Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 22

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 22

–**–**–

“مسز نایاب زاران عابدی بہت گہری اور کبھی نا ختم ہونے والی محبت ہوگئی ہے آپ سے
سانسیں ختم ہوں تو ہوں نایاب میری محبت تمہارے لیے کبھی ختم نہیں ہو گی۔۔۔”
نایاب کے ماتھے پر بوسہ دے کر زاران نے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھیں
“زاران عابدی آپ کی سانسوں سے پہلے میری سانسیں بند ہوجائیں گی آپ کی بند آنکھیں بس نیند میں بند دیکھنا چاہتی ہوں میں زاران اللہ پاک سے میری دعا ہے مجھے سہاگن موت آئے آپ کے کندھوں پرمیرا آخری سفر ہو۔۔۔”
“نایاب۔۔۔”
زاران غصے میں کچھ کہنے لگا تھا کہ نایاب نے اسکے ہونٹوں پر اپنی انگلیاں رکھ دی تھیں
“شش۔۔۔اللہ ہماری جوڑی سلامت رکھے زاران جب تک ہم زندہ رہیں زندگی موت اللہ کی مرضی سے ملتی ہے بس دعا کیجئیے گا جدائی سے پہلے جدائی نا آئے ہمارے رشتے میں۔۔۔”
“آمین میری زندگی۔۔۔”
زاران نے نایاب کے ہاتھ پر بوسہ دے کر کہا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم کیا کر رہی ہوں یہاں اس وقت۔۔؟”
زاران کی گاڑی فل بریک کے ساتھ رکی تھی سڑک کے اس پار جب اس نے سویرا کو کسے لڑکے کے ساتھ کھڑے دیکھا تھا
“اووو ہائے زاران عابدی ۔۔”
اس لڑکے نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا پر زاران نے اسے پوری طرح سے اگنور کردیا تھا اور سویرا کو غصے سے دیکھ رہا تھا وہ
“زاران یہ میرے باس ہیں سو پلیز۔۔۔”
اور زاران نے اس لڑکے کو دیکھا تھا
“باس۔۔؟ تم نے کب نوکری شروع کی۔۔؟ اور اسکی کمپنی میں۔۔؟”
“تم جانتے ہو۔۔ساحر سر کو۔۔؟؟”
“زاران یار۔۔۔”
“دور رہو میرے گھر کی عورتوں سے ساحر۔۔۔میں جانتا ہوں تیرے سابقہ ریکارڈ کو۔۔”
زاران نے سویرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتے ہوئے روڈ کے دوسری جانب لے گیا تھا جہاں اسکی گاڑی کھڑی تھی
“زاران ۔۔۔ہاتھ چھوڑو بھیگا دیا تم نے مجھے کم سے کم بارش میں ایسے کیوں کھینچ رہے۔۔؟؟”
سویرا کی بات سن کر زاران نے اپنا کوٹ اتار کر اسکی جانب پھینکا تھا
“پہن لو اسے۔۔۔گاڑی میں بیٹھو۔۔ اتنا تمہیں موسم میں بھیگنے کا ڈر تھا تو چادر کے بغیر نا نکلتی گھر سے”
وہ منہ بسوڑ کر جیسے ہی گاڑی میں بیٹھی تھی اسکی نظر سامنے رکھے گلاب کے پھولوں کے گلدستے میں پڑی تھی
اور اسکا منہ اور بگڑ گیا تھا نایاب کا سوچ کر
“میں نےدوپٹہ لیا ہوا ہے زاران ۔۔۔”
“میں نے چادر کی بات کی ہے سویرا دوپٹہ لینے اور چادر اوڑھنے میں بہت فرق ہے۔۔۔”
“اب تمہیں بہت فرق نظر آرہا ہے۔۔میں تو یہی لیکر نکلتی ہوں گھر سے۔۔۔”
زاران نے سویرا کی طرف دیکھا تھا
“کب سے۔۔؟؟”
“کب سے کیا مطلب آکسفورڈ سے آنے کے بعد میرا لائف سٹائل ایسا ہی ہے۔۔۔ پہلے تو تمہیں مسئلہ نہیں تھا”
“میں واقع اندھا تھا اسکا مطلب۔۔۔۔”
۔
گاڑی سٹارٹ کرکے اس نے اسی شخص کے پاس سے گزار تھی جس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ تھی جو سویرا کو ہاتھ ہلا کر بائے کہہ رہا تھا
“تم نے اچھا نہیں کیا وہ باس ہیں میرے۔۔”
“وہ باس ہیں اور یہ روڈ سائیڈ آئس کریم پارلر اسکی کمپنی۔۔؟ تم اس شخص کے ساتھ کر کیا رہی تھی۔۔؟؟ تمہیں پتا ہے کس طرح کا آدمی ہے وہ۔۔؟”
اس نے گاڑی کی سپیڈ اور بڑھا دی تھی
“تمہیں اس سے کیا زاران۔۔میں جو کرتی ہوں تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے۔۔؟
تم اب میرے منگیتر نہیں ہو۔۔۔زاران مجھ پر اب کوئی حق نہیں ہے تمہارا۔۔۔”
۔
وہ لوگ کب گھر کے باہر تھے سویرا کو پتا ہی نہیں چلا تھا۔۔زاران نے گاڑی پارک کر کے اندر جانے کی کی تھی اسے اتنا غصہ تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“پر پھوپھو زاران کو کھیر پسند نہیں رہی اب۔۔”
نایاب نے آنچ کو بہت کم کر کے کہا تھا انیسہ بیگم سے
“ہاہاہا اس نے دوپہر سے جتنی بار مجھے فون کر کے پوچھ لیا ہے نا کھیر بنی کہ نہیں۔۔
اب تو وہ بھاگتے ہوئے گھر آرہا ہوگا۔۔”
انکے قہقے سے نایاب کا دھیان ماضی میں چلا گیا تھا جب زاران نے سب کے سامنے نایاب کے ہاتھوں سے بنی ہوئی کھیر کو کھانے سے انکار کیا تھا اسکے ہاتھ رک گئے تھے اور اسکے رکے ہوئے ہاتھوں پر انیسہ نے اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
“ماضی بھلانا آسان نہیں ہوتا بیٹا پر کوشش کرنے میں کیا ہے۔۔؟؟”
“پھوپھو ماضی کو یاد کر کے اپنے آج اور آنے والے کل کو برباد میں بھی نہیں کرنا چاہتی۔۔پر ماضی کبھی کبھی بھلانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔۔۔”
۔
“زاران۔۔۔”
۔
سویرا کی اونچی آواز نے انیسہ اور نایاب کو کچن سے باہر جانے پر مجبور کردیا تھا جہاں وہ بھیگتے ہوئے سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا اور سویرا نیچے کھڑی اسے بہت پیار سے بلا رہی تھی
۔
“ان خوبصورت پھولوں کے لیے بہت بہت شکریہ زاران میں انہیں اپنے روم کے ایک کونے میں سجا کر رکھوں گی۔۔”
بہت سے فیملی ممبرز کی نظریں زاران پر گئیں تھیں اور زاران کی نظریں نایاب پر تھیں
وہ سویرا کی بات پر شوکڈ تھا پر نایاب کو وہاں موجود دیکھ کر وہ گھبرا گیا تھا۔۔
“وٹ دا ہیل سویرا۔۔”
وہ چلایا تھا۔۔
“بارش نے کتنا بھیگا دیا ہے ہم دونوں کو۔۔آج کی شام کے لیے بہت شکریہ۔۔۔”
سویرا نایاب کی جانب دیکھ کر یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی کنول چچی بھی اپنی بیٹی کے پیچھے گئی تھی۔۔
گھر کی عورتیں ہی موجود تھیں وہاں۔۔ انیسہ بیگم نے زاران کو غصے سے دیکھا تھا
“سیریسلی زاران۔۔؟؟”
“امی۔۔۔”
پر انیسہ بیگم واپس کچن میں چلی گئیں تھیں
“نایاب میری بات۔۔۔”
“آپ روم میں جا کر چینج کرلیں میں کچھ کھانے کو لے کر آتی ہوں۔۔”
“نایاب۔۔۔”
۔
نایاب بنا جواب دئیے کچن میں جا چکی تھی
۔
۔
“نایاب۔۔۔”
زاران نے گہرا سانس لیا تھا وہ نایاب کا کچن تک پیچھا نا کرسکا پر اسکی آنکھوں نے کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کسی کے بھی سامنے وہ اپنی بیوی کو کوئی بھی صفائی دے۔۔ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے انکی شادی کو۔۔۔۔
وہ اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا تھا اسی پریشانی کے عالم میں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اگر میری شادی سویرا سے ہوجاتی تو کیا ہوتی میری زندگی آج۔۔؟”
زاران کے ذہن میں یہ سوال ان سب سوالوں کے ساتھ گردش کر رہا تھا وہ جب سے اوپر اپنے کمرے میں آیا تھا کپڑے چینج کرنے کے کے بعد وہ یہاں بالکونی میں کھڑا ہوگیا تھا وہ پورا سگریٹ کا ایک پیک ختم کر چکا تھا کچھ دیر میں پوری بالکونی میں دھواں ہی دھواں تھا اور وہ آخری سگریٹ جب سلگ کر اسکی انگلی سے لگا تھا تو وہ اپنی کھوئی ہوئی دنیا سے باہر آیا تھا۔۔
اور اسے احساس ہوا تھا پاس اسکے اسکی بیوی بھی کھڑی تھی اس نے شرمندگی سے وہ سگریٹ بھی پیچھے چھپا لیا تھا
“سگریٹ تو آپ نے چھپا لیا پر اس دھویں کا کیا کریں گے زاران۔۔؟
آپ کو سگریٹ پینا ہے آپ شوق سے پیجئے پر یہاں نہیں گھر سے باہر پیا کریں ۔۔”
نایاب نے زاران کے ہاتھ سے وہ سگریٹ لیکر نیچے پھینک دیا تھا
“ایم سوری۔۔۔مجھے لگا تھا تم ناراض ہوگئی ہو نیچے جو سویرا نے کہا اسے سن کر۔۔
اور مجھے لگا تھا تم یا تو آؤ گی نہیں یا پھر میرے سو جانے کے بعد آؤ گی۔۔۔
اس لیے پینا شروع کردیا۔۔۔”
زاران ایک چھوٹے بچے کے جیسے اسے تفصیل سے بتانے کی کوشش کررہا تھا
“سویرا باجی سے آپ کا کوٹ لینے چلی گئی تھی اس لیے دیر ہوگئی مجھے۔۔۔خیر آپ اندر چلیے فریش ہوکر کھانا کھا لیجئیے۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر جانے لگی تھی کہ زاران نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس کھینچا تھا
“سویرا زندہ تو ہے نا۔۔؟ میرا مطلب ہے تم ٹھیک تو ہو نا۔۔؟؟”
زاران کے چہرے پر ایک شرارت جھلکی تھی
“اس بار وارننگ دی ہے میں نے اور اگلی بار ایسا کچھ دیکھا میں نے تو سویرا باجی کا تو پتا نہیں آپ کو ضرور مار دوں گی۔۔۔”
وہ غصے سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اندر چلی گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہ۔۔۔۔۔۔آج نایاب التمش دیکھ رہا ہوں اففف۔۔۔۔”
۔
۔
زاران قہقہ لگاتے ہوئے اندر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب۔۔۔”
نایاب کروٹ لیکر آنکھیں بند کرچکی تھی کھانے کے برتن رکھنے کے بعد سے وہ خاموش تھی جو زاران کو ایک لمحے کو نہیں بھا رہی تھی خاس کر نایاب کی خاموشی۔۔۔
“ایسے خاموش نا رہو نایاب۔۔سویرا نے جو کہا وہ سچ نہیں ہے۔۔۔”
زاران نے اسکے کندھے پر ہاتھ کر کر اسکا چہرہ اپنی طرف کیا تھا
“سچ کیا ہے پھر زاران۔۔؟؟ “
اس نے آنکھیں کھول کر زاران کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
“وہ مجھے آفس سے گھر آتے وقت روڈ پر نظر آئی تھی کسی غیر مرد کے ساتھ۔۔۔
میں اسے بس گھر لیکر آیا تھا ۔۔۔وہ پھول میں نے تمہارے لیے لئیے تھے گاڑی میں رکھے تھے تمہیں دینے کے لیے نایاب۔۔۔”
زاران نے اپنا ہاتھ نایاب کے چہرے پر رکھ کر اپنی بات مکمل کی تھی
۔
“پر کیوں۔۔۔؟؟”
“کیا مطلب کیوں نایاب۔۔؟ “
” سویرا باجی نے بھی یہی سوال پوچھا مجھ سے۔۔مجھے کہا کہ کیوں آپ کو برا لگا انکو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر۔۔؟ کیوں آپ اتنے پوزیسسو ہوگئے۔۔؟ کیا آپ کے دل میں کوئی۔۔۔”
زاران نے اسکے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
“ہم میں لڑائی ہونی چاہیے غلط فہمی نہیں نایاب۔۔میاں بیوی کی لڑائیاں دل کے بوجھ ہلکے کردیتی ہیں اور غلط فہمیاں بڑھا دیتی ہیں
تمہاری آنکھوں میں میں یقین دیکھ رہا ہوں اپنے لیے اور تمہاری لبوں پر شک کے شکوے۔۔
سویرا کے لیے کوئی ایسی فیلنگ نہیں ہے وللہ اسکی جگہ اگر کوئی کزن ہوتی تب بھی یہی کرتا میں نایاب۔۔۔ تمہاری قسم تمہارے سوائے کوئی نہیں اس دل میں۔۔”
اس نے نایاب کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دیا تھا
“تو پھر اتنے سگریٹ کیوں پی رہے تھے۔۔۔؟؟”
اس نے سرگوشی کی تھی اسکے ہاتھوں کے نیچے زاران عابدی کی دھڑکتی دھڑکن محسوس کرکے وہ شرما گئی تھی
“میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر میری شادی سویرا سے ہوجاتی تو زندگی کیسی ہوتی۔۔؟؟”
زاران نے اوپر دیکھتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔۔۔اسی بات پر جب نایاب نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو زاران نے اسکا ہاتھ کھینچ کراسے اپنی اوڑھ کیا تھا اسکے بال بکھر گئے تھے جو صرف اسکا ہی نہیں زاران کے چہرے پر بھی آگرے تھے۔۔۔۔
۔
“زاران۔۔۔”
“نایاب سویرا سے شادی کے بعد کیا زندگی اتنی ہی خوبصورت ہوتی جتنی اب ہے۔۔؟؟”
نایاب کا ہاتھ چھوڑ کر اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھا تھا زاران نے
“کیا وہ بھی ایسے ہی شرما حیا والی بیوی بنتی میری۔۔؟؟
وہ بھی تمہاری طرح گھر سے باہر نکلتی خود کو ایک بڑی سی چادر میں کور کرکے۔۔؟؟”
زاران کی باتوں نے نایاب کو مجبور کردیا منہ اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے پر
“نایاب ایک حقیقت ایک کڑکتی بجلی کی طرح گری مجھ پر۔۔۔تمہیں کھو دیا تھا نا میں نے۔۔
آج تم میرے پاس ہو یہ مجھ پر اللہ کی عنایت ہوئی ہے۔۔ورنہ میں تو ساری زندگی پچھتانے میں گزار دیتا نا۔۔؟ سویرا کو آج ایک باریک دوپٹے میں ایک سڑک پر کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھا تو دماغ میں تم آگئی۔۔۔تم نے تو کبھی اپنے کزن کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا پسند نہیں کیا ۔۔
میں حیران رہ گیا ہوں نایاب۔۔۔میں کیسے اتنا بدل گیا تھا باہر جانے کے بعد۔۔؟؟”
نایاب کی آنکھیں جیسے ہی اسکے اشکوں سے بھاری ہوئی تھیں اس نے زاران کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا
آج زاران عابدی بولتے ہوئے اسے ہی نہیں اسکی زخمی روح کو بھی مرہم لگا رہا تھا۔۔
“تم سہی کہتی ہو نایاب یہ اللہ کا کرم ہوتا ہے ورنہ انسان خوبصورتی کے چکر میں سب کچھ گنوا دیتا ہے۔۔
آج تمہیں اپنی بیوی کے روپ میں دیکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں اب مجھے کوئی اور خوبصورت نہیں لگتا۔۔۔
سویرا کے لیے یا کسی اور ے لیے اب میرے دل میں میری زندگی میں جگہ نہیں ہے نایاب نے نے سب پر قبضہ کر لیا ہے۔۔۔”
اس نے نایاب کے ماتھے پر بوسہ دیاتھا۔۔۔اور چپ ہوگیا تھا
“چپ کیوں ہوگئے ہیں زاران بولتے رہیے۔۔”
اور پھر زاران عابدی نے اسکے بال سہلاتے ہوئے جی بھر کر باتیں کی تھیں جو باتیں سنتے ہوئے گہری نیند سو گئی تھی۔۔۔
۔
“بےپناہ محبت ہوگئی ہے تم سے نایاب۔۔۔”
۔
اس نے پھر سے نایاب کے ماتھے پر بوسہ لیا تھا۔۔۔اور اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“انیسہ ہم دلکش بیٹی کو لینے آئے ہیں۔۔۔”
“خالہ آپ یہاں۔۔۔؟؟”
دلکش نایاب کے ساتھ ڈرائننگ روم میں داخل ہوئی تھی وہ حیران تھی اتنے سالوں کے بعد ان لوگوں کو اپنے سامنے دیکھ کر جنہوں نے اسے سنبھالنے کے بجائے پاگل خانے میں جمع کرا دیا تھا
“ہاں دلکش بیٹا۔۔میں اور تمہارے خالو تمہیں گھر لے جانے آئے ہیں۔۔”
انہوں نے اٹھ کر دلکش کو اپنے گلے لگا لیا تھا ان سب میں نایاب کی نظریں یاسمین بیگم پر تھیں جو وہاں موجود سب لوگوں میں سب سے زیادہ خوش دیکھائی دے رہیں تھیں
“امی آپ یہ کیا کر رہی ہیں پلیز نا کیجئیے۔۔۔”
نایاب نے آنکھیں اٹھا کر یاسمین بیگم کی طرف دیکھا تھا جنہوں نے اگنور کردیا تھا نایاب کو
“پر یاسمین بھابھی اچانک سے دلکش کیسے جا سکتیں ہیں۔۔۔”
انیسہ کی نظریں التمش صاحب کی طرف تھیں جو اپنا سر نفی میں ہلانے کی کوشش کئیے جا رہے تھے بار بار۔۔۔
“اچانک سے کچھ نہیں انیسہ باجی دلکش کو بھی موقع مل جائے گا امی ابو کی خدمت کرنے کا
دلکش باجی آپ کو چلے جانا چاہیے۔۔۔”
یاسمین بیگم نے آگے ہوکر دلکش کو اپنے گلے لگایا تھا
“امی آپ یہ کیا کر رہی ہیں۔۔؟؟”
نایاب نے ہلکی آواز میں پوچھا تھا اور اسی وقت دلکش نے نایاب کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا
“یاسمین ٹھیک کہہ رہی ہیں دلکش جی کو اب چلے جانا چاہیے اب یہ بیٹی کا سسرال بھی ہے۔۔”
کنول بیگم کی بات پر اور سب نے ہاں میں جواب دیا تھا خاص کر فاخرہ پھوپھو نے
“دلکش کی اگر نیت خراب نا ہوئی ہو چھوٹی بہن کو دیکھ کر۔۔میرے خیال سے اب تمہیں چلے جانا چاہیے کیونکہ اب یہ تمہاری بیٹی کا سسرال بھی ہے۔۔”
۔
فاخرہ نے جیسے ہی کہا تھا التمش صاحب اب غصے سے اپنی بہن کو دیکھ رہے تھے انکو تو کوئی دیکھ ہی نہیں رہا تھا وہ اتنا بےبس محسوس کر رہے تھے
پر جب دلکش کی نظریں ان پرڑی تھیں انکی آنکھ سے ایک آنسو گر پڑا تھا وہ بے بسی سے دلکش کو نفی میں سر ہلاکر منع کررہے تھے اور دلکش نے آنکھیں بند کرلی تھیں
“میں آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوں۔۔۔”
“آپ کہیں نہیں جا رہی۔۔یہ گھر آپ کی بیٹی کا سسرال نہیں آپ کے بیٹے کا گھر ہے آپ کہیں نہیں جائیں گی۔۔۔”
زاران نے اپنا آفس کا بیگ دروازے کے پاس رکھ دیا تھا اور اپنی ٹائی لوز کر کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا ان دو لوگوں کے جو دلکش کی بات سن کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اب انکی خوشی غائب ہوگئی تھی زاران کی بات سن کر
“پر بیٹا۔۔۔”
“میں بات کررہا ہوں امی۔۔۔”
انیسہ بیگم تو خاموش ہوگئیں تھیں اسی وقت یاسمین بیگم نے نایاب کا ہاتھ پکڑ کر اسے زاران کی طرف جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
نایاب اٹک کر رہ گئی تھی دونوں طرف سے۔۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا کرے اپنی ایک ماں کو بھیج دے دور یا اپنی ایک ماں کو مرتے ہوئے دیکھے۔۔اسے پتا تھا یاسمین بیگم اپنے ساتھ کچھ غلط نا کر بیٹھیں۔۔۔
۔
“زاران بیٹا دلکش کی یہاں کیا جگہ ہے اب۔۔؟ نایاب کی شادی ہوگئی ہے اب انہیں بھی جانے دو۔۔”
فاخرہ پھوپھو نے بہت پیار بھرے لہجے میں کہا تھا
“پھوپھو یہ کہیں نہیں جا رہیں میری ماں بن گئیں ہیں اب یہ میری اور نایاب کی شادی کے بعد جیسے میرے ماں باپ نایاب کے لیے۔۔۔
دلکش ممانی آپ کہیں نہیں جا رہیں ہیں۔۔اور آپ لوگ آپ اس وقت کہاں تھے جب یہ یہاں نہیں تھیں باہر کے ملک تھیں۔۔؟ “
“دلکش کی دوسری شادی کے بعد وہ ہماری زمہ داری نہیں تھی۔۔۔”
وہ خاتون جو کچھ دیر پہلے خود کو دلکش بیگم کی خالہ کہہ رہیں تھیں ایک دم سے غصے سے بولی تھیں
“اچھا اب بھی یہ آپ کی زمہ داری نہیں ہے۔۔”
“زاران بیٹا میرا یہاں رہنا نہیں بنتا میں خالہ کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔۔”
“آپ نہیں جا رہی کہیں بھی۔۔۔”
نایاب نے بند آنکھیں کھول کر گہرا سانس لیا تھا اور زاران کو مخاطب کیا تھا
“زاران آپ کو امی کے معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔۔۔”
زاران کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی چپ ہوگئے تھے جب کسی بڑے نے زاران کی بات کو نہیں ٹوکا تھا تو نایاب سے بھی زاران کو یہ امید نہیں تھی
“میں نے کہا تھا کو نہیں بولے گا نایاب۔۔یہ یہیں رہیں گی۔۔”
“وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی جانا چاہتی ہیں آپ کیسے روک سکتے ہیں۔۔؟”
وہ زاران کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی تھی
“میں فیصلہ کرچکا ہوں نایاب۔۔۔”
“اور آپ کیسے اکیلے یہ فیصلہ کرسکتے ہیں۔۔؟ کس نے حق دیا۔۔؟”
” میں فیصلہ کرسکتا ہوں کیونکہ تم میری بیوی ہو اور یہ اب میری زمہ داری ہیں نایاب آج کے بعد میرے فیصلوں میں مداخلت مت کرنا۔۔۔میں اس گھر کے فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہوں بڑا بیٹا ہوں میں۔۔۔”
۔
اس نے نایاب کو دوسری نظر نہیں دیکھا تھا اور اس بےعزتی کے بعد وہ اس کمرے سے چلی گئی تھی۔۔۔
“زاران بیٹا میں یہاں رہنا نہیں چاہتی۔۔۔”
“آپ یہیں رہیں گی۔۔۔”
“ہاں رکھ لوں تم اور کل کو تم دلکش کی شادی بھی التمش بھائی سے کروانے کی بات کرو گے۔۔؟”
یاسمین بیگم نے آگ بگولہ ہوکر پوچھا تھا۔۔۔انکی بات پر سب شوکڈ تھے۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں یاسمین بھابھی۔۔۔وہ کیسے شادی کر سکتیں ہیں کچھ خدا کا خوف کھائیں ایک بہن کے نکاح میں ہونے کے بعد کیسے۔۔۔”
انیسہ نے اپنے غصے کا اظہار کیا تو دلکش بیگم کا سر جھک گیا تھا اپنی بہن کے الزام پر۔۔۔
“ہوسکتا ہے امی۔۔۔یاسمین ممانی کونسا سگی بہن ہیں دلکش ممانی کی۔۔۔کیوں ممانی آپ ہیں سگی بہن دلکش ممانی کی۔۔۔؟؟؟”
زاران نے ایک قیامت گرا دی تھی خاص کر التمش صاحب پر جو اپنی ویل چئیر کے ساتھ لگ گئے تھے جیسے انہیں کسی نے بہت اونچائی سے نیچے گرا دیا ہو
“زاران۔۔۔؟؟”
“جی امی سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔یہ دونوں سگی بہنیں نہیں ہیں۔۔۔”
دلکش نے ایک پل کو یاسمین کو دیکھا تھا اور دوسرے پل کو التمش کی نظروں میں انکی آنکھوں میں ایک نفرت ابھر آئی تھی دونوں کے لیے وہ آنکھوں سے آنسو صاف کر کے اس کمرے سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
“یا اللہ یہ کیا کردیا آپ نے یاسمین بھابھی۔۔۔”
انیسہ جیسے ہی صوفہ پر بیٹھیں تھیں یاسمین بیگم نے انیسہ کی طرف ہنستے ہوئے دیکھا تھا اور ایک قہقہ لگایا تھا
“تم تو ایسے کہہ رہی جیسے یہ سچ پتا چل جانے پر التمش نے طلاق نہیں دینی تھی دلکش کو۔۔۔
التمش کو تو مجھ سے زیادہ جلدی تھی دلکش کو اپنی زندگی سے باہر نکالنے کی اور اس سے زیادہ جلدی التمش کو اپنی بیٹی کو اپنی زندگی سے بے دخل کرنے کی تھی پوچھ لو۔۔۔”
یاسمین کی باتوں نے سب کی نظریں ملبوس کردی تھی التمش صاحب پر جو بھری ہوئی آنکھوں سے سر جھکائے نیچے دیکھ رہے تھے
“التمش مامو شاید اسی لیے اللہ نے آپ کو اولاد نہیں دی کیونکہ آپ پہلی اولاد کی ناقدری کرچکے تھے۔۔۔آپ ڈیزرو نہیں کرتے دلکش ممانی کو۔۔۔اور نا ہی نایاب کو۔۔۔”
زاران اسی غصے سے جانے لگا تھا پر ان دو لوگوں کے سامنے رک گیا تھا جن کے پسینے چھوٹ رہے تھے
“ابو آپ جانتے ہیں دلکش ممانی کو یہاں سے لے جانے کے بعد انہوں نے انہیں کہاں چھوڑنا تھا۔۔؟؟”
اور آفاق صاحب جو اسی جگہ کھڑۓ ے تھے خاموشی کے ساتھ اپنی بیوی کو روتے ہوئے دیکھ رہے تھے زاران کی آواز نے انکے ساتھ ساتھ سب کی توجہ اپنی طرف کر لی تھی
“یہ دلکش ممانی کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑنے والے تھے۔۔وہاں انہوں نے رجسٹریشن بھی کروا لی تھی۔۔۔یاسمین ممانی کو سب پتا تھا۔۔۔ میں اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتا تھا یاسمین ممانی پر یہ میری جگہ نہیں ہے۔۔یہ فیصلہ اب بڑے کریں گے۔۔۔نہیں تو آج بھی چپ ہوجائیں گے جیسے کچھ سال پہلے ہوئے تھے۔۔۔”
زاران التمش کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ بات کہہ کر گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سمجھتے کیا ہیں اپنے آپ کو سب کے سامنے ا س طرح سے کیسے کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں زاران۔۔؟؟”
۔
نایاب نے غصے سے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا اور الماری سے اپنا پرس نکال کر کچھ بکس ہاتھ میں پکڑ کر وہ دروازے تک پہنچی تھی کہ زاران نے اندر آکر دروازہ بند کردیا تھا
“راستہ چھوڑئیے زاران مجھے جانا ہے۔”
زاران نے دو قدموں میں انکے درمیان وہ فاصلہ ختم کیا تھا
“نایاب اچھی بیوی کبھی زرا سی لڑائی پر ایسے پرس اٹھا کر گھر سے باہر نہیں چلی جاتی۔۔”
زاران نے اسکی وہ بکس اور اسکا پرس پکڑ کر بیڈ پر پھینک دیا تھا وہ شدید غصے میں تھا
پر اسکی بات نے نایاب کو اور غصہ دلایا تھا
“اچھا اور اچھے شوہر اپنی بیوی پر اس طرح چلاتے بھی نہیں ہے سب کے سامنے۔۔”
وہ پھر سے مڑی تھی
پر زاران نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا وہ پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگی تھی اس سے پہلے اسکا سر انکی شادی کی فوٹو فریم پر لگتا زاران نے اپنا ہاتھ نایاب کے سر کے پیچھے رکھ دیا تھا اور اسے قید کردیا تھا
“میں مرد ہوں نایاب اس گھر کے فیصلے کرنے کا پورا حق ہے مجھے۔۔مجھے اچھا نہیں لگا میری بیوی نے سب کے سامنے میرے کہے ہوئے فیصلے پر انگلی اٹھائی۔۔
میں گھر میں میاں بیوی کی برابری کا قائل ہوں پر جو فیصلے میرے کرنے والے ہیں اس میں برابری کا قائل نہیں ہوں میں۔۔
تم نے نا صرف مجھے سب کے سامنے غلط کہا بلکہ وہاں سے یہاں آکر تم نے مجھے ہرٹ کیا ہے۔۔
اچھی بیویاں ایسے نہیں کرتیں ہیں۔۔
اور اچھی بیویاں اس طرح لڑائی پر گھر سے باہر جانے کی کوشش بھی نہیں کرتیں بنا اجازت کے۔۔۔”
۔
زاران کا یہ سخت لہجہ وہ آج دیکھ رہی تھی صبح تک سامنے کھڑے شخص کو اتنے اچھے موڈ میں اس نے آفس بھیجا تھا اور اب اسے لگ رہا تھا یہ رومینٹک شوہر تھا ہی نہیں۔۔۔
۔
“اور جو آپ نے نیچے کیا وہ جسٹیفائی کرسکتے ہیں آپ۔۔؟ میرا کیا امیج رہ گیا نیچے جس طرح آپ نے مجھ سے بات کی سب کے سامنے۔۔؟
اچھے شوہر چاہے چار دیواری میں بیوی کو عزت نا دیں پر سب کے سامنے بیوی کو اس طرح انسلٹ کرکے وہ اپنی بیوی کو اپنے خاندان میں نا صرف ڈی گریڈ کرتے ہیں بلکہ فیملی کے باقی لوگوں کو بھی موقع دیتے ہیں انکے بیوی کو ڈی گریڈ کرنے کا۔۔
اور میں یونیورسٹی جا رہی تھی۔۔نیچے امی سے انیسہ پھوپھو سے پوچھ کر جانے والی تھی میں زاران
وہ اور لڑکیاں ہوتی ہوں گی جو چھوٹی چھوٹی لڑائیوں میں گھر سے باہر جاتی ہوں گی۔۔۔”
نایاب نے پھر سے زاران کو آہستہ سے پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی جیسے ہی اسکا ہاتھ زاران کے سینے پر چھوا تھا زاران کی آنکھوں میں ایک نرمی ابھر آئی تھی
” میں صرف اس گھر کا مرد نہیں ہوں اس رشتے میں بھی میں مرد ہوں تمہارا شوہر ہوں شادی کے بعد اچھی بیویاں اپنے شوہر سے اجازت لیکر گھر سے باہر جاتی ہیں نا کہ اپنی ساس یا اپنی امی سے۔۔۔”
اس بار زاران کا لہجہ قدرے نرم تھا اور نایاب کی آنکھیں اٹھی تھیں اور زاران کی آنکھوں میں دیکھا تھا اس نے۔۔۔
۔
“زاران آپ۔۔۔ “
اور وہ کہتے ہوئے چپ ہوگئی تھی۔۔۔
“چپ کیوں ہوگئی ہو اب بولو میں کیا۔۔۔؟؟ ہماری پہلی لڑائی ہے یہ اور تم اتنی جلدی چپ ہوگئی مسز زاران عابدی۔۔۔؟؟”
زاران نے اسکی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اسکا منہ اپنی طرف کیا تھا
“آپ یہ چاہتے ہیں میں آپ کا ہر فیصلہ ایکسیپٹ کروں۔۔؟ آپ اچھی بیوی کی باتیں بتا رہے ہیں زاران اچھے شوہر بھی ایسے نہیں کرتے جو آپ نے نیچے کیا ہے۔۔
یہ پہلی لڑائی ہے۔۔اور مجھے نہیں اچھی لگی یہ پہلی لڑائی۔۔۔آپ کو لگتا ہے میں برابری کی قائل ہوں یا میں برابری چاہتی ہوں۔۔؟
میں کبھی بھی اس رشتے میں اپنے شوہر کے ساتھ برابری نہیں چاہوں گی زاران اس رشتے میں آپ آگے ہوں گے ہمیشہ میں نہیں کیونکہ اچھی بیویاں اپنے شوہر کے ساتھ نہیں اپنے شوہر کے پیچھے اچھی لگتی ہیں میں رشتے میں بیوی ہی رہنا چاہتی ہوں۔۔۔
آپ کو نیچے وہ فیصلہ لینے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا وہ میری ماں ہیں میں نہیں چاہتی انہیں سب بری نظروں سے دیکھیں وہ عزت دار خاتون ہیں زاران
کل کو جو ا لزامات یہاں ان پر لگے گیں وہ آپ نہیں جانتے۔۔”
زاران کے چہرے پر ایک مسکان بھی آئی تھی اور نایاب کی لاسٹ بات پر وہ پھر سے طیش میں آیا تھا
“میں نے نیچے بھی کہا تھا دلکش ممانی اب میری ماں ہیں تم۔۔۔”
“نہیں ہیں وہ ممانی آپ کی۔۔۔طلاق دے چکے تھے آپ کے التمش مامو انہیں۔۔۔”
نایاب نے پوری طرح سے زاران کو پیچھے دھکیل دیا تھا اور جب وہ کچھ قدم پیچھے ہوا تب نایاب کو احساس ہوا تھا اس نے کیا کیا تھا۔۔۔
“زاران۔۔۔”
پر زاران اور پیچھے ہوگیا تھا شادی سے پہلے اسے سب منظور تھا پر اب شادی کے بعد اس طرح کا برتاؤ اسے قبول نہیں تھا۔۔۔
نایاب اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف دیکھ رہی تھی جس سے اس نے پیچھے دھکا دیا تھا اس نے نظریں اٹھا کر پھر سے زاران کی طرف دیکھا تھا
“زاران۔۔۔”
“تم مجھے دل سے تسلیم کر بھی رہی ہو یا نہیں نایاب۔۔؟ وہ تمہاری ماں ہیں تو میری بھی ہوئی پر تم نہیں چاہتی نا میں کسی بھی کام آؤں۔۔؟؟تم ابھی بھی وہی نایاب التمش ہو جو کسی کا کوئی احسان نہیں لینا چاہتی نا۔۔؟ میں تو تمہیں اپنا مان چکا ہوں ہمارے نکاح کے بعد اب تم کب اپنی آنا ختم کرو گی نایاب۔۔؟؟؟”
“نہیں زاران میں۔۔۔۔”
اور زاران وہاں سے اسکی بات سنے بغیر چلا گیا تھا۔۔۔نایاب کے آنسو اس طرح نکلیں تھے جیسے انتظار میں تھے اسکی آنکھیں بلر ہونا شروع ہوگئی تھی اور وہ اسی دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: