Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 21

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 21

–**–**–

اللہ کے فیصلے سب سے اعلی اور افضل ہوتے ہیں۔۔۔جو ہم اپنے لیے سوچتے ہیں وہ بہتر ہوسکتا ہے۔۔پر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھا ہوتا وہ بہترین ہوتا ہے۔۔
منزل پر چلتے چلتے گہرے سیاہ بادلوں کے آ جانے سے مایوس ہوکر ہم چلنا چھوڑ دیتے ہیں اور کسی ایک کونے پر لگ کر بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔
ہم اتنے مایوس ہوجاتے ہیں کہ ہم یہ سوچ ہی نہیں پاتے کہ آگے چلتے چلتے یہ بادل جھڑ جائیں گے پھر ایک نیا سورج طلوع ہوگا جو ہمارے راستے روشن کردے گا۔۔۔یہ یقین رکھ کر انسان چلے تو اسے منزلیں مل جاتی ہیں ایک لمبی کھٹن مسافت کے بعد اسے عمر بھر کی راحت مل ہی جاتی ہے بس اسکا یقین اپنے رب پر کامل ہونا چاہیے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“دادی میں نایاب سے شادی نہیں کروں گا بڑا ہو کر”
“ہاہاہا اچھا کل تک تو کہہ رہے تھے تم اسے کسی اور کے ساتھ شادی کرنے نہیں دو گے”
“پر دادی اب میں نہیں کروں گا امی نے بہت ڈانٹا مجھے انہوں نے کہا نایاب کالی ہے”
اور تمہیں کیا لگتا ہے زاران۔۔؟ دادی نے دس سال کے اس بچے کو اپنے پاس بٹھا لیا تھا
“دادی وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے۔۔پر سب اسے پسند نہیں کرتے”
“اور تم بیٹا۔۔؟”
“دادی شی از سو کیوٹ مجھے بہت پسند ہے”
“ہاہاہا تو پھر تم ہی اس سے شادی کرو گے میرے بچے یہ میرا آخری خواہش ہے”
۔
“پر دادی نایاب تو کالی ہے نا۔۔وہ سویرا کی طرح خوبصورت کیوں نہیں۔۔؟؟”
“خوبصورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے زاران بیٹا تم جسے جیسا دیکھنا چاہتے ہو وہ تمہیں ویسے ہی نظر آئے گا۔۔نایاب تو ہیرا ہے میری نظر میں وہ سویرا سے بھی زیادہ خوبصورت ہے”
۔
“دادی۔۔۔”
دادی کا خواب زاران عابدی کو آج پھر سے نظر آیا تھا جب آنکھ کھلی تو اذان فجر ہورہی تھی اور زاران کی آنکھیں جیسے ہی کھلی اسکے سامنے وہ چہرہ تھا جسے اس نے کبھی خوبصورت نہیں سمجھا تھا
اور آج اسے اس چہرے میں ساری دنیا کی خوبصورتی نظر آرہی تھی
“یا اللہ کہیں میرے پہلو میں سو رہی یہ صابر لڑکی میرا خواب ہی نا ہو۔۔۔”
زاران نے جیسے ہی نایاب کی گود سے اپنا سر اٹھا لیا تھا نایاب کا سر تکیے پر سرک گیا تھا اسکے بالوں نے اسکا چہرہ چھپا لیا تھا۔۔
زاران کی نظریں اسکے لمبے گھنے بالوں سے ہٹ کر بیڈ پر پڑی اس پینٹنگ پر گئیں تھیں جسے دیکھ کر وہ اتنا شوکڈ ہوگیا تھا کہ انتہا نہیں تھی
“میری آنکھوں کی خوبصورتی آج پتا چلی ہے مجھے مسز نایاب عابدی”
زاران نے اسکی زلفیں چہرے سے ہٹا دی تھی نایاب کی آنکھیں کھیلیں تو اس نے پیچھے ہونے کے بعد اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے کی کوشش کی تھی
“ہماری پہلی صبح ایک ساتھ ہے نایاب میں چاہتا ہوں ہم فجر کی نماز ایک ساتھ پڑھیں اگر تمہیں کوئی اعتراض”
“میں ابھی کپڑے چینج کرکے وضو کرکے آتی ہوں”
زاران کی بات مکمل ہونے سے پہلے نایاب اٹھ گئی تھی زاان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا اسے
“ہمم پھر اسکے بعد باہر لان میں بیٹھیں گے ہمارے بچوں کے پاس۔۔۔”
اسنے ایک قہقہ لگایا تھا جب نایاب کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا
“سیریسلی زاران۔۔؟؟”
زاران کے قہقے سے وہ پیچھے مڑی تھی
“ہاہاہاہاہا ہاں تو۔۔۔ بچے نہیں ہیں کیا۔۔؟؟”
اس نے آنکھ ماری تو نایاب منہ چھپا کر روم میں اپنا بیگ ڈھونڈنے لگی تھی
“جناب آپ کے سارے کپڑے پہلے سے کپبرڈ میں ہیں۔۔آپ کے بیگ میں موجود کپڑۓے وہیں پڑے ہیں اور جو الماری میں ہیں وہ میری پسند ہے مجھے اچھا لگے گا نایاب۔۔”
زاران کہہ کر باہر بالکونی کی جانب چلا گیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“ساتھ نماز فجر پڑھ کر زاران نے قرآن پاک کی تلاوت کی تھی آج پہلی بار نایاب زاران کی آواز کو اسکے چہرے سے زیادہ خوبصورت محسوس کر رہی تھی
اس نے شکرانے کی دعا مانگ کر اپنے رب کا شکر ادا کیا اشکبار آنکھوں سے۔
۔
کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جب نایاب کی آنکھیں کھلی تو زاران پاس نہیں تھا پر بیڈ پر نایاب کے لیے کچھ کپڑے پہلے سے پڑے تھے
نایاب نے جب وقت دیکھا تو 9 بج رہے تھے
“یا اللہ کیا سوچ رہے ہوں گے سب اتنی لیٹ اٹھی۔۔”
وہ کپڑے اٹھا کر باتھروم کی جانب بڑھنے لگی تھی کہ زاران بنا شرٹ کے ٹاول سے بال صاف کرتے ہوئے باہر آیا تھا
“گڈ مارننگ ڈئیر وائفی۔۔۔” زاران نایاب کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا جس نے منہ نیچے کرلیا تھا شرما کر
“اسلام علیکم” نایاب نے کہہ کر باتھروم میں جانا چاہا تھا پر زاران نے راستہ روک لیا تھا
“میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہی نایاب؟۔۔۔”
“پہلے شرٹ پہن لیں زاران۔۔۔”
اس نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا
“ہاہاہاہاہا۔۔۔اچھا جی دواکوئی ڈریس نکال دو اپنی مرضی کا پھر پہن لوں گا۔۔”
زاران نے نایاب کی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اسکا چہرہ اوپر اٹھایا تھا
“ہمم اوکے۔۔۔”
نایاب بنا کچھ کہے کپبرڈ کھول کر زاران کے لیے ڈریس دیکھنے لگی تھی۔۔
پر جب اسے اپنے پیچھے زاران کی موجودگی کا احساس ہوا تو اسکا آسان کام بھی مشکل ہوگیا تھا
“رنگ ہی رنگ تھے نگاہوں میں
جیسے ست رنگیاں ہوں راہوں میں
حسن تھا نور کی پناہوں میں
عشق تھا بےخودی کی بانہوں میں”
۔
زاران نے نایاب کے کندھے پر جیسے ہی سر رکھ کر اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا تھا
نایاب کی دھڑکنے رک گئیں تھیں
“تم کو ہر آن مہربان پایا
زندگی دھوپ تم گھنا سایا”
۔
زاران نے یہ کہہ کر نایاب کے سر پر بوسہ لیا تھا جس نے آنکھیں بند کر لی تھی
زرم سے بھی اور زاران کی محبت سے بھی
“مجھے نہیں پتا تھا تمہارے ساتھ ہر لمحہ مجھے اتنا خوش اور پرسکون کرجائے گا
نایاب میں اتنی دیر کبھی نا کرتا۔۔
میں چہروں کی خوبصورتی کو سکون سمجھتا رہا پر دل کو سکون تو اب مل رہا تھا تمہیں اپنے اتنے پاس پاکر
دل کررہا ہے اس وقت کو یہیں روک دوں تمہیں ایسے ہی اپنے سینے سے لگائے رکھوں۔۔”
نایاب تو جیسے چپ ہوگئی تھی وہ جو لڑکی ہمیشہ سے زاران عابدی سے شادی کی خواہش کرتی آئی اس نے ان نزدیکیوں کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا آج وہ اس قدر شرما رہی تھی اپنے شوہر سے کہ اسکی آنکھیں کھل نہیں پر رہی تھیں مارے شرم کے
۔
“ایک اور سرپرائز ہے جلدی سے کپڑے چینج کر آؤ۔۔۔”
زاران پیچھے ہوگیا تھا وہ نایاب سے اتنی نزدیکی بنانے سے خود بھی بہت گھبرا رہا تھا وہ اپنے رشتے کو بہت جلدی میں نہیں آہستہ آہستہ آگے لیکر بڑھنا چاہتا تھا اپنی بیوی کی مرضی کے ساتھ
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نایاب بیٹا آج کچھ مانگ رہی ہوں میں ہاتھ جوڑتی ہوں میرا گھر اجڑنے سے تم ہی بچا سکتی ہو۔۔”
یاسمین نے نایاب کو کمرے میں بلا کر دروازہ بند کردیا تھا
“امی ہاتھ مت جوڑیں خدا کے لیے۔۔کیوں مجھے گناہ گار بنا رہی ہیں کیا ہوا ہے امی۔؟”
نایاب نے انکے جوڑے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
“کیا نہیں ہوا بیٹا۔۔تمہاری آنکھوں کے سامنے سب ہو رہا اور تم پوچھ رہی کیا ہوا ہے۔۔؟”
انکی آواز میں تلخی بھی تھی اور آنکھو ں میں درد بھی تھا نایاب ایک پل کو گھبرا سی گئی تھی
“امی مجھے سچ میں نہیں پتا آپ یہاں بیٹھیں پانی پر لیں پھر بتائیں مجھے”
نایاب نے انکو بستر پر بٹھا کر ٹیبل پر موجود پانی کے جگ سے پانی گلاس میں ڈال کر انہیں دیا تھا
“نایاب مجھے نہیں چاہیے پانی۔۔ مجھے جو چاہیے وہ تم ہی دلا سکتی ہو مجھے”
انہوں نے نایاب کا ہاتھ غصے سے جھٹک دیا تھا ور پانی کا گلاس نیچے گرگیا تھا اور گلاس ٹوٹ گیا تھا
“امی۔۔۔خدا کے لیے آپ مجھے آرام سے بتائیے کیا ہوا ہے۔۔؟؟”
اپنے ضبط پر قابو کرکے نایاب نے پھر دھیمی آواز میں پوچھا تھا
“آؤ تمہیں دیکھاتی ہوں بتاتی ہوں کیسے اجڑ رہا ہے میرا گھر میری آنکھوں کے سامنے”
وہ بےدردی سے نایاب کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر کھڑکی کے سامنے لے گئیں تھیں جہاں سب بیٹھے ہوئے تھے لان میں دلکش بیگم ہنستے ہوئے انیسہ سے باتیں کررہیں تھی اور ساتھ ساتھ فروٹس کاٹ کر التمش صاحب کی پلیٹ میں رکھ رہی تھیں جو انیسہ بیگم کھلا رہیں تھیں
“اوووہ امی۔۔۔۔”
نایاب کے چہرے پر ایک خوشی کی لہر ڈور اٹھی تھی اپنی امی کی آنکھوں میں اتنی خوشی اور چہرے پر اتنی رونق دیکھ کر
“اووہ تو تم بھی ان سب کے ساتھ ملی ہوئی ہو نا۔۔؟ تم بھی چاہتی ہو دلکش سے شادی کرلیں التمش۔؟
پر ایک بات یاد رکھنا ایک بہن کے نکاح میں ہوتے ہوئے التمش دوسرا نکاح نہیں کرسکتے
اور میں کبھی التمش کو نہیں چھوڑوں گی۔۔”
وہ طیش میں کہہ کر جانے لگیں تھیں کہ نایاب نے راستہ روک لیا تھا انکا
“امی مجھے نہیں پتا آپ جو کہہ رہیں اور یقین کریں باہر بیٹھیں وہ معصوم عورت جو کہ بہن ہیں آپ کی انکو بھی نہیں پتا ہوگا”
“تم تو اب ایسے ہی کہو گی نایاب۔۔اپنی امی کا انتظام کہیں اور کردو نہیں تو میں کردوں گی”
“مطلب۔۔؟ آپ کیا کرنے والی ہیں امی۔؟ وہ کہاں جائیں گی ۔؟ کچھ تو خیال کیجئیے
میں اپنی ماں کو ایسے اکیلے نہیں بھیج سکتی باہر کی دنیا میں یا کسی اولڈ ایج ہوم میں”
جب نایاب کے چہرے میر غصہ عیاں ہوا تو یاسمین بیگم نے اپنا لہجہ پھر سے نرم کرلیا تھا
“پلیز نایاب میں مر جاؤں گی میرا گھر تباہ ہونے سے بچا لو۔۔میں نے التمش کے لیے اپنی ساری خوشیاں اپنی خواہشیں رد کردیں اب اس عمر میں مجھ میں ہمت نہیں اجڑنے کی پلیز بیٹا۔۔”
نایاب کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ وہاں سے چلی گئیں تھیں
۔
اس کمرے سے ڈائننگ ٹیبل تک کا سفر نایاب کے لیے سوچوں سے بھرا ہوا تھا
زاران بھی یہ بات نوٹ کررہا تھا پر سب کے سامنے پوچھ نہیں پا رہا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
(کچھ دیر بعد۔۔۔)
۔
“بھابھی آپ سٹیٹس میں کم کہہ کر اس رشتے کو انکار تو مت کیجئے اب”
“انیسہ پھوپھو میں نہیں کرنا چاہتی یہ شادی”
سحر نے نڈر ہوکر جواب دیا تھا گھر کے مرد تو خاموش ہوگئے تھے گھر کی عورتوں کے سامنے
“سحر بیٹا یہ لوگ بہت اچھے ہیں نایاب اور زاران کے نکاح والے دن ہی ان لوگوں نے تمہارا ہاتھ مانگا”
“انیسہ پھوپھو اچھے ہیں امیر نہیں میں کیسے مینیج کروں گی۔۔؟ آپ کیوں میری فکر کر رہی ہیں۔؟”
“بھابھی آپ ہی سمجھائیں سحر کو”
انیسہ نے اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ کی برف دیکھ کر کہا تھا
“وہ ٹھیک کہہ رہی ہے انیسہ اگر آپ لوگوں کو اتنا ہی احساس ہوتا تو آپ زاران کے ساتھ شادی کردیتی نا”
کنول بیگم نے حیران ہوکر اپنی دیورانی کو دیکھا تھا جو ہمیشہ سے چپ ہی رہی سب کے سامنے
“یہ تو بہت اونچی پلاننگ کئیے بیٹھی تھی سویرا۔۔”
انہوں نے آہستہ سے سویرا کو کہا تھا جو نکاح والے دن سے ہی اداس تھی جس کی آنکھیں بھی سوجھ گئیں تھیں رو رو کر اب اسے اسکے والد صاحب کمرے سے باہر لیکر آئیں تھے
پر یہاں پہلے سے پہ ایک نئی بحث شروع تھی
“تو چچی آپ کس رشتے کے انتظار میں ہیں۔۔؟ اور آپ سویرا باجی جن سے آپ اتنی اونچی آواز میں بات کر رہی ہیں وہ کوئی غیر نہیں آپ کی اپنی خیر خواہ ہیں”
نایاب ایک خوبصورت مہرون جوڑے میں ملبوس کھڑی تھی زاران عابدی کے ساتھ
جس کے چہرے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے ساری دنیا فتح کرلی ہو
“اووہ نیا نویلا جوڑا بھی آگیا ہے۔۔۔؟ بہت بہت مبارک ہو نایاب بی بی بہت کامیاب ہوئی ہو جو میرا تھا اسے چُرانے میں”
سویرا سے رہا نہیں گیا تھا اپنی امی کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“کوئی کسی سے دنیاوی چیزیں تو چرا سکتا ہے پر کسی کے نصیب نہیں۔۔آپ زاران کو پا کر بھی نہیں پا سکیں تھیں کیونکہ وہ میری قدر میں میرے نصیب میں لکھے جا چکے تھے سویرا باجی
اگر آپ انکے نصیب میں ہوتی تو کبھی نکاح والے دن نا جاتی کہیں بھی۔۔آپ کو بنا محنت کے مل رہے تھے اس لیے آپ نے بےقدری کردی انکی
اب جو میری آغوش میں میرے اتنے پاس کھڑے ہیں یہ میرا نصیب ہی نہیں اب میرے شریک حیات بھی ہیں
اب آپ ایسے باتیں کر رہے آپ کے اور ہمارے رشتے کی تذلیل کریں گی اور کچھ نہیں “
“وہ تمہارے نصیبوں میں بھی نہیں رہے گا نایاب”
“ہم نے اپنی ڈوریاں اپنے رب پر چھوڑ دی ہیں سویرا اللہ ہماری جوڑی سلامت رکھے گا جب تک ہماری سانسیں بحال ہیں۔۔۔”
زاران نے نایاب کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور سویرا وہاں سے چلی گئی تھی غصے سے
“سحر باجی”
“بس نایاب تمہیں ضرورت نہیں ہے میری بیٹی نہیں کرنا چاہتی یہ شادی میری بچی بوجھ نہیں ہے مجھ پر اگر آپ لوگوں پر ہم بوجھ ہیں تو بتا دیں
۔
“چچی ماں باپ کو اپنی بیٹیاں کبھی بوجھ نہیں لگتی حقیقت بھی ہے یہ بات
پر بیٹی کے نصیب اور محبت سے نکل کر دیکھئے آج آپ آنے والے رشتوں کو انکار کرکے بیٹی کی عمر گزار رہی ہیں
ابھی آپ صرف یہ دیکھ رہیں ہیں کہ آپ کی بیٹی اس غریب رشتے ہماری سٹیٹس سے کم لڑکے کے ساتھ اپنی بیٹی بیانا نہیں چاہتی پر آپ نے آنے والے وقت کا سوچا ہے۔۔؟
کل کو عمر گزر جانے پر بیٹیوں کو یہ رشتے بھی نہیں ملتے۔۔”
اس نے سب کو خاموش کروا دیا تھا
“نایاب تم تو دور ہی رہو۔۔”
سحر باجی نے للکار کر کہا تھا
“ٹھیک ہے باجی میں دور رہوں گی۔۔۔کل کو انیسہ پھوپھو بھی دور ہو جائیں گی سب اپنے آپ کی زندگی میں مداخلت کرنا چھوڑ دیں گے
پھر آپ نے سوچا ہے کیا ہوگا۔۔۔؟
آج تک جتنے بھی رشتے آۓ آپ نے کوئی نا کوئی نقص ڈال کر رد کردیا آپ یہ دیکھیں ان سب میں کیا عمر نہیں گزر رہی آپ کی۔۔۔؟؟
ہم بیٹیوں کو شادی کے معاملات میں امیر غریب تو کم سے کم نہیں دیکھنا چاہیے۔۔ہم بیٹیوں کے نصیوں کا ہمیں ضرور ملے گا۔۔
جتنی صابر و شاکر ہم ہوں اتنی ہی نفاست سے ہم اپنے گھر کو بنائیں گی بھی اور چلائیں گی بھی۔۔۔
آپ ایک بار بڑوں کا فیصلہ تسلیم کرلیں۔۔۔ نہیں تو پچھتاوا رہ جاۓ گا
ماں باپ سدا ساتھ نہیں رہتے سحر باجی بیٹی کو عمر رہتے ہی شادی کے لیے ہاں کردینی چاہیئے۔۔۔۔”
نایاب نے یہ کہہ کر سحر کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے تھے
جہاں زاران فخر سے سر اٹھائے کھڑا تھا وہیں چچی کا شرم سے جھک گیا تھا
“سحر باجی آپ ابھی ان ماں باپ کے دکھ سے واقف نہیں جنکی بیٹیوں کی عمریں گزر گئیں ہیں پر شادی نہیں ہوئی۔۔۔
آپ ان لڑکیوں کے دکھ سے آشنا نہیں ہوئی جو عمر رہتے بہتر رشتوں کے انتظار میں بہترین رشتے ٹھکراتی رہی اور آج وہ گئے وقت میں کیسے پچھتاتی ہیں روتی ہیں
ان بچیوں کی آہ پکار سے آپ واقف نہیں ہوئی۔۔۔
وقت رہتے ہاں کیجیئے اللہ سب بچیوں کے نصیب بہت اچھے کرے یہ میری دعا ہے۔۔۔۔”
۔
وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
“سحر باجی۔۔۔چچی آپ سب اپنی مرضی کیجیئے۔۔۔نایاب زرا جذباتی ہے۔۔
میں نہیں چاہتا کہ آپ کچھ غلط مطلب لیں۔۔۔
سحر باجی آپ جب چاہیں گی آپ کی شادی اسی وقت آپ کی مرضی سے ہوگی۔۔۔”
زاران واپس مڑا تھا۔۔۔
“زاران بیٹا میں ان لوگوں سے ایک بات ضرور ملنا چاہوں گی۔۔۔
انیسہ باجی آپ انہیں کھانے پہ بلا لیں کسی دن۔۔۔”
“”پر بھابھی سحر تو۔۔۔”
“انیسہ پھوپھو جو آپ کی خوشی ہوگی آپ بڑوں کا فیصلہ ہوگا مجھے قبول ہوگا۔۔۔۔۔”
سحر کا لہجہ قدرے دھیما ہوگیا تھا
اب زاران مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے باہر چلا گیا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔؟”
نایاب نے زاران کو فالو کرتے ہوئے پوچھا تھا
“ہم جا رہے ہیں ایک سرپرائز کی طرف بس اب اور کچھ نہیں پوچھنا۔۔”
“پر زاران اندر جو ہوا ہمیں گھر ہی رہنا چاہیے تھا کیا سوچ رہے ہوں گے سب۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ پوگئی تھی جب اس نے سامنے ایک نیو اور سٹائلش گاڑی دیکھی تھی
“امی سے اور دلکش چچی سے میں نے پوچھ لیا تھ۔۔۔اب میڈم چلیں ہماری نئی گاڑی میں”
زاران نے گاڑی کا فرنٹ ڈور اوپن کیا تھا
“زاران یہ گاڑی۔۔۔”
“ہماری نئی گاڑی ہے نایاب جی جس می فرنٹ سیٹ پر صرف تم بیٹھا کرو گی اور کوئی نہیں
میری پرانی گاڑی میں سب بیٹھتے تھے اور تم نہیں تو اب میں نے کچھ سپیشل کرنے کی سوچی۔۔”
نایاب وہیں زاران کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
“آپ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر یا اندر اپنے بیڈروم میں بھی ایسے رومینٹک ہوسکتے ہیں یہاں پبلک ڈسپلے تو نا دیں۔۔۔باورچی سے لیکر ڈرائیور تک کی نظر آپ دونوں پر پر۔۔۔”
سنی کی آواز سے نایاب سر جھکائے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
“سنی کے بچے۔۔۔”
“ہاہاہا زاران بھائی ویسے آپ اور رومینٹک۔۔؟؟ یا اللہ یہ میری آنکھوں نے کیا دیکھا۔۔؟؟”
“ٹھہرو ابھی بتاتا ہوں۔۔۔”
پر سنی قہقے لگاتے ہوئے وہاں سے بھاگ گیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ ہی دیر میں انکی گاڑی ساحل سمندر پر آ رکی تھی زاران نے اس وقت نایاب کا ہاتھ چھوڑا تھا
جو نظریں چرا رہی تھی
وہ گاڑی سے اتر کر نایاب کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر کھڑا ہوگیا تھا
“یہ میری خواہش تھی میں اپنی بیگم کو یہاں لیکر آؤں۔۔۔”
اس نے ہاتھ جیسے ہی آگے بڑھایا تھا تھا نایاب نے زاران کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
۔
“آپ کی خواہشیں ایسی بھی ہوں گی مجھے پتا نہیں تھا زاران عابدی”
اس نے آئسکریم کھاتے ہوئے شرارتی لیجے میں کہا تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ریت پر ننگے پاؤں چلنے پر اسے بہت راحت مل رہی تھی
“ایسی بھی اور ویسی بھی نایاب التمش ابھی تو اور بہت سی خواہشیں پوری کرنے ہیں”
زاران نے بھی اسی شرارتی لیجے میں جواب دے کر نایاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر چلنا شروع کردیا تھا
۔
“لڑکیوں کو تو بہت شوق ہوتا ہے ساحل کنارے ریت پر گھر بنانے کا تم نہیں بناؤ گی۔۔؟؟”
زاران بھی نایاب کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا تھا
“مجھے شوق نہیں سمندر کی ریت پر گھر بنانے کا زاران ایک ایسا گھر جو میں محنت سے بنا تو لوں گی اور اپنی آنکھوں کے سامنے اسے ٹوٹتے ہوئے بکھرتے ہوئے بھی دیکھوں گی۔؟
ان لڑکیوں میں ہمت ہوتی ہوگی مجھ میں نہیں ہے گھر بنا کر بکھرتے ہوئے دیکھنا
گھر چاہے ریت پر ہو یا اینٹوں پر ایسا ہونا چاہیے جو کبھی سمندر کی تیز لہروں سے ٹوٹ نا پائے
یا تیز ہوائیں اینٹوں کے بنے گھر کو تباہ نا کرپائیں”
وہ بات کئیے جا رہی تھی اور نایاب عابدی کی نظریں نہیں ہٹ پا رہی تھیں چلتی ہوئی تیز ہوا میں نایاب کی اڑتی ہوئیں زلفیں زاران عابدی کی توجہ پوری طرح سے لے گئیں تھیں
۔
۔
“ہم انسان رنگ روپ کی بنا پر الگ تھلگ جاننے لگتے ہیں خود کو
وہ تو اللہ کی پاک ذات ہے جو دلوں کو نرم کردیتی ہے دلوں میں محبت پیدا کردیتی ہے۔۔
ورنہ زاران عابدی جیسے خوبصورت نظروں نے خوبصورتی ہی تلاش کرتے کرتے رہ جانا تھا
نایاب التمش۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہیں وہاں جا کر زاران عابدی کو اس طرح سے زخمی کرنا ہے کہ وہ نایاب کے کیا کسی کے بھی قابل نا رہے۔۔”
افنان نے فون بر شدید غصے سے کہا تھا
“یہ کس سے بات کر رہے ہو افنان۔۔ کیا کروانے والے ہو زاران کو۔۔؟ وہ شادی شدہ ہے تم ایسے اسکی خوشیاں نہیں چھین سکتے افنان فون مجھے دو۔۔”
رانیہ نے آگے بڑھ کر کہا تھا افنان پہلے تو شوکڈ تھا کہ کسی نے اسکی باتیں سن لی پر رانیہ کو دیکھ کر اسکا غصہ ڈبل ہوگیا تھا
“تم وہ کرو جو کہا میں بات میں بات کرتا ہوں”
افنان نے فون بند کردیا تھا
“افنان یہ کیا گناہ کرنے جا رہے ہو۔؟ فون ملاؤ اور منع کرو اسے۔۔۔”
رانیہ نے موبائل کھینچنے کی کوشش کی تو افنان نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا جو پیچھے بیڈ پر جا گری تھی
“تم ہوتی کون ہو۔۔؟ امی تمہیں اس گھر میں دوبارہ لےکر آئی ہیں میں نہیں میرے معاملات میں مداخلت مت کرو سمجھی تم”
افنان کی کسی بات پر جب اس نے رانیہ کا جواب نہیں سنا تو اسکی نظرپیچھے پڑی جہاں رانیہ بیڈ پر بےہوش گری ہوئی تھی
“رانیہ اب یہ ڈرامے مجھ پر اثر نہیں کریں گے اٹھو اور دفعہ ہوجاؤ میرے کمرے سے”
“رانیہ۔۔۔”
اسکے چلانے پر رانیہ تو نہیں اٹھی تھی البتہ باہر سے زیبا بیگم یوسف صاحب کے ساتھ اندر ضرور
آگئیں تھیں
“افنان یہ کیسا شور ہے کیوں چلا رہے ہو۔۔؟ رانیہ بیٹا۔۔؟”
اور یوسف صاحب نے پریشان ہوکر افنان کی طرف دیکھا تھا جو اپنی جگہ پر ساکن تھا
“یوسف صاحب یہ اٹھ نہیں رہی ہمیں ہسپتال لے جانا ہوگا جلدی کیجئیے۔۔”
یوسف صاحب سے پہلے افنان نے آگے بڑھ کر رانیہ کو اٹھا لیا تھا
“ابو گاڑی سٹارٹ کیجئیے آپ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دادی آپ زاران کو کہاں لے جا رہی ہیں دادی۔۔۔؟”
“نایاب بیٹامیں تمہیں یہ لال جوڑا دینے آئی ہوں بیٹا۔۔”
“پر دادی یہ تو لال نہیں ہے۔۔”
نایاب نے اس سفید کپڑے کو دیکھ کر دادی سے پوچھا تھا
“میری بچی تم کبھی ہمت نہیں ہارو گی”
دادی نے نظریں نیچی کرلی تھی
“زاران آپ ہی بتائیں یہ سفید کپڑا ہے نا۔۔دادی لال جوڑا دیں نا مجھے زاران۔۔۔”
زاران نے آنسوؤں سے بھرا چہرہ اٹھا کر نایاب کے سامنے کیا تھا اور جیسے ہی اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اس نے نایاب کے چہرے پر رکھا تھا نایاب کی آنکھیں بھر گئیں تھیں
“نایاب بیٹا تم ہمت نہیں ہارو گی”
“دادی میں زاران کو پاکر ہار گئی تو ہمت ہی نہیں زندگی بھی ہار جاؤں گی آپ دونوں کہاں جا رہے ہیں”
پر دادی نے زاران کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“زاران۔۔۔زاران۔۔۔۔”
ہانپتے ہوئے کانپتے ہوئے وہ اپنی نیند سے جاگ گئی تھی
“زاران۔۔۔”
بھیگے ہوئے چہرے سے اسکی نظر پاس سوئے ہوئے زاران پر پڑی جس کا منہ نیند میں کھلا ہوا دیکھ کر وہ روتے ہوئے بھی ہنس دی تھی
“اوووہ زاران اب آپ کو پا لیا کھونے کا ڈر لاحق ہوگیاہے مجھے
ہم انسانوں کی زندگی بھی ایسی ہی ہے پیچیدہ سی خطرات سے گھری ہوئی تو کہیں خواہشوں سے دبی ہوئی۔۔
جب کسی کی خواہش پر دل بہت بہادر بنا رہتا ہے تو وہی خواہش پوری ہوجانے پر دل ڈرپوک سا بن جاتا ہے نا ملنے پر بےچین رہتا ہے اور مل جانے پر خوفزدہ
زاران عابدی مجھے بےچین کرکے سکون کی نیند سو رہے ہو کتنی بری بات ہے۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی اور اپنا چہرہ صاف کرلیا تھا
زاران کی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اس نے زاران کا منہ آہستہ سے بند کردیا تھا
وہ اٹھ کر باہر بالکونی پر گہرا سانس لینے کے لیے جانا چاہتی تھی پر بستر سے ایک قدم نیچے رکھنے پر اسے وہی خواب کی جھلکیاں نظر آئی تھی
گھبرا کر زاران کے خوبصورت چہرے کو دیکھا تھا جسے چاند کی روشنی اور روشن کررہی تھی
اسکے دل میں جانے کہاں سے اتنی بہادری آئی اس نے زاران کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا
“میرے پاس آنے میں کچھ زیادہ ہی وقت لے رہی ہو تم یار۔۔۔”
زاران نے بہت آہستہ سے کہا تھا اور نایاب کی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنے اور قریب کیا تھا جس سے نایاب کا سر زاران کے سینے پر تھا
“کب سے جاگ رہے ہیں۔۔؟؟
اس نے بھی سرگوشی کی تھی
“جب سے تم میرا منہ بند کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی وائفی۔۔۔”
زاران نے مسکراتے ہوئے ہلکی سے آنکھیں کھولی تھی نایاب کا شرماتا چہرہ دیکھنے کے لیے
“ہمم کردیا تھا منہ بند آپ کا۔۔۔”
نایاب نے کہتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں
“ہاہاہا منہ کیا تم تو میری بولتی بند کرنے میں بہت ایکسپرٹ ہو”
۔
جب نایاب کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو زاران نے اپنی آغوش میں لیٹی ہوئی اس لڑکی کو دیکھا تھا جو کچھ سال پہلے کچھ معنی نہیں رکھتی تھی اور آج زاران عابدی کو لگ رہا تھا ا
اگر آج اس لڑکی کی جگہ کوئی اور ہوتی تو شاید وہ جی نا پاتا اپنی زندگی
“مسز نایاب زاران عابدی بہت گہری اور کبھی نا ختم ہونے والی محبت ہوگئی ہے آپ سے
سانسیں ختم ہوں تو ہوں نایاب میری محبت تمہارے لیے کبھی ختم نہیں ہو گی۔۔۔”
نایاب کے ماتھے پر بوسہ دے کر زاران نے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھیں
“زاران عابدی آپ کی سانسوں سے پہلے میری سانسیں بند ہوجائیں گی آپ کی بند آنکھیں بس نیند میں بند دیکھنا چاہتی ہوں میں زاران اللہ پاک سے میری دعا ہے مجھے سہاگن موت آئے آپ کے کندھوں پرمیرا آخری سفر ہو۔۔۔”
“نایاب۔۔۔”
زاران غصے میں کچھ کہنے لگا تھا کہ نایاب نے اسکے ہونٹوں پر اپنی انگلیاں رکھ دی تھیں
“شش۔۔۔اللہ ہماری جوڑی سلامت رکھے زاران جب تک ہم زندہ رہیں زندگی موت اللہ کی مرضی سے ملتی ہے بس دعا کیجئیے گا جدائی سے پہلے جدائی نا آئے ہمارے رشتے میں۔۔۔”
“آمین میری زندگی۔۔۔”
زاران نے نایاب کے ہاتھ پر بوسہ دے کر کہا تھا
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: