Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 20

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 20

–**–**–

“میں نایاب التمش سے شادی کرنے کا خواہش مند ہوں۔۔۔
اگر نایاب التمش ماموں اور دلکش آنٹی آج انکار کردیں گے تو میں اسی ہفتے سویرا سے شادی کرلوں گا۔۔۔۔”
اب اس سے ہٹ کر سب کی نظریں نایاب پر تھیں۔۔۔
“زاران ایک بار پھر انکار سن کر میرے پاس آؤ گے تم۔۔۔۔”
سویرا دل ہی دل میں ہنس دی تھی جیسے اور بہت سے لوگ کیونکہ سب کو پتا تھا نایاب زاران کو پھر سے ٹھکرا دے گی۔۔۔۔۔۔
“نایاب بیٹا۔۔۔۔”
انیسہ بیگم نے بہت امید سے نایاب کا ہاتھ پکڑ تھا
“پھوپھو ۔۔۔۔ مجھے اس رشتے سے کوئی انکار نہیں اگر میرے ماں باپ راضی ہیں تو میں بھی زاران کے ساتھ شادی کے لیے راضی ہوں۔۔”
نایاب نے نظریں اٹھا کر دیکھا تھا زاران کی طرف جو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا اسکا چہرہ کھل اٹھا تھا بلکل اسی طرح جیسے باقی سب کا مرجھایا تھا
“لیکن میری ایک شرط ہے”
“یا اللہ یہ ایک دن ضرور ہارٹ اٹیک کروائے گی شادی ہوئی نہیں اور شرطیں شروع۔۔۔؟؟؟؟”
زاران نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا پر قہقہوں کی آواز سے اسے یقین ہوگیا تھا کہ اسکی بات سب نے سن لی تھی
“کیسی شرط بیٹا۔۔۔؟؟”
آفاق صاحب نے آگے بڑھ کر پوچھا تھا راحیل صاحب تو ہل نہیں پاۓ تھے اپنی جگہ سے
“شرط یہ ہے شادی بہت سادہ طریقہ سے ہونی چاہیے اور اس بار منگنی نہیں ہوگی۔۔۔کیونکہ یہ رسم ہم دونوں کو راس نہیں ہے۔۔۔۔
منگنی ہو کر شادی تک بات کا نا پہنچنا کتنی تکلیف پہنچاتا ہے زاران عابدی بہتر جانتے ہیں۔۔۔۔
میں چاہتی ہوں پہلے نکاح ہو پھر باقی کی رسومات۔۔۔ باقی جو فیصلہ میرے گھر والوں کا ہوگا وہ مجھے منظور ہوگا۔۔۔۔”
نایاب جلدی سے یہ کہہ کر بھاگ گئی تھی وہاں سے۔۔۔۔۔
“نازو مٹھائی لاؤ بھئ بات پکی ہوگئی ہے میرے زاران کی۔۔۔۔”
بہت پرجوشی سے انیسہ بیگم نے زاران کو اپنے گلے لگایا تھا جو ابھی بھی شوکڈ کھڑا تھا
“امی وہ مان گئی آپ نے سنا۔۔۔؟ اب ہمارے بچوں کا بٹوارا نہیں ہوگا۔۔۔”
زاران کی بات سے چند ایک افراد کھل کر ہنسنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“امی میں یونیورسٹی جا رہی ہوں میرے کچھ لیٹرز جو یونیورسٹی سے کلیکٹ کرنے ہیں سی بہانے میں سب سے مل بھی آؤں گی۔۔۔”
یاسمین بیگم کام کرتے ہوئے رک گئیں تھیں
“اپنی ماں کو بتا کر جاؤ۔۔۔بھول گئی ہو کہ میں تمہاری امی نہیں ہوں نایاب۔۔۔؟؟”
“آپ بھی میری امی ہیں چاہے آپ نے کبھی مجھے اپنی بیٹی نا سمجھا ہو۔۔میرے لیے آپ بھی میری ماں ہیں۔۔”
نایاب یاسمین بیگم کے ماتھے پر بوسہ دے کر کچن سے باہر چلی گئی تھی
یہ طعنے تو اب اسکے لیے ہر روز کی بات ہوگئی تھی۔۔پر اسے بلکل بھی غصہ نہیں آتا تھا ہاں اداس ضرور ہو جاتی تھی۔۔
۔
وہ گھر سے باہر پانی والی نایاب کو ہاتھ ہلاتے ہوئے چلی گئی تھی
زاران جو اپنی گلاسیز پہنے گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا نایاب کو دیکھ کر رک گیا تھا
“اتنی گرمی میں کہاں جا رہی ۔۔؟؟”
اس نے نایاب کا راستہ روک کر پوچھا تھا
“یونیورسٹی جا رہی ہوں رستہ چھوڑ دیجئیے ٹیکسی کا آتی ہی ہوگی۔۔۔”
“چلو میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔”
اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر کہا تھا زاران نے
“زاران راستہ چھوڑ دیجئیے آپ جانتے ہیں میں اکیلے نہیں جانے والی آپ کے ساتھ۔۔۔”
سورج کی روشنی جس طرح سے نایاب کے چہرے پر پڑ رہی تھی اس کی آنکھیں بار بار بند ہورہی تھیں اس سے پہلے وہ فائل اپنےمنہ کے آگے رکھتی زاران اسکے سامنے کھڑا ہوگیا تھا اس کی اونچے قد نے وہ تپتی روشنی کی کرنیں روک دی تھیں۔۔۔
“زاران۔۔۔”
“ابھی تو شادی ہونے والی ہے ہماری نایاب ابھی بھی اتنی پابندیاں۔۔۔؟؟”
“یہ پابندیاں نہیں میرے اصول ہیں زاران شادی نہیں ہوئی ابھی وقت ہے۔۔
جن اصولوں کو مدنظر رکھ کر زندگی گزاری اب کیسے خود ہی توڑ دوں۔۔؟؟”
“نا توڑو بہن جی ہمیں جگہ دے دو۔۔۔ہم بیٹھ جائیں زاران ہمیں مارکیٹ تک ڈراپ کردو گے پلیز۔۔؟؟”
سحر باجی کہہ کر اس گاڑی کے کھلے دروازے پر رکھے زاران کے ہاتھ کو پیچھے کر کے بیٹھ گئی تھی اور پھر سویرا بیک سیٹ پر نایاب اور زاران وہیں کھڑے تھےاس سے پہلے نایاب آگے جاتی زاران نے بیک سیٹ کا دروازہ کھول کر پھر نایاب کا راستہ روکا تھا
“اب تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے نایاب۔۔۔اب ہم اکیلے نہیں ہیں۔۔”
اور وہ بنا کچھ کہے بیک سیٹ پر سویرا کے ساتھ بیٹھ گئی تھی اسکے بیٹھ جانے سے سحر اور سویرا دونوں کا منہ بن گیا تھا
“نایاب تمہاری ٹیکسی تو آگئی ہے تم اس میں چلی جاؤ نہ زاران ہمیں ڈراپ کردے گا”
سحر کی بات پر زاران نے غصے سے انہیں دیکھاتھا اور گاڑی سٹارٹ کردی تھی
“وہ میری منگیتر ہے۔۔۔جب مجھے کوئی پرابلم نہیں تو آپ بھی کچھ مت کہیئے۔۔۔”
اور اسکے بعد وہ پورا رستہ زاران عابدی کی نظروں کے تعاقب میں گزرا تھا نایاب کا۔۔
زاران جو بار بار سامنے روڈ پر کم اور سامنے لگے شیشے پر زیادہ دھیان دے رہا تھا جس پر نایاب اپنا چہرہ کبھی اس سمت کر رہی تھی تو کبھی اس سمت۔۔اور جیسے وہ چہرے دوسری جانب کرتی زاران مسکرا دیتا جو سحر اور سویرا کو اری ٹیٹ کر رہا تھا اس کا ہنسنا بھی
“زاران یہ پبلک ڈسپلی تم شادی کے بعد بھی دیکھا سکتے ہو۔۔تمہاری سابقہ منگیتر ہوں کچھ تو خیال کرو میرے ہونے کا۔۔۔”
زاران کے چہرے کی ہنسی چلی گئی تھی جب نایاب نے غصے سے زاران کی جانب دیکھا تھا
“تم نے خیال کیا تھا سویرا۔۔؟ نکاح والے دن تم نے خیال کیا تھا۔۔؟؟”
“اچھا تو کیا تم مجھے جیلس کروانے کے لیے یہ سب کر رہے ۔۔؟ اور نایاب سے شادی بھی مجھ سے بدلہ لینے کے لیے کر رہے۔۔؟؟؟”
اس نے اونچی آواز سے پوچھا تھا
“نایاب کے لیے میرا ہر جذبہ سچا اور مخلص ہے۔۔تم میری زندگی کا ایک کلوز چیپٹر ہو۔۔
اور جہاں تک بات رہی پبلک ڈسپلے کی تو وہ میری منگیتر ہے۔۔شادی سے پہلے میں اس کے ساتھ ہر اس دن کو خوشی خوشی منانا چاہتا ہوں۔۔۔ تمہیں جیلس کرنے ک خیال تب آتا جب میرے دل میں کوئی فیلنگس ہوتی تمہارے لیے۔۔۔”
نایاب کے منہ سے وہ غصے کے تاثرات تو چلے گئے تھے۔۔پر جیسے ہی گاڑی یونیورسٹی کے سامنے رکی زاران نے خود باہر آکر نایاب کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تھا
“واپس اکیلے آنے کی ضرورت نہیں ہے سنی لینے آجائے گا۔۔۔اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔۔۔”
۔
نایاب التمش کو وہیں کنفیوز چھوڑ گیا تھا زاران عابدی اسے یہ وہ زاران عابدی لگا ہی نہیں تھا جو آکسفورڈ گریجویٹ تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دلکش میں بہت خوش ہوں آپ اس رشتے کے لیے مان گئیں ہیں۔۔۔
آفاق اب آپ وہ خوش خبری سنا دیجئیے۔۔۔”
۔
دلکش کا ہاتھ پکڑ کر انیسہ نے اپنے پاس بٹھا لیا تھا انکی دوسری جانب التمش صاحب کی ویل چئیر تھی اور پورا کمرہ گھر کے افراد بچوں اور بڑوں سے بھرا ہوا تھا بس نایاب یہاں نہیں تھی۔۔۔
۔
آج نایاب اور زاران کی شادی کی ڈیٹ فکس ہونی تھی۔۔۔
جس پر سب لوگ بہت ایکسائیٹڈ تھے سوائے چند ایک کے
۔
“التمش بھائی اسی مہینے کے آخری ہفتے کی تاریخ ہم سب نے ڈیسائیڈ کی ہے۔۔۔ اب آپ تینوں بتا دیں۔۔۔”
ان تینوں سے مراد یاسمیں بیگم دلکش بیگم اور التمش صاحب بھی تھے۔۔۔
“بھائی صاحب۔۔۔میں نے ایک بار نایاب کے لیے کوئی فیصلہ لینا چاہا تھا اور اپنی بچی کو کہاں لیکر چلا گیا میرا وہ غلط فیصلہ۔۔میں اب اس معاملےمیں نہیں کچھ کہہ سکتی آپ ان دونوں سے پوچھ لیجئیے۔۔۔مجھے منظور ہوگا۔۔۔”
۔
وہ انیسہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر چلی گئیں تھیں اپنی آنکھوں سے وہ نمی صاف کر کے۔۔۔
“میں کچھ نہیں بولنا چاہتی انیسہ جب آپ سب لوگوں نے مجھے ابھی تک کسی خاطر خا لانے کی کی کوشش نہیں کی تو اب میں کیا کہہ سکتی ہوں۔۔۔۔۔؟؟
جتنی جلدی آپ لوگ اس دلکش کو جگہ دے رہے میری۔۔۔مجھے تو لگتا ہے عنقریب مجھے یہاں سے نکل جانے کا کہہ دیں گے آپ لوگ۔۔۔”
انہوں نے منہ بنا لیا تھا۔۔انکی باتوں سے ایک خوشگوار ماحول ایک دم سے بدل گیا تھا
“یاسمین ممانی۔۔۔آپ کی جگہ وہی ہے۔۔پر آج وہ دن ہے جب آپسی فاصلے بھلا کر آپ نے اپنی بیٹی کی خوشیوں میں خوش ہونا ہے۔۔۔
چاہے وہ سگی اولاد نہیں آپ کی پر اس نے سوتیلوں جیسا سلوک بھی نہیں کیا یہ سچ جان جانے کے بعد ممانی۔۔۔آپ سب کے پاس یہ وقت ہے اسے منا لینے کا۔۔۔
کیونکہ شادی کے بعد میں نایاب اور امی ابو کو واپس ہمارے پرانے گھر لے جاؤں گا۔۔۔”
التمش صاحب نے ہاتھوں کی حرکت سے زاران کو اشارہ کر کے روکنے کی کوشش کی تھی وہ اپنی بیٹی کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے
“اچھا ایک لڑائی کیا ہوئی تم گھر علیحدہ کرنے پر آگئے زاران۔۔۔؟؟”
سویرا نے چلاتے ہوئے کہا اسے
“تمہیں جو سوچنا ہے سوچو۔۔پر شادی کے بعد میں اپنی بیوی کو گھر کی لڑائیوں میں نہیں الجھا سکتا
سویرا تمہیں کیا لگتا وہ خوش ہوگئی تمہیں میرے آگے پیچھے لہراتے دیکھ کر۔۔؟؟”
زاران کی بات سے بہت سے کزن کے قہقے نکل تھے
“وٹ ربیش۔۔۔”
“میں نایاب کو زہنی مریضہ نہیں بنانا چاہتا آج یا کل آنے والے ہر دن تم نے سحر باجی نے یا کسی اور نے نایاب کے ساتھ بات بات پر لڑائی کرنی ہے اسے پریشان کرنا ہے۔۔میں نہیں چاہتا ہماری شادی شدہ زندگی میں خلل پیدا ہو کسی بھی قسم کا۔۔۔”
وہ بہت بلد آواز میں کہتا التمش صاحب کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا
“مامو۔۔۔اس بار آپ کو یا دادی کو شرمندہ اور مایوس نہیں ہونے دوں گا۔۔۔نایاب کو ایک اچھی عزت دار محبت اور احترام سے بھرپور زندگی دوں گا ہماری شادی کے بعد۔۔۔”
۔
اور سب بڑوں نے شادی کی ڈیٹ فکس کردی تھی۔۔۔گھر کو مہینہ پہلے ہی سجانے کے لیے زارا ن نے بہت سے انتظامات کر لئیے تھے۔۔۔
جتنی سادگی سے نایاب نکاح کرنا چاہتی تھی زاران اتنی ہی دھوم دھام سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“زاران تم نایاب سے شادی نہیں کر سکتے یہاں کچھ سہی نہیں ہے۔۔۔”
زاران نے وہ سگریٹ وہیں پھینک اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا جب اس نے فون پر رانیہ کی بات سنی تھی
“یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم۔۔؟؟ کیا سہی نہیں ہے وہاں۔۔؟؟”
“ایم پریگننٹ۔۔۔اور افنان نے اس بچے کو اپنانے سے انکار کردیا ہے۔۔۔”
ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔زاران نے گہرا سانس لیا تھا
“وہ۔۔۔افنان ٹھیک تو ہے۔۔؟؟میرا مطلب ہے۔۔اسے تو بچوں سے بہت پیار تھا رانیہ۔۔۔”
“یا رائٹ بچوں سے پیار اسے اب بھی ہے پر اپنے ناجائز بچے سے نہیں۔۔۔
زاران تمہارے کہنے پر میں پاکستان آئی تھی تم نے کہا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا۔۔۔سب بکھر گیا۔۔۔
اور تم اب شادی نہیں کرسکتے نایاب سے افنان کو میں آج ہی سچ بتا دوں گی۔۔
وہ نایاب سے بہت پیار کرتا ہے تم۔۔۔۔”
اور رانیہ کے ہاتھ سے کسی نے موبائل چھین لیا تھا
“زاران عابدی تو اس حد تک گر جائے گا میں نے سوچا بھی نہیں تھامیں کبھی تیری شادی نایاب سے ہونے نہیں دوں گا وہ صرف میری ہےمیں آرہا ہوں۔۔اسے سب سچ بتانے۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔سب سچ بتا دے وہ تجھ سے اور نفرت کرے گی جب تو اسے بتائے گا کہ رانیہ ایکسپیکٹ کر رہی ہے۔۔
اور کونسا سچ۔۔؟؟ تجھے میں نے کہا تھا اس رات رانیہ کی محبت میں ڈوب جانے کو۔۔؟
اب جو کرلیا ہے مرد بن کر تسلیم کر اسے۔۔۔
یہاں آنے کی غلطی مت کرنا واپس جانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
یہ زاران عابدی کا وعدہ ہے تجھ سے۔۔۔”
“وہ نایاب ڈیسائیڈ کرے گی زاران۔۔۔اور مجھے پتا ہے وہ مجھے ترجیح دے گی۔۔۔”
۔
افنان نے یہ کہہ کر فون بند کردیا تھا
“افنان۔۔۔”
“میں نے کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا اس سے پہلے میرا ہاتھ اٹھ جائے۔۔دفعہ ہوجاؤ میرے گھر سے۔۔۔”
افنان نے اسے بازو سے پکڑ کر دروازے کی جانب دھکیلا تھا اس سے پہلے وہ نیچے گرتی زیبا بیگم نے رانیہ کو تھام لیا تھا
“تمہیں شرم آنی چاہیے ماں بننے والی ہے اگر وہ گر جاتی تو کیاسے کیا ہوجاتا۔۔۔افنان بس کر جاؤ ڈھل جاؤ ۔۔۔”
“نہیں ڈھل سکتا۔۔۔۔ابھی تو بلکل بھی نہیں امی۔۔نایاب کو روکنا ہے اس سے پہلے زاران اس سے شادی کرنے میں ناکام ہوجائے۔۔۔”
“افنان نایاب بخش دو۔۔جتنی ذلت تم نے اس کی اور اسکے خاندان کی کروانی تھی تم نے کروا دی۔۔”
“امی سارا قصور میرا نہیں تھا۔۔رانیہ بتاؤ امی کو۔۔زاران کے کہنے پر تم پاکستان گئی تھی۔۔۔”
“افنان فور گوڈسیک چپ ہوجاؤ۔۔۔ نہیں رکھنا مجھے میں نہیں رہوں گی۔۔پر اپنی غلطی کو تسلیم کرو۔۔۔
زاران نے مجھے وہاں بلایا تھا پر وہ رات۔۔کچھ بھی پلان نہیں تھا۔۔۔ہوئی ہے غلطی۔۔
غلطی نہیں گناہ۔۔۔ہوا ہے گناہ ہم دونوں سے۔۔۔پلیز۔۔۔اب مجھےاس حالت میں ایسے تنہا نا چھوڑو۔۔۔”
رانیہ نے روتے ہوئے افنان کا ہاتھ پکڑ کر التجا کی تھی اس سے
“کبھی نہیں۔۔میں تمہیں ہر مہینے خرچہ دیتا رہوں گا۔۔۔پر اب میں نایاب کو پاکستان جا کر مناؤں گا۔۔اسے پھر سے یقین دلاؤں گا۔۔اسے سب کچھ سچ سچ بتا دوں گا۔۔
اور شادی کرکے یہاں اپنے ساتھ لیکر آؤں گا۔۔۔
میں اب اور نہیں رہ سکتا اسکے بغیر۔۔۔۔”
اپنا چہرہ صاف کر کے وہ بھی اپنے کمرے سے چلا گیا تھا ۔۔۔
رانیہ کو روتا چھوڑ کر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“زاران ایک ہفتے پہلے نکاح اور پھر شادی۔۔؟؟ تم جانتے ہو نا کتنی تیاریاں رہتی ہیں۔۔۔”
“امی پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔۔یہ شادی کا جوڑا آپ پلیز نایاب کو دے دیجئیے اور آپ سب سے بات کریں پرسو مولوی صاحب نکاح پڑھوا دیں گے۔۔۔سب فنکشن ہم سادگی سے کریں گے۔۔۔”
زاران نے بہت گھبرائی ہوئی آواز میں کہا تھا
“پر کیا ہوا ہے اتنی جلدی کیوں زاران۔۔؟؟”
“امی افنان کو سچ پتا چل گیا ہے اور وہ پاکستان آرہا ہے نایاب کو سب بتانے کے لیے۔۔۔آپ کچھ کیجئیے۔۔۔”
اسکی آواز میں بےچینی صاف محسوس کر پارہی تھی انیسہ بیگم۔۔
“اچھا تم پریشان نا ہو میں کرتی ہوں کچھ۔۔۔”
۔
وہ جیسے ہی گئیں تھیں زاران نے کچھ اور گارڈز کی ڈیویٹی میں گیٹ اور گھر کے ارد گرد لگوا دی تھی
اور سختی سے منع کردیا تھا افنان کے داخلے کو۔۔۔
۔
“بس نکاح ہوجائے پھر وہ کچھ اکھاڑ نہیں پائے گا میرا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ نہیں آئیں امی۔۔؟؟”
نایاب شیشے کے سامنے سے اٹھ گئی تھی اور باقی کزنز اسکا دوپٹہ سیٹ کرنا شروع ہوگئیں تھیں نایاب نی نظریں بار بار دروزہ پر جا رہی تھیں
“یاسمین پتا نہیں کیوں ایسے کر رہی ہے بیٹا۔۔۔آج تمہارا دن ہے اسے آج ایسے کمرہ بند کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے تھا۔۔۔”
نایاب نے سر نیچے کرلیا تھا
“وااااوووو نایاب باجی یہ پنک جوڑا ماشااللہ غضب ڈھا رہا ہے آپ پر۔۔۔”
نایاب نے پھر اس اپنے آپ کو اس شیشے میں دیکھا تھا۔۔
اسے ابھی بھی یاد تھیں وہ باتیں جو انیسہ پھو پھو نے اسے بتائیں تھیں خاص کر یہ بات کہ یہ جوڑا زاران نے خود بنوایا تھا۔۔۔
“پنک کلر اچھا لگ رہا ہے امی ۔۔۔”
نایاب کی بات پر دلکش بیگم بھی ہنس دی تھیں۔۔۔اور نایاب کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا انہوں نے۔۔
“میں کچھ کہوں گی تو مانو گی بیٹا۔۔؟؟؟”
نایاب نے سر ہاں میں ہلا کر اور خود کو اپنی ماں کی آغوش میں چھپا لیا تھا
“زاران کو اور اس رشتے کو ایک موقع ضرور دینا میری بچی۔۔۔
میاں بیوی کے رشتے میں ایک جانب سےلچک ہمیشہ رہنی چاہیے۔۔۔
کہ جس رشتے میں آنا آجائے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔۔اور تم نے اس رشتے کو ناکام ہونے نہیں دینا نایاب۔۔۔
عورت ذات جب جھک جائے تو یہ اسکی ہار نہیں اسکے رشتے کی جیت ہوتی ہے۔۔کہیں کسی مقام پر جھکنا پڑ جائے تو تم ضرور جھکنا۔۔۔ کیونکہ وہ تم کسی غیر مرد کے سامنے نہیں اپنے شوہر کے سامنے جھکو گی۔۔۔اور جتنی لچک تم دیکھاؤ گی نا تم دیکھو گی اپنی شادی شدہ زندگی میں تبدیلی
اپنے رشتے کو کبھی کسی غلط فہمی کا شکار ہوکر ٹوٹنے مت دینا۔۔۔
اور نا اپنے سیاہ رنگ کو شادی کے بعد کبھی اپنی کمزوری بننے دینا۔۔۔”
یہ کہ کر انہوں نے نایاب کے آنسو اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کردئیے تھے۔۔۔
نایاب خاموش ہوگئی تھی۔۔۔وہ خود بھی بہت گھبرائی ہوئی تھی۔۔۔
جیسے جیسے وقت قریب آتا جا رہا تھا اسے ایک ڈر لگ رہا تھا۔۔۔اسے ایک خوف لاحق ہورہا تھا کہ اس بار بھی کچھ غلط نا ہوجائے پچھلی بار کی طرح۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔مجھے اندر جانے دو۔۔۔زاران۔۔۔زاران عابدی۔۔۔بذدل انسان باہر نکل۔۔۔”
اور وہ گارڈز کے ساتھ لڑائی شروع ہوگئی تھی۔۔۔اندر نکاح کی رسم شروع ہوگئی تھیں شور شرابے کی وجہ سے باہر چلا رہے افنان کی آواز اندر نہیں جا پا رہی تھی
“میں گولی چلا دوں گا۔۔۔”
اس نے اپنی گن نکالی تھی پر اسکے سر پر جیسے ہی پیچھے سے کسی نے وار کیا تو وہ وہیں گر گیا تھا۔۔۔اور جلدی سے وہ گارڈز اسے اٹھا کر دوسری طرف لے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
“کچھ دیر بعد۔۔۔۔۔”
“کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔۔”
۔
مولوی صاحب سے دوری بار وہی جملہ دہرایا تھا جس پر نایاب خاموش تھی۔۔۔
ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی ہال میں زاران کی ڈھڑکنے بہت آہستہ ہوگئے تھے ماتھے سے پسینے چھوٹ گئے تھے۔۔۔
اور جب اسے لگا تھا کہ نایاب وہ دو بول نہیں بولے گی اسی وقت نایاب کی زبان نے وہ دو بول بول دئیےتھے جب التمش صاحب نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اپنی بیٹی کے ہاتھ پر رکھا تھا
“قبول ہے۔۔۔”
“قبول ہے۔۔۔”
قبول ہے۔۔۔۔”
۔
مبارک ہو۔۔۔۔”مبارک ہو بیٹا۔۔۔۔۔”
آفاق صاحب نے گرم جوشی سے زاران کو اپنے گلے سے لگایا تھا جو ابھی بھی شوکڈ تھا
“بہت بہت مبارک ہو زاران بیٹا۔۔۔۔”
“امی آپ کی بہوسچ میں ہارٹ اٹٰک کروانے لگی تھی مجھے۔۔۔بال بال بچا اگر ایک منٹ اور نا بولتی۔۔۔”
زاران نے انیسہ کے گلے لگتے ہوئے نایاب کو آنکھ مارتے ہوئے کہا تھا۔۔
“بہت بہت مبارک ہو نایاب بیٹا۔۔۔”
دلکش بیگم نے اسکا ماتھا چومتے ہوئے کہا تھا اور التمش صاحب کو مبارک باد دی تھی۔۔۔
۔
“نایاب میری بچی۔۔۔”
انیسہ بیگم نے بہت زور سے نایاب کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔آج وہ سکون پا گئیں تھیں۔۔۔
نایاب جھک کر اپنے ابو کے گلے لگی تھی
“ابو آج میری رخصتی نہیں ہے۔۔۔امی کی طرح رونا بند کریں۔۔۔”
اس نے آنسو پونچھتے ہوئے التمش صاحب کو بولا
۔
اور وہ اپنے چہرے کی خوشی کو کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔۔پر جب زاران کی نظریں دروازے پر کھڑے خون سے بھیگے ہوئے افنان پر پڑی تو زاران نےاپنے گارڈ کو اشارہ کیا تھا لیکن افنان نے ایک نظر نایاب کو دیکھا اور واپس باہر لوٹ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
افنان۔۔۔۔”
۔
سنسان سڑک پر افنان کو پیچھے سے آواز دی تھی زاران نے۔۔۔
“افنان۔۔۔”
“تو جیت گیا آخر زاران۔۔۔پہلے تو نے رانیہ کو چھینا تھا مجھ سے اور اب نایاب۔۔۔؟؟”
افنان نے زاران کی شیروانی کا کالر پکڑنے کی ناکام کوشش کی تھی
“بس افنان ہوش کر۔۔۔رانیہ کو میں پسند تھا مجھے وہ نہیں۔۔۔ میں کبھی اسکے پیچھے نہیں گیا تھا۔۔۔
اور جہاں تک رہی نایاب کی بات وہ کوئی ٹرافی نہیں جسے میں جیتا ہوں۔۔۔میں نے اپنے صبر سے پایا ہے اسے۔۔۔انتظار کیا اس کا تڑپا ہوں اسکے لیے۔۔۔”
“ہاہاہاہا اس لیےوہ تجھے ٹھکرا کر مجھے اپنا رہی تھی۔۔۔تو بیچ میں آیا ہی کیوں۔۔؟؟ رانیہ کو نا تو بلاتا اور نا مجھ سے وہ گناہ ہوتا۔۔۔”
اس نے اس بار زاران کا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“ہاہاہاہا افنان،،، تو خود دیکھ کیا بول رہا ہے۔۔۔۔
اچھا چل مان لے تیری نایاب سے شادی ہو بھی جاتی اور شادی کے بعد رانیہ تیری زندگی میں آتی تو۔۔۔؟؟
تجھے نایاب سے سب کچھ ہوسکتا پر محبت نہیں۔۔۔وہ تیری ضد تھی پر اب وہ ضد تجھے بھولنی ہوگی۔۔۔
افنان اب وہ میری عزت ہے۔۔۔بیوی ہے میری۔۔۔۔”
جتنی طیش سے زاران نے یہ بات کی تھی اتنی ہی مظبوط گرفت ہوگئی تھی اسکی افنان کے ہاتھوں پر اور جھٹک دئیے تھے اس نے افنان کے دونوں ہاتھ۔۔۔
“زاران میں ابھی جا رہا ہوں پر جب میں ایک آخری چال چلوں گا تجھ سے چھین کر لے جاؤں گا۔۔۔”
“افنان نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے۔۔۔ ہم دونوں کی محبت اس شادی کے بعد بڑھے گی ختم نہیں ہوگی۔۔۔اور کسی کی کوئی چال کوئی گیم اسے مجھ سے دور نہیں کر سکتی۔۔۔۔
اپنا خون صاف کر لے۔۔۔اور جس گارڈ نے تجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے اسے میں نوکری سے نکال دوں گا۔۔۔ میں نے انہیں تجھے روکنے کا کہا تھا اس طرح مارنے کا نہیں”
زاران نے اپنے رومال سے افنان کا منہ صاف کرنے کی کوشش کی تھی
“بس کر زاران یہ ڈرامے بس کر۔۔۔اب نہیں فرق پڑتا تو نے مجھ سے میری محبت چھینی ہے۔۔۔وہ تیرے نصیبوں میں بھی نہیں رہے گی۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر زاران کو اسکی سوچوں کے ساتھ وہیں تنہا چھوڑ گیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اسلام وعلیکم۔۔ کیا میں اندر آسکتا ہوں۔۔؟”
زاران نے دروازہ ناک کر کے آہستہ سے کھولا تھا اور سامنے بیڈ پر سجی سنوری اپنی نئی نویلی دلہن کو بہت نرم اور آہستہ لہجے میں پوچھا تھا
“وعلیکم سلام۔۔ اپنے کمرے میں آنے کے لیے آپ کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں زاران۔۔”
اس نے بھی بہت ہلکی آواز میں جواب دی کر منہ پھر سے نیچے کرلیا تھا
زاران مسکرا دیا تھا نایاب التمش کی آواز اتنی آہستہ تھی اس کے دونوں ہاتھوں میں کچھ پکڑا ہوا تھا جو اس نے آہستہ سے ایک سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور بیڈ پر نایاب کے پاس بیٹھ گیا تھا کچھ فاصلہ درمیاں میں رکھے
“کیا اب زاران عابدی اس قابل ہے کہ وہ نایاب التمش کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر وہ باتیں کرسکے جو اس دن سے وہ اپنے دل میں لئیے بیٹھا ہے جس دن سے تم ائیر پورٹ پر تنہا چھوڑ گئی تھی مجھے۔۔۔”
زاران کے لہجے میں ایک گلہ ایک اداسی تھی اس نے اپناسیدھا ہاتھ آگے بڑھایا تھا روم کی مدھم روشنی میں جلتی بجھتی وہ موم بتیاں نایاب کی دھڑکنوں کو اور تیز کر رہی تھی جیسے جیسے زاران کی آواز سرگوشی میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی تھی
“پہلے یہ ایک کمرا تھا اب ہمارا بیڈ روم ہے۔۔۔اور آج یہاں آتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
اور اب تمہیں اس طرح سے گھونگھٹ میں دیکھ کر لگ رہا ہے اب مکمل ہوگیا ہے یہ کمرہ بھی اور میں بھی۔۔۔”
زاران نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر نایاب کے چہرے سے اسکا گھونگھٹ اٹھایا تھا۔۔۔
جس پر وہ اور سمٹ گئی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔۔کچھ کہو گی نہیں۔۔؟؟؟”
نایاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر پوچھا تھا اس نے
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی زاران کیا کہوں۔۔۔سب کچھ اتنی جلدی ہوگیا۔۔”
نایاب کی بات پر وہ سر پیچھے کئیے کھلکھلا کر ہنسا تھا
“اتنی جلدی۔۔؟؟ اتنے انتظار کے بعد اتنی جلدی لگ رہی ہے۔۔؟؟ میں منہ دیکھائی پر کچھ لیکر آیا ہوں۔۔۔
ویسے تو نکاح سے پہلے منگنی ہوتہ سب کی ہماری آج ہوگی۔۔”
جب زاران نے اپنی مٹھی سے ایک انگوٹھی نکال کرسامنے کی تھی اور نایاب کی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اسکا چہرہ اٹھایا تھا
“دل کا رک جانا۔۔۔سانسوں کا تیز ہوجانا۔۔۔اور دھڑکن کا تھم جانا یہ سب مجھے ابھی ایک ساتھ محسوس ہورہا ہے۔۔۔ تمہیں اپنی بیوی کے روپ میں اپنے اتنے قریب پاکر نایاب التمش۔۔۔”
نایاب کی نظریں اٹھیں تھیں جب زاران نے اسے وہ رنگ پہنائی کر اسکی انگلیوں پر بوسہ لیا تھا
“زاران۔۔۔۔”
اپنا ہاتھ پیچھے کھینچنے کی ناکام کوشش کے بعد اس نے سرگوشی کی تھی
“کچھ اور بھی لایا ہوں پر پہلے زرا یہ شیروانی اتار دوں۔۔۔”
وہ جیسے ہی اٹھا تھا نایاب نے پھر سر شرم سے جھکا لیا تھا زاران نے شیروانی اتار کر صوفہ پر رکھ دی تھی اور پھر کچھ اٹھا کر لے آیا تھا اور جب نایاب کے سامنے اس نے وہ پینٹنگ رکھی تھی نایاب نے شوکڈ ہوکر زاران کو دیکھا تھا
“تم چاہتی تھی ہماری شادی کی رات اس پینٹنگ میں میری آنکھیں بناؤ گی میری آنکھوں میں دیکھ کر جو تم نے کبھی نہیں دیکھا۔۔۔تب نامحرم تھا۔۔
آج ہم محرم ہوگئے ہیں اللہ نے ہمیں ایک دوسرے کے لیے مبارک کردیا نایاب۔۔۔
ہم ایک دوسرے کی قدر میں لکھے ہوئے تھے۔۔۔پر نکاح نامے پر ہم دونوں کے دستک اور دنیا کی گواہی میں ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا کر ہمارے دو الگ زندگیاں ایک کر کے اللہ کے فیصلے کو دل سے مان کر راضی ہوئے ہیں ہم نے مکمل کیا ہے ہماری زندگی کو۔۔
اور یہ پینٹنگ تم مکمل کرو گی آج اپنے محرم کی آنکھوں میں دیکھ کر۔۔۔”
بات کرتے کرتے زاران کی آنکھوں میں نمی تھی پر اس نے چھلکنے نہیں دی تھی
اور نایاب اس نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے تھے پر زاران کے ہاتھ سے وہ پینٹنگ نہیں پکڑی تھی
“دادی ہمیشہ مجھے اس شادی کا یقین دلاتی تھی زاران۔۔۔وہ مجھے بتاتی تھیں آپ مجھے ہمیشہ سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھیں گے میری قدر کریں گے بہت محبت کریں گے۔۔
میں انہیں کہتی تھیں دادی مجھے شادی کے پاکیزہ رشتے سے آپ سے عزت چاہیے میری محبت کافی ہوگی ہم دونوں کے لیے اگر ہم نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھیں تو۔۔
وہ آپ کے باہر جانے پر بھی رضامند نہیں تھیں۔۔وہ کہتیں تھیں آپ جب تک انکی پہنچ میں ہیں تب تک آپ میرے ہیں۔۔ہاہاہا میں کہتی تھی دادی یہی تو آزمائش ہے۔۔ایسے رشتوں کی اہمیت پتا چلتی ہے۔۔اگر چار سالوں میں آپ بدل گئے تو اتنا پتا تو چلے گا نا کہ آپ تھے ہی نہیں میرے۔۔
وہی ہوا۔۔آپ گئے ۔۔پھر دادی بھی چلی گئیں۔۔۔زاران میرے یقین کے آگے دادی کے خدشے سچ ثابت ہوئے نا۔۔؟؟ آپ بدل گئے۔۔آپ کو میرا سیاہ رنگ اتنا برا لگنے لگا کہ آپ مجھے اپنی نظروں سے دور کرنا چاہتے تھے چاہے وہ خاور سے شادی کرکے کیوں نہیں۔۔۔”
وہ رونا نہیں چاہتی تھی۔۔یہاں نایاب کی بات مکمل ہوئی تھی وہاں زاران وہ پینٹنگ پکڑ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔وہ جانتا تھا اس بیوی ابھی بھی اسے معاف نہیں کر پائی تھی
“ایم سوری۔۔۔مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا تھا یہ پینٹنگ لا کر تمہارے زخموں پر نمک چھڑکنے کا ۔۔”
وہ دو قدم آگے بڑھا تھا کہ نایاب نے زاران کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“میں ماضی میں نہیں جیتی زاران۔۔میرے پاس کوئی ایسا زخم نہیں جو وقت نے یا میں نے بھرا نا ہو۔۔
آج ہماری ایک نئی شروعات ہوئی ہے۔۔۔آپ میری قدر میں تھے آج ہم اتنا سب ہونے کے بعد بھی ایک ساتھ ہیں اللہ کے ہر فیصلے کو میں نے دل و جان سے تسلیم کیا ہمیشہ۔۔۔
آپ سے شادی میری زندگی کا ایک خوبصورت فیصلہ دادی نے کیا تھا جس پر نا مجھے تب اعتراض تھا نا آج مجھے کوئی گلہ شکوہ ہے۔۔۔میں خوش ہوں۔۔”
نایاب نے زاران کے ہاتھ سے وہ پینٹنگ اور سکیچ پینسل پکڑ لی تھی زاران کے چہرے کی ساری خوشی اسکی آنکھوں میں سما گئی تھی جب نایاب نے بہت گہرائی سے زاران کو دیکھا تھا
“آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں پتا نہیں میں کیسے بنا پاؤں گی۔۔۔”
بلاجھجک اس نے زاران کی تعری کردی تھی جس پر زاران عابدی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا
“تم میں بناوٹ کیوں نہیں ہے۔۔؟؟ اگر کوئی اور مجھے خوبصورت کہتا تو مجھے وہ سب محسوس نا ہوتا جو ابھی ہورہا ہے نایاب۔۔۔ تم میں باقی سب کی طرح بناوٹ کیوں نہیں۔۔؟؟
تمہارے رنگ پر ہر موقع ملنے پر تمہیں انسلٹ کرتا آیا میں۔۔اور تم اس طرح تعریف کر رہی ہو
پر آج ایسا محسوس ہورہا کہ خوبصورت میری آنکھیں نہیں خوبصورتی تم میں تمہارے دیکھنے میں اور تمہارے ان دلکش آنکھوں میں ہے “
نایاب کا ہاتھ پکڑ کر زاران نے پھر سے بوسہ دیا تھا اور بیڈ پر نایاب کے سامنے ایک بازو پر ٹیک لگائے وہ بیٹھ گیا تھا
“زاران اللہ کی تخلیق کی ہوئی ہر چیز ہر انسان خوبصورت ہے۔۔۔اور میں اس بات میں کوئی بناوٹی نہیں بننا چاہتی ہمارے رشتے میں بناوٹ نہیں چاہتی میں۔۔آپ جو ہیں وہ بیان کرتے ہوئے میں کیسے ہچکچا سکتی ہوں۔۔۔؟؟”
نایاب نے یہ کہہ کر بہت آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر زاران کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ پینٹنگ بنانا شروع کردی تھی
۔
وہ کب اس پینٹنگ کو مکمل کر کے دوسرے پیج پر آئی اور کب اس نے ایک اور پینٹنگ بنانا شروع کی اسے پتا نہیں چلا اسے تب اس کمرے میں زاران کی موجودگی کا احساس ہوا جب زاران نے اپنا سر نایاب کی گود میں رکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اور کچھ ہی لمحات میں وہ سو گیا تھا۔۔۔
“زاران عابدی۔۔۔پھر سے محبت ہو بھی پائے گی آپ سے یا نہیں میں یہ نہیں جانتی پر ہمارے نکاح کے اس رشتے میں میری طرف سے کبھی کوئی کمی نہیں آنے دوں گی میں نا عزت میں نا چاہت میں نا محبت میں۔۔۔
وہ اور لوگ ہوتے ہیں جو ماضی کو رونے میں اپنے دامن میں پڑی خوشیاں اپنے ہاتھوں سے برباد کردیتے ہیں۔۔پر میں نہیں کروں گی اللہ نے میرے لیے بہترین سوچا ہوگا ۔۔میں خوش ہوں۔۔۔”
نایاب نے اپنی انگلیاں آہستہ سے زاران کے گھنے بالوں میں پھیرنا چاہی تھی پر پھر ہاتھ پیچھے کرلیا تھا
“تمہیں پھر سے محبت بھی ہوگی نایاب زاران عابدی اورپہلےس ے زیادہ ہوگی۔۔۔”
زاران نے سرگوشی کی تھی اور نایاب کا وہی ہاتھ واپس اپنے بالوں پر رکھ دیا تھا
“زاران۔۔۔”
پر پھر زاران کی طرف سے جواب نہیں آیا وہ سوگیا تھا۔۔۔
اور جو خوشی کچھ دیر پہلے وہ زاران کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اپن اسکے پورے چہرے پر چھا گئی تھی جب اس نے نظریں سامنے شیشے پر ڈال کر اپنے آپ کو دیکھا تھا
۔
۔
“اللہ کے فیصلے سب سے اعلی اور افضل ہوتے ہیں۔۔۔جو ہم اپنے لیے سوچتے ہیں وہ بہتر ہوسکتا ہے۔۔پر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھا ہوتا وہ بہترین ہوتا ہے۔۔
منزل پر چلتے چلتے گہرے سیاہ بادلوں کے آ جانے سے مایوس ہوکر ہم چلنا چھوڑ دیتے ہیں اور کسی ایک کونے پر لگ کر بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔
ہم اتنے مایوس ہوجاتے ہیں کہ ہم یہ سوچ ہی نہیں پاتے کہ آگے چلتے چلتے یہ بادل جھڑ جائیں گے پھر ایک نیا سورج طلوع ہوگا جو ہمارے راستے روشن کردے گا۔۔۔یہ یقین رکھ کر انسان چلے تو اسے منزلیں مل جاتی ہیں ایک لمبی کھٹن مسافت کے بعد اسے عمر بھر کی راحت مل ہی جاتی ہے بس اسکا یقین اپنے رب پر کامل ہونا چاہیے۔۔۔”
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: