Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 5

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 5

–**–**–

“نایاب۔۔۔زندگی میں ایک بات یاد رکھنالوگ اس انسان کو توڑتے ہیں جس کو دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہ انسان پختہ نہیں ہے یہ ٹوٹ جائے گا۔۔۔
اور جانتی ہو پُختہ انسان کون ہے۔۔؟ پُختہ انسان وہ ہے جس کا ایمان مظبوط ہے۔۔۔
پُختہ انسان وہ ہے جس کے ارادے حالات کے آگے ڈھلتے نہیں ہے بدلتے نہیں۔۔۔
انسان کو انسان توڑنے کی کوشش تب تک کرتا ہے جب تک کہ وہ انسان سامنے والے کو خود کو توڑنے کا موقع نا دے۔۔
آج نایاب تم کمزور ہوجاؤ گی تو یاد رکھنا کسی کے چھو جانے سے گر جائے گا تمہارا وجود۔۔۔بکھر جائیں گے تمہارے ارادے۔۔۔
اور تم وہ نایاب نہیں ہو جو کہ بکھر جائے۔۔۔جو کہ ٹوٹ جائے۔۔۔
لوگوں کو لگتا ہے کہ تم خوبصورت نہیں ہو۔۔تویہ انکی سوچ ہے۔۔۔
تم اپنے رب کی رضا میں راضی رہو۔۔۔جیسے تم ہمیشہ سے رہی ہو
نایاب التمش۔۔۔تمہیں جھکنا نہیں ہے۔۔۔ تمہیں کسی کے سامنے خود گرانا نہیں ہے
یاد رہے کہ گرے ہوئے انسان ہوں یا چیزیں لوگ اٹھاتے نہیں ہے۔۔۔پاؤں تلے رؤند دیتے جاتے ہے۔۔۔”
نایاب وہ آخری لائن لکھ کر بند کر دی تھی اپنی ڈائری۔۔
شام کے وقت اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی وہ ڈوتبے سورج کو۔۔۔
“کیا خوب ہو۔۔ہرڈوبتے دن کے ساتھ انسان کی آنا بھی ڈوب جائے۔۔ انسان کا غرور ڈوب جائے۔۔۔ کم سے کم کچھ گھنٹے تو دوسرے لوگ بچ جائیں متکبرانسان کی تلخ باتوں سے۔۔۔”
پاس پڑے چائے کی مگ پر نظر پڑی تو نایاب ہنس پڑی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا اب کیسے گرم کرنے جاؤں چائے۔۔۔؟؟ امی نے مجھے اور چائے کو ایک ساتھ دیکھ لیا تو بس پھر۔۔۔۔ نایاب کی تو شامت۔۔۔۔”
۔
نایاب کی زندگی میں بہت پریشانیاں تھیں بہت کچھ تھا جو تلخ تھا۔۔۔جیسے کے وہ ماحول۔۔۔جیسے شادی کے لیے آنے والے رشتے ۔۔جیسے اسکی کزنز کی وہ باتیں۔۔۔
جیسے کہ زاران عابدی۔۔۔۔جو موقعے ڈھونڈ رہا تھا اس سے بات کرنے کے۔۔۔
پر معافی مانگنے پر آمادہ نہیں تھا وہ شخص۔۔۔اور نایاب اس کی طرف اس عزت کی نظروں سے دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔پر اتنی جلدی اسے نفرت بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔
نفرت جتنا چھوٹا لفظ ہے اسے کرنے کے لیے اتنا بڑا وقت درکار ہوتا ہے جو ان لوگوں کے لیے مشکل ہوجاتا ہے کہ جنہوں نے اس انسان کو اپنا آئیڈیل مانا ہو۔۔۔ اسے اتنے سال اپنی پسند بنایا ہو۔۔۔
۔
نایاب گہرا سانس بھر کر دبے پاؤن کمرے سے چائے کا مگ باہر لے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اگلے دن۔۔۔۔”
۔
“نایاب۔۔بیٹا۔۔کچھ لوگ آرہے ہیں رشتے کی بات کرنے۔۔۔”
“پھپھو آپ کا بیٹا باز کیوں نہیں آرہا ۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا نہیں زاران نے نہیں بلایا۔۔۔بلکہ کسی نے بھی نہیں بلایا یہ خود آرہے ہیں اور تم جانتی بھی ہو۔۔۔”
انیسہ پھپھو نے نایاب کی الماری کھول لی تھی اور ڈریس ڈھونڈنے لگی تھیں۔۔۔
“میں کیسے جانتی ہوں۔۔؟؟ پھپھو کون ہے۔۔؟؟”
“نعمان شمس کی فیملی۔۔۔ “
“اوووہ۔۔۔۔۔”
نایاب کے چہرے پر جو پریشانی تھی اب وہ ایک سکون میں بدل گئی تھی۔۔اور پھپھو کو یہ بات اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔
وہ پتا نہیں کیوں نہیں چاہتی تھیں نایاب اس گھر سے جائے اور نعمان کو آج دیکھ کر وہ مبتلا ہو گئیں تھی نایاب کی فکر میں کہ وہ کیسے گزارا کرے گی۔۔۔
“پھپھو۔۔۔؟؟ آپ اداس ہوگئیں ہیں۔۔؟؟”
نایاب نے انکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بستر پر بٹھا لیا تھا۔۔۔
“تم ہی بتاؤ۔۔۔اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھے میں نے چار سال سے نایاب۔۔اب تمہارے لیے وہ جوڑا ڈھونڈ رہی ہوں جو تم پہن کر انکے سامنے جا سکو۔۔۔”
پھپھو کی اشکبار آنکھیں نایاب کو دکھی سا گر گئیں تھیں۔۔۔
“پھپھوجو نصیب میں تھا وہ مل گیا۔۔ سویرا کو زاران۔۔۔اور۔۔”
وہ کہتے ہوئے خاموش ہوگئی تھی۔۔۔
“نایاب بیٹا مجھے معاف کر دو۔۔۔مجھے زاران کو چار سال پہلے بتا دینا چاہیے تھا کہ اسکے رشتے کی بات پکی ہوچکی ہے تمہارے ساتھ۔۔۔میں نے نہیں بتایا اور آج مجھے تکلیف ہورہی ہے بہت زیادہ۔۔
التمش بھائی کی آنکھوں میں نہیں دیکھ پارہی میں۔۔”
پھپھو نے مظبوطی سے نایاب کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا انکے آنسو نایاب کی انگلیوں کو بھیگا چکے تھے۔۔۔
“پھپھواس میں حکمت ہے اللہ کی۔۔۔آپ نے نہیں بتایا سویرا وہاں چلی گئی زاران کو پسند آگئی
یہ لکھا تھا نصیب میں پھپھو۔۔۔باقی نعمان کو لیکر ابو کا اور آپ سب گھر والوں کا جو فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہوگا۔۔۔۔اب آپ بھی فریش ہوجائیں پلیز۔۔۔میں چینج کر کے نیچے آجاؤں گی۔۔۔”
نایاب نے پھپھو کا چہرہ صاف کیا تھا اپنے دوپٹے سے۔۔۔
۔
نایاب نے پوری کوشش کی تھی پھپھو کو ہمت دینے کیااور جب وہ اپنا وہ پنک ڈریس لیکر باتھروم میں چلی گئی تھی تو پھپھو نے حسرت بھری نظروں سے دیکھا تھا نایاب کو۔۔۔
انہیں نایاب میں وہ ایک صابر عورت نظر آئیں تھیں جنہیں پہلے دن ہی انکے رنگ کی وجہ سے ٹھکرا دیا تھا۔۔اور آج نایاب کے ساتھ وہی سب ہورہا تھا۔۔۔
پر زاران سے انہیں یہ امید نہیں تھی۔۔۔
۔
“زاران بھی وہی کرنے جا رہا ہے جو التمش بھائی نے کیا تھا بہت سال پہلے۔۔۔
میں جانتی ہوں زاران بھی بہت پچھتائے گا۔۔۔شاید التمش بھائی سے بھی زیادہ۔۔۔”
۔
انیسہ اس وقت خود کو روک نہیں پائی تھیں اور ماضی کی یادوں میں چلیں گئیں تھیں۔۔۔
۔
“آپ میرے بھائی کو ڈیزرو نہیں کرتیں اپنا آپ دیکھا ہے آپ نے۔۔؟؟ پتا نہیں امی ابو کو کیا نظر آیا آپ میں۔۔۔اور اب یہ کپڑے پہن کر جائیں گی بھائی کی بزنس پارٹی میں۔۔؟؟
پنک ڈریس پہن کر۔۔؟؟”
“انیسہ باجی مجھے یہ کلر اچھا لگتا ہے۔۔۔ایم سوری میں بدل لیتی ہوں۔۔۔”
“کوئی ضرورت نہیں ہے اب۔۔۔جو ذلت لکھی ہے وہ تو ہمارے خاندان کو برداشت کرنی پڑے گی نا۔۔؟؟ التمش بھائی نے کیا سوچ کر امی ابو کی بات مانی اور کر لی شادی۔۔۔”
“انیسہ میں جو ہوں وہ میں ہوں۔۔۔آپ لوگ کیوں مجھے میرے سیاہ رنگ کی وجہ بے عزت کرتے ہیں۔۔؟؟ بتائیں کیا کروں میں۔۔؟؟”
“چلی جائیں میرے بھائی کی زندگی سے۔۔۔تاکہ کر سکے وہ شادی اپنی محبت سے۔۔۔
خوش رہ سکے وہ یاسمین کے ساتھ ان سے شادی کر سکے وہ۔۔۔”
“انیسہ التمش میری محبت ہی نہیں پسند ہیں میرے شوہر ہیں کیسے الگ ہوکر میں جی پاؤں گی۔۔؟
پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔”
“امی۔۔۔۔امی۔۔۔”
انیسہ ایک جھٹکے اسے بستر سے اٹھ گئی تھیں۔۔۔اور زاران کو سامنے کھڑا دیکھ اپنی آنکھیں جلدی سے صاف کر لی تھیں۔۔۔
“امی آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟ نایاب نے کچھ کہا۔۔؟؟ انکار کر دیا اس نے رشتے سے۔۔؟؟”
زاران انیسہ بیگم کے ہاتھ پکڑے وہیں بیٹھ گیا تھا۔۔
“انکار کیوں کرے گی وہ۔۔؟؟ نعمان ایک بہت اچھا لڑکا ہے زاران اسے تب سے جانتی ہوں جب وہ چھوٹا بچہ تھا۔۔۔”
“امی معذور ہے وہ۔۔۔”
“توو۔۔؟؟ تمہیں اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے ۔۔کیونکہ زندگی نایاب نے گزارنی ہے۔۔۔”
“پر امی۔۔۔”
انیسہ بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا۔۔۔انہیں غصہ تھا سب پر۔۔۔اپنے بیٹے پر۔۔
اپنے آپ پر۔۔۔ وہ اٹھ گئیں تھیں وہاں سے۔۔۔
“دلکش میں اور نایاب میں فرق صرف اتنا تھا۔۔۔ وہ ہار چکی تھی ظالم دنیا کے آگے۔۔۔
پر نایاب۔۔وہ مظبوط بنی کبھی نا ٹوٹنے والی لڑکی۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پھپھو اب بتائیں کیسی لگ رہی ہوں۔۔؟ اب میں نے پنک کو زرا۔۔۔”
نایاب نے گول گھوم کر دوپٹہ لہرا کر دیکھایا تھا۔۔۔پر زاران عابدی کے کھولے منہ کر دیکھ کر اس نے وہی دوپٹہ جلدی سے لے لیا تھا جو وہ ہوا میں لہرا رہی تھی۔۔۔۔
۔
“آپ۔۔۔آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔”
“کیوں میں نہیں آسکتا یہاں۔۔؟”
زاران نے نایاب کو آنکھ بھر کر دیکھنا چاہا تو نایاب نے منہ پھیر لیا تھا۔۔۔
“نہیں آسکتے آپ ایسے اکیلے میں۔۔۔مجھے تیار ہوکر نیچے جانا ہے آپ۔۔۔”
زاران نے غصے سے ایک ہاتھ مارا تھا دروازے پر جو بند ہوگیا تھا۔۔۔
۔
“تم اس اسے شادی نہیں کرو گی نایاب کہہ دیا میں نے”
“اور آپ یہ کہنے والے کون ہوتے ہیں زاران۔۔؟”
“تمہیں جو سمجھنا ہے تم سمجھو۔۔
پر تم اس سے شادی نہیں کرو گی ڈیم اِٹ اپاہج ہے وہ۔۔تو میں کون سا پرفیکٹ ہوں زاران۔۔؟”
آپ نے کہا تھا کسی میٹرک پاس سے شادی کروا لوں۔۔۔اور نعمان تو بہت درجے اونچا ثابت ہوا صورت میں بھی اور سیرت میں بھی۔۔مجھے ویسے اپنانا چاہتا ہے جیسی میں ہوں
سیاہ” رنگت کی سانولی سی لڑکی۔۔”
۔
“او آئی سی۔۔۔ اگر یہ سب تم میری اٹینشن لینے کے لئیے کر رہی ہو نا نایاب التمش۔۔۔
تو تم نے لے لی ہے میری اٹینشن۔۔۔اب نیچے چل کر انکار کرو ان لوگوں کو۔۔۔”
زاران نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے نایاب کو بازو سے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“زاران ہاتھ چھوڑئیےمیرا۔۔۔ ڈیم اِٹ۔۔۔ آپ میرے کزن ہے محرم نہیں فور گاڈ سیک آیندہ مجھے چھونے کی جرآت بھی مت کیجئیے گا۔۔۔۔”
وہ اتنے قدم پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔۔جیسے اس کا پورا جسم جل اٹھا ہو اس نا محرم کے چھو جانے سے۔۔۔پر جتنے قدم وہ اس وقت زاران عابدی سے پیچھے ہوئی تھی۔۔۔
اتنی عزت زاران کی نظروں میں سامنے کھڑی لڑکی کے لیے بڑھ گئی تھی۔۔۔
اب یہ پتا نہیں تھا وہ جو زاران کے دل اور نظروں میں بڑھی تھی۔۔۔
وہ عزت تھی یا محبت۔۔۔؟؟
“نایاب۔۔”
“وہ چل نہیں سکتا تو شادی نہیں ہوسکتی۔۔۔؟؟
میں خوبصورت نہیں ہوں تو کوئی سٹینڈڑد سٹیٹس والا لڑکا مجھ بیوی کے روپ میں اپنا نہیں سکتا۔۔۔۔؟؟
دنیا کسی حال میں جینے کیوں نہیں دیتی۔۔۔؟؟
پلیز۔۔۔۔۔”جینے بھی دے دنیا ہمیں۔۔۔۔” پلیز۔۔۔۔”
بنا اجازت آپ دوبارہ میرے کمرے میں نہیں آئیں گے۔۔۔جائیے اب زاران ۔۔۔جینے دیجئیے۔۔۔”
۔
“ابھی میں جا رہا ہوں اگر تم نے شادی کے لیے ہاں کر دی تو میں سمجھوں گا کہ کبھی تم مجھے پسند کیا ہی نہیں تھا۔۔۔”
“کونسی پسندیدگی۔۔؟؟ زاران عابدی آپ کی کچھ فہمی ابھی ختم کرتی ہوں ساتھ چلتے ہیں نیچے۔۔
آپ کے سامنے ہاں کہوں گی۔۔۔اور ایک بات زاران۔۔۔ محبت اور پسند کی خاطرخود دار انسان ایک بار تو خود کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کرنے کی غلطی کر سکتا ہے۔۔۔ پر بار بار وہ غلطی دہرا نہیں سکتا۔۔۔”
۔
“ہمم دیکھتے ہیں تم۔۔۔”
پر زاران کی بات پوری نہیں ہوئی تھی جب نایاب نے اپنا سر کور کر لیا تھا اور کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔۔”
وعلیکم سلام بیٹا۔۔۔”
“اب دیکھنا اسکے پنک رنگ پر کیسے سب ہنسے گے۔۔۔”
سویرا نے باقی کزنز سے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
نعمان کی امی اور بہنوں نے بہت محبت اور چاہت سے نایاب کو گلے لگایا تھا۔۔۔
اور نعمان کے ابو ہنس رہے تھے نایاب کو دیکھ کر۔۔۔
“آپ زیادہ ہی دانت نہیں نکال رہے اولڈ مین۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔پنک سوٹ پر ہنس رہا ہوں۔۔۔ التمش یاد ہے پنک کلر کی کہانیاں یاسمین بھابھی کی ڈانٹ۔۔؟؟”
شمس صاحب نے نایاب کے سر پر پیار دیا تھا اور پھر سے التمش صاحب کی ویل چئیر کے پاس بیٹھ گئے تھے۔۔التمش صاحب کی آنکھوں میں ایک نئی چکم تھی جیسے وہ بہت خوش تھے اپنے دوست سے مل کر۔۔۔انکی ایک طرف شمس صاحب بیٹھے تھے تو دوسری طرف نعمان۔۔۔
۔
“نعمان کی فیملی جس اپنائیت سے نایاب کو پاس بٹھا کر سرہا رہی تھی انیسہ بیگم نے زاران کی طرف دیکھا تھا بہت مایوسی سے۔۔۔
یاسمین بیگم نے زیادہ سوال جوب نہیں کئیے تھے جیسے انہیں دلچسپی ہی نا ہو اپنی بیٹی کی شادی سے۔۔۔
اور دوسری طرف زاران عابدی دروازے پر کھڑے تھے جیسے انہیں ریجیکٹ کردیا گیا ہو۔۔
“اسی ہفتے رکھ لیتے ہیں منگنی پھر کیا خیال ہے یاسمین بھابھی۔۔؟ التمش بھائی۔۔۔؟؟”
راحیل صاحب نے اپنے بڑے بھائی کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔
التمش صاحب نے پلکیں جھپکی تھی اور نایاب پر سکون ہوگئی تھی اس نے اپنے ابو کی ہاں میں سر ہلا دیا تھا اور کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔جو زاران عابدی سے ٹکڑا گئی تھی جاتے ہوئے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی ہمارے کچھ دوست آئے ہیں انگلینڈ سے۔۔۔اور ایک دوست کا فارم ہاؤس ہے
سب وہیں اکٹھےہورہے ہیں۔۔۔”
“پر زاران نایاب کی منگنی ہے اور تم اور سویرا ایک ہفتے کے لیے جا رہے ہو۔۔”
زاران نے اپنا کوٹ پہن کر بیگ کی زپ بند کر دی تھی۔۔۔
“امی سویرا کے دوست بھی ہیں وہ۔۔اور زیادہ فی میلز ہیں۔۔۔ سویرا اگر رکنا چاہتی ہے تو رک جائے۔۔۔مجھے نا رکنے کا پلیز مت کہنا۔۔۔کیونکہ نایاب میرے لیے اتنی اہمیت نہیں رکھتی کہ میں اپنے دوست چھوڑ دوں۔۔۔”
۔
زاران کا کل رات سے یہ رویہ تھا۔۔۔روٹھا روٹھا غصے والا اکھڑا ہوا۔۔ جن دوستوں کو وہ منع کرچکا تھا دو دن پہلے اب زاران کا ارادہ نایاب کے رات کے فیصلے نے بدل دیا تھا۔۔۔
۔
“زاران غصہ کس بات کا ہے۔۔؟؟”
زاران کے پیچھے پیچھے انیسہ بیگم نیچے سیڑھیوں تک آئیں تھیں۔۔۔
“سویرا میں ہوں تو کیوں تم کیوں اپنا سوٹ کیس اٹھا رہی ہو۔۔؟؟”
نایاب کو دیکھ کر زاران کا لہجہ اور میٹھا ہوگیا تھا۔۔۔
“زاران میں کسی ملازم کو بلا لیتی ہوں۔۔۔”
“ارے سویرا میڈم ہم آپ کے غلام حاضر ہیں تو سہی۔۔۔”
زاران نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔اور نایاب ڈائننگ ٹیبل چھوڑ کر جا چکی تھی۔۔۔
جس پر زاران عابدی بہت خوش ہوا تھا۔۔۔کیوں خوش ہوا تھا یہ وہ خود نہیں جانتا تھا۔۔
کیوں جلا رہا تھا وہ اسے یہ وہ خود نہیں جانتا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔”
۔
“ہاہاہا وہ بلیک بیوٹی تو جیسے اور بلیک ہوگئی تھی جب زاران نے میرا سوٹ کیس اٹھایا تھا۔۔”
سویرا کے پاس جھڑمٹ لگا ہوا تھا اسکی فرینڈز کا جو باہر سے آئیں ہوئیں تھیں۔۔۔
“اچھا مان لیتے ہیں۔۔۔پر سویرا۔۔۔اگر وہ بلیک بیوٹی اتنی ہی قابلِ نفرت ہے تو کیوں یہاں زاران وہ کام کر رہا ہے جو تم سے لڑائی کے بعد نہیں کیا کبھی اس نے۔۔۔
یا پھر کبھی کیا ہی نہیں تھا۔۔۔
ٹیریس سے نیچے آتے ہی سویرا کی دوست نے طنز کیا تھا۔۔۔
“کیا کام۔۔؟؟ ہاہاہاہا اب یہ مت کہنا زاران کو سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔۔۔
کیونکہ ایک وہی کام ہے جو وہ کبھی نا کرے اور۔۔۔”
“زاران وہی کر رہا ہے اوپر جا کر چھت پر دیکھ لو۔۔۔”
سویرا کے چہرے کے رنگ پھیکے پڑ گئے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا بلیک بیوٹی کہیں اپنا اثر تو نہیں کر گئی سویرا۔۔۔ میں نا کہتی تھی زاران کو کوئی چرا لے جائے گا۔۔۔ تم نے اس سے میری دوستی ختم کروا دی تھی اب تم خود کو دیکھو۔۔۔”
کنول ہنستے ہوئے وہاں سے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔
سویرا اوپر بھاگی تھی۔۔۔
اور جب ٹیرس پر پہنچی تو زاران ایک کونے پر کھڑا تھا۔۔
اور اسکے ہاتھ میں تھا وہ سگریٹ جو اسے کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر نفرت ہوتی تھی۔۔۔
“زاران یہ کیا کر رہے ہو۔۔؟ دو دن سے ایسے ہی کر رہے ہو الگ تھلگ رہ رہے ہو اور اب یہ سموک۔۔۔؟؟”
سویرا چلا دی تھی۔۔۔
“میں کچھ پوچھ رہی ہوں زاران۔۔۔”
سویرا نے جیسے ہی کندھے سے پکڑ کر زاران کا رخ اپنی طرف کیا تھا زاران کی غصے سے لال آنکھیں دیکھ کر سویرا نے اپنا ہاتھ زاران کے کندھے سے ہٹا لیا تھا۔۔۔
“اپنا سوٹ کیس پیک کر کے سونا ہم صبح واپس جا رہے ہیں۔۔۔”
زاران نے وہ سگریٹ آدھا ادھورا پھینک دیا تھا نیچے۔۔۔۔
“میں ابھی واپس نہیں جا رہی۔۔۔۔”
“ٹھیک ہےخود ہی آجانا۔۔میں کل جا رہا ہوں۔۔۔”
“کیوں نایاب کی منگنی اٹئینڈ کرنے کی اتنی جلدی ہے۔۔؟؟”
زاران کے قدم رک گئے تھے۔۔۔
“نایاب کی منگنی پر جانے کی جلدی ہے بھی تو کیا غلط ہے۔۔؟؟ کزن ہے میری۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا ۔۔۔ یا رائٹ کزن۔۔۔زاران کزن سے کچھ زیادہ تو۔۔۔۔”
“سویرا۔۔۔ایک اور لفظ نہیں۔۔۔اگر وہ کزن سے کچھ زیادہ ہوتی نا تو تمہارے ہاتھ میں میری انگوٹھی نا ہوتی۔۔۔اور میرے تذکرے تم اپنی فرینڈز کے کمپنی میں اتنے فخر سے نا کر رہی ہوتی۔۔
زاران عابدی کا نام تمہارے نام کے ساتھ جُڑا ہے۔۔۔نایاب عابدی کے اتنے نصیب نہیں کے وہ مجھے پا سکے۔۔۔۔”
۔
۔
زاران کے جواب سے سویرا کے تو سبھی شک و شبہ دور ہوگئے تھے۔۔۔
پر زاران عابدی کو نہیں پتا تھا آج غصے اور تعیش میں بولے گئے لفظوں کو اس نے آنے والے وقت میں بیٹھ کر رونا تھا۔۔۔
اسے نہیں پتا تھا کہ وہ وقت بہت قریب تھا جب اسے نے نایاب التمش کے ساتھ اپنے نام جوڑنے کی ہر ناکام کوشش کرنی تھی۔۔۔
اسے نہیں پتا تھا۔۔۔آنےوالے وقت میں اسکے دل اور دماغ کی لڑائی میں اسکے آکسفورڈ گریجوویٹ دماغ کی شکست ہونا لکھ دی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آج کے دن ہم سب خوش ہیں نایاب میری بیٹی جیسی نہیں میری بیٹی ہے۔۔۔
نعمان کی منگنی نایاب بیٹی سے آناؤننس کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہورہی ہے۔۔
نعمان بیٹا ۔۔نایاب یہاں آئیں۔۔۔”
آفاق صاحب کے ساتھ باقی فیملی کے بڑے بزرگ کھرے ہوئے تھے۔۔۔
۔
“نایاب نے گہرا سانس لیا تھا اور آنکھیں بند کر کے اپنا ہاتھ آگے کیا تھا۔۔۔
۔
“مینوں پتا کہ دنیا نوں۔۔۔۔اے گوارا نیں ہوسکدا۔۔۔۔
پر چھوٹ کہندے نے سارے۔۔۔کہ پیار دوبارہ نیں ہوسکدا۔۔۔”
۔
نعمان نے رنگ پہنا دی تھی
“نایاب زندگی میں پہلی بار ہمت کی ہے اپنے سے اوپر کچھ مانگا اللہ سے۔۔
آپ کو مانگا۔۔۔اور آج آپ مل گئی۔۔۔نایاب اب حفاظت کروں گی آج جو نعمت سے اللہ نے مجھے نواز دیا ہے۔۔۔”
نعمان نے رنگ پنا کر ہاتھ پیچھے کرلیا تھا۔۔۔۔
۔
“نایاب بیٹا رنگ پہناؤ۔۔۔”
زاران بھیا سویرا بھابھی آگئیں۔۔۔۔”
۔
ہال میں ایک آواز گونجی تھی۔۔۔۔
نایاب نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو زاران سامنے کھڑا تھا۔۔۔
پر فرق اتنا تھا اسکے ہاتھوں نے وہ ہاتھ تھامے ہوئے تھے جو کچھ دن پہلے نہیں تھامتا تھا وہ کسی کے سامنے۔۔۔
“نایاب بیٹا رنگ۔۔۔”
نایاب نے نعمان کو رنگ پہنا دی تھی۔۔۔۔پر وہ ہاتھ جو نعمان سے رنگ پہنتے ہوئے نہیں کانپے تھے۔۔۔وہ اب کانپ رہے تھے۔۔۔
نایاب التمش کو اب سمجھ آرہی تھی کہ وہ اندر سے ابھی بھی وہیں ہے جہاں وہ چار سال پہلے کھڑی تھی۔۔۔
۔
اسکی آنکھوں سے نکلنے والا آنسو اسے اسکی دادی کی کچھ خواہشیں یاد کرا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
“”دادی میرا گڈا کون ہے پھر۔۔؟؟”
“ارے یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔؟؟ زاران ہے نا تمہارا گڈا۔۔۔
میری خوبصورت سی گڑیا کے لیے۔۔۔”
“پر دادی میں خوبصورت نہیں ہوں۔۔”
“زاران پھر بھی کھیلتا ہے نا تمہارے ساتھ۔۔؟؟ وہ میری گڑیا کا خیال رکھے گا۔۔”
“سچی دادی۔۔۔؟؟”
“ہاں میری بچی۔۔۔”
۔
“”زاران کے آتے ہی ہم منگنی کر دیں گے دونوں کی۔۔اور پھر شادی۔۔۔نایاب کو میں چرا لوں گگی آپ سے التمش بھائی۔۔۔”
۔
۔
“نایاب نے جیسے ہی اپنی آنکھیں صاف کر کے کھولی تھیں وہ اکیلی کھڑی ہوئی تھی۔۔۔زاران
مہرون شیروانی پہنےمسکراتے ہوئے آرہا تھا سٹیج پر جہاں”
۔
“زاران بیٹا۔۔۔کہاں تھے کب سے انتظار کر رہی تھی نایاب چلو جلدی سے رنگ پہناؤ۔۔۔”
“امی رنگ تو میں لانا بھول گیا ۔۔۔ہم ڈائریکٹ نکاح نا کر لیں۔۔؟؟”
زاران نے شرارت بھرے لہجے سے کہا تھا۔۔۔
“مجھے تو ہلے ہی پتا تھا یہ بھلکر بھول جائے گا نایاب بیٹا۔۔۔وہ انگوٹھی کہاں ہے “
دادی نے زاران کو ڈانٹتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
“زاران عابدی دیکھ لیں اپنے کام رنگ بھول گئے۔۔۔کب سے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی میں نے رنگ۔۔۔”
نایاب نے اپنی بند مٹھی کھولی تھی جس میں دو خوبصورت رنگز تھیں ۔۔۔
“نایاب۔۔۔التمش۔۔۔۔”
۔
نایاب کی آنکھ سے جو آنسو چھلکا تھا وہ اپنے اس خیال سے باہر آگئی تھی۔۔۔یہ خیال جو دادی کے انتقال کے بعد اسے بار بار آتا تھا۔۔۔
“نایاب نے اس طرح سے اپنا چہرہ صاف کیا تھا کہ پاس کھڑے زاران کو بھی محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔
اس نے اتنا لمبا سفر تہہ کیا تھا اب کیسے خود کو کمزور دیکھا دیتی وہ سب کو اپنا آپ۔۔۔؟؟
۔
“خیر مبارک زاران بھائی۔۔۔آپ بات کیجئیے میں ابھی آتا ہوں۔۔۔”
نعمان اپنے ابو کے پاس چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“کچھ ایسا کر کمال کہ تیری ہوجاؤں۔۔۔۔
میں کسی اور کی ہوں فلحال۔۔۔کہ تیری ہوجاؤں۔۔۔۔”
۔
“منگنی مبارک ہو بہت بہت نایاب التمش۔۔۔۔ماننا پڑے گا۔۔۔۔
کیچڑ کی اینٹ کبھی کسی محل میں نہیں لگتی۔۔اس کے نصیب میں وہی ہوتا ہے کچا مکان
جیسے تمہارے نصیب میں وہ اپاہج انسان۔۔۔”
“زاران عابدی اینٹ کیچڑ کی ہو یا۔۔کسی مہنگے ماربل کی۔۔وہ اینٹ اس مکان
کو مکمل کر دیتی ہے۔۔۔
اور ہم سب چلتے پھرتے اپاہج ہی تو ہیں۔۔جیسے کے آپ۔۔
اپنے غرور کے سہارے ہیں۔۔میری خوبصورتی آج کے بعد نعمان ہیں
اور انکا سہارا میں ہوں۔۔۔ان کو میرے سیاہ رنگ سے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔
جیسے مجھے نہیں ہوا آج تک۔۔۔”
“نایاب التمش۔۔۔سب کہنے کی باتیں ہیں۔۔۔ اس رشتے میں سب کچھ ہوگا پر محبت۔۔؟
میں نے سنا تھا چار سال پہلے ہی تم کسی کو پسند کر بیٹھی تھی۔۔؟پر وہ تمہیں ریجیکٹ کر گیا چار سال بعد۔۔۔؟؟ افف بہت افسوس ہوا مجھے۔۔۔۔”
زاران نے کیمرے کے سامنے اپنی شخصیت میں اور چار چاند لگا دئیے تھے مسکرا کر۔۔۔
اسکی باتوں میں وہ غرور تھا جو نایاب کو ایک نظر نہیں بھایا تھا۔۔۔
اس نے جتنا متکبر انداز میں وہ بات کر دی کہ تھیں کہ
اسکی باتیں اسکے ساتھ کھڑی ایک مظبوظ لڑکی کو کچھ لمحات کے لیے خاموش کر گئیں تھیں۔۔۔۔
“زاران سب باتوں کو مذاق اڑا لیں پر پسند اور محبت۔۔۔؟ ان کا مذاق نا بنائیں کیونکہ محبت محبت کا مذاق بنانے والوں کو مذاق بنا دیتی ہے دنیا کا۔۔۔
اور میرا ماننا ہے کسی رشتے میں عزت اور اعتماد ہونا ضروری ہے۔۔۔رشتہ محبت نا ہو تب بھی بہت سکون اور خوشی سے نبھ جاتا ہے۔۔۔محبت ہونا کسی رشتے میں شرط نہیں۔۔۔
کہ جن کے ساتھ زندگی گزر بسر ہونی ہو۔۔۔ان سے محبت نہیں۔۔۔محبتیں ہو جاتی ہیں۔۔۔۔”
۔
نایاب نے اس بات مسکرا کر کیمرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ساتھ کھڑے شخص کو لاجواب کر کے۔۔
۔
۔
“دادی آپ کی دی ہوئی امانت کیسے بھول گئی میں۔۔؟؟ میں کل صبح ہی وہ دونوں رنگ انیسہ پھپھو کو دے دوں گی۔۔۔”
نایاب پیچھے مڑنے لگی تھی کہ زاران نے ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“نایاب التمش۔۔۔ان رنگ کو کسی کوبھی دینےکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ دادی کی آخری خواہش تھی جو انکے ساتھ چلی گئی یہ راز اب راز ہی رہنا چاہیے۔۔۔”
زاران وہاں سے چلا گیا تھا۔۔پر پیچھے اداس نایاب نہیں حیران نایاب اسے دیکھ رہی تھی
“زاران عابدی میرے دل کی بات کبھی نہیں سمجھ پائے پر میرے دماغ میں چل رہی کشمکش سمجھ آگئی آپ کو۔۔۔یہ خواہش دادی کے ساتھ چلی گئی۔۔۔اور یہ راز میرے ساتھ چلا جائے گا۔۔۔
آپ خوش رہیے۔۔۔میری نیک تمنائیں۔۔۔اور دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔۔۔۔”
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: