Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 23

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 23

–**–**–

“تم مجھے دل سے تسلیم کر بھی رہی ہو یا نہیں نایاب۔۔؟ وہ تمہاری ماں ہیں تو میری بھی ہوئی پر تم نہیں چاہتی نا میں کسی بھی کام آؤں۔۔؟؟تم ابھی بھی وہی نایاب التمش ہو جو کسی کا کوئی احسان نہیں لینا چاہتی نا۔۔؟ میں تو تمہیں اپنا مان چکا ہوں ہمارے نکاح کے بعد اب تم کب اپنی آنا ختم کرو گی نایاب۔۔؟؟؟”
“نہیں زاران میں۔۔۔۔”
اور زاران وہاں سے اسکی بات سنے بغیر چلا گیا تھا۔۔۔نایاب کے آنسو اس طرح نکلیں تھے جیسے انتظار میں تھے اسکی آنکھیں بلر ہونا شروع ہوگئی تھی اور وہ اسی دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
۔
“میں اتنی کمزور نہیں ہوں زاران جتنا اس رشتے میں آپ مجھے بنا رہے ہیں۔۔”
نایاب اسی غصے سے اٹھ گئی تھی اور اپنا چہرے صاف کرکے کمرے سے باہر چلی گئی تھی
۔
“نایاب۔۔بیٹا اگر تمہیں میرا رہنا یہاں اچھا نہیں لگا تو میں کچھ اور انتظام کر لوں گی پر تم زاران کے ساتھ کوئی لڑائی مت کرنا”
نایاب کا ہاتھ پکڑ لیا تھا دلکش بیگم نے ہال روم میں جاتے دیکھ وہ بھی اسکے پیچھے آئیں تھیں
“امی خدارا مجھے ایسے گناہ گار نا کریں آپ مجھے کیوں نہیں اچھا لگے گا۔۔؟”
نایاب انکا ہاتھ پکڑ کر انکو باہر لے گئی تھی اپنی پسندیدہ جگہ اپنے باغیچے میں تالاب کے ٹھنڈے پانی کے پاس
“نایاب میں نے دیکھا زاران کو غصے میں باہر جاتے ہوئے۔۔تم دونوں کا جھگڑا ہوا ہے نا۔؟”
نایاب نے سر ایک دم سے جھکا لیا تھا وہ اپنی لڑائی کا بتاتے ہوئے بہت شرمندہ ہورہی تھی
“بیٹا اگر تم نہیں بتانا چاہتی تو کوئی بات نہیں پر میری وجہ سے لڑائی مت کرنا زاران سے
نایاب میاں بیوی کا رشتہ بہت نازک ہوتا ہے۔۔زرا سی لڑائی پر ٹوٹ جاتا ہے اگر ٹوٹنے پر آئے”
وہ کہتے کہتے آبدیدہ ہوگئیں تھیں
“امی میرا اور زاران کا رشتہ کمزور نہیں ہے۔ہمارا رشتہ اتنا مظبوط ہے کہ کبھی کسی پہاڑ جتنی لڑائی سے بھی نہیں ٹوٹے گا جب تک سانس ساکن ہے۔۔جب تاک دھڑکن بحال ہیں ہماری۔۔”
نایاب نے کہتے کہتے دلکش بیگم کی گود میں سر رکھ لیا تھا اور اسی گھاس پر سکون سے بیٹھ گئی تھی
“اتنا یقین ہے بیٹا۔۔؟”
دلکش مسکرا دی تھیں جب نایاب نے شرما کر ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔
“پر بیٹا زاران ان سب میں غلط نہیں ہے۔۔”
نایاب کے بال سہلاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا
“جانتی ہوں امی زاران سہی ہیں۔۔میں جانتی ہوں انہوں نے آپ کو وہ حق دیا ہے آج جو آپ ڈیزرو کرتی تھی اس گھر میں۔
پر انہوں نے جس طرح سے مجھے سب کے سامنے چپ رہنے کا کہا مجھے اچھا نہیں لگا امی۔
میں پہلے والی نایاب ہوتی تو میں نے چپ نہیں ہونا تھا الٹا سنا دینی تھی انہیں۔۔”
“تو کیوں نہیں سنایا نایاب۔؟ کہاں گئی پہلے والی نایاب۔۔؟”
انہوں نے بہت ہلکی آواز میں پوچھا تھا
“امی اب وہ میرے کزن ہی نہیں میرے شوہر بھی ہیں مجھے بول دینا چاہیے تھا پر سب کے سامنے کیسے بولتی۔؟ زاران نے تو اپنی آواز بلند کردی مجھ پر پر میں نہیں کرسکی تھی میں خاموشی سے وہاں سے آگئی۔۔پر اچھا نہیں لگا امی۔۔زاران کی اتنی اونچی آواز شادی سے پہلے کبھی برداشت نہیں ہوئی تھی اب کیسے ہوئی پتا نہیں۔۔
نکاح کے دن کے بعد سے ایسی تبدیلی آئی ہے۔انکو ہر بات میں آگے دیکھنا چاہتی ہوں۔
آج ہرٹ ہوئی کہ انہوں نے آپ سے متعلق فیصلے میں مجھ سے نہیں پوچھا۔۔؟”
۔
“نایاب تم اس بارے میں زاران سے بات کرنا وہ تمہیں اپنی وجہ بھی بتائے گا اس بات کو آنا کا مسئلہ نا بننے دینا میری بچی”
“امی بات آنا کی نہیں بات آپ کی عزت کی ہے۔ بھول گئیں ہیں آپ اس فیملی نے کیا انگلیاں نہیں اٹھائی آپ کے کردار پر۔؟
زاران مرد ہیں امی انہیں نہیں پتا کہ عورت کے کردار پر اٹھنے والی ہر انگلی اس عورت کے کردار کو تو چھلنی کرتی ہے پر روح کو بھی زخمی کرجاتی ہے۔
اگر گزرے کل میں آپ کے ساتھ وہ ظلم وہ زیادتیاں نا ہوتیں تو آج آپ اس گھر میں کس مقام پر ہوتیں آپ جانتی ہیں نا۔؟ آج آپ ایک مہمان کی طرح ایک گیسٹ روم میں سوتی ہیں اکیلی۔۔امی میری روح بہت زخمی ہو رہی ہے۔۔آپ پر اور الزام اور ظلم ہوتے نہیں دیکھ پاؤں گی میں۔”
آج وہ رو دی تھیں دلکش بیگم نے نایاب کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا
“میں ٹھیک ہوں نایاب بیٹا میں نے تو اپنی زندگی جی لی ہے اب زندگی رہ ہی کتنی گئی ہے چندا۔؟”
“امی پلیز۔۔ابھی تو آپ کو پایا ہے میں ایسے نا کہیں پلیز۔۔”
وہ روتے ہوئے دلکش کے گلے لگ گئی تھی اور جب دلکش کو کسی کی نظریں ان پر محسوس ہوئی تھیں انہوں نے جیسے ہی نظریں اٹھائے کر دیکھا تو انکی نظریں التمش صاحب پر پڑی تھیں آج انکی نظروں میں بہت گلے شکوے تھے بہت شکایتیں تھیں۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کنسٹرکشن کا پچھلے چار ماہ سے شروع ہے اور ابھی یہی تک پہنچا ہے یہ کام۔۔؟”
آفاق صاحب جو دوسرے ورکرز کے ساتھ سائٹ دیکھنے میں مصروف تھے زاران کی آواز سن کر وہ اسکی جانب دیکھنا شروع ہوگئے تھے آج پہلی بار زاران اس طرح سے چلایا آفس ورکرز پر
“سر ایم سو سوری پر ہمیں سینئر ایڈمنسٹریٹر کے آرڈر نہیں ملے تھے ایک ماہ پہلے ہی سب شروع ہوا”
جب میں نے کہہ دیا تھا پھر آپ کو ان سینئر کے حکم کی ضرورت نہیں تھی۔۔کام نا کرنے کے بہانے ہیں سارے۔۔”
“پر سر۔۔”
“آپ جائیں ماجد میں بات کرتا ہوں۔”
“جی سر شکریا۔۔”
سب ورکرز چلے گئے تھے۔۔والد کو اپنی طرف آتے دیکھ زاران پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے دوسری جانب دیکھنا شروع ہوگیا تھا
“زاران بیٹا۔۔”
“ابو مجھے پتا ہے آپ نایاب کی سائیڈ لیں گے پر میں غلط نہیں ہوں۔۔”
“غلط سہی کہاں سے آگیا میاں بیوی کے رشتے میں زاران۔؟ اس کا مطلب تمہاری بیوی غلط ہے۔۔؟ وہ جسے بہت سمجھدار دسمجھتے ہیں سب جو ایک آئیڈیل بیٹی ایک آئیڈیل بیوی سمجھی جا رہی وہ غلط ہے۔۔؟”
آفاق صاحب کی بات پر زاران ششدر رہ گیا تھا اسے نایاب اور لفظ غلط ایک ساتھ بلکل اچھے نہیں لگ رہے تھے
“ابو آپ۔۔”
اچھا نہیں لگا نا تمہاری بیوی کو غلط کہہ رہا ہوں۔؟ پر تم نے جس طرح اپنی بیوی کو سب کے سامنے چپ کروایا وہ اچھا تھا۔؟”
زاران کے چہرے پر جو غصہ صبح سے تھا جو سختی صبح سے تھی اب وہ سب اپنے والد کی ایک ہی بات سے چلی گئی تھی
“زاران بیٹا میاں بیوی کا رشتہ کمرے کی چار دیواری میں چاہے کتنا ہی تلخ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نا ہو پر سب کے سامنے اپنی بیوی کو ترجیح نا دینا آپ کے رشتے کو کمزور کردیتا ہے لوگوں کے سامنے
آپ چاہیں سہی ہیں پر کوئی بھی فیصلہ ایسے نہیں لیا جاتا کہ بس اعلان کردیا اور بیوی کی ایک نا سنی اس لیے کہ آپ گھر کے مرد ہو۔؟ کیا بیویوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔۔؟”
وہ لوگ چلتے چلتے ان درختوں کے پاس آگئے تھے جہاں کرسیاں پہلے سے لگا دی تھی ملازم نے زاران اور آفاق صاحب وہاں بیٹھ گئے تھے۔۔
“ابو ان معاملات میں وہ نادان ہے۔۔نایاب کو نہیں پتا تھا کچھ بھی اس نے کیا ٹحیک کیا مجھے ٹوک کر۔؟ اس نے تو اور موقع دے دیا سب کو کہ وہ میرے اس فیصلے کی مخالفت کریں۔دلکش ممانی کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ماضی میں ابو۔۔اب ہم لوگوں کو اپنی غلطیاں سدھارنی چاہیے نا۔؟”
زاران نے آفاق صاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا
“زاران میں اس گھر کا داماد تھا اس لیے اس معاملے میں کچھ نہیں بولا۔میں نے اس وقت بھی سب اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔۔اور اس وقت بھی جب تم نے نایاب کو ٹھکرا دیا تھا۔
میں خاموش تھا دیکھو اللہ نے تمہیں کیسی ہدایت دی ہے میرے بچے۔۔پر مجھے افسوس رہے گا التمش بھائی کو یہ بات دیر سے سمجھ آئی۔۔
اب تم نے جو فیصلہ لے لیا ہے اس میں نایاب کے سامنے سب باتیں رکھنا تمہارا فرض تھا زاران
اب تم اسے جب تک سمجھاؤ گے نہیں وہ کیسے سمجھے گی۔۔؟
اور صبح تم اس طرح سے آفس آ گئے کیا اچھے تاثرات پڑے ہوں گے تمہاری بیوی پر۔۔؟”
۔
وہ یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئے تھے۔۔۔
۔
“پر ابو اسے لگتا ہے میں نے اس کی عزت نہیں رکھی میں نے سہی نہیں کیا اسے میں قصور وار لگتا ہوں۔۔”
“نایاب نے جو بھی کہا سہی کہا زاران۔۔آج تمہارا لہجہ نایاب کے ساتھ اسی طرح کا ہی تھا
ایسا لگا ہی نہیں تم اپنی بیوی سے بات کر رہے ایسا لگا تھا تم اپنی کزن سے بات کر رہے تھے جیسے شادی سے پہلے کرتے تھے اسے کسی خاطر نہیں لاتے تھے اسکی کہی ہر بات تمہیں غلط لگتی تھی جیسے کہ آج۔۔”
۔
اور زاران عابدی اپنی کرسی کے ساتھ لگ کر وہیں بیٹھا رہ گیا تھا۔۔۔اپنی سوچ اور صبح ہوئے ہر منظر ہر بات کو دوبارہ پھر سے یاد کر رہا تھا۔۔
اور بلآخر اسے احساس ہوا کہ اسے والد صاحب نے جو بھی کہا سہی کہا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسلام علیکم۔۔۔”
زاران نے جلدی سے نایاب کی کال پک کی تھی اسکی ہلکی سی آواز نے اسکے دل سے بہت بڑا بوجھ ہلکا کردیا تھا
“وعلیکم سلام۔۔نایاب میں تمہیں فون کرنے”
زاران میں یونیورسٹی جانا چاہتی ہوں جا سکتی ہوں۔؟ سحر باجی اور سنی بھائی ساتھ ہوں گے۔”
“ہاں ضرور نایاب صبح میں نے۔۔۔”
“خدا حافظ زاران۔۔”
“نایاب۔۔۔”
“بند کرگئی۔۔۔ابھی تک ناراض ہو نایاب جی آج ڈنر پر لے کر جاؤں گا کوئی نہیں۔۔
ہماری پہلی لڑائی کی صلح اچھی سی ہونی چاہیے۔۔”
زاران نے چہرے پر ڈھیر ساری مسکراہٹ لئیے موبائل واپس جیب میں رکھ لیا تھا
“سحر باجی اب بتا دیں کہاں جا رہے ہم۔؟ زاران سے بھی جھوٹ بولا میں نے۔۔”
“ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں۔۔کچھ نیا پہنو لڑکی۔۔”
سحر نایاب کا ہاتھ کھینچ کر کمرے سے باہر لے گئی تھی۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ابو کیا ہوا آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا سب خیریت ہے۔؟ امی ٹھیک تو ہیں۔۔؟”
یوسف صاحب کے بڑے بیٹے اذیان افنان کے بڑے بھائی بھاگتے ہوئے ہسپتال آئے تھے
“بیٹا کچھ ٹھیک نہیں ہے افنان نے سب کچھ ختم کردیا ۔۔”
انہوں نے ہمت ہار دی تھی اور اپنے بیٹے کے گلے لگ گئے تھے
“کیا۔۔کیا مطلب ابو۔؟ رانیہ ٹھیک ہے اور بچہ۔۔”
“نہیں رہا بیٹا۔۔اُسے راس نہیں آئی یہ خوشی بھی۔۔”
“وٹ۔۔؟”
۔
جہاں انہوں نے اشارہ کیا تھا وہاں کچھ قدموں کے فاصلے پر افنان بیٹھا ہوا تھا اپنا سر اپنے ہاتھوں میں پکڑے۔۔۔
۔
“یا اللہ کیا کردیا تم نے افنان یہ۔۔۔” ازیان نے افنان کی طرف غصے سے قدم بڑھائے تھے۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“واااوووو ماشاللہ بیٹا اس مہرون جوڑے میں بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔اللہ نظرِبد سے بچائے۔۔”
انیسہ بیگم نے نایاب کے کان کے پیچھے ہلکا سا نشان کاجل سے لگا دیا تھا
“پھوپھو ابھی کہاں ابھی تو چوڑیاں پہننی ہے میڈم نے۔۔”
“تھینک یو سحر بیٹا۔۔خوش رہو۔۔”
انیسہ پھوپھو سحر کے ماتھے پر پیار دے کر چلی گئیں تھیں وہاں سے
“سحر باجی کچھ زیادہ نہیں ہوجائے گا۔۔؟ نیچے کیسے اتنی تیار ہوکر جاؤں گی۔؟ کیا کہیں گے سب۔۔؟”
“ارے لڑکی چپ کرکے بیٹھ جاؤ۔۔زاران آتا ہی ہوگا۔۔اب لڑائی ختم کرنی ہے تو اچھے سے تیار ہوکر ویلکم کرو نا رومینٹک سا ماحول ہو کیوں رمشا۔۔۔؟”
سحر باجی نے دوسری کزن کو آنکھ مار کر پوچھا تھا
“ہاہاہاہا۔۔ارے نایاب جی تو پہلے ہی بلش کر رہیں کچھ زاران بھائی کے لیے بھی بچا لیں اپنی شرماہٹ۔۔”
“شرماہٹ سیریسلی رمشا۔۔؟؟”
دونوں کزن کی باتوں سے نایاب اور شرما گئی تھی۔۔۔
۔
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں نیچے چلیں گئیں تھیں جب نو بجے تھے ڈائننگ ٹیبل پر کچھ فیملی ممبرز کے علاوہ سب نے ہی نایاب کی تعریف کی تھی۔۔
آفاق صاحب سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانے میں مصروف ہوگئے تھے اور گھر کی لیڈیز کبھی گھڑی کی طرف دیکھ رہیں تھیں کبھی نایاب کی طرف جس کی نظریں دروازے پر تھیں
۔
“آفاق صاحب زاران کہاں رہ گیا آیا نہیں۔۔”
انیسہ بیگم نے تھوڑا غصے سے پوچھا تھا جب نایاب کے چہرے پر مایوسی چھا گئی تھی
“زاران نے کیوں آنا بیگم وہ تو ایک ضروری میٹنگ کے لیے جاپان چلا گیا تھا دوپہر میں۔۔بتایا نہیں اس نے۔۔نایاب بیٹااسکا تمہیں فون نہیں آیا تھا۔۔؟”
“نہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا تو کیوں فون کرتا وہ۔۔صبح جس طرح تم نے برتاؤ کیا زاران کے ساتھ وہ کیوں بات کرتا تم سے۔؟”
سویرا نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا۔۔
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔”
نایاب وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
“سویرا اننف تمہیں کیا ضرورت ہے انکے پرسنل میٹر میں بولنے کی۔؟”
راحیل صاحب نے اپنی بیٹی کو ڈانٹ دیا تھا۔۔
۔
آفاق صاحب کی نظریں اپنی بیگم پر تھیں جن کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا۔۔
وہ دلکش بیگم اور پھر التمش صاحب کو دیکھ رہے تھے جن کی آنکھوں میں بھی مایوسی تھی۔۔
اب انہیں احساس ہورہا تھا کہ اس میٹنگ میں زاران کو نہیں جانا چاہیے تھا۔۔
۔
“ایم سو سوری۔۔میں زاران کو کل ہی واپس بلالوں گا۔۔”
“نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے آفاق صاحب بزنس بہت ضروری ہے نا۔؟ اسی کو مکمل کریں رشتے چاہیں ادھورے رہ جائیں۔۔”
انیسہ بیگم اٹھ کر چلی گئیں تھیں۔۔۔
“ہاہاہا بھائی صاحب آج پھر صوفے پر سوئیں گے۔۔؟”
راحیل صاحب نے ماحول کو بدلنے کے لیے ہلکا سا مذاق کرنے کی کوشش کی تھی
” جس طرح بھڑک کر گئی ہے لگتا ہے کمرے میں ہی داخلہ ممنوع ہوگا میرا۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
دلکش بیگم اور باقی سب نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ گھنٹے بعد۔۔۔۔
۔
۔
“زاران بیٹا تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔؟”
یوسف صاحب آگے آئے تھے پر زاران انہیں جواب دئیے بغیر ہی آگے بڑھ گیا تھا
“تجھے زرا شرم نہیں آئی افنان۔؟ یہ سلوک کیا تو نے رانیہ کے ساتھ۔۔”
زاران نے کالر سے پکڑ کر افنان کو اٹھایا تھا اور ایک زور دار تھپڑ مارا تھا اسے
“زاران۔۔۔”
ازیان نے دونوں کو پیچھے کیا تھا
“تجھے شرم نہیں آئی افنان۔۔؟”
“کیوں تجھے شرم آئی تھی زاران نایاب کو مجھ سے دور کرتے ہوئے۔۔”
افنان نے بھی زاران کو پیچھے دھکا دیا تھا
“تجھے احساس بھی ہے کیا بکواس کر رہا ہے۔۔؟ وہ ماضی تھا میں تو سمجھا تھا تو آگے بڑھ گیا ہوگا۔۔تیری اولاد نہیں رہی اور تو ماضی کے پیار کو رو رہا ہے۔؟”
اس نے ایک اور بار ہاتھ اٹھایا تھا افنان پیچھے ہوگیا تھا اولاد لفظ سن کر۔۔
۔
“بس بند کرو تم دونوں۔۔ہسپتال ہے یہ۔۔”
زیبا بیگم اندر کمرے سے باہر آگئیں تھیں جس کمرے میں رانیہ تھی
“بیگم رانیہ کیسی ہے۔۔؟”
“اسے ہوش آگیا ہے وہ افنان کو اندر بلا رہی ہے۔۔”
افنان جلدی سے اندر گیا تھا پر اسکے پیچھے زاران اور باقی سب بھی اندر گئے تھے۔۔
۔
“زاران تم آگئے۔۔”
رانیہ نے بیٹھنے کی کوشش کی تھی اسکی آنکھوں میں کوئی نمی نہیں تھی جیسے پتھر بن گئی تھیں اسکی آنکھیں
“اووہ تو تم نے بلایا تھا اسے یہاں۔۔؟ کس رشتے سے رانیہ۔؟ پرانی محبت بھلائے نہیں جا رہی۔۔”
زاران نے پھر افنان کو مارنے کی کوشش کی تھی جب دونوں مردوں نے اسے پکڑ لیا تھا پیچھے کردیا تھا
“زاران پلیز۔۔۔میں آپ سب سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔۔میں پاکستان زاران کے کہنے پر گئی تھی۔۔ہاں زاران نے مجھ سے مدد مانگی تھی وہ نایاب کی شادی افنان کے ساتھ ہونے نہیں دینا چاہتا تھا۔۔اس نے پلان کیا تھا میں پاکستان جاؤں اور افنان کو اپنی محبت کا یقین دلاؤں۔۔”
زاران کی شاکڈ نظروں کی تعاب نہیں لا پائی تھی اور نظریں جھکا لی تھیں رانیہ نے۔۔”
“دیکھا میں کہتا تھا نا یہ سب اسکی پلاننگ تھی امی۔۔”
“زاران بیٹا۔۔”
زیبا بیگم نے ہلکی آوازمیں پوچھا تھا
“ایم سوری۔۔میں نے کی تھی پلاننگ نایاب کو افنان سے دور کرنے کی۔۔میں بلایا تھا رانیہ کو پاکستان۔۔پر ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہوا میں اسکا زمہ دار نہیں ہوں۔
میں نایاب کو کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔میں نے رانیہ بلایا تھا۔۔پر اس سے آگے میں ذمہ دار نہیں۔۔ایم سوری رانیہ۔۔۔ایم سوری۔۔اب اس بات کو یہیں دفن کردو رانیہ۔۔میں نایاب کے ساتھ بہت خوش ہوں میری خوشیوں کے درمیان کوئی آیا تو دیکھ لینا۔۔”
۔
زاران یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا جیسے وہ آیا تھا۔۔۔
۔
“سسٹر۔۔”
زاران کے جانے کے بعد رانیہ نے یہ لفظ کہا تھا اور ایک نرس جو پردے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی ہاتھ میں موبائل لیے وہ سامنے آگئی تھی۔۔اس نے موبائل رانیہ کے ہاتھ میں پکڑا دیا تھا اور چلی گئی تھی
“افنان میں سوچتی تھی تم مجھ سے کبھی نا ختم ہونے والی محبت کرتے ہو۔۔میں تب تمہاری محبت سمجھی تھی جب تم میری زندگی میں نہیں رہے تھے۔
میں کتنا تڑپی ہوں تمہاری محبت کے لیے میں جانتی ہوں افنان وہ چار سال میں ہر لمحہ یہ سوچنے میں گزار رہی تھی کہ تمہیں کیسے حاصل کروں کیونکہ تمہارے بغیر جینا ناممکن ہوگیا تھا۔۔”
اس نے کہتے کہتے موبائل میں کچھ ٹائپ کرنا شروع کردیا تھا
“کیا کر رہی ہو رانیہ۔۔؟”
افنان نے آہستہ آواز میں پوچھا تھا اسکی آنکھوں میں بھی درد تھا اپنے بچے کو کھو دینے کا جسے وہ اپنا نہیں رہا تھا اور اب وہ حیران تھا رانیہ کو یوں پتھر بنا دیکھ کر
“اپنی غلطی سدھار رہی تھی۔۔میں نے کردیا ہے نایاب کو میسج یہ ویڈیو سینڈ کردی ہے افنان۔
چاہے اب زاران کا دل ٹوٹ جائے اسکا گھر بکھر جائے۔۔پر تمہیں تمہاری محبت مل جانی چاہیے۔۔
جس کے لیے تم نے سب ختم کردیا۔۔”
“کیا۔۔یہ کیا کردیا تم نے میری بچی۔۔”
۔
پر زیبا بیگم کی بات کو نظر انداز کردیا تھا آج اسکی نظریں اسکا دھیان صرف اس شخص پر تھا جسے وہ محبت کرتی آئی تھی
۔
“اگر تمہاری محبت سچی ہے تو وہ تمہارے پاس واپس ضرور آۓ گی جس کے لیے تم نے اتنی محنت کی افنان۔۔
تم زاران کا نقصان کرنا چاہتے تھے اللہ نے ہمارا نقصان کردیا”
یہ کہنے کی دیر تھی کہ اسکی آنکھیں اشک بار ہوگئی تھی
“افنان۔۔۔۔”
رانیہ کی باتوں نے افنان کی فیملی کو صدمے میں مبتلا کردیا تھا
“یااللہ کیا سے کیا ہوگئے ہو تم افنان تم میرے ہی بیٹے ہو۔۔۔”
زیبا بیگم تو روتے ہوئے رانیہ کے پاس بیٹھ گئیں تھیں اور یوسف صاحب سامنے پڑے صوفے پر ہمت ہار کے بیٹھ گئے تھے۔۔
“تمہیں یہ ویڈیو سینڈ نہیں کرنی چاہیے تھی بیٹا۔۔۔ایک گھر ٹوٹ گیا ایک قیامت آج کے لیے کافی تھی۔۔۔”
زیبا بیگم اٹھ کر چلی گئیں تھیں وہاں سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ٹیکسی۔۔۔۔؟؟؟”
زاران شدید غصے میں تھا۔۔اب اسے سمجھ آئی تھی رانیہ نے کیوں اسے یہاں ایمرجنسی میں بلایا تھا۔۔
زاران ہسپتال کے سامنے سڑک پر ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے بلا رہا تھا کہ اسکا موبائل بجنا شروع ہوا۔۔اور موبائل سکرین پر نایاب کا نام دیکھ کر اسکے چہرے پر ایک مسکان آگئی تھی اسکا سارا غصہ ہوا میں جیسے اڑ گیا ہو
۔
“نایاب۔۔۔”
“اچھے شوہر بھی اس طرح سے نہیں جاتے بیوی کو بنا بتاۓ زاران جس طرح سے آپ چلے آۓ۔۔”
زاران کے ہونٹوں پر ہنسی آئی تھی اپنی بیوی کے لہجے میں شکایت سن کر۔۔۔
“تمہیں کس نے کہا میں اچھا شوہر ہوں۔۔۔”
“زاران۔۔۔”
وہ چپ ہوگئی تھی۔۔اور زاران نے اسے اور تنگ کرنے کا سوچا تھا
“زاران کیا۔۔؟ ابھی شوہر کی بہت یاد آرہی صبح تو پیچھے دھکے دے رہی تھی نایاب۔۔اب دور ہوں تو میری یاد ستا رہی۔۔؟؟”
وہ چلتے چلتے رک گیا تھا
“زاران وہ۔۔۔ایم سوری مجھے آپ کو اس طرح سے پیچھے نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔”
نایاب کہتے کہتے چپ ہوئی تھی کہ اسکا موبائل وائبریٹ ہوا تھا۔۔
“ایک منٹ اس وقت کس کا میسج آگیا۔۔۔”
“نایاب۔۔۔”
پر دوسری جانب سے فون کٹ گیا تھا۔۔۔۔
“پاگل۔۔۔”
اس نے دوبارہ ٹیکسی کے لیے اشارہ کیا تو ٹیکسی رک گئی تھی۔۔اور اسکے موبائل کی بیل بجنا شروع ہوگئی تھی
“نایاب میں واپس آکر بات کروں گا تم۔۔۔”
“کیا آپ اس وقت نیویارک ہیں زاران۔۔؟”
زاران جو ٹیکسی کی جانب بڑھ رہا تھا اسکے قدم جم گئے تھے۔۔
“نایاب میں۔۔۔”
“رانیہ کو پاکستان آپ نے بلایا تھا زاران۔۔۔۔؟ نکاح والے دن۔۔افنان کا نا آنا اسی پلاننگ کا حصہ تھا۔۔۔”
اسکی آواز میں ایک ڈر تھا۔۔۔
“نایاب یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔؟ میں گھر آکر بات کرتا ہوں۔۔پلیز نایاب میری بات سن لو۔۔۔”
وہ گھبرا گیا تھا ایک پل میں اسے سب کچھ برباد ہوتا نظر آرہا تھا
“آپ ہی کی بات سن رہی ہوں زاران اس ویڈیو میں جہاں آپ اعتراف کر رہے ہیں اپنے جرم کا۔۔آپ نے ہی سب پلان کیا اور آپ ہی مسیحا بنتے رہے میرا۔۔؟؟
نکاح والے دن مجھے سب کے سامنے ذلیل و رسوا ہوتے دیکھتے رہے اور پھر ائرپورٹ لے جانے کا ڈرامہ بھی کیا آپ نے۔۔؟ افنان کو اس جال میں پھنسایا جو بےقصور تھا۔۔۔؟”
وہ بول رہی تھی اور زاران چپ چاپ سن رہا تھا۔۔۔ اسکی آنکھیں بھی بھاری ہوگئی تھیں جب نایاب کے رونے کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔
“نایاب پلیز میری بات سنو۔۔۔”
“زاران میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی اسکے لیے۔۔۔”
“نایاب۔۔۔”
فون جیسے ہی بند ہوا تھا وہ جلدی سے ٹیکسی کی جانب بھاگا تھا۔۔
اور اسی وقت ایک تیز رفتار گاڑی اسے ٹکر مار گئی تھی اسکا موبائل دور جا گرا تھا اور اسکے منہ پہ ایک ہی بات جاری تھی “نایاب میری بات۔۔۔۔”
۔
“نایاب۔۔۔۔۔”
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: