Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 3

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 3

–**–**–

“ممانی یہ رشتہ بہت اچھا رہے گا نایاب کے لیے۔۔۔اور پھر کب تک وہ ایسے ہی بیٹھی رہے گی۔۔۔؟؟”
زاران نے یاسمین بیگم کو بہت اعتماد میں لیا تھا۔۔
پر وہاں زاران کی خود کی والدہ شدید غم و غصے میں تھیں زاران کی اس بات نے انہیں بہت مایوس کیا زیادہ مایوسی اس وقت ہوئی جبنایاب کے والد نے منہ موڑ لیا تھا ان کے چہرے پر وہ دکھ عیاں تھا۔۔۔
“زاران میری بات سنو بیٹا۔۔ تم کیسے جانتے ہو وہ رشتہ ٹھیک ہوگا۔۔؟ اور تمہیں پاکستان آئے ہوئے کتنے دن ہوئے ہیں۔۔؟ یہ باتیں تم نایاب کے والدین پر چھوڑ دو۔۔۔”
زاران سے اس طرح سے سب کے سامنے بات کر کے انہوں نے ایک واضع پیغام دینے کی کوشش کی تھی سب کو۔۔۔
“پھپھو زاران نے کونسا کوئی بُری بات کر دی ہے۔۔؟ کیا نایاب کو ہم گھر بٹھا کر رکھیں گے۔۔؟”
سویرا کی امی نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی تھی۔۔
“زاران کی بات سن لو انیسہ کیا پتا رشتہ پسند آجائے۔۔۔
چھوٹی چچی نے یاسمین کی طرف دیکھا تو انہیں سمجھ آگئی تھی۔۔۔
اور یاسمین بیگم نے بھی ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔
جس پر انیسہ بیگم نے ایک نگاہ غصے کی ڈالی تھی زاران پر۔۔۔
جو باضابطہ اگنور کر رہا تھا۔۔وہ ایک مشن پر تھا۔۔۔ نایاب التمش کی شادی کروانے کے مشن پر۔۔۔
“زاران کس رشتے کی بات کر رہے ہو۔۔؟
اور ایک بات۔۔ نایاب ہم پر بوجھ نہیں ہے۔۔وہ کسی پر بھی بوجھ نہیں ہے یہ بات یاد رکھیں سب۔۔۔”
انیسہ بیگم نے سویرا کی طرف دیکھ کر بات کی جو ابھی بھیگی بلی بن گئی تھی پھپھو کے سامنے۔۔۔
“ماں وہ خاور کی بات کر رہا ہوں میں۔۔ میں کل ملنے گیا تھا چاچو سے تو ان لوگوں نے خاور کے لیے لڑکی ڈھوندنے کی بات کی تو میرے ذہن میں نایاب کا خیال آیا۔۔۔”
۔
“ہمم التمش بھائی خاور اچھا لڑکا ہے۔۔۔میرا بھتیجا ہے اس لیے تعریف نہیں کر رہا۔۔”
آفاق صاحب التمش صاحب کی وئیل چئیر کے پاس کرسی پر بیٹھ گئے تھے۔۔
“یاسمین بھابھی۔۔بھائی آپ دونوں پر کوئی زبردستی نہیں ہوگی۔۔”
انیسہ بیگم کی نظروں میں غم تھا۔۔۔انکے لہجے میں ابھی بھی غصہ جھلک رہا تھا۔۔
غم تھا کہ جو انسان آج نایاب کا رشتہ لیکر آیا اس سے نایاب کے رشتے کی باتیں چلتی رہیں چار سال تک۔۔۔
اور اب۔۔۔وہ غم میں تھیں۔۔ انہیں پتا تھا جب نایاب کو یہ بات پتا چلے گی وہ کتنا ٹوٹ جائے گی۔۔۔
پر پھپھو بھی نایاب التمش کو کمزور سمجھ رہی تھیں۔۔۔
“کھانے پر بُلا لیتے ہیں پھر۔۔؟؟”
سویرا کے والد صاحب نے مشورہ دیا تھا۔۔۔
اور زاران عابدی نے مسکراتے ہوئے اوپر سیڑھیوں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
جہاں سے بھاگتے ہوئے نایاب نیچے آرہی تھی۔۔
اور بنا کچھ کہے وہ اپنی پسندیدہ جگہ پہ چلی گئی تھی۔۔۔وہ باغیچہ اور وہ تالاب۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب ایسی تربیت نہیں کی تھی میں نے آپ کی۔۔۔
آپ کو زرا شرم نہیں آئی اس طرح سے زاران کے پیچھے پیچھے جا رہی ہیں آپ۔۔؟؟”
وہ بھاگتے ہوئے نیچے آئی تھی اور اپنی پسندیدہ جگہ کے سامنے آکر اسے ڈانٹ رہی تھی جسے وہ اوپر دو منزلہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اب چپ کیوں ہیں آپ نایاب۔۔۔؟؟ آپ کو اس لیے میں نے فری ہینڈ دئیے تھے کہ آپ ایسے گھومیں زاران کے پیچھے۔۔۔؟؟ اوپر سے آپ کی غلطی پر آپ کو مرغی بھی نہیں بنا سکتی۔۔۔۔ کیونکہ آپ تو ہیں ہی بطخ۔۔۔”
نایاب اسی تالاب میں پاؤں ڈالے بیٹھ گئی تھی اور سامنے کھڑی اپنی بطخ کی خوب کلاس لے رہی تھی۔۔۔
جس کا نام اس نے نایاب ہی رکھا تھا۔۔۔
اور اسی تالاب میں اس نے دو جوڑے رکھے تھے بطخوں کے۔۔۔ جس میں ایک کا نام زاران تھا۔۔۔
اور جب یہ چھوٹے بچے تھے اس ٹائم سے نایاب نے ان کو گود لے لیا تھا
اپنے گھر کے ملازم دلاور چاچا سے۔۔۔
“آپ جانتی ہیں نا زاران کس طرح سے آپ سے دور بھاگ رہا ۔۔۔اور پھر بھی آپ پیچھے پیچھے۔۔۔۔لڑکی نفاست لے کر آئیں اپنی چال چلن میں۔۔۔ ایسے لڑکوں کے پیچھے نہیں بھاگتے خاص کر وہ جو زراران جیسے ہوں۔۔”
پانی میں کھڑی چھوٹی نایاب اپنی بولی میں کیا کیا کہہ رہی تھی جسے نایاب نظر انداز کرتے ہوئے اپنی اڈاپٹڈ چائلڈ کو اور ڈانٹ رہی تھی۔۔۔
“”اور اچھی بچیاں ماما کے آگے ایسے زبان نہیں چلاتیں۔۔اب چپ کر کے بات سنیں میری۔۔
نایاب نے جیسے ہی اپنے ہاتھ میں پکڑے سکیل کو اپنی بطخ کے سامنے کیا تھا وہ جلدی سے آواز نکالنا بند ہوگئی تھی۔۔۔
“آپ کو بس سلام دعا تک سب بات رکھنی چاہیے۔۔۔ یہ بار بار پیچھے جانا آپ کو زیب دیتا ہے۔۔؟؟ وہ دیکھیں کیسے وہ آپ کو اگنور کر رہا اور آپ ہیں کے بےشرموں کی طرح پھر اسی جگہ۔۔۔اب آپ میری ناک کٹوانا چاہتی ہیں۔۔؟؟؟”
وہ بطخ ہاں میں سر ہلا رہی تھی جس پر نایاب نے سکیل پھر سے آگے کیا۔۔۔
“لڑکی سیدھا منہ پر جواب نہیں دیتے۔۔۔آپ کی وجہ سے وہ اوپر سے نیچے آنا پڑا مجھے اور اب میں نا دیکھوں آپ کو کسی کے پیچھے جاتے دیکھ اسے بات کرنے ہوگی وہ پیچھے آئے گا اوکے۔۔۔؟؟”
۔
اب اس بطخ نے سر ہاں میں ہلایا تو نایاب کے چہرے پر مسکان آگئی تھی۔۔۔
۔
“تم سچ میں اس بطخ سے باتیں کر رہی ہو۔۔؟ یا مجھے وہم ہوا۔۔۔؟؟”
زاران کی آواز سن کر نایاب نے سر پر دوپٹہ لے لیا تھا جلدی سے۔۔۔
“یہ بطخ نہیں ہے۔۔۔میری اڈوپٹڈ بیٹی ہے۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔سب سہی کہتے ہیں تم سچ میں جھلی ہو۔۔۔؟؟”
زاران نے بنا سوچے سمجھے انسلٹ کر دی تھی۔۔۔۔
“ہمم سب سہی کہتے ہیں میں جھلی ہوں وہ جھلی جس نے شہر کی ٹاپ یونیورسٹی میں ٹاپ کیا ہے جو باقی سب نہیں کر سکے۔۔۔”
“ایٹیٹیوڈ۔۔۔ مجھے پسند نہیں ہے یہ سب۔۔۔”
زاران غصے سے کہہ کر وہان سے جانے لگا تھا۔۔۔۔ پر جیسے ہی نایاب نے منہ کھولا زاران کا غصہ آسمان چھونے کو تھا
“زاران آئیندہ جوتے پہن کر اس جگہ داخل مت ہوئیے گا۔۔۔”
اپنے سر کو پھر سے ڈھانپ کر وہ اندر جانے لگی تھی پر زاران کی بات نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
“آئندہ مجھے زاران نہیں زاران بھائی کہہ کر مخاطب کرنا جیسے باقی سب عمر سے چھوٹی کزنز مجھے کرتے ہیں۔۔۔”
زاران کو ابھی بھی سویرہ کے ساتھ ہوئی وہ گفتگو یاد تھی جس کا اچھا فائدہ اٹھایا تھا اس نے یہ طعنہ دے کر۔۔۔
“باقی کوئی کزن آپ کے نام کے ساتھ منسوب نہیں رہی پچھلے چار سال سے زاران۔۔۔ مجھے منسوب کیا گیا تھا کہ جیسے ہی آپ اپنی تعلیم اپنی بزنس ٹرپ مکمل کر کے آئیں گے تو میری شادی ہوجائے گی آپ کے ساتھ۔۔۔
جہاں تک رہی بھائی کہنے کی بات تو اب مجھے پتا ہے آپ کسی اور کے ساتھ منسوب ہوگئے ہیں میں وہ بھی کہنا سیکھ لوں گی۔۔۔۔”
اس نے جو باتیں کی تھیں سب جھکی نظروں کے ساتھ کی تھیں۔۔۔
نا لہجے میں اپنائیت تھی نا کوئی غصہ۔۔۔ورنہ چار سال منسوب رہنے کے بعد کوئی شخص ایسی بات کہہ جائے تو غصہ کرنا جائز بھی ہو جاتا ہے
پر یہ نایاب التمش تھیں۔۔۔ یہ احساسات کو کنٹرول میں رکھنا سیکھ چکی تھیں نا کہ احساسات کے ہاتھوں کنٹرول ہونا۔۔۔۔
نایاب واپس زاران کے پاس سے گزری تھیں اور بیک یارڈ سے گھر میں چلیں گئیں تھیں۔۔۔
زاران عابدی نے دونوں ہاتھ پینٹ پاکٹ میں ڈال کر واپس اس تالاب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
اور وہاں ایک بات جو زاران صاحب نے نوٹ کی تھی وہ تھے ان دو بطخ کے رنگ۔۔۔
ایک بطخ رنگ میں بلکل سیاح تھی۔۔۔اور ایک جو بلکل سفید۔۔۔
۔
زاران ابھی اس سیاح بطخ کو پکڑنے لگا تھا کہ نایاب اندر سے اتنی ہی تیزی سے واپس آئیں اور وہ سیاہ بطخ جلدی سے پکڑ کر اٹھا لی تھی۔۔۔
۔
“نایاب کے نہانے کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔”
نایاب نے جلدی سے کہہ کر جانے کی کی۔۔۔
“پر نایاب تو پانی میں ہی تھی۔۔۔اور کتنا نہلاناہے۔۔؟؟”
زاران کا لہجہ مسکراہٹ سے بھرا ہوا تھا۔۔۔پر اسکی بات سے نایاب کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔۔۔
“تالاب کا پانی سہی نہیں۔۔۔۔”
اور وہ اپنی بطخ کو لیکر اندر چلی گئی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔تم یقینا “زاران” ہوگے۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا جھلی۔۔۔۔”
زاران بہت وقت کے بعد کھل کر ہنسا تھا۔۔۔ اور جوتے اتار کر وہیں بیٹھ گیا تھا پھر سوکس اتار کر اسی جگہ تالاب میں پاؤں ڈالے بیٹھا رہا تھا وہ۔۔۔
اور جس طرح کچھ دیر پہلے نایاب باتیں کر رہی تھی اپنی نایاب سے۔۔۔
اب اسی طرح زاران باتیں کر رہا تھا نایاب کے زاران سے۔۔۔۔۔
۔
“کچھ دن کی مہمان ہے تمہاری نایاب میڈم اتناگہمنڈ انسان کو لے ڈوبتا ہے جیسے نایاب التمش کو۔۔”
۔
زاران کوئی اتنا پوچھتا کہ آخر نایاب التمش نے گہمنڈ کس بات یا چیز پر کیا تھا۔۔؟
وہ بس اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھی جو دنیا والے اس سے زبردستی منوانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
وہ نہیں سمجھتی تھی اپنے رنگ کو کمزوری۔۔۔۔
وہ نہیں سمجھنا چاہتی تھی کوئی بھی کمزوری۔۔۔
اگر اپنے آپ کو پرفیکٹ کہنا گہمنڈ تھا تو۔۔۔تو ہے نایاب التمش گہمنڈی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب یہ کپڑے پہن کر نیچے آجانا کچھ دیر میں۔۔۔”
پر امی کیوں۔۔؟؟ میری کلاس ہے کل یونیورسٹی میں میں نے کچھ پروجیکٹس میں حصہ لیا تھا۔۔۔”
“تمہیں ضرورت نہیں پڑے گی اگر یہ رشتہ پکا ہوگیا تو۔۔۔”
نایاب نے حیرت بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
“امی اتنی جلدی ایک اور رشتہ بلوا لیا آپ لوگوں نے۔۔؟؟”
یاسمین بیگم نے وہ کپڑے رکھے نہیں تھے پھینک دئیے تھے بیڈ پر۔۔۔
“نایاب ہم لوگ یہاں بوجھ ہیں ان لوگوں پر۔۔۔ پچھلے چار سالوں سے۔۔۔
شکر کرو یہ رشتے دار ہمیں اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔۔
بس تم تیار ہو جاؤ اور یہی کپڑے پہننا پچھلی بار بھی تم پنک کلر کا ڈریس پہن آئی تھی۔۔۔ کیا لگ رہی تھی تم۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا سہی کہا تائی جان آپ نے کیا لگ رہی تھی تم نایاب رشتہ بھی پکا نہیں ہوا اوپر سے مذاق بھی بنا لیا تھا اپنا۔۔۔”
سحر باجی سویرا اور باقی دو کزنز کے ساتھ کھڑی ہنس رہی تھی۔۔۔۔
“پر وہ ڈریس میرا فیورٹ تھا امی۔۔۔لوگوں کو ہنسی مذاق لگا تو لگتا رہے۔۔۔”
نایاب نے دروازے پر کھڑے ہر شخص کو اگنور کر دیا تھا۔۔اور اپنی بکس پر دھیان باندھ لیا تھا ۔
“نایاب رکھو ساری کتابیں لڑکی تم ایسے نہیں سنو گی۔۔؟؟”
“تائی جان آپ جائیں ہم لے آئیں گے ہماری نایاب کو۔۔۔”
یاسمین بیگم وہاں سے چلی گئی تھی نایاب کی ان نظروں کو درگزر کر کے جو انہیں رکنے کا اشارہ کئیے جا رہی تھیں۔۔۔
“نایاب تم جانتی ہو پچھلی بار تمہارا جو تماشہ بنا تھا میں نے سوچا تھا کہ اگلا رشتہ کوئی تین چار مہینے بعد ہی آئے۔۔۔۔
پر زاران کو کچھ زیادہ ہی جلدی تھی وہ چاہتا تھا تمہارا بوجھ اس گھر سے جلدی جلدی چلا جائے۔۔۔”
نایاب کے ہاتھ رک گئے تھےسویرا کی بات سن کر اور وہ ہاتھوں میں پکڑا قلم بھی۔۔۔
“نایاب تمہارے لیے بہت مشکل ہوگا نا زاران کو بھلا پانا۔۔۔؟؟ آخر کر تم نے چار سال انتظار کیا۔۔
اس سے محبت کی۔۔۔اور اتنی گہری محبت کو بھلانا آسان تھوڑی نا ہوتھا ہے۔۔؟؟”
سحر باجی نے باقی کی کمی پوری کر دی تھی۔۔۔۔
“ردا ارے ٹشو لاؤ نا نایاب کو رونا آگیا ہوگا۔۔۔”
پر جب نایاب نے سر اٹھا تو اسکی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں تھا
چہرے پر اداسی نہیں تھی۔۔۔بلکہ مسکان تھی۔۔۔وہ مسکان جس سے اسکی کزنز جل جاتی تھیں۔۔
“سحر باجی یہ دیکھیں زاران۔۔۔۔”
نایاب نے کاپی کے ایک صفحہ پر لکھا تھا۔۔۔
“اور یہ چار سال کا انتظار۔۔۔ اب وہ کسی اور کا ہوگیا ہے تو یہ دیکھیں نایاب التمش کی زندگی میں زاران عابدی کا نام ع نشان۔۔۔”
نایاب نے ایک ریزر سے آہستہ آہستہ وہ نام مٹا دیا تھا۔۔۔
سویرا کا چہرہ غصے سے بھر گیا تھا۔۔۔
“سویرا ہم انسانوں کے لیے کوئی بھی کام مشکل ضرور ہوسکتا ہے پر ناممکن نہیں۔۔۔
کسی کی چاہت میں رک جانے۔۔۔مٹ جانے۔۔۔بکھر جانے والی لڑکی نہیں ہوں میں۔۔۔”
اور وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔اور اپنی امی کے لائے ہوئے کپڑے اس نے الماری میں رکھ دئیے تھے اور الماری سے وہی پنک ڈریس نکال لیا تھا۔۔۔۔ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔۔۔۔
“مجھے پتا ہے اگر رشتہ زاران عابدی نے بلوایا ہے تو یہ کپڑے تمہاری اترن ہوں گے۔۔۔
جو میں کبھی نہیں پہنوں گی۔۔۔۔”
۔
نایاب اپنا پنک جوڑا لیکر باتھروم میں چلی گئی تھی۔۔
اپنی ان چار کزن کو آگ بگولہ چھوڑ کر۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بھائی صاحب یہ تو ہماری خوش نصیبی ہوگی آپ کے سسرال میں رشتہ تہہ پاجانا۔۔۔”
وہاب صاحب نے اپنے بھائی آفاق کر گلے لگتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
سب میل ملاپ کے بعد بیٹھ گئے تھے لیونگ روم میں۔۔
باتیں ہنسی مذاق چلا رہا تھا تب ہی نصرت بیگم نے نایاب کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔۔
اور کچھ دیر میں نایاب چائے کے کپ کی ٹرے لے آئی تھی سر کو اچھی طرح ڈھانپے
نایاب کی کزن ہنس پڑی تھی۔۔۔پر انیسہ پھپھو کی ایک نظر نے انہیں چپ کروا دیا تھا۔۔۔
خاور کی والد تو خوش تھے۔۔۔پر خاور کی والدہ اور خاور کے چہرے کے رنگ اڑھ سے گئے تھے۔۔۔
” بہت پیاری لگ رہی ہو بیٹا ۔۔۔ اب تم جاؤ کل تمہاری کلاس ہے۔۔۔”
پھپھو نے اسے وہاں سے جانے کا کہہ دیا تھانایاب کے ماتھے پر بوسہ دے کر۔۔۔
“آپ نے تو کہا تھا نایاب تھوڑی سی سانولی ہے۔۔پر نایاب کا رنگ تو۔۔۔”
چاچی کی بات پر نایاب جاتے جاتے رک گئی تھی۔۔۔پر پھر گہرا سانس لیے وہ واپس مڑی تھی۔۔۔
اور زاران عابدی۔۔۔آکسفورڈ گریجویٹ۔۔۔ بڑوں کا فرمانبردار بیٹا۔۔۔
آج غصے سے اپنی چچی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکے غصے کا عالم یہ تھا کہ اسکی مٹھی بند ہوگئی تھی۔۔
۔
“آنٹی زرا سا رنگ سانولا بھی آپ کو زاران نے ہی کہا ہوگا۔۔۔ زاران کو زیادہ جلدی ہے میرے بوجھ سے بری ہونے کی اس لیے جھوٹ بول دیا ہوگا جلدی جلدی میں۔۔۔
پر میرا رنگ زرا سا سانولا نہیں ہے بہت ہے۔۔۔”
“میرا مطلب وہ نہیں تھا بیٹا۔۔۔”
نصرت بیگم نے ہڑبڑا کر بات بدل دی تھی اپنے شوہر کا چہرا غصے سے بھرا دیکھ کر۔۔۔
اور پھر انکی نظر اپنے جیٹھ پر پڑی تھی۔۔۔
۔
“نایاب آپ جائیے۔۔ماں مجھے بات کرنی ہے کچھ آپ دونوں سے۔۔۔”
خاور نے بہت بے تکلفی سے کہا تھا اور اپنے پیرنٹس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
نایاب اپنے کمرے میں واپس آگئی تھی جیسے اسے فرق نہیں پڑا ہو۔۔۔
وہ ایک کونے میں چھپ کر رونے والوں میں سے نہیں تھی۔۔۔اس نے کسی کی دل آزاری نہیں کی تھی جو وہ روتی۔۔۔
اس نے کسی کو برا بھلا نہیں کہا تھا جو وہ روتی۔۔۔
وہ غلط نہیں تھی۔۔۔سوو وہ واپس اپنی اسائنمنٹ پر فوکس کر چکی تھی۔۔۔
۔
اور نیچے خاور کے کہنے پر یہ بات تہہ ہوئی تھی کہ بچے کچھ وقت آپس میں بات چیت کر کے فیصلہ کریں۔۔ جو کہ نصرت بیگم کو ناگنوار گزری تھی یہ بات۔۔۔
پر خاور نے ضد کی تھی وہ نایاب کو سمجھنا چاہتا تھا۔۔۔اور پھر فیصلہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔
پر ان لوگوں کو یہ نہیں پتا تھا کہ نایاب کو یہ سب نئے زمانے کی باتیں پسند نہیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب میں نے کہہ دیا بس تم اس کے ساتھ یونیورسٹی جا رہی ہو۔۔
بیٹا وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔”
“امی وہ لڑکا اچھا ہے۔۔۔اور اچھا رہے گا۔۔۔پر بنا کسی رشتے کے اسکی گاڑی
کی فرنٹ پر بیٹھ کر یونیورسٹی جانے سے
میں اچھی لڑکی نہیں رہوں گی۔۔۔کیونکہ وہ میرا ‘محرم ‘نہیں ہے۔۔۔”
نایاب کی باتوں سے سب ہی ششدر رہ گئے تھے خاص کر اسکی والدہ۔۔
۔
“نایاب خدا کے لئے اس رشتے کو انکار کرنے کی وجہ نا ڈھونڈو۔۔۔ تمہیں پتا ہے تمہارے اس رنگ کی وجہ سے کوئی رشتہ آتا بھی ہے تو وہ لوگ تمہیں دیکھنے کے بعد انکار کر دیتے ہیں یہ رشتے بھی تمہاری پھپھو کے سسرال سے آیا ہے۔۔۔۔”
نایاب کو محسوس ہوئی تھیں سب کی نظریں ان ماں بیٹی کی گفتگو پر تھیں اور اسکی شرمندگی کی انتہا نہیں رہی تھی جب زاران عابدی کے چہرے پر ایک جیت کی خوشی عیاں تھی۔۔
کیونکہ اس رشتے کو زاران عابدی نے اس گھر میں تجویز کیا تھا
اپنے کزن خاور کا رشتہ نایاب التمش کے لیے وہ ہی لائے تھے۔۔۔
“امی رشتے آکر چلے جانا یا میرے سیاح رنگ سے کسی کا مجھے دیکھنے کے بعد انکار کر جانا یہ کوئی نقصان نہیں تھا میرا جو میں خود کو کسی سامنے پلیٹ میں رکھ کر ازالہ کروں۔۔۔؟؟؟”
اس سے پہلے نایاب کی والدہ کچھ کہتیں زاران کی والدہ آگئے آگئیں تھیں
“بھابھی میں بات کرتی ہوں۔۔۔نایاب بیٹا خاور بہت اچھا لڑکا ہے۔۔وہ ایک اچھا لائف پارٹنر ثابت ہوگا۔۔۔کبھی تم پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔۔۔
کبھی تمہارا دل ٹوٹنے نہیں دے گا۔۔۔”
پھپھو کا لہجہ ہمیشہ کی طرح نرم تھا جیسے وہ نایاب کی مدر ہوں۔۔۔
“پھپھو۔۔۔آپ نے زاران کے وقت بھی یہی کہا تھا۔۔”
پھپھو خاموش ہوگئیں تھیں۔۔
“دیکھا آپ نے کیسے باتیں کر رہی ہے ۔۔۔”
نایاب کی امی کی نظریں اسکے والد کی طرف ہوئی تھیں جن کو بہت کھانسی آنے شروع ہوئی تھی
“ابو ایم سو سوری آپ کو سب سننا پڑا۔۔۔”
نایاب نے وئیل چئیر کے پاس بیٹھ کر اپنے ابو کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“امی آپ نے مجھے کچھ بھی کہنا ہو اکیلے کمرے میں لے جایا کیجیے مجھے مارے ڈانٹے پر امی ابو کے سامنے نہیں ابھی انہوں نے ریکور کرنا شروع کیا ہے۔۔۔”
اپنی بکس اس نے واپس لیونگ روم کے ٹیبل پر رکھ کر اپنے ابو کی وئیل چئیر کا رخ بیک یارڈ کے باغیچے کی جانب کیا تھا۔۔۔پر زاران کے پاس سے ہوتے ہوئے وہیں رک گئی تھی وہ۔۔۔
۔
“زاران میری زندگی میں مداخلت کرنا بند کر دیجئیے۔۔۔ آپ اپنی شادی کی تیاریاں کریں۔۔نا کہ نت نئے رشتے ڈھونڈھیں میرے لیے۔۔۔
اور اپنے کزن سے بھی کہہ دینا شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جاننے کے لیے یونیورسٹی چھوڑنا شاپنگ لے جانا گھوما پھیرا کر ہونے والے رشتوں سے اچھا ہے کوئی مجھے کالے رنگ کا کہہ کر ریجیکٹ کر دے۔۔۔
ریجیکشن دھوکے جتنی تکلیف نہیں دیتی۔۔۔اور ریجیکشن زندگی موت کا مسئلہ بھی نہیں ہونی چاہئیے۔۔۔جو ہم ہے اسے اپنانا چاہیے ناکہ ڈر ڈر کے جینا چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔۔”
۔
وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔باقی سب حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے پر
زاران عابدی کی تذلیل پہلی دفعہ کسی نے اس طرح سے کی تھی خاص کر سب فیملی ممبرز کے سامنے۔۔۔
زاران ناشتے کی میز چھوڑ کر نایاب کے پیچھے پیچھے گیا تھا۔۔۔
“ابو آپ جلدی ٹھیک ہوجائیں پھر ہم اپنے گھر چلے جائیں گے۔۔۔یہ آنے والا آٹھواں رشتہ ہے۔۔۔ اور ایک ہی بات سیاہ رنگ۔۔۔ ابومجھے لوگوں کی سمجھ نہیں آتی دنیا کہاں بستی ہے۔۔؟ جب اللہ نے اپنے بندوں میں فرق نہیں کیا تو بندے کیوں کرتے ہیں۔۔۔ کسی کے منہ پر ایک ہی بات بار بار کہنا اسے توڑنے کی کوشش کرنا اس میں احساسِ کمتری ڈالنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔”
نایاب نے اپنے ابو کی گود پر سر رکھ دیا تھا۔۔۔
زاران اس وقت زیادہ حیران ہوا تھا جب اسکے ماموں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ کو اپنی بیٹی کے سر پر رکھا تھا۔۔۔جو وہ کسی کے سامنے ہلانے کی کوشش پر ناکام ہوجاتے تھے۔۔۔
پر آج اپنی بیٹی کی تکلیف انہیں محسوس ہورہی تھی۔۔۔
“ابو آپ پریشان نا ہوا کریں میں حالات کے آگے جھکنے والوں میں سے نہیں ہوں۔۔ جو میں ہوں وہ میں ہوں۔۔ کسی کا مجھے ریجیکٹ کر جانا مجھ زرا برابر تکلیف نہیں پہنچاتا۔۔۔
تکلیف تب ہوگی ‘جب کوئی مجھے اپنا کر ریجیکٹ کرے گا’ ابو۔۔۔
اور آپ جانتے ہیں میں نے یونیورسٹی میں ایک چھوٹی سی بلی کے بےبی کو آڈوپٹ کیا ہے۔۔۔ہاہاہا۔۔۔ اور اسکو لینے جا رہی تھی میں۔۔۔۔۔”
نایاب نے منہ بنا لیا تھا۔۔۔پر اسکے چہرے پر وہی مسکان تھی۔۔۔
جس کو دیکھ کر زاران عابدی کا وہ غصہ ہوا میں اڑ گیا تھا۔۔۔ اسکے چہرے پر بھی مسکان تھی۔۔۔پر نایاب جتنی خوبصورت نہیں۔۔۔
۔
“ابو۔۔۔میں چاہتی ہوں ہم زاران اور سویرہ کی شادی سے پہلے یہاں سے چلے جائیں۔۔۔آپ ٹھیک ہونے کی کوشش کریں گے نا۔۔؟؟؟”
نایاب کے ابو نے جیسے ہی سر ہاں میں ہلا دیا تھا نایاب کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی۔۔
“ابو آپ اور پھپھو کی محبت مجھے محسوس ہی نہیں ہونے دیتی کہ میرا رنگ مجھے سب سے مختلف بنا دیتا ہے۔۔۔ آپ دونوں اس طرح سے مجھے تھامے ہوئے ہیں۔۔۔
اور وہ میری پانی والی نایاب۔۔۔آپ جانتے ہیں کیسے وہ زاران کے پیچھے گھوم رہی تھی۔۔۔
میں نے بھی کلاس لی۔۔۔اب وہ دیکھیں زرا کتنی نفاست سے زاران کو اگنور کر رہی ہے۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔”
نایاب کے ابو ہنس نہیں پا رہے تھے فالج کے اٹیک نے انہیں بستر پر لٹا دیا تھا۔۔۔
پر نایاب کی بات سے انکی آنکھوں میں ہنسی کی چمک تھی۔۔۔۔وہ بھی ہاں میں سر ہلا رہے تھے۔۔۔۔
اور دور کھڑا زاران عابدی بھی پانی میں نایاب کے پیچھے زاران کو غصے کی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“زاران کے بچے تمہیں میں بعد میں بتاؤں گا۔۔۔ اگر وہ نایاب نفاست کے ساتھ تمہیں اگنور کر رہی ہے تو تم بھی نفیس بنو اور ڈبل اگنور کرو۔۔۔دیکھتا ہو تم دونوں کو۔۔۔
یہ نایاب اور وہ زاران۔۔۔تم دونوں کی کلاس لوں گا۔۔۔۔۔”
زاران اپنی کزن نایاب اور پانی میں نایاب کے پیچھے جاتے ہوئے زاران کو ایک نظر دیکھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
اگلے دن۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب نے جس یونیورسٹی سے ٹاپ کیا تھا۔۔۔اب وہاں اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔۔
جہاں کبھی اسکے رنگ کو لیکر اسے فیملی جیسے طعنے ملتے تھے کبھی۔۔۔
نایاب نے ریسینٹلی کچھ سٹوڈنٹس کی ہیلپ کرنے کے لیے حامی بھر لی تھی کچھ پروجیکٹس میں اسی سلسلے میں وہ یونیورسٹی آتی جاتی تھی۔۔۔
پر آج یونیورسٹی کے داخلی راستے پر نا اسے گھر کی گاڑی نظر آرہی تھی اور نا ہی کوئی فرد۔۔
جو کہ ہر روز اسے لینے آتا تھا۔۔۔
۔
“نایاب میم لفٹ چاہیے۔۔۔؟؟”
ایک گرل سٹوڈنٹ نے اپنی گاڑی سے اتر کر پوچھا تھا۔۔۔
“ارے نہیں رمشا انتظار کر رہی تھی دلاور چاچا آتے ہی ہوں گے۔۔۔”
۔
“اور جب آدھے گھنٹے تک کوئی نہیں آیا تو نایاب نے پیدل ہی چلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
کچھ دور اسے ایک گاڑی جو اسی کی طرف آرہی تھی۔۔۔اور نایاب کے پاس آکر سپیڈ سے بریک لگا دی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔۔۔”
نایاب جب اس گاڑی کے پاس سے گزر گئی تھی تو اسے پیچھے سے آواز آئی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔۔میں خاور۔۔۔زاران بھائی کا کزن۔۔۔”
خاور نے اپنی گلاسیز اتار کر نایاب سے کہا تھا جو نظرئیں جھکائے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔میں آپ کو لینے آیا ہوں سو سوری لیٹ ہوگیا۔۔۔چلیے۔۔۔بکس مجھے پکڑا دیں۔۔۔”
پر نایاب نے بہت قدم پیچھے کر لیئے تھے۔۔۔
“اس لیے دلاور چاچا نہیں آئے۔۔۔؟؟ کس نے بھیجا آپ کو۔۔؟؟”
نایاب نے سخت لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔
“زاران بھائی نے کہا تھا۔۔چلیں”
“خاور صاحب۔۔ شاید زاران نے بتایا نہیں پر میں اس چیز کو پسند نہیں کرتی اور نا ہی میں ایسے آپ کے ساتھ جاؤں گی۔۔۔”
“ایکسکیوزمئ۔۔۔کچھ زیادہ ایٹیٹیوڈ نہیں دیکھا رہی آپ۔۔؟ گاڑی میں بیٹھے آپ میرے ساتھ جا رہی ہیں۔۔۔”
خاور نے زبردستی ہاتھ پکڑ لیا تھا نایاب کا اور گاڑی تک کھینچتے ہوئے لے گیا تھا۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔؟؟ دماغ ٹھیک ہے آپ کا۔۔؟”
نایاب نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا۔۔۔
“میرا دماغ تمہارے اس مسلسل انکار نے خراب کیا ہے۔۔۔اتنا غرور ہے کس چیز کا۔۔۔؟”
خاور نایاب کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
اور پہلی بار نایاب کو شدید غصہ آیا تھا زاران عابدی پر۔۔اور اپنی فیملی پر۔۔۔
“آپ پیچھے ہٹ رہے ہیں یا نہیں۔۔؟؟”
“نہیں ہٹوں گا اب تو تمہیں میں بتاتا ہوں خاور وہاب کو انکار کرنے کا مطلب۔۔۔”
خاور نے نایاب کے کندھے کو پکڑ کر گاڑی کے ساتھ لگا دیا تھا اور زبردستی نایاب کا منہ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔۔
“جب اس لڑکی نے کہہ دیا تو پیچھے دفعہ ہوجانا چاہیے تھا تمہیں۔۔۔۔”
پیچھے سے ایک آواز آئی اور پھر ایک سٹک بھاری سی خاور کے سر پر لگی تھی جس سے وہ گر گیا تھا
اپنا سر پکڑے۔۔۔
“نایاب آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟”
نایاب اس قدر حیران تھی اتنا سب کچھ اسکے ساتھ ہوتا دیکھ کر کہ سامنے کھڑے شخص کے دو بار بلانے پر اسکی نظر سامنے کھڑے نعمان شمس پر پڑی تھی۔۔۔
جو چار سال پہلے ان کے ہمسائے بھی تھے۔۔۔
جو بچپن میں دوست تھے۔۔۔
جو ایک یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوئے تھے۔۔۔
“نعمان۔۔۔جی۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔بہت بہت شکریہ۔۔۔”
خاور کے سر سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا پر نایاب نےغصے سے اپنی گری بکس اٹھا لی تھی اور خاور کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔
“چلیں نایاب میں گھر تک چھوڑ آتا ہوں آپ کو۔۔۔”
نعمان نے جس سٹک سے خاور کو مارا تھا وہ اسکی بیساکھی تھی۔۔۔جو اس نے واپس ٹھیک سے لیکر چلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
“میں گھر چلی جاتی۔۔پر اس گھٹیا شخص کی وجہ سے مجھے آپ کی مدد لینی پڑ رہی ہے۔۔۔”
نایاب نے اپنا دوپٹہ ٹھیک سے لیا تھا جو سرک گیا تھا۔۔۔اس بد بخت کی وجہ سے۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہا نایاب ابھی بھی آپ ویسی ہی ہیں۔۔۔ کسی کی کوئی مدد لینا پسند نہیں۔۔۔”
پر نایاب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔
اسکے ہاتھ کی مٹھی کھل رہی تھی بند ہو رہی تھی۔۔۔
نعمان نایاب کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا جو بہت پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔
جب نایاب نے اتنے قدم نعمان کو پیچھے دیکھا جو اپنی بیساکھیوں سے چلا کر آہستہ آہستہ آرہا تھا۔۔۔
نایاب نے بھی آہستہ سے چلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
“انکل نہیں آتے اب آپ کو لینے۔۔۔؟؟”
نایاب نے ہلکی آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
“ابو کہتے ہیں اب میں بڑا ہوگیا ہوں اب خود آنا جانا چاہیے مجھے۔۔۔
اور ویسے بھیان بیساکھیوں کے سہارے نے بہت دبا دیا مجھے۔۔۔اور سہارے لیتا ہوں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے میرا۔۔۔
بوڑھا باپ کب تک مجھے لینے اور چھوڑنے آئے۔۔۔؟؟”
نایاب کے قدم چلتے چلتے رک گئے تھے۔۔۔
“ایم سوو سوری نعمان۔۔۔۔”
“پلیز نایاب۔۔۔ہمدردی اور ترس کی نظروں سے نا دیکھنا مجھے۔۔۔
آپ بھی جانتی ہیں کہ ہمدردی اور ترس کی نگاہیں آپ کی خود داری کو بے سہارا بنا دیتی ہیں۔۔۔”
۔
۔
چلتے چلتے وہ کب گھر کے سامنے آگئے تھے پتا ہی نہیں چلا تھا۔۔۔
پر جب گھر کے سامنے آئے تو زاران عابدی کسی زخمی شیر کی طرح چکر لگا رہا تھا۔۔۔
اور جب اس نے فون کان نے ہٹا کر سامنے دیکھا تو اس نے واپس فون کان پر لگایا تھا۔۔۔
“خاور آگئی ہے وہ۔۔۔تم آرام کرو میں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔”
زاران نے فون جیب میں ڈال کر قدم بڑھائے تھے نایاب کی طرف۔۔۔
جو کسی انجان شخص کے ساتھ آرہی تھی۔۔۔
“آگئی تم۔۔۔؟ ڈیٹ اتنی جلدی ختم ہوگئی تمہاری۔۔؟؟”
نایاب جو غصے میں تھی۔۔۔
زاران کے الزام اور ڈیٹ جیسے بے ہودہ لفظ پر اس نے باقی کے قدموں کا فاصلہ تہہ کیا تھا۔۔۔
۔
“زاران عابدی۔۔۔ میرے رنگ پر بات کی میں نے برداشت کیا۔۔۔
میری زندگی پر بات کی میں نے برداشت کیا۔۔۔
پر میرے کردار پر بات کرو گے تو نایاب برداشت نہیں کرے گی۔۔۔
آپ ایک لڑکی کو اسکے وجود پر بات کر کے توڑ نہیں سکتے۔۔۔
پر کسی لڑکی کے کردار پر اٹھنے والی انگلی اسے پوری طرح سے برباد کر جاتی ہے۔۔۔
ڈیٹ جیسے الفاط جو کبھی مجھے پسند نہیں تھے آج آپ میرے کردار کے ساتھ تھوپ رہے ہیں۔۔؟؟
اگر میں اتنی بوجھ ہی تو مجھے اس طرح سے آپ باپردہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔
میں آج ہی ابو سے بات کرتی ہوں۔۔۔
مجھے رنگ پر طعنے منظور ہیں۔۔۔۔
پر کردار پر داغ ہرگز نہیں۔۔۔۔”
نایاب نے نظریں اٹھا کر زاران کی آنکھوں میں پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔
آج اسکی آنکھوں میں مایوسی بھر آئی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
“جینے بھی دے دنیا ہمیں۔۔۔الزام نا لگا۔۔۔۔”
۔
۔
وہ اس تعش میں اندر گئی تھی کہ اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔
وہ اس قدر غصے میں تھی۔۔۔۔
زاران کی آنکھوں میں بھی نفرت جھلک رہی تھی۔۔۔ غصہ جھلک رہا تھا نایاب کے لیے۔۔۔
پر خاور کے فون نے اسکی باتوں نے زاران کے منہ سے وہ الفاظ نکلوا دئیے تھے جو وہ کبھی کسی بھی لڑکی کو کہنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔وہ الزام لگانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
جو اس نے آج اپنی کزن پر لگایا۔۔۔۔
“زاران بھائی۔۔آپ اتنے پڑھے لکھے ہیں آپ کو بنا تصدیق کے ایسی باتیں زیب نہیں دیتی۔۔۔”
زاران نے اور حیرانگی سے سامنے کھڑے انجان شخص کو دیکھا تھا۔۔۔
“میں آپ سب کو جانتا ہوں۔۔۔التمش انکل کے گھر آتے جاتے دیکھا آپ کو۔۔۔ میرے والد صاحب آپ کے والد صاحب کے اچھے دوست رہ چکے ہیں۔۔۔”
“اسکا یہ مطلب نہیں تمہیں سند مل گئی ہے گھر کی عزت کے ساتھ اس طرح کھلے عام سڑکوں پرگھومنے کی۔۔۔”
زاران نے بہت اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔
“زاران بھائی نایاب کو ایک شخص پریشان کر رہا تھا۔۔ زبردستی اپنی گاڑی میں بیٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
اس وقت میں وہیں سے جا رہا تھا۔۔۔ جو بلکل اتفاق تھا۔۔۔
اور اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو اسی جگہ جا کر روڈ پر پڑے خون سے تصدیق کر لیجئے گا۔۔۔ جو میں نے اپنی اسی بیساکھی کو مار کر نکالا تھا۔۔۔
اگر نایاب کی جگہ کوئی اور بھی ہوتی میں یہی کرتا۔۔۔ نایاب التمش کے ساتھ یونیورسٹی کے وہ سال ایک کلاس میں گزارے ہیں کے انکے کردار کی قسم کھا سکتا ہوں میں۔۔۔”
نعمان یہ کہہ کر وہاں سے جانے لگا تھا کہ زاران نے روک لیا تھا اسے۔۔۔
“یہی تھا وہ شخص۔۔۔؟؟؟”
زاران نے فون نکال کر خاور کی تصویر دیکھائی تھی۔۔۔
“جی یہی تھا۔۔۔آپ جانتے ہیں اسے۔۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔نہیں جانتا۔۔۔تم نے کیا نام بتایا اپنا۔۔۔؟؟”
“نعمان۔۔۔”
نعمان نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔پر زاران نے آگے بڑھ کر نعمان کو گلے لگا کر اسکی کمر تھپتھپائی تھی۔۔۔
“نعمان بہت بہت شکریہ مدد کرنے کا۔۔۔”
۔
نعمان تو وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
پر زاران عابدی نے اپنی گاڑی نکال کر خاور کو فون کیا تھا۔۔جو کہ چچی نے اٹھایا تھا۔۔۔
“خاور گھر ہے نا ہسپتال چچی۔۔؟؟”
“بیٹا گھر پر ہے۔۔۔کتنی چوٹ لگوا کر آیا ہے۔۔۔”
“میں آرہا ہوں۔۔۔اسکا علاج کرتا ہوں۔۔۔ ہسپتال لے جاؤں گا پھر اسکو۔۔۔۔”
زاران نے سٹئیرنگ کو غصے سے پکڑ لیا تھا۔۔۔اور گاڑی چچا کے گھر کی طرف گھما دی تھی۔۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: