Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 4

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 4

–**–**–

اگر نایاب کی جگہ کوئی اور بھی ہوتی میں یہی کرتا۔۔۔ نایاب التمش کے ساتھ یونیورسٹی کے وہ سال ایک کلاس میں گزارے ہیں کے انکے کردار کی قسم کھا سکتا ہوں میں۔۔۔”
نعمان یہ کہہ کر وہاں سے جانے لگا تھا کہ زاران نے روک لیا تھا اسے۔۔۔
“یہی تھا وہ شخص۔۔۔؟؟؟”
زاران نے فون نکال کر خاور کی تصویر دیکھائی تھی۔۔۔
“جی یہی تھا۔۔۔آپ جانتے ہیں اسے۔۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔نہیں جانتا۔۔۔تم نے کیا نام بتایا اپنا۔۔۔؟؟”
“نعمان۔۔۔”
نعمان نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔پر زاران نے آگے بڑھ کر نعمان کو گلے لگا کر اسکی کمر تھپتھپائی تھی۔۔۔
“نعمان بہت بہت شکریہ مدد کرنے کا۔۔۔”
۔
نعمان تو وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
پر زاران عابدی نے اپنی گاڑی نکال کر خاور کو فون کیا تھا۔۔جو کہ چچی نے اٹھایا تھا۔۔۔
“خاور گھر ہے نا ہسپتال چچی۔۔؟؟”
“بیٹا گھر پر ہے۔۔۔کتنی چوٹ لگوا کر آیا ہے۔۔۔”
“میں آرہا ہوں۔۔۔اسکا علاج کرتا ہوں۔۔۔ ہسپتال لے جاؤں گا پھر اسکو۔۔۔۔”
زاران نے سٹئیرنگ کو غصے سے پکڑ لیا تھا۔۔۔اور گاڑی چچا کے گھر کی طرف گھما دی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آگئی تم۔۔۔؟ ڈیٹ اتنی جلدی ختم ہوگئی تمہاری۔۔؟؟”
نایاب کے قدم اپنے کمرے کی جانب نہیں اپنے والد اور والدہ کے بیڈروم کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
وہ کمزور نہیں تھی۔۔پر آج اسکی آنکھوں میں آنسو اسکے غصے کی شدت کی وجہ سے آئے تھے۔۔
آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی تھی اسکے کردار پر انگلی اٹھانے کی پھر آج اس شخص کی وجہ سے اس کے کردار کو ٹھیس پہنچی تھی وہ کردار جو اسکا غرور تھا۔۔۔
سب پوچھتے تھے اسے غرور کس چیز کا ہے۔۔۔وہ سب کو بتانا چاہتی تھی اسکا کردار۔۔۔ اسکی خود داری اسکا غرور ہے۔۔۔
“ابو آپ سے ایک بات۔۔۔”
نایاب نے دروازہ کھولتے ہی کہا تھا۔۔۔پر سامنے کمرے کے مناظر اسکی جان ہتھیلی پر لے آئے تھے۔۔۔
ڈاکٹر اور فیملی ممبرز سے روم بھرا ہوا تھا۔۔
“ابو۔۔۔”
وہ جلدی سے اپنے ابو کی جانب بڑھی تھی۔۔
“بیٹا۔۔۔ بھائی صاحب ٹھیک ہیں بس۔۔۔تھوڑی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔۔۔”
انیسہ پھپھو نےنایاب کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
جو اپنے والد کے بستر پر بیٹھ گئی تھی جو بےہوش تھے۔۔۔
“امی ابو کو اچانک سے کیسے ہوگیا۔۔؟”
“اچانک سے نایاب۔۔؟ تم اگر خاور کے ساتھ شادی کے لیے مان جاتی۔۔۔اگر تم یونیورسٹی چلی جاتی تو یہ سب نا ہوتا۔۔۔”
یاسمین بیگم نے نایاب کو گلے لگا کر دلاسہ دینے کے بجائے اس پر چلانا شروع کردیا تھا سب کے سامنے۔۔۔
“اسی لیے آپ نے زاران کی ڈیوٹی لگا دی تھی خاور کو یونیورسٹی بھیجنے کی۔۔؟ میرے منع کرنے کے باوجود۔۔۔”
“نایاب اس لہجے میں بات مت کرو مجھ سے لڑکی۔۔۔۔”
انہوں نے نایاب کا بازو مظبوطی سے پکڑ لیا تھا جس سے اسے تکلیف ہوئی تھی۔۔
“نایاب بیٹا ہمارا مقصد وہ نہیں تھا۔۔۔ تمہارے بابا کو ہسپتال لیکر چلے گئے تھے سب لوگ۔۔
اور زاران نے اسی لیے خاور سے کہہ دیا تھا دلاور اور گھر کے باقی ڈرائیورز اس وقت نہیں دستیاب تھے۔۔۔۔”
انیسہ پھپھو کی بات سن کر نایاب کو سکون مل جانا چاہیے تھا کہ زاران کے ارادے غلط نہیں تھے۔۔۔
پر زاران عابدی کے لگائے الزام کو نایاب التمش کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔۔۔
اسکا غصہ کم ضرور ہوا تھا پر ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔
“میں نے انہیں انجیکشن لگا دیا ہے۔۔۔آپ لوگ انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی سے دور رکھئیے۔۔۔ اگر انہیں دوبارہ سانسلینے میں مسئلہ ہو تو یہ دوائی دیجئے گا۔۔۔”
ڈاکٹر صاحب تو چلے گئے تھے۔۔۔
“سن لیا نایاب۔؟؟ تایا جان پر رحم کرو اور ہاں کر دو شادی کے لیے۔۔۔ تمہاری وجہ سے انکا یہ حال ہوا ہے۔۔۔کیوں تائی جان۔۔؟؟”
سویرا کی بات نے سب کے ذہنوں میں ایک بات تو ڈال دی تھی کہ التمش صاحب کی یہ حالت کی زمہ دار نایاب ہے۔۔۔
“اگر تم نے بول دیا ہو تو تم جا سکتی ہو سویرا۔۔۔میرے ابو کو آرام کی ضرورت ہے۔۔۔
اور میری زندگی سے زیادہ اپنی شادی پر توجہ دو تم۔۔۔”
“نایاب تم۔۔۔”
“پلیز چچی۔۔۔”
اور چچی غصے میں سویرا کو اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔۔۔
“دیکھ رہی ہو انیسہ۔۔۔کس طرح سے جواب دیتی ہے سب کو۔۔؟؟ اسکو سمجھاؤ کہ ہم انکے رحم و کرم پر ہیں۔۔”
یاسمیں بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھیں۔۔۔
“بھابھی۔۔آپ ہمارے رحم و کرم پر نہیں ہیں۔۔۔اور نایاب اور سویرا دونوں کزنز ہیں یہ لڑائی جھگڑے چلتے رہتے ہیں۔۔۔ نایاب بیٹا۔۔۔یہ گھر جتنا سویرا اور باقی بچوں کا ہے اتنا آپ کا بھی ہے۔۔۔”
راحیل چاچو نایاب کے سر پر ہاتھ رکھ کر مخاطب ہوئے تھے۔۔۔اور روم سے چلے گئے تھے۔۔۔
“نایاب اب بتاؤ بیٹا اتنے غصے میں کیوں تھی۔۔۔؟؟”
انیسہ پھپھو بھی نایاب کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔
“پھپھو میں غصے میں نہیں تھی۔۔بس پریشان ہوگئی تھی ابو کی حالت دیکھ کر۔۔۔”
نایاب نے وہ غصہ وہ ضبط کا گھونٹ پی لیا تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی گھر میں پھر سے کچھ نئی بحث چھڑے۔۔اور موقع ملے کچھ لوگوں کو کیچر اچھالنے کا اسکے کردار پر۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
عابدی ہاؤس۔۔۔۔
۔
“اچھا ہوا تم آگئے بیٹا۔۔۔”
چچی کہاں ہے وہ۔۔؟؟”
زاران کے سر پر ہاتھ بڑھانے کے لیے چچی نے ہاتھ آگے بڑھایا پر زاران نےکے سر پر مانو غصے ہاوی تھا
وہ تو سارا رستہ ابور کر کے ایک قدم پر دو تین سیڑھیاں چڑھ کر خاور کے کمرے تک پہنچا تھا۔۔
“خاور۔۔۔۔”
زاران کی رؤب دار آواز نے چچی کو وہیں روک دیا اور انہیں مجبور کر دیا تھا اپنے شوہر کے آفس فون کرنے پر۔۔۔
“خاور کا کمرا خالی کیوں ہے چچی۔۔؟”
“وہ۔۔۔بیٹا۔۔۔دراصل۔۔تمہارے جانے کے بعد خاور کو تمہارا کمرہ بہت پسند آیا تھا تو۔۔وہ”
چچی کی گھبراتی ہوئی آواز میں بے حد شرمندگی تھی
زاران کے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔۔۔اب اسے اور غصہ تھا جو شدید ہوچکا تھا۔۔
وہ تو ایک پرائیویٹ شخصیت کا مالک انسان تھا۔۔ اسے اپنی چیزیں شئیر کرنا پسند نہیں تھیں
پھر کمرہ کیسے وہ شئیر برداشت کر لیتا۔۔۔
اس نے دروازہ جیسے ہی کھولا تھا۔۔۔ خاور اپنے جوتوں سمیت بستر پر لیٹا ہوا تھا۔۔ کمرہ سگریٹ کی بو سے پھرا ہوا پایا تھا زاران نے۔۔
یہ وہ کمرہ رہا ہی نہیں تھا۔۔
اسکا گیٹار اسکی ہاکی اور اسکا پسندیدہ فٹ بال ایک کونے پر اسکے باقی سامان کی طرح لاوارثوں کی طرح پھینکا ہوا تھا۔۔۔
دیوار پر اسکا اور اسکی فیملی کی تصاویر نہیں تھی عجیب فحاشی والی تاصاویر چسپا تھیں۔۔۔
زاران نے دو قدموں کا فاصلہ طہ کیا اور خاور کو گریبان سے پکڑ کر بستر سے اٹھایا۔۔۔
“زاران بھا۔۔۔بھائی۔۔۔۔”
خاور نے بوکھلاہٹ میں سگریٹ جلدی سے نیچے پھینک دیا تھا۔۔۔
“تمجانتے ہو مجھے کتنی نفرت ہے سگریٹ نوشی سے۔۔۔
تم جانتے ہو مجھے کتنی نفرت ہے اپنی پرسنل سپیس شئیر کرنے سے۔۔۔
اور تم جانتے ہو مجھت کتنی نفرت ہے ان مردوں سے جو عزت نہیں کرتے گھر کی عورتوں کی۔۔۔”
زاران کی لمبے چوڑے قد و جسامت کے آگے خاور بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔۔۔
جس طرح سے اسے جھنجھوڑا تھا زاران نے۔۔۔
“زاران بھائی۔۔وہ بلیک بیوٹی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ۔۔۔”
زاران کی بند مٹھی سے اس نے ضرب لگائی تھی خاور پر جو دور جا گرا تھا۔۔۔
“زاران بھائی آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔اس دو ٹکے کی لڑکی۔۔۔”
“بکواس بند۔۔۔کزن ہے وہ میری۔۔۔ایک لفظ۔۔۔خاور ایک لفظ اور کہا تو۔۔۔”
“کزن میں بھی ہوں آپ کا۔۔مجھ پر یقین کرنے کے بجائے اس بے حیا۔۔۔”
زاران نے اسے گریبان سے پکڑ کر پھر سے ایک اور مکامارا تھا۔۔۔ جس اتنی زور سے لگا تھا کہ خون بہنا شروع ہوگیا تھا خاور کے منہ سے۔۔۔
“زاران بس اب میں ہاتھ اٹھا دوں گا۔۔”
“اٹھاؤ ہاتھ۔۔۔میں بھی دیکھوں یہ مردانگی عورتوں کے ساتھ زبردستی کرنے کے لیے ہے یا واقع تم مرد ہو۔۔۔؟”
خاور نے غصے سے زاران کو مکا مارنے کی کوشش کی جو زاران نے خود کو پیچھے کر کے وار ضائع کر دیا تھا۔۔۔
اور ایک تھپڑ مارا تھا خاور کو۔۔۔
لڑتے لڑتے دونوں کمرے کی بالکونی پر آگئے تھے۔۔۔
چچی دروازہ کھٹکٹا رہیں تھیں۔۔۔ پر کوئی بھی نہیں سن رہا تھا ان کی۔۔۔
“زاران بیٹا دروازہ کھولو۔۔۔خاور کی ایسی آوازیں کیوں آرہی ہیں۔۔؟؟”
“خاور ہم عابدی کا خون اور تربیت اتنی خراب کب سے ہوگئی۔۔؟؟
ایک فیور مانگا تھا آج میں نے۔۔کیا کیا تم نے۔۔؟؟ کیا منہ دیکھاؤں گا میں۔۔۔؟
ڈسگسٹنگ۔۔۔”
زاران نے اسے پیچھے دھکا دے دیا تھا خاور نے رئیلنگ پکڑ لی تھی جب اسے لگا کہ وہ گر جائے گا۔۔
“ڈسگسٹنگ میں ہوں یا آپ۔۔؟؟ جو انگیجیڈ ہوکر بھی اپنی کزن میں دلچسپی لے رہے ہو۔۔؟
نایاب التمش ہاں۔۔؟؟ ہاہاہاہا۔۔۔
پتا ہوتا کہ آپ کی نظر اس بلیک بیوٹی پر ہے تو اسے دیکھتا بھی نا۔۔۔ پر اسکے انکار نے میری مردانگی جگا دی تھی۔۔۔اب کیا کرتا میں۔۔؟؟اور۔۔۔”
زاران کے قدم رک گئے تھے۔۔۔ خاور کی وہ باتیں جو اسکے دل کی دھڑکنے آہستہ کر گئیں تھیں۔۔
اس نے واپس اپنے کزن کو مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔پر خاور کی اگلی کہی بات نے زاران کے ہاتھ کی مٹھی پھر سے بند کر دی تھی۔۔۔
اس بار مکا پڑنے سے وہ سیدھا بالکونی سے نیچے گرا تھا۔۔۔۔
“امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
خاور کی چیخ سب کو سنائی دے تھی۔۔۔۔ جو اپنا بازو اور ٹانگ پکڑ کر درد سے کڑانا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔۔خاور میرے بچے۔۔۔”
اتنے وقت میں زاران کے چچا کی گاڑی بھی آگئی تھی۔۔۔
“خاور۔۔۔کیا ہوا بیٹا۔۔۔”
سب لوگ خاور کو دیکھنے لگے تھے۔۔۔زاران اسے وقت ہاتھ میں گیٹار پکڑے باہر آگیا تھا۔۔
اور اپنی گاڑی میں رکھ دیا تھا۔۔۔
“چچا خاور کا پاؤں پھیسل گیا تھا۔۔۔میں اسے ہسپتال لے جاتا ہوں۔۔۔”
“نہیں۔۔۔زاران۔۔۔بھیا۔۔میں نہیں جاؤں گا میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
خاور پوری طرح ڈر کر سمٹ گیا تھا۔۔۔پر زاران نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اوپر اٹھایا تھا۔۔۔
“خاور میں نے چچی سے وعدہ کیا تھا تمہیں ہسپتال لے جانے کا۔۔۔چلو شاباش۔۔۔
چچا مجھے لگتا ہے اسکا بازو اور ٹانگ فریکچر ہوئی ہے۔۔۔”
اور زاران اسے سہارا دینے کے بجائے اسکا بازو پکڑ کر اپنی گاڑی تک لے گیا تھا۔۔۔
جو بار بار چھوٹے بچوں کی طرح اپنی امی اور ابو کو مدد کے لیے پکاڑ رہا تھا۔۔۔
“زاران بیٹا میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔۔۔”
چچا بھی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
۔
۔
“زاران عابدی جو یہاں آتے وقت نعمان کی باتیں سوچ رہا تھا۔۔۔اب یہاں سے جاتے وقت نایاب التمش کی کہی باتیں اس کا دم گھونٹ رہیں تھیں۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“خاور بہت اچھا لڑکا ہے ہمیں آگے بات چلانی چاہیے۔۔۔”
چچی کی بات پر زاران کا ہاتھ رک گیا تھا چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے۔۔۔
سب لوگ ڈنر کے بعد لیونگ روم میں گفتگو میں مصروف تھے جبھی چچی نے یہ بات چھیڑ دی تھی۔۔۔
“خاور کی آج کی حرکت کے بعد نہیں ۔۔ وہ نایاب کے قابل نہیں ہے۔۔۔”
سویرا کے منہ سے چائے کا گھونٹ باہر آگیا تھا زاران کی بات پر اسے جس طرح سے کھانسی آئی تھی۔۔۔
“کیا مطلب بیٹا۔۔؟؟”
یاسمین بیگم نے پوچھا تھا۔۔
“نایاب نے آپ سب کو بتایا نہیں کہ کس طرح سے زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی اس نے۔۔؟؟ غلطی میری ہی تھی جو خاور پر یقین کیا۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
آفاق عابدی نے غصے سے پوچھا تھا۔۔۔
“جی ابو۔۔۔ لیکن اچھی خاصی کلاس لیکر آیا ہون دو تین ہفتے رہے گا ہسپتال تو دماغ ٹھکانے آجائے گا اسکا۔۔۔”
“تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا۔۔؟؟”
سویرا کی آواز بہت اونچی تھی۔۔۔
“ہاں ہاتھ اٹھایا۔۔اور مارا نہیں۔۔۔بہت مارا۔۔۔وہ یاد رکھے گا۔۔۔”
“زاران بھائی اس میں خاور کی کیا غلطی تھی۔۔؟ وہ تو وہی کر رہا تھا جو اسے کہا گیا تھا نایاب نا زیادہ دماغ دیکھایا کرے۔۔بیٹھ جاتی نا۔۔۔
ہم لوگ بھی تو خاور کے ساتھ کتنی دفعہ گھر آئیں ہیں۔۔۔”
سحر کو اتنے اشارے کرنے کے بعد بھی سویرا کی بات سمجھ نہیں آئی تھی اور وہ جلدی جلدی میں وہ کہہ گئی تھی گھر والوں کے سامنے جو اسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔
“کیا مطلب تم لوگ اسکے ساتھ کب گھر آئی۔۔؟؟”
راحیل صاحب سویرا کے والد صاحب کی نظریں سویرا پر تھیں۔۔۔
“لاسٹ یئر پاپا۔۔۔ ہماری کلاس اور کورس سیم تھا سو۔۔۔۔”
سویرا نے بات کو گول مول کر دیا تھا۔۔۔
“سوو۔۔۔؟؟ تم نے مجھے بتایا نہیں۔۔۔کوئی تمہیں گھر ڈراپ کرتا رہا۔۔؟؟”
زاران کا یہ لہجہ پہلی دفعہ سب دیکھ رہے تھے غصے سے بھرا ہوا تھا اسکا چہرہ۔۔۔
“تو تم ایسے کہہ رہے ہو زاران جیسے کوئی گناہ ہوگیا۔۔۔؟؟”
“تو غلطی نہیں مان رہی تم کہ یہ غلط ہے۔۔۔ سویرا۔۔۔؟؟”
“کیسی غلطی۔۔۔؟؟ بھول گئے زاران جب انگلینڈ میں ہم نے ساتھ سٹڈی کی تو کتنی بار تمہارا دوست مجھے ہوسٹل میں ڈراپ کرتا تھا۔۔۔تم تب تو کچھ نہیں کہتے تھے۔۔۔؟؟”
زاران عابدی ایک دم سے کھڑا ہوگیا تھا پر جب اسکی آنکھیں جا ٹکڑائی تھیں دروازے پر نایاب التمش سے وہ حیران ہوگیا تھا نایاب کی آنکھوں میں اپنے لیے بے یقینی اور بے اعتباری دیکھ کر۔۔۔
اور باقی سب بھی ششدر تھے۔۔۔ زاران کیا اتنا بدل گیا تھا باہر کے ملک تعلیم حاصل کرتے کرتے۔۔؟؟
زارا کو شاید پہلے اتنی شرمندگی نا ہوتی جتنی اسے آج ہورہی تھی جب یہ بات سن کر نایاب کی آنکھوں میں اس نے وہ بے یقینی دیکھی تھی۔۔۔
“زاران عابدی تم تو واقع میں بہت بدل گئے ۔۔اور میں چار سال پرانا زاران سمجھ رہی تھی۔۔۔”
نایاب اندر کمرے میں پھپھو کو وہ پلیٹ پکڑا کر وہاں سے جانے لگی تھی پر زاران کی بات سے رک گئی تھی۔۔۔
“سویرا وہ انگلینڈ تھا۔۔۔یہ پاکستان ہے۔۔تب تم میری منگیتر نہیں تھی۔۔۔”
“زاران گروو اپ۔۔۔ منگنی کے بعد کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے۔۔۔”
سویرا بھی کھڑی ہوگئی تھی زاران کے سامنے۔۔۔
“تو پھر مجھے لگتا ہے زیادہ دیر نہیں ہوئی ہمیں ابھی بھی سوچ لینا چاہیے اس رشتے کو لیکر۔۔؟؟”
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا تھا نایاب کے بہت پاس سے گزرا تھا اس سے پہلے جاتے ہوئے اسکا ہاتھ نایاب کے ہاتھ کو چھو جاتا نایاب بہت قدم پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
جسے نوٹ کر گیا تھا نایاب عابدی۔۔۔۔
۔
لیونگ روم میں ہر ایک شوکڈ تھا زاران کے فیصلے پر خاص کر سویرا جسے ہمیشہ لگتا تھا زاران اسکی مٹھی میں ہے۔۔۔
پر آج زران کا دوٹوک فیصلہ اسے اندر تک ہلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔”
نایاب صبح سب سے پہلے ناشتہ کر کے یونیورسٹی چلی جاتی تھی۔۔۔
اور ڈنر اپنے ابو کے ساتھ انکے روم می کرتی تھی۔۔۔
وہ پوری طرح سے اگنور کر رہی تھی سویرا اور زاران کو۔۔۔
پر جس رات اسے سویرا کا پیغام ملا سحر باجی کے ہاتھوں اسے مجبورا سویرا کے کمرے تک آنا پڑا۔۔۔۔
۔
“تم نے اتنا بڑا تماشہ کیوں لگایا تھا خاور نے کونسا زبردستی کر لی تھی تمہارے ساتھ۔۔۔؟؟”
ایکسکئیوزمئ۔۔۔سویرا۔۔۔ پہلی بات گھر میں میں نے نہیں تمہارے منگیتر نے یہ بات بتائی۔۔۔
اور دوسری بات تمہارے لیے کسی نامحرم کے ساتھ گاڑی میں آنا جانا معمولی بات ہوگی پر میرے لیے نہیں۔۔۔”
نایاب یہ کہہ کر جانے لگی تھی پر سویرا کی کہی اگلی بات نے اسے مجبور کر دیا تھا پلٹنے پر۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کوئی راج کمار آئے گا۔۔۔؟؟ تم جانتی ہو جس طرح تمہارا رنگ سیاہ ہے تمہارے نصیب بھی ویسے ہی ہیں۔۔۔سیاہ۔۔۔۔”
۔
“اگر میرے رنگ کی طرح۔۔۔میرے نصیب بھی سیاہ ہیں
تو مجھے اپنے رنگ کی طرح اپنے نصیب پر بھی رشک ہے
تمہارا حسن تمہاری پہچان ہے ۔۔۔سویرا
پر میراسیاہ رنگ میری خوبصورتی ہے
جہاں تک رہی میری شادی کی بات
اللہ سے میں نے ہمیشہ زاران کو مانگا تھا
اب اچھے نصیب مانگ لوں گی۔۔۔”
نایاب کی سیدھی زبان میں کہی گئیں باتیں سویرا کو آگ بگولا کر گزری تھیں۔۔۔ جو نایاب کی جانب بڑھی تھی شدید ترین غصے میں
“نایاب ذیادہ چالاک بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔میں اچھے سے جان گئی ہوں تمہارے ارادے تم زاران کو چوری کرنا چاہتی ہو مجھ سے پر یو نو وٹ۔۔۔۔؟؟؟”
سویرا نے نایاب کے کان کے پاس آکر سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
“زاران بلیک گرلز میں دلچسپی نہیں رکھتا۔۔۔۔ بیٹر لک نیکسٹ ٹائم۔۔۔”
وہ کچھ فاصلے پر پھر سے کھڑی ہوگئی تھی دروازے پر زاران کو دیکھ کر۔۔۔پر نایاب نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔
“چرایا تو تم نے تھا سویرا۔۔۔۔ چار سال پہلے۔۔۔جب پھپھو نے میرے اور زاران کے رشتے کی بات پکی کی تھی۔۔۔ مجھے یاد ہے کس طرح سے تم نے ضد کی تھی باہر پڑھنے کی۔۔۔”
نایاب بھی اسی پر اعتمادی سے سویرہ کے قریب ہوئی تھی اسی طرح سرگوشی کی تھی۔۔۔
“تم شکر کرو زاران کوئی چیز نہیں ہے۔۔۔ ورنہ میں نے سنا تھا چورائی ہوئی چیزیں زیادہ دیر پاس نہیں رہتی۔۔۔کوئی اور چرا لے جاتا ہے۔۔۔۔”
“یو۔۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ نایاب کیسے تمہاری پسند کو تمہارے سامنے اپنا بناؤں گی چند ہفتوں میں۔۔۔۔”
۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔؟؟؟”
زاران کو دیکھ کر نایاب نے ایک نظر سویرا پر ڈالی تھی اور پھر روم میں لگی بڑی سی گھڑی پر۔۔۔۔
“اوو زاران کب سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔”
سویرا نے زاران کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
نایاب دو قدم پیچھے ہوئی اور پھر مڑ گئی باہر جانے کے لیے۔۔۔۔
“نایاب جاتے ہوئے دروازہ بند کر جانا۔۔۔۔”
سویرا کی آواز میں طنز بھی تھا اور جیت کی مہک بھی۔۔۔
جس نے نایاب کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔
“آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں زاران۔۔۔۔”
نایاب نے اس شخص کو مخاطب کیا تھا جسے وہ پچھلے ہفتے سے اگنور کئیے جا رہی تھی۔۔۔۔
“کیا مطلب کیا کر رہا ہوں۔۔۔؟؟ میں یہاں سویرا سے بات کرنے آیا تھا۔۔۔
جو اب تمہاری موجودگی میں نہیں ہو پا رہی۔۔۔”
اس نے اپنا ہاتھ چھڑا کر اپنی جیب میں ڈال لیا تھا بات کرتے ہوئے کسی مغرور شخص کے جیسے۔۔۔۔
“پچھلے چار سال کم پڑ گئے تھے باتوں کے لیے۔۔۔؟؟ یہاں رات کے گیارہ بجے کونسی باتیں مکمل کر کے آپ نے کارنامہ سرانجام دینا ہے۔۔۔؟؟؟”
نایاب بھی دونوں ہاتھ باندھ لیے تھے۔۔۔۔
“نایاب زاران سے اس طرح بات کر کے تم اپنی لمٹ کراس کر رہی ہو۔۔۔”
“میری اسائنمنٹ خراب کر کے۔۔۔ میرے لیے ایک اور رشتہ بلوا کر میری بےعزتی کرنے کی ناکام کوشش کر کے۔۔۔۔اور اب اس شخص کی چوری کا الزام لگا کر تم اپنی لمٹس پہلے ہی کراس کر چکی ہو سویرہ۔۔۔۔
اور اب تم کیا ثابت کرنا چاہتی ہو۔۔۔؟؟
اینڈ یو مسٹر زاران اگر اپنی منگیتر سے باتیں کرنی ہے تو دن کی روشنی میں کیجیئے۔۔۔۔ رات کے اندھیروں میں کسی نامحرم کے ساتھ تنہائی میں باتیں نہیں گناہ سرزد ہوتے ہیں۔۔۔۔”
۔
وہ کسی طوفان کی طرح آئی تھی اور آندھی کی طرح چلی بھی گئی
جہاں سویرا کو غصہ آرہا تھا۔۔۔وہیں زاران کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
“ایسا لگ رہا ہے جیسے زاران میں نہیں وہ تمہاری منگیتر ہے کیسے رؤب جھاڑ کر گئی ہے جیسے رنگے ہاتھوں پکڑا ہو ہمیں۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی اسے غرور کس بات کا ہے۔۔۔ زاران۔۔۔۔”
زاران نے واپس دروازے پر سے نظریں ہٹا کر سویرہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“یہی بات سمجھ نہیں آرہی مجھے نایاب التمش کو غرور کس چیز پر ہے۔۔۔
میں اس کی اور بدتمیزی برداشت نہیں کرنے والا۔۔۔۔””
زاران کو غصے میں دیکھ سویرہ نے پھر سے زاران کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“دفعہ کرو اسے ہم کیوں اپنا موڈ خراب کریں۔۔۔”
پر زاران نے ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔۔۔
“سویرا۔۔۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا مجھے یہ سب پسند نہیں ہے نکاح سے پہلے یہ ملنا ملانا۔۔۔۔ اور اب بھی تمہارے میسج کی وجہ سے مجھے اس وقت یہاں آنا پڑا اور اچھی خاصی کلاس کر گئی ہے وہ میری۔۔جس کی کلاس لگانے کے موقعے میں پچھلے ہفتے سے ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔”
“پر زاران۔۔۔”
“اللہ حافظ صبح بات ہوگی۔۔۔۔”
زاران کے جانے کے بعد سویرہ نے زور سے دروازہ مار کر بند کیا تھا۔۔۔
“آئی ہیٹ یو نایاب التمش۔۔۔۔بس ایک بار زاران کو میرا ہونے دو۔۔۔
میں جانتی ہوں تم اس دن ٹوٹ جاؤ گی جب میرا نکاح تمہاری محبت سے ہوگا۔۔۔تب تک کر لو بد دماغیاں اپنی۔۔۔۔”
۔
زاران اپنے کمرے میں واپس آگیا تھا۔۔۔اور اپنی بالکونی میں کھڑا نیچے دیکھ رہا تھا جہاں وہ ٹہل رہی تھی ایک ہاتھ میں اپنی کتاب پکڑے۔۔۔۔
۔
“نایاب التمش۔۔۔۔ تم سلجھی ہوئی جھلی لڑکی زاران عابدی کو بہت الجھا رہی ہو”
۔
“زاران عابدی ایک بار موقع دیا تھا میں نے اپنی محبت کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کردیا تھا۔۔۔جب پھپھو کو ہاں کی تھی۔۔۔۔
پر اب کبھی نہیں۔۔۔
محبت نا میرے پاؤں کی زنجیر تب تھی اور نا اب ہے زاران تمہیں بلیک گرلز پسند نہیں۔۔۔ اور اب مجھے محبت پسند نہیں۔۔۔”
۔
اس نے گہرا سانس بھرا تھا جیسے افسوس تھا اسے کسی بات پر۔۔۔
۔
“سمجھ سے بالاتر ہے یہ رنگ دیکھ کر پسند کرنے اور پسند آنے والی بات۔۔۔
مطلب کے کوئی اگر خوبصورت نہیں تو کیا جینا چھوڑ دے۔۔۔
کوئی قد میں چھوٹا رہ جائے تو کیا پھانسی لگ جائے۔۔۔۔
اگر سیاہ رنگ ہے تو پسند کرنا چھوڑ دیا جائے۔۔۔۔
کیوں چھوڑا جاۓ کچھ بھی۔۔۔۔
اللہ کی زمین ہر جن و بشر کے لیے ہے۔۔۔۔ کہ جب اللہ پاک نے فرق کرنے سے منع فرما دیا تو اللہ کے بندوں کو منع ہوجانا چاہیے۔۔۔۔
کسی کمرے میں ہزار خوبصورت لوگوں میں وہ ایک الگ رنگ بھی سانس لینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔۔۔
پر یہ بات کیسے کوئی سمجھے۔۔۔”
اس کی سوچ کا عالم اتنی گہری پکڑ چکا تھا کہ کب چلتے چلتے وہ رک گئی تھی۔۔۔ اور جب نظر اٹھا کر اوپر چاند کی طرف دیکھنا چاہا تو اسکی نظریں زاران عابدی سے جا ٹکرائی تھیں۔۔۔۔
وہ بھی ضد کا پکا تھا نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا۔۔۔
اور یہ بھی جھکنے والی نہیں تھی۔۔۔
“اگر آج اس دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی ہوں تو اسکی وجہ میرا اپنی کمزوری پر احساس کمتری ہوجانے سے انکار تھا۔۔۔
میں نے لوگوں کو۔موقع نہیں دیا کہ وہ مجھے بار بار میرے رنگ پر نیچا دکھا سکے۔۔۔
میں نے اپنے آپ کو بہتر سمجھا سب کے سامنے۔۔۔۔اپنے سامنے۔۔۔
میں کیوں کہوں کے میں کمزور ہوں جب کے کمزوری دیکھنے والوں کی نظروں میں ہے۔۔۔۔۔”
اور نایاب نے نظریں جھکا لی تھی جیسے یہ باتیں یہ پیغام اس نے پہنچایا تھا اپنی آنکھوں کے ذریعے۔۔۔۔”
۔
نایاب۔۔۔۔۔”
پر وہ واپس اندر جا چکی تھی۔۔۔۔ زاران کی آواز ان سنی کر کے۔۔۔۔
۔
“میں کیوں اس سے معا۔۔۔میں کیوں اس سے ایکسکئیوز بھی کرنا چاہتا ہوں۔۔؟ خاور کو سزا دے دی۔۔۔ اب اسکا رشتہ نہیں ہوگا خاور سے اور کیا چاہیے اسے۔۔؟؟
اتنے نخرے نایاب التمش۔۔؟؟ اور میں براداشت بھی کیوں کر رہا ہوں۔۔؟ مجھے بھی اسے اگنور کر دینا چاہیے۔۔۔ مجھے اپنے رشتے کی طرف دھیان دینا چاہیے۔۔۔
میرا مستقبل سویرا ہے۔۔۔میں شادی کے بعد اسے یہاں سے دور لے جاؤں گا۔۔۔
یہاں جب سے واپس آیا ہوں میری سوچ بھی ویسی ہی ہوگئی ہے۔۔۔
اگر مجھے سویرا کا انگلیڈ کسی کے ساتھ ہوسٹل ڈراپ ہونا برا نہیں لگتا تھا تو اب کیوں۔۔؟
کیوں اس ایک لڑکی کی سوچ میں خود پر ہاوی ہونے دے رہا ہوں کیوں۔۔؟؟”
۔
اس نے نظریں اٹھا کر اوپر چاند کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
چاند کی روشنی اسکی ڈورتی ہوئی سوچوں کو سکون دے رہی تھی۔۔۔
اور جب اس روشنی کی ٹھنڈک میں اس نے آنکھیں بند کی تو اسے ایک ہی چھوی نظر آئی تھی۔۔۔
نایاب التمش۔۔۔ جو اس رات اس تالاب میں پاؤں ڈالے چاند کے عکس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
زاران نے گھبرا کر آنکھیں کھول لی تھیں۔۔۔
سامنے رات کا وہ پہر اور آسمان پر وہ چاند جگمگاتے ستاروں کے درمیان اسے اور منظر دیکھا رہے تھے۔۔۔اور آنکھیں بند ہونے پر کچھ اور نظر آرہا تھا۔۔۔
“کیا ہو رہا ہے مجھے۔۔۔۔”
وہ بالکونی کا دروازہ بند کر کے اپنے روم میں چلا گیا تھا اور اپنے ساتھ لے گیا تھا وہ بے چینی جس نے اسے اس رات سونے نہیں دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: