Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 2

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 2

–**–**–

نایاب تمہیں پتا ہے زاران کی منگنی ہو رہی ہے آج۔۔۔
پر تم سے نہیں سویرا سے۔۔۔ یو نو بیوٹی ود برین”
نایاب نے کاپی کا صفحہ پلٹ کر دیکھا تو دروازے پر سحر باجی کھڑی تھیں چھوٹے چاچو کی بیٹی
“سحر باجی میں بھی سوچ رہی تھی ابھی تک آپ کیوں نہیں آئی۔۔۔؟؟
آئیے آئیے۔۔۔ تو آپ آج لیٹ ہوگئی ہیں۔۔؟ سمجھ سے بالاتر ہےآپ سب باری باری آکر مجھے زاران کی منگنی کا سنا رہیں ہیں ایک ساتھ آجایا کریں۔۔۔”
نایاب نے ہنسی چھپاتے ہوئے کاپی پر پھر سے لکھنا شروع کیا تھا۔۔
پر سامنے کھڑی سحر باجی کو نایاب کا دو ٹوک جواب نہایت ناگوار گزرا جس پر چند قدم آگے بڑھ کر انہوں نے نایاب کا چہرہ اپنے ہاتھوں کی مظبوط گرفت میں لے لیا تھا۔۔
“نایاب اپنی تیز زبان کے وار مجھ پر نا کرو لڑکی آج تو غرور ٹوٹا ہے تمہارا۔۔۔
چار سال جس کی راہ دیکھی وہ واپس لوٹ کر آیا بھی تو کسی اور کے لیے۔۔؟
جب سویرا بتاتی تھی زاران اور وہ باہر کتنے نزدیک ہوئے۔۔اس وقت تو تم بہت اتراتی تھی یہ کہہ کر کے زاران ایسا نہیں ناؤ وٹ۔۔۔؟؟”
نایاب کی آنکھوں میں ایک ایسا جذبہ ایک ایسا درد سحر باجی کی بات سن کر ابھرا ضرور تھا پر کچھ سیکنڈ کے لیے۔۔
“سحر باجی مجھ سے زیادہ دکھ آپ لوگوں کو ہورہا ہے شاید۔۔
مجھے چار سال سے انتظار نہیں تھا۔۔۔نا میں رکی تھی نا میری دنیا۔۔
اگر زاران چار سال سے سویرا کے نزدیک ہوئے تو انکے لیے اچھی بات ہوئی نا منگنی ہو رہی۔۔
پر انکی منگنی سے میرے لیے کیا برا ہوا۔۔؟ سوائے آپ گھر والوں کے طنز اور طعنوں سے۔۔؟
مجھے دیکھیں میں کیا دکھی بکھری ہوئی روتی ہوئی لگ رہی ہوں۔۔؟؟”
سحر پوری طرح سے ہکی بکی رہ گئی تھی نایاب کی باتیں سن کر۔۔
پر سحر باجی کو زیادہ چوکنیہ نایاب کی اس گرفت نے کیا تھا جوسحر کے اس ہاتھ پر تھی جو نایاب کے چہرے کو پکڑے ہوئے تھا۔۔
“سحر باجی اگر آج آپ کی جگہ میری سگی بہن مجھے اس طرح سے پکڑے ہوتی تو شاید میں صبر کر جاتی۔۔۔پر آپ۔۔۔آپ میری کزن ہیں۔۔
رشتوں کی حدود ہوتی ہیں باجی۔۔۔ جو رشتے باتوں سے اذیتوں تک آجائیں انہیں حیثیت یاد دلا دینی چاہیے۔۔۔جیسے کہ اب آپ ہیں۔۔۔
ہمارے رشتے کا حسن خوش اخلاق بات چیت تھا۔۔۔ پر آپ نے باضابطہ ہاتھ اٹھا کر وہ ختم کر دیا ہے۔۔۔”
نایاب کی مظبوط گرفت کا اندازہ اسے ہوگیا تھا جب سحر باجی کے چہرے پر درد جھلکا تھا۔۔
“اب آپ جائیے۔۔۔اور باقی کا کوٹہ زاران کی منگنی کے بعد سویرا کے ساتھ آکر پورا کر لیجیئے گا۔۔۔”
اور نایاب نے مسکراتے ہوئے وہ ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔۔
“نایاب تمہیں تو میں۔۔۔”
“بس سحر۔۔۔ بہت ہوا اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔”
چھوٹی چاچی انیسہ پھپھو کے ساتھ دروازے پر کھڑی تھیں۔۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔آپ لوگ تو غضب لگ رہیں ہیں۔۔۔لیڈیز۔۔۔”
نایاب اٹھ کھڑی ہوئی اپنی جگہ سے اور چمک آگئی تھی پھپھو اور چاچی کو سجے سنورے دیکھ کر۔۔۔
یہ نایاب التمش تھی۔۔۔یہ اسکا دل تھا جو ایک پل کو یاد رکھتا تھا پھر وہ ویسی ہوجاتی تھی۔۔
چاہے گھر کے بڑے ہوں یا چھوٹے۔۔۔۔
“بیٹا تم نے تیار ہونا شروع نہیں کیا ابھی تک۔۔؟”
پھپھو نے نایاب کے چہرے پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔۔
“پھپھو میری کونسی منگنی ہے آج۔۔ مجھے تیاری کی کیا ضرورت۔۔میں بس حاضری لگوانے آجاؤں گی۔۔۔”
نایاب نے نظریں چرائے اپنی بکس اکھٹی کرنا شروع کر دی تھی بستر سے۔۔
“نایاب سحر کی بات کا بُرا نا مناؤ بیٹا وہ بس۔۔۔”
“چاچی نہیں میں نے برا نہیں منایا۔۔۔ہاہاہاہا البتہ وہ برا منا گئیں ہیں۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔انیسہ میں کہتی ہوں نا ہماری نایاب بہت نایاب ہے۔۔۔اب میں سکون کے ساتھ فنکشن اٹئینڈ کر سکتی ہوں۔۔۔”
چاچی نایاب کے سر پر پیار دئیے وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
“پھپھو۔۔۔ ابھی آپ بھی جائیے۔۔۔میں نہیں چاہتی دنیا سے ایک اور الزام اپنے سر لے لوں کے آپ اپنے بیٹے کی منگنی پر میری وجہ سے نہیں وقت پر پہنچی۔۔۔”
نایاب نے برو اچکا کر کہا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔لڑکی دنیا کا کام یہی ہے جینے نا دینا۔۔۔”
پھپھو نایاب کو اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھا چکی تھیں۔۔۔
“اگر آپ معافی تلافی ماانگنے والی ہیں تو لڑکی میں بتا دوں ایسا نا کیجئیے گا۔۔۔”
“ہاہاہاہا لڑکی اور میں۔۔؟”
پھپھو سامنے شیشے میں خود کو دیکھ کر مسکرا دی تھی نایاب کی بات پر
“ہاہاہاہا زیادہ خوش نا ہوئیے آپ پھپھو جان۔۔مسکا لگا رہی آپ کو کمرے سے بھیجنے کا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔لیکن اچھی تو میں لگ رہی ہوں ویسے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
نایاب کے چہرے پر مسکان لانے میں کامیاب ہوگئیں تھیں انیسہ۔۔۔
“نایاب۔۔۔میری بچی۔۔۔اگر تم ایک بار بس ایک بار ہاں کر دو تو یہ منگنی نہیں ہونے دوں گی میں۔۔۔ “
“اور زاران کا کیا۔۔؟؟”
“زاران وہی کرے گا جو میں کہوں گی بیٹا۔۔۔”
“پر زاران کا دل وہ کرے گا جو انکی چاہت ہے”
انیسہ پھپھو نے بھی گہرا سانس بھرا تھا نایاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینے سے پہلے۔۔۔
“پھر میں کیا کروں میری بچی۔۔؟ چار سال تم نے زاران کی راہ دیکھی چار سال سے
تمہارے لیے آنے والے ہر رشتے سے انکار کیا ہم لوگوں نے۔۔۔
چار سال انتظار میں گزر گئے تمہارے۔۔۔”
۔
“پھپھو۔۔۔میں ابھی بھی یہی کہوں گی کہ چار سالوں میں میری زندگی رکی نہیں تھی۔۔۔
چل رہی تھی۔۔ میں نے تعلیم مکمل کی میں نے گھر ہستی سنبھالی۔۔سب کے ساتھ ہر پل ہر لمحہ ا ینجوائے کیا۔۔۔
سانسیں چلتی رہی میں چلتی رہی۔۔۔زندگی نہیں رکی پھپھو اور زندگی رکتی بھی نہیں ہے،،،”
چہرے کے تاثرات یک دم سنجیدہ ہو گئے تھے نایاب کے جیسے اس نے پھپھو کے ہاتھ پر اپنی گرفت مظبوط کی۔۔۔
“پھپھو زندگی اس وقت رک جانی تھی جب زاران کے دل میں کوئی اور رہتا اور نکاح میں میں۔۔۔
زندگی نےاس وقت تھم جانا تھا جب ان کے ساتھ میں ہوتی اور انکی نگاہیں کسی اور پر۔۔۔
زندگی ایسے نہیں رکتی۔۔۔۔پر ویسے رک جانی تھی۔۔۔جب آپ زبردستی باندھ دئیے جاتے ہیں کسی کے ساتھ۔۔۔جیسے آپ زاران کے ساتھ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔
میں زاران کے بغیر خوش ہوں پر شادی کے بعد انکی پسند جان لینے کے بعد میں نےشاید مر جانا تھا۔۔ گھٹ گھٹ کر جینا تھا۔۔۔
اب دیکھیں میرے چہرے پر کہیں کوئی پریشانی ہے۔۔؟ میں مطمئن ہوں
اور نیک دعائیں ہیں میرے دل میں زاران اور سویرا کے لیے۔۔۔
اور میرے بتیس دانت بھی نکل رہیں ہیں۔۔۔”
نایاب نے آخر والی بات پر اپنے دانت نکال کر پھپھو کو دیکھائیں تھے۔۔۔
جو روتے روتے ہنس دی تھیں۔۔۔
“اوووہ نایاب میری بچی۔۔۔ تم چاہے جتنا مرضی خوش ہوکر دکھا دو میں جانتی ہوں تمہیں میری بچی۔۔۔”
پھپھو نے یہ کہتے ہی اسے گلے لگایا تھا بہت گرم جوشی سے۔۔۔ جس نے پھپھو کے گلے لگتے ہی آنکھیں بند کر لی تھی،،،
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ فنگشن ہماری فیملی کا پہلا فنگشن ہے۔۔۔ جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں آج میری بیٹی کی منگنی میرے بھتیجے زاران عابدی کے ساتھ تہہ پائی ہے۔۔۔
میں اپنی بہن انیسہ اور بہنوئی آفاق عابدی کو سٹیج پر بلانا چاہوں گا۔۔۔”
راحیل صاحب کی بات کے اختتام پر تالیوں کی آواز گونج اٹھی تھی۔۔۔
۔
“زاران عابدی اور سویرا راحیل کو سٹیج پر بلایا گیا تھا۔۔۔
انیسہ بیگم کی نگاہیں شرمندہ تھیں وہ کبھی ویل چئیر پر اپنے معذور بھائی پر جا پڑتی تھیں تو کبھی اپنی بھتیجی کو ڈھونڈتی تھیں۔۔۔ جو ابھی تک ہال میں نہیں آئی تھی۔۔۔
۔
اور جب نایاب التمش ہال میں آئیں تو چاچو کے بیٹے نے شرارت کرتے ہوئے عین ٹائم پر وہ سپوٹ لائٹ سویرا سے ہاٹ کر داخلی راستے پر کی تھی جہاں سے نایاب اندر داخل ہو رہی تھی۔۔۔
اور زاران رنگ پہناتے ہوئے رک گیا تھا۔۔۔
“دیکھ لوں گی تمہیں۔۔۔کل اکیڈمی تو میرے پاس ہی پڑھنا ہے نا۔۔؟؟”
نایاب نے تھپڑ کا اشارہ کرتے ہلکی آواز میں کہا تھا۔۔۔
اور سب کی نظروں کو اگنور کرتے ہوئے کھانے کی میز پر چلی گئی تھی۔۔۔
“زاران بیٹا۔۔۔رنگ پہناؤ۔۔۔”
آفاق صاحب نے اپنے بیٹے سے کہا تھا جس کی نظریں واپس سویرا پر آگئی تھیں۔۔۔
۔
“اتنا زیادہ کھانا۔۔۔۔”
نایاب نے پوری پلیٹ پھر لی تھی اور کونے پر جا کر بیٹھ گئی تھی جیسے اسے پھر سے اتنا کھانا دیکھنے کو بھی نہیں ملنا تھا۔۔۔
۔
۔
“تالیوں کی آواز گونجنے پر نایاب نے سٹیج کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھا جہاں سویرا شرمائے سر جھکائے کھڑی تھی اور زاران سینا چوڑہا کئیے کھڑا تھا۔۔
اور سینا چوڑہا ہوتا بھی کیوں نا سویرا پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔
۔
نایاب نے واپس نظریں پلیٹ کی طرف کر لی تھیں۔۔۔
۔
۔
“نایاب زاران جب واپس آجائے گا نا ہم بہت بڑا فنگشن رکھیں گے۔۔۔
تم ایسے سج سنور کے میرے زاران کے ساتھ کھڑی ہوگی۔۔۔
اس وقت سب فیملی والوں کے منہ بند ہوجائیں گے بیٹا۔۔۔”
پھپھو کی باتیں گونج رہی تھی نایاب کے کانوں میں۔۔۔
“نایاب التمش۔۔۔ میں تمہیں اس چھوٹی سی انگوٹھی کے ساتھ قید کرنا چاہتا ہوں۔۔
اور بتانا چاہتا ہوں دنیا کو کہ تم زاران عابدی کی چاہت ہو۔۔۔پسند ہو زاران عابدی کی”
۔
اور وہ ایک خواب جو وہ ناجانے کتنے سالوں سے دیکھ رہی تھی وہ دھندلا رہا تھا ۔۔
اور ایک ایک کر کے اسکی آنکھوں سے وہ قطرے نکل رہے تھے۔۔
اس نے منہ پھیر لیا تھا۔۔۔
نایاب التمش مرتی مر جائے گی پر کسی کے سامنے کمزور نہیں پڑے گی۔۔۔
۔
“آج اسے کسی نے نہیں اسکے اس دھوندلے خواب نے آبدیدہ کیا تھا۔۔
اس لیے وہ خواب نہیں دیکھنا چاہتی تھی کبھی بھی۔۔
وہ یہ سمجھتی تھی کہ ہمیں لوگ نے ہماری اپنی امیدیں رلا دیتی ہیں جو ہم وابستہ کر لیتے ہیں۔۔۔”
۔
“نایاب بیٹا آؤ زاران اور سویرا کے ساتھ تصویر نہیں بنواؤ گی۔۔۔۔؟؟؟”
پھپھو کے بلانے پر نایاب کو وہ پلیٹ مجبورا وہاں رکھ کر سٹیج پر جانا پڑا جہاں سویرا کے چہرے پر جیت کی خوشی نمایاں تھی۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔بہت بہت مبارک ہو آپ دونوں کو۔۔۔۔۔”
“وعلیکم سلام۔۔۔۔سویرا میرے دوست آگئے ہیں میں ابھی آیا۔۔۔۔۔”
زاران نایاب کو نظر انداز کر کے چلا گیا تھا۔۔۔۔
“اوووہ نایاب۔۔۔دیکھا تمہاری موجودگی بھی نہیں بھاتی زاران کو دیکھو تو کیسسے چلا گیا۔۔۔۔
اور تم سپنے سجائے بیٹھی تھی کہ وہ تمہیں اپنائے گا۔۔۔۔۔”
“نایاب بیٹا آؤ میں تمہیں اپنی دیورانی سے ملواؤں۔۔۔۔”
پھپھو نے نایاب ک ہاتھ پکڑ لیا تھا انہوں نے سن لی تھی سویرا کی باتیں
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اب تم بیچلر نہیں رہے مائی ڈیئر فرینڈ۔۔۔۔۔”
“لکی مین۔۔۔سویرا بھابھی بہت خوبصورت ہیں۔۔۔۔”
زاران اپنے کزنز اور فرینڈز کے ساتھ اوپر جشن منا رہا تھا اپنی منگنی کا۔۔۔
“زاران اگر ڈرنکس میں کچھ اور مل جاتا تو مزہ آجاتا۔۔۔”
زاران کے کزنز نے حیرانگی سے زاران کے دوستوں کو دیکھا تھا۔۔۔
“یہاں یہ سب نہیں ہوتا اظہر۔۔۔۔”
زاران نے سختی سے کہا تھا جس پر اسکے دوست چپ ہوگئے تھے
“ارے یار ویسے وہ بلیک بیوٹی تمہاری کزن ہے جس کے بارے میں سویرا بتاتی تھی۔۔۔؟؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ہاں یار اس سے تو ملواؤ ہمیں۔۔۔۔ کیا پتا ہمیں پسند آجائے۔۔۔”
زاران کے کزنز غصے سے اٹھ گئے تھے۔۔۔۔
پر زاران وہیں بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
“وہ بلیک بیوٹی بہن ہے ہماری۔۔۔۔آپ لوگ چاہے باہر پلے بڑھے ہو ماڈرن ہو۔۔۔
پر جس طرح ہمارے خاندان کی لڑکیاں آپ لوگ یہاں ڈسکس کر رہے ہیں اگر زاران بھائی کے دوست نا ہوتے تو ابھی نکال باہر کرتا۔۔۔۔۔”
یہ وہ کزن تھا جو کچھ دیر پہلے سپوٹ لائٹ ڈال کر نایاب کو تنگ کر رہا تھا۔۔۔
جو ہر وقت فن اور مذاق کے موڈ میں رہتا تھا پر آج شدید ترین غصے میں کھڑا تھا۔۔۔۔
“ساحل۔۔۔۔میرے دوست ہیں وہ۔۔۔۔”
زاران نے بہت سخت لہجے سے کہا تھا۔۔۔۔۔
“اور وہ میری بہن ہے زازان بھائی۔۔۔۔ آپ بھی چار سال پہلے ایسے ہی تھے۔۔۔
اب باہر کا پانی راس آگیا ہے تو کیا۔۔۔؟؟ آپ اپنے دوستوں کو حدود تک محدود رکھے۔۔۔”
وہ تینوں کزنز چلے گئے تھے وہاں سے
“ہاہاہاہا اسے کیا ہوا۔۔۔۔سویرا تو کہہ رہی تھی اس بلیک بیوٹی کو کچھ کہنے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔کہیں اسکا کچھ چکر تو نہیں اس بلیک۔۔۔”
“شٹ اپ اننف۔۔۔۔میں خاموش ہوں اسکا مطلب یہ نہیں تم میری عزت کی دھجیاں اڑاؤ۔۔۔۔”
اپنی کولڈ ڈرک کا گلاس غصے میں پھینک دیا تھا اس نے۔۔۔۔
“پر زاران سویرا نے تو۔۔۔۔۔”
“سویرا نے غلط کیا گھر کی عزت باہر اچھال کر۔۔۔۔”
زاران کے غصے پر اسکے تمام دوست چپ ہوگئے تھے۔۔۔
“پر زاران تمہارے سامنے سویرا کے بارے میں بھی ہم ایسے ہی بات کرتے آۓ تب تو غصہ نہیں آیا۔۔۔۔آج اپنی دوسری کزن کا سن کر کیوں آگ بگولہ ہورہے۔۔۔۔؟؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ کہیں دکھتی نبض پر ہاتھ تو نہیں رکھ دیا۔۔۔؟؟”
“وٹ رببیش یار۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔”
۔
۔
وہ سب پھر سے ویسے ہی ہوگئے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔
پر زاران عابدی کو ابھی بھی وہ بات بے چین کر رہی تھی۔۔۔اسکا یوں غصہ کرنا اپنے دوست پر۔۔۔جوپ اس نے کبھی سویرا کو لیکر بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔”
۔
زاران اب غصہ چھوڑ بھی دو پلیز۔۔۔۔۔”
“سویرا تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا غیر لوگوں کو گھر کے معاملات بتانے کا۔۔۔۔۔”
“غیر لوگ۔۔۔؟ وہ دوست ہیں ہمارے اور۔۔۔۔زاران نایاب کی بیوٹی کونسا چھپی ہوئی۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ویسے بھی تمہیں وہ نہیں پتا جو مجھے پتا ہے۔۔۔”
زاران نے سوالیہ نظروں سے پوچھا اس سے جس پر وہ بہت ہنسی تھی۔۔۔۔مذاق بناتے ہوئے۔۔۔۔
۔
“زاران تم جانتے ہو وہ بہن جی تمہیں پسند کرتی آئی بچپن سے۔۔۔
اور پھپھو نے بھی بات پکی کر لی تھی تایا جان سے۔۔۔
وہ تو تم نے اپنی بزنس ٹرپ سے واپس آکر مجھ سے شادی کا اظہار کردیا سب کے سامنے ورنہ وہ تو کیا کیا خواب بُن بیٹھی تھی۔۔۔۔
تم جیسے چاند پر اپنی سیاہ رنگت کا گرہن لگانے کے لیے۔۔۔۔”
اس نے اپنی بات زور دار قہقہے کے ساتھ ختم کی تھی
پر سامنے بیٹھے اپنے منگیتر پر اس نے ایک آسمان گرا دیا تھا
جو بظاہر کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔۔اس ایک انکشاف پر وہ غصہ بھی تھا اور خوش بھی۔۔۔۔
اسکی رؤب دار شخصیت ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
پر اب اسکی توجہ کا مرکز سامنے میز پر پڑا لیپ ٹاپ نہیں۔۔۔۔
اس کی کزن تھی۔۔۔۔
“زاران کہاں کھو گئے۔۔۔۔؟؟”
گہرا سانس لئیے وہ اپنے الفاظ جمع کر رہا تھا جیسے وہ وہ اپنا غصہ عیاں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
“میں یہ سوچ رہا ہوں کیسے اتنی پارسا لڑکی کسی نامحرم کو پسند کر سکتی ہے۔۔۔؟؟ میں جب جب اس کے سامنے سے گزرا
میں نے اسکی نظریں جھکی ہوئی پائی ہمیشہ۔۔۔۔اور آج مجھے پتا چل رہا ہے
نایاب التمش مجھے پسند کرتی ہے۔۔۔؟؟
اِٹس سم کائنڈ آف جوک سویرہ۔۔۔؟؟”
زاران کے لہجے میں غصے واضع تھا پر آواز دھیمی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ تم اس کی سادگی سے ایمپریس ہونے سے پہلے یہ تو سوچو کس طرح اس نے تمہیں فالو کیا۔۔۔۔
تمہارے کالج میں ایڈمیشن۔۔۔۔
پھر یونیورسٹی میں ٹاپ کرنا۔۔۔ جیسے تم نے کیا تھا۔۔۔۔
اور اب آکسفورڈ میں اپلائی کیا ہوا ہے محترمہ نے۔۔۔۔۔
اسکے رنگ کی طرح اس کے ارادے بھی ایسے ہی رہے کالے۔۔۔۔
ہماری شادی ہوجائے سب سے پہلے اسے اس گھر سے چلتا کروں گی۔۔۔”
زاران پر چپی چھا چکی تھی۔۔۔ اب اسے سمجھ آرہا تھا کیوں اس کی کزن ہمیشہ سے دلچسپی لیتی تھی کیوں اسے ای میلز آتے تھے پاکستان سے۔۔
کیوں اسکی امی بار بار نایاب کا ذکر کرتے ہوئے ہنس دیا کرتی تھی۔۔۔
“اچھا زاران ہماری منگنی کی تصاویر دیکھی تم نے۔۔۔؟؟
ہر ایک کے منہ پر ہم دونوں کے نام تھے۔۔۔یہ دیکھو۔۔۔۔
لگ رہا ہے نا میڈ فور ایچ ادر۔۔۔”
سویرہ نے اپنا موبائل فون زاران کی طرف کیا تھا۔۔۔۔۔
اس تصویر میں اس کی نظریں ساتھ کھڑی اپنی منگیتر پر نہیں دور کھڑی اپنی کزن پر پڑی تھیں جو ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ پکڑے ایسی لالچ سے کھانے کو دیکھ رہی تھی اور اس کے چہرے پر ایسی مسکان تھی کہ دیکھنے والا اس مسکان پر مر مٹے۔۔۔۔۔
زاران عابدی کی نظریں بھی جمی ہوئی تھی اس مسکان پر۔۔۔۔۔
“تم نے کہا وہ مجھے پسند کرتی آئی بچپن سے۔۔۔۔ پھر میری منگنی پر وہ اداس کیوں نہیں ہے۔۔۔؟ اس کے چہرے پر سکون کی بےپناہ چھلک
اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں خوشی کے وہ جواہرات کیوں نظر آرہے ہیں جیسے اسے فرق نہیں پڑ رہا میرا کسی اور کا ہوجانے پر۔۔۔۔۔؟؟”
۔
زاران کے بےچین دل نے وہ سوال کر ڈالے تھے جو ابھی ابھی کچھ لمحات میں اسکی زبان پر آگئے تھے۔۔۔۔
“کیونکہ وہ نایاب التمش ہے۔۔۔۔اتنا تو میں اپنی چھوٹی سی کزن کو جانتی ہوں۔۔۔
جب تم کسی کے نہیں تھے اسے تمہیں چاہے جانا گناہ نہیں لگتا ہوگا۔۔۔
پر ہماری منگنی کے بعد اسے اپنی حیثیت سمجھ آگئی ہو گی۔۔۔۔۔”
“کیا گھر میں کسی کو پتا ہے۔۔۔؟؟”
بہت دھیرے سے پوچھا گیا تھا۔۔۔بہت کشمکش کے بعد زاران کے نرم لہجے نے سویرہ کے چہرے پر ایسے تاثرات عیاں تھے جیسے وہ انتظار میں ہو اس سوال کہ پوچھے جانے کے
۔
“کسی نہیں معلوم۔۔۔؟؟؟ بس یہ جان لیجیئے جس دن آپ نے مجھ سے شادی کا اظہار کیا تھا اسی شام نایاب اور آپ کی منگنی ہوجانی تھی
ہاہاہاہا۔۔۔پر خواب خواب رہ گئے نا ادھورے۔۔۔۔؟؟
ادھوری محبت کی طرح۔۔۔۔۔”
سویرہ کچھ دیر میں وہاں سے چلی گئی تھی اور ملازم چاۓ کا مگ سامنے میز پر رکھ گیا تھا۔۔۔۔
بے چین دل اور دماغ میں جمع ہوتے غصے نے زاران کو ڈھلتی شام میں باہر بالکونی میں جانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔۔
۔
شام کے اس پہر وہ سکون کا سانس بحال کر رہا تھا۔۔۔جو کچھ دیر پہلے ایک سچ نے چھین لیا تھا اس سے۔۔۔۔
گھر جاتے پرندوں کو دیکھ کر وہ اس خوبصورت سورج ڈوبنے کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔۔
جب ہی اس کی نظر دومنزلہ نیچے۔۔۔۔۔ گھر کے باغیچے پر پڑی جہاں بنے ایک خوبصورت سوئمنگ پول میں ٹانگیں ڈوبائے بیٹھی اپنی کتاب پڑھ رہی تھی۔۔۔۔
اور پھر کچھ لکھ رہی تھی ایک نوٹ بک پر۔۔۔۔
وہ بچپن سے اسے ایسے الگ تھلگ رہتا دیکھتا آیا تھا بچپن سے۔۔۔۔
رئیلنگ پر اپنے دونوں ہاتھ جمائے کھڑا وہ اب ڈھلتی شام اب مرکز نگاہ نہیں رہی تھی اسکا۔۔۔۔
۔
اس لڑکی کی مسکان اور ہوا کے جھونکے سے اڑتی وہ ذلفیں توجہ لے گئی تھیں زاران عابدی کی
وہ لڑکی جو آج تک ایک پہیلی بنی رہی اس کے لیے۔۔۔۔
۔
۔
وقت گزرتا گیا۔۔۔۔ اپنی اسائنمنٹ مکمل کر کے جب اس پانی چاند کی چھوی دیکھی تو پانی پر اور جھکنے سے اسے اپنا چہرہ اس چاند کے ساتھ گرہن جیسے لگا۔۔۔۔ جیسے اس کی کزنز اسے چھیرتی آئی۔۔۔۔
پر جب اس نے اپنا چہرہ اٹھا کر اوپر چاند کی طرف دیکھا تو اسے اپنا آپ گرہن نہیں لگا۔۔۔۔
یہ اس کی خاصیت تھی وہ اپنے آپ کو کمتر نہیں سمجھتی تھی۔۔۔۔
کالے رنگ کو شاید لوگ کمزوری بنا لیتے ہوں گے۔۔۔۔
پر وہ کمزور نہیں تھی۔۔۔۔۔
“میں کمزور نہیں ہوں۔۔۔۔میں نایاب ہوں۔۔۔۔۔”
اور وہی مسکان چھا گئی تھی اس کے چہرے پر جب اسے محسوس ہوئی تھیں کسی کی نظریں خود پر۔۔۔۔۔
“پینٹنگ نمبر چارہزار تین سو چار یہ کہتے ہی نایاب نے جب اس ایک خاص کمرے کی بالکونی کی طرف دیکھا تو کوئی چھپ گیا تھا ستون کے پیچھے۔۔۔۔
پر نایاب واقف تھی اس انسان سے اسکی نقل وحرکت سے۔۔۔۔
وہاں پڑے چاۓ کے مگ کو دیکھ چکی تھی۔۔۔۔
اور اسکی انگلیاں اپنے آپ چلنا شروع ہوگئی اس پینٹ والی بک پر جو اس نے اپنی باقی کتابوں کے درمیان چھپائی ہوئی تھی۔۔۔۔
جب اس بالکونی کے مناظر کو اپنے کاغذ پر اتار لیا تو اس پینٹنگ میں اس نے وہ تین انگلیاں بھی ڈراء کی تھی جو اس چھپے ہوئے شخص کی موجودگی کا ثبوت دے رہی تھی۔۔۔۔۔
“زاران عابدی میں تو آپ کے سامنے آنے سے نظریں اٹھا کر دیکھنے سے اس لیے بھی ڈرتی ہوں کی آکسفورڈ گریجویٹ کہیں میری چھپی محبت نا پڑھ لے میری نگاہوں میں۔۔۔۔۔
پر اللہ جانے آپ کو کس بات کا خوف ہے جو چھپ جاتے ہیں پکڑے جانے پر۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ سے ایسا ہی چلتا رہا۔۔۔۔۔۔
مجھے بتانا نہیں آیا
تمہیں چھپانا نہیں آیا۔۔۔۔۔۔”
اور اس پینٹنگ کے نیچے یہ کچھ لائینز لکھ کر اپنی کتاب پوری طرح بند کر دی تھی اس نے۔۔۔۔
اپنے ہاتھوں کو پانی میں ڈالے وہ اپنی ہتھیلی پر پانی پر کر چاند کے ساتھ نمایا ہوتے اپنے عکس پر ڈال رہی تھی۔۔۔۔
اور جب پانی میں اسکا چہرہ دھندلا گیا تھا تو وہ ہنس دی تھی بہت کھلکھلا کے۔۔۔۔۔
اور اس کے چہرے پر وہی سکون وہی مسکان تھی۔۔۔۔
اس نے اپنی محبت کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا تھا جو آنکھوں میں آنسو سجا دے۔۔۔۔۔
اس نے محبت کو اپنے چہرے کی مسکان بنا لیا تھا جس پر اسے نے کبھی پچھتاوا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔۔”
۔
وہ جیسے ہی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی زاران واپس بالکونی میں کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی سوچنے لگا تھا اس لڑکی کو اب جب اسے پتا چل گیا تھا اسکی کزن کی پسندیدگی کا اسے لیکر بھی۔۔۔۔
اس کے دل میں غصہ نہیں تھا پر اسکا دماغ اسے مجبور کر رہا تھا جیسے اسکی کزن نے اسے پسند کر کے بہت بڑا گناہ کر لیا ہو۔۔۔۔۔
۔
“نایاب التمش۔۔۔۔غلط کیا تم نے مجھے پسند کر کے۔۔۔۔ میں تمہیں کتنا پارسا سمجھتا آیا۔۔۔اور تم ایک چھت تلے مجھ پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔۔۔
میں تمہیں کبھی پسند نہیں کروں گا نایاب التمش۔۔۔۔اور اب تمہیں اس چھت کے نیچے برداشت بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔
تمہاری شادی مجھ سے پہلے کرواں گا۔۔۔۔ اور یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔۔”
۔
آج جہاں اسکے دماغ میں غصہ تھا وہاں اسکے دل میں سکون بھی تھا۔۔۔
پر دل اور دماغ کی اس جنگ میں جیت دماغ کی ہوئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران عابدی دکھ اس بات کا نہیں کہ درگزر کر رہے ہو۔۔۔۔
افسوس اس چیز کا ہے کہ ظاہر کروا کر کر رہے ہو۔۔۔۔
ہم کزنز بھی تھے زاران۔۔۔۔۔
پر شاید باہر کی عیش عشرت اور کامیابی نے آپ سے آپ کا وہ حسن اخلاق لے لیا ہے جس نے آپ کی جگہ بنائی تھی یہاں سب کے دلوں میں بھی۔۔۔۔
تعلیم یافتہ انسان لوگوں کو رنگ نسل امیری غریبی دیکھ کر نیچا نہیں دیکھاتے۔۔۔۔
پر آپ شاید صف اول میں ہیں اب۔۔۔۔۔”
نایاب نے وہ بنائی ہوئی پینٹنگ اس قیمتی دیوار پر لگانے کی کوشش کی پر اسکی نظر اس ہاتھ کی ایک انگلی پر پڑی تھی جہاں نقشہ کھینچتے ہوئے نایاب نے وہ منگنی کی انگوٹھی بھی بنا دی تھی۔۔۔۔۔
۔
“نایاب عابدی اتنی گئی گزری بھی نہیں رہی اب کے کسی اور کی پسند کو اپنے کمرے میں سجائے۔۔۔۔۔”
نایاب نے وہ پینٹنگ فولڈ کر دی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
پسند اور محبت وہ ہونی چاہیے جو آپ کو سکون دے نا ملنے پر۔۔۔
اور عزت دے مل جانے پر۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: