Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 19

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 19

–**–**–

“اگر تم سمجھتے ہو کہ نایاب التمش ٹوٹ جائے گی بکھر جائے گی اور دنیا کو موقع دہ دے گی۔۔یا تمہیں موقع دہ دے گی میری عزت نفس کچلنے کا کا۔۔۔تو تم غلطی پر ہو افنان۔۔۔
نکاح والے دن جو بھاگ جاتے ہیں وہ ڈوب مرے میں اسی فخر سے گھر جاؤں گی۔۔
اور جب کوئی مجھے یہ کہنے کہ کوشش کرے گا کہ میری کوئی غلطی تھی جو لڑکا نکاح والے دن چھوڑ گیا تو میں سر اٹھا کر کہوں گیاگر میں غلطی پر ہوتی تو ایسے سب کے سامنے سر اٹھا کر موجود نا ہوتی
جو غلط ہے جو غیرت مند نہیں وہ یہاں نہیں ہے۔۔۔
میں نایاب التمش ہوں میں نا ہی بکھروں گی نا ہی کسی کونے میں بیٹھ کر رؤں گی سنا آپ نے۔۔۔
تم غلط تھے سامنے عیاں ہوگئے اللہ نے مجھ پر اپنا کرم کیا جو تمہاری سچائی میرے سامنے آئی۔۔
اب کچھ بھی باقی نہیں رہا خدا کی قسم افنان اب آپ کے پاس کبھی یہ بہانہ نہیں ہوگا کہ آپ کی پوری بات نہیں سنی نایاب التمش نے۔۔۔
آپ کی آنکھوں نے آپ کا ایک کردہ گناہ تو بتا دیا ہے مجھے۔۔۔بس اتنا بتا دیں وہ گنا ہ ہماری منگنی کے بعد سرزرد ہوا آپ سے۔۔۔؟؟؟”
یہ بات کرتے ہوئے اسکے آنسو پھر سے بہنے لگے تھے اور اسی وقت افنان آگے بڑھا تھا
“ایم سوری۔۔۔”
“ہاں یا نا۔۔؟؟ منگنی کے بعد۔؟؟”
اسے نے اس بات کو پسِ پردہ رکھ کر ایک بات پوچھی تھی جو ان دونوں کے پاس کھڑے دو اور لوگ سمجھ گئے تھے
“ہماری منگنی کے بعد۔۔۔۔”
نایاب کا ہاتھ پھر سے اٹھا تھا۔۔۔
“پہلی بار یقین کیا اور منہ کے بل گری ہے نایاب التمش۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر زاران کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے گئی تھی جو غصے سے افنا کو اونچی اونچی کیا کچھ کہا رہا تھا باہر جاتے ہوئے۔۔۔
۔
۔
افنان۔۔۔۔؟؟؟”
“پہلی بار یقین کیا اور منہ کے بل گری ہے نایاب التمش۔۔۔”
یہ ایک بات افنان کی سماعتوں میں بار بار گونج رہی تھی اس نے ہاتھ اٹھا کر اپنے ہاتھ میں ابھی بھی موجود اس منگنی کی انگوٹھی کو دیکھا تھا پاس کھڑی رانیہ بہت خاموشی سے افنان کے چہرے پر ہر بدلتے تاث کو دیکھ رہی تھی
“اس نے مجھ پر یقین کیا تھا۔۔۔اور میں نے وہ کھو دیا ایک ایسی لڑکی کو کھو دیا”
“تم نے مجھے پایا ہے افنان۔۔۔۔”
رانیہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اس نے پیچھے پلٹ کر غصے سے دیکھا تھا
“تمہیں پایا۔۔؟ مجھے زندگی جینی تھی نایاب کے ساتھ۔۔۔اب مجھے زندگی گزارنی پڑی گی تمہارے ساتھ۔۔۔
مجھے وہ باکردار لڑکی میری بیوی کے روپ میں چاہیے تھی پر میری بدکرداری نے اسے چھین لیا مجھ سے نا اس دن آتا تمہارے پاس ہوٹل میں نا یہ ہوتا آج نکاح ہوجاتا میرا۔۔۔۔اب وہ چلی گئی اس کے ساتھ جس کو پچھلے چار سال سے دور رکھا میں نے اس سے۔
اسے اسکے نصیب میں لکھ دیا میری بے وفائی نے زاران عابدی لے گیا اسے۔۔
وہ کہتا تھا میرا ایک غلط قدم اسے موقع دہ دے گا اور وہی ہوا۔۔۔
میری ایک غلطی ہوئی اور وہ لے گیا اسے۔۔۔”
افنان نے آہستہ سے کہا تھا نگاہیں ابھی بھی تعاقب میں تھی جاتے ہوئے ان دو لوگوں کو دیکھ رہیں تھیں
“تو تمہیں یہ شادی اور وہ رات غلطی لگ رہی ہے اب افنان۔۔۔؟؟؟”
رانیہ کے لہجے میں ایک درد تھا
“غلطی میں نے اس شادی کو کہا ہے رانیہ۔۔۔۔وہ رات گناہ تھی وہ گناہ جس کی معافی نہیں۔۔
وہ سہی کہتی تھی گناہ کی لذت کچھ پل کی ہوتی ہے اور سزا ساری زندگی کی پچھتاوا ساری حیاتی کا۔۔۔
میں چند لمحات کے بہکنے میں اپنی ساری خوشیاں داؤ پر لگا بیٹھا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کہاں چلی گئی ہے نایاب۔۔۔؟ یوسف بھائی افنان آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں آیا تھا۔۔۔؟ اتنی دیر ہوگئی ہے اور وہ لوگ نہیں آۓ کوئی کچھ بتاۓ۔۔۔۔”
دلکش بیگم اور افنان کی فیملی ایک علیحدہ روم میں آگئے تھے
التمش باہر مہمانوں کے ساتھ تھے وہ سب لوگ نہیں چاہتے تھے کوئی تماشہ بنے کسی بھی طرح کا۔۔۔
انیسہ بیگم اس وقت سے کوئی نا کوئی بہانہ لگا رہی تھیں۔۔۔۔
“نا دلہے کا کچھ آتا پتا اور دلہن شادی والے دن کہاں بھاگتے ہوۓ چلی گئی کچھ تو گڑ بڑ ہے۔۔”
“انکا خاندان ہے ہی ایسا کبھی نکاح والے دن انکی بڑی بیٹی سویرا غائب ہوجاتی ہے اور یہ لوگ ایکسیڈنٹ کا بہانا لگاتے ہیں تو کبھی چھوٹی بیٹی۔۔۔۔”
جتنے منہ اتنی باتیں ہو رہی تھیں مین ہال میں اور سب گھر والے ہی شرمندہ ہوئے جا رہے تھے پر کوئی کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔۔۔
“انیسہ باجی میں نا کہتی تھی کوئی نا کوئی گل ضرور کھیلائے گی یہ لڑکی۔۔۔اب نکاح کے دن کہاں چلی گئی ہے۔۔۔”
“فاخرہ آواز آہستہ کرو کوئی سن لے گا۔۔۔۔”
وہ سی کو ہلکا سا اشارہ کر کے بلا چکی تھی جو التمش صاحب کی ویل چئیر ہال سے اندر سکون والی جگہ میں لے گیا تھا
“مجھے تو چپ کروا لیں گی آپ پر لوگوں کا کیا۔۔۔؟سویرا کی بار کم بدنامی ہوئی تھی۔۔۔”
انکی نظر پاس کھڑے بھائی اور بھابھی پر پڑی تھی
“بُرا نا منائیے گا۔۔پر سویرا کی دفعہ بھی کوئی کم بدنامی نہیں ہوئی تھی راحیل بھائی اب نایاب میڈم۔۔۔۔میرے دونوں بھائی کی بیٹیوں نے خاندان کی ناک کٹوانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔۔۔۔”
وہ وہاں سے شدید غصے میں گئی تھی اور کچھ ہی سیکنڈ میں وہاں نایاب داخل ہوئی تھی جو سیدھا اندر آئی تھی۔۔۔۔
“بیٹا آگئی تم افنان نہیں آیا۔۔۔؟؟”
زیبا بیگم نے نایاب کا راستہ روکا تھا
“میں آپ سب لوگوں سے معذرت کرتی ہوں۔۔۔پر اب یہاں کوئی نکاح کوئی شادی نہیں ہونے والی آپ سب کھانا کھا کر جا سکتے ہیں یہاں سے۔۔۔”
گہری خاموشی چھا گئی تھی نایاب کی بات سے سب اتنے شوکڈ تھے
“ضرور کوئی پرانا راز سامنے آیا ہوگا اس لڑکی کا ورنہ نکاح کے دن ایسے کون جاتا ہے چھوڑ کر۔۔۔”
“ان کے خاندان کی بیٹیاں ایسی ہی ہوجاتی ہیں باہر کے ملک پڑھائی کرنے کے لیے جاتیں ہیں پھر یہ گل کھلا دیتیں ہیں”
وہ آپس میں بڑبڑائے کچھ عورتیں وہاں سے چلی گئیں تھیں
“نایاب۔۔۔۔”
دلکش بیگم باہر آئی تھی۔۔۔
“نایاب بیٹا افنان نے کیا کہا۔۔۔۔؟؟”
“آپ کا بیٹا واپس بھاگ گیا ہے اور ساتھ اپنی بیوی اور پرانی محبت کو لیکر گیا ہے اب آپ بھی جائیں یہاں سے۔۔۔۔
امی یہ لوگ اب مجھے ہمارے گھر میں دوبارہ نظر نا آئیں۔۔۔”
زاران نے غصے سے افنان کی فیملی کو دیکھا تھا۔۔۔
زیبا بیگم بھی آگے بڑھی تھیں خاندان کے بہت سے رشتے دار وہاں موجود تھے ابھی بھی
راحیل صاحب باقی مردوں کو وہاں سے لے گئے تھے وہ بھی اسی طیش سے دیکھ رہے تھے افنان کی فیملی کو پر وہ اپنے آپے سے باہر نہیں ہونا چاہتے تھے۔۔۔۔
“نایاب بیٹا زاران کیا کہہ رہا ہے۔۔۔؟؟ افنان ہی تو منتظر تھا تم سے شادی کے لیے وہ بہت بیتاب تھا بیٹا۔۔۔یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔”
نایاب نے انکا ہاتھ اپنے ہاتھ سے پیچھے کردیا تھا اور وہ خود بھی پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
“یہاں سے ائر پورٹ جاتے وقت میرے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں تھا پر جب میں نے اپنے منگیتر کو کسی اور عورت کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دیکھا تو میں نے وہ الفاظ بھی ادا کئیے جو میں کبھی بولنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
اور ائیر پورٹ سے واپس آنے پر میرے پاس بہت الفاظ تھے لوگوں کو کہنے کے لیے اپنی فیملی کو کہنے کے لیے۔۔۔پر اب دیکھیں میں خاموشی سے سن رہی ہوں۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ میرے لیے ضروری نہیں تھے انہیں کوئی وضاحت دینا میں نے ضروری نہیں سمجھا پت وہ جو ائر پورٹ پر چپ چاپ بھاگ رہا تھا وہ ضروری تھا میرے لیے۔۔۔”
زاران کی مٹھی بند ہوئی تھی نایاب کی بات پت جب اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تھا اسے اسے یقین نہیں آرہا تھا نایاب کی کہی ہوئی بات پر
“نایاب۔۔۔۔۔”
“زیبا آنٹی۔۔۔ زاران نے جو بھی کہا سہی کہا افنان کی شادی پر آپ کو بہت بہت مبارک ہو آپ سب جا سکتے ہیں۔۔۔کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ کوئی بھی آپ کی تذلیل کریں۔۔۔ آج جو بھی ہوا بہت غلط ہوا ہے۔۔۔”
نایاب اوپر جانے لگی تھی کہ انیسہ بیگم کی غصے سے بھری آواز نے اسکے قدم روکے تھے
“آپ کا بیٹا وہاں یہ حرکات کر رہا تھا اور آپ لوگ ہمیں بتانے کے بجائے یہاں کھڑے تھے۔۔۔
ہماری جان کو روتے کہ نکاح نہیں ہونا تاکہ ہم مہمان اکھٹے ہونے سے پہلے کوئی بہانہ بنا دیتے نایاب کی عزت اس طرح سے داغدار کیوں کی آپ لوگوں نے۔۔۔؟؟ آپ لوگوں کی وجہ سے وہ معاشرے کے طعنے سنے گی۔۔۔۔جائیں آپ یہاں سے کہ میں کچھ اور برا نا کہہ جاؤں۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بولیں تھیں نایاب کی یہ خاموشی انہیں اندر ہی اندر کھائی جارہی تھی۔۔۔۔اور وہی حال دلکش کا تھا جو ایک کرسی پر بیٹھ گئیں تھیں نایاب کے منہ سے افنان کا سچ سن کر
“امی میں نایاب سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں مولوی صاحب ابھی بھی باہر موجود ہیں۔۔۔ آپ مامو کو اس گھٹیا شخص کی حرکت کا نا بتائیے گا کچھ بھی بہانہ کر دیجئے گا۔۔۔”
“وااہ بیٹا واہہ کیوں التمش بھائی کو ن بتایا جاۓ۔۔۔؟؟ انکو بہت فخر تھا اپنی بیٹی پر۔۔۔یہ سب دلکش میڈم نے جان بوجھ کر کیا ہے وہ بدلہ لینا چاہتی تھی آج خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی انہوں نے دونوں ماں بیٹی اسی طرح کی تھیں۔۔۔
اور اب تم خود کو قربان کرنا چاہتے ہو۔۔؟ تمہیں بدنام زمانہ کیوں ملے۔۔۔؟
اس نے ہاں کی تھی سب کے سامنے اس لڑکے کو۔۔۔اور اسکی ماں نے کیسے اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی۔۔۔۔”
۔
“خدا کے لیے آپ ان دونوں کو کچھ نا کہیں میری اولاد گندی نکل آئی ہے نایاب اور دلکش بھابھی کو کچھ مت کہیں آپ۔۔۔آپ سب لوگوں سے میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں۔۔۔۔”
زیبا بیگم کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔ وہ ہی نہیں یوسف صاحب بھی شرمندگی سے سر جھکائے کھڑے تھے آج وہ پچھتا رہے تھے افنان پر پچھلے مہینے سے شک تھا انہیں اگر وہ ایک بار اسے پاس بٹھا کر سب بات سمجھ جاتے تھے آج انکے سامنے کھڑی وہ بچی اس طرح ذلت نا برداشت کر رہی ہوتی
“ابو کہاں ہیں پھو پھو۔۔۔۔۔؟؟؟”
نایاب کی آواز سے لڑائی تھم سی گئی تھی۔۔۔باہر سے بلانے پر راحیل صاحب التمش کی ویل چئیر اندر لے آۓ تھے جن کا چہرہ پہلے ہی بھرا ہوا تھا۔۔۔۔
“ابو آپ کی بیٹی نکاح والے دن کسی کے ساتھ نہیں بھاگی آپ کیوں آبدیدہ ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔؟؟”
ہال میں کچھ لوگوں کی آہ نکلی تھی جو مخلص تھے اس خاندان کے ساتھ وہ رشتے دار جو سویرا کے چلے جانے پر جہاں ان لوگوں پر غصہ اور برہمی دیکھا کر گئے تھے آج وہ نایاب کے لیے غمزدہ ہورہے تھے۔۔۔
“ابو میں نے سب بڑوں کے فیصلے کو اپنایا تھا اگر وہ میری پسند ہوتا تو آج وہ اس طرح سے نا بھاگتے ہوئے کسی دوسری عورت کے پاس جاتا۔۔۔
اور جو چلا گیا وہ ہمارا نہیں رہتا۔۔۔ ابو نکاح والے دن وہ گیا وہ غلطی پر ہے میں نہیں تو آپ کیوں ایسے اشک بہا رہے ہیں۔۔۔؟ دنیا کو لگے گا آپ کی بیٹی کا کردار نہیں سہی تھا جو دلہا نکاح والے دن چلا گیا اور ماں باپ ایسے رو رہے۔۔۔
آپ کو تو ہمت بننا چاہیے۔۔اگر یہ بدنامی حصے آ ہی گئی ہے تو سامنا کرتے ہیں نا امی ابو۔۔۔؟؟؟”
نایاب نے اپنی آنکھ کا آنسو نیچے گرنے سے پہلے پونچھ دیا تھا۔۔۔
“نایاب تم آج بھی اس مقام پر ہو کہ ایسی دلائل پیش کر سکو۔۔۔؟ تمہیں تو کمرے میں بند کردینا چاہیے خود کو جو ہوا تمہاری ہی کسی غلطی پر ہوا ہوگا ورنہ ایسا ہی کرنا ہوتا تو وہ پہلے کرتا اب کیوں کیا۔۔۔؟؟؟”
فاخرہ پھوپھو نے اونچی آواز میں کہا تھا
“فاخرہ باجی بخش دیں میری بیٹی کو۔۔۔۔”یہ آواز یاسمین بیگم کی نہیں دلکش بیگم کی تھی۔۔۔
یاسمین بیگم تو ایک کارنر میں کھڑی تھیں جیسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہو ان کو۔۔۔
“تم نے بخشا تھا۔۔۔۔؟ کیسے گن گائے تھے تم نے اس لڑکے کے دلکش وہ خاندان یہ وہ خاندان لڑکے کو میں جانتی ہو وہ ایسا ہے ویسا ہے۔۔۔۔
زلیل کرا کر رکھ دیا۔۔۔۔ہمارے خاندان کی تو بدنامی ہوئی پر تمہارے اس جلد بازی کے فیصلے سے کوئی دوسرا نہیں اپنائے گا نایاب کو۔۔۔۔۔”
وہ اس طرح سے باتوں کے نشتر چلا رہی تھیں سب کو بری لگی اس وقت وہ۔۔۔پر انکی باتیں وہاں دلکش بیگم التمش صاحب اور نایاب کو زخمی کئیے جا رہی تھیں
“فاخرہ بس کر جاؤ۔۔۔۔”
“انیسہ باجی آپ سب بس کرجائیں اس اپاہج کے ساتھ اس وقت بیاہ دیتی تو جان چھوٹ جاتی سب کی۔۔۔؟”
“آپ کو کبھی خوفِ خدا نہیں آیا فاخرہ پھوپھو۔۔؟ آپ کی اپنی بیٹیاں بھی ہیں۔۔۔ میں ہمیشہ سنتی آئی ہوں بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں سب کی
آج آپ ہمارے اس کٹھن وقت میں اس طرح سے دل آزاری کر رہی ہیں کیا آپ کو خدا کا خوف نہیں آرہا کہ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟؟
میں یا دنیا کی کوئی بھی لڑکی یہ ڈیزرو نہیں کرتی کہ نکاح والے دن اسکا نکاح نا ہو ٹوٹ جائے وہ شادی
کوئی بھی اس طرح کی بدنامی ڈیزرو نہیں کرتا پھر چاہے وہ زاران عابدی ہو یا نایاب التمش۔۔۔۔”
نایاب کی بات سن کر یوسف صاحب نے اپنی فیملی کو وہاں سے جانے کا اشارہ کردیا تھا شرمندگی اتنی تھی کہ کسی میں آگے بڑھ کر نایاب کے سر پر ہاتھ رکھنے کی
“میں چپ چاپ اوپر اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی کیونکہ آج میں دنیا کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
پر یہاں دنیا سے پہلے اپنے خاندان کی کڑوی باتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا مجھے یہ کیسے رشتے ہیں پھوپھو۔۔۔؟؟؟
آپ بھی ایک عورت ہیں بیٹیوں والی ہیں بتائیں کہ اس میں اس کی کیا غلطی ہے جس کے ساتھ یہ ظلم ہوجاتا ہے۔۔۔؟
خاندان وہ ہوتا ہے جہاں سب کسی چٹان کی طرح ایک دوسرے کی ہمت بنتے ہیں کسی مظبوط دیوار کی طرح کھڑے رہتے ہیں اپنوں کے سامنے رہتے ہیں ایسے ہزاروں طوفانوں میں۔۔۔۔
پر یہاں دنیا سے پہلے رشتے دار تیار رہتے ہیں کہ کب کسی کے ساتھ ایسا ہو کب موقع ملے ہمیں اس کی بے عزتی کرنے کا
پر مکافات عمل ہے یہ پھوپھو آپ چاہیں اپنا غصہ نکالیں غبار نکالیں دل کا پر میرے کردار پر انگلی اٹھانے کا میں آپ کو یا یہاں موجود کسی رشتے دار کو حق نہیں دیتی۔۔۔میری زندگی ان اصولوں پر ہے جن میں شرم و حیا شرط ہی نہیں لازم بھی رہی ہمیشہ سے
آپ سب کی تربیت میں رہی ہوں میں اور آج اس موقع پر میرے کردار کی گواہی نا سہی کم سے کم داغدار نا کیجیئے میرا کردار۔۔۔۔”
نایاب پھر سے نیچے بیٹھ گئی تھی
“ابو وہ رشتہ میری زندگی کا کوئی آخری رشتہ نہیں تھا اور نا ہی اسکے نا ہونے کی وجہ ہوں میں جو آپ دل چھوڑ بیٹھے ہیں اس طرح۔۔۔یہ مرحلہ سخت ضرور ہے پر اس سخت مرحلوں سے گزرنا ہماری آزمائش ہے ابو
امی کو یہ سب غلط سمجھ رہے ہیں ماں باپ کبھی اپنی اولاد کے لیے کچھ غلط نہیں سوچتے۔۔۔ بیٹیوں کے رشتوں کے معاملات میں اگر وہ کسی سے دھوکہ کھا کر بیٹی کی شادی کا فیصلہ کربھی دیتے ہیں تو یہ ماں باپ کی غلطی نہیں ہوتی اس میں جتنی بےگناہ میں ہوں اتنے ہی میرے ماں باپ بھی ہیں۔۔۔۔”
اس کی بات مکمل ہونے پر ایک دست شفقت کا ہاتھ کسی نے نایاب کے سر پر رکھا تھا
“تم جانتی ہو بیٹی میں اسکی دوست جو تمہاری دوست تھی۔۔۔
آج تم میں تمہاری دادی نظر آرہی ہے مجھے نایاب۔۔۔ تمہاری وہ دادی جو سب کے خلاف جاکر دلکش کو بہو بنا کر یہاں لائی تھی اس خاندان میں۔۔۔
اور تمہارے دادا کے انتقال کے بعد اس کی خواہش رد کردی تھی اور اس وقت سے اب خسارہ نصیب میں لکھ دیا گیا اس خاندان کے۔۔۔تم میری بچی اپنی دادی کی طرح انہیں سہی اسی جگہ لے جارہی ہو جہاں انہیں احساس ہو انکی غلطی کا۔۔۔اور یہ رشتہ نا ہونا اللہ کی طرف سے کوئی حکمت اور بہتری ہے تمہارے لیے۔۔۔ہمیشہ خوش رہو۔۔۔”
وہ نایاب کے ماتھے پر پیار دے کر التمش کی طرف جھکی تھیں۔۔۔
“التمش آج میں تم سے راضی ہوں بیٹا۔ تم نے نایاب کی اچھی تربیت کرکے دلکش اور اپنی ماں کی آنکھوں میں اپنے آپ کو سرخ روح کردیا ہے میرے بچے۔۔۔”
انکے قدم دلکش کی طرف بڑھے تھے جو اپنا سر جھکائے رو رہی تھیں کبھی حالات سے تو کبھی اپنی بیٹی کا مستقبل سوچ سوچ کر
“دلکش بچی تم تو پہلے سے ذیادہ خوبصورت ہوگئی ہو ہاں تھوڑی تھوڑی عمر رسیدہ لگ رہی ہو ان ہلکے ہلکے سفید بالوں میں۔۔۔”
انکے مذاق سے بہت لوگ ہنسے بھی تھے دلکش بیگم بھی روتی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اٹھی اور ان خاتون کے گلے لگ گئیں تھیں
بہت سے رشتے دار ان سب کو بہت ہمت حوصلے والے الفاظ بول کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
آج جہاں لوگوں نے انہیں باتیں سنا کر جانا تھا وہی لوگ نایاب کی باتوں سے اتنا ڈھل گئے تھے کہ انکے پاس صرد دعائیں تھیں کوئی طنز کوئی طعنہ نہیں تھا آج کہنے کو۔۔۔۔
۔
“ابو چلیں کمرے میں۔۔؟ کچھ کھایا آپ نے۔۔۔؟؟؟امی آپ بھی چلیں میرے کمرے میں۔۔”
وہ ابھی کچھ قدم آگے بڑھے تھے کہ زاران عابدی کی گونجتی آواز نے ان تینوں کو روک دیا تھا
“میں نایاب سے نکاح کرنا چاہتا ہوں التمش مامو۔۔۔”
“اور میں نہیں کرنا چاہتی زاران۔۔۔بس کیجیئے پلیز بہت ہوا زندگی میں میرے لیے اتنے تجربات کافی ہیں ابھی تک کے لیے۔۔۔اور نہیں میں یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں نہیں ہونا چاہتی۔۔۔ایم سوری پر مجھے نہیں کرنی شادی ابھی۔۔۔۔نا آپ سے نا کسی اور سے۔۔۔۔
اگر اس گھر میں میری ماں کے رہنے سے کسی کو بھی مسئلہ ہے تو میں انہیں لے جاؤں گی یہاں سے۔۔۔۔”
نایاب انکے ساتھ وہاں سے چلے گئی تھی التمش صاحب کے روم میں جن کے چہرے پر اب اداسی نہیں ایک مسکراہٹ تھی ایک راحت بھری مسکراہٹ۔۔۔۔
۔
۔
زاران عابدی ابھی بھی وہیں تھا۔۔۔۔ ایک بار پھر اسے ٹھکرا دیا تھا نایاب التمش نے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
وہ آج شام کے ٹھنڈے موسم تیز چلتی آندھی سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنے باغیچے میں تالاب میں دونوں پاؤں بھگوئے بیٹھ گئی تھی
اور گم ہوگئی تھی ماضی کی ان سوچوں میں
کچھ بہت پر سکون اور کچھ بہت اذیت دینے والی یادیں ماضی کی۔۔۔
پچھلے ایک مہینے سے وہ اپنی دنیا میں کھو سی گئی تھی کمرے سے باغیچے اور باغیچے سے اپنی بالکونی میں کچن تک جاتی بھی تھی تو تب جب اسے سے کسی کا سامنا نا ہو۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ کسی کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی۔۔۔
بس وہ کسی بحث مباحثے میں ملوث نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔
انیسہ پھوپھو کو روتے دیکھ وہ یہ تو سمجھ رہی تھی جو ہوا اس نے گہرے زخم دئیے سب کو۔۔۔۔
خاص کر اسکے امی ابو کو۔۔۔
اور اس نے یہ عہد کیا تھا افنان یوسف کو کبھی معاف نا کرنے کافی۔۔۔
۔
۔
“میں آپ سے کبھی کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتی اللہ پاک۔۔۔پر جو سب ہوا اس سب نے مجھ جیسی خود اعتماد لڑکی کو بہت دھچکا دیا ہے۔۔
کاش سب پہلے پتا چل جاتا میں کم سے کم مہو گفتگو تو نا بنتی سب کی ایک سرگرم موضوع کی۔۔۔
پہلے سیاہ رنگ کو لیکر مجھے نیچا دیکھانے کی کوشش کی دنیا نے
اب مجھے میری اس آزمائش کو میرے سیاہ نصیب کہہ کر نیچا دیکھانے کی کوشش کریں گے یہ دنیا والے۔۔۔۔”
بیٹھے بیٹھے شام اور ہوئی تو ایک خوبصورتی چھا گئی تھی ہلکے سرخ بادل موسم میں ایک لالی لے آۓ تھے نایاب تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر آسمان کی طرف مسلسل دیکھے جا رہی تھی آج کا یہ سہانا موسم اسکے اندر کی اداسی کو مٹانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔
۔
“زندگی میں کسی پر یقین کرنا مجھے اتنا بھاری پڑ گیا کہ خود پر میرا اپنا یقین ڈگمگا سا گیا ہے۔۔۔
پر میں جانتی ہوں یہ میری آزمائش ہے۔۔۔۔نایاب التمش اپنے رب کا صبروشکر کر کے اپنا یقین پھر سے کامل کروں گی مجھے یقین ہے اپنے رب پر اپنے آپ پر۔۔۔۔
یہ نکاح نا ہونا میری ناکامی نہیں چاہے لوگوں کو کچھ بھی لگتا ہو
نکاح والے دن لڑکے کا انکار کردینا کبھی اس لڑکی کی غلطی نہیں ہوسکتی کہ جس کی شادی ٹوٹی ہو۔۔۔ کچھ کم ظرف لوگوں نے ایک رسم بنا دی ہے اس دنیا میں کہ جس کا نکاح نہیں ہوا خطا بھی اسکی ہوگی یقینا۔۔۔
پر کوئی اس پر اسکے کردار پر انگلی نہیں اٹھاتا کہ جو حقیقی مجرم ہوتا ہے۔۔۔
اور جس پر یہ قیامت گری ہوتی ہے لوگ اسی کو اور دبانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔۔۔۔
یا اللہ یہ کیسے انسان ہیں۔۔۔؟؟ جہاں میرے رب نے منع فرمایا ہے اپنی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے سے
وہیں یہ لوگ اپنی زبان سے ایسے گھائل کرجاتے ہیں کہ لوگ حالات سے تنگ آکر لڑنے کے بجائے خود سوزی کرگزرتے ہیں۔۔۔
اور پھر وہی لوگ اپنی غلطی ماننے کے بجائے اور نئے الزامات کی لمبی لائن لگا دیتے ہیں اسکی میت کی تعزیت کرتے کرتے۔۔۔۔۔”
نایاب نے ایک سسکی بھری تھی دل منہ کو آیا تھا اسکی اپنی بات سے اسکا۔۔۔۔
“انسان کو کمزور نہیں ہونا چاہیے۔۔۔کبھی نہیں اگر ہم کمزور پڑ جائیں گے تو ہم موقع دہ دیں گے لوگوں کو ہماری عزت و نفس کو مجروح کرنے کا۔۔۔
افنان جیسے کتنے مرد معاشرے میں ہوں گے جو ایسے بھاگ جاتے ہوں گے
پر میری جیسی لڑکیاں بہت کم ہوتی ہوں گی جو بہادری کے ساتھ مقابلہ کرتی ہوں گی حالات کا۔۔۔پتا نہیں اتنی ظالم زبانوں نے کتنی معصوم جانوں کو سولی چڑھایا ہوگا صرف نکاح ٹوٹ جانے پر دلہے کے شادی والے دن نا آنے پر۔۔۔۔
یااللہ انسان بہت ظالم ہیں اس دنیا کے۔۔۔جہاں ساتھ کھڑے ہونا چاہیے وہاں ہوتے نہیں اور جہاں انکے ساتھ کھڑے ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہاں صف پر صف بھر دیتے ہیں ۔۔۔۔”
۔
دیکھتے دیکھتے رات ہوگئی تھی چاند نکل آیا تھا وہی منظر تھا جیسے وہ پہلے بیٹھتی تھی
پر آج وہ اداس ہوئی جا رہی تھی ان بچیوں کا سوچ سوچ کر کہ جن پر یہ قیامت کبھی گزری ہوگی تو کیا حالت ہوئی ہوگی انکی۔۔۔۔
“اور چاند میں گرہن کی تصویر آج پہلی بار بناؤں گی میں۔۔۔۔”
اپنا عکس دیکھ کر بے ساختہ مسکرا دی تھی وہ۔۔۔
اور پاس پڑی اپنی سکیچ بک کو اپنی گود میں رکھ کر کچھ بنانے لگ گئی تھی وہ۔۔۔۔
بناتے بناتے اس نے وہ موسم وہ بادل وہ تالاب کا منظر تو ڈرا کیا۔۔۔
پر آج وہ بالکونی بھی دوسرے صفحے پر بنا ڈالی تھی۔۔۔۔
وہاں پڑے تین مگ اور پلر کے پیچھے چھپے اس شخص کا نظر آتا ہوا کوٹ اور وہ پورا ہاتھ جس میں اب اسے کوئی انگوٹھی نظر نہیں آئی تھی جس نے اسے پچھلی ڈرائنگ پر بظاہر ہلکی سی تکلیف دی تھی۔۔۔۔
۔
“اور مجھے نہیں لگتا زاران عابدی مجھے اکیلا چھوڑنے والے ہیں کبھی۔۔۔
میں حیران ہوں ابھی تک کتنے کپ چائے کے پی لئیے ہوں گے انہوں نے۔۔۔؟؟
اور کس بیچارے کو کچن میں بار بار بھیجا ہوگا۔۔۔۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی ہنسی تھی زاران عابدی کے چہرے پر مسکان آگئی تھی تیز دھڑکن جیسے رکی تھی جب نایاب کی ذلفیں اڑکر چہرے کو چھپا گئی تھیں۔۔۔
۔
“اس زندگی میں تو تمہیں اپنا بنا کر رہنا ہے نایاب التمش۔۔۔۔”
۔
اور اگلے بہت سے گھنٹے جب تک وہ وہاں باہر بیٹھی رہی تھی زاران عابدی تھوڑی تھوڑی دیر بعد چاۓ منگواتا رہا تھا اور کھڑا رہا تھا اپنی بالکونی میں۔۔۔۔
وہ آسمان پر اس چاند کی خوبصورتی کو اپنی آنکھوں میں سما رہی تھی اور وہ اوپر کھڑا زمیں پر بیٹھی اسکی دلکشی کو۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم چلو میرے ساتھ ابھی کے ابھی ہم ڈاکٹر کے کلینک جا رہے ہیں”
“میں کہیں نہیں جا رہی افنان ہوش میں آؤ وہ اولاد ہے ہماری جسے آپ مارنے کی کوشش کرنے جارہے ہیں۔۔۔”
وہ چلا رہی تھی پر افنان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہورہا تھا وہ بازو سے پکڑ کر اسے زبردستی سیڑھیوں سے نیچے لا رہا تھا ان دونوں کی اونچی اونچی آوازوں سے سب گھر والے اپنے اپنے کمروں سے باہر آگئے تھے
افنان کا راستہ زیبا بیگم نے روک لیا تھا
“کہاں لے جا رہے ہو را گھر کی بہو کو۔۔۔۔۔۔”
انہوں نے افنان کے چہرے پر غصہ اور رانیہ کے بازو پر افنان کے ہاتھ کی گرفت دیکھ کر پوچھا تھا
“اوو بہو۔۔؟؟ امی آپ کو یاد آگیا یہ بہو ہے آپ کی۔۔۔۔؟ اور میں اپنی بیوی کو جہاں مرضی لے جاؤں آپ ہمارے نجی معاملات میں دخل اندازی نا کریں۔۔۔”
افنان نے راستہ بدل لیا تھا اور کچھ قدم اور چلاتی ہوئی رانیہ کو دروازے تک لے جا رہا تھا
“زیبا آنٹی پلیز افنان کو روکیں۔۔جو گناہ یہ کرنے جا رہے یہ قاتل ٹھہرائیے جائیں گے اللہ کی عدالت میں۔۔۔”
اس جملے سے یوسف صاحب بھی آگے بڑھے تھے اور افنان کا ہاتھ کھینچ لیا تھا رانیہ کے بازو سے
“یہ سب کیا کہہ رہی ہو بیٹا کونسا قتل۔۔؟ کہاں لے جا رہے ہو افنان بہو کو۔۔۔؟؟؟”
“میں آپ کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا ابھی مجھے جانے دیں آپ چلو رانیہ۔۔۔”
“کہاں لے جا رہے ہو اسے۔۔۔؟؟”
ازیان صاحب افنان کے سامنے سینہ چوڑا کئیے کھڑے ہوگئے تھے
“میں نہیں بتا سکتا۔۔۔”
افنان نظریں چرا گیا تھا سب سے اتنا پشیمان تھا وہ۔۔۔
“ابو امی مجھے افنان ڈاکٹر کے لے جا رہے ہیں انہیں روکیں پلیز ابو۔۔۔”
“کیوں لے جا رہا ہے ڈاکٹر کے بیٹا کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟”
یوسف صاحب نے بہت آرام سے بات کی تھی یہ پہلی گفتگو تھی جو وہ فیملی ممبر اپنے بیٹے اور اسکی بیوی سے دو ماہ کے بعد کر رہے تھے
“رانیہ ایک لفظ اور نہیں کہنا جاؤ گاڑی میں بیٹھو جاکر۔۔۔”
اس نے آنکھ سے اشارہ کیا تھا جو سب کو سمجھ آرہا تھا پر تجسس بڑھا دیا تھا افنان کی ہچکچاہٹ اور رانیہ کے خوف نے
“رانیہ بتائیں کیا بات ہے۔۔۔؟؟آپ کو افنان بھائی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
نورین بھابھی کے کہنے کی دیر تھی رانیہ زیبا بیگم کے گلے لگ کر رونا شروع ہوگئی تھی
“امی افنان۔۔۔۔افنان چاہتے ہیں جو اولاد ابھی پیدا نہیں ہوئی اسے یہ مارنا چاہتے ہیں”
“وٹ۔۔۔؟؟؟افنان۔۔۔۔؟”
“تم امید سے ہو بیٹا ہمیں پتا بھی نہیں۔۔۔؟”
زیبا بیگم کے چہرے پر خوشی چھا گئی تھی
“یہ کیا بکواس ہے افنان کس لیے بہو کو لے جا رہے ہو ڈاکٹر کے۔۔۔؟؟”
انہوں نے رانیہ کی بات سن لی تھی پر یوسف صاحب اپنے بیٹے کے منہ سے اس کی یہ حرکت سننا تھی انہیں
“آپ نے جو سنا وہی کرانے لے جا رہا ہوں میں چلو رانیہ۔۔۔۔”
“اتنی نیچ گری ہوئی حرکت اور گناہ کرنے جا رہے ہو تم بےشرم انسان وہاں اس لڑکی کی زندگی برباد کردی اور یہاں اسکی کر رہے ہو جسے بیاہ کر لاۓ ہوتم۔۔۔۔”
انہوں نے ہاتھ اٹھا دیا تھا اپنے بیٹے پر دوسری بار
“بس آپ خوش۔۔؟ ایک اور تھپڑ مار لیجئے پر یہ میری بیوی ہے میں نہیں چاہتا اس بچے کی خواہش نہیں مجھے۔۔۔رانیہ۔۔۔۔”
وہ طیش سے چلایا تھا جس پر سب ہی شوکڈ ہوۓ تھے
“نہیں جاۓ گی بہو۔۔۔اور کیوں کرنا چاہتے ہو تم ایسا گناہ افنان بس کر جاؤ ڈھل جاؤ۔۔۔رانیہ سے شادی کا فیصلہ تمہارا تھا اب اولاد کی ذمےداری سے کیوں بھاگ رہے۔۔۔؟؟؟”
زیبا بیگم کے سوال پر سب کی نگاہیں افنان کی طرف اٹھی تھیں
“میں اولاد کی نہیں۔۔۔ناجائز اولاد کی ذمےداری داری سے بھاگ رہا ہوں امی۔۔۔”
“افنان پلیز نو۔۔۔۔”
اب کی بار رانیہ نے نفی میں اشارہ کیا تھا آج دونوں میاں بیوی جو ایک دوسرے کا لباس تھے۔۔۔ایک دوسرے کو بےلباس کرنے پر تلے ہوۓ تھے۔۔۔
“افنان۔۔۔۔”
یوسف صاحب کا ہاتھ پھر سے اٹھا تھا۔۔۔۔
“گھٹیا پن کی سارے حدود پار کردی ہیں تم نے افنان بس کر جاؤ کیسی بکواس کر رہے ہو سب کے سامنے۔۔۔۔”
“ابو۔۔۔نایاب جیسی لڑکی نے میرا سچ جاننے کے بعد میری طرف دیکھا تک نہیں۔۔۔پر میری بدکاری اس نے آپ لوگوں کو بتائی بھی نہیں۔۔۔
پر میں آج وجہ بتاتا ہوں۔۔۔
یہ گناہ۔۔۔نکاح سے پہلے ہوا تھا مجھ سے۔۔۔
وہ گناہ جس کی لذت ت
نے بہکا دیا تھا مجھے۔۔۔ زنا جیسا گناہ ہوگیا مجھ سے ابو۔۔۔اب میں کیسے زندگی گزاروں اس بچے کے ساتھ جو نکاح سے پہلے میرا کردہ گناہ ہے۔۔؟”
۔
“آئی ہیٹ یو افنان۔۔۔۔ آج تم نے نا صرف ہماری اولاد کو گالی دی ہے بلکہ ہمارے رشتے کو بھی بے لباس کردیا ہے تم نے۔۔۔۔”
وہ چلی گئی تھی وہاں سے اوپر واپس اپنے کمرے میں روتے ہوئے۔۔۔
۔
“تم نے تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا ہمیں افنان اتنا بڑا گناہ کرڈالا تم نے اللہ کے غضب کو دعوت دے دی تم نے اس قدر بڑا گناہ ہوگیا تم سے۔۔۔۔
دلکش بھابھی نے سب رشتے توڑ دئیے نایاب کو کھو دیا ہم نے۔۔۔
تم نے اس زندگی کو جہنم بنا لیا جو جنت بننی تھی نایاب کے آنے سے۔۔۔
اب وہ بچی کہیں کسی کلینک نہیں جاۓ گی سنا تم نے اب بھگتو تم
اگر تمہارے حواس تمہارے قابو میں نہیں رہتے تھے تو تم شادی کر ہی کیوں رہے تھے۔۔۔؟؟ ایسے ہی جگہ جگہ منہ ماری کرتے رہتے
تماشہ بنا دیا اپنے ساتھ ساتھ سب کا۔۔۔۔”
وہ آج ملازمین کے ہونے نا ہونے کا بھی لحاظ نہیں کر رہیں تھیں جو منہ میں سخت سے سخت جملہ آرہا تھا وہ بول رہی تھی اور پھر وہ چلیں گئیں تھیں انکے جانے کے بعد افنان یوسف نے جان سا ہوکر پاس کرسی پر بیٹھا اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھنا شروع ہوگیا تھا
۔
اسے وہ جھلی لڑکی کی وہ معصوم مسکان یاد آرہی تھی جو اس دن مارکو کے آڈوپشن پر دے رہی تھی وہ پورے آفس کو۔۔۔۔
۔
۔
“انسان سمجھتا ہے اسکے گناہ جو اسے چھوٹے چھوٹے لگتے ہیں کرتے ہوئے
پر جب وہی گناہ پہاڑ جیسے بن کت سامنے آجاتے ہیں تو احساس دلاتے ہیں وہ چھوٹے گناہ درحقیقت ہی اسکے سب سے بڑے گناہ ہوتے ہیں جیسے زنا۔۔۔
نکاح سے پہلے جس گناہ سے آپ کو لذت ملتی ہے پل بھر کی وہ لذت کیسے پچھتاوا بن جاتی ہے اسے پتا نہیں چلتا۔۔۔
پتا تب چلتا ہے جب وہ گناہ سب کے سامنے عیاں ہوجاتا ہے آپ کے وہ انمول رشتے چھوٹ جاتے ہیں اسکی کردہ گناہ کی وجہ سے۔۔۔
وہ خوشیاں ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل جاتی ہیں جن کو پانے کے لیے کبھی آپ نے اتنی تگ ودو کی ہوتی ہے پر وہ ایک گناہ کی وجہ سے سب چھین جاتا ہے آپ سے۔۔۔آپ بس ہاتھ ملتے رہ جاتے ہو۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مجھے بہت اچھا لگا یہ سن کر آپ کی بیٹی بھی نعمان سے شادی کے لیے راضی ہوگئی ہے۔۔۔آپ کو جو وعدہ میں نے کیا تھا اسکے مطابق آپ کو اس کا معاوضہ ضرور ملے گا کل ملازم کے ہاتھوں ایک بلینک چیک بھجوا رہا ہوں نعمان ایک اچھا لڑکا ہے آپ کی بیٹی بہت خوش رہے گی وہاں۔۔۔”
جیسے پیچھے کوئی کھڑا ہوا اسے محسوس ہوا تھا اس نے جلدی سے فون بند کرکے پیچھے دیکھا تھا
‘اوو امی آپ۔۔۔؟؟ جان نکال دی ایک پل کو لگا۔۔۔۔”
کہتے کہتے وہ چپ ہوا تھا جب اسے لگا اس نے کچھ زیادہ بول دیا ہڑبراہٹ میں
“ایک پل کو لگا کہ کہیں نایاب نے تو تمہاری باتیں نا سن لی ہوں۔۔۔؟
نعمان کی شادی کے لیے تم نے پیسے دئیے لڑکی والوں کو۔۔۔؟
تم نہیں چاہتے تھے نایاب کے آنے پر کوئی بھی رشتہ آۓ اسکے لیے زاران۔۔۔؟؟”
دونوں بازو فولڈ کئیے وہ زاران کے سامنے کھڑی ہوگئی تھیں۔۔۔
“وہ۔۔۔امی دراصل۔۔۔”
“افنان کی اور نایاب کی شادی کو توڑنے میں بھی تمہارا ہاتھ ہے زاران۔۔۔؟؟؟”
زاران نے بنا کچھ کہے منہ پھیر لیا تھا
“زاران مجھے سچ بتاؤ بیٹا کہو کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔۔۔
نایاب کی اتنی بدنامی کی وجہ تم نہیں تھے خاندان کی اتنی بدنامی تمہاری وجہ سے نہیں ہوئی۔۔۔”
۔
“امی۔۔۔افنان کی پہلی محبت کو میں نے یہاں بلایا ضرور تھا پر اس رات ان دونوں کے درمیان جو ہوا وہ ان دونوں کی رضا مندی تھی۔۔۔وہ ہماری نایاب کو ڈیزرو نہیں کرتا تھا امی۔۔۔”
“اور تم اسے ڈیزرو کرتے ہو۔۔؟ کبھی کوئی موقع چھوڑا تھا تم نے اسکے سیاہ رنگ پر طعنہ دینے کا۔۔؟ کبھی میٹرک پاس ڈھونڈنے کے مشورے دیتے تھے تو کبھی خاور کا رشتہ لیکر آۓ تھے تم ڈیزرو کرتے ہو اسے۔۔۔؟
تم نے جو بھی کیا زاران غلط کیا نعمان کے رشتے کے لیے پیسے دئیے اور افنان اور نایاب کی شادی ٹوٹنے کی وجہ بھی تم ہو
اور تمہیں پتا ہے۔۔۔میں اپنی جوان اولاد پر ہاتھ بھی نہیں اٹھا سکتی زاران یہ جو تم نے کیا ہے یہ غلط ہے گناہ ہے۔۔۔
تمہیں لگتا ہے ایسے نایاب تمہیں مل جائے گی زاران۔۔۔۔؟”
غصہ کرتے کرتے لہجہ انکا نرم ہوگیا تھا اپنے جوان بیٹے کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر۔۔۔
“امی وہ جو میری نہیں ہوسکی وہ کسی اور کی بھی نہیں ہو پائی کیونکہ وہ میری “قدر” ہے امی اللہ نے اسے میری قدر میں لکھا ہے۔۔۔
جیسے میں کسی کا نہیں ہو پایا۔۔۔۔
ہاں میں مانتا ہوں میں نے نعمان کی رشتے کے لیے پیسوں کی پیشکش کی تھی لڑکی والوں کو میں نے رانیہ کو پاکستان بلایا تھا یہ سب میں نے صرف نایاب کو۔۔۔۔۔”
کمرے کے باہر کچھ گرنے کی آواز سے زاران اور انیسہ بیگم کی نظریں باہر گئیں تھیں زاران جلدی سے باہر گیا تو باہر کوئی نہیں تھا پر روم کی دیوار پر جو فوٹو فریم تھا وہ نیچے گر کے ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔
“یا اللہ ایک نئی پریشانی۔۔۔۔زاران کسی نے ہماری باتیں سن لی ہیں۔۔۔
اور تم نہیں جانتے بیٹا آدھی ادھوری باتیں کیا کچھ کروا دیتیں ہیں۔۔۔”
وہ زاران کی طرف متوجہ ہوئی تھی پر زاران بلکل چپ تھا۔۔۔
ہاں اسکے دل میں ایک ڈر لاحق ضرور ہوگیا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی آپ نے نماز پڑھ لی ہے۔۔۔؟؟؟”
نایاب جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو دلکش بیگم جاۓ نماز تہہ کر کے رکھ رہیں تھیں
“بس ابھی ابھی پڑھی بیٹا آؤ بیٹھو۔۔۔”
“نہیں امی آپ ساتھ چلیں ہم ڈنر نیچے سب کے ساتھ کریں گے۔۔۔”
“پر بیٹا میرا نیچے جانا مناسب نہیں آج سب لوگ اکٹھا ہوکر کچھ ضروری بات کرنے والے تھے میں باہر کی ہوں میری بچی تم جاؤ میں یہیں کر لوں گی۔۔۔”
“نہیں آپ اپنی ہیں چلیں پلیز۔۔۔جو ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں تھا آپ کیوں نظریں چرا کر اپنے آپ کو کمزور ثابت کر رہی ہیں سب کے سامنے۔۔۔؟”
کچھ دیر اور بحث مباحثہ کرنے کے بعد نایاب نیچے لے گئی تھی پر نیچے سب کی اونچی آوازیں سننے کے بعد وہ اور دلکش بیگم لیونگ روم کے دروازے پر کھڑے ہوگئے تھے
“آفاق بھائی میری بھانجی سویرا اور زاران کا رشتہ ہوجانا اور مظبوط کرے گا دونوں بہن بھائیوں کے رشتے کو۔۔۔
اور جو خاندان کا نام خراب کر رہے ہیں لوگ وہ بھی چپ ہوجائیں گے۔۔۔”
۔
“آپ کو تب یہ باتیں یاد نہیں آئی تھی جب آپ کی بھانجی بھاگ۔۔۔”
“بس زاران۔۔۔۔ کیا غلط کہہ رہے ہیں سب۔۔۔؟ دیکھو بیٹا کوئی ایک فیصلہ تمہیں آج کرنا ہی ہوگا تاکہ سویرا کے ماں باپ اسکے لیے رشتہ ڈھونڈ کر شادی کریں اسکی۔۔۔۔”
آفاق صاحب کی بات پر سواۓ انیسہ بیگم کے سب لوگ مطمئن تھے
“سہی کہا میں تو کہتی ہوں انیسہ باجی دیر مت کریں سویرا کو اپنی بہو بنانے میں۔۔۔۔”
سویرا کزنز میں بیٹھی شرما رہی تھی جب زاران کی نظریں دروازے پر کھڑی نایاب پر اور دلکش بیگم پر پڑی تھی اسے شدید قسم کا غصہ آیا تھا۔۔۔
آج سب خاندان والے اسکی مرضی جاننا چاہتے تھے پر اسکی نگاہیں سامنے کھڑی ایک پتھر دل لڑکی کے جواب کی منتظر تھیں
“میں نایاب التمش سے شادی کرنے کا خواہش مند ہوں۔۔۔
اگر نایاب التمش ماموں اور دلکش آنٹی آج انکار کردیں گے تو میں اسی ہفتے سویرا سے شادی کرلوں گا۔۔۔۔”
اب اس سے ہٹ کر سب کی نظریں نایاب پر تھیں۔۔۔
“زاران ایک بار پھر انکار سن کر میرے پاس آؤ گے تم۔۔۔۔”
سویرا دل ہی دل میں ہنس دی تھی جیسے اور بہت سے لوگ کیونکہ سب کو پتا تھا نایاب زاران کو پھر سے ٹھکرا دے گی۔۔۔۔۔۔
“نایاب بیٹا۔۔۔۔”
انیسہ بیگم نے بہت امید سے نایاب کا ہاتھ پکڑ تھا
“پھوپھو ۔۔۔۔ مجھے اس رشتے سے کوئی انکار نہیں اگر میرے ماں باپ راضی ہیں تو میں بھی زاران کے ساتھ شادی کے لیے راضی ہوں۔۔”
نایاب نے نظریں اٹھا کر دیکھا تھا زاران کی طرف جو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا اسکا چہرہ کھل اٹھا تھا بلکل اسی طرح جیسے باقی سب کا مرجھایا تھا
“لیکن میری ایک شرط ہے”
“یا اللہ یہ ایک دن ضرور ہارٹ اٹیک کروائے گی شادی ہوئی نہیں اور شرطیں شروع۔۔۔؟؟؟؟”
زاران نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا پر قہقہوں کی آواز سے اسے یقین ہوگیا تھا کہ اسکی بات سب نے سن لی تھی
“کیسی شرط بیٹا۔۔۔؟؟”
آفاق صاحب نے آگے بڑھ کر پوچھا تھا راحیل صاحب تو ہل نہیں پاۓ تھے اپنی جگہ سے
“شرط یہ ہے شادی بہت سادہ طریقہ سے ہونی چاہیے اور اس بار منگنی نہیں ہوگی۔۔۔کیونکہ یہ رسم ہم دونوں کو راس نہیں ہے۔۔۔۔
منگنی ہو کر شادی تک بات کا نا پہنچنا کتنی تکلیف پہنچاتا ہے زاران عابدی بہتر جانتے ہیں۔۔۔۔
میں چاہتی ہوں پہلے نکاح ہو پھر باقی کی رسومات۔۔۔ باقی جو فیصلہ میرے گھر والوں کا ہوگا وہ مجھے منظور ہوگا۔۔۔۔”
نایاب جلدی سے یہ کہہ کر بھاگ گئی تھی وہاں سے۔۔۔۔۔
“نازو مٹھائی لاؤ بھئ بات پکی ہوگئی ہے میرے زاران کی۔۔۔۔”
بہت پرجوشی سے انیسہ بیگم نے زاران کو اپنے گلے لگایا تھا جو ابھی بھی شوکڈ کھڑا تھا
“امی وہ مان گئی آپ نے سنا۔۔۔؟ اب ہمارے بچوں کا بٹوارا نہیں ہوگا۔۔۔”
زاران کی بات سے چند ایک افراد کھل کر ہنسنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: