Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 7

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 7

–**–**–

“آپ۔۔۔۔آپ میری پسند نہیں تھے۔۔۔آپ دادی کی پسند تھے آپ ابو کی پسند
تھے امی کی پسند تھے۔۔۔۔میں نے ان تینوں کی ہاں میں ہاں ملائی تھی آپ کس شان و شوکت کی بات کر رہے اس گھر کی جہاں ہمیں روٹی تو سونے کے برتن میں مل رہی ہے
اور عزت جوتیوں پر۔۔۔۔۔
میں ایسی زندگی کے لیے آپ کو کیسے پسند کر سکتی ہوں۔۔۔۔؟
گھمنڈ لفظ آپ نے استعمال کیا۔۔۔آپ موازنہ کیجیئے اور پھر بتائیے کس میں غرور ہے۔۔۔؟؟ کون چور ہے پیسے کے نشے میں۔۔۔؟
اگر آج آپ کامیاب ہیں تو سامنے والے کو ناکام کہہ کر اسکی آواز دبانا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
نایاب اتنے قدم پیچھے ہوئی تھی ان دونوں کے درمیان اتنے قدموں کا فاصلہ طے کیا تھا۔۔۔
“زاران عابدی۔۔۔۔آپ کامیاب ہیں۔۔۔آپ عروج پر ہیں ضرور پر ہر عروج کو زوال ہے۔۔۔ آپ نے اتنی بدتمیزی کر دی اتنی باتیں سنا دی جیسے میں اتنی تذلیل کی حقدار تھی۔۔۔؟؟
اور ایک بات۔۔۔ ابھی تک میں نے سوچا نہیں تھا پر اب میں وہ سکالرشپ لیٹر ضرور ایکسیپٹ کروں گی۔۔۔۔اور آپ کی اس دنیا سے آگے بڑھ کر دیکھاؤں گی آپ کو۔۔۔نایاب التمش کا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔۔”
زاران عابدی نے کچھ کہنا چاہا تھا پر وہ سنے بغیر چلی گئی تھی اپنے کمرے سے باہر۔۔۔۔
“میں نے۔۔۔نعمان کو اس سے دور کرنے کی کوشش کی اور یہ یہاں مجھ سے دور جانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔۔۔۔۔
نایاب التمش۔۔۔۔دیکھتے ہیں کیسے جا کر دیکھاتی ہو مجھے باہر۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“وہ مجھے بار بار ذلیل کرتی ہے آفی اور تو کہہ رہا ہے کہ ایک بار بیٹھ کر اس سے معافی مانگ لوں میں کیسی معافی۔۔۔؟؟”
زاران نے سگریٹ ایک ہاتھ میں اور دوسرے ہاتھ میں موبائل پکڑا تھا جس پر ویڈیو کال چل رہی تھی اسکے دوست کی آؤٹ آف کنٹری میں رہائش پذیر تھا۔۔۔۔
“زاران عابدی تم نہیں سمجھ رہے وہ تمہاری کزن ہے اور جیسے کہ تم نے بتایا چار سال انتظار تھا سب کو تاکے بات پکی کر سکے رائٹ۔۔۔؟؟؟”
“رائٹ۔۔پر میں نے نہیں کہا تھا انتظار کرنے کو وہ اپنی مرضی سے کرتی رہی اور۔۔۔”
خاموش ہوا تھا کچھ پل کو۔۔۔۔جب نایاب کی نظریں اوپر بالکونی پر پڑی تو زاران نے جلدی سے سگریٹ پھینک دیا تھا اور اپنے پاس جمع دھویں کو ہاتھوں سے ہوا دی کر غائب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا زاران عابدی یار ایک تو تجھے آج سگریٹ پیتے دیکھ رہا ہوں اور اب تو ڈر بھی رہا ہے۔۔۔؟ وہ تیری بلیک بیوٹی ہے سامنے کیا۔۔۔؟؟؟”
دوسری طرف سے قہقہے کی اونچی آواز نے زاران کی نظریں ہٹا دی تھیں نایاب سے۔۔۔۔
“افنان میں یہاں کچھ اور پوچھ رہا تھا۔۔۔”
دیکھ زاران تو نے کسی کا انتظار ختم نہیں کیا بھرم ختم کیا ہے۔۔۔ تجھے ایک بار اس سے بیٹھ کر بات کرنی چاہیے تھی۔۔۔
اپنی فیملی سے ایکسکیوز کرنا چاہیے تھا۔۔۔زاران چار سال کا وقت بہت طویل عرصہ ہے۔۔۔انکے لیے جنہوں نے رستے پر نظریں بچھائی ہوں۔۔۔
جنہوں نے اس امید پر انتظار کیا کہ اسکے بعد انہیں انتظار نہیں وہ انسان ملے گا کہ جس کے لیے زندگی کے قیمتی سال ترک کر دئیے گئے۔۔۔
تمہیں اسکا رنگ نہیں پسند تمہیں وہ نہیں پسند وہ الگ بات تھی۔۔۔
اور اب اسکا لہجہ اسکا رویہ بلکل ٹھیک ہے۔۔۔ وہ اب نہیں رکھنا چاہتی کوئی بھی تعلق۔۔۔اور تمہارے لیے اچھا ہے نا سب تم یہی چاہتے تھے۔۔۔؟؟؟”
سامنے سکرین پر دوست کی سنجیدہ گفتگو نے زاران کو یہ سوچبے پر مجبور کر دیا تھا کہ وہ کہیں نا کہیں غلط ہے۔۔۔
پر زاران عابدی تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا کچھ بھی۔۔۔۔
“میں غلط نہیں ہوں۔۔۔ اگر اس نے واقع مجھے پسند کیا تھا تو اسے بتانا چاہیے تھا۔۔۔جیسے سویرا آئی تھی میرے پیچھے۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ویسے تمہاری باتوں سے ایک بات سمجھ گیا ہوں وہ رنگ روپ میں چاہے کچھ نا ہو پر کردار اور خود داری میں اسکا سٹینڈرڈ ہے شاید اسی لیے۔۔۔؟؟؟ “
“آفی یار تو میری ہیلپ نہیں کر رہا بلکہ مجھے اور کنفیوز کر رہا ہے۔۔۔”
“نہیں زاران کنفیوز تو خود ہورہا ہے۔۔وہ بھی تب جب شادی اتنے قریب ہے۔۔۔؟؟؟”
“میں بس ایک بار اسے نیچے جھکا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ایک بار وہ مجھ سے اظہار کرے اپنی محبت کا۔۔۔۔”
اس نے بہت گہرائی میں کہا تھا اسکے لفظوں میں کوئی ایسی بات ضرور تھی۔۔۔
“پھر کیا ہوگا اسکے اظہار محبت سے۔۔۔؟؟؟ کیا تو شادی کر لے گا اس سے۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔میں اس سے شادی کر کے مذاق نہیں بننا چاہتا۔۔بس اس کے اظہار محبت کو سننا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
وہ اونچی آواز میں ہنس دیا تھا۔۔۔ یہ اسکا غرور تھا جو بول رہا تھا۔۔۔
“زاران مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ آج جس کی محبت پر تو ہنس رہا ہے کل یہی محبت تجھے رلا دے گی ایسے کہ تو اسے ڈھونڈتا پھیرے گا۔۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے رکا تھا افنان کی بات سن کر۔۔۔
۔
“ایسا نہیں ہوگا میں نہیں رو سکتا کسی کی محبت کے پیچھے۔۔۔ کبھی نہیں۔۔مجھے ایسی محبت نہیں چاہیے جو باعث شرمندگی بنے میرے لیے۔۔۔جیسے اسکا رنگ۔۔۔۔۔”
زاران نے یہ کہہ کر اپنا فون بند کردیا تھا۔۔۔
جیسے اسکے کہے لفظ اسے خود کو زہر لگنے لگے ہوں۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“واااووو سویرا یو لوکنگ گورجئیس کہاں سے لیا اتنا ڈارک کلر لپ اسٹک کا۔۔؟؟”
سحر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی سویرا کو صبح صبح اتنا سجتا سنورتا دیکھ کر
“یہ یو کے سے لائی تھی میری فرینڈ اچھی ہے نا۔۔۔؟ “
“بہت اچھی ہے مجھے بھی ایک منگوا کر دو نا یار۔۔۔ “
“سحر باجی آپ یہی لے لیں۔۔۔بس میرا ایک کام کردیں اِن_رٹن”
سویرا نے وہ لپ اسٹک سامنے کر کے پھر سے پیچھے کر لی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔اب ایسے کرو گی یار۔۔۔؟ اچھا بتاؤ کیا کام ہے۔۔۔۔”
سحر نے وہ لپ اسٹک چھین لی تھی۔۔۔۔
“مجھے خاور سے ملنے جانا ہے۔۔۔اور آپ گھر میں کوئی نا کوئی بہانہ لگا دیں گی۔۔؟ پھپھو کی نظریں پتا نہیں کیوں رہتی ہیں مجھ پر۔۔۔۔”
سویرا نے اپنا پرس پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“سویرا خاور سے کیوں ملنے جانا ہے۔۔۔اس نے بریک اپ کردیا تھا تو۔۔۔”
“ایکسکئیوزمی سحر باجی اس نے نہیں میں نے بریک اپ کیا تھا۔۔۔زاران کے آنے سے پہلے۔۔۔”
سویرا نے اکتاہٹ سے جواب دیا انہیں۔۔۔
“اوکے اوکے۔۔۔پر اب کیوں ملنے جا رہی۔۔؟ اس نے نایاب کے ساتھ جو کیا وہ۔۔۔”
نایاب ڈیزرو کرتی تھی۔۔۔ویسے بھی وہ یہاں آیا میرے لیے تھا۔۔وہ ابھی بھی مجھے واپس پانا چاہتا ہے۔۔نایاب کا ڈرامہ تو اس نے میرے لیے کیا تھا۔۔۔۔میرے لیے۔۔۔۔ورنہ نایاب کی حیثیت نہیں ہے۔۔اسے بس نعمان جیسے لڑکے سوٹ کرتے ہیں۔۔۔”
سویرا نے وہ باتیں سحر کو بتائی جو خاور نے اسے کل فون پر بتائی تھیں۔۔اور وہ اس وقت سے خوش تھی۔۔۔اس کا لہجہ غرور و تکبر سے بھرپور تھا۔۔۔۔
“کچھ دن رہ گئے ہیں شادی کو سویرا۔۔۔تمہیں نہیں لگتا یہ زاران کے ساتھ غلط ہوگا ایسے خاور کے ساتھ ڈیٹ پر جانا۔۔۔؟؟”
“اوو کم آن سحر باجی آپ نے کم ایسے غلط کام کئیے ہیں آپ مجھے نا سمجھائیں۔۔۔اگر زاران نا آتا تو خاور ابھی تک کا بیسٹ آپشن تھا میرے لیے۔۔۔”
سویرا ماضی میں گم ہوگئی تھی۔۔۔اسے افسوس ہوتا تھا خاور کا دل توڑنے پر۔۔۔پر زاران کے آگے اس نے خاور کو ترجیح دے دی تھی۔۔
اور خاور کے اسرار پر وہ ایک آخری ملاقات کرنا چاہتی تھی اس سے۔۔۔
۔
“سویرا تمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے ویسے بھی وہ نایاب تو سکالرشپ پر جا رہی ہے تم چاہو تو زاران سے شادی کے لیے انکار کر سکتی ہو اور۔۔”
“تاکہ آپ لوگوں کا راستہ صاف ہوجائے۔۔؟؟ ہاہاہاہا نوو چانس باجی۔۔۔”
سحر پر ہنس کر وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
“یہ لڑکی کہیں سچ میں کسی مصیبت میں نا پڑ جائے۔۔اب مجھے پھر سے جھوٹ بولنا پڑے گا۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسلام وعلیکم امی۔۔۔اسلام وعلیکم ابو۔۔۔۔”
نایاب اپنے امی ابو کے روم میں آئی تھی ناشتہ لیکر۔۔۔۔
“امی آئیں ساتھ ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔۔”
نایاب نے یاسمین کا ہاتھ پکڑ کر بہت پیار سے کہا تھا۔۔۔۔
“سارے خاندان میں ناک کٹوا دی نعمان کے ساتھ شادی سے انکار کر کے اب یہاں ناشتے لیکر آئی ہو۔۔۔۔
زہر بھی لے آؤ ساتھ میں وہ کھا لوں۔۔۔”
انہوں نے طیش میں اپنا ہاتھ پیچھے لیا تھا۔۔۔۔
“امی۔۔۔”
“دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
انہوں نے نایاب کو باہر تک کھینچنے کی کوشش کی تھی پر پیچھے سے نایاب کا ہاتھ پکڑ لیا تھا التمش صاحب نے اپنے کانپتے ہوۓ ہاتھ سے۔۔۔
“اچھا رہو یہی میں ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔۔”
وہ باپ بیٹی کا پکڑا ہوا ہاتھ دیکھ کر اور تپ گئی تھی اور دروازہ ذور سے بند کر کے چلی گئیں تھیں وہاں سے۔۔۔۔
۔
“ابو میں تو پوچھنے آئی تھی آپ سے اجازت مانگنے آئی تھی سکالرشپ کے لیے۔۔۔پر اب مجھے لگتا ہے نہیں جانا چاہیے۔۔۔آپ کا خیال کون رکھے گا۔۔۔”
وہ انکی ویل چئیر کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔۔
“ابو آپ اور میں دونوں کتنا پرجوش تھے اس سکالرشپ کو لیکر۔۔۔مجھے یاد ہے آپ کہتے تھے سکالرشپ سے پہلے میری اور زاران کی شادی کروا کر باہر ہی روانہ کردیں گے۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔”
نایاب نے التمش کی گود میں سر رکھ دیا تھا اور فرش پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“ابو۔۔۔میں یہاں سے دور بھاگنا چاہتی ہوں۔۔۔میں کمزور نہیں ہوں ابو۔۔۔
اور نا ہی میں کوئی محبتوں میں مری جا رہی ہوں۔۔۔پر میں شادی کے ان تیاریوں سے کوسوں دور جانا چاہتی ہوں۔۔۔
مجھے اذیت شادی سے نہیں ہورہی۔۔۔مجھے اذیت ان نظروں سے ہورہی جن میں ہمدردی اور ترس جھلک رہا میرے لیے۔۔۔
ایسا لگتا ہے جیسے ٹھکرائے جانے میں ساری غلطی میری ہے۔۔۔
جیسے میں اس بات پر پشیمان ہوجاؤں جو میرا قصور ہی نہیں ہے۔۔۔۔”
التمش صاحب نے اپنا ہاتھ بہت آہستہ سے نایاب کے سر پر رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“آپ کو بھی میں کمزور لگ رہی ہوں گی۔۔۔پر میں کمزور نہیں ہوں ابو۔۔
میں یہاں رہ کر اپنا ضبط آزمانہ نہیں چاہتی۔۔۔مجھے اجازت چاہیے تھی۔۔
پر اب لگ رہا ہے کہ مجھے آپ کے پاس رہنا چاہیے آپ کا خیال کون رکھے گا یہاں۔۔؟ امی تو غصے میں آپ کو ایسے ہی نظر انداز کرتی رہیں گی۔۔۔”
نایاب نے جیسے ہی التمش کی طرف دیکھا تو آنکھوں سے اشک بہہ رہے تھے چہرہ بھیگ چکا تھا۔۔
“ابو اب تو بلکل نہیں جانے والی میں۔۔۔۔”
نایاب نے اپنے دوپٹے سے انکا چہرہ صاف کیا تھا۔۔۔
“ایسے کیسے نہیں جانے والی تم۔۔۔ ؟؟ التمش بھائی کا خواب پورا نہیں کرنا تم نے۔۔۔؟؟”
انیسہ چاۓ کی ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔۔۔
“پھپھو ابو کے اور بھی بہت خواب تھے۔۔۔۔خواہشات تھی۔۔۔
ضروری نہیں سب پوری ہوں۔۔۔میں کل ہی یونیورسٹی والوں کو انکار کر دوں گی۔۔۔”
پھپھو کو شوکڈ کر دیا تھا نایاب کے فیصلے نے۔۔۔اسی وقت التمش صاحب نے اسکا ہاتھ پھر سے پکڑا تھا اور نفی میں سر ہلایا تھا جیسے نایاب کے فیصلے سے وہ متفق نہیں ہوں۔۔۔
“دیکھا بھائی صاحب بھی نہیں چاہتے تم سکالرشپ کو ری جیکٹ کرو۔۔
نایاب ہم لوگوں کی ایک خواہش نے چار سال ضائع کر دئیے تمہاری زندگی کے۔۔اب تمہیں وہ سب کرنا ہے جو تم نے سوچا تھا۔۔۔
تمہیں اب وہ ڈگریاں لے کر دیکھانی ہیں ان لوگوں کو جن کو لگتا ہے تم کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔۔تمہیں لوگوں کو بتانا ہے کہ رنگ روپ انسان کو زندگی میں پیچھے نہیں دھکیلتے بلکہ انسان کے کمزور ارادے اسکے حوصلے پست کرتے ہیں۔۔۔۔
اور تم کمزور نہیں پختہ ارادوں کی مالک ہو میری بچی۔۔۔۔
بس اس فیصلے کو پختگی سے تھامے رکھنا نایاب۔۔۔۔۔”
پھپھو کی اشک ریز آنکھیں بند ہوئی تھی جب نایاب نے اٹھ کر انہیں گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔
۔
“پھپھو آپ کی سب باتیں بجا ہیں۔۔۔۔پر یہ تعلیم میں کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں اپنی پہچان حاصل کرنے کے لیے حاصل کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
پھپھو آج کسی کو متاثر کرنے کے مقصد سے کچھ کرنا چاہوں گی تو اس شخص کے نا ملنے یا چلے جانے سے میرا مقصد بھی چلا جائے گا۔۔
میں صرف اپنے لیے پڑھنا چاہتی ہوں آگے کے مجھے مجھ میں رہنا ہے مرنے تک۔۔۔مجھے اپنے لیے اپنی پہچان کے لیے کچھ کرنا ہے پھپھو۔۔۔
تاکہ ابو کو فخر ہو اپنی سیاہ رنگ کی بیٹی پر۔۔۔
آپ کو فخر ہو۔۔۔امی کو فخر ہو۔۔۔۔
اور مجھے فخر ہو خود پر۔۔۔۔”
نایاب کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا انیسہ نے وہ کچھ لمحوں میں اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گئیں تھیں اپنے بھائی کے سامنے۔۔۔
“آپ کو میں نے کہا تھا یہ ہیرا ہے۔۔۔ہمارا بیش قیمتی ہیرا بھائی اور میں بہت بدنصیب ہوں کہ آپ کی بیٹی میری بہو نا بن پائی۔۔۔
آپ مجھے معاف کردیں گے نا۔۔۔؟؟؟”
انہوں نے روتے ہوئے التمش کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئیے تھے۔۔۔
۔
“پلیز ابو۔۔۔پلیز پھپھو ایسے رخصت کریں گے۔۔۔؟ رونا بند کریں۔۔۔اور پلیز میرے بچوں کا خیال رکھنا۔۔۔ ٹائم ٹو ٹائم نہلاتے رہنا نایاب کو بہت عادت ہے کیچڑ میں بار بار جانے کی۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔التمش بھائی سن لیں زرا لمبی لسٹ ہے۔۔۔۔”
وہ تینوں ہنس دئیے تھے۔۔۔۔پر التمش کی آنکھوں میں ایک نا ختم ہونے والی مایوسی چھا گئی تھی۔۔۔جو کوئی دیکھ نہیں پایا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
یہ جوڑا میں لوں گی پھپھو۔۔۔۔”
سویرا نے وہ مہرون لہنگا اٹھا لیا تھا جو پھپھو نے نایاب کے لیے خریدا تھا کچھ مہینے پہلے۔۔۔۔
“تمہیں کب سے مہرون پسند آنے لگا سویرا۔۔۔؟؟ یہ میرے لیے رکھا تھا پھپھو نے۔۔۔۔”
نایاب نے وہ جوڑا کھینچ لیا تھا اس سے۔۔۔۔ زاران حیران ہوگیا تھا دونوں کی لڑائی پر جس طرح وہ گھر کے بڑے بزرگوں کے سامنے ایک دوسرے کو جھپٹنے کو پڑی تھی ایک سوٹ کے پیچھے۔۔۔
“پھپھو نے تو زاران کو بھی چنا تھا تمہارے لیے کیا وہ ملا تمہیں۔۔؟
جیسے وہ میرا ہوا ویسے یہ جوڑا بھی میرا ہے۔۔۔۔”
اور نایاب کی گرفت اس جوڑے پر سے کم ہوگئی تھی۔۔۔جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سویرا نے پھر سے کھینچ لیا تھا اسے۔۔۔۔
“سویرا زاران کو حاصل لینا تمہاری جیت نہیں۔۔۔۔تمہاری جیت تب ہوگی جب تم اسے اور اپنے رشتے کو سنبھال کر رکھو گی۔۔۔
زاران کو کھونا میرا نقصان نہیں ہے الحمداللہ میں بہت خوش ہوں۔۔۔
کم سے کم تمہاری طرح نہیں کہ جس طرح تم اپنی ہونے والی ساس کے ساتھ بات کر رہی ہو یہ جوڑا تم رکھ سکتی ہو۔۔۔مجھے پھپھو کا پیار چاہیے ایسے جوڑے بھی قربان جہاں اپنی پسند قربان کردی وہاں یہ جوڑا بھی تمہیں مبارک ہو۔۔۔۔”
وہ جاتے ہوئے زاران کے پاس رک گئی تھی جو دروازہ پر کھڑا تھا۔۔۔۔
اس نے ایک نظر کو ضرور دیکھا تھا زاران کو۔۔۔۔۔
۔
۔
“مسکراتی ہے جب نظر۔۔۔دل تڑپ کے روتا ہے۔۔۔۔
اور چوٹ جب لگتی ہے۔۔۔۔درد بڑا ہوتا ہے۔۔۔۔”
۔
“میں یہاں نہیں ہوں پر کوشش کیجیئے گا پھپھو کو انکے رشتے سے زیادہ عزت ملے آپ کے نئے رشتے سے۔۔۔۔”
۔
نایاب وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
“نایاب۔۔۔۔”
زاران کے منہ پر دروازہ بند کردیا تھا اس نے اپنے کمرے کا۔۔۔
۔
“آپ سب نے دیکھا۔۔۔۔تائی جان دیکھ رہی ہیں آپ نایاب کو۔۔۔۔”
سویرا نے وہ جوڑا اٹھا کر پھینک دیا تھا نیچے۔۔۔
“بیٹا میں نایاب کو سمجھاؤں گی۔۔۔۔”
“انیسہ پھپھو آپ کی بہو میں ہوں نایاب نے۔۔۔سب کے سامنے مجھے عزت دیں آپ کی محبتیں ختم نہیں ہورہی نایاب کے لیے اگر ایسے رہا تو میں زاران کو لیکر باہر چلی جاؤں گی پھر رہیئے گا اکیلی آپ۔۔۔۔”
“شٹ اپ سویرا۔۔۔یہ کس طرح بات کر رہی ہو میری ماں سے۔۔۔؟ کونسی علیحدگی۔۔؟؟ میں اپنے ماں باپ کو اپنی بیوی کے لیے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
تم ابھی معافی مانگو امی سے دوبارہ میں دیکھوں نا تمہیں بدتمیزی کرتے ہوئے۔۔۔”
“پر زاران۔۔۔”
“ابھی۔۔۔معافی مانگو۔۔۔”
اور سویرا کی آنکھیں بھر گئیں تھیں سب کے سامنے اتنی بےعزتی سے وہ بھی زاران کے ہاتھوں۔۔۔۔
“ایم سوری پھپھو۔۔۔۔”
وہ اٹھ گئی تھی اور اس نے وہ جوڑا بھی اٹھا لیا تھا۔۔۔۔
“یہ جوڑا اسے ہی ملے گا جسے امی نے دیا تھا سویرا۔۔۔تمہیں جو چاہیے میں لے دوں گا کل ہی شاپنگ پر لے جاؤں گا۔۔۔۔”
زاران نے ہاتھ آگے کیا تھا اور غصے میں زاران کے ہاتھ پر وہ جوڑا رکھ کر سویرا چلی گئی تھی وہاں سے۔۔۔۔
۔
“امی آپ بھی اس بات کا خیال کیجیئے۔۔۔ نایاب کا قصہ بند کیجیئے اب میری شادی شدہ زندگی ڈسٹرب ہوجاۓ گی ایسے۔۔۔۔۔”
زاران کی باتوں پر کچھ دیر پہلے التمش جو خوش ہورہے تھے اب انہیں تکلیف ہورہی تھی۔۔۔انہوں نے اپنی چیئر پر لگے بٹن کو پریس کردیا تھا
اور یاسمین انہیں کمرے سے باہر لے گئیں تھیں۔۔۔
۔
“انیسہ باجی اب بھی وقت ہے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔چھوڑ دیں نایاب کا پیچھا۔۔۔ہمارے بچوں کی زندگیاں خراب ہورہی ہیں۔۔۔۔”
فاخرہ بیگم نے بڑی بہن کو سمجھابے کی کوشش کی تھی۔۔۔جو ابھی بھی اپنی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔جو سب برداشت کر گئیں تھیں خاموشی سے۔۔۔
“اور جو نایاب کی زندگی خراب ہوئی ہے۔۔۔؟؟؟”
“آپ کو کیوں فکر ہورہی ہے۔۔۔؟؟؟”
“کیونکہ اسکی فکر کرنے والا بستر پر پڑ گیا ہے ہمارا بڑا بھائی۔۔۔وہ بھائی جس نے ہمیں بہنوں کی طرح نہیں بیٹیوں کی طرح بڑا کیا پیار دیا پرورش کی ہماری۔۔۔آج اس بھائی کی اکلوتی بیٹی کو بے سہارا چھوڑ دوں۔۔۔؟؟؟”
انکی اونچی آواز سے وہ جو کچھ چھوٹے بچے تھے وہ بھی کمرے سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
“تو ابھی تک آپ وہی کرتی آئی ہیں اب بھی چھوڑ دیں۔۔۔۔۔”
“نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔تب اسکا باپ صحت مند تھا وہ اپنے الگ گھر میں خوش تھے۔۔پر اب فالج کے بعد ہماری زمہ داری ہے۔۔۔۔یہ مت سمجھو کہ التمش بھائی کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔۔۔۔
وہ ضرور ٹھیک ہوں گے۔۔اور ٹھیک ہونے کے بعد تم سے سوال کریں گے میری بیٹی کا خیال کیوں نہیں رکھا فاخرہ۔۔۔تو کیا جواب دو گی۔۔۔؟؟؟”
“میں کوئی جواب نہیں دوں گی۔۔۔میری نفرت ہمیشہ رہے گی اس لڑکی سے۔۔جیسے اسکی ماں سے تھی۔۔۔۔”
وہ راحیل بھائی کی آواز بھی نظر انداز کر گئیں تھیں۔۔۔۔
اس طرح ایک خوشگوار ہنستے ہوئے ماحول کو ایسے خراب کردیا گیا تھا چند لمحات میں۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہزاروں منزلیں ہوں گی۔۔۔۔ہزاروں کاروان ہوں گے۔۔۔
نگاہیں ہم کو ڈھونڈیں گی۔۔۔۔نجانے ہم کہاں ہوں گے۔۔۔۔”
۔
۔
اپنی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر وہ اس ہلے گلے سے الگ بیٹھی تھی اسکی نظر صرف ایک شخص پر تھی۔۔۔
زاران عابدی۔۔ جو بہت خوش بیٹھا تھا اپنی محبت کے ساتھ ہاتھوں میں مہندی کی وہ رسم پوری ہورہی تھی۔۔۔
سویرا کی آنکھوں میں اسے پوری دنیا نظر آرہی تھی پوری دنیا۔۔جو ایک شخص نے اپنے وجود میں اس کے سامنے رکھ دی تھی زاران عابدی۔۔۔
نایاب کے لیے وہ محرم نہیں نا محرم شخص آج نایاب کی نظریں ہٹ نہیں پا رہی تھیں۔۔
آج وہ خود کی پلکیں زبردستی جھکا نہیں پا رہی تھی آج وہ نایاب التمش نہیں بننا چاہتی تھی کچھ وقت کے لیے۔۔۔آج وہ وہ لڑکی بننا چاہتی تھی کہ جس کی پسند آج کسی اور کے پہلو میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
۔
“زاران بیٹا سویرا کے ساتھ کتنا خوش لگ رہا ہے بیٹھا ہوا۔۔
اچھا ہوا جو کچھ عقل آئی انیسہ کو ورنہ اس نایاب کے ساتھ شادی کر کے اس نے اپنا بیٹا ہی ڈبو دینا تھا اندھیروں میں۔۔۔”
کچھ تلخ باتیں نایاب کی سماعت سے گزری تھیں۔۔۔ جو تب سے شروع تھیں جب سے شادی کا فنگشن۔۔۔
کچھ تلخ باتیں جو وہ ہنس کر برداشت کر رہی تھی۔۔پر جب سب یہ کہتے تھے زاران سویرا کے ساتھ کتنا خوش لگ رہا۔۔۔ہاں یہ بات اسے زرا سی تکلیف پہنچا جاتی تھی بس زرا سی۔۔۔
زرا سی تکلیف محبت میں شکست پاجانے والوں کو بہتر سمجھ آتیں ہیں۔۔
کہ محبت میں زرا سا درد انسان کو اسکو گھٹنوں کے بل گرا دیتا ہے۔۔۔
زرا سی تکلیف ان تمام بڑی تکلیفوں پر بھاری ہوتی ہے جو زندگی میں ملتی ہیں۔۔
پر جو زخم محبت دے جاتی ہے اسکی دوا پھر نہیں ملتی کہیں۔۔۔
۔
“نایاب مہندی نہیں لگواؤ گی۔۔؟؟ اب یہ مت کہنا مہندی میں بھی پنک رنگ لگاؤ گی۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔پھپھو۔۔۔”
چھوٹی پھپھو کی بات پر سب نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔اور اس سٹیج پر بیٹھے اس شخص کی نظریں مرکوز ہوگئیں تھیں نایاب پر۔۔۔
جو کھلکھلاتے ہوئے آگے آئی تھی۔۔۔
“پھپھو مہندی کا رنگ مہندی والا ہی اچھا لگتا ہے کہ اس رنگ کا مقابلہ میرا پنک رنگ بھی نہیں کر سکتا۔۔لگائیں مجھے بھی ضرور مہندی۔۔۔ سویرا باجی کی بہت کامیابی ہوئی ہے اس بار۔۔
آکسفورڈ گریجویٹ لائف پارٹنر ملا ہے ماشااللہ۔۔۔۔”
نایاب کی آواز میں کوئی درد نہیں تھا صرف خوشی تھی۔۔۔
خوشی کس بات کی تھی۔۔؟ اپنی محبت کو خود سے دور دیکھ کر یا اپنی محبت کو خود سے دور کسی کے ساتھ خوش دیکھ کر۔۔۔؟؟”
۔
“نایاب مجھے اور زاران کو مہندی نہیں لگاؤ گی۔۔؟؟ چھوٹی کزن یہاں بہت روشنی ہے۔۔تم نظر آؤ گی۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
سب اور ہنسے تھے سوائے کچھ بڑے بزرگوں کے جن کو نایاب پر ترس بھی آتا تھا اور ہمدردی بھی ہوتی تھی۔۔۔
“مجھے ڈر ہے میرے آنے سے تمہاری چمک اور خوشی مانند نا پڑ جائے سویرا۔۔
ہاہاہاہاہا نا ڈرو یار تمہارا دن ہے آج۔۔۔۔”
نایاب نے مہندی لےکر زاران کے ہاتھ پر لگائی تھی اور پھر سویرا کے۔۔۔
پر ان سب میں ایک بار بھی زاران کی طرف نہیں دیکھا تھا اس نے۔۔۔
اور لاجواب کرگئی تھی وہ اس شخص کو جو اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
۔
۔
“بند مٹھی میں دل کو چھپائے بیٹھے ہیں۔۔۔
ہے بہانہ کہ مہندی لگائے بیٹھے ہیں۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران آپ کو پتا ہے وہ لوگ اوپر جھومر سیٹ کر رہے ہیں آپ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔۔؟”
نایاب اپنے کمرے میں جاتے جاتے رک گئی تھی جب زاران کو ہال میں کال کرواتے دیکھا تھا۔۔۔
۔
“اووہ اب تمہیں میں نظر بھی آرہا ہوں نایاب میڈم۔۔؟ سکالرشپ کی خوشی میں آسمانوں میں اڑھ رہی ہو پر تم۔۔۔”
“زاران بھائی پیچھے ہٹ جائیں۔۔۔”
ایک آواز آئی تھی۔۔۔اور نایاب نے زاران کو پیچھے کھینچ لیا تھا جھومر کے گرنے سے کانچ دور تک بکھرا تھا۔۔۔زاران کا ہاتھ اور پاؤں زخمی ہوگیا تھا۔۔۔
“زاران۔۔۔”
سب بھاگتے ہوئے آئے تھے۔۔۔نایاب نے زاران کی نظریں اپنے کندھے پر جمائی ہوئی تھی جہاں نایاب کا ہاتھ تھ۔۔ اور جب سب لوگ اکٹھا ہوگئے وہاں نایاب نے زاران کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“ماں میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
“زاران تم زرا سی احتیاط کر لیتے۔۔ اب فنگشن شروع ہونے میں لیٹ ہوجائے گا۔۔۔”
سویرا کی بات پر سب نے اسے غصے سے دیکھا تھا۔۔۔
“سویرا بیٹا زاران کو چوٹ آئی ہے اسے کمرے میں لے جاؤ میں دوا بھیجتی ہوں۔۔”
سویرا کی امی نے اشارہ کیا تھا سویرا کو بات ماننے کا۔۔۔
“امی میری مہندی خراب ہوجائے گی۔۔۔”
“زاران آپ میرے ساتھ چلیئے۔۔۔میرے کمرے میں فرسٹ ایڈ ہے۔۔۔”
“جاؤ بیٹا۔۔۔۔”
انیسہ نے ایک نظر سویرا کو دیکھا تھا اور زاران کا ہاتھ پکڑ کر اسے نایاب کے کمرے میں لے گئیں تھیں۔۔۔
“امی میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
“بیٹا چپ کر کے بیٹھ جاؤ۔۔میں آتی ہوں۔۔۔”
اور وہ چلی گئیں تھیں ۔۔۔نایاب بھی باتھروم سے فرسٹ ایڈ لے کر آگئی تھی۔۔
اور زاران کے سامنے جس طرح وہ نیچے فرش پر بیٹھی تھی۔۔زاران کے پاؤں کو اٹھا کر اس نے زاران کے پاؤں سے خون صاف کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
اور ایک کانچ کا ٹکڑا نکالتے ہوئے زاران سے زیادہ اسے تکلیف ہوئی تھی اس وقت۔۔۔
“نایاب میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
“زاران اس وقت آپ کو بات سن لینی چاہیے تھی۔۔آپ کو چوٹ زیادہ لگ سکتی تھی۔۔” کے ہاتھوں میں لگی وہ مہندی پوری طرح خراب ہوگئی تھی۔۔۔اور جب زیادہ اِریٹیشن ہوئی تو نایاب نے باقی کی مہندی اپنے دوپٹے سے پونچھ ڈالی تھی۔۔۔
۔
“خاموشیاں تیری سنوں۔۔۔اور دور کہیں نا جاؤں میں۔۔۔
اپنی خوشی دے کے تجھے۔۔۔تیرے درد سے جُڑ جاؤں میں۔۔۔”
۔
“نایاب تمہاری مہندی خراب ہوگئی۔۔۔”
“یہ مہندی میرے لیے نہیں تھی زاران اِسے خراب ہونا تھا۔۔”
“مجھےسویرا کے ساتھ دیکھ کر دُکھ تو ہوتا ہوگا تمہیں نایاب۔۔؟؟”
زاران وہ باتیں کر رہا تھا جن کے کرنے کا وقت نہیں تھا یہ۔۔۔
“زاران دُکھ کس بات کا۔۔؟؟ آپ میرے ہوکر کسی اور کے ہوتے تو الگ بات تھی۔۔۔
دکھ بھی ہوتا تکلیف بھی ہوتی۔۔۔اذیت میں بھی رہتی اور غم میں بھی۔۔۔
پر آپ میرے ہوئے ہی نہیں تھے تو کھونا کیسا۔۔؟؟
جب آپ میرے تھے ہی نہیں تو رونا کیسا۔۔؟؟”
ایک کانچ کا ٹکڑا جب اسکے ہاتھ میں لگ گیا تھا۔۔نایاب نے اپنا ہاتھ بنا کسی درد کے جھٹک دیا تھا۔۔۔خون کے چھینٹے دور گرے تھے۔۔
زاران عابدی حیران تھا بہت۔۔۔آج اس نے دو باتیں نوٹ کی تھی۔۔۔
ایک اسکی منگیترجو آگے پیچھے گھومتی تھی آج اسے چوٹ آنے پر اسکی منگیتر نے اپنے مہندی والے ہاتھ خراب نہیں کئیے تھے۔۔۔
اور ابھی تک وہ پوچھنے بھی نہیں آئی تھی۔۔۔
اور دوسری بات نایاب التمش جو ہمیشہ دور بھاگتی تھی آج اسے تکلیف میں دیکھ کر اتنی فکر مند ہوگئی تھی کہ اسے اب اپنی خراب مہندی کی فکر نہیں تھی۔۔۔
۔
“ہوگیا۔۔۔”
نایاب اٹھ گئی تھی۔۔۔ پر زاران کی آنکھوں میں دیکھنے کی غلطی کر بیٹھی تھی وہ۔۔جس میں الگ جذبات تھے۔۔وہ جو شاید پہلے نہیں تھے۔۔۔
نایاب کی پیشانی پر اتنے بل زاران کی نفرت نے نہیں ڈالے تھے جتنے آج اسکی آنکھوں میں چھپی ہوئی محبت نے ڈال دئیے تھے۔۔
زاران نے پٹی بندھے ہاتھ کی اانگلیاں نایاب کے ماتھے پر ابھی رکھ کر پیشانی کے بل ٹھیک کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
۔
“نایاب وہ میں۔۔۔”
“زاران جاتے ہوئے دروازہ بند کر جائیے گا۔۔۔”
نایاب باتھروم میں وہ فرسٹ ایڈ باکس لے گئی تھی۔۔۔۔
پر جیسے ہی اسکے باتھروم کا دروازہ بند ہوا تھا۔۔۔زاران کی نظریں اس فرش پر پڑی تھیں جہاں خون کے نشان تھے۔۔۔ وہ نشان جو ابھی ابھی باتھروم کی طرف گئے تھے۔۔۔
زاران ایک جھٹکے سے بیٹھ گیا تھا۔۔۔اسی جگہ جھکا تھا جہاں نایاب بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
۔
“اسے بھی زخم آئے تھے مجھے بچاتے ہوئے۔۔۔
اسکے پاؤں پر بھی چوٹ لگی تھی۔۔۔پر وہ میرے زخم صاف کرنے میں لگی ہوئی تھی۔۔
وہ یہاں بیٹھی رہی کانچ کے ٹکڑوں پر۔۔۔ بنا آہ کئیے۔۔۔
وہ میرے زخموں کے آگے اپنے زخم بھول گئی تھی۔۔۔وہ۔۔۔”
۔
“آہ۔۔۔”
ایک آہ کی آواز سے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور باتھروم کے دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔
پر دروازے پر دستک دینے کی ہمت نہیں ہوئی تھی اسکی۔۔۔
وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا۔۔۔پر آکسفورڈ گریجویٹ ڈگری ہولڈر کے پاس آج الفاظ نہیں تھے کچھ کہنے کو۔۔۔
۔
دروازے کی اس جانب ایک ہاتھ سے سنک کو مظبوطی سے پکڑا ہوا تھا منہ زور سے بند کیا ہوا تھا تاکہ اسکی کراہٹ کی آواز باہر تک نا جائے۔۔ ایک آخری کانچ کا ٹکڑا پاؤں سے نکال دیا تھا۔۔۔ہاتھ پر خون لگا ہوا تھا جہاں کچھ دیر پہلے مہندی تھی۔۔۔۔
“شادی مبارک ہو زاران عابدی۔۔۔۔”
نایاب نے شیشے میں دیکھ کر کہا تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک سکون تھا۔۔
اب اسکے دل کو بھی سکون مل گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ٹائم ہوگیا ہے نایاب باجی۔۔۔سب گاڑی میں انتظار کر رہے۔۔۔”
“بس میں آتی ہوں۔۔۔۔”
سنی کے جاتے ہی نایاب نے سر پر دوپٹہ لیا تھا اور کمرے کو آخری بار دیکھ کر بند کر دیا تھا۔۔۔
پر اسکی آنکھیں زاران کے کمرے کے کھلے دروازے پر گئی تھی۔۔۔
۔
“مانا کہ مشکل بڑی ہے۔۔۔یہ امتحان کی گھڑی ہے۔۔۔۔
پل میں بکھر جاؤں گی میں۔۔۔حد سے گزر جاؤں گی میں۔۔۔”
۔
سامنے دوستوں کے درمیان زاران عابدی کو دلہا کے روپ میں تیار دیکھ کر نایاب کی آنکھیں اشک ریز ہوئی تھیں۔۔۔اس جی بھر کے دیکھنے کی کوشش کی تھی اسے۔۔۔پر اب وہ کسی اور کا ہونے والا تھا۔۔۔
سویرا ایک بات ٹھیک کہتی تھی جس دن زاران عابدی کا نکاح ہوجائے گا اس دن نایاب التمش کو ٹوٹنا پڑے گا۔۔۔۔
پر وہ ابھی تک ٹوٹی نہیں تھی۔۔۔کیوں کہ محبتوں کی ان آزمائشوں سے بہت آگے نکل آئی تھی نایاب التمش۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
نایاب۔۔۔۔نایاب۔۔۔۔”
زاران گھر میں داخل ہوا تھا جو بلکل خالی تھا۔۔۔سب لوگ نکاح میں شمولیت کے لیے دوسرے ہال میں جمع ہوۓ تھے جو گھر سے کچھ دور مسافت پر تھا۔۔۔۔۔
۔
“زاران۔۔۔؟ بیٹا تم کیا کر رہے ہو یہاں۔۔؟؟”
“امی نایاب کہاں ہے۔۔۔؟؟”
زاران نے جواب نہیں دیا تھا اور پھر سے سوال پوچھ لیا تھا ان سے۔۔۔
“بیٹا نایاب تو ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوچکی ایک گھنٹہ پہلے ہی۔۔۔ تم کیو پوچھ رہے سب خیریت۔۔۔؟؟”
“امی میں ابھی آیا پلیز تب تک سب سنبھال لیجیئے گا۔۔۔۔”
زاران نے اپنا سہرہ اتار کر انیسہ کو پکڑا دیا تھا جو ابھی بھی حیرانگی سے اسے باہر بھاگتے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
۔
“زاران بہت دیر ہوچکی ہے بیٹا۔۔۔۔۔”
وہ واپس نایاب کے کمرے میں چلی گئیں تھیں جہاں وہ نایاب کے جانے کے بعد سے موجود تھیں۔۔۔۔
۔
“سنی تایا ابو اور امی کے ساتھ ائر پورٹ ہی گیا تھا نایاب باجی کو چھوڑنے۔۔۔۔زاران بھائی کیا بات ہے میں ساتھ چلوں آپ کے۔۔۔؟”
چھوٹے کزن کی دعوت کو اگنور کر کے وہ جلدی سے گاڑی گھما کر وہاں سے فل سپیڈ میں نکل گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی اپنا اور ابو کا خیال رکھئے گا پلیز۔۔۔”
نایاب نے التمش کے ہاتھ اپنے ماتھے سے لگائے تھے اور بوسہ لیا تھا انکے ماتھے پر۔۔۔
۔
“نایاب باجی ہم سب ہیں آپ بے فکر ہوکر جائیں۔۔۔”
“ہم رکھیں گے دونوں کا خیال نایاب باجی۔۔۔۔”
“امی مجھے گلے سے نہیں لگائیں گی۔۔۔؟؟؟”
یاسمین بیگم نے آگے بڑھ کر نایاب کو گلے سے لگایا تھا۔۔۔
اور کچھ دیر ان لوگوں کو بھیج کر وہ ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔
۔
ابھی پانچ منٹ ہوۓ تھے کہ پیچھے سے آواز آنا شروع ہوگئی تھی جیسے کوئی چلا چلا کر اسے پکار رہا ہو۔۔۔۔اور وہ آواز پہچان گئی تھی زاران عابدی کی۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب التمش مت جاؤ۔۔۔رک جاؤ پلیز۔۔۔”
“کس لیے رک جاؤں زاران عابدی۔۔؟؟”
“مجھ سے نکاح کے لیے۔۔۔مجھ سے شادی کرنے کے لیے میرے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے۔۔۔”
نایاب کے چلتے قدم رک گئے تھے زاران کی بات سن کر۔۔۔وہ پلٹنا چاہتی تھی مڑ کر اس شخص کو دیکھنا چاہتی تھی جس نے پچھلے دو مہینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی اسکا دل دکھانے میں اسے نیچا دیکھانے میں۔۔۔
وہ پلٹ کر دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
“اور سویرا کا کیا زاران۔۔۔؟ آج نکاح ہے آپ کا۔۔۔ آپ اسے کیسے آج کے دن ٹھکرا سکتے ہیں۔۔؟؟ وہ جیسی بھی تھی۔۔۔کوئی لڑکی یہ ڈیزرو نہیں کرتی کہ وہ نکاح کے دن ٹھکرا دی جائے۔۔۔”
نایاب التمش نے جیسے مڑ کر دیکھا تھا وہ سامنے نظریں نیچی کرے کھڑا شخص جو بھی تھا۔۔
پر زاران عابدی۔۔؟
وہ ابھی بھی گہرے سانس بھر رہا تھا جیسے گھر سے یہاں ائیر پورٹ تک کا سفر اس نے اپنے قدموں سے طہ کیا ہو۔۔
“میں سویرا سے بھی شادی کروں گا نایاب۔۔۔اور تم سے بھی۔۔۔ میں اسے بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔میں مرد ہوں نکاح سے پھیر بھی گیا تو کوئی میرے کردار پر انگلی نہیں اٹھائے گا۔۔پر وہ۔۔۔اسکا کردار تب بھی داغدار ہوجائے گا بنا اسکی غلطی کے۔۔۔”
نایاب کے جو قدم آگے بڑھ رہے تھے اب پیچھے ہونا شروع ہوئے۔۔۔ آج اسکی آنکھوں سے آنسو بنا ڈر کے چھلکے تھے۔۔۔
وہ آنسو جو ایک ایک کر کے نہیں بڑی بے رحمی سے ایک ساتھ بہنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
“تو آپ نے اپنی ساری پلاننگ کی ہوئی ہے۔۔؟؟ زاران میرے لیے چاہت اور محبت چاہے آپ کے دل میں ہو۔۔۔پر آپ کی زندگی میں پہلی جگہ اب بھی وہ خوبصورت ماڈرن سویرا کے لیے ہے۔۔۔ کہ ایک بیوی جو آپ دل لگی کے لیے ساتھ رکھو گے۔۔۔
اور وہیں خوبصورت بیوی تمہارے پہلو میں کھڑی ہوا کرے گی ہر اس جگہ کہ جہاں آپ مجھے لے جاکر شرمندہ نہیں ہونا چاہتے ہوگے۔۔۔؟؟”
۔
“نہیں۔۔۔نہیں نایاب تمہاری قسم نہیں۔۔۔”
زاران نے چہرہ بے یقینی سے اوپر اٹھایا تھا جو گیلا ہوگیا تھا۔۔۔ جسے اپنے شیروانے کی سلیو سے صاف کرتے کرتے اسکا چہرہ اور سرخ ہوگیا تھا۔۔۔
وہ ایک قدم اٹھا کر نایاب کی طرف بڑھا تھا کہ نایاب نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا۔۔۔
“زاران آپ نے کیسے سوچ لیا میں مان جاؤں گی۔۔۔؟؟ زاران میں بہت بڑا دل رکھتی ہوں ایسا میرا ماننا ہے۔۔۔پر ایک شریک حیات۔۔۔اسے کیسے شریک بنا دوں کسی اور کا بھی۔۔؟
زاران میں اتنی گئی گزری بھی نہیں کہ آپ کی ان باتوں کو نظر انداز کر کے ہاں کر دوں گی۔۔
زاران آپ کو میرا جواب یہاں آنے سے پہلے سمجھ جانا چاہیے تھا۔۔۔۔”
وہ واپس مڑ گئی تھی کہ اب اسکی برداشت نہیں تھی سامنے کھڑے ظالم شخص کو دیکھنے کی۔۔۔
“جانتا تھا تمہارا جواب پتا تھا انکار کر دو گی۔۔۔پر زاران عابدی مجبور ہے۔۔۔
میں نے اس دن واپس آکر جلد بازی میں سویرا سے شادی کا فیصلہ کر کے بہت بڑی غلطی کر دی کہ اب تم مجھے اپنانا بھی نہیں چاہتی۔۔۔میں ۔۔ میں دعا کروں گا تمہارے لیے نایاب۔۔۔”
یہ وہی جانتا تھا کہ کتنے ضبط سے مڑا تھا وہ واپس گھر جانے کو۔۔۔۔
“زاران۔۔۔۔”
نایاب نے پیچھے سے آواز دی تھی۔۔۔اور کچھ پل کو زاران کے چہرے پر وہ خوشی لوٹ آئی تھی اسے یقین تھا نایاب مان جائے گی۔۔۔۔
“زاران۔۔۔آپ جانتے ہیں آج آپ کا یوں سویرا کا ہاتھ نا چھوڑنا۔۔۔آج نکاح سے انکار نا کرنا۔۔
آج اس لڑکی کی عزت کے لیے آپ نے اپنی محبت اپنی پسند کو بھی ایک طرف رکھ دیا ۔۔۔
زاران عابدی آپ کی عزت میرے دل میں اور بڑھ گئی ہے۔۔۔
میں نے زندگی میں ایک شکوہ کیا تھا وہ چار سال آپ سے سے منسوب رہ کر پچھتائی تھی بہت۔۔۔
جیسے سویرا سے شادی کا کہہ کر آپ پچھتا رہے ہو۔۔۔
پر یہی زندگی ہے۔۔؟؟ “
زاران اس بار اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پایا تھا اور چند قدموں کا فاصلہ تہہ کر کے نایاب کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیئے تھے۔۔۔۔
“نایاب التمش۔۔۔تم جانتی ہو امی ٹھیک کہتیں تھیں ۔۔۔تم ایک ہیرا ہو۔۔۔نایاب ہیرا۔۔کہ جو مجھ جیسے ناقدرے کے نصیب میں نا آسکا۔۔۔
پر پھر بھی۔۔ایک بار۔۔کیا تم سوچ نہیں سکتی میرے ساتھ شادی کرنے کا۔۔؟ میری سویرا سے شادی ہمارے رشتے کو زرا بھی متاثر نہیں کرے گی میں۔۔۔”
نایاب نے ہاتھ چھڑا لئے تھے اپنے۔۔۔
“زاران۔۔۔زندگی نے مجھے بہت کچھ سیکھا دیا ہے۔۔۔آپ میرے لیے ایک آپشن تو ہوسکتے ہیں۔۔۔پر وہ آپشن لاسٹ ہو ایسا ضروری تو نہیں۔۔۔؟؟
میں نے اپنی تعلیم میں بہت محنت کی۔۔۔ اپنی ڈگری مکمل کرنے میں دن رات ایک کردئیے۔۔کیا اس لیے کہ میں کسی ایسے شخص کی بیوی بن جاؤں کے جو مجھے اکیلے میں تو محبت کرتا رہے پر دنیا کے سامنے اسکا پرفیکٹ میچ مجھے نہیں وہ اپنی پہلی بیوی کو سمجھے۔۔۔؟
آج آپ میرے لیے آپشن ہو پر میں آپ کے لیے کبھی آپشن نہیں بننا چاہوں گی زاران عابدی۔۔۔
کہ زندگی میں میں نے جو محسوس نہیں کیا شادی کے بعد وہ وہ مجھے محسوس کروایا جائے گا۔۔؟؟ کیوں۔۔۔ آخر دنیا ختم ہوگئی ہے۔۔؟ شادی کے لیے رشتے نہیں ملیں گے مجھے۔۔؟
کیا آج اس لیے بھی میں آپ سے شادی کے لیے ہاں کر دوں کہ رنگ سیاہ ہے کیا پتا پھر مجھ سے کوئی شادی کا پوچھے نا پوچھے۔۔۔
زاران میں آپ کےنا ملنے پر بھی بہت خوش تھی۔۔۔کیونکہ میں نے اپنی پسند کو اپنی ضرورت نہیں بننے دیا۔۔۔
میں سکون میں تھی۔۔۔کیونکہ میں نے عادت نہیں بنایا تھا آپ کی یادوں کو۔۔۔
آج مجھے آپ سے دور جانے پر کوئی رنج و غم نہیں کہ “آپ نے کبھی اپنے آپ کو میری خوشی نہیں بنایا تھا۔۔۔”
وہ بول رہی تھی اور گھائل کر رہی تھی۔۔۔وہ پیچھے قدم کر رہی تھی کہ مبتلا کر رہی تھی رنج و غم میں زاران عابدی کو۔۔۔
پلکیں جھکا منہ پھیر لینے سے وہ زخمی کر گئی تھی پیچھے کھڑے شخص کی آنا ہو۔۔۔
“نایاب۔۔۔رک جاؤ۔۔۔”
“مجھے جانا ہے زاران۔۔۔جانا ہے بس۔۔۔رک جاؤں گی تو جھک جاؤں گی۔۔۔ جھک جاؤں گی تو ہار جاؤں گی۔۔۔وہ جنگ جو کہ لڑتی آئی ہوں میں۔۔۔کبھی اپنوں سے تو کبھی دنیا سے۔۔۔
کبھی تم سے تو کبھی خود سے۔۔۔
اب نایاب التمش ہارنا نہیں چاہتی۔۔۔
آج تمہیں پا بھی لیا تو لگتا ہے وہ تمہیں پانا خود کو کھونا ہوگا۔۔۔
اور خود کو کھونا نہیں چاہتی میں۔۔۔محبتیں زنجیر نہیں ہیں میرے پاؤں کی زاران۔۔۔
میں نے بننے نہیں دی۔۔۔میں اس سے دور رہ کر تو جی لوں گی پر پاؤں کی زنجیر بنا کر سانس بھی نہیں لے پاؤں گی میں۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔”
۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس ائیر پورٹ کی گھہما گھمی میں گم ہو چکی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“اس نے آنسو بھی میرے دیکھے تھے۔۔۔
اُس نے پھر کہا ۔۔۔۔کہ جانا ہے۔۔۔۔”
۔
۔
“نایاب التمش۔۔۔اچھا روگ ِ محبت لگا کر چل دی۔۔۔نا اُس دن مجھے وہ گھاؤ لگتا نا تم نے مرہم لگائی ہوتی۔۔۔تو محبت کی یہ چنگاڑی کبھی نا بھڑکتی۔۔۔۔زاران عابدی کو ٹھکرا کر چلی گئی ہو۔۔۔پر گئی نہیں ہو بس گئی ہو یہاں اِس دل میں دھڑکتی دھڑکن کی طرح۔۔۔۔”
۔
۔
وہ لڑکھڑاتے ہوۓ واپس گاڑی تک پہنچا تھا۔۔۔
گھر سے بار بار فون آرہے تھے۔۔۔۔پر پھر بھی وہ ایک امید میں ائر پورٹ کے باہر کھڑا رہا تھا اس انتظار میں کہ شاید اب نایاب باہر آجاۓ۔۔۔
پر جب تمام فلائٹس جا چکی تھی تو وہ بھی نا امید خالی ہاتھ لوٹ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“زاران تم یہاں نایاب کے کمرے میں بیٹھے ہو۔۔وہاں سب انتظار کر رہے سویرا بھی تیار ہوکر آگئی ہوگی۔۔۔چلو جلدی اٹھو۔۔۔۔”
وہ زاران کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا رہی تھی۔۔۔۔
“امی نایاب چلی گئی ہے۔۔۔۔”
سامنے خالی سپیس کو دیکھتے ہوئے زاران نے کہا تھا جیسے گم سم سا ہوگیا ہو وہ۔۔۔۔
“ہاں بیٹا وہ چلی گئی ہے۔۔۔تم کہاں چلے گئے تھے۔۔؟ تمہارے ابو نہایت غصے میں تمہیں تلاش کر رہے تھے۔۔۔کم سے کم انہیں تو بتا جاتے۔۔۔۔”
جب زاران نہیں اٹھا تھا تو وہ خود بیٹھ گئی تھی اسکے پاس۔۔۔۔
“میں نایاب کو جاتے ہوئے دیکھنے گیا تھا۔۔۔ایک آخری کوشش کرنے گیا تھا کہ اسکو روک لوں۔۔۔”
“وٹ۔۔؟ پر تم اسے روکنے ہی کیوں گئے تھے۔۔؟ زاران کیا نئی مصیبت ڈال رہے ہو۔۔؟ تم نے جو کہا وہ ہم نے کیا اب سویرا سے ہی شادی کرو۔۔۔نایاب کے پیچھے جانے کا کیا مطلب ہوا۔۔۔۔”
“امی ایک ڈر لاحق ہوگیا تھا۔۔۔ایسے لگا تھا جیسے اسکے جتنی محبت مجھے کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔سویرا بھی نہیں۔۔۔۔
کل اسی جگہ اس نے کانچ کے ٹکڑوں پر بیٹھ کر میرے زخموں پر مرہم لگایا۔۔۔اور خود تکلیف میں رہی۔۔۔پر آج میں ایک بار پھر سے اپنی غلطی دہرا دی۔۔۔سویرا کو ترجیح دے دی نایاب پر۔۔۔۔امی میں نے دنیا کی خوبصورت کو دنیا کو آگے رکھا اس سے۔۔۔۔پر اسکے انکار مجھ پر بہت سی باتیں واضح کر دی امی۔۔۔۔
اسے میری خوبصورتی سے میری شان و شوکت سے کوئی غرض نہیں۔۔۔ورنہ کوئی لڑکی زاران عابدی کی شادی کی پیشکش کو کبھی نہیں ٹھکرا سکتی۔۔۔
پر اس نے ٹھکرا دیا۔۔۔۔”
“یا اللہ زاران کیا کر دیا تم نے۔۔۔اسے دوسری بیوی بننے کا کہہ دیا۔۔؟؟
جاتے ہوئے تو اچھی یادیں دے دیتے۔۔۔جیسے اس نے تمہیں دی تھی جب تم جا رہے تھے۔۔۔۔”
وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“امی اب کیا فائدہ۔۔؟ سب ختم ہوگیا۔۔۔”
“تم حلیہ ٹھیک کرو سب انتظار کر رہے ہیں ہال میں نکاح میں دیر ہوجاۓ گی۔۔۔۔”
باہر سے اچانک سے آوازیں آنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔۔
جیسے کوئی رو رہا ہو۔۔۔
“باہر کیا ہوا۔۔۔خدا خیر کرے۔۔۔”
اتنے میں دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔ فیملی کے لوگوں نے راحیل صاحب کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جو انہوں نے اپنی بیوی پر اٹھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“راحیل بھائی۔۔۔۔”
“راحیل مامو ہوش کیجیئے۔۔۔”
زاران نے راحیل کو پکڑ کر پیچھے کیا تھا۔۔۔
“زاران چھوڑ دو مجھے میں جان سے مار دوں گا اسکی تربیت کی وجہ سے آج اس حال میں آگئے ہم سب۔۔۔۔”
زاران کو پیچھے دھکا دیا تھا انہوں نے۔۔۔۔
“ہوا کیا ہے زاران بھائی۔۔۔ابھی سب کو ہنستے ہوئے چھوڑ کر آئی تھی ہال میں۔۔۔کیا ہوگیا ہے۔۔۔فاخرہ کیا ہوا ہے۔۔۔؟ کیوں رو رہے ہو سب۔۔۔؟؟؟”
۔
“انیسہ باجی سویرا کہیں نہیں ہے۔۔۔یہ۔۔۔یہ خط ملا ہے۔۔۔وہ چلی گئی ہے۔۔۔”
۔
“کس۔۔۔کس کے ساتھ۔۔۔۔؟؟”
“خاور کے ساتھ۔۔۔”
زاران ایک جھٹکے سے دیوار کے ساتھ لگ گیا تھا۔۔۔۔جیسے اسے کسی نے بہت اونچائی سے نیچے گرا دیا ہو۔۔۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: