟ آپ مہمان ہیں اس گھر کی یہ فیصلے نجی ہیں۔۔”
زاران نے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔اسکی آواز سے باہر سے گزرتے ہوئے نایاب ضرور رک گئی تھی
“زاران چپ ہوجاؤ بیٹا۔۔۔”
“نہیں امی یہ ہیں کون جو ایسے کہہ رہی ہیں التمش مامو یہ فیصلہ کریں گے اور مجھے پتا ہے نایاب ہاں کر دے گی سو پلیز آپ۔۔۔”
“میں نایاب کی ماں ہوں۔۔۔وہ ماں جسے اسی طرح سے نکالا گیا جیسے میری بیٹی نایاب کو۔۔۔
میں نے تو اپنی زندگی التمش جیسے انسان کے ہاتھوں برباد کردی پر نایاب کی نہیں ہونے دوں گی۔۔
تم پہلے ہی میری بیٹی کو ٹھکرا چکے ہو۔۔۔”
“امی۔۔۔امی یہ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔؟؟ یاسمین ممانی نایاب کی امی ہیں آپ بتائیں انہیں۔۔”
“بیٹا۔۔۔یہ سچ کہہ رہی ہیں۔۔۔یہ سگی ماں ہیں نایاب کی۔۔۔
التمش بھائی کی پہلی بیوی۔۔۔۔یاسمین بھابھی کی بڑی بہن۔۔۔۔۔”
بات مکمل ہونے پر انیسہ کی زاران بیڈ پر بیٹھ گیا تھا شوکڈ سے اور باہر نایاب اس دیوار کے ساتھ لگ گئی تھی۔۔۔
وہ جو کہتی تھی وہ کمزور نہیں ہے وہ آج اس جگہ ٹوٹی پھوٹی بیٹھ گئی تھی جہاں اس پر کسی کی بھی نظر پڑ جائے تو اسکی کمزوری عیاں ہوجائے۔۔۔پر اسے ڈر نہیں تھا۔۔۔
آج اسکی آنکھیں کان دل دماغ سب اندر تھا۔۔۔
اسے آج وہ دن یاد آرہا تھا جب اسکی ماں وہ سیڑھیوں سے گر رہی تھی۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔وہ اس دن وہاں سے نیچے گر جاتی تو وہ۔۔۔وہ۔۔۔
میں کبھی جان نا پاتی انہیں مل نا پاتی۔۔۔۔ابو وائے۔۔۔۔کیوں کیا آپ نے۔۔۔”
۔
نایاب منہ ہاتھوں میں چھپائے سیدھا اپنے ابو کے کمرے میں گئی تھی جہاں صرف اسکے ابو موجود تھے وہیں اسی جگہ ویل چئیر تھی کھڑکی کے پاس۔۔۔۔
“کیوں کیا آپ نے ایسا ابو۔۔۔؟؟ کیوں امی سے سب چھین لیا۔۔۔۔انکی زندگی انکا شوہر۔۔۔اور انکی بیٹی۔۔۔؟ آپ جانتے ہیں کہاں کس حالت میں تھی۔۔؟
آپ کو تو آپ کے اپنوں نے سنبھال لیا تھا۔۔پر وہ۔۔۔۔ ابو کیوں کیا۔۔۔؟؟
بیوی کو سیاہ رنگ پر ٹھکرانے والے آپ کیسے اپنی بیٹی کو دلاسے دیتے تھے ہمت دیتے تھے۔۔۔۔ابو آپ کا اصل یہ تھا۔۔۔؟؟
توڑ دیا آج آپ نے نایاب التمش کو۔۔۔اپنی بیٹی کو آج تک مظبوط کرنے والا باپ آج میری کمزوری کی وجہ بھی بن گئے۔۔۔واہ ابو۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے انکے پاس بیٹھ گئی تھی التمش کے گھٹنوں پر سر رکھ کر۔۔۔۔
آج ان میں بھی ہمت نہیں تھی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھنے کی۔۔۔۔
وہ دونوں ایسے ہی روتے رہے تھے۔۔۔۔ بس فرق اتنا تھا التمش صاحب کھل کر رو بھی نہیں پا رہے تھے۔۔۔۔
کتنے گھنٹے وہ وہیں بیٹھی رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔۔
“نایاب۔۔۔۔”
یاسمین بیگم نے دروازہ ایسے کھولا تھا کمرے کا غصے سے کہ نایاب کو ناچاہتے ہوئے بھی اپنا چہرہ صاف کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔۔
اس نے حسرت بھری نگاہوں سے یاسمین بیگم کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“ابو۔۔۔کیسا لگے گا آپ کو جب آنٹی کو ماں اور ماں کو آنٹی کہا جاۓ گا۔۔۔؟؟”
اس نے بہت ہلکی آواز میں پوچھا تھا التمش صاحب نے بھیگا ہوا چہرہ پھر جھکا لیا تھا۔۔۔۔
“ابو ماضی ایسا ہونا چاہیے جو کبھی مستقبل میں سوچنے پر شرمندگی نا دے۔۔۔۔
گزرے ہوۓ کل میں دوسروں کو سکون دینے سے آنے والے کل کو پرسکون کرسکتے تھے نا آپ۔۔۔۔؟؟؟
پر نہیں ابو۔۔۔۔ آپ بھی زاران جیسے ہی۔۔۔یا یہ کہوں زاران آپ کا بھانجا ہے تو آپ جیسے نکلے وہ بھی۔۔۔۔۔؟؟”
“نایاب اگر میری برائیاں کرلی ہیں تو جاؤ باہر پتا نہیں اور کونسے مہمان آۓ ہوئے ہیں تمہارے باہر۔۔۔۔سنبھالو جا کر۔۔۔۔”
نایاب نے حیرانگی سے دیکھا تھا انہیں اور منہ صاف کر کے چلی گئی تھی باہر۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“افنان۔۔۔۔؟؟؟؟”
اور اسی وقت اسکا فون بھی بج اٹھا تھا۔۔۔۔۔وہ ایک میسج اسی وقت ان دو دوستوں کی دوستی ہمیشہ کے لیے ختم کرچکا تھا۔۔۔۔”
“زاران۔۔۔۔میں اور میرے گھر والے نایاب کے لیے پرپوزل لیکر آۓ ہیں۔۔۔۔اور۔۔۔”
زاران چپ تھا اسکے ہاتھ چل رہے تھے ایک چیخ و پکار تھی گھر کے افراد کی طرف سے جو زاران کو آج پہلی بار ایسے طیش میں دیکھ رہے تھے۔۔۔
۔
“ہم نایاب کی شادی خاندان سے باہر نہیں کریں گے آپ لوگ بھول جائیں کہ نایاب آپ کے بیٹے سے شادی کرے گی۔۔۔۔”
راحیل صاحب ابھی تک خاموش تھے اب بولے تھے وہ انکی بیوی اور بیٹی کی نظروں میں انہیں نفرت اور غصہ منظور تھا پر بھائی کی نہیں بہن کے لیے وہ آج سٹینڈ لینا چاہتے تھے۔۔۔۔۔
“مامو دھوکے باز نکلا یہ۔۔۔۔جھوٹ بولا اس نے۔۔۔۔”
زاران نے افنان کو اور مارا تھا۔۔۔
“اچھا تجھے کونسا وہ پسند تھی۔۔۔؟تو انکار کرچکا تھا۔۔۔۔”
اس بار افنان نے مکا مار کر زاران کو پیچھے گرایا تھا۔۔۔
“میں پچھتایا بھی اتنا ہی ہوں پر تو۔۔۔پیٹھ پیچھے وار کرے گا سوچا نہیں تھا میں نے۔۔۔۔”
باتیں آدھی سمجھ آرہی تھی سب کو آدھی نہیں۔۔۔۔
زاران نے اور زور دار ضرب دی تھی اور کالر سے پکڑا تھا۔۔۔
“زاران بیٹا بس۔۔۔۔”
“نہیں امی آج میں اسے مار دوں گا اس نے وہاں اپنی کمپنی میں نایاب پر الزا۔۔۔۔”
۔
“بس کیجئیے زاران بس۔۔پیچھے ہٹ جائیے اب اگر آپ نے افنان پر ہاتھ اٹھا یا تو دیکھ لیجئیے گا۔۔۔”
پیچھے دھکیل دیا تھا نایاب نے زاران کو افنان سے۔۔۔ جہان افنان کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا وہیں زاران کے ناک سے بھی خون نکل رہا تھا۔۔۔ پر زاران نے حد کردی تھی افنان کو اس قدر مار کر۔۔۔
نایاب نے دونوں کو پیچھے کردیا تھا۔۔۔
“آپ سب چاہتے ہیں میں شادی کے لیے ہاں کردوں۔۔تو میں تیار ہوں شادی کے لیے۔۔”
نایاب کے جواب نے کتنوں کے منہ کھول دئیے تھے
“نایاب میری بچی میں جانتی تھی تم ہاں کردو گی تم زاران سے شادی کے لیے ہاں کردو گی۔۔”
انیسہ پھوپھو نے آگے بڑھ کر نایاب کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔پر پہلی بار نایاب نے انکی وئیسٹ پر ہاتھ رکھ کر انہیں گلے نہیں لگایا تھا۔۔۔نایاب کی نظریں زاران عابدی پر تھی جس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک صاف دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔
“پھوپھو میں نے زاران سے نہیں افنان سے شادی کے لیے ہاں کی ہے۔۔۔”
پھوپھو کے دونوں ہاتھ نایاب کے کندھوں سے نیچے گر گئے تھے۔۔اور جھک گئیں تھی زاران عابدی کی نظریں اسکے جھکے ہوئے سر کے ساتھ۔۔۔
“نایاب بیٹا مجھے پتا تھا تم افنان کو اپناؤں گی۔۔۔”
زیبا آنٹی نے آگے بڑھ کر نایاب کا ماتھا چوما تھا اور ساتھ ہی آگے آکر دلکش بیگم نے اپنی بیٹی کو سینے سے لگالیا تھا۔۔۔
“نایاب بیٹا۔۔ایک بار پھر سے سوچ لو۔۔تم ایسے کیسے انکار کرسکتی ہو زاران بہت بدل گیا ہے۔۔۔”
انیسہ نے اپنے بھائی کی طرف دیکھا تھا جنہوں نے ویل چئیر آگے بڑھا کر نایاب کا ہاتھ پکڑنے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔
“پھوپھو میں کیسے اس خاندان میں شادی کی خواہا ہو سکتی ہوں جہاں میری ماں کو عزت نا ملی۔۔؟
جہاں انہیں انکا رتبہ انکے حصے کی محبت نا ملی۔۔۔؟
نفرتوں سے بھرے دلوں کے خواہش پوری کرنے کے لیے ہاں کردوں۔۔؟؟
آپ نے کہا زاران بدل گیا ہے۔۔۔
پھوپھو فطرت بدل سکتی ہے پر وراثت نہیں چاہے وہ التمش عبید ہوں یا زاران عابدی۔۔
سب میں وہی خون ہے جس میں رنگ روپ نسل کا فرق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔۔”
نایاب نے اپنے ابو کے چہرے کی طرف دیکھا تھا اور پھر زاران عابدی کی طرف۔۔
“تم جانتی ہو میں کتنا بدلا ہوں۔۔؟ ڈیم اِٹ مجھے پتا ہے تم جانتی ہو۔۔تم مجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہو نایاب۔۔تمہیں پتا ہے میں ایسا نہیں کروں گا۔۔۔”
۔
“زاران کروں گا اور کرسکتا میں بہت فرق آجاتا ہے۔۔
اس گھر میں اس خاندان میں میں اور میری ماں نے کیا کچھ نہیں برداشت کیا۔۔؟
کیوں۔۔؟ رنگ سیاہ بس۔۔؟ رنگ کے پیچھے کیسے فاخرہ پھوپھو سحر باجی تمہاری منگیتر سویرا یہ سب تو آپ لوگوں کے سامنے تذلیل کرتے آئے ہماری میری۔۔۔یہاں سب کچھ ملا عزت نہیں ملی محبت نہیں ملی۔۔۔ مہمانوں کے سامنے اجنبیوں جیسی رہی رشتے داروں کے سامنے خود محافظ بنی اپنی۔۔آج جب موقع مل رہا ہے سب پیچھے چھوڑ کر جانے کا تو کیوں نا میں وہ ہاتھ تھاموں جو مجھے عزت دیتا آرہا ہے۔۔؟؟”
زاران کچھ قدم پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔وہ بہت غصے میں تھا۔۔ ساری فیملی ششدر تھی نایاب نے ہمیشہ اپنے لیے سٹینڈ لیا تھا پر جو وہ آج بول رہی تھی اس کا وہ بولنا حیرا ن کرگیا تھا
“کیوں وہی۔۔؟ کیوں میں نہیں نایاب۔۔؟ عزت دوں گا اپنی پلکوں پر بٹھا کر رکھوں گا جیسے معصوم تتلیاں تمہارے باغیچے میں گلاب کے پھولوں پر بیٹھتی ہیں۔۔۔عزت کریں گے سب یہاں نایاب۔۔ ایک بار سوچ لو بس۔۔۔محبت بار بار دستک نہیں دیتی نایاب”
زاران نے اسکے کندھے پر جیسے ہی ہاتھ رکھنا چاہے نایاب پیچھے ہوگئی تھی۔۔
“زاران اس نے کہہ دیا ہے تمہیں اب۔۔۔”
افنان کے منہ پر ایک ضرب لگا دی تھی جس سے وہ نیچے جا گرا تھا
“اننف از اننف زاران۔۔۔”
نایاب نے اسے پیچھے دھکا دے دیا تھا جو کچھ قدم پیچھے ہوا تھا
“میں آپ سے شادی نہیں کروں گی مجھے محبت نہیں عزت چاہیے محبت جائے بھاڑ میں زاران عابدی ایسی محبتیں کیا کرنی جو عزتِ نفس کھاجائیں۔۔؟؟
محبت دل کا سکون تو بن سکتی ہے پر کردار کے لیے محبت روشنی نہیں بن سکتی روح کو ٹھنڈک نہیں مل سکتی ایسی محبت سے زاران جو کبھی اذیت اور تکلیف کا باعث بنی ہو جو روگ بنی ہو کردار کا۔۔۔”
“ہمم مجھے ایک بات کا جواب دے دو بس ایک بات کا۔۔۔”
زاران نے بہت کم فاصلہ چھوڑا تھا۔۔۔نایاب آج اس جگہ کھڑی تھی جہاں ایک طرف اسکے ابو اور وہ خون کے رشتے تھے جنہوں نے سوائے اذیت کے کچھ نہیں دیا
اور دوسری طرف اسکی امی اور وہ لوگ کھڑے تھے جنہوں نے ہ قدم ساتھ دیا اسکا اور اسکی امی کا۔۔۔
“زاران۔۔۔پوچھیں۔۔۔”
نایاب نے گہرا سانس بھر کر کہا تھا۔۔۔وہ زاران کی آنکھوں میں دیکھ کر آج کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی
“مجھے بتاؤ نایاب التمش ہاؤ ٹو موو آن۔۔۔؟ تم تو ہوگئی میں کیسے تم سے آگے جاؤں۔۔؟”
آج نایاب التمش کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔کب افنان اٹھ کر اس کے پاس کھڑا تھا اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔
“منگنی کی رسم ابھی ہو گی زیبا باجی میں نہیں چاہتی زرا سی بھی دیر ہو۔۔۔”
دلکش کی بات پر افنان نے اپنی جیب سے دو رنگز نکال کر زیبا بیگم کے آگے کی تھی۔۔
“ہمم ڈیٹس اِٹ۔۔؟ نایاب التمش۔۔۔ویل۔۔مبارک ہو۔۔”
زاران نے اپنی امی کا ہاتھ بھی جھٹک دیا تھا اور اپنے ابو کی آواز پر بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔۔
جب تک وہ دروازے پر پہنچا تھا۔۔نایاب کو افنان رنگ پہنا چکا تھا۔۔اور زاران کی نظریں نایاب پر تھیں جس نے اپنی نظریں جھکا لی تھی جو ابھی تک زاران کے تعاقب میں تھی
“اسے دنیا جینے نہیں دے رہی تھی۔۔اور اب مجھے میری محبت جینے نہیں دے گی”
زاران کی لفٹ آنکھ سے آنسو آہستہ سے گرا تھا جو ناک پر ایک خون کا قطرہ تھا وہ اسکے آنسو کے گرنے سے نیچے ہونٹ تک آگیا تھا۔۔۔اور وہ اس وقت نیچے گرا تھا جب نایاب نے افنان کو انگھوٹھی پہنا دی تھی۔۔۔
۔
۔
“میں تیرے پیار کا ارمان لیے بیٹھا ہوں۔۔۔۔
تو کسی اور کو چاہے۔۔۔کبھی خدا نا کرے۔۔۔۔۔”
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: