Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 6

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 6

–**–**–

۔
۔
“زاران سب باتوں کو مذاق اڑا لیں پر پسند اور محبت۔۔۔؟ ان کا مذاق نا بنائیں کیونکہ محبت محبت کا مذاق بنانے والوں کو مذاق بنا دیتی ہے دنیا کا۔۔۔
اور میرا ماننا ہے کسی رشتے میں عزت اور اعتماد ہونا ضروری ہے۔۔۔رشتہ محبت نا ہو تب بھی بہت سکون اور خوشی سے نبھ جاتا ہے۔۔۔محبت ہونا کسی رشتے میں شرط نہیں۔۔۔
کہ جن کے ساتھ زندگی گزر بسر ہونی ہو۔۔۔ان سے محبت نہیں۔۔۔محبتیں ہو جاتی ہیں۔۔۔”
۔
نایاب نے اس بات مسکرا کر کیمرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ساتھ کھڑے شخص کو لاجواب کر کے۔۔
۔
۔
“دادی آپ کی دی ہوئی امانت کیسے بھول گئی میں۔۔؟؟ میں کل صبح ہی وہ دونوں رنگ انیسہ پھپھو کو دے دوں گی۔۔۔”
نایاب پیچھے مڑنے لگی تھی کہ زاران نے ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“نایاب التمش۔۔۔ان رنگ کو کسی کوبھی دینےکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ دادی کی آخری خواہش تھی جو انکے ساتھ چلی گئی یہ راز اب راز ہی رہنا چاہیے۔۔۔”
زاران وہاں سے چلا گیا تھا۔۔پر پیچھے اداس نایاب نہیں حیران نایاب اسے دیکھ رہی تھی
“زاران عابدی میرے دل کی بات کبھی نہیں سمجھ پائے پر میرے دماغ میں چل رہی کشمکش سمجھ آگئی آپ کو۔۔۔یہ خواہش دادی کے ساتھ چلی گئی۔۔۔اور یہ راز میرے ساتھ چلا جائے گا۔۔۔
آپ خوش رہیے۔۔۔میری نیک تمنائیں۔۔۔اور دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔”
نعمان ایک کونے پر کھڑی اپنی سوچوں میں گم اس لڑکی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔
“نعمان اکیلے میں میں آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی آپ جانتے ہیں یہ سب مجھے پسند نہیں۔۔۔”
نایاب نے اپنی پسندیدگی کا اظہار سخت لہجے میں کیا تھا۔۔
“جانتا ہوں سنبل ساتھ ہوگی بس میں اس شورو غل سے ہٹ کر کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔۔”
نعمان نے قہقہ لگا کر بات شروع کی تھی۔۔۔
۔
۔
“دیکھ رہے ہیں آپ سب امی دیکھ لیں منگنی ہوئی ہیں اور آپ کی نایاب دیکھ لے تنہائی میں جا کر باتیں کرے گی۔۔؟؟”
سویرا نے موقع دیکھ کر بات شروع کی تھی زاران کی نظریں جو ابھی تک اسکے موبائل پر تھی سویرا کی بات پر ٹھیک اسی جگہ اسکی آنکھیں رکیں تھیں جیسے اسے پتا تھا وہ کہاں کھڑی ہوئی ہے۔۔۔جیسے اس کی نظریں موبائل پر نہیں نایاب پر تھیں۔۔۔
“سویرا بیٹا سوچ لیا کرو بات کرنے سے پہلے۔۔۔”
انہوں نے اپنی بیٹی کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا تھا۔۔
“سویرا ٹھیک کہہ رہی ہے چچی۔۔میں ابھی زرا آیا۔۔۔”
وہ موبائل اپنے کوٹ کی جیب میں ڈالے اسی سمت گیا تھا جہاں ابھی اس نے نایاب اور نعمان کو جاتے دیکھا تھا۔۔۔
دونوں شور سے دور باغیچے میں آگئے تھے۔۔۔
زاران غصے میں آگے بڑھا تھا نایاب کو اس طرح غیر محرم کے ساتھ تنہائی میں دیکھ کر اسے تعیش آئی تھی۔۔
پر اس کے وہاں جانے سے پہلے ایک لڑکی بھاگتے ہوئے اندر ہال سے باہر آئی تھی۔۔۔
“سووو سووو سوری دیر ہوگئی۔۔دراصل مجھے گلاب جامن نظر آگئے تھے آتے ہوئے۔۔”
“ہاہاہا سنبل بلکل نہیں بدلی۔۔۔”نایاب نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
۔
اور باتوں باتوں میں تینوں سامنے پڑی چئیرز پر بیٹھ گئے تھے اور زاران عابدی چھپ گیا تھا ایک پلر کے پیچھے۔۔۔
“کیا بات کرنی تھی نعمان۔۔۔؟؟”
“ہمم۔۔۔نایاب پہلے تو میں معافی مانگنا چاہتا ہوں اس طرح رشتہ بھیجا۔۔۔اور۔۔”
“اور۔۔؟؟”
“اور میں جانتا ہوں میں آپ کے قابل نہیں ہوں پر پھر بھی میں نے رشتہ بھیجا۔۔۔میں زاران بھائی کے وہ الزام برداشت نہیں کر پایا تھا۔۔
میں نے ابو کو جیسے ہی سارا معاملہ بتایا تھا انہوں نے یہ فیصلہ لیا تھا۔۔۔
اور آپ یقین کیجئے۔۔۔۔”
نعمان کی بہن بہت فخر اپنے بڑے بھائی کی باتیں سن رہی تھی اور سامنے بیٹھی نایاب سر جھکائے۔۔۔۔
“آپ یقین کیجئے ہمیں نہیں پتا تھا کہ ایسے ہمیں آپ کی فیملی سے عزت ملے گی۔۔۔اور سب نے رشتہ منظور بھی کرلیا۔۔۔۔
نایاب میں بہت خوش ہوں۔۔۔میں اپاہج ضرور ہوں پر میرے بازؤں میں اتنی طاقت ہے کہ ساری زندگی عزت کی روٹی کما کر کھلاؤں گا۔۔۔۔”
اور وہ سانس لیتے ہوئے چپ ہوۓ تھے۔۔۔۔
“نعمان قابلیت انسان اپنی روپے پیسے خوبصورتی یا اپنے وجود سے نہیں بناتا۔۔۔قابلیت انسان اپنے کردار۔۔۔آنکھوں میں شرم ضمیر کی خود داری سے بناتا ہے۔۔۔۔
آپ نے اس دن مجھے اس شخص سے بچا کر اپنی طاقت ظاہر کر دی تھی۔۔۔۔
اور جہاں تک رہی شادی کی بات میرے گھر والوں نے جو فیصلہ کیا مجھے منظور ہے ہنسی خوشی۔۔۔ انہوں نے اچھا سوچا ہے۔۔۔
اور ایک بات نعمان اپاہج ہونا کیا ہے۔۔۔؟؟ ہاتھ پاؤں کام نا کرنا۔۔۔؟؟؟”
دونوں بہن بھائی نایاب کی طرف متوجہ ہوئے تھے اس سوال پر۔۔۔
“ہمم اپاہج ہونے کا یہی مطلب ہے نایاب جو چل نا سکتا ہو۔۔۔جو سہاروں پر زندگی گزار رہا ہو۔۔۔جو مجھ جیسا ہو۔۔۔”
نعمان کی آواز اور لہجہ بتا رہا تھا نایاب کو کے وہ کس قرب سے گزر رہا ہے۔۔۔
۔
“نعمان اپاہج ہونا ہاتھ پاؤں کا کام کرنا نہیں ہے۔۔۔
اپاہج ہونا وہ سوچ ہے جو آپ کو کسی کے سامنے سر اٹھانے نہیں دیتی۔۔
اپاہج ہونا ہاتھ پاؤں کام کی ناکامی نہیں ہے۔۔۔۔
اپاہج ہونا خود کو احساس کمتری کا شکار بنا کر بزدل ہو کر اپنے آپ کی ناکامی ہے۔۔۔
اپاہج ہونا یہ نہیں کہ آپ چل نہیں سکتے آپ کسی کو اپنے سے نیچا سمجھ کر ٹھکرا دو یہ معذوری ہے۔۔۔
جسم کے اپاہج ہونے سے انسان مرتے نہیں ہیں۔۔۔پر سوچ اور ضمیر اپاہج ہوجائیں تو روحیں ضرور مر جاتی ہیں۔۔۔
مجھے اگر سیاہ رنگ کی کہہ کر ٹھکرا دیتے تو میری نظر میں آپ تب اپاہج ٹہرتے۔۔۔۔
مجھے ایسی اپنا رہیں جیسی میں ہوں تو آپ کیسے اپاہج ہوئے۔۔۔۔؟؟؟”
۔
زاران کے ہاتھ اس پلر سے نیچے گر گئے تھے نایاب التمش کی باتیں اسے اپاہج کر گئیں تھیں۔۔۔
اور وہ منہ پھیر کر چل دیا تھا وہاں سے۔۔۔۔
۔
۔
وہ رات بہت خوبصورتی کے ساتھ گزری تھی نایاب کے لیے اور آنے والے اگلے دن بھی۔۔۔
اسے ان سب میں اپنی وہ سکالرشپ بھول گئی تھی جس کے لیے اس نے پچھلے سال اپلائی کیا تھا۔۔۔
اور جس لیٹر کے لیے وہ پچھلے مہینوں سے انتظار کر رہی تھی وہ آج یونیورسٹی انتظامیہ کو مل گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“التمش میرا رنگ سیا ہ ہونا میری غلطی نہیں ہےکیوں اس طرح سے ذلیل کرتے ہیں آپ کیا کروں میں مجھے بتائیں آپ۔۔۔؟؟
یہ سب اللہ کے رنگ ہیں انسان کا رنگ جیسا بھی ہےاللہ پاک کے بندے ہم سب ہم شکر نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔۔؟ میں کیسے گلہ کروں اپنے رنگ کو لیکر جب کہ میں خود خوش ہوں۔۔۔”
وہ بیٹھ گئیں تھیں شوہر کے پاس بہت ڈرتے ہوئے۔۔۔
“دلکش تمہاری غلطی یہ تھی تم میری زندگی میں آئی۔۔۔ مجھ سے شادی ہوئی تمہاری۔۔۔
اور یاسمین کو دور کردیاتم نے مجھ سے۔۔وہ میرا پیار تھی تم نہیں۔۔۔تم نے کبھی خود کو دیکھا ہے شیشے میں۔۔؟
تم نے اس پارٹی میں آکر مجھے مذاق بنا دیا میرے دوستوں میں۔۔
اور یہ پنک ڈریس۔۔؟؟ کہاں گئی تمہاری وہ فیشن ڈئیزائننگ کی ڈگری۔۔؟ اس سیاہ رنگ میں کون ایسے شوخ رنگ پہنتا ہے۔۔۔؟”
وہ اور زور سے چلائے تھے۔۔۔دلکش سہم کر پیچھے ہوئی تھی۔۔
“مجھے یہ رنگ۔۔۔”
“بکواس بند دلکش۔۔۔ایک اور لفظ نہیں۔۔مجھے یہ رنگ پسند ہے مجھےہے میں اپنی پسند کو کیسے نا پہنتی۔۔۔وہی باتیں تمہاری۔۔۔”
اپنے گھٹنے پر رکھے ہاتھ کو پیچھے کر کے التمش وہاں سے اٹھ گئے تھے۔۔۔
“التمش شوہر کی محبت پانے کے لیے بیوی اپنےماں باپ اپنی زندگی بھول جاتی ہے سب رشتے چھوڑ دیتی ہے تو میں اپنی پسند کیوں نہیں بھول سکتی۔۔۔؟؟”
اس بات پر التمش صاحب کے خوبصورت چہرے پر جب دلکش نے اپنے وہ سیاہ ہاتھ رکھیں تھے تو انکی آنکھیں اشکبار ہوکر چھلکیں تھیں۔۔۔
“التمش۔۔۔یہ رنگ روپ کا فرق نا ہو تو انسان کتنا خوش رہے نا۔۔؟ کاش اس دنیا میں لوگ فرق نا رکھتے رنگوں میں تو آج میں کتنا خوش ہوتی نا آپ کے ساتھ۔۔۔ہر روز ہماری لڑائی کیوں ہوتی ہے ۔۔؟؟ میرے اس رنگ پر نا۔۔؟
التمش کیسے ٹھیک کروں۔۔؟؟ کیسے قابل بناؤں۔۔؟؟ یہ رنگ جیسا ہے ویسا رہے گا یہ بدلا نہیں جا سکتا۔۔۔اور اسے بدلنے کی خواہش میں اگر میں نے ناشکری کر دی تو کیا میرا رب ناراض نہیں ہوگا۔۔؟؟
مجھے اب تک اپنے رنگ کو لیکر اللہ سے گلہ نہیں رہا۔۔۔پر جب سے آپ نے کہنا شروع کیا ہے۔۔۔جب سے یہ محسوس کرنے لگی ہوں کہ میں اپنے شوہر کو خوش نہیں رکھ پا رہی۔۔
مجھے اب گلہ ہوتا ہے۔۔۔پر التمش۔۔۔
جب جب میں جائے-نماز پر دعا میں گلہ کرنے لگتی ہوں میری نظر آپ کی اور میری اس شادی کی تصویر پر پڑ جاتی ہے۔۔۔”
دونوں میاں بیوی کی نظڑیں سامنے لگی تصویر پر گئیں تھیں۔۔۔
“میں اللہ سے گلہ کرنا چاہتی ہوں کہ میں ایسی کیوں ہوں۔۔؟؟
میرے اندر سے آواز آتی ہے۔۔۔میں جیسی بھی ہوں اللہ نے مجھے آپ جیسا خوبصورت حسین و جمیل شریک حیات سے نوازا ہے۔۔۔ التمش میرے گلے دم توڑ جاتے ہیں زبان پر آتے آتے۔۔۔
ہم انسان اپنی کمیوں کو روتے رہتے ہیں اللہ ہمیں جو اتنی نعمتوں سے نواز دیتا ہے ہم کیوں شکر نہیں کرتے۔۔۔؟؟
بس تھوڑی سی جگہ التمش۔۔۔ میرے رنگ کو نہیں میرے جذبات کو دیکھئیے۔۔
میری صورت نا سہی۔۔۔میری سیرت دیکھیں۔۔۔
مجھے دنیا جیسے دیکھتی ہے۔۔مجھے لوگ کالی کہہ دیں سیاہ رنگ کہہ دیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔
مجھے دنیا مل جائے گی اگر آج آپ مجھے ویسے اپنا لیں گے جیسی میں ہوں۔۔؟؟
میں آپ سے محروم نہیں ہونا چاہتی”
وہ ایک رنگ کی سیاہ لڑکی۔۔۔ وہ اسکی دل دہلا دینے والی محبت اللہ سے اپنے خدا سے۔۔۔
اور اپنے مجازی خدا سے۔۔۔
کسی کو بھی پاگل کر سکتی تھی۔۔۔پر التمش اپنے ساتھ اپنی بیوی کے لیے ایک آخری تحفہ لے کر آئے تھے جو انہوں نے سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر تھما دیا تھا اپنی بیوی کے ہاتھ میں جو لفظوں کا جواب چاہتی تھیں۔۔۔
“التمش یہ۔۔۔”
“طلاق کے کاغذات۔۔۔ میں تم سے نکاح میں رہ کر تمہاری بہن سے شادی نہیں کر سکتا۔۔”
“التمش خدا کے لیے ایسا قیامت نا گرائیں مجھ پر۔۔جو نعمت اللہ نے مجھے دی ہے اسے نا چھینے۔۔
امی ابو نہیں مانیں گے۔۔۔وہ ایک بیٹی کا گھر اجڑتا دیکھ دوسری بیٹی کی شادی کیسے آپ سے کریں گے۔۔؟؟ مجھے کامل رہنے دیں آپ۔۔۔”
“خالہ خالو مان گئے ہیں۔۔وہ راضی ہوگئے ہیں۔۔۔دلکش۔۔۔ میں امی کی حیات تک تمہیں برداشت کر سکتا تھا۔۔۔اب نہیں۔۔۔”
انکے قدموں پر گر گئیں تھیں وہ اپنا سر رکھ دیا تھاانہیں سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کریں ہر وقت مشکل میں وہ جائے نماز بچھا لیتی تھیں آج کیا کرتے وہ۔۔۔
“مجھے ایسا لگتا تھا کہ کبھی ایسا کچھ لمحہ آئے گا تو زندگی میں بس ایک دفعہ امی ابو میرا سوچیں گے۔۔۔پر میری خوبصورت محبت بہن کے سامنے انہوں نے مجھے نظر انداز کردیا پھر سے۔۔
پر آپ ایسا نا کریں آپ میرے شریک حیات ہیں التمش۔۔۔ساری دنیا سے جو امیدیں نہیں ہوتی نا بیوی اپنے شوہر سے وہ امیدیں لگا لیتی ہے۔۔”
“دلکش مجھے پر اب کوئی اثر نہیں ہوگا پچھلے تین سالوں سے رکا ہوا تھا میں۔۔اب اور نہیں۔۔”
“اور نایاب التمش۔۔؟؟ ہماری بیٹی۔۔۔؟؟”
“وہ تم اپنے ساتھ رکھ سکتی ہو۔۔۔تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔۔۔تم اسے بھی اپنے ساتھ رکھ سکتی ہو۔۔۔”
“کیوں اپنے ساتھ رکھوں آپ باپ ہیں اسکے۔۔۔ یا پھر اسکے رنگ کی وجہ سے اسے بھی میرے ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔۔۔؟؟”
وہ چپ ہوگئے تھے۔۔اور جواب مل گیا تھا دلکش کو۔۔۔ وہ اٹھ گئیں تھیں التمش کے قدموں سے۔۔۔جب اذان ظہر کی آواز سنائی دی تھی انہیں۔۔۔
“التمشوہ نعمتیں نہیں ٹھکرانی چاہیے جن کو پانے میں محنت نا کی گئی ہو۔۔۔ کیونکہ پھر محنت پر بھی اللہ کی وہ نعمتیں نہیں ملتی جنہیں انسان ناشکری میں ٹھکرا دیتا ہے۔۔۔
۔
وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔بنا پیچھے دیکھے۔۔۔
۔
۔
“سر آپ کے ایکسیڈنٹ کے بعد آپ کبھی باپ نہیں بن سکتے ایم سوری۔۔
لیکن آپ دعا کرتے رہیں اللہ آپ کو اولاد کی نعمت سے نواز دے ایسے بہت سے کیسز میں ہوا ہے۔۔۔”
۔
۔
اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ
۔
التمش صاحب اس ماضی سے باہر آگئے تھے۔۔اور اپنے گود میں پڑے اس فوٹو فریم کو دیکھ رہے تھے انکی پہلی شادی کی وہ تصویر دلکش کے ساتھ وہ تصویر جو دلکش کے جانے کے بعد پہلی دفعہ غور سے دیکھی تھی اور انہوں نے۔۔۔
اور انکی نظریں باہرگئیں تھیں اپنی بیٹی پر جو باقی سب کزنز سے الگ تھلگ بیٹھی ہوئی تھی اپنے اس خوبصورت تالاب کے پاس اپنی پانی والی نایاب کے پاس۔۔۔
۔
روتے ہوئے بھی انکی آنکھیں ہنس دی تھیں۔۔۔وہ مُسکرا دئیے تھے۔۔۔
۔
پر انہیں اپنی پہلی بیوی کی کہی ہر بات سمجھ آگئی تھی۔۔۔
انہوں نے اپنی نیک پارسا بیوی کو کھو دیا تھا دنیا کی خوبصورتی کے پیچھے۔۔۔
اولاد کو ٹھکرا کر انہیں پھر اولاد کی نعمت نہیں ملی تھی۔۔
اور وہ یہ بھی جانتے تھے وہ انکے کئیے کی سزا آج انکی چاند سی بیٹی کو مل رہی تھی۔۔
کل وہ جو باتیں کسی اور کی بیٹی کو کرتے تھے۔۔۔
آج انکی اپنی بیٹی کو وہی باتیں دنیا کر رہی تھی۔۔۔
وہ سمجھ گئے تھے انکے گناہوں کی سزا انہیں مل رہی تھی۔۔۔
۔
تیز ہوا کے جھونکے سے انکی آنکھ میں کچھ چلا گیا اور اسی کشمکش میں ہاتھ سے وہ فریم گر کر چکنا چور ہوگیا تھا۔۔اور وہ تصویرپکڑنے کی کوشش میں نیچے جھکے تھے۔۔ہاتھ ہلانے کی بہت کوشش کی تھی انہوں نے اس تصویرتک پہنچنے کی۔۔ پر انکی ہمت جواب دے گئی تھی۔۔
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر انکی آنکھوں میں ایک خوف سا آگیا تھا۔۔۔
اور جس انسان کا سوچ کر انہیں خوف آیا تھا وہی انسان سامنے کھڑا تھا۔۔۔
“التمش پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے اسکا۔۔؟ ویسے آپ کو سہارا چاہیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے پر اپنی محبت کے لیے ایسے اپنے وجود کو تکلیف دے رہے ہیں۔۔
یہ چاہیے۔۔؟؟”
یاسمین بیگم نے تصویر اٹھا کر آنکھوں کے سامنے کی تھی۔۔۔اور التمش صاحب نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں اٹھاے کی ناکام کوشش کی تھی
“اسے تمہارے پاس رہنے کا کوئی حق نہیں ہے التمش۔۔۔ اور کتنی تصاویر چھپا کر رکھی ہوئی ہیں۔۔؟ ایسا ہی حال کروں گی ہر تصویر کا آپ دیکھ لینا۔۔۔”
یاسمین بیگم نے آنکھوں کے سامنے اس تصویر کے ٹکڑے کر دئیے تھے۔۔
اور چلی گئیں تھیں اپنے شوہر کو ایک نظر دیکھے بغیر۔۔
“دل۔۔۔دل۔۔کش۔۔۔”
نیچے فرش پر پڑی تصویر کے ٹکڑوں میں وہ چہرہ انہیں پھر سے مجبور کر رہا تھا جیسے انہیں ہمت مل رہی تھی۔۔وہ پھر سے جھکے تھے۔۔۔پر ویل چئیر سے نیچے گر گئے تھے۔۔
انکا منہ فرش پر لگتا کہ انہیں کسی نے سہارا دے دیا تھا پوری طرح نیچے گرنے سےبچا لیا تھا۔۔۔
“بھائی۔۔۔”
انیسہ نے انہیں سہارا دے کر واپس ویل چئیر پر بٹھا دیا تھا۔۔۔پر انکی آنکھوں میں بے چینی
انگلیوں میں ہوتی حرکت نے انیسہ کی نظریں اس تصویر کے ٹکڑوں پر ڈال دی تھی۔۔
“اووہ۔۔۔یاسمین بھابھی نے ایک اور تصویر پھاڑ دی۔۔۔کوئی بات نہیں میرے پاس اور ہیں۔”
قہقہ لگایا تھا انیسہ نےاور انہوں نے وہ تصویر کے ٹکڑے اٹھا کر بھائی کو دئیے تھے جنہوں نے مٹھی میں بند کر لئیے تھے اور کرسی کی پشت کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی تھی۔۔۔
آنکھوں سے دریا بہہ رہا تھا سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی چھوٹی بہن نے بھائی کی بند مٹھی پر اپنے ہاتھ رکھ لیے تھے۔۔۔
“دلکش بھابھی کی یاد آرہی ہے۔۔۔؟؟”
آواز انکی بھی بھاری ہوئی تھی بھائی کی اشکبار آنکھیں دیکھ کر۔۔۔
“امی ابو کے فیصلے کتنے سوچے سمجھے تھے ہیرے چُنے تھے انہوں نے۔۔۔
ابو نے آپ کے لیے دلکش بھابھی۔۔اور امی نے زاران کے لیے نایاب کو منتخب کیا تھا۔۔”
التمش نے پھر سے اپنا ہاتھ ہلایا تھا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتے تھے۔۔۔
“نایاب بھی دلکش بھابھی کی طرح ہیرا ثابت ہوئی۔۔۔اور۔۔ زاران نے قدر نا پائی ہماری طرح۔۔ایسا لگتا ہے جیسے ایک سرکل سا گھما دیا ہے قدرت نے۔۔وہی کہانی دہرائی جا رہی۔۔
پر اس بار مجھے احساس ہورہا ہے دلکش بھابھی کی تکلیف کا۔۔۔
پر ایک بات کا فرق ہے بھائی۔۔۔ دلکش بھابھی جھک گئیں تھیں کمزور پڑ گئیں تھیں
پر نایاب۔۔۔نایاب تو باپ رے۔۔۔ فاخرہ کو پتا ہے کیسے دو ٹوک جواب دیتی ہے۔۔؟؟”
دونوں بہن بھائی بھری آنکھوں سے باہر کی طرف دیکھا تھا جہاں نایاب ابھی بھی ویسے ہی بیٹھی تھی۔۔۔
۔
التمش صاحب کی آنکھوں میں قرب کا طوفان تھا جو باہر آنا چاہتا تھا انکو بہت کچھ کہنا تھا انی سابقہ بیوی سے۔۔۔
اپنی بیٹی سے۔۔۔جسے وہ یہاں اس گھر میں پچھلے چار سال سے ذلیل ہوتا دیکھ رہے تھے۔۔۔پر کچھ کر نہیں پا رہے تھے وہ۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران بھائی یہ چیٹنگ ہے میں آؤٹ نہیں ہوا تھا۔۔۔”
“اچھا بیٹا ایمپائر سے پوچھ لیتے ہیں۔۔”
زاران نے قہقہ لگاتے ہوئے سویرا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“سنی بیٹا آپ آؤٹ ہوگئے ہیں۔۔۔”
سب میں پھر سے بحث شروع ہوگئی تھی اور نایاب نے اِری ٹیٹ ہوکر نایاب کو اپنی گود میں بٹھا لیا تھا اور اور کومب سے پانی والی نایاب کے سر پر اور پھیر رہی تھی اور پاس ایک چھوٹا سا ٹاول اور صابن بھی رکھا ہوا تھا اس نے۔۔۔
“جیسے خود ہیں ویسی ہی ایمپائر ہے۔۔۔جھوٹے کہیں کے میں نے خود دیکھا چیٹنگ کی ۔۔۔”
نایاب نے خود سے کہنا شروع کرد یا تھا کہ ایک دم سے تالاب میں کچھ گرا تھا اور سارے پانی کی چھینٹے نایاب کے منہ پر گری تھیں۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
دور کھڑے سب کزنز بھاگتے ہوئے آئے تھے
نایاب کے بھیگے کپڑے اور چہرہ دیکھ کر سب کے قہقوں نے ہنسی مذاق میں بدل دیا تھا کھیل کے ماحول کو۔۔۔
“نایاب آپی زاران بھائی نے یہ شاٹ مارا تھا۔۔۔”
سنی نے نایاب کے چہرے پر غصے کو دیکھ کر تھا۔۔اور زاران بھی بیٹ پکڑے آگیا تھا وہاں۔۔
“نایاب اب ایسے بھی نا دیکھو زاران کو عادت ہے ایسے شاٹ مارنے کی کرکٹ میں اب تمہارے پاس آکر گر گئی تو ایسے نظروں سے گھائل کرو گی ہمیں۔۔۔؟؟”
سحر باجی کی بات پر سب اور ہنسے تھے۔۔۔نایاب نے اپنی نایاب کو پانی میں چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“زاران شاٹ بھی مارتے ہیں ۔۔؟؟ پچھلے دو گھنٹےسے تو چیٹنگ کر رہے ہیں۔۔”
نایاب کی بات پر زاران اور اسکی ٹیم کے منہ کھلے رہ گئے تھے اور دوسری ٹیم نے ڈانس کرنا شروع کردیا تھا جس میں سب ہی بوائز تھے۔۔۔۔
“نایاب آپی۔۔ شکر ہے کسی گرل نے تو سچ بولا۔۔۔”
سنی نے زاران کو آنکھیں دیکھائی تھیں۔۔۔
“سیریسلی ۔۔؟ کیا چیٹنگ کی میں نے۔۔؟؟”
زاران آگے بڑھا تھا۔۔۔
“کیا چیٹنگ نہیں کی۔۔؟؟ سب سے بڑی چیٹنگ تو سویرا باجی ہے پوری گیم میں نو بال پر بھی آؤٹ کر رہی ہیں۔۔۔”
“نایاب یووو۔۔۔۔”
سویرا غصے سے آگے آئی تھی۔۔۔
“نایاب آپی آپ ہماری ٹیم میں پلیز۔۔۔”
سنی، زید،عاقب،عمر سب چھوٹے کزنز نے نایاب سے درخواست کی تھی
“یہ کھیلے گی کرکٹ۔۔؟؟ یہ اپنی بیٹی کی کنگھی نہلانا دھلانا تو کر دیں پہلے۔۔۔”
زاران نے پیچھے تالاب میں گھومتی ہوئی بطخ کو دیکھ کر طعنہ دیا تھا۔۔۔ اور اس بار زاران کی ٹیم نے قہقے لگائے تھے۔۔۔
“کیوں زاران عابدی مجھ سے ہارنے میں ڈر لگا رہا۔۔۔؟؟”
نایاب اپنے چہرے کو پانی سے صاف کیا تھا۔۔۔ زاران عابدی کا سانس اٹک گیا تھا اس کھلتی دھوپ میں کھڑی بھیگی ہوئی اس لڑکی کو دیکھ کر ۔۔۔
“واااااوووو جسٹ واااوووو نایاب باجی۔۔۔۔”
عاقب نے بال نایاب کے ہاتھ میں دی تھی۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟ نایاب التمش تم میں اتنے گٹس ہیں۔۔؟؟ مجھے ہراؤ گی تم۔۔؟؟”
“کیوں کوئی شک ہے میرے گٹس پر زاران عابدی۔۔؟؟ لٹس پلے۔۔۔”
۔
اور پھر دونوں ٹیم میں میچ پھر سے شروع ہوا تھا۔۔۔
“زاران چھکا مارنا ہے پلیز ہمیں جیتنا ہے۔۔۔”
“نایاب باجی زاران عابدی کو ہرانا ہے لازمی۔۔۔”
اور آخری بال نایاب نے کروائی تھی۔۔۔پر اس نے ایک ٹریک کھیلی تھی۔۔
پہلی بار میں بال زاران کی طرف نہیں پھینکی اور دوسری بار جب زاران ریڈی نہیں تھا اس نے بال کرا دی۔۔۔
اور زاران عابدی کی وکٹ اڑھ گئی۔۔۔۔
“نایاب باجی۔۔۔۔ہم جیت گئے۔۔۔”
“چیٹنگ کی ہے تمہاری نایاب باجی نے”
زاران بیٹ پھینک کر ان لوگوں کی طرف آیا تھا۔۔۔
“اچھازاران جی۔۔؟؟ اب ہار گئے ہو تو ایسے ہی کرو گے نا۔۔؟ لوزر۔۔۔”
نایاب سویرا اور باقی کزنز کو بہت اونچی آواز میں کہہ کر وہاں سے اندر چلی گئی تھی باقی ٹیم کے ساتھ ہنستے ہوئے۔۔۔
“زاران۔۔۔تمہارا دھیان کہاں تھا ہار گئے نا ہم۔۔۔”
سویرا پاؤں پٹک کر سحر کے ساتھ اندر چلی گئی تھی۔۔۔
زاران عابدی وہیں کھڑا رہ گیا تھا اور اپنے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ اس تالاب کی طرف بڑھا تھا کی ایک پانی کی بالٹی اوپر سے کسی نے اس پر پھینکی تھی۔۔
وہ پوری طرح گیلا ہو گیا تھا۔۔۔
“وٹ داہیل۔۔۔”
“زاران عابدی۔۔ ۔ دوبارہ شاٹ مارنے سے پہلے دیکھ لیجئے گا ۔۔۔۔”
اور نایاب پانی کی خالی بالٹی بالکونی سے اٹھا کر اندر لے گئی تھی۔۔۔
“جھلی کہیں کی۔۔۔پہلے چیٹنگ کی اب بدلہ بھی لیا۔۔۔زیادہ پر نہیں نکل رہے نایاب میڈم کے منگنی کے بعد۔۔؟؟”
“زاران بھیا۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔”
وہ جو کزنز اندر جا چکے تھے ہاتھ میں موبائل پکڑے زاران کی ویڈیو بنا چکے تھے۔۔۔
“سنی۔۔۔ویڈیو ڈیلٹ کرو ابھی۔۔۔”
زاران نے غصے سے کہا تھا جس پر سنی ڈر گیا تھا۔۔۔اور جلدی سے موبائل بند کر کے اندر بھاگ گیا تھا۔۔۔
“سب ڈرتے ہیں زاران عابدی سے۔۔۔اور اس کو دیکھو۔۔اچھا امیج بگاڑ رہی ہے میرا۔۔۔”
زاران چہرہ صاف کر کے اندر چلا گیا تھا ۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نعمان بیٹا۔۔۔ ایم سوو سوری اس یونیورسٹی میں تمہیں سکالر شپ نہیں مل سکی۔۔۔۔”
نعمان کے چہرے پر مسکان تھی وہ اداس نہیں تھا زرا بھی اب اسے سکون تھا وہ چاہتا تھا وہ جلد سے جلد شادی کر لے نایاب سے۔۔۔۔
“پر ایک خوشخبری ہے تمہارے لیے۔۔۔۔”
پرنسپل صاحب نے ایک براؤن اینولپ آگے کیا تھا۔۔۔۔
“کیسی خوشخبری سر۔۔۔اور یہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟”
“اسے کھول کر پڑھو۔۔۔ اس یونیورسٹی میں نہیں پر ترکی کی بیسٹ یونیورسٹی میں سکالرشپ کی ایکسیپٹ ہوگئی ہے۔۔۔اور یہی نہیں۔۔۔۔
تمہارے ساتھ اس یونیورسٹی کے وہ سٹوڈنٹس جو معذور ہیں وہاں انکا علاج معالجے کے آخر بھی یونیورسٹی انتظامیہ اٹھاۓ گی۔۔۔۔”
پرنسپل جتنا خوش تھے نعمان اتنا ہی نڈھال ہوگیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا نعمان تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔۔۔اتنے اداس کیوں ہوگئے۔۔۔؟؟”
“ایم سوری سر۔۔۔میں یہ ایکسیپٹ نہیں کر سکتا۔۔۔میری ابھی منگنی ہوئی ہے۔۔۔میں ابھی اپنا سوچ کر اسے ایسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔”
نعمان اپنی بیساکھیوں جے سہارے اٹھ گیا تھا۔۔۔۔
“نعمان۔۔تمہاری تین بہنیں بھی ہیں۔۔۔انکے بارے میں سوچو۔۔۔تم اس سکالرشپ کے بعد اپنا ہر خواب پورا کر سکتے ہو۔۔۔اپنی منگیتر کو سمجھا سکتے ہو تم آخر تمہارا مستقبل ہے یہ۔۔۔۔”
نعمان نے پھر نا میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
“ایم سوری سر۔۔۔۔”
“میں نہیں تمہاری سوری مانتا۔۔۔تم پکڑو اسے اور گھر جا کر سوچ سمجھ کر جواب دینا مجھے۔۔۔۔”
پرنسپل صاحب وہ لیٹر دے کر اپنے آفس سے باہر آگئے تھے اور اپنا فون نکالا تھا جیب سے۔۔۔۔
“زاران صاحب آپ کا کام ہوگیا ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے وہ مان جاۓ گا۔۔۔
آپ نے جو نیک کام آج ان سٹوڈنٹس کے لیے کیا ہے اللہ آپ کو اسکا آجر عظیم دے۔۔۔ہمیں خوشی ہوگی اگر فائنلز پر آپ چیف آف گیسٹ بن کر تشریف لائیں گے۔۔۔۔”
۔
۔
اور کچھ دیر ہنستے ہوئے انہوں نے فون بند کردیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سوو بلیک بیوٹی فائننلی کامیاب ہوگئی سکالرشپ لینے میں۔۔۔؟؟؟”
کچھ گرلز نے نایاب کا راستہ روک لیا تھا۔۔۔۔
“آپ باز کیوں نہیں آتی ہانیہ۔۔؟ مس نایاب کو تنگ کرنا بند کیجیئے۔۔۔”
نایاب کے ساتھ کھڑی سٹوڈنٹ نے سامنے کھڑی لڑکی کو نڈر ہوکر کہا۔۔۔۔
“تم سے بات نہیں کر رہی میں بچی جاؤ اپنی کلاس میں۔۔۔”
“ہانیہ آپ اپنی لمٹس کراس کر رہی۔۔۔۔”
“اِٹس اوکے مریم آپ جائیں میں کر لوں گی ہینڈل یہ مس ورلڈ کو۔۔۔”
ہانیہ نے قہقہہ لگایا اور کلاس کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“خوش تو بہت ہورہی ہوگی نا بلیک بیوٹی تمہاری تو لاٹری لگ گئی آکسفورڈ سے لیٹر ریسیو ہوگیا فائننلی۔۔۔۔۔ہماری یونیورسٹی تمہارے اندھیرے سے صاف ہوجائے گی۔۔۔”
وہ نایاب کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ ایک ہجوم لگ گیا تھا جو ہمیشہ لگ جاتا تھا اکثر گرلز کی نوک جھونک پر۔۔۔۔
“مجھے اپنے جانے کی اتنی خوشی نہیں ہورہی جتنا تمہیں وہ لیٹر نا ملنے کا دکھ ہورہا ہے۔۔۔کیونکہ اس یونیورسٹی کو۔میرے اندھیروں سے نہیں تمہارے رنگ کی چمک سے حفاظت چاہیے جو دیمک کی طرح پھیل رہی ہے سب کے دماغوں میں۔۔۔۔”
نایاب کی بات پر بہت سی سٹوڈنٹس گھبرا گئیں تھیں ہانیہ کے ری ایکشن سے۔۔۔وہ مشہور تھی ریگننگ کرنے میں۔۔۔وہ کوئین تھی یونیورسٹی کی۔۔۔
“نایاب التمش۔۔۔۔بہت غرور ہے تمہیں خود پر پٹک پٹک جواب ہیں۔۔۔ کس بات کا غرور۔۔؟ ہے کیا تمہارے پاس۔۔۔لڑکی جھکنا سیکھو جہاں جا رہی ہو وہاں تمہیں اس سے زیادہ سننے کو ملے گا تمہارا یہ رنگ روپ تمہیں عزت نہیں دلا سکتا۔۔۔۔”
نایاب کی پیشانی پر وہ غصے کی لکیریں واضح ہونا شروع ہوگئی تھی ہانیہ کی باتیں سے۔۔۔۔
“میرے پاس یہ ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے آکسفورڈ کا لیٹر۔۔۔۔
تم نے کہا غرور۔۔۔؟ مجھے غرور نہیں ہے مجھے سکون ہے اپنے رنگ روپ پر اور رنگ روپ کی وجہ سے جو عزت کماتے ہیں انکی عزتیں ڈھل بھی جاتی ہیں رنگ روپ ڈھل جانے کے بعد۔۔۔۔
میں صرف اتنا جانتی ہوں جس طرح ابھی میں تمہارے سر سر اٹھا کر کھڑی ہوں اسی طرح وہاں بھی کھڑی رہوں گی۔۔۔
بات جھکنے کی نہیں ہے۔۔۔بات اپنے حق کے لیے بولنے کی ہے۔۔۔جو میں بولتی رہوں گی۔۔۔عزت ذلت دینے والی زات اللہ پاک کی ہے۔۔۔ دیکھو نا آج جو تمہارے رنگ روپ پیسا ہونے کے باوجود تمہیں نہیں ملا۔۔۔وہ میرے پاس ہے۔۔۔ بنا رنگ روپ کے۔۔۔۔”
۔
وہ دو قدم آگے بڑھی تھی کہ تالیوں کی آواز اسکے کانوں تک پہنچی تھی۔۔۔
۔
“لوگوں کو سوچ بدلنے کے لیے بھی لوگ چاہیے۔۔۔ہم جب اپنے حق پر اٹل ہوجائیں تو سوچ بدل ہی لیں گے لوگ۔۔۔
مظبوط ارادوں کے لیے پہلے انسان کا مظبوط ہونا ضروری ہے۔۔۔
ایسے لوگ خود کمزور پڑ جائیں گے جو دوسروں کو نیچا دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ کیا بکواس کر رہی ہو منگنی توڑنے ہے تمہیں۔۔۔؟ کوئی مذاق چل رہا ہے یہ۔۔۔؟؟؟”
یاسمین بیگم نے زور سے بازو پکڑا تھا نایاب کا۔۔۔۔
“بھابھی میں بات کرتی ہوں آپ اسے ایسے نا بات کیجیئے پلیز بھابھی بچے آواز سن کر یہیں آجائیں گے۔۔۔۔”
سب التمش صاحب اور یاسمین بیگم کے بیڈروم میں اکھٹے ہوئے تھے جب نایاب نے منگنی توڑنے کی بات کی تھی۔۔۔
“نایاب بیٹا کیا تمہاری سکالرشپ کی وجہ سے تم منگنی توڑنا چاہتی ہو۔۔؟؟”
راحیل صاحب نے بہت آہستہ آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
“چاچو آپ کو لگتا ہے میں ایسے کروں گی صرف باہر کی ڈگری کے لیے۔۔۔؟؟
میرے لیے رشتے میری زندگی ہیں یہ ڈگریاں نہیں۔۔۔”
نایاب کی بات پر سب ہی مطمئن ہوگئے تھے سوائے چچی کے۔۔۔
“نایاب پھر کیا مسئلہ ہے۔۔؟ اب یہ مت کہنا کہ اسکی معذوری تم نظر آگئی ہے اور تم کوئی پرفیکٹ رشتہ ڈھونڈنا چاہتی ہو۔۔۔”
یاسمین بیگم کی بات نے سب کو حیران کر دیا تھا۔۔۔
“امی کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے آپ میری والدہ نہیں ہیں آپ مجھے کیوں سوتیلی اولاد جیسے ۔۔۔۔”
نایاب کے چہرے پر ایک طمانچہ رسید کیا تھا یاسمین بیگم نے۔۔۔۔
وہ لوگ اپنی جگہ سے ہل نہیں پاۓ تھے نایاب کی کہی بات سے خاص کر التمش صاحب۔۔۔۔پر اپنی جوان بیٹی کو سب کے سامنے تھپڑ پڑتے دیکھ انہیں نے ویل چئیر کو مظبوطی سے جکڑ لیا تھا۔۔۔۔اپنی بیوی کو غصے کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے وہ۔۔۔۔
“یا اللہ بھابھی۔۔۔۔”
انیسہ نے یاسمین کو پیچھے کر کے نایاب کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا آج پہلی بار سب نے نایاب کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔۔۔
“انیسہ دیکھا کیا کہا اس نے اگر نہیں رکھا بیٹیوں کی طرح اسے تو آج اسے اتنی عزت اور محبت نا دیتی میں۔۔۔سوتیلی اولاد کی طرح کیسے رکھتے ہیں بچوں کو اسے پتا بھی ہے۔۔۔؟؟ اسکی شادی نعمان سے ہی ہوگی اب میں اسے سوتیلی ماں کی طرح بن کر دیکھاتی ہوں۔۔۔”
یاسمین بیگم کی آنکھیں بھی غصے سے بھری ہوئی تھیں۔۔۔
“نایاب۔۔۔۔”
“پھو پھو۔۔۔نعمان کو سکالرشپ ملا ہے اور وہ یونیورسٹی نعمان کا علاج بھی آفورڈ کرے گی۔۔۔اسے وہاں جاب بھی دی جاۓ گی۔۔۔اور ایسے میں میں کیسے یہ موقع چھین سکتی ہوں اس سے۔۔۔؟؟؟”
نایاب نے اپنا منہ صاف کر کے پھیر لیا تھا۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی ایسے کمزور دیکھے اسے۔۔۔۔”
“بس اتنی سی بات ہے نایاب۔۔۔؟؟ ہم نکاح کر دیتے ہیں۔۔۔یا نعمان کے آنے کے بعد کر لیں گے کیوں انیسہ۔۔۔۔؟؟”
چچی نے پرجوش ہو کر کہا تھا۔۔۔۔۔
“سیریسلی چچی۔۔۔؟؟ زاران کی دفعہ بھی ایسا ہی ہوا تھا نا۔۔؟ باہر جانے والے لوگ جب واپس آتے ہیں وہ لوگ نہیں انسان نہیں رہتے ہماری طرح وہ لوگ بہت اونچائی پر پہنچ جاتے ہیں اور آپ کے سامنے ہے زاران عابدی۔۔۔
میں اور چار سال انتظار کروں گی۔۔۔؟ اور پھر۔۔۔؟ یا تو نعمان کے لیے میرا بوجھ ذمہ داری ہوگا یا مصیبت۔۔۔جو مجھے منظور نہیں۔۔۔۔
نعمان کبھی بھی انکار نہیں کرے گا میں اتنا جانتی ہوں۔۔۔انیسہ پھپھو پلیز۔۔۔۔اسکا مستقبل اسکی فیملی کا مستقبل بن جائے گا۔۔۔۔”
سب ہی خاموش ہوگئے تھے۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی چچی کی نظروں میں بہت عزت بڑھ گئی تھی نایاب کے لیے۔۔۔۔
“ہمم ہم دیکھتے ہیں بیٹا سوچ کر بتاتے ہیں۔۔۔۔”
آفاق عابدی نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا تھا نایاب دو قدم آگے بڑھی اور اپنے ابو کی ویل چئیر کے پاس جا بیٹھی تھی۔۔۔۔
“ابو۔۔۔میں آپ کی با حیا مشرقی بیٹی۔۔۔آج میں نے جو بھی باتیں وہ گھر کے بڑے بزرگوں کے سامنے نہیں کرتی بیٹیاں۔۔۔۔
ابو میں نے بہت مجبوری میں کی ہیں۔۔۔آپ کی بیٹی سب بن سکتی پر بوجھ نہیں۔۔۔شادی کے پاکیزہ رشتے میں جب کوئی ایک انسان زبردستی کسی دوسرے پر مسلط ہوجائے تو جو انسان مسلط ہوتا ہے نا اسکی زندگی برباد کر دیتے ہیں وہ رشتے جن پر وہ مسلط کیا جاتا ہے۔۔۔۔”
نایاب والد کا ہاتھ چوم کر اپنے ماتھے پر رکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
پر وہ اسکی کہی ہوئی انجانے میں کی گئی سچی باتیں سب کو دنگ کر کے رکھ گئی تھی کہ ایسی مثال جو وہ دے کر گئی تھی یہی سب تو کیا تھا ان لوگوں نے اس کے ساتھ جسے گھر کے بزرگوں نے مسلط کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
دو دن بعد۔۔۔۔۔
۔
“امی یہ سب چیزیں۔۔۔؟؟ ابھی میں نے نعمان کی فیملی کو جاتے ہوئے دیکھا باہر۔۔۔۔”
زاران نے آفس بیگ ٹیبل پر رکھ کر پوچھا تھا
“نعمان اور نایاب کی منگنی ٹوٹ گئی ہے وہ لوگ کچھ تحفے تحائف واپس کرنے آۓ تھے۔۔۔۔”
اُکھڑے اُکھڑے لہجے میں جواب دیا تھا انہوں نے۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔نایاب التمش کو اور کتنے لوگ ریجیکٹ کریں گے۔۔۔؟؟”
اس نے قہقہہ لگایا تھا جیسے اسے دلی سکون ملا تھا اس لمحے میں۔۔۔
“زاران وہ سہی کہتی ہے باہر سے ڈگریاں لے کر آنے والے یہاں سب کو خود سے کم اور نیچا سمجھتے ہیں۔۔۔ جیسے کہ تم۔۔۔وہ کزن نا سہی انسان تو ہے نا دل دکھا رہے ہو تم بیٹا۔۔۔دل جب دکھ جاتے ہیں پھر ان دلوں میں خوشی کی رونق نہیں لگ پاتی۔۔۔ اللہ ناراض ہوتا ہے ان سے جو دل آزاری کرتے ہیں دوسرے انسانوں کی۔۔۔۔”
وہ جوس کا گلاس زاران کے سامنے رکھ گئیں تھیں جو اپنی امی کی بات سن کر ششدر رہ گیا تھا۔۔۔جسے ابھی سکون مل رہا تھا اب اسے خلش محسوس ہوئی تھی۔۔۔
پر وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔یا وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
پر ایک بات پکی تھی وہ اپنی اس جیت اور نایاب التمش کی اس ہار پر ایک بار محو گفتگو ضرور ہونا چاہتا تھا اس سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کیا میں اندر آسکتا ہوں۔۔۔؟؟؟”
زاران نے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر پوچھا تھا۔۔۔
“جی آپ کے کانوں تک پہنچ گئی ہوگئی بات منگنی ٹوٹنے کی اور اب آپ آۓ ہوں گے جلی کٹی سنانے مجھے۔۔۔؟؟؟”
نایاب نے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“نایاب التمش سینس اف ہومر کمال کا ہے ویسے۔۔۔۔”
زاران ہنستے ہوئے اندر آیا اور وہ چیزیں جو نعمان کے گھر والے چھوڑ گئے تھے اس نے ایک جھٹکے سے بیڈ پر پھینک دی تھیں۔۔۔
“یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟”
“تمہارے سسرال۔۔۔اپپسس ایکس۔۔میرا مطلب سابقہ سسرال والوں نے منگنی توڑنے کے بعد یہ تحائف بھی آج پھینک دئیے ہمارے گھر آج۔۔۔”
۔
نایاب خاموش ہوگئی تھی اور ان چیزوں میں اس نے وہ رنگ کا بکس نکال لیا تھا جو اس نے نعمان کو پہنائی تھی۔۔۔
آج اسے سہی معنوں میں افسوس ہورہا تھا منگنی ٹوٹ جانے کا۔۔۔ پر آگے چل کر رشتے ٹوٹ جانے سے اچھا تھا یہیں رک جائے سب۔۔۔۔
نایاب حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی وہ رنگ اسے نعمان کی وہ باتیں یاد آئیں تھیں جو اس نے فون پر کی تھیں وہ منگنی نا توڑنے کی ریکویسٹ۔۔۔ وہ وعدے نا سکالرشپ لینے کے۔۔۔کہیں علاج کے لیے نا جانے کے۔۔۔
پر نایاب نے اس فون کے اختتام تک نعمان کو منا لیا تھا سکولرشپ ایکسیپٹ کرنےکے لیے۔۔۔۔
“بہت بڑا دھچکا لگا ہے اس بار ٹھکرائے جانے پر نایاب التمش۔۔۔؟؟؟”
زاران پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے آگے ہوا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا مجھے دھچکا ٹھکرائے جانے پر نہیں اپنائے جانے پر لگے گا۔۔۔
کہ جیسی امید ہو ویسا ہوجانے پر مجھے دھچکے نہیں لگتے زاران صاحب۔۔۔”
نایاب نے وہ چیزیں اٹھا کر اپنی الماری میں رکھنا شروع کر دی تھی جس پر زاران اور تپ گیا تھا۔۔۔
“اس نے منگنی تور دی ہے تم پر اپنی پڑھائی کو ترجیح دی ہے اور تم سنبھال کر رکھنا چاہتی ہو اسکی چیزیں۔۔۔؟؟ تم سے کیا امید رکھوں میں۔۔؟؟ کبھی دادی کی دی ہوئی رنگ تو کبھی یہ ٹوٹی منگنی کی چیزیں۔۔؟؟
تم کب آگے بڑھنا سیکھو گی۔۔۔۔؟؟؟”
زاران کارپٹ پر جوتے لے آیا تھا اور الماری بند کر دی تھی غصے میں۔۔۔
“میں آگے بڑھ چکی ہوں۔۔۔ آپ کو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے زاران۔۔
کس طرح کے انسان ہیں آپ۔۔۔؟ کسی حال میں جینے نہیں دے رہے مجھے۔۔
میری شادی کی جلدی تھی آپ کو کیسے کیسے گرے رشتے بلاۓ گھر میں اور جب رشتہ ہوگیا آپ کو جلدی تھی کہ میں انکار کر دوں۔۔۔
اب جب وہ رشتہ ٹوٹ گیا آپ سے رہا نہیں گیا اور طعنے دینے آگئے۔۔
کیسے جینے دیں گے آپ بتائیں۔۔۔۔؟؟؟”
زاران نے نایاب کی ہر بات کو بدتمیزی تصور کیا تھا اور اب بات طنز طعنے سے آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔
“نایاب آواز نیچی رکھو اپنی۔۔۔۔لڑکیوں کی اتنی اونچی آواز مجھے پسند نہیں۔۔۔
اور اتنا سب ہونے کے بعد بھی گھمنڈ نہیں ٹوٹا تمہارا۔۔؟؟ دیکھو وہ معذور انسان بھی تم جیسی لڑکی کے لیے اپنا مستقبل نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔
تم اگر جی ہاں تک اپنی زبان رکھتی تو شاید آج تم اپنے گھر میں ہوتی۔۔۔
پر نہیں تمہاری تو نظر مجھ پر تھی ہمیشہ سے اور تم ویسے بھی کیوں نا پسند کرتی مجھے امیر ہوں پیسے والا ہوں میں۔۔۔
تم جانتی ہو میں اس لیے کامیاب ہوں
کیونکہ میں نے اتنا گھمنڈ نہیں رکھا خود میں۔۔۔۔تم میں تو کچھ ہے بھی نہیں اور تم۔۔۔۔۔”
باتوں باتوں میں بات کہاں سے کہاں لے گیا تھا زاران اسے بھی پتا نہیں چلا تھا۔۔
نایاب کے غرور کو توڑنا چاہتا تھا وہ۔۔۔۔۔
“آپ میرے غرور کو تو نا توڑ پاۓ زاران پر میرا بھرم ضرور ٹوٹ گیا ہے آج۔۔۔
نعمان سے منگنی توڑنے کا فیصلہ میرا تھا۔۔۔وہ میرا موبائل پڑا ہوا چیک کیجیئے ابھی بھی نعمان کہہ رہے ہیں میں ایک بار بس ایک بار پھر سے سوچوں۔۔۔۔
وہ معذور نہیں ہے۔۔۔معذور آپ ہیں زاران وجود سے نہیں اپنی سوچ سے۔۔۔
۔
آپ۔۔۔۔آپ میری پسند نہیں تھے۔۔۔آپ دادی کی پسند تھے آپ ابو کی پسند تھے امی کی پسند تھے۔۔۔۔میں نے ان تینوں کی ہاں میں ہاں ملائی تھی آپ کس شان و شوکت کی بات کر رہے اس گھر کی جہاں ہمیں روٹی تو سونے کے برتن میں مل رہی ہے
اور عزت جوتیوں پر۔۔۔۔۔
میں ایسی زندگی کے لیے آپ کو کیسے پسند کر سکتی ہوں۔۔۔۔؟
گھمنڈ لفظ آپ نے استعمال کیا۔۔۔آپ موازنہ کیجیئے اور پھر بتائیے کس میں غرور ہے۔۔۔؟؟ کون چور ہے پیسے کے نشے میں۔۔۔؟
اگر آج آپ کامیاب ہیں تو سامنے والے کو ناکام کہہ کر اسکی آواز دبانا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
نایاب اتنے قدم پیچھے ہوئی تھی ان دونوں کے درمیان اتنے قدموں کا فاصلہ طے کیا تھا۔۔۔
“زاران عابدی۔۔۔۔آپ کامیاب ہیں۔۔۔آپ عروج پر ہیں ضرور پر ہر عروج کو زوال ہے۔۔۔ آپ نے اتنی بدتمیزی کر دی اتنی باتیں سنا دی جیسے میں اتنی تذلیل کی حقدار تھی۔۔۔؟؟
اور ایک بات۔۔۔ ابھی تک میں نے سوچا نہیں تھا پر اب میں وہ سکالرشپ لیٹر ضرور ایکسیپٹ کروں گی۔۔۔۔اور آپ کی اس دنیا سے آگے بڑھ کر دیکھاؤں گی آپ کو۔۔۔نایاب التمش کا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔۔”
زاران عابدی نے کچھ کہنا چاہا تھا پر وہ سنے بغیر چلی گئی تھی اپنے کمرے سے باہر۔۔۔۔
“میں نے۔۔۔نعمان کو اس سے دور کرنے کی کوشش کی اور یہ یہاں مجھ سے دور جانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔۔۔۔۔
نایاب التمش۔۔۔۔دیکھتے ہیں کیسے جا کر دیکھاتی ہو مجھے باہر۔۔۔۔”
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: