Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 18

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 18

–**–**–

“نایاب کو پتا ہے تیرے پاسٹ ریلیشن شپ کا۔۔۔؟؟ نیشا کے ساتھ تیری نزدیکیوں کا۔۔۔؟
اگر نہیں پتا تو شادی سے پہلے بتا دے اسے۔۔ افنان ورنہ میری طرح خالی ہاتھ رہ جائے گا۔۔
تجھے یاد ہے جب رانیہ نے میری طرف نزدیکیاں بڑھائی تھی تو میں اسکے قریب کیوں نہیں جاتا تھا۔۔؟؟ تم لوگ مجھے چکن کہہ کر مذاق بناتے تھے اور میں دادی کا کہہ دیتا تھا۔۔۔
تو سننا چاہے گا جب جب میں یونیورسٹی میں کسی بھے لڑکی کے زرا سا بھی پاس جاتا تھا تو کس کا چہرہ مجھے نظر آتا تھا۔۔۔؟؟”
افنان چلتے چلتے رک گیا تھا۔۔اسنے اپنے دونوں ہاتھ بند کر لیے تھے۔۔۔
آج وہ دونوں دوست جو جان دیتے تھے آج ایک دوسرے کے خلاف تھے
“نایاب۔۔۔؟؟ تجھے نایاب کا چہری نظر آتا تھا۔۔؟؟”
افنان نے سرگوشی میں پوچھا تھا
“نایاب کا چہرہ ایسے آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا۔۔۔ میں اسے اتنا تو جانتا ہوں افنان وہ ایسے مرد کو پسند نہیں کرے گی جو اس سے پہلے کسی کی دسترس میں رہ چکا ہو۔۔۔
اس لیے اپنی منگیتر کو اپنے اعتماد میں لیکر اسے سچ بتا دے۔۔۔ایک مہینہ ہے تیرے پاس۔۔۔۔
اگر تو نے نہیں بتایا تو میں بتاؤں گا۔۔۔ اس لیے۔۔۔بیسٹ آف لک۔۔۔
اور ایک بات۔۔۔زاران عابدی کے سامنے اس انگوٹھی اور اپنے نئے نئے رشتے کی چمک نا دیکھانا۔۔۔
میرے جنون سے تو واقف نہیں ہے افنان میں اگر اپنی آئی پر آگیا تو نایاب کو تجھ سے چرا لوں گا جیسے تو نے چرایا۔۔۔
اسے میری دیوانگی رہنے دے یہ دیوانگی جنون بن گئی تو سب برباد کردے گی۔۔۔۔”
جانے سے پہلے وہ افنان کو گلے لگا کر مبارک دے کر گیا تھا۔۔۔
یہ تھا زاران عابدی۔۔۔۔
۔
“زاران میں جانتا ہوں میں خود غرض ہوگیا ہوں پر کیا کروں مجبور ہوگیا ہوں میں۔۔
اور میں بتا دوں﷽ گا نایاب کو سب۔۔۔پر اس طرح نہیں جس طرح تو چاہتا ہے۔۔”
افنان کچھ دیر وہاں رہنے کے بعد چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بارش بہت ہو رہی زاران کہاں رہ گیا ہے بہت پریشان کرنا شروع کردیا ہے اس لڑکے نے۔۔”
انیسہ بیگم کی ایک نظر باہر میں گیٹ پر تھی تو ایک نظر آفاق صاحب پر جنہیں وہ شکایت کر رہی تھیں بہت زیادہ۔۔۔
“پھوپھو آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں زاران آجائیں گے آپ بیٹھے یہاں میں چائے بنا کر لاتی ہوں ساتھ پکوڑے بھی بنا ئیں ہیں وہ بھی لاتی ہوں۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے لیونگ روم سے باہر نکلی تھی کہ زاران پوری طرح سے بھیگتے ہوئے اندر داخل ہوا تھا
“زاران بھائی لوکنگ ہینڈسم۔۔۔ماڈل لگ رہے ہو برٹش میگزین کے۔۔۔”
اسکی وائٹ شرٹ بکھرے بال ماتھے سے ٹپکتے پانی کے قطرے اسے اور خوبصورت ظاہر کر رہے تھے۔۔۔ نایاب کی نظریں جیسے ہی اسکی گیلی شرٹ پر پڑی وہ نظریں نیچی کر کے کچن میں بھاگ گئی تھی
“زاران۔۔۔کہاں رہ گئے تھے بیٹا۔۔؟ اتنے خراب موسم میں اور اتنا کیسے بھیگ گئے بارش میں۔۔؟”
زاران کی نگائیں ابھی بھی اسکے تعاقب میں تھیں جو کچن میں جا رہی تھی کہ انیسہ بیگم کی آواز نے اسے نظر ہٹانے پر مجبور کردیا تھا
“امی ایک ضروری کام تھا جو کرنا بہت ضروری تھا۔۔۔گاڑی خراب ہوگئی تھی تو پیدل آنا پڑا۔۔”
“زاران یہ ٹاول۔۔۔میں کپڑے نکال دوں۔۔؟؟”
سویرا نے ٹاول آگے کرتے ہوئے کہا تھا اور نایاب بھی پکوڑوں کی پلیٹ لیکر آگئی تھی۔۔۔
“میں اپنے کام خود کرنے کا عادی ہوں سویرا۔۔۔امی میرے کمرے میں چائے اور یہ پکوڑے زرا زیادہ بھیجنا۔۔۔بہت دن ہوگئے نا تیکھا سننے کو ملا نا کھانے کو۔۔۔”
وہ ایک پکوڑا اٹھا کر چلا گیا تھا۔۔۔باقی تینوں کو شوکڈ چھوڑ کر۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔بیٹا اور پکوڑے ہیں بنے ہوئے۔۔؟؟”
انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا جب سویرا پاؤں پٹک کر وہاں سے چلی گئی تھی غصے سے
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“التمش میں کہہ رہی ہوں تمہاری بہن کچھ زیادہ ہی اچھی نہیں بن رہی ان ماں بیٹی کے ساتھ۔۔؟
میں دلکش نہیں ہوں جو اپنے گھر برباد ہوتے دیکھ چپ چاپ بیٹھی رہوں میں یاسمین ہوں میں اپنے ساتھ کوئی بھی زیادتی ہوتے برداشت نہیں کروں گی یاد رکھنا۔۔۔”
جاتے جاتے انکے ہاتھ سے وہ کھانا کی ٹرے نیچے گر گئی تھی
“ساری زندگی تمہارے لیے میں مری ہوں اب تمہاری انیسہ باجی کو اس دلکش پر ترس آرہا ہے۔۔؟ اپنی دلکش باجی کو سمجھا دینا التمش میں دلکش کو اب اور نہیں دیکھ سکتی اس گھر میں”
۔
وہ بنا ٹرے اٹھائے وہاں سے دروازہ غصے سے بند کرگئیں تھیں
التمش صاحب ویل چئیر کے ہینڈل پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تھی کہ دروازہ پھر سے کھلا تھا پر بہت آہستہ سے۔۔۔
التمش کی آنکھیں ان قدموں سے ہوتے ہوئے اوپر چہرے تک گئیں تھیں۔۔۔
اور اس چہرے پر نگاہ پڑتے ہیں بھر آئیں تھی اور چہرے پر ایک مسکان بھی تھی انہیں یہ پتا تھا دلکش ایک بار ضرور ملنے آئی گی چاہے کتنی ہی نفرت کیوں نا ہوں پر انکے دل کو یقین تھا
“التمش۔۔۔۔”
وہ اندر آگئیں تھیں۔۔جو ضبط کا ایک قطرہ قید تھا آنکھوں میں اس شخص کے لیے آج سب پابندیاں توڑ کر نکل آیا تھا
وہ ایک نام جو وہ اس طرح شادی کے بعد لیتی تھیں پر اب اس نام کو سننے ہوئے محبت نہیں ایک ہمدردی ایک ترس محسوس ہورہا تھا التمش صاحب کو
“کیسے ہیں آپ التمش۔۔۔؟؟ آپ کو بُرا تو نہیں لگا آپ کے بیڈروم میں آنا میرا۔۔۔؟؟؟”
کمرے کی لائٹ جلا دی تھی انہوں نے روشنی آنکھوں میں پڑتے ہی وہ بےبس انسان اپنی پلکیں جھپکا چکا تھا وہ آنسوؤں کا سمندر امڑ آیا تھا۔۔
وہ لفظ بیڈروم اس مفلوج شخص کو اور زیادہ مفلوج کرگزرا تھا
وہ نظریں اٹھا کر اس چہرے کو دیکھنا چاہتے تھے جسے کبھی دیکھ کر حقارت کھاتے تھے التمش صاحب آہ کیا غرور سے بھرا زمانہ ہوتا ہے جوانی کا۔۔۔
آج میں اس نسوانی چہرے کو دیکھنے کے لیے ترس رہا ہوں پر شرمندگی سے بھری آنکھیں میری پلکیں نہیں اٹھنے دے رہی
“التمش۔۔۔”
آخرکار کرسی کے سامنے بستر پر بیٹھنے کی ہمت کر لی تھی دلکش نے وہ پچھلے کچھ دنوں سے اس انسان سے بات کرنا چاہتی تھی حال پوچھنا چاہتی تھیں
“میری طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے اب آپ۔۔؟؟ ابھی بھی سیاہ رنگ سے اتنی ہی نفرت ہے آپ کو التمش۔۔۔؟؟
ابھی بھی نظروں میں حقارت لیے بیٹھے ہیں۔۔؟؟ ابھی بھی جب زندگی بہت تھوڑی رہ گئی ہے التمش۔۔؟؟
آپ جانتے ہیں میں مرنے کے بعد اللہ پاک سے ایک بات پر ضرور شکایت کروں گی
اللہ کے انسانوں نے مجھے اللہ کے بنائے ہوئے رنگ پر جینے نہیں دیا۔۔۔ قدم بہ قدم مجھے سزا دی اللہ کے بندوں نے وہ جو پاکیزہ رشتہ ہوتا ہے نکاح کا جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس سمجھے جاتے ہیں مجھے اسی رشتے میں بہت بےپردگی ملی۔۔۔
پر ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔۔۔میرے رنگ کا جو مذاق بنایا جاتا رہا رنگ تو اللہ پاک کے ہیں نا سارے۔۔؟؟ مذاق پھر انسان تصویر کا بناتے ہیں یا اسے بنانے والے کا۔۔؟؟”
بے ساختہ انکی نظریں اٹھی تھیں اپنی سابقہ بیوی کو آنکھ بھر کر آج دیکھ رہے تھے۔۔
آج انہیں سامنے بیٹھی زندگی سے ہاری ہوئی عورت سب لگ رہی تھی پر سیاہ نہیں
ایک لڑی بندھ گئی تھی آنسوؤں کی وہ سر کو بار بار ہلا رہے تھے جب دلکش کی آنکھوں میں بھی آنسو بہنا شروع ہوگئے تھے
“میں نے کبھی آپ کو بددعا نہیں دی تھی التمش میں نے محبت کی تھی اپنے مجازی خدا سے آپ سے
میاں بیوی کے رشتے میں ضروری نہیں دونوں ایک سے ہوں وفا میں بھی محبت میں اگر ایک ظالم ہو بھی تو دوسرے کو حق نہیں پہنچتا اسے کچھ کہنے کا بد دعا دینے مجھے بھی نہیں تھا
میں نے اس دن اللہ سے یہ ضرور کہا تھا آپ زندگی کے کسی پہر اس تکلیف سے گزریں جو آپ نے مجھے دی تھی۔۔۔جب “طلاق” دی تھی آپ نے التمش۔۔ آپ نے ایک عورت سے نہیں ایک بیوی سے اسکی دنیا چھین لی تھی مجھے اس دن سانس نہیں آرہا تھا جب طلاق دی آپ نے
میں سنتی آئی تھی روح نکل جانے سے موت ہوتی ہے میں دیکھتی آئی سانس رک جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔۔۔
پر جب ایک بیوی کو طلاق مل جائے تو وہ زندہ میں کہاں رہتی ہے۔۔؟؟”
وہ روتے ہوئے جیسے وہاں سے جانے کے لیے اٹھی تھی التمش صاحب نے انکا ہاتھ پکڑ لیا تھا جو پوری طرح سے کانپ رہا تھا
وہ لمس وہ احساس جیسے وہی تھے بیس سال پرانے جب مڑ کر دیکھا تو وہ نفی میں سر ہلا رہے تھے روک رہے تھے دلکش کو منع کر رہے تھے کمرے سے باہر جانے پر
“کاش آپ نے اس وقت میرا ہاتھ پکڑ روکا ہوتا مجھے اپنے بیوی کوپر تب آپ اپنے عروج پر تھے
کیسی بات ہے نا التمش مرد اپنے عروج پر آجانے کے بعد بہت آسانی سے سب چھوڑ دیتا ہے
اور دیکھتا رہتا ہے دور کھڑا ہوکر سب تماشہ۔۔۔
پر میں تو آپ کو آپ کے زوال پر پاکر بھی برداشت نہیں کر پارہی آپ کی یہ حالت التمش۔۔۔”
وہ انکے کرسی کے پاس بیٹھ گئی تھیں اور جب دلکش نے اپنا دوسرا ہاتھ التمش کے بھیگے ہوئے پر رکھنا چاہا تو اس ہاتھ اور التمش کے چہرے کے درمیان ایک اور ہاتھ آگیا تھا۔۔۔
اس خوبصورت مکھڑے کے سامنے دو سیاہ ہاتھ ایک ساتھ تھے۔۔۔
نایاب بھی اپنے گھٹنوں کے بل دلکش کے پاس التمش صاحب کی ویل چئیر کے سامنے بیٹھ گئی تھی
۔
“امی جو آپ کی بہن نے ماضی میں آپ کے ساتھ کیا آپ ان کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کریں گی۔۔۔ اب یہ نامحرم ہیں آپ کے لیے امی۔۔۔ابو کو آپ اب ایسے دیکھ بھی نہیں سکتیں۔۔۔”
نایاب کا ہاتھ ابھی بھی درمیان میں تھا اس بات نے کلیجہ جیسے کاٹ دیا تھا التمش صاحب کا جو دلکش کے اس ہاتھ کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
“نایاب۔۔۔نایاب تم نہیں جانتی تمہارے ابو سے کتنے سوال جواب کرنے تھے
تم نہیں جانتی آج تمہارے ابو کو اس حال میں دیکھ کر کتنی اذیت میں ہے میری روح۔۔۔اور تم قرب کے اس لمحے نامحرم کی بات کہہ کر اور خلش پیدا ہر رہی ہو میری زخمی روح میں۔۔۔۔
اب نہیں تو کب لوں گی حساب التمش۔۔۔۔ روز محشر۔۔۔؟؟
آپ تو اب نظریں چرا رہے ہیں تب حساب کیسے دیں گے۔۔۔۔؟”
انہوں نے نایاب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔انکا وہی ہاتھ جس کی گرفت دلکش کے ہاتھ پر مظبوط تھی۔۔۔۔
دلکش بیگم نے روتے ہوئے اس ہاتھ پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔۔
“نایاب۔۔۔میں چاہ کر بھی تمہارے ابو جیسی نہیں بن سکتی تمہاری سوتیلی ماں جیسی نہیں بن سکتی۔۔میں مطلبی نہیں بن سکتی۔۔۔۔میں خود غرض نہیں بن سکتی۔۔۔میں ان جیسی چاہ کر بھی نہیں بن سکتی۔۔۔
تمہاری شادی کے بعد ہم ان لوگوں سے بہت دور چلے جائیں گے تم دیکھ لینا بیٹا۔۔۔۔”
منہ سرخ ہوگیا تھا انکا۔۔۔ نایاب کا چہرہ ہاتھوں میں لیے انہوں نے بہت پیار سے کہا تھا اور وہاں سے چلی گئیں تھیں نایاب کی آواز پر بھی نہیں رکیں تھیں وہ۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران۔۔۔۔ پھوپھو نے چائے بھیجی ہے۔۔۔”
زاران کے ہاتھ میں جو سگریٹ تھی وہ اس نے بالکونی سے جلدی سے نیچے پھینک دی تھی جو اور کچھ سیکنڈ کے بعد ایک لڑکیوں جیسی چیخ سنائی دی تھی سنی کی
“امی۔۔۔۔جلا دیا میرا ہاتھ۔۔۔”
زاران کبھی منہ دھواں ہوا میں اڑا رہا تھا تو کبھی ہاتھوں سے نایاب بلکل سامنے آکر کھڑی ہوئی جب زاران نے چیخ سنی اور پانی کی جگہ وہ چائے سنی پر پھینک دی تھی تاکہ اسکی درد رک جائے۔۔۔
“ابو۔۔۔۔۔۔”
اور چائے گرنے پر اس کی چیخیں آسمان چھو رہی تھیں
“ہاہاہا زاران وہ چائے تھی یہ لیجئیے پانی۔۔۔”
زاران نے پورا جگ انڈیل دیا تھا سنی پر۔۔۔
اور خاموشی ہوگئی تھی دونوں نے بالکونی سے نیچے جھک کر دیکھا تھا سنی کبھی اپنے آپ کو دیکھ رہا تھا تو کبھی اپنے گیلے موبائل کو۔۔۔
“زاران کانوں پر ہاتھ رکھ لیجئیے۔۔۔۔سنی کا والیم کھلنے لگا ہے۔۔۔”
“میرا موبائل۔۔۔۔۔۔امی۔۔۔۔ابو۔۔۔۔ نایاب باجی۔۔۔”
“زاران جلدی سے پیچھے ہوا تھا جب سنی نے غصے سے اوپر دیکھا تھا۔۔۔ اور پھر چلاتے ہوئے اندر چلا گیا تھا
“ہاہاہاہا پاگل لڑکیوں کی طرح رو رہا۔۔۔”
زاران نے قہقہ لگایا تھا وہ کھل کر ہنسا تھا اتنے وقت کے بعد ہنتے ہنستے اسکی نظر نایاب کے ہاتھ پر پڑی تھی جس میں زاران کے بہت مہنگے سگار کا پیک تھا جو اس نے ابھی اٹھایا تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں آپ سموک کرنا شروع ہوگئے ہیں۔۔۔پر یہ نہیں جانتی کب سے۔۔؟؟
بتانا پسند کریں گے۔۔؟؟”
نایاب نے اب وہ چائے کا کپ زاران کے سامنے رکھا تھا جو بہت شرمندہ ہوا تھا نایاب کی بات سے
“نہیں۔۔۔تم لگتی کیا ہو میری جو میں تمہیں بتاؤں۔۔؟ یہ باتیں سب سے شئیر نہیں کر سکتے
پر اس سگریٹ پینے کی وجہ محبت میں ناکامی نہیں ہے۔۔۔میں ان عاشقوں میں سے نہیں جو دل برباد ہونے کے بعد گردے پھپڑے بھی برباد کر دیتے ہیں باڈی کا ایک آرگن ڈیمیجڈ ہوجائے کافی نہیں۔۔۔؟؟”
وہ خود بھی ہنسا تھا اور نایاب التمش بھی پہلی بار زاران عابدی کے سامنے اس طرح ہنسی تھی
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہا سیریسلی۔۔۔؟؟ تو کیوں پی رہے ہیں۔۔۔؟؟ ہاہاہاہاہا”
“بس دل لگی کے لیے۔۔۔اسے میں بہت جلدی چھوڑ دوں گا دیکھ لینا۔۔۔”
“مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے زاران آپ کی عادت سے واقف ہوں میں چھوڑنے میں بہت ماہر ہیں آپ۔۔۔ خیر پھوپھو نے چائے بھیجی تھی سویرا باجی مجھے کہیں نظر نہیں آئی تو آپ کو دینے میں آگئی۔۔۔”
نایاب نے بات ختم کر کے باہر جانے کی کی تھی
“گھر میں اور ملازم بھی ہیں نایاب۔۔ تمہاری شادی میں کچھ دن رہ گئے ہیں تم اب گھر کے کام کرنا چھوڑ دو۔۔۔اور میرے کمرے میں اس وقت اکیلے آنا بھی۔۔۔
میں نہیں چاہتا تمہارے نام پر کوئی حرف آئے میری وجہ سے۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر پیچھے مڑ گیا تھا نایاب نے جب زاران کی پشت کو دیکھا تو وہ مسکرا دی تھی
“اب آپ کو بہت خیال آیا ہے۔۔؟ آپ کی کیٹ اور وہ ریگنگ کی وجہ سے جب آدھی رات کو میں کبھی ڈرگ کلب میں پہنچ گئی تھی تب میرے نام پر آنے والی بدنامی کا نہیں سوچا تھا آپ نے۔۔؟
اگر اس وقت افنان وہاں نہیں آتے تو میں کسی جیل میں ہوتی کیسا سلوک ہوتا میرے ساتھ کیا نہیں پتا تھا آپ کو۔۔؟ باتیں کرنا بہت آسان ہوتا ہے زاران۔۔
مجھے اصل زندگی میں 2 باتیں اچھی نہیں لگیں کبھی
ایک غلطی کرنا پھر اس پر پچھتانا
پہلے محبت کا مذاق بنانا اور پھر محبت کر کے خود مذاق بن جانا
آپ کو آسانی لگتی ہوگی نا۔۔؟ پر زاران کچھ باتیں ماضی کی بھلائے نہیں بھولتی۔۔۔
وہ جو انسان میرے سیاہ رنگ کو برداشت نہیں کر پاتا تھا اب بے پناہ محبت کا اظہار کرتا ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا
وہ جو ڈنکے کی چوٹ پر دل دکھاتا آیا ہے اب معافی مانگے تو مجھے اچھا نہیں لگتا
وہ جو چہرے پر ایک شکن لائے بغیر خاور کا رشتہ گھر لے آیا تھا
اب مجھے کسی اور سے شادی کرنے سے روکتا ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا زاران عابدی۔۔۔
اب آپ مجھے اچھے نہیں لگتے نا طنز کرتے ہوئے محبت کرتے ہوئے۔۔۔”
۔
“عشق سے،،،عشق سے روـ ح داد نا پوچھے کوئی۔۔۔
عشق آنکھوں میں اٹھا کر وہ گرا دیتا ہے،،
جب بھی پوچھا ہے کہ انجامِ محبت کیا ہے۔۔۔۔
دل بناتا ہے وہ پھر دل کو مٹا دیتا ہے۔۔۔۔”
اسکے قدم جیسے جیسے اس کمرے سے باہر گئے تھے زاران عابدی کی آنکھوں سے ویسے ویسے وہ پانی کے قطرے چھلکتے گئے تھے۔۔۔
“نایاب التمش۔۔۔۔”
۔
اسکی آواز واپس اسے ہی سنائی دے گئی تھی۔۔۔ایک سرگوشی بن کر۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مجھے مارکو اسی ہفتے چاہیے تم اسے جلدی سے جلدی بھجوا دینا۔۔۔”
افنان نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی اسے غصہ بھی تھا سب کچھ خراب ہورہا تھا پہلے زاران کے ساتھ لڑائی پھر نایاب اسکی کالز اگنور کررہی تھی اور اب مارکو ایک آخری آپشن تھا نایاب سے بات کرنے کا افنان کے پاس۔۔۔
۔
“شٹ۔۔۔۔”
اسکی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی
“اندھے ہوکیا بدتمیز نظر نہیں آتا کیا “
دوری گاڑی سے کچھ لمحات کے بعد ایک ال خوبصورت لڑکی ہیلز پہنے باہر نکلی تھی اور آتے ہی افنا کی گاڑی کا شیشہ ناک کیا تھا غصے سے
“ایکسکئیوزمئ۔۔میڈم آپ کو نظر نہیں آتا کونسی لین میں آئی ہوئی آپ۔۔؟؟ اوو شٹ۔۔آپ کے سر سے خون نکل رہا ہے۔۔۔”
“افنان۔۔۔؟؟”
افنان گاڑی سے ٹشو لینے کے لیے مڑا تھا تو ایک جانی پہچانی آواز نے اسکے قدم روک دئیے تھے۔۔۔
“رانیہ۔۔۔؟؟ اٹس سم کائنڈ آف جوک۔۔۔؟ “
اس نے سخت لہجے میں پوچھا تھا
“جانتی ہوں میرے نام سے بھی نفرت ہے تمہیں پر یار پرانی دوستی کے لیے بندہ ظاہر کئیے بغیر رہ نہیں سکتا کیا۔۔۔؟؟”
“یا رائٹ پرانی دوستی مائی فٹ۔۔۔”
افنان واپس گاڑی میں گیا اور ٹشو پکڑ کر لایا تھا
“یہ لو صاف کر لو۔۔۔تم۔۔۔”
رانیہ نے اپنے چہرے سے پال پیچھے کرتے ہوئے ماتھا افنان کی جانب بڑھایا تھا
“تمہاری وجہ سے لگی ہے چوٹ اب کرو تم صاف۔۔۔”
“اوکے فائن ۔۔۔”
وہ ٹشو بکس وہاں رانیہ کی گاڑی پر رکھ کر اپنی گڑی کی طرف چلا گیا تھا گاڑی سٹارٹ کی اور کچھ دیر میں گاڑی وہاں سے چلی گئی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔اتنا تو تمہیں جانتی ہوں میرے دس گننے تک تمہاری گاڑی پھر سے سامنے ہوگی۔۔۔”
اور وہی ہوا تھا۔۔۔
“گاڑی میں بیٹھو میں ڈراپ کردیتا ہوں۔۔”
“نہیں میں کسی سے لفٹ لے لوں گی ۔۔۔”
وہ اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی تھی
“تمہیں میں کہہ رہا ہوں بیٹھو گاڑی میں۔۔۔پرنی دوستی کا لحاظ کرتے ہوئے واپس آیا ہوں۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے اپنی گاڑی سے اپنا پرس اور موبائل لے آئی تھی۔۔۔
۔
“پاکستان کیسے آنا ہوا۔۔؟؟”
“ایک بہت ضروری کام تھا بس اسی کے سلسلے میں”
افنان نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی اور پھر سے ٹشو کا دوسرا باکس رانیہ کے طرف بڑھایا تھا
“اتنی فکر ہورہی تو خود صاف کر دو نا۔۔جیسے پہلے کرتے تھے۔۔۔اپنے رومال سے۔۔۔”
“وہ رومال جب سے میں نے اپنی منگیتر کو دیا ہے اسکے بعد سے میرا رومال میں نے کسی غیر لڑکی کو نہیں دیا رانیہ۔۔۔ شراکت نا اسے منظور ہے نا مجھے پسند ہے۔۔۔”
افنان کو زاران کا چہرہ نظر آیا تھا اور سپیڈ تیز ہوگئی تھی رانیہ کی آنکھوں سے ایک آنسو نیچے گر گیا تھا
“اووو۔۔۔تو سچ سنا میں نے۔۔؟؟ بہت جلدی موو آن کر گئے ہو افنان۔۔۔”
“بہت جلدی۔۔؟؟ اتنے سالوں کو بہت جلدی کہہ رہی۔۔؟ چلو تم سے تو اچھا رہا نا تم تو رشتے میں ہونے کے باوجود بھی نئے رشتے بنانا چاہتی تھی زاران عابدی کے ساتھ۔۔۔”
“وہ میرا بچپنا تھا۔۔غلطی تھی زاران کے لیے ایسا سوچنا بھی۔۔۔”
اسکی آواز اتنی بھاری ہوگئی تھی اور جب بکھرے بالوں کو ایک سائیڈ پر کر کے اس نے افنان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو اسکی انگلیاں افنان کی منگنی کی انگوٹھی پر تھیں
“تماری انگیجمنٹ رنگ۔۔۔بہت پیاری ہے۔۔۔”
چہرہ ونڈو کی طرف کئیے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا اس نے۔۔۔
افنان رانیہ کے ہوٹل پہنچنے کے بعد بھی خاموش رہا تھا
“افنان۔۔۔میں ابھی یہیں رکی ہوئی ہوں۔۔ہوسکے توایک بار اپنی شادی سے پہلے مجھے مل کر ضرور جانا تاکہ میں بھی آگے بڑھ سکوں۔۔۔”
“رانیہ۔۔۔”
پر رانیہ اندر چلی گئی تھی۔۔۔
“زاران عابدی۔۔۔۔۔اگر یہ تمہارا پلان ہے تو بہت ہی کوئی فلاپ پلان ہے۔۔۔”
اس نے غصے سے زاران کو فون ملایا تھا۔۔۔
“افنان یوسف اگر مجھے تو نے دوبارہ فون کیا تو۔۔۔”
“رانیہ کو پاکستان تو نے بلایا ہے زاران۔۔۔؟؟”
افنان نے زاران کی بات کاٹ دی تھی
“رانیہ کون۔۔؟؟ اووو۔۔۔رانیہ۔۔؟؟ افنان تیری طرح ابھی اتنا نیچے نہیں گرا میں۔۔
دوبارہ ثبوت کے ساتھ الزام لگانا۔۔۔۔”
زاران نے غصے سے فون بند کردیا تھا
“کیا رانیہ سچ بول رہی۔۔؟؟ زاران بھی جھوٹ نہیں بول سکتا مجھ سے۔۔۔
بس خیر خیریت سے نکاح ہوجائے نایاب سے۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“میں آپ سب کو بتا رہی ہوں میرے ساتھ انیسہ باجی اچھا نہیں کر رہی ہیں۔۔”
یاسمین بیگم روتے ہوئے فاخرہ بیگم کے گلے لگ گئیں تھیں کمرے سے باہر پورے گھر کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا
اور کمرے میں یاسمین بیگم فاخرہ بیگم کنول بیگم کچھ بچوں کے درمیان بیٹھیں دلکش بیگم کی ہر طرح کی برائی کر کے سچی ہو رہیں تھیں
“یاسمین تائی جان آپ کی جگہ وہ شادی ہونے کے بعد نہیں لے سکیں تو اب لیں گی۔۔؟”
سحر نے غصے سے کہا تھا
“آپ فکر کیوں کرتیں ہیں وہ دونوں سیاہ رنگ بہت جلدی اس گھر سے جانے والے ہیں۔۔۔”
سویرا نے بھی اتنی ہی نفرت سے بولا تھا
“اور انیسہ باجی کی فکر نا کرو بس اب نایاب کو انکی زندگی سے جانے دو سب کی زندگیاں ٹھیک ہوجائیں گی سویرا کی شادی زاران سے ہی ہوگی۔۔۔”
فاخرہ پھوپھو نے ایک اور جھوٹی تسلی دی تھی
ان لوگوں کو کیا پتا تھا کایا ایک بار پھر پلٹنے والی ہے ہمیشہ کی طرح۔۔۔
جو جس کی قدر میں ہوتا ہے اسی کو ملتا ہے۔۔۔انسان کیوں بھول جاتا ہے یہ سب۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب زرا سی زرا سی شرم نہیں آتی نا آپ کو۔۔؟؟ پانی والے زاران نے پیچھے کیا تو آپ اس زاران کے پیچھے ہو لی۔۔۔؟؟ لڑکی جب سے آئی ہوں دیکھ رہی ہوں ایسے بھاگتے ہوئے جاتی ہو جیسے پتا نہیں کیا ہے۔۔۔اتنا سر پر چڑھ گئے ہیں وہ زاران جنہیں آپ اتنی لفٹ کرواتی ہیں”
آج پھر نایاب کے ہاتھ میں ایک سکیل تھا جس سے وہ اپنی پانی والی بیٹی کو ڈانٹ رہی تھی
اور جیسے ہی پیچھے سے قدموں کی آہٹ سنائی دی وہ پانی والی نایاب ایسے ہی اڑتی ہوئی زاران کے پاس بھاگ گئی تھی نایاب کا منہ غصے سے لال ہورہا تھا اس نے سکیل کا اشارہ کیا تھا اور وہ بظخ زاران کے شوز کے پیچھے چھپ گئی تھی
“جانا تو میرے ساتھ ہی ہے لڑکی تم نے۔۔۔”
نایاب اٹھ کھڑی ہوئی تھی اس تالاب سے۔۔۔اندر جانے سے پہلے زاران کی بات نے اسے شوکڈ اور ہکا بکا چھوڑ دیا تھا۔۔۔
۔
“تم جانا چاہتی ہو نایاب التمش تم جا سکتی ہو پر اب یہ دونوں بچے میرے پاس رہیں گے میں نے سنا تھا وہاں تمہاری دوسری اولاد بھی ہے۔۔؟؟ کیا نام تھا اس کتے کا۔۔؟؟”
زاران نے اپنی ہنسی کو قابو کر کے نایاب سے سخت لہجے میں پوچھا تھا جس کا چہرہ اور لال ہوگیا تھا غصے سے۔۔۔
“وہ کتا نہیں ہے۔۔۔مارکو نام ہے اسکا۔۔اور اپنے بچوں کو تو میں ساتھ لیکر جاؤں گی۔۔”
“اچھا دیکھ لیں گے کل رات کو جیسے وہ فوٹوز جلا دی انہیں بھی مجھ سے چھیننا چاہتی ہو تم۔۔؟؟”
وہ دو قدم آگے بڑھا تھا اور نایاب پیچھے
“نایاب۔۔۔دیکھیں کسی ساتھ لیکر آیا ہوں۔۔”
دور کھڑے افنان سے جب زاران کی نزدیکی نایاب کے پاس برداشت نا ہوئی تو اس نے مارکو کو نیچے چھوڑ دیا تھا جو بھاگتے ہوئے نایاب کے پاس چلا گیا تھا
“اسلام وعلیکم نایاب۔۔۔ہائے زاران۔۔۔”
پر زاران اندر چلا گیا تھا بنا کچھ کہے اب اسکی آنکھیں باتیں کرنے لگی تھی نایاب سے جیسے اسکے لفظ ساتھ نہیں دیتے تھے
جب دعا میں مانگنے والا انسان کسی اور کا ہوجائے تو لفظ دم توڑ جاتے ہیں زبان تک آتے آتے
۔
“مارکو۔۔۔میرے بچے۔۔۔آئی مس یو سوووو مچھ۔۔۔۔”
نایاب باغیچے میں مارکو کو لے گئی تھی وہ گھر کے اندر لے جاکر کوئی ایشو نہیں بنانا چاہتی تھی
وہ جیسے ہی کرسی پر بیٹھی تھی سامنے والی کرسی پر افنان بیٹھ گیا تھا جس کے بارے میں وہ بھول ہی گئی تھی
“نایاب۔۔۔میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں”
“ایم سوری افنان سر میں ایسے اکیلے میں نہیں بیٹھ کر بات کرسکتی”
وہ جیسے ہی اٹھے لگی تھی افنان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“مارکو کی موجودگی ہے ہم اکیلے نہیں۔۔۔”
وہ ہنسا تھا پر اسکی آنکھیں اداس تھیں اسکا لہجہ بھرا بھرا تھا جس نے نایاب کو واپس بیٹھنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
“جی کہیے۔۔۔افنان۔۔۔”
“نایاب۔۔۔میں ماضی کی کچھ شرمندگی سے بھری باتوں کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں نکاح سے پہلے۔۔”
“اووہ۔۔۔۔”
نایاب کے منہ سے بس یہی لفظ نکلا تھا
“نایاب سوچا نہیں تھا جو میں ماضی میں کر رہا ہوں آنے والے کل میں بتانے سے بھی کتراؤں گا
میں۔۔ابھی تم سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی بس اتنا جان لو جوانی کے نشے میں میں کچھ گناہ سرزد ہوئے مجھ سے۔۔جو ابھی تک میرے لیے گناہ نہیں تھے۔۔۔پر تمہارے آنے کے بعد وہ تمام کام مجھے اندر تک شرمندہ کرگئے ہیں۔۔پتا نہیں کیا کردیا تم نے تمہارے کردار نے۔۔۔
اور اب میں کنفیس کرنا چاہتا ہوں نایاب سب کچھ۔۔۔۔”
“آپ بس ایک بات کا جواب دیجئیے کیا آپ ان سب گناہوں پر دل سے شرمندہ ہیں۔۔؟
کیا آپ کو لگتا ہے جو آپ نے ماضی میں کیا وہ سب غلط تھا۔۔۔؟؟ کیا پچھتاوا ہے آپ کو۔۔۔؟؟”
نایاب کی نظریں جھکی ہوئی تھی اور افنان کے ذہن میں صرف زاران کی وہ باتیں گھوم رہی تھی جو اس نے نایاب کے کردار کے بارے میں کہی تھی
“نایاب کل تک نہیں تھا آج ہوں۔۔یہ سوچ کر کہ تم میری شریک حیات بننے والی ہو اور میں آج نظریں نہیں ملا پارہا تم سے۔۔”
وہ نایاب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنے والا تھا نایاب نے ہاتھ پیچھے کرلیا تھا
“افنان گناہ کی لذت کچھ پل کی ہوتی ہے اور عذاب ساری زندگی کا۔۔۔وہ جو زندگی آپ نے منگنی سے پہلے جی لے جو گزار لی ہے اسکا حساب مانگنے والی یا آپ کو میں جج کرنے والی کون ہوتی ہوں۔۔؟؟
اب منگنی کے بعد اگر آپ کچھ ایسا کریں گے تو پھر میں سوچنے پر مجبور ہوجاؤں گی۔۔
وہ ماضی تھا جو چلا گیا ۔۔اگر آپ شرمندہ ہیں تو آنے والے کل میں آپ وہ گناہ نہیں کریں گے۔۔؟؟
افنان میں سب برداشت کرسکتی ہوں پر شادی کے بعد چیٹ نہیں جھوٹ نہیں۔۔۔
اب آپ نے میرے نام کی آنگوٹھی جس ہاتھ پر پہنی ہے اس رنگ کو پہن کر دھوکہ دیں گے تو شاید برداشت نا کرپاؤں۔۔۔”
“تم انمول ہو تم جانتی ہو نایاب۔۔۔؟؟”
“ہاہاہا اب اتنی جلدی آپ جناب سے سیدھا تم پر۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا آپ کہہ کہہ کر تھک گیا میں چاہتا ہوں میری ہونے والی بیوی میری بیوی سے پہلے میری دوست بن کر میری زندگی میں آئے۔۔۔”
وہ افنان کی بات پر بہت زیادہ شرما گئی تھی اور اٹھ گئی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔۔ہوسکے تو زاران سے دور رہنا میں نہیں چاہتا میرے ماضی کو لیکر وہ تمہیں مجھ سے بدگمان کرے۔۔۔”
نایاب جاتے جاتے رک گئی تھی اور مڑ کر افنان کی طرف دیکھا تھا
“زاران ایسا کیوں کریں گے۔۔؟؟ آپ سے بدگمان کیوں کریں گے۔۔۔؟؟”
اس نے مارکو کو نیچے اتار دیا تھا
“کیونکہ میں اسے جانتا ہوں۔۔وہ ضرور کوشش کرے گا نایاب بس دور رہنا میں نہیں چاہتا لاسٹ مومنٹ پر کچھ بھی غلط ہو۔۔۔”
“آپ پھر زاران عابدی کو جانتے ہی نہیں ہیں افنان۔۔۔وہ سیلف مئیڈ مین ہے۔۔۔چند لفظوں میں بات مکمل کر کے گہری خاموشی سے باتیں کرنے والا۔۔۔
ہی از نوٹ پلئینگ گیمز ود ادر ز ایموشنز۔۔۔
وہ کسی کے جذبات کے ساتھ کبھی بدگمانی کی کے کھیل نہیں کھیل سکتے۔۔۔
اگر آپ کے خلاف کرنا ہوتا تو کب کا کرچکے ہوتے اگر کھیل کھیلنے ہوتے تو وہاں باہر تک آجاتے میرے پیچھے
زاران عابدی ایسا شخص ہے جسے جب نہیں تھی تو نہیں تھی مجھ سے
نا چاہت نا محبت۔۔۔۔
اور جب ہوئی تو بےپناہ ہوئی چاہت بھی محبت بھی۔۔۔
وہ جو نعمان کو لیکر سارا گھر سر پر اٹھا چکے تھے اب خاموش کیوں ہیں۔۔؟؟
لوگ خاموش نہیں ہوتے محبتیں خاموش کروا دیتی ہیں
ٹھکرائے جانے پر وہ لوگ شور مچاتے ہیں جن کا محبت میں کوئی ظرف نہیں ہوتا
جن کو محبتیں خود دار ہوں وہ خاموش ہوجاتی ہیں بدگمانیاں پیدا نہیں کرتی۔۔۔
وہ آپ کے دوست ہیں پر آپ انہیں جان نہیں پائے۔۔۔
میں انہیں جانتی ہوں۔۔۔میں انکی محبت ہوں وہ جسے انہوں نے حاصل کرنے کی نہیں پانے کی کوشش کی ۔۔۔
پر وہ شاید نایاب التمش کو سمجھتے ہیں جان چکے ہوں گے کہ مجھے حاصل کر کے بھی نہیں پاسکیں گے وہ
تو بنا لڑے پیچھے ہوگئے
میری ہاں کے بعد میں نے انکے منہ سے میرے لیے وہ الفاظ نہیں سنے۔۔۔
اب آپ بتائیں جو اپنی محبت کو لیکر خاموش ہوجائیں
وہ آپ کے لیے کیسے بدگمانیاں ڈال دیں گے میرے دل میں افنان۔۔۔؟؟”
۔
نایاب اندر چلی گئی تھی پر وہاں ایک نہیں تین لوگ شوکڈ کھڑے تھے
دلکش بیگم
زاران عابدی
افنان یوسف
“اور یہ اتنا جانتی ہی پھر بھی مجھے چُن لیا اس شخص پر جسے یہ جانتی ہے۔۔۔
اور وہ جو اسکے کردار کی قسمیں کھاتا رہا کل۔۔۔
کیا میں اپنی محبت کی قربانی دے سکتا تھا جیسے زاران دے رہا۔۔؟؟
پر نایاب قربان کرنے والی محبت نہیں ہے۔۔۔وہ سراہی جانے والی انمول محبت بنے گی میری۔۔۔”
افنان اب دل سے مظمئن تھا اب اسے سکون تھا دل کا بوجھ ہلکا کرکے۔۔۔۔
۔
“اور یہ سمجھتا ہے یہ جیت گیا ہے۔۔؟؟
زاران عابدی وہ کھلاڑی ہے جو اس وقت اپنی چال نہیں چلتا جب تک سامنے والے کو اسکی جیت کا یقین نا ہوجائے
وہ میری تھی ازل سے۔۔۔اور وہ میری رہے گی
نایاب التمش زاران عابدی کی قدر میں لکھی ہوئی ہے اب یہ بات دنیا افنان یوسف کو بتانے کا وقت آگیا ہے۔۔۔
یہاں اگر نکاح ہوگا تو وہ اسکا اور میرا ہوگا ۔۔۔۔
اسکے نام کے ساتھ میرے علاوہ کسی اور کا نام نہیں جُڑے گا کبھی بھی نہیں
زاران عابدی کا وعدہ ہے یہ۔۔۔”
۔
وہ پرسکون مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اندر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“افنان تم یہاں۔۔؟؟”
افنان دروازہ کھلنے پر ہوٹل کے روم میں داخل ہوگیا تھا
“کیوں میں یہاں نہیں آسکتا کیا۔۔؟؟واپس چلا جاؤں۔۔؟؟”
پر رانیہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“نہیں بیٹھو۔۔۔میں کچھ آرڈر کروں۔۔؟؟ کافی غصے میں لگ رہے ہو۔۔؟؟”
“کیا تم کچھ وقت کے لیے زاران کو ڈستریکٹ نہیں کرسکتی رانیہ۔۔؟ لائک اسے اپنی طرف مائل نہیں کر سکتی۔۔؟؟”
رانیہ نے غصے سے افنان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔۔
“وٹ۔۔؟ تمہیں کیا لگتی ہوں میں۔۔؟ مردوں کو مائل کروں۔۔؟ تم ایسی بات کر بھی کیسے سکتے ہو ڈیم اِٹ جو رشتہ ماضی میں تھا اس کا لحاظ کرلیتے تم۔۔۔”
“ایم سوری۔۔۔میں۔۔۔وہ۔۔۔”
افنان کو اپنی ہی کی ہوئی بات کی اب سمجھ آئی تھی رانیہ کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے اسے اور زیادہ شرمندہ کردیا تھا
“نہیں تم سوری نہیں ہو۔۔تم نے اس دن کے بعد اپنی رائے بنا لی ہے میرے لیے۔۔۔اگر ایک لڑکی ایک بار ایک گناہ کرجائے تو اسکا مطلب یہ نہیں وہ گناہ وہ بار بار دہرائے گی افنان یوسف۔۔۔آپ دفعہ ہوجائیں۔۔۔اور ایک بات ابھی تک میں چاہتی تھی کہ تم واپس آؤ پر اب نہیں۔۔تم وہ افنان ہو ہی نہیں ڈیم یو۔۔۔”
اس نے اپنا چہرہ غصے سے صاف کر کے روم کا دروازہ کھولا تھا اور باہر نکل جانے کا کہا تھا افنان کو
پر وہ دروازہ اسی طیش سے بند کیا تھا افنان نے اور اسی دروازے کے ساتھ جلال سے پن کر دیا تھ رانیہ کو اس نے
“اور مجھے ایسا بنایا کس نے۔۔؟؟ میں نے کہا تھا میرے ہوتے ہوئے میرے دوست کے ساتھ دوستیاں بڑھاؤ۔۔؟؟ مجھے غیروں سے پتا چل رہا تھا تم زاران پر مر مٹی ہو۔۔۔ڈیم یو رانیہ چوہدری۔۔تمہاری وجہ سے میں ایسا بنا ہوں۔۔۔”
“تو کیسے معافی مانگو۔۔؟ تم نے بریک اپ کر کے سزا دی وہ کم نہیں تھی۔۔؟؟
تم نے نیشا کے ساتھ نزدیکیاں بڑھا کر جو میری روح تک زخمی کردی وہ کم نہیں تھا افنان۔۔؟
آج کی بات نے مجھے اور ختم کردیا ہے۔۔۔ایک غلطی پر اب کیا جان لو گے میری ایسے واحیات باتیں کر کے۔۔؟؟
اگر جی نہیں بھرا تو مجھے ایسے ہی مار دو تم یا پھر ٹھہرو میرے پاس ہے علاج اسکا بھی۔۔”
وہ اپنے پرس کی طرف جھپکی تھی افنان کو پیچھے دھکا دیکر جو ابھی تک ایک شوکڈ حالت میں تھا رانیہ کی باتیں سن کر
“رانیہ۔۔۔چھوڑو یہ گولیاں۔۔”
“نہیں روز روز میں بھی انہیں کھا کھا کر تنگ آگئی ہوں۔۔۔”
اس نے جیسے ہیں وہ شیشی کھولی تھی افنان نے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا اسے جس سے وہ بستر پر گر گئی تھی روتے ہوئے اسکی آواز اس کمرے کی چار دیواری میں گونج رہی تھی
افنان ایک کونے پر پھینک دی تھی وہ گولیاں اور وہیں بیٹھ گیا تھا پاس اسکے کندھے سے بال پیچھے کرکے اس نے رانیہ کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا
“رانیہ ایسی حالت میری بھی تھی تم نے اتنا ہی کمزور کردیا تھا مجھے۔۔۔ سمجھ نہیں آتی بےوفائی کرنے والے سامنے والے کو تو برباد کرتے ہیں پر خود پر بھی بہت ظلم کر جاتے ہیں “
رانیہ کے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہوئے کب اسکا چہرہ اتنا قریب ہوا اسے پتا نہیں چلا تھا
“آئی لو یو افنان۔۔۔اس ایک غلطی کی سزا اتنی طویل نا کرو کے تمہاری سزا میری جان لے جائے۔۔۔”
“ششش۔۔بس چپ کر جاؤ۔۔۔۔”
۔
باتیں اس رات کی تاریکی میں گم ہوگئیں تھیں۔۔۔
آنے والی صبح کسے پتا تھا افنان یوسف کی ساری خوشیاں کھا جائے گی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“شادی کے دن کس طرح گزرے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔
جو لوگ خوش تھے وہ بھی خوشیاں منا رہے تھے اور جو خوش نہیں تھے وہ بھی رشتے داروں کو دیکھانے کے لیے خوشیاں منا رہے تھے
کسی چیز میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی آفاق عابدی نے۔۔۔اور جو کمی بیشی تھی وہ راحیل صاحب نے پوری کردی تھی
انیسہ باجی نے سب کو انوائیٹ کیا تھا دلکش کے ساتھ اب انکی بات ہوتی تھی تو ماضی کی باتیں کرنے سے دونوں جانب سے گریز کیا جاتا تھا۔۔۔
ان دنوں تین لوگ پوری طرح “خاموش “ہوچکے تھے
زاران
نایاب
افنان
۔
۔
گھڑی کی سوئی کی طرح زاران کی زندگی کا ایک ایک لمحہ کٹ رہا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
نایاب تو سب سے زیادہ خوش نصیب نکلی۔۔۔
“ہاں بہن اتنے امیر لوگ مل گئے اور لڑکا دیکھا اتنا خوبصورت”
“اللہ سب بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔۔۔”
مجھے تو کوئی پیار ویار کا چکر لگتا ہے ورنہ کیسے نایاب جیسی لڑکی کو اتنا اچھا لڑکا اور خاندان مل سکتاہے۔۔؟؟”
ان عورتوں کی باتیں ختم ہوہی نہیں رہی تھی دلکش بیگم اٹھ کر دوسری جانب چلی گئیں تھیں آج مہندی فنکشن تھا
جو بہت دھوم دھام سے منایا جارہا تھا یہاں۔۔۔کچھ دیر میں لڑکے والوں نے بھی آنا تھا یہاں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی بس دو منٹ میں آئی۔۔۔”
جلدی جلدی میں کانچ کی چوڑی ٹوٹ کر نایاب کی کلائی میں لگ گئی تھی۔۔۔
“آؤچ۔۔۔”
نایاب نے باقی کی چوڑیاں وہیں ٹیبل پر رکھ دی تھیں۔۔۔جو سرکتے سرکتے گر کر ٹوٹ گئیں تھیں
“یا اللہ یہ سب ۔۔۔”
اس کی بات کٹ گئی تھی جب دروازہ کھلا تھا اور زاران عابدی وائٹ سلوار سوٹ میں اندر داخل ہوا تھا۔۔
اسکی شیو بھی بہت بڑھ گئی تھی جو اب سہی معنوں میں دیوداس جیسا لگا تھا نایاب کو۔۔۔
نایاب کو محسوس نہیں ہوا کب اسکی نظر نایاب کے ہاتھ سے بہتے خون پر پڑی تھی
“یہ کیا ہوا۔۔؟؟ تم کسی کو ہیلپ کے لیے بلا لیتی اگر تمہیں کوئی لڑکیوں جیسا ساج سنگھار کرنا نہیں آتا تو۔۔۔؟؟”
وہ اسے بیڈ پر بٹھا کر روم میں فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈنے لگا تھا
“وہ بیڈ کے لفٹ سائیڈ والے ٹیبل میں ہے۔۔۔”
نایاب نے آہستہ سے جواب دیا تھا۔۔۔
زاران عابدی کے اس طرح کمرے میں آجانے سے پہلے ہی اسکی دھڑکنے بہت تیز ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
جو شخص اتنے دنوں سے نظریں چرا رہا تھا آج اسے سامنے پا کر وہ بہت نروس ہورہی تھی۔۔۔
شاید اس لیے بھی کہ ان دنوں سے وہ گزر چکی تھی جب زاران کی شادی سویرا سے ہونے والی تھی
“ہاتھ دو۔۔۔”
“پر زاران۔۔۔”
“میں ہاتھ نہیں لگاؤں گا بس اس کاٹن سے صاف کروں گا۔۔۔”
اور اس نے ویسے ہی کیا تھا ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا وہ جس طرح اپنے ہاتھ کو نایاب کی انگلیوں کے ساتھ ٹچ بھی نہیں ہونے دے رہا تھا نایاب کی نظریں جھکی بھی ہوئی تھیں اور زاران عابدی کے چہرے کو چھپ چھپ کر دیکھ بھی رہیں تھیں
“اتنی شیو کیوں بڑھا لی ہے۔۔؟؟ ڈڑ لگ رہا تھا کہ کوئی رشتہ نا دہ دے۔۔؟؟”
اس نے شرارتی لہجے میں پوچھا تھا اسے پتا تھا یہ انکی آخری گفتگو ہونے والی تھی
“ہاہاہاہاہا اتنے بنا شیو کے نہیں آنے تھے جتنے اب آرہے ہیں۔۔اور سویرا جل ککڑی کی طرح ہر لڑکی سے لڑائی کئیے جا رہی۔۔۔”
“ہاہاہاہا سویرا باجی بھی نا۔۔۔۔”
وہ دونوں ہنستے ہوئے چپ ہوگئے تھے
“ہمیشہ خوش رہو جہاں بھی رہو نایاب۔۔۔ایک فون کال پر مجھے اپنے سامنے پاؤ گی۔۔
اسے کہنا تمہاری قدر کرے ورنہ میں اسے بہت ماروں گا۔۔۔”
“زاران۔۔۔”
“نایاب۔۔۔آج میری محبت کی تذلیل مت کرنا جاتے جاتے جائے گی یہ میرے دل سے اب
تمہیں درگزر کر کے بھی دیکھ لیا تمہیں ہرٹ کر کے بھی دیکھ لیا اور تمہیں منا کر بھی دیکھ لیا۔۔
پہلے میرا دماغ نہیں اپنا رہا تھا میری محبت کو۔۔۔
اور پھر تمہارا دل۔۔۔اب جدائی ہوگئی ہے تو میرا دل نہیں مان رہا
مجھے پتا ہے تمہارے پاس بہت فلسفے ہیں باتیں ہیں۔۔۔پر محبت ان زبانوں سے بھی آگے کی داستان ہے۔۔
اس نے جب نہیں سمجھنا تو پوری دنیا بھی سمجھا لے تو نہیں سمجھے گی۔۔۔
اور جب سمجھ جانا چاہتی ہو تو ایک پل میں سمجھ جاتی ہے اور راستے علیحدہ کرلیتی ہے۔۔۔
جیسے تمہاری محبت۔۔۔بنا کسی کے سمجھائے تمہاری سمجھ گئی اور لاتعلق ہوگئی میری محبت سے۔۔
پر مجھے سب کے سمجھانے پر بھی سمجھ نہیں آرہی۔۔۔
میرے پاس اب صرف دعائیں ہیں تمہارے لیے خوش رہو۔۔۔”
نایاب کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اور اسکے ہاتھ پر جب نظر پڑی تو وہاں ہلکی سی پٹی بھی لگا گیا تھا وہ
۔
نایاب التمش کی بھری ہوئی آنکھیں اب چھلک گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کہاں سے آرہے ہو تم افنان۔۔؟ فون کیوں بند تھا تمہارا۔۔؟ آج مہندی کے فنکشن میں کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب تم وہاں نہیں پہنچے اور اب چوروں کی طرح کمرے میں جا رہے ہو۔۔؟؟”
یوسف صاحب نے بہت آہستہ آواز میں پوچھا تھا پر لہجہ بہت سخت تھا انکو پتا تھا گھر میں مہمان بھی موجود ہیں بہت سارے۔۔
“ابو ایک میٹنگ آگئی تھی اور۔۔۔۔”
“تم جانتے بھی ہو کیا بہانہ دے رہے ہو افنان۔۔؟؟ کونسی میٹنگ پاکستان میں۔۔؟
تمہاری مہندی تھی آج اگر میٹنگ تھی بھی تو کیسنل کر دیتے”
زیبا بیگم کی آواز زرا کم نہیں تھی وہ اونچی آواز میں بولی تھیں
“وہ امی۔۔۔ایم سوری۔۔۔اوکے سوری بول دیا ہے میں نے۔۔۔اب پلیز بخش دیں مجھے۔۔۔”
اسکی آنکھیں ریڈ ہوگئی تھی غصے سے اور وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
“دیکھ لیا آپ نے۔؟؟ میں نا کہتی تھی کچھ تو گڑبڑ ہے یوسف یہ اپنے آپ میں ہے ہی نہیں
اتنے دن سے گھار سے ایک فون کال پر ایسے بھاگ جاتا ہے پاکستان میں کونسی میٹنگ۔۔۔؟؟”
“زیبا۔۔۔زیبا۔۔۔مجھے لگتا ہے افنان کسی بات کو لیکر پریشان ہے کل نکاح ہونے کے بعد ہینڈل کر لیں گے افنان کو۔۔۔ شادی کے بعد اسکا سٹریس ختم ہوجائے گا۔۔۔
تم جانتی ہو زاران کے ساتھ بھی اسکی کافی لڑائی ہوئی ہے۔۔۔”
“آپ کا بیٹا ہے اس لیے اسکی اتنی سائیڈ لے رہے ہیں۔۔۔اور وہ رانیہ اس لڑکی نے دوبارہ سے رابطہ کیا ہمارے بیٹے کے ساتھ پچھلے ہفتے یہاں بھی آئی تھی وہ اسے کیا کہیں گے۔۔؟
اگر افنان نے کوئی غلطی ماضی کی طرح کردی تو وہ اپنے ہاتھوں سے گنوا دے گا نایاب جیسے انمول ہیرے کو۔۔۔۔”
۔
۔
وہ چلی گئیں تھیں پر مہمان چیمگوئیاں کرنا شروع ہوگئے تھے پیچھے سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب کو لے آئیں دوسرے کمرے میں سب باراتی آگئے ہیں ۔۔”
“افنان بھائی کی فیملی کے ساتھ افنان بھائی نہیں ہیں زاران بھائی۔۔۔”
سنی نے زاران کے کان میں آہستہ سے بات کی تھی
“چلیں نایاب کو لے آئیں دلکش آپ۔۔۔”
“انیسہ باجی آپ بھی ساتھ چلیں اور یاسمین کو بھی لے آئیں میں کسی سے اسکا حق نہیں چھیننا نہیں چاہتی۔۔۔”
“رک جائیں ابھی نایاب کو کمرے سے باہر نا لیکر آئیں میں افنان سے مل لوں پھر آپ اسے باہر لانا۔۔۔اور پلیز فاخرہ خالہ آپ میں سے کوئی بھی اس سے پہلے نایاب کے کمرے میں گیا یا کوئی تذلیل کی تو آپ دیکھ لیجئیے گا۔۔۔”
زاران سنی اور اپنے والد صاحب کے ساتھ مین ہال میں چلا گیا تھا
“انیسہ باجی دیکھ لیں کیسے بات کر کے گیا ہے مجھ سے نایاب کا اثر ہورہا ہے اچھا ہوا مصیبت ٹل رہی ہے ورنہ”
“خدا کا واسطہ ہے چپ کر جاؤ فاُرہ بس کوئی ایک وقت تو یہ نفرتیں سائیڈ پر رکھ کر سوچو۔۔۔اچھا ہوا التمش بھائی اور دلکش نے آپ کی باتیں نہیں سنی۔۔۔”
وہ اندر نایاب کے کمرے میں چلی گئی تھی انکا بھی دل گھبرا رہا تھا بہت زیادہ
۔
۔
“کہاں ہے افنان۔۔۔”
زاران نے ایک کارنر پر کھڑی افنان کی فیملی کو دیکھ کر وہاں تک کا فاصلہ کچھ قدموں میں تہہ کرلیا تھا
“بیٹا افنان کی گاڑی بلکل ساتھ ہی تھی پر وہ اب۔۔۔”
“ابو بھائی کا فون لگ گیا بات کیجئیے۔۔۔”
“افنان۔۔۔”
زاران نے یوسف صاحب سے موبائل کھینچ کر کان پر لگایا تھا اور دوسرے ہاتھ کے اشارے سے اس نے دور کھڑے اپنے ایک دوست کو اشارہ کیا تھا
“زاران۔۔۔”
“افنان وہ تیری راہ تک رہی ہے۔۔۔انتظار کررہی ہے تیرا دلہن کے جوڑے میں۔۔۔
میں تجھے پانچ منٹ دے رہا ہوں مجھے بتا کہاں ہے تو۔۔۔؟؟”
دوسری طرف بلکل خاموشی تھی
“میں واپس نہیں آسکتا بہت دور نکل آیا ہوں میں زاران۔۔۔تیرا راستہ صاف ہوگیا ہے اب میں اب نہیں آؤں گا واپس میری طرف سے معافی مانگ لینا نایاب سے۔۔۔”
“بکواس مت کر لوکیشن بتا۔۔؟؟ تجھے جان سے مار دوں گا میں افنان۔۔۔”
افنان کی فیملی ہائیپر ہوگئی تھی زاران اس قدر غصے میں غرایا تھا
“افنان۔۔۔۔افنان۔۔۔”
اور فون کاٹ دیا تھا افنان نے۔۔۔
“رستم۔۔۔اس نیمبر کی لوکیشن ٹریس کرو جلدی۔۔۔”
“زاران بیٹا کیا کہا افنان نے۔۔؟؟ کہاں ہے وہ۔۔؟؟ “
یوسف صاحب نے جیسے ہی زاران کے کندھے پر ہاتھ رکھا زاران نے جھٹک دیا تھا
“آپ کا بھگورا بیٹا بھاگ گیا ہے بے غیرت مجھے کہہ رہا ہے میں معافی مانگ لوں نا مرد کہیں کا میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”
“زاران بھائی ائیر پورٹ کی لوکیشن ہے۔۔۔”
اور زاران نے سر پر بندھی پگڑی اتر کر یوسف صاحب کے سامنے پھینک دی تھی اور وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
گہما گہمی میں کسی کو خبر نہیں ہوئی تھی۔۔
پر رستم نے یہ بات آگے بتا دی تھی اور وہاں سے یہ بات گھر کی خواتین سے ہوتی ہوئی نایاب کے کمرے تک جا پہنچی تھی
“افنان بھائی نے شادی سے انکار کردیا ہے۔۔۔”
سحر نے ڈرامائی انداز میں کہا تھا التمش صاحب انیسہ بیگم۔۔۔دلکش بیگم اپنی جگہ سے ہل نہیں پائی تھیں۔۔
“زاران بھائی بہت غصے میں انہیں لینے جا رہے ہیں ائیرپورٹ۔۔۔”
نایاب نے اپنے لہنگے کو دونو ہاتھوں سے پکڑا اور روم سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
وہ اتنے مہمانوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے کب ہال سے باہر گئی ہے پارکنگ میں کب اس گاڑی کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی
“وٹ دا ہیل۔۔نایاب سامنے سے ہٹو اندر جاؤ تم ابھی افنان کو دیر ہوجائے۔۔۔”
نایاب گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی زاران کے ساتھ
“جلدی چلیں۔۔۔”
یہ دو لفظ اس نے کہے تھے۔۔اور زاران نے مٹھی بند کر لی تھی آج نایاب التمش کے لہجے میں اداسی اور مایوسی دیکھ کر۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سر آپ اس ٹرمینل پر چلیں جائیں وہ پرائیویٹ پلین پر جا رہے ہیں۔۔”
ایک گارڈ نے زاران کے پاس آکر بات کی تھی پر نایاب نے سن لیا تھا
اور وہ اسی ڈائیریکشن میں چلی گئی تھی جہاں گارڈ نے اشارہ کیا تھا
۔
۔
افنان۔۔۔”
اسی جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا
“میں نے کہا تھا مجھے ٹھکرائے جانے پر دکھ نہیں ہوگا کوئی اپنا کر ٹھکرائے گا تب درد ہوگا”
“نایاب۔۔۔”
نایاب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا جب افنان پیچھے مڑا تھا گلڈن شیروانی ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کے ہار نے اسے ہاتھ اٹھانے پر مجبور نہیں کیا تھا
ساتھ کھڑی دلہن کے لباس میں ملبوس لڑکی کا ہاتھ افنان کے ہاتھ میں دیکھ اسکا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ہسبنڈ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔”
رانیہ کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا افنان
“تم جاؤ میں آتا ہوں۔۔۔”
“پر افنان۔۔۔”
“رانیہ جاؤ۔۔۔۔”
“تو یہ وہ ماضی کے گناہ تھے جن کا اعتراف کرنے آئے تھے آپ۔۔؟؟”
نایاب کی بات سن کر رانیہ رک گئی تھی۔۔۔۔
“نایاب۔۔۔”
اسکی آنکھیں جیسے ہی اٹھی تھی لال تھی جیسے وہ سویا نہیں ہو۔۔
“اپنی زبان سے پھر کبھی میرا نام نا لینا افنان یوسف۔۔۔ میں نے ساری زندگی کبھی کسی کی بات نہیں سنی آپ کو عزت دی زاران پر ترجیح دی اس لیے مجھے تم نے ذلیل کروا کر رکھ دیا سب کے سامنے۔۔؟؟ اور اب بھاگ رہے ہو۔۔؟؟ کیسے مرد ہو۔۔؟ کیسی مردانگی ہے تمہاری۔۔۔؟؟
اگر کہیں اور دل تھا تو کیوں تماشا بنایا افنان۔۔؟؟”
افنان نے سر جھکا لیا تھا جب نایاب کی آنکھیں بھر آئی تھی
“یو ڈسگسٹ مئ افنان یوسف۔۔۔میرا نظریہ سہی تھا تمہیں لیکر۔۔ تم شروع سے ہی ایسے تھے
اِن سینسٹو بگڑے ہوئے تم نے مجھے ہی نہیں میری ماں کو بھی دھوکہ دیا ہے جس کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی افنان۔۔۔
اگر مہندی والی رات بھی تم مجھے اپنی پسند بتا دیتے تو میں خود تمہاری شادی کرواتی جسے تم اپنے ساتھ بھگا کر لے جا رہے ہو۔۔۔
پر آج کے دن دنیا کے سامنے خاندان کے سامنے تم نے نایاب التمش اور اسکے خاندان کا جو تماشہ بنا دیا ہے اسکے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔”
اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر افنان پر دے ماری تھی اور منہ صاف کر کے پیچھے مڑی تھی
“نایاب۔۔۔جانے سے پہلے ایک بات سن لو بس ایک بات۔۔۔
افنان یوسف نے تم سے بے پناہ محبت کی ہے نایاب التمش۔۔۔
پر میرے جیسا گناہ گار انسان تم جیسی پاکیزہ تم جیسی پارسا کے قابل نہیں ہے۔۔۔
پوری دنیا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی نایاب میں دنیا سے ڈر کر نہیں تمہاری آنکھوں میں نفرت دیکھنے سے ڈر کر بھاگ رہا ہوں۔۔۔
زاران ایک اچھا۔۔۔”
زاران نے آگے بڑھ کر اسے ایک تھپڑ مارا تھا۔۔۔ تو کہیں نہیں جائے گا سنا تو نے تو نایاب سے شادی کرے بغیر کہیں نہیں جائے گا۔۔۔”
سب شوکڈ تھے۔۔۔
اس سے پہلے وہ ایک اور تھپڑ مارتا نایاب نے زاران کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“میں اتنی گری پڑی ہوں جو دوسری عورت بن جاؤں۔۔؟؟ وہ تو میری ماں تھیں جو اس شخص کو میرا جیون ساتھی بنانا چاہتی تھی۔۔۔
ورنہ جو انسان چار سالوں میں میری نظروں میں کوئی مقام نا بنا سکا وہ اس قابل تھا کہ میں شادی کے لیے اپناتی۔۔؟؟”
نایاب نے نظریں اٹھائیں تھی اور کچھ ایسے جملے بول دئیے تھے جو افنان یوسف کو اندر تک گھائل کر گئے تھے
۔
“اگر تم سمجھتے ہو کہ نایاب التمش ٹوٹ جائے گی بکھر جائے گی اور دنیا کو موقع دہ دے گی۔۔یا تمہیں موقع دہ دے گی میری عزت نفس کچلنے کا کا۔۔۔تو تم غلطی پر ہو افنان۔۔۔
نکاح والے دن جو بھاگ جاتے ہیں وہ ڈوب مرے میں اسی فخر سے گھر جاؤں گی۔۔
اور جب کوئی مجھے یہ کہنے کہ کوشش کرے گا کہ میری کوئی غلطی تھی جو لڑکا نکاح والے دن چھوڑ گیا تو میں سر اٹھا کر کہوں گیاگر میں غلطی پر ہوتی تو ایسے سب کے سامنے سر اٹھا کر موجود نا ہوتی
جو غلط ہے جو غیرت مند نہیں وہ یہاں نہیں ہے۔۔۔
میں نایاب التمش ہوں میں نا ہی بکھروں گی نا ہی کسی کونے میں بیٹھ کر رؤں گی سنا آپ نے۔۔۔
تم غلط تھے سامنے عیاں ہوگئے اللہ نے مجھ پر اپنا کرم کیا جو تمہاری سچائی میرے سامنے آئی۔۔
اب کچھ بھی باقی نہیں رہا خدا کی قسم افنان اب آپ کے پاس کبھی یہ بہانہ نہیں ہوگا کہ آپ کی پوری بات نہیں سنی نایاب التمش نے۔۔۔
آپ کی آنکھوں نے آپ کا ایک کردہ گناہ تو بتا دیا ہے مجھے۔۔۔بس اتنا بتا دیں وہ گنا ہ ہماری منگنی کے بعد سرزرد ہوا آپ سے۔۔۔؟؟؟”
یہ بات کرتے ہوئے اسکے آنسو پھر سے بہنے لگے تھے اور اسی وقت افنان آگے بڑھا تھا
“ایم سوری۔۔۔”
“ہاں یا نا۔۔؟؟ منگنی کے بعد۔؟؟”
اسے نے اس بات کو پسِ پردہ رکھ کر ایک بات پوچھی تھی جو ان دونوں کے پاس کھڑے دو اور لوگ سمجھ گئے تھے
“ہماری منگنی کے بعد۔۔۔۔”
نایاب کا ہاتھ پھر سے اٹھا تھا۔۔۔
“پہلی بار یقین کیا اور منہ کے بل گری ہے نایاب التمش۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر زاران کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے گئی تھی جو غصے سے افنا کو اونچی اونچی کیا کچھ کہا رہا تھا باہر جاتے ہوئے۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: