Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 17

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 17

–**–**–

“ہمم مجھے ایک بات کا جواب دے دو بس ایک بات کا۔۔۔”
زاران نے بہت کم فاصلہ چھوڑا تھا۔۔۔نایاب آج اس جگہ کھڑی تھی جہاں ایک طرف اسکے ابو اور وہ خون کے رشتے تھے جنہوں نے سوائے اذیت کے کچھ نہیں دیا
اور دوسری طرف اسکی امی اور وہ لوگ کھڑے تھے جنہوں نے ہ قدم ساتھ دیا اسکا اور اسکی امی کا۔۔۔
“زاران۔۔۔پوچھیں۔۔۔”
نایاب نے گہرا سانس بھر کر کہا تھا۔۔۔وہ زاران کی آنکھوں میں دیکھ کر آج کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی
“مجھے بتاؤ نایاب التمش ہاؤ ٹو موو آن۔۔۔؟ تم تو ہوگئی میں کیسے تم سے آگے جاؤں۔۔؟”
آج نایاب التمش کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔کب افنان اٹھ کر اس کے پاس کھڑا تھا اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔
“منگنی کی رسم ابھی ہو گی زیبا باجی میں نہیں چاہتی زرا سی بھی دیر ہو۔۔۔”
دلکش کی بات پر افنان نے اپنی جیب سے دو رنگز نکال کر زیبا بیگم کے آگے کی تھی۔۔
“ہمم ڈیٹس اِٹ۔۔؟ نایاب التمش۔۔۔ویل۔۔مبارک ہو۔۔”
زاران نے اپنی امی کا ہاتھ بھی جھٹک دیا تھا اور اپنے ابو کی آواز پر بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔۔
جب تک وہ دروازے پر پہنچا تھا۔۔نایاب کو افنان رنگ پہنا چکا تھا۔۔اور زاران کی نظریں نایاب پر تھیں جس نے اپنی نظریں جھکا لی تھی جو ابھی تک زاران کے تعاقب میں تھی
“اسے دنیا جینے نہیں دے رہی تھی۔۔اور اب مجھے میری محبت جینے نہیں دے گی”
زاران کی لفٹ آنکھ سے آنسو آہستہ سے گرا تھا جو ناک پر ایک خون کا قطرہ تھا وہ اسکے آنسو کے گرنے سے نیچے ہونٹ تک آگیا تھا۔۔۔اور وہ اس وقت نیچے گرا تھا جب نایاب نے افنان کو انگھوٹھی پہنا دی تھی۔۔۔
۔
“بہت بہت مبارک ہو۔۔۔نایاب بیٹا۔۔۔بہت خوشی دی ہے تم نے آج ہم سب کو۔۔۔”
زیبا نے آگے بڑھ کر نایاب کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔نایاب جیسے بٹ گئی تھی آج۔۔
جب اس نے دوسری طرف وہ لوگوں کو دیکھا تھا جس نے اتنے سال گزارے تھے ان سب کے ساتھ۔۔
اسے پتا نہیں کیوں آج سب میں برائی نظر آرہی تھی۔۔وہ ایسی نہیں تھی وہ لوگوں کی باتوں کو بھلا دینی والی تھی آغے بڑھنے والی لڑکی آج اتنی منفی سوچ رکھے سب کو دیکھ رہی تھی
“نایاب بھابھی۔۔۔۔وااااوووو۔۔۔۔۔
زوبیہ نے جتنی محبت سے نایاب کو گلے لگایا تھا سویرا اور باقی کزنز جل کر ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
اور خاص کر افنان یوسف کو جس کے چہرے کو دیکھ کر سب کو جلن ہو رہی تھی نایاب کے اتنے روشن نصیبوں پر۔۔۔
۔
“نایاب مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔”
افنان نے آگے بڑھ کر کہا تھا
“مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔دلکش آنٹی مجھے آپ سے بات کرنی ہے آپ چلیے۔۔۔”
نایاب ان کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئی تھی۔۔۔پر آنٹی لفظ نے دلکش کو پھر سے اسی جگہ لے گیا تھا جب نایاب نے انہیں بچایا تھا سیڑھیوں پر گرنے سے۔۔۔
۔
“انیسہ۔۔۔جو ہوا سوو ہوا۔۔۔یہ سب ہمارے مہمان ہیں ابھی ابھی منگنی ہوئی ہے۔۔۔ نایاب کو جو محبت آج تک نہیں ملی وہ اب ملنی چاہیے۔۔۔وہ کچھ دنوں کی مہمان ہے یہاں۔۔۔”
راحیل صاحب کی بات نے انیسہ کو اور رونے پر مجبور کردیا تھا اور وہ روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھیں
“آپ سب چلئیے انیسہ باجی ابھی رنجیدہ ہیں۔۔۔”
ان سب کو ڈرائیونگ روم میں لے گئیں تھے وہ سب جہاں کھانے پینے کا انتظام بچیوں نے کیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب۔۔۔”
“ا۔۔۔امی۔۔۔”
نایاب جیسے ہی انکے ساتھ اپنے کمرے آئی تھی نایاب انکے سینے سے لگ کر رونے لگ گئی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔۔”
“امی۔۔۔آپ کی آغوش میں آکر جو سکون میری روح کو آج ملا مجھے ابھی تک نہیں ملا تھا۔۔
اتنے سال محروم رہی میں۔۔۔”
وہ دونوں روتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھ گئی تھی ایک پل کو بھی نایاب چپ نہیں ہو رہی تھی
“نایاب۔۔بیٹا بس چپ۔۔۔آج تم کمزور پڑ کر وہی غلطی کر رہی جو میں نے کی تھی مجھے میری مظبوط بیٹی چاہیے۔۔۔”
“اپنی اپنوں کے دھوکے نے توڑ دیا ہے آج نایاب التمش کو۔۔۔ابو کے جھوٹ نے توڑ دیا ہے۔۔
انیسہ پھوپھو جو میری ماں جیسی تھیں انکے جھوٹ نے توڑ دیا ہے۔۔۔ٹوٹ چکی ہے وہ مظبوط نایاب اللہ نے کس آزمائش میں ڈال دیا مجھے امی۔۔۔میرے آس پاس تو ہر رشتہ جھوٹ کی بنیاد پر بندھا ہوا تھا۔۔۔اگر کچھ سچ تھا تو دادی ماں۔۔۔”
نایاب نے دلکش کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا
“وہ نیک عورت تھیں بیٹا۔۔۔پر التمش کے ابو تمہارے دادا ابو ان سے زیادہ مجے پیار کرتے تھے بیٹی مانتے تھے مجھےمیں انکے پاس تھی جب انکی آخری سانسیں چل رہی تھیں۔۔۔مجھے کہہ رہے تھے میں انکے لاڈلے بیٹے کا خیال رکھوں۔۔۔وہ مجھ سے وعدہ لے رہ تھے کہ میں کبھی التمش کو اکیلا چھوڑ کر نا جاؤں۔۔۔میں انکے ہر وعدے پر ہاں کر تی رہی نایاب۔۔۔
میں نے ایک بار پلٹ کر یہ نہیں پوچھا کہ اگر انکا بیٹا مجھے رکھنا ہی نا چاہتا ہو تو کیسے زبردستی رہوں۔۔۔؟؟ وعدرے وفا کرنے کا مجھ موقع ہی نہیں دیا میرے شوہر اور میری بہن نے۔۔۔”
“بہن۔۔؟؟”
نایاب پیچھے ہوگئی تھی اتنی حیران وہ پہلے کبھی کسی بات کسی موقع پر نہیں ہوئی تھی
“ہاں بہن۔۔۔وہ بہن جس نے کب التمش کو مجھ سے چھین لیا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔”
“اور ابو۔۔؟؟ جسٹ لائک ڈیٹ امی۔۔؟؟؟ انہوں نے آپ کو کیوں چھوڑ دیا۔۔وہ۔۔۔”
وہ کہتے کہتے خود ہی چپ ہوگئی تھی جب دلکش نے منہ نیچے کرلیا تھا۔۔۔
“میرا سیاہ رنگ انہیں ایک نظر نہیں بھاتا تھا نایاب۔۔۔ بہت کوشش کی بہت زیادہ۔۔۔
شادی کے تین سالوں کے بعد ہی چھوڑ دیا تھا انہوں نے اور دو سال بعد تمہیں چھین لیا تھا مجھ سے۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بچوں کی طرح اپنی بیٹی کے گلے لگی تھیں۔۔۔وہ آج بھی اسی جگہ تھیں یہ تو نایاب سمجھ گئی تھی
۔
“بس امی۔۔۔ہمیں اب نہیں رونا۔۔۔کبھی نہیں رونا۔۔۔”
بہت پیار سے نایاب نے انکا چہرہ صاف کیا تھا
“نایاب۔۔۔مجھ سے وعدہ کرو تم اپنے ابو سے نفرت نہیں کرو گی تم یہاں کسی سے کچھ نہیں پوچھو گی جو ماضی میں ہوا نایاب۔۔۔
میں نے اپنے رب پر سب چھوڑ دیا تھا معاف کردیا تھا ان سب کو جنہوں نے میرے ساتھ اتنے ظلم کئیے زیادتیاں کئی۔۔۔”
“آپ نے معاف کردیا تھا پر اللہ بڑا الصاف کرنے والا ہے امی۔۔۔
میں آج بہت حیرا ہوئی ہوں۔۔۔ ایک بہن دوسری بہن کا گھر کیسے برباد کر سکتیں ہیں۔۔؟
یہ کیسے ظرف ہیں لوگوں کے امی جہاں جو رشتے قربانیاں مانگتے ہیں وہاں ہم ایسے جاتے ہیں کہ بتا دیتے ہیں کہ دیکھ لو خون سفید ہوگیا ہے رشتوں کا۔۔۔
وہ زمانے کہاں گئے امی جب بہنیں قربانیاں دےکر مثال بناتی تھیں۔۔
اور اب عالم یہ ہے کہ بہن کی خوشیاں دوسری بہن ایک جلن میں برباد کر کے ایک مثال بنا دیتی ہے۔۔
کیوں خون سفید ہوگیا ہے امی۔۔؟؟کیوں اب باہر کے لوگوں سے نہیں خونی رشتوں کے ہاتھوں لُٹ جانے سے ڈر لگتا ہے۔۔؟؟
بھروسوں پر ڈاکے اب اپنے ڈالتے ہیں تو باہر تالے لگانے کا کیا فائدہ جب گھر کے چوروں سے خطرہ لاحق ہو۔۔۔؟؟”
۔
دلکش بیگم کے پاس جواب نہیں تھا نایاب کے کسی بھی جواب کا۔۔۔آج انہیں نظر آئی تھی اپنی مظبوط بیٹی جس کی باتوں میں اتنا اثر تھا کہ بن ہاتھ اٹھائے گھائل کرسکتیں تھیں وہ باتیں کسی کو بھی۔۔۔
“نایاب بیٹا تم سچ میں اتنی بڑی ہوگئی ہو۔۔۔”
“ہاہاہاہا جی آپ کو یقین نہیں آرہا تو میری منگنی کی انگوٹھی دیکھ لیجئیے۔۔۔”
نایاب نے ہنستے ہوئے کہا تھا پر اداسی چھا گئی تھی اسکی آنکھوں میں زاران کا وہ چہرہ اسے بھلائے نہیں بھول رہا تھا جب وہ گھر سے گیا تھا
“نایاب افنان بہت اچھا لڑکا ہے۔۔میں جانتی ہوں وہ لوگ بہت اچھے ہیں۔۔اور۔۔۔”
“امی میں نے افنان سر سے شادی کے لیے ہاں آپ کے لیے کہی ہے۔۔اب میری لیے یہ میٹر نہیں کرتا وہ اچھے ہیں یا بُرے۔۔۔مجھ پر سب کے سامنے اپنے آفس پر الزام لگا کر وہ اسی پل میری نظروں سے گر گئے تھے امی۔۔۔
اور امی۔۔۔آپ نے یہ بات بلکل ٹھیک کہی کہ یہ لوگ جیسے بھی ہیں میں وہ وقت نہیں بھلا سکتی امی جب ابو کو فالج ہوا تھا کیسے ابو کے بہن بھائیوں نے سایا کیا تھا ہم پر۔۔۔
امی۔۔۔ابو کو۔۔۔”
نایاب نے دلکش کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے تھے
“امی ابو کو میں نے روتے ہوئے دیکھا ہے۔۔۔انکی آنکھوں میں ایک طوفان دیکھا ہمیشہ سوچتی تھی ایسا کیا ہے جو وہ دل میں دبائے بیٹھے ہیں۔۔۔پر وہ طوفان آنسوؤں میں بہہ گیا آپ کو دیکھنے کے بعد۔۔۔ آپ کی پریشانیاں مجھ سے چھپی ہوئی ہیں پر ابو کا پچھتاؤا جھلکتا تھا انکی آنکھوں سے۔۔۔
میں ان سے ناراض تو رہ سکتی ہوں پر باپ سے نفرت نہیں کر سکتی۔۔۔
اور انیسہ پھوپھو۔۔۔یا اللہ یہ امتحان میرا تھا امی۔۔۔ میں نے جو نیچے کہا جو نیچے کیا وہ سب میں پھوپھو بھی ٹوٹ گئی ہوں گی۔۔۔ امی انکے ممتا کے آنچل میں رہی میں وہ چار سال چار زندگیاں تھیں میرے لیے۔۔۔”
۔
نایاب کا چہرہ پھر بھیگ چکا تھا۔۔۔اور دلکش کو اب محسوس ہورہا تھا کس کرب سے گزر رہی انکی بیٹی۔۔۔کس طرح کٹ گئی ہے وہ ان سب میں۔۔۔
انہوں نے نایاب کے ماتھے پر بوسا دیا تھا بہت پیار سے
“نایاب بیٹایہ بھی تمہارے رشتے ہیں اور میں جانتی ہوں تمہیں تم دونوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتی ہوں پر تمہیں ڈر ہے میں خفا ہوجاؤں گی۔۔؟؟
بیٹا ہماری اچھائی چاہیے ہمیں کتنے زخم دہ دے ہم اسے کرے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔۔۔
تم بھی وہی کرنا چاہتی ہو۔۔میں نا ناراض ہوں گی نا خفا۔۔تم اپنے سب رشتے نبھاؤ۔۔۔
بس میں چاہتی ہوں تمہاری شادی افنان سے ہوجائے پھر ہم یہاں سے چلے جائیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔
۔
ایک بار وہ پھر نایاب کا ماتھا چوم کر وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
نایاب نے التمش زمین پر بیٹھے بستر پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔
“زاران عابدی دنیا سے زیادہ تم نے مجھے جینے نہیں دیا۔۔۔کبھی اپنے انتظار میں تو کبھی تمہاری نفرت میں دادی آپ اور دادو نے نا آچھی دشمنی لی ہے مجھ سے اور میری ماں سے۔۔۔”
۔
اسکے آنسو اس بیڈ شیٹ کو بھگو رہے تھے۔۔۔اسکے پاس سوائے اللہ کی زات کے کوئی نہیں تھا جس سے وہ ہر بات کرتی۔۔
وہ اپنی امی کو بھی پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
وہ اپنے ابو سے بھی نفرت ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ناراضگی میں۔۔۔
وہ زاران عابدی کا پتا بھی کرنا چاہتی تھی جو اس وقت سے نکلا ہوا تھا گھر سے
وہ نیچے ان لوگوں کو بھی اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی جنہوں نے غیر ملک میں اسے اپنوں کی طرح پیار دیا۔۔۔
نایاب التمش کیا کرنے اور کیا نا کرنے میں الجھ گئی تھی وہ سلجھی ہوئی لڑکی کی زندگی آج الجھ گئی تھی۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسکی ہمت کیسے ہوئی زاران کے ساتھ ایسا کرنے کی۔۔۔”
سویرا نے چائے کا برتن اتار دیا تھا
“ہاہاہا سحر باجی سنا آپ نے سویرا میڈم یہی چاہتی تھیں آپ۔۔۔اب زاران بھائی دستیاب ہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
کچن انکے قہقوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔
“ایسے نہیں چاہیے مجھے زاران۔۔۔وہ لڑکی اتنی ہواؤں میں اڑ رہی انیسہ پھوپھو ڈیڈ اور ہمارے سارے خاندان کو ذلیل کر کے رکھ دیا اس نے آکسفورڈ گریجویٹ ہے تو کیا سر پر بیٹھے گی۔۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی چلائی تھی سحر نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
“سویرا زندگی بہت کم لوگوں کو ایسے موقعے دیتی ہے اسے تھام لو۔۔۔
زاران اور تمہارے راستے میں اب کوئی نہیں آئے گا۔۔۔”
سحر آنکھ مار کر کھانے کی ٹرے مہمانوں کے لیے باہر لے گئی تھی۔۔۔
“ایسے نہیں اسے جواب دینا ہوگا۔۔کیا اتنا آسان تھا اسکے لیے زاران کو ٹھکرانا۔۔۔؟؟””
سویرا نے غصے سے کہا تھا
“یہ تم اسی سے پوچھ لینا۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نکاح کی ڈیٹ آپ لوگ جب مرضی کی دے دیں ہم یہیں ہیں پاکستان اپنی بہو کو لیکر ہی واپس جائیں گے۔۔۔”
نایاب کا ہاتھ پکڑ کر زیبا نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا تھا
۔
“کچھ زیادہ جلدی نہیں ہو رہی آپ کو۔۔؟”
یاسمین بیگم نے سخت لیجے میں پوچھا تھا کہ سب چپ ہوگئے تھے
“کیونکہ میں چاہتی ہوں جلدی ہو سب کچھ یاسمین ۔۔۔”
دلکش نے جواب دیا تو ساتھ ہی انیسہ التمش کی ویل چئیر پکڑے روم میں آگئیں تھیں انکی آنکھیں بھی سوجھی ہوئی تھی پر اب وقت آگیا تھا وہ نایاب کو خوشی خوشی رخصت کرتی۔۔۔
“دلکش آپ کی سب باتیں منظور ہیں پر التمش بھائی کی رضا مندی کے بغیر ہم لوگ کچھ بھی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ نایاب کیا اپنے ابو کی رضا مندی کے بغیر شادی کرلو گی۔۔؟ جیسے منگنی کر لی۔۔؟؟؟”
انہوں نے نایاب ک آنکھوں میں مایوسی سے دیکھا تھا۔۔۔
“انیسہ باجی۔۔۔”
“ابو کی رضا مندی سے ہی یہ شادی ہوگی پھوپھو۔۔۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر التمش کی کرسی کے پاس بیٹھ گئی تھی
افنان کی آنکھوں میں خوف سا طاری ہوگیا تھا اسے ڈر تھا کہ نایاب کے ابو انکار نا کردیں۔۔۔
التمش صاحب نے پلکیں اٹھا کر دلکش کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔اور اپنا ہاتھ اٹھانے کی بہت کوشش کے بعد نایاب کے سر پر ہاتھ رکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔
“کمرے کا ماحول پھر سے خوشگوار ہوگیا تھا۔۔۔
گھر کے لوگوں کو پتا تھا یہ فیصلہ اٹل ہے۔۔۔مٹھائی لائی گئی اور سب نے کھائی نایاب نے وہ مٹھائی کی پلیٹ اٹھ کر اپنے ابو کے سامنے رکھی تھی
“آج آپ میری پسند کھائیں گے یا اپنی ابو۔۔؟؟؟”
اب اسکے لہجے میں کرواہٹ نہیں تھی اب وہ خوشی خوشی یہ پل گزارنا چاہتی تھی سب کے ساتھ خاص کر اپنے ابو اور پھوپھو کے ساتھ۔۔۔
اس نے زرا سا گلاب جامن اپنے ابو کو کھالایا تھا اور باقی خود کھا لیا تھا۔۔۔
“ابو میں ابھی بھی ناراض ہوں آپ سے پر میں اس دن کا انتظار کروں گی جب آپ خود مجھے سب کچھ بتائیں گے۔۔۔میری ناراضگی اور میری نفرت اس پل کی میری آپ کے لیے اتنے سالوں کی محبت کو مات نہیں دے سکتی۔۔۔”
یہ کہہ کر اس نے اپنے ابو کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور وہ پلیٹ لیکر انیسہ کی طرف بڑھی تھی
“پھوپھو۔۔۔”
“نایاب۔۔جو میں نے کیا جو ہم سے ہوا ان چار سالوں میں میں نے بہت کوشش کی تمہیں اتنی محبت اور عزت دے سکوں کے میرے اندر جو پچھتاوا ہے وہ کم ہوجائے۔۔۔”
“پھوپھو بس رونا بند کیجئیے۔۔۔۔منہ میٹھا کیجئیے۔۔۔۔”
نایاب نے انکے آنسو پونچھے تھے وہ یہی تو کرتی آئی تھی خود چاہے اسکا دل اندر سے رو رہا تھا وہ سب کو تسلیاں اور دلاسے دیتی آئی تھی۔۔۔
“زاران پچھلے چار سال سے تمہارا انتظار کر رہا تھا نایاب۔۔۔”
انہوں نے اس پلیٹ پر سے وہ میٹھا ئی اٹھا کر نایاب کو کھلائی تھی اور پھر خود
“پھوپھو میں نے منع کردیا تھا چار سال پہلے زاران کو۔۔۔یہ انکی غلطی تھی”
“جانتی ہوں بیٹا۔۔۔پر دل ایسی غلطیاں کرنے سے کہاں باز آتا ہے۔۔؟؟”
نایاب انکا منہ دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔
“آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔کچھ دیر پہلے جو یہاں ہوا ہم سب شرمندہ ہیں جو میرے بیٹے زاران نے کیا میں معذرت خواہ ہوں۔۔۔افنان بیٹا آئی ہوپ تم نے اپنے دوست کی باتوں کا بُرا نہیں منایا ہوگا۔۔۔”
“دوست۔۔۔؟؟”
دلکش بیگم نے پوچھا تھا۔۔۔اور افنان کےنے سر اٹھایا تھا انیسہ بیگم کی بات پر
“زاران اور افنان دوست ہیں۔۔؟؟”
اس بار نایاب نے پوچھا تھا
“جی دوست ایسے ویسے۔۔۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں ساتھ تھے بزنس پارٹنر بھی تھے ان چار سالوں میں۔۔۔اور بھی گہری دوستی تھی جہاں تک میں جانتی ہوں ۔۔ پچھے چار سالوں میں زاران کا رابطہ افنان سے ہی تھا۔۔۔”
سویرا نے گلاب جامن اٹھا کر افنان کی طرف بڑھایا تھا
“افنان مجھے بھی بھول گئے ہو۔۔؟؟ میں بھی ایک سال اسی کلاس میں تھی۔۔۔”
“ارے نہیں سویرا ایسی بات نہیں۔۔۔جی دلکش چچی زاران میرا بہت اچھا دوست تھا۔۔
پر شاید اب وہ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ہوگا کیونکہ مس نایاب کے لیے میں نے رشتہ بھیجا۔۔۔”
افنان کی بات مکمل ہونے پر نایاب روم چھوڑ گئی تھی غصے سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آج وہ چار سال بعد اپنے کمرے کی بالکونی پر آئی تھی رات کی تاریکی چاند کی ٹھنڈک اسے دلی سکون دے رہی تھی
وہ تاریکی جس میں وہ ہزار باتوں کو سوچتی تھی آج آج اسکی سوچ کا مہور رات کی تاریکی اور چاند کی چاندنی پر نہیں نیچے اس تالاب کے پاس ٹہل رہے شخص پر تھا جو اپنے ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ ڈالے اپنی سوچوں میں گم تھا اسے اور اسکے پیچھے اسے فولو کر رہے تھے نایاب کے آڈوپٹڈ بچے جو وہیں جا رہے تھے جہاں زاران۔۔۔
وقت کروٹ ضرور لیتا ہے۔۔
آج وہ دونوں وہی تھے پر انکی جگہیں تبدیل ہوگئیں تھیں جس جگہ وہ ہوتی تھی آج وہاں زاران عابدی تھا
اور جہاں زاران عابدی تماشا دیکھتا تھا نایاب التمش کی بے چینی اسکی بے تابی کا آج وہ کھڑی تھی پر وہ تماشائی نہیں تھی۔۔۔وہ ان لوگوں جیسی نہیں بننا چاہتی تھی۔۔۔
۔
“سکون تو مل گیا ہوگا تمہیں اپنا بدلہ لے کر نایاب۔۔۔؟؟ ٹھکرا کر زاران کو۔۔”
پیچھے سے ایک تیز دھار آواز نے نایاب کو اسکی جگہ پر ساکن کردیا تھا۔۔۔اس نے چائے کا کپ سائیڈ پر رکھ کر پیچھے غصے سے لال کھڑی سویرا کو دیکھا تھا
“کیسا بدلہ۔۔؟ میں نے کسی کو نہیں ٹھکرایا۔۔۔سویرا اس وقت میں بحت کے موڈ یں نہیں ہوں۔۔”
وہ واپس مڑی ہی تھی کہ سویرا نے آگے قدم بڑھا کر اسے بازو سے پکڑ کر اسکا منہ واپس اپنی طرف کیا تھا
“نایاب تم نے اچھا نہیں کیا زاران کا دل توڑ کر تم نہیں جانتی اس نے کیسے چار سالوں کو گزارا ہے۔۔۔
تمہیں میں بہت سمجھدار سمجھتی تھی پر تم تو بہت بیوقوف نکلی نایاب۔۔۔”
اسکا بازو جھٹک دیا تھا
“اچھی بات ہے۔۔۔میں بیوقوف ہوں تو آپ سمجھدار بن جائیں سویرا باجی آپ اپنا لیں زاران کو۔۔
کیونکہ میں اب اس راستے پر نہیں جانا چاہتی جہاں مجھے ذلت کے سو ا کچھ نہیں ملا۔۔۔”
وہ جب پیچھے مڑی تھی تو زاران جا چکا تھا وہاں سے۔۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟ تم تو سچ میں آگے بڑھ گئی ہوں یار۔۔۔ہاؤ۔۔؟؟ کیسے موو آن کرتے ہیں نایاب میڈم۔۔؟؟ بتاؤ تاکہ زاران تم نے کر جائے اور میں زاران سے۔۔۔کیونکہ تم نے لڑکی الجھا دی ہیں ہم سب کی زندگیاں۔۔۔”
“جھوٹ بول رہی ہیں آپ۔۔۔میں نے کسی کی زندگی میں کوئی مداخلت نہیں کی ہے۔۔۔”
“یہی مسئلہ ہے نایاب۔۔۔ہمیشہ سے۔۔تم نے کبھی کچھ کیا ہی نہیں تھا پھر بھی بہت کچھ ہوجاتا تھا۔۔
آج میں تمہیں کوس نہیں سکتی تمہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔۔کیونکہ تم انجان رہی۔۔۔وہ تمہیں دیوانوں کی طرح چاہنے لگا ان چار سالوں میں نظر نہیں اٹھا کر دیکھتا مجھے۔۔۔ تم آئی ہو تو تم نے اسے انکار سے ٹھکرا دیا اسے۔۔۔
نایاب زاران عابدی دیوانہ تھا تو سنبھالا نہیں جا رہا تھا۔۔۔مجھےڈر ہے تمہارا انکار اسے جنونی نا بنا دے اگر وہ جنونی بن گیا تو کسی سے بھی سنبھالا نہیں جائے گا یاد رکھنا۔۔۔۔”
وہ وہاں سے چلی گئی تھی پر پھر مڑ کر واپس آئی تھی۔۔۔
“ایک احسان کرنا اس دیوانے کے کمرے سے اپنی تصاویر اتار کر جلا دینا کیونکہ جب تک وہ وہاں رہیں گیں اسے اور مجھے ہم دونوں کو اذیت دیں گیں۔۔۔۔”
سویرا کا رویا رویا لہجہ نایاب کی آنکھوں میں ہمدردی لے آیا تھا ۔۔۔
۔
اور وہ بنا سوچے زاران کے کمرے میں چلی گئی تھی یہ سوچ کر کہ وہ ابھی بھی نیچے ہی ہوگا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی وہ ناراض ہے۔۔۔”
“وہ تو ہوگی نا بیٹا زاران اور تمہاری دوستی کا سن کر سب کو یہی لگا ہے کہ تم نے چیٹ کیا زاران کو۔۔
اور تم نے مجھے بھی نہیں بتایا تھا کہ زاران چار سال سے انتظار کر رہا تھا نایاب کا۔۔۔”
افنان کھانا کھاتے رک گیا تھا۔۔۔
وہ لوگ اپنے فارم ہاؤس میں شفٹ ہوگئے تھے۔۔۔بہت اسرار پر افنان نے سب باتیں اپنی فیملی کو بتائی تھیں۔۔۔
۔
“وہ ۔۔۔امی۔۔زاران کو میں نے ہی منع کیا تھا کہ وہ نایاب سے رابطہ نا کرے۔۔۔مجھے۔۔۔
مجھے جو سہی لگا میں نے وہ کیا امی۔۔جھوٹ بولا اور کسی سے جھوٹ بلوا کر زاران کو جھوٹا ٹھہرایا زاران کو نایاب کی نظروں میں۔۔۔پر میں کیا کرتا وہ لڑکی چار سالوں میں میری طرف مائل نا ہوئی تو کسی اور کو کیسے رہنے دیتا اسکے دل میں۔۔؟؟”
اس نے جیسے ہی یہ بات کہی تھی سب سے پہلے زیبا بیگم اپنی کرسی سے اٹھی تھیں
“افنان تم نے جو جھوٹ بولے ہیں وہ جتنی جلدی ہوسکے نایاب کو بتا دینا ورنہ دیر نا ہوجائے۔۔۔
نایاب نے دلکش بھابھی کے لیے یہ رشتہ قبول کیا ہے۔۔۔پر وہ جھوٹ برداشت نہیں کرے گی۔۔۔اتنا تو میں اسے جانتی ہوں۔۔۔ایک مہینے بعد شادی کی ڈیٹ دی ہے ان لوگوں نے۔۔۔
اس ایک مہینے میں زاران سے بات کرو اور معافی مانگو اس سے بیٹا۔۔۔دوستی میں جھوٹ بول کر تم نے نا صرف اپنے دوست کو دھوکہ دیا ہے بلکہ اسکا مان بھی توڑا ہے۔۔۔”
۔
افنان کے سر پر پیار دے کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
“ابو آپ کچھ نہیں کہے گے۔۔؟؟”
“افنان تم نایاب کو لیکر سیریس ہو بھی یا صرف چیلنج ہے یہ تمہارے لیے۔۔۔؟ کوئی بدلہ تو نہیں جو تم نایاب بیٹی سے لینا چاہتے ہو۔۔؟؟”
“میرے دماغ میں بھی یہی بات ہے ابو۔۔۔افنان بھائی نایاب ایک انمول ہیرا ہے اگر کوئی بدلہ ہے تو اسے بھول جائیں کیونکہ نایاب کے ساتھ آپ کی طرف سے ایک زیادتی آپ کا اور میرا رشتہ بھی ختم کردے گی۔۔۔”
زوبیہ بھی چلی گئی تھی
“وللہ میں کوئی بدلہ نہیں لے رہا ابو۔۔۔قسم لے لیجئیے۔۔۔نایاب نے اپنی جگہ خود بنائی ہے کہ مجھ جیسا اصول پسند انسان اپنے دوست کو چیٹ کر بیٹھا صرف اسے حاصل کرنے کے لیے۔۔۔
مجھے پسند ہے وہ ابو۔۔۔
میں کل ہی زاران سے بات کروں گا وہ مجھے معاف کردے گا۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران عابدی۔۔۔میری کسی بھی چیز پر آپ کا کوئی حق نہیں ہے۔۔۔”
نایاب نے اپنی لگی ہوئی کتنی تصویریں پھاڑ کر پھینک دی تھی نیچے اسے اتنا غصہ آیا تھا اپنی تصویریں دیکھ کر وہ کزن تھا پر نامحرم تھا اور اسکی تصویریں اس طرح یہاں لگار کر زاران نے نایاب کے دل میں اور نفرت اپنے لیے بڑھا لی تھی
“وٹ دا ہیل۔۔۔۔نایاب۔۔۔۔”
زاران آگ کی سمیل سے باتھروم سے جیسے ہی فریش ہوکر باہر آیا تھا روم کے سینٹر میں ہلکی سی آگ جلی ہوئی تھی۔۔۔
زاران نے اس جلتی آگ سے جو چند ٹکڑے تھے نکالنے کی کوشش کی اسکی انگلیاں ج؛ رہی تھی ان تصاویر کی طرح اور جب تک اس نے وہ آگ بجھائی تھی وہ جل کر راکھ ہوگئیں تھیں اس نے اٹھ کر غصے سے نایاب کو دیکھا تھا جو دو قدم پیچھے ہوئی تھی
“یہ کیا بدتمیری ہے نایاب۔۔۔کیا حرکت تھی یہ۔۔۔؟؟”
زاران جیسے ہی چلاتے ہوئے اسکی طرف بڑھا تھا نایاب کا دوپٹہ زاران کے جوتے کے نیچے تھا اور ایک قدم بڑھا تھا اسکا جوتا نایاب کے دوپٹے کے ایک کونے پر تھا نایاب کا دوپٹہ اتنی جلدی اسکے گلے سے سرک کر نیچے فلور پر گرا نایاب نے جلدی سے اپنے آپ دیوار کی طرف کرلیا تھا اسکی پشت زاران کی طرف تھی۔۔۔
” تم نے یہ حرکت کر کے اچھا نہیں کیا نایاب التمش۔۔۔”
زاران نے جلتی ہوئی تصاویر کو دیکھا تھا اس نے بھی اسی وقت پیچھے منہ کرلیا تھا۔۔۔
اور طیش سے مکا اس فوٹو فریم پر مارا تھا جہاں اس نے کچھ مہینے پہلے ایک سکیچ بنوایا تھا نایاب کا اس تالاب کے پاس۔۔۔
وہ دیوار سے وہ فریم نیچے گرگیا تھا نایاب کے سر سے کچھ انچ کے فاصلے پر مکا مارا تھا نا وہ پیچھے مڑی تھی نا زاران کا ہاتھ ہٹا تھا وہاں سے خون اس دیوار سے لگ کر نیچے آرہا تھا۔۔۔
زاران نیچے جھکا تھا اور نایاب کا دوپٹہ اٹھا کر اسکی طرف ہاتھ کیا تھا اور اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا تھا اس نے۔۔۔
“یہ آخری تصویر تھی تمہاری جو اب ٹوٹ گئی ہے۔۔۔لے جاؤ اٹھا کر اسے۔۔۔
گیٹ آؤٹ۔۔۔۔نایاب۔۔۔جسٹ۔۔۔۔چلی جاؤ۔۔۔۔ اب کچھ نہیں ہے تمہارا اس کمرے میں۔۔
جتنے حساب کتاب تم رکھ رہی ہو اس زندگی میں میرے ساتھ۔۔۔
اگر اتنے ہی حساب چکانے ہیں تو وہ میرا دل بھی واپس موڑ کر جاؤ مجھے جو تم ساتھ لے گئی تھی اپنے۔۔۔”
نایاب کے پاس اسکی ہر بات کا جواب تھا وہ بھی بحث کرنا چاہتی تھی پر زاران کے ہاتھ سے بہتے خون کو دیکھ کر وہ اسے اور طیش نہیں دلانا چاہتی تھی۔۔۔
اسے اب وہی خوف لاحق ہوگیا تھا جو سویرا نے کہا تھا
زاران عابدی اگر جنونی ہوگیا تو کسی سے بھی نہیں سنبھلے گا۔۔۔
“زاران میں تمہاری “قدر” میں نہیں ہوں۔۔۔ کبھی تم تو کبھی دنیا نایاب التمش انہیں میں الجھی رہی اب خود کو سلجھا رہی ہوں۔۔۔نا تم نا یہ دنیا۔۔۔
وہ لوگ نہیں جنہوں نے مجھے جینے نہیں دیا۔۔۔وہ لوگ بھی نہیں جنہوں نے مجھے کسی قابل نہیں سمجھا
آپ بھی نہیں زاران عابدی۔۔۔
نایاب التمش اب دنیا اور آپ کی پہنچ میں نہی رہی۔۔۔اور نا آپ آؤں گی۔۔۔۔یونیورسٹی میں میری ریگنگ اور اس رات مجھے اس شراب کے ڈریگز کے کلب میں دھوکے سے آپ نے بھجوایا تھا مجھے پتا چل گیا تھا”
“وٹ نایاب میں نے۔۔۔”
وہ چپ ہوگیا تھا۔۔۔
“افنان یوسف۔۔۔۔”
زاران نے منہ میں ایک ہی نام لیا تھا غصے سے
“خدا حافظ۔۔۔۔زاران ہاتھ پر پٹی کرلیجئیے گا۔۔۔”
۔
وہ جاتے جاتے وہاں سے وہ تصویر اٹھا کر لے گئی تھی جس پر زاران کی بےساختہ ہنسی نکل آئی تھی
“میں نے تو ایسے ہی اوپر اوپر سے کہا تھا سچ میں تصویر لے گئی۔۔۔۔
دادی مجھے تو خواب میں ڈانٹنے آجاتی ہیں آپ اس کے کان بھی کھینچے آپ کے جوان ہٹے کٹے پوتے کو رولانا چاہتی ہے۔۔۔ایسی باتیں کر جاتی ہے۔۔۔؟”
اس نے خون سے بھرا ہاتھ جھاڑ دیا تھا اپنی آنکھ میں آئے آنسو کی طرح۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مجھے پتا تھا تو مجھے یہیں ملے گا۔۔۔زاران۔۔۔۔”
سمندر کنارے کھڑے آفس کے کپڑوں میں زاران عابدی آس پاس کے ماحول سے بےخبر تھا
آج وہ آفس سے گھر نہیں گیا تھا۔۔۔
آج اس گھر میں تیاریاں شروع ہوگئی تھی اسکی محبت کی شادی کی تیاریاں کسی اور کے ساتھ۔۔۔
اسے آج وہ دن یاد آرہے جب اس کی اور سویرا کی شادی کی تیاریاں ایسے ہی شروع تھی
“ہاں کیوں کے میں تیری طرح منافق نہیں ہوں افنان۔۔۔”
“ابھی تک ناراض ہے یار صلح کرلیتے ہیں نا تو۔۔۔”
افنان کا بیلنس نہیں رہا تھا جس طرح زاران کا ہاتھ اٹھا تھا اس پر۔۔۔
“آج بتا ہی دے کتنے جھوٹ بولے تو نے نایاب کو مجھے لیکر۔۔۔؟؟ کیٹ سے بات ہوئی تھی میری۔۔۔”
اس نے ایک اور مکا مارا تھا
“اووہہ۔۔۔اوکے ایم سوری۔۔۔زاران آئی رئیلی لو ہر۔۔۔آئی لو نایاب ۔۔۔۔”
وہ ایک اور ضرب کھا کر نیچے گرگیا تھا۔۔۔
“افنان اگر تو عاشق ہے تو قدر کر دوسرے محبت کرنے والے کی۔۔۔میرے سامنے میری محبت میری چاہت کو ایسے کہہ رہا ہے۔۔۔بھرم رکھ لے کہ میں تیرا دوست رہ چکا ہوں۔۔۔
اگر وہ تیری دسترس میں آگئی ہے تو شکرانہ ادا کر یہ سب کر کے تو کچھ حاصل نہیں کر سکتا مجھ سے۔۔۔”
۔
زاران نے اسکا گریبان چھوڑ دیا تھا۔۔۔
بارش نے کب انہیں بھیگا دیا تھا انہیں اپنی لڑائی میں خبر نا ہوئی تھی
“ایم سوری زاران۔۔۔”
افنان کا لہجہ سوبر ہوگیا تھا وہ زاران کی آواز میں درد محسوس کرچکا تھا
” کس بات کے لیے سوری۔۔؟ مجھے نایاب کے پاس جانے سے روکنے کے لیے۔۔۔؟ وہ جھوٹ بولنے کے لیے جو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اپنی کزن کے ساتھ کرنے کا۔۔۔اسے کلب بھیجنے کا افنان۔۔؟؟
کس بات کے لیے سوری ہے تو۔۔؟؟” وہ سمندر میں گرتی بارش کو دیکھ کر سب باتیں کر رہا تھا
“زاران سب کے لیے۔۔۔نایاب میں کچھ تو کشش ہے کہ میں رہ نہیں پایا۔۔۔میں کھینچا چلا گیا ۔۔۔
اور وہ بھی میرے چارم کو اگنور نا کر پائی اور۔۔۔”
اس بار اس جتنی شدت سے مارا تھا اسکے منہ سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“وہ نایاب التمش ہے۔۔۔زاران عابدی کا انتخاب۔۔۔۔افنان یوسف۔۔۔
وہ کسی غیر مرد کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ جائے تو بات کر تو چارم کی بات کر رہا۔۔۔
وہاں تیرے جھوٹ نے اسے مجھ سے تو باغی کردیا پر مجھے بدگمان نہیں کر سکتا تو افنان۔۔
وہ جس نے اپنی چار ہزار پینٹنگ میں میری آنکھیں نہیں بنائی کیونکہ اس نے تو کبھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھا تھا افنان۔۔۔
تو کیا بات کر رہا ہے۔۔۔؟؟
محبت ہے میری میرا انتخاب۔۔۔زاران عابدی اسکے کردار کی قسم اس سمندر کی گہرائی میں جاکر بھی کھا سکتا ہے اور دہکتی آگ پر کھڑے ہوکر بھی گواہی دے سکتا ہوں نایاب التمش کے کردار کی۔۔۔”
افنان کی آنکھوں میں نا صرف غصہ تھا ایک جلن بھی تھی۔۔۔
اسے اب تک زاران کی محبت سرف بناوٹہ لگ رہی تھی جس سے اسے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہورہا تھا۔۔
“زاران اننف۔۔ابھی تک میں مذاق کررہا تھا صرف تیرا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے۔۔۔تو بار بار نایاب کا نام نا لے۔۔۔منگیتر ہے اب وہ میری شادی ہونے والی ہے اگلے مہینے ہماری۔۔۔”
زاران نے افنان کی طرف مڑ کر دیکھا تھا اسی وقت افنان نے اپنی انگوٹھی والا ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔ اور زاران نے ایک مکا مارا تھا
“ہاہاہاہا منہ پر نا مار یار نکاح ہے ہمارا۔۔۔۔”
“افنان تو مذاق اڑا لے میری حالت کا۔۔۔تو شکر کر وہ میری محبت ہے ضد نہیں۔۔۔
خدا کی قسم ضد ہوتی تو آج وہ میری ہوتی محبت ہے اس لیے اسکی خواہش اسکی خوشی نظر آرہی ہے مجھے۔۔۔
اور جانتا ہوں میں تو مجھے نیچے دیکھانا چاہتا ہے۔۔ یونیورسٹی میں رانیہ نے تجھے ٹھکرا دیا تھا اسکا بدلہ تو ایسے لے رہا۔۔۔”
افنان نے اس بار زاران کا گریبان پکڑ لیا تھا
“گڑے مردے دفن رہے تو اچھے ہیں زاران میں بس تجھ سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔۔۔
تو غصے میں ہے تو پھر سہی۔۔۔پر نایاب میری محبت ہے۔۔۔میری پسند ہے وہ۔۔۔”
افنان منہ سےبارش کا پانی صاف کر کے چلنا شروع ہوگیا تھا
“نایاب کو پتا ہے تیرے پاسٹ ریلیشن شپ کا۔۔۔؟؟ نیشا کے ساتھ تیری نزدیکیوں کا۔۔۔؟
اگر نہیں پتا تو شادی سے پہلے بتا دے اسے۔۔ افنان ورنہ میری طرح خالی ہاتھ رہ جائے گا۔۔
تجھے یاد ہے جب رانیہ نے میری طرف نزدیکیاں بڑھائی تھی تو میں اسکے قریب کیوں نہیں جاتا تھا۔۔؟؟ تم لوگ مجھے چکن کہہ کر مذاق بناتے تھے اور میں دادی کا کہہ دیتا تھا۔۔۔
تو سننا چاہے گا جب جب میں یونیورسٹی میں کسی بھے لڑکی کے زرا سا بھی پاس جاتا تھا تو کس کا چہرہ مجھے نظر آتا تھا۔۔۔؟؟”
افنان چلتے چلتے رک گیا تھا۔۔اسنے اپنے دونوں ہاتھ بند کر لیے تھے۔۔۔
آج وہ دونوں دوست جو جان دیتے تھے آج ایک دوسرے کے خلاف تھے
“نایاب۔۔۔؟؟ تجھے نایاب کا چہری نظر آتا تھا۔۔؟؟”
افنان نے سرگوشی میں پوچھا تھا
“نایاب کا چہرہ ایسے آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا۔۔۔ میں اسے اتنا تو جانتا ہوں افنان وہ ایسے مرد کو پسند نہیں کرے گی جو اس سے پہلے کسی کی دسترس میں رہ چکا ہو۔۔۔
اس لیے اپنی منگیتر کو اپنے اعتماد میں لیکر اسے سچ بتا دے۔۔۔ایک مہینہ ہے تیرے پاس۔۔۔۔
اگر تو نے نہیں بتایا تو میں بتاؤں گا۔۔۔ اس لیے۔۔۔بیسٹ آف لک۔۔۔
اور ایک بات۔۔۔زاران عابدی کے سامنے اس انگوٹھی اور اپنے نئے نئے رشتے کی چمک نا دیکھانا۔۔۔
میرے جنون سے تو واقف نہیں ہے افنان میں اگر اپنی آئی پر آگیا تو نایاب کو تجھ سے چرا لوں گا جیسے تو نے چرایا۔۔۔
اسے میری دیوانگی رہنے دے یہ دیوانگی جنون بن گئی تو سب برباد کردے گی۔۔۔۔”
جانے سے پہلے وہ افنان کو گلے لگا کر مبارک دے کر گیا تھا۔۔۔
یہ تھا زاران عابدی۔۔۔۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: